Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم  کا اظہارِ افسوس

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم کا اظہارِ افسوس

    امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر کی وفات پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ، امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا پیغام بھیجا ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ "ہم جمی کارٹر کے خاندان، امریکی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جمی کارٹر کی زندگی عالمی امن کے فروغ اور انسانی حقوق کے لیے ایک روشن مثال ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔صدر زرداری نے مزید کہا کہ جمی کارٹر کا کردار عالمی سطح پر مثالی تھا، اور ان کی کوششوں نے دنیا بھر میں امن اور انسانیت کے لیے نیا راستہ دکھایا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جمی کارٹر کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔” وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ "میں جمی کارٹر کے اہلِ خانہ اور امریکی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”شہباز شریف نے کہا کہ "جمی کارٹر کی قیادت کے اعلیٰ اوصاف اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر نے دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی ترقی کے لیے اہم اقدامات اٹھائے، اور ان کا شمار دنیا کے عظیم رہنماؤں میں کیا جائے گا۔

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے 1977 سے 1981 تک امریکا کی صدارت کے فرائض سر انجام دیے۔ ان کی صدارت کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ، عالمی امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک میں امداد کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کی قیادت میں امریکا نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے جس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ جمی کارٹر نے "کارٹر سینٹر” کی بنیاد رکھی جو دنیا بھر میں صحت، تعلیم، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کرتا ہے۔جمی کارٹر کی وفات عالمی سطح پر ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    بیٹے نے ماں کی دوسری شادی کروا دی، تصاویر وائرل

    پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

  • ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایپ کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو مؤخر کرے، جو کہ آئندہ ماہ نافذ ہونے والی ہے۔ جمعہ کے روز ایک قانونی دائرہ میں ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر سے ان کی انتظامیہ کو "مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے” کا موقع ملے گا۔ٹرمپ کی یہ درخواست بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے متصادم ہے، جس نے جمعہ کو اپنے مؤقف میں ٹک ٹاک کی موجودگی کو امریکی قومی سلامتی کے لیے "سنگین” خطرہ قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک چین کی کمپنی کا حصہ ہے اور اس کی موجودگی امریکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور عالمی سیاست میں چین کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کہ آیا اپریل میں کانگریس کے منظور کردہ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون سے امریکی آئین کے پہلے ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے 10 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو گھنٹے مختص کیے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس مقدمے پر مختلف گروپوں اور حکام کی طرف سے دو درجن سے زیادہ قانونی مؤقف درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں، تاہم انہوں نے "دوست عدالت” کی حیثیت سے اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کے نفاذ کی تاریخ کو مؤخر کرے تاکہ ان کی آنے والی انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی مذاکراتی حل تلاش کر سکے۔

    اپنی قانونی درخواست میں ٹرمپ نے اس مقدمے میں آئین کے پہلے ترمیمی سوالات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کی تاریخ 19 جنوری تک مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ ٹک ٹاک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے امریکہ میں ٹک ٹاک کی مکمل بندش کو روکا جا سکے گا اور امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو بچایا جا سکے گا۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ وہ اپنے "قوی انتخابی مینڈیٹ” کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر اہل ہیں اور انہوں نے خود کو سوشل میڈیا کا ایک "انتہائی طاقتور، کامیاب، اور اثر رسوخ رکھنے والا صارف” قرار دیا۔

    جمعہ کو بائیڈن انتظامیہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بایپارٹیز گروپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں اپنی قانونی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے تحت کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنی کے ساتھ ٹک ٹاک کے تعلقات امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک "امریکہ کے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے”، اور چین "اس ایپ کو خفیہ طور پر اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے”۔ اس کا ایک مقصد امریکہ میں انتشار اور غلط اطلاعات پھیلانا ہو سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان موجود کشمکش کو واضح کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب 170 ملین امریکی ٹک ٹاک کا استعمال خبریں اور تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بھی ٹک ٹاک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عدالت نے روک دیا تھا۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ ان کے لیے "بدقسمتی سے وقت کی غیر موزوںیت” پیدا کرتا ہے اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو منظم کرنے میں مشکل پیدا ہوگی۔ ٹرمپ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پابندی کو مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کا حل تلاش کر سکے، جو نہ صرف قومی سلامتی کی حفاظت کرے بلکہ ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی بچایا جا سکے۔

    اب اس مقدمے کی سماعت اور اس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا، قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو واضح کرے گا۔

  • اڈیالہ  کا قیدی این آر او   کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ کا قیدی این آر او کیلیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کیلیے تیار ہے،عظمیٰ بخاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور پنجاب صوبائی وزیر اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے واضح طور پر ‘ابسلوٹلی ناٹ’ (بالکل نہیں) کہہ کر امریکہ کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرے گی اور یہ پالیسی کبھی بھی تبدیل نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور آزادی کے لیے پُرعزم ہے اور اس میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک طرف مذاکرات کا ڈرامہ کھیل رہی ہے اور دوسری طرف سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک ہی مقصد اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل ہے، اور ان کا یہ طرز عمل عوامی مفاد سے کوسوں دور ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا پر اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے رہنما جیسے ذلفی بخاری، شہباز گل اور شہزاد اکبر اس مہم میں پیش پیش ہیں۔ وہ اوورسیز پاکستانیوں کو مالی طور پر پاکستان کی مدد نہ کرنے پر اکسا رہے ہیں، جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کام کیا ہے، اور اسی کا نتیجہ ہے کہ رواں سال پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کی فتنہ سازی اور ملک دشمنی کو مسترد کر دیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، جو اڈیالہ جیل میں قید ہیں، نے ڈیڑھ سال تک قوم کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کی غلامی سے پاکستان کو آزاد کرائیں گے، لیکن اب وہ خود امریکی لابی سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں مداخلت کریں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستانی عوام کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ ملک کو امریکی اثر سے آزاد کرائیں گے، آج وہ خود امریکی مداخلت کی درخواستیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی بددیانتی ہے اور ان کی سیاست کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

    عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل کا قیدی این آر او (قومی مفاہمت آرڈیننس) مانگنے کے لیے کسی کے بھی پاؤں پکڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور اب تک کی سیاست میں ان کا کردار صرف ذاتی مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے اس قسم کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اب ملک کی ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار

  • بانی پی ٹی آئی  اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی اسرائیلی اثاثہ،ہماری ترجیح پاکستان ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آپریشن گولڈ اسمتھ کے ریکروٹ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے ایک عالمی مہم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد ایلچی رچرڈ گرینل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کے لیے مغرب سے آواز اٹھانے والوں کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور ہماری پہلی اور آخری ترجیح صرف اور صرف پاکستان ہے۔” یہ مہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے چلائی جا رہی ہے، جس میں مغربی ممالک بھی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "عمران خان کی رہائی کے لیے جو عناصر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان عناصر کی حمایت اسرائیل سے حاصل ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ایک اسرائیلی اثاثہ ہیں، اور ان کے ذریعے عالمی طاقتیں پاکستان کی ایٹمی قوت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔”

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو امریکی حکومت یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب یہ لوگ حکومتی نمائندے کے طور پر بات کریں گے تو پاکستانی حکومت بھی اپنے موقف کا دفاع کرے گی۔”طلال چوہدری نے مزید کہا کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکہ پہلے بانی پی ٹی آئی کو آزادی دلائے گا اور پھر وہ قوم کو امریکہ سے آزاد کروائیں گے؟ یہ بات ناقابلِ فہم ہے۔”

    پاکستان کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے معاملے پر کسی بھی بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گی، اور ملک کے مفادات کو پہلے اور آخری ترجیح دے گی۔ خواجہ آصف اور طلال چوہدری نے مغربی طاقتوں کی مداخلت کو مسترد کیا ہے،

    پولیس نے شاملات جگہ پر قبضہ کروانے کی کوشش کی،اہلیان علاقہ کا ڈی پی او سے نوٹس کا مطالبہ

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

  • امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    امریکی سابق لڑاکا پائلٹ پر چینی فوج کو تربیت دینے کا الزام، امریکہ حوالگی کی منظوری

    آسٹریلیاکے اٹارنی جنرل نے پیر کو تصدیق کی کہ ایک سابق امریکی میرین کو جس پر چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، امریکہ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ وہ وہاں الزامات کا سامنا کر سکے۔ اس فیصلے کے بعد ان کے حمایتیوں کو شدید دھچکا لگا ہے، جو ان کی آزادی کے لیے عوامی مہم چلا رہے تھے۔

    ڈینیئل ڈوگن، جو ایک قدرتی آسٹریلوی شہری ہیں، کو 2022 میں ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر 2017 میں امریکہ کی گرینڈ جیوری کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے چینی فوج کے پائلٹس کو تربیت دی، جو کہ امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔ڈوگن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام ان کی سرگرمیوں سے باخبر تھے اور وہ صرف چینی شہری پائلٹس کو تربیت دے رہے تھے کیونکہ چین کا فضائی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل مارک ڈریفس نے پیر کو کہا کہ ڈوگن کو "ان جرائم کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جانا چاہیے جن کا ان پر الزام عائد کیا گیا ہے۔” ڈریفس نے یہ بھی بتایا کہ ڈوگن کو اس بات کا موقع دیا گیا تھا کہ وہ یہ وضاحت فراہم کریں کہ کیوں انہیں امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے۔ڈوگن کی حوالگی کی درخواست کے حق میں مئی میں عدالت سے منظوری مل چکی تھی۔

    ڈوگن کی اہلیہ سیفریں ڈوگن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اور ان کے چھ بچے "اس بے رحم اور انسانیت سوز فیصلے سے صدمے میں ہیں جو کرسمس سے کچھ دن پہلے بغیر کسی وضاحت یا جواز کے دیا گیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہم آسٹریلیا کی حکومت سے مایوس ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایک آسٹریلین خاندان کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا کیا ہے۔ ہم اب اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔”

    اگر ڈوگن پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں 65 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ڈوگن کو اکتوبر 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا، جب وہ چھ سالہ چین میں قیام کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا واپس آئے تھے۔ ان کی گرفتاری امریکی حکام کی درخواست پر آسٹریلوی پولیس نے کی تھی۔

    2017 میں دائر کی گئی ایک فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ "2008 کے اوائل میں” ڈوگن کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی، جس میں انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ غیر ملکی فضائی افواج کو تربیت دینے کے لیے دفاعی تجارت کے کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ رجسٹر ہوں اور اجازت نامہ حاصل کریں۔الزامات کے مطابق، ڈوگن نے دوسرے افراد کے ساتھ سازش کرتے ہوئے چینی فوج کے لیے دفاعی خدمات فراہم کیں، جو کہ چین پر عائد امریکی ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی تھی۔

    ٹیسٹ فلائنگ اکیڈمی آف ساؤتھ افریقہ نے 2023 میں سی این این کو ایک بیان میں کہا کہ وہ اس ملک کے قوانین کی پابندی کرتی ہے جہاں وہ کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈوگن نے 2012 کے نومبر اور دسمبر کے دوران جنوبی افریقہ میں ایک ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر ایک معاہدہ کیا تھا، لیکن "چین میں اس کی تربیتی ذمہ داریوں میں کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں دیا۔”ڈوگن نے 2013 میں چین منتقل ہو کر 2016 میں بیجنگ میں امریکی شہریت چھوڑ دی تھی، حالانکہ ان کے وکیل کے مطابق یہ دستاویزات 2012 میں آسٹریلین شہریت حاصل کرنے کی تاریخ سے پیچھے کی گئی تھیں۔ڈوگن کے وکیل برنارڈ کولآری نے اگست میں ایک 89 صفحوں پر مشتمل دستاویز میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق امریکی فوجی اہلکار چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کا شکار بن گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا، "حوالگی کی درخواست ایک وحشیانہ ردعمل ہے جو امریکہ کے چین فوبیا کو ظاہر کرتا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا، "اگرچہ ڈوگن کو قربانی بنانے سے کچھ لوگوں کو سکون مل سکتا ہے، لیکن ان کی حوالگی ایک سیاسی ماحول اور نیم قانونی جیل نظام میں ہوسکتی ہے جو آسٹریلیا کی ایک گہری اخلاقی اور خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔”

    ڈوگن کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے 2021 میں AUKUS معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد چین کی بڑھتی ہوئی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بحرالکاہل میں مشترکہ فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنا تھا۔اس کے بعد، برطانیہ اور آسٹریلیشیا نے اپنے سابق فوجی اہلکاروں کے لیے قