Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    امریکہ:اسقاط حمل سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعدجھڑپیں اوردنگا فساد شروع

    واشنگٹن:لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں مظاہرین کو پولیس افسران کے ساتھ مارپیٹ کرتے دیکھا گیا، امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل کے ایک تاریخی مقدمے کی منسوخی کے بعد امریکہ بھر کے شہروں میں بدامنی ، چھڑبیں اوردنگا فساد شروع ہوگیا ہے

    یہ جھڑپیں فیصلے کے کچھ دیربعد شروع ہوئیں اور ابھی بھی بڑے بڑے علاقوں میں پولیس کے ساتھ عوام کا ٹکراوجاری ہے ، مظاہرین کو پولیس پر آتش بازی سمیت اشیاء پھینکتے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھلے عام جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔افسروں نے لاٹھیوں سے جواب دیا، اور کئی گرفتاریاں کرتے نظر آئے، بعد میں ایل اے کے مرکز میں 4 اور مین اسٹریٹ کے آس پاس کے علاقے میں جمع ہونے والوں کو منتشر کرنے کا حکم جاری کیا۔

    بعد ازاں دوسرے شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے، اور فینکس، ایریزونا میں پولیس کے زبردست ردعمل بھی دیکھے گئے، جہاں افسران کو ریاستی دارالحکومت کی عمارت سے ایک ہجوم پر آنسو گیس پھینکتے ہوئے فلمایا گیا۔

    امریکی سپریم کورٹ نے مشہور زمانہ روئے ویڈ (Roe v. Wade) کیس کے 1973 کے فیصلے کو غیرمتوقع طور پر کالعدم قرار دے دیا، جس میں اسقاط حمل کو خواتین کا آئینی حق تسلیم کرکے قانونی قرار دیا گیا تھا۔

    اس فیصلے کو ری پبلکن اور مذہبی قدامت پسند اپنی فتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو اسقاط حمل کو محدود یا اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔

    عدالت نے 4-5 کے فیصلے سے میسیپی قانون برقرار رکھا، جس کے تحت 15 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ ججوں نے کہا کہ روئے بمقابلہ ویڈ کے فیصلے میں 24 تا 28 ہفتوں سے قبل تک اسقاط حمل کی اجازت دی گئی تھی جو کہ غلط فیصلہ تھا کیونکہ امریکی آئین میں اسقاط حمل کے حقوق پر کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    میسیپی کے قانون پر نچلی عدالتوں نے پابندی لگا دی تھی کہ اسقاط حمل کے حقوق سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ میسیپی میں واحد بچ جانے والے اسقاط حمل کے کلینک جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈیمو کریٹس کے امریکی صدر جوبائیڈن کی حمایت سے اس قانون کو 2018 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    متذکره قانون کے مطابق اسقاط حمل کی اجازت صرف میڈیکل ایمرجنسی یا مہلک معذوری کی صورت میں دی گئی تھی لیکن اس میں ریپ کی وجہ سے ہونے والے حمل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

    روئے بمقابلہ ویڈ (Roe v. Wade) فیصلے میں بتایا گیا کہ امریکی آئین ذاتی رازداری کے تحت خواتین کو اسقاط حمل کا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہونے پر کوئی استثنیٰ نہیں دی گئی ہے۔

    ‘پلینڈ پیرنٹ ہڈ آف ساؤتھ ایسٹرن پنسلوانیا بمقابلہ کیسی’ کہے جانے والے کیس میں سپریم کورٹ نے 1992میں اسقاط حمل حقوق کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ اسقاط حمل قوانین کا نفاذ ‘غیر ضروری بوجھ’ ڈالنے کے مترادف ہے۔

    امریکا میں 1980 میں اسقاط حمل اپنے عروج پر تھا جو ایک ہزار حاملہ خواتین میں 29.3 تھا جبکہ 2017 میں یہ ایک ہزار خواتین میں 13.5 تھا جس کے بعد 2020 تک اسقاط حمل بڑھ کر 14.4 فی ہزار خاتون ہو گیا تھا۔

    بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں جو تمام حاملہ خواتین کا 29 فیصد بنتا ہے۔

    قابل ذکر ہے کہ مغربی ممالک جس اسقاط حمل کو اپنا فطری حق سمجھتے ہیں، اُسے اسلام میں فطرت کے اصولوں کے خلاف اور حرام قرار دیا گیا ہے اور اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں اسکے ذمہ دار کو دیت اور خونبہا کی ادائگی کا پابند بنایا گیا ہے۔

  • حالات قابوسےباہرہورہےہیں:امکان ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائربھی مہنگائی پرقابونہ پاسکیں:امریکی حکام

    حالات قابوسےباہرہورہےہیں:امکان ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائربھی مہنگائی پرقابونہ پاسکیں:امریکی حکام

    واشنگٹن:حالات قابوسے باہرہورہےہیں،زرمبادلہ کے ذخائربھی مہنگائی پرقابونہ پاسکیں:امریکی حکام کا اعتراف ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے امریکی ہاؤس کمیٹی برائے مالیاتی خدمات کے سامنے اپنے ابتدائی بیان کے دوران کہا کہ فیڈ تیل یا زیادہ تر غذائی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔

    فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے یوکرین میں روس کے خصوصی فوجی آپریشن کو خام تیل اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا تاہم کانگریس کے ایک رکن ریپبلکن ریپبلکن این ویگنر نے پاول کے ان بیانات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ افراط زر کو کم نہیں کیا جا سکتا۔

    مگراس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے اصرار کیا، "خام تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جو روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں ہوا، پٹرول اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور افراط زر پر اضافی دباؤ پیدا کر رہا ہے”،

    کانگریس کے دیگر افراد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاول نے اعتراف کیا کہ امریکی افراط زر کو بڑھانے والے عوامل کا ایک حصہ سپلائی چین کے مسائل، اور "مضبوط” امریکی معیشت اور طلب کی وجہ سے معیشت کے سپلائی سائیڈ میں مسائل تھے۔ فیڈ کے چیئرمین نے تصدیق کی کہ وبائی امراض اور لاک ڈاؤن کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے کانگریس کے امدادی پیکجوں سے کوئی چھوٹا حصہ نہیں بڑھا۔

    تاہم ریپبلکنز نے جو بائیڈن کی صدارت کے ابتدائی دنوں میں ڈیموکریٹس کی طرف سے پیش کیے گئے آخری امدادی پیکج کی منظوری کی مخالفت کی۔ قانون سازوں نے اس وقت متنبہ کیا تھا کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن ڈیموکریٹس نے ان خدشات کو مسترد کر دیا،جبکہ سال بہ سال افراط زر 2021 کے موسم گرما کے دوران 5 فیصد کی ایک اعتدال پسند سطح پر رہا، نومبر 2021 کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں یہ 8 فیصد تک چھلانگ لگا کر 1980 کی دہائی میں آخری مرتبہ دیکھی گئی سطح کے قریب آ گیا۔

    امریکی افراط زر 2022 میں مسلسل بڑھتا رہا، جو مئی میں 8.6 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا، جب کہ ایک گیلن ایندھن کی اوسط قیمت 5 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ 22 جون کو اپنے خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی کمپنیوں نے پٹرول میں مزید تیل کو صاف کرنے کے لیے اور گیس پمپوں سے قیمتیں کم کرنے پر زور دیا، یہ دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات – عالمی تیل کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے واشنگٹن کی کوششوں کے ساتھ پٹرول کی قیمت میں 1امریکی ڈالر فی گیلن کی کمی کر سکتے ہیں۔

    بائیڈن نے ایک بار پھر روس پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا لیکن ساتھ ہی اعتراف کیا کہ ماسکو اور اس کے تیل کے خلاف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی پابندیوں کا وائٹ ہاؤس کے اندازے سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ مغرب کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔

  • فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    فواد چودھری کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ حسین حقانی

    سابق وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ایک پیغام میں الزامات عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ:‏ ” سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستان کے معاشی بحران کا حل دیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینے چاہئیں۔
    سابق وزیر اطلاعات نے مزید دعوی کیا کہ: حسین حقانی کا مشورہ ہے کہ پاکستان ایٹمی اثاثوں سے دستبردار ہو جائے اور ہندوستان اور اسرائیل کے ساتھ برابری کے بجائے ماتحت ریاست کے طور پر تعلقات قائم کرے۔

    فواد چودھری کے مطابق: سابق وزیر اعظم ‏عمران خان اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی کا مقصد پاکستان کے معاشی حالات کو اس قدر خراب کرنا ہے کہ پاکستان کو مستقل طور پر غلام بنایا جاسکے۔

    چودھری نے دعوی کیا کہ: سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ترجمانوں کے مشورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں، لہذا ہم اس مہم کو مسترد کرتے ہیں اور ہر صورت پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کرینگے۔

    سابق سفیر حسین حقانی نے فواد چودھری کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کو کہا کہ "کبھی سچ بھی بول لیا کرو۔ اگر آپ دعوی کرتے ہو تو اس کا کچھ ثبوت بھی تو آپ کو دینا چاہئے مثال کے طور پرتمہارے پاس کوئی تحریر، کوئی کہی ہوئی بات یا کوئی خفیہ ٹیپ وغیرہ ہوگی لہذا وہی سنا یا پھردکھا دیں جس میں ہم نے وہ کچھ کہا ہو جس کا ہم سے منسوب کرتے ہوئے جھوٹا دعوی کیا جارہاہے۔


    ایک صارف شکیل احمد کہتے ہیں کہ: کسی کے بارے میں سچ جھوٹ کا محاسبہ کون کرے گا؟ یہاں تو الزامات ایسے لگائے جاتے ہیں جیسے سزا و جزا ہے ہی نہیں۔ ایسا نظام کب لاگو ہوگا جس میں الزامات لگانے والے کو الزامات ثابت نہ کرنے والے پر سزا ہوسکے؟

    صحافی رضی دادا نے حسین حقانی کے ردعمل پر کہا کہ: حد ہے ویسے! آپ فواد چوہدری کو سنجیدہ لیتے ہیں؟ آپ کو چاہئے انہیں اگلی نوکری ڈھونڈنے میں مدد فرمادیں، بےچارے کی بہت بری حالت ہے۔

  • ملک میں مہنگائی،امریکی صدرکا اپنے چینی منصب سے رابطے کا عندیہ

    ملک میں مہنگائی،امریکی صدرکا اپنے چینی منصب سے رابطے کا عندیہ

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں مہنگائی کم کر نے کے لیے چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کو 40 سال کی تاریخی مہنگائی کا سامنا ہے ایک بیان میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ جلد ہی چین کے صدر ژی جن پنگ سے بات کریں گے چینی صدر سے رابطے کے لیے ابھی وقت کا تعین نہیں کیا، یہ جلد ہو سکتا ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج ترکی کا دورہ کریں گے

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدرچینی مصنوعات پر عائد 25فیصد اضافی ٹیکس ختم کرنے پر غور کررہے ہیں جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کیا تھا تاہم اگر ٹیرف کی تجدید نا کی گئی تویہ جولائی میں ختم ہوجائےگا۔

    اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پچھلی انتظامیہ سے وراثت میں ملنے والی چینی درآمدات پر کچھ محصولات کا "کوئی تزویراتی مقصد نہیں تھا”، امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے کہا کہ بائیڈن افراط زر کو کم کرنے کے طریقے کے طور پر انہیں ہٹانے پر غور کر رہے ہیں۔

    اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بائیڈن اس مقصد کے لیے محصولات کو ہٹانا چاہتے ہیں، کیونکہ ریاستہائے متحدہ میں افراط زر اب 40 سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے، بنیادی طور پرکوویڈ 19 وبائی امراض ، عالمی سپلائی چین، اور روس یوکرین تنازعہ اور مئی میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا اور ایک سال میں تقریباً 50 فیصد بڑھ گیا۔

    گروسری کی قیمت میں گزشتہ ماہ تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 1979 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ سب بائیڈن انتظامیہ کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول میں لانا ایک فوری کام بنا دیتا ہے۔

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    اس طرح تقریباً 500 بلین ڈالر کی چینی درآمدات پر محصولات ان کی نظروں میں ہیں چین کے ساتھ خسارہ درحقیقت، تجارتی جنگ کے آغاز کے بعد بھی دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس میں 2021 میں امریکی خسارہ 396.6 بلین ڈالر کی بلند ترین سطح تک بڑھ گیا –

    محصولات کو ہٹانے سے نہ صرف افراط زر کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے چین کے ساتھ امریکہ کے ٹوٹے ہوئے تجارتی تعلقات کو ٹھیک کرنے میں بھی مدد ملے گی جیسے جیسے دنیا کی معیشت کورونا کی وبائی بیماری سے بحال ہو رہی ہے، دونوں ممالک کے پاس عالمی میکرو اکنامک کوآرڈینیشن میں اہم کردار ہیں محصولات کا خاتمہ، اور تجارتی جنگ کا باضابطہ خاتمہ، دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک ٹانک اور دنیا کے معاشی مستقبل کے لیے اچھا اشارہ ہوگا۔

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی…

  • چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    چینی وزارت خا رجہ نے امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں منافقت کو بے نقاب کر دیا

    بیجنگ :چین کی وزارت خارجہ نے ” چین کے بارے میں امریکی فہم وادراک کی غلطیاں اور حقائق” کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا جس میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی میں دھوکہ دہی،منافقت اور نقصانات کوسامنے لایا گیاہے۔منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق40ہزار الفاظ پر مشتمل اس مضمون میں امریکہ کی چین سے متعلق پالیسی کی اکیس غلطیاں بیان کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ حقائق کو دنیا کے سامنے پیش کیاگیا ہے تاکہ سب دیکھ سکیں کہ عالمی نظم و نسق میں افراتفری کا سب سے بڑا سبب ، “ناجائز دباو کی سفارت کاری “کا تخلیق کار،انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کرنے والا اور سب سے بڑی “ہیکر ایمپائر ” امریکہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

    ان میں سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ “بین الاقوامی نظم و نسق میں چین ایک بڑا طویل مدتی چیلنج ہے” ۔ اس کے علاوہ امریکہ ، ایشیا و بحرالکاہل میں اپنے پاوں پھیلاتے ہوئے “انڈو پیسفک اکنامک فریم ورک ” تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ اس خطے کے ممالک پر امریکی تجارتی اصول لاگو کر کے چین کے ساتھ ” ڈی کپلنگ ” کی جائے اور روابط کومنقطع کیا جائے ۔یہ فریم ورک صرف اور صرف امریکہ کے ذاتی مفادات پر مبنی ہے اور عالمی اقتصادی بحالی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

    یہ ایک واضح امر ہے کہ امریکی سیاستدان “بین الاقوامی نظم و نسق ،سکیورٹی اور ترقی کے تحفظ” کے بارے میں بیانات تو دیتے ہیں لیکن عمل ، اس کے بر عکس کرتے ہیں ۔ چاہےیہ جتنے بھی بہانے بنا لیں ، ان کے چین کی ترقی پر اثر انداز ہونے کا مذموم مقصد چھپایا نہیں جا سکتا۔

    ادھراس سےپہلے عالمی ترقیاتی رپورٹ کا پہلا شمارہ 20 جون کو بیجنگ میں جاری کیا گیا۔ اس موقع پر چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے ایک خصوصی ورچوئل خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی ترقیاتی رپورٹ میں پائیدار ترقی کے 2030 ایجنڈے کے نفاذ میں پیش رفت اور چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس صدی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور عالمگیر وبا کے پیش نظر عالمی برادری کو چاہیے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کو اپنانے اور بنی نوع انسان کی مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کی خاطر سبز تبدیلی کے لیے ترقیاتی تعاون اور عالمی شراکت داری کی تعمیر پر زیادہ توجہ دے ۔

    چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نےکہا کہ مذکورہ رپورٹ میں دنیا اور چین کے مفید تجربے کی بنیاد پر 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ یہ چین کے لیے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پر عمل درآمد کا ایک اہم اقدام ہے۔ یہ تمام ممالک کی ترقی کے لیے مفید حوالہ فراہم کرے گا اور عالمی ترقی کے مقصد میں اپنی دانش کے تحت کردار ادا کرے گا۔

    ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے سربراہ ما چیان تھانگ نے نشاندہی کی کہ صدر شی جن پھنگ کی جانب سے اقوام متحدہ میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کی تجویز کے بعد عالمی ترقیاتی رپورٹ پہلی جامع تحقیقی رپورٹ ہے۔وسیع تناظر میں دنیا مشترکہ پائیدار ترقی کے حصول کو بہت اہمیت دیتی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے اکیس تاریخ کو یومیہ نیوز بریفنگ میں چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نالج سینٹر کی جانب سے پیش کردہ پہلی “عالمی ترقیاتی رپورٹ “کے حوالے سے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ عالمی ترقیاتی انیشیٹو سے بین الاقوامی بنیادی ایجنڈے میں ترقیاتی امور کی واپسی ، تمام فریقوں کے درمیان ترقیاتی پالیسیوں کو مربوط کرنے اور عملی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے اور تمام وسائل یکجا کرتے ہوئے ترقیاتی مسائل کو حل کرنے اور ہم آہنگ ترقی میں مضبوط قوت حیات فراہم کی گئی ہے ۔

    وانگ وین بین نے نشاندہی کی کہ چین اور دنیا کے دیگر ممالک کے مفید تجربات کی بنیاد پر اس رپورٹ نے 2030 کے ایجنڈے کے نفاذ کے لیے آٹھ پہلوؤں سے پالیسی سفارشات پیش کی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ شرکاء اجلاس نے عالمی ترقیاتی انیشیٹو کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے چین کی عالمی ترقیاتی رپورٹ کو بھی سراہا ہے۔ شرکاء کے نزدیک عالمی ترقیاتی انیشیٹو نے بین الاقوامی اتفاق رائے پایا ہے اور ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ امنگوں کی عکاسی کی ہے، اور بین الاقوامی برادری کو مشترکہ طور پر پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔بھارت میں متعین چینی سفیر سون دی دونگ نے کہا ہے کہ 16 برسوں میں ترقی کرتے ہوئے برکس کا نظام باہمی مفادات کے تعاون کا اہم پلیٹ فارم اور بین الاقوامی نظم و نسق کی ترقی،عالمی انتظام و انصرام کی بہتری اور مشترکہ ترقی کی تکمیل کی اہم قوت بن چکا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے ذرائع کے مطابق اسی حوالے سے منگل کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سون دی دونگ نے کہا کہ
    چین مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر ایک مزید قریبی ،جامع اور نتیجہ خیز برکس شراکت داری تشکیل دینے کا خواہاں ہے تاکہ مزید مضبوط ، سرسبز اور مثبت عالمی ترقی کی تکمیل ہو سکے، اس کے ساتھ ساتھ ترقی پزید ممالک کے مشترکہ مفادات کے لیے برکس کی آواز کو مزید بلند کیا جائے گا۔

    سون وی دونگ نے کہا کہ رواں سال چین ،برکس کا میزبان چیئرمین ملک ہے اور چین نے برکس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔

  • امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی

    ماسکو:امریکی فوجیوں کو سزائے موت:روس اور امریکہ میں دشنی انتہاکوپہچ گئی،اطلاعات کے مطابق روسی صدارتی ترجمان نے یوکرین میں پکڑے جانے والے سابق امریکی فوجیوں کی سزائے موت کا عندیہ دے دیا۔دوسری طرف امریکی حکام روس کے اس فیصلے پرکڑی نظررکھے ہوئے ہیں

    مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ یوکرین میں پکڑے گئے سابق امریکی فوجیوں کو سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    روسی صدارتی ترجمان نے کہا کہ میں کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا، یہ تحقیقات پر منحصر ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں 2 سابق امریکی فوجی الیگزینڈر ڈروک اور اینڈی ہیون کو خارکیو کے قریب سے پکڑا گیا تھا، امریکی محکمہ خارجہ نے 16 جون کو کہا کہ وہ یوکرین میں جنگ میں حصہ لینے والے امریکی شہریوں کے حوالے سے روس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    اس سے قبل یوکرین میں 2 برطانوی اور ایک شامی فوجی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہیں عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بار پھر امریکی شہریوں کو یوکرین جانے کے خلاف سختی سے روکا ہے۔

    ادھریورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

    یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:اطلاعات کے مطابق معروف امریکی میڈیا گروہ فوربس میڈیا کے سی ای او اسٹیو فوربس نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی "لوگوں کو غریب” کر دے گی۔

    قدامت پسند نیوزآؤٹ لیٹ نیوز سماکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے امریکی صارفین پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔جس کی روک تھام کےلیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے

    امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ،عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کا…

    انہوں نے انٹریو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا۔”آئیے اس کے بارے میں دو ٹوک رہیں۔ جب وہ نرم لینڈنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں یا معیشت کو سست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے لوگوں کو غریب بنانا،” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی معیشت کو زیادہ شرح سود کے ساتھ سزا دینے” کے بجائے، فیڈرل ریزرو کو اپنی کوششیں ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے فیڈ کی جانب سے 28 سالوں میں سب سے زیادہ شرح سود میں اضافے کے اعلان کے بعد بہت سے ماہرین اقتصادیات نے ممکنہ کساد بازاری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے صارفین کو خاص طور پر اس وقت نقصان پہنچے گا جب "اس سال کے آخر میں رہن کی شرحوں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا” اور سردیوں میں حرارتی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    انہوں نے مزید کہا کہ "ایک بڑی، بری چیز ہو رہی ہے۔ اور جب اس سردیوں میں تیل کی قیمتیں گرم ہوتی ہیں، جب آپ پہلے کی نسبت دگنی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کو اپنے گھر کو گرم کرنا پڑتا ہے، تو یہ ایک تباہی ہو گی،” ان کایہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے دوچار ہے، اس کی آبادی بہت سے یورپی ممالک کی طرح شدید دباؤ میں ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا…

    یاد رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اس سال کے شروع میں روسی تیل پر پابندی عائد کر دی تھی، اس کے فوراً بعد جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف فوجی مہم کا اعلان کیا تھا۔ اس نے پورے ملک میں گیس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس اقدام نے اناج، کھانا پکانے کے تیل، کھادوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔

  • عدنان صدیقی نے پاکستانیوں کا دل جیت لیا

    عدنان صدیقی نے پاکستانیوں کا دل جیت لیا

    اداکار و پرڈیوسر عدنان صدیقی نے کیا ایک ایسا فیصلہ کہ دل جیت لیا دنیا بھر کے مسلمانوں کااور اپنے مداحوںکا۔تفصیلات کے مطابق شمالی امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے نیو جرسی میں تین روزہ ایک گالا کا اہتمام کیا گیااس میں نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی فنکاروں کو بھی مدعو کیا گیا ۔عدنان صدیقی کو جب اس بارے خبر ہوئی تو انہوں نے اس ایونٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا کہ مجھے کسی بھی فنکار سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن میرا ضمیر اور میری ذمہ داریاں مجھے اجازت نہیں دیتیں کہ میںہندو لیڈروں کے ہاتھوں نبی کی توہین کو نظر انداز کردوں ۔عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کیا ہے ۔

    عدنان صدیقی نے باقاعدہ ٹویٹر پر لکھا کہ میں دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں سے اظہار ہکجہتی کے لئے اے پی پی این کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گا ۔ واضح رہے کہ عدنان صدیقی پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ میں موجود ہیں وہ امریکہ اپنی فلم دم مستم کی پروموشن کے لئے گئے تھے وہاں وہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے بھی ملے اور انہیں اپنی فلم سینما میں آکر دیکھنے کےلئے دعوت دی تھی۔

  • عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے۔ سینیٹر سردار سلیم

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان دراصل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بننے کی ناکام کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان میں اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ کہناتھا پیپلزپارٹی کے بانی رہنماء اور سابق سینیٹر سردار سلیم کا جنہوں نے باغی ٹی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ: سابق وزیر اعظم عمران خان حمایت تو دور مخالفت کرنے کے بھی قابل نہیں ہے۔
    جب سردار سلیم سے باغی ٹی وی نے سوال کیا کہ عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح ذوالفقارعلی بھٹوکیخلاف امریکہ نے سازش کی تھی ٹھیک اسی طرح انکے خلاف بھی بیرونی سازش ہوئی ہےتواسکے جواب میں سردار سلیم نے کہاکہ: عمران خان نے کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ ان کے خلاف امریکہ سازش کرتا؟

    سابق سینیٹر کے مطابق: جہاں تک بات ذوالفقار علی بھٹو کی ہے وہ تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی کوشش کررہے تھے اوردوسرا انہوں نے تیل پیدا کرنےوالےتمام مسلم ممالک کے حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کےوہ اپنے تیل کی پیداوار کم کردیں اور ان کے اس مشورہ پرعمل کے بعد امریکہ نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے کیوں کہ تیل کی پیداوار کم ہونے سے ناصرف انہیں تیل مہنگا خریدنا پڑ رہا تھا بلکہ مقدار میں بھی کم مل رہا تھا۔ اورپھریہ کہ مسلم ممالک اپنا تیل مہنگے دام بیچ کر زیادہ سے زیادہ پیسہ کما رہے تھے جسکے سبب ان ممالک میں مالی خوشحالی آنا شروع ہوگئی۔

    فیٹف کی طرف سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنےکےعندیہ پرسردارسلیم کا کہنا تھا کہ: "بہت سارے دانشور اس بات پر موثر ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں عمران خان کا زیادہ کردارہے کیونکہ اس نے 34 کی 34 شرائط کو پورا کیا تھا۔ لیکن میرے خیال میں تعصب کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو یہ یاد نہیں کہ بات صرف شرائط پوری کرنے کی ہوتی تو پاکستان کوکب کا گرے لسٹ سے خارج کردیا گیاہوتا لیکن اصل معاملہ شرائط پوری کرنے کا نہیں تھا بلکہ امریکہ اوردوسرے یورپی ممالک جو اثررکھتے تھے پر بھارتی حکومت کا دباؤ تھا کہ پاکستان کو وائٹ لسٹ میں نہ ڈالا جائے اور پاکستان کے اس وقت کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ وہ چین کی بھرپورحمایت کے باوجود بھی امریکہ اوریورپی ممالک کو بھارتی دباؤ سے نکال کر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرواتا ۔”
    سردارسلیم سمجھتے ہیں کہ: یہ کارنامہ بی بی شہید کے فرزند اور نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹوزرداری اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے بڑے احسن طریقے سےکردکھایا۔ جسکے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے.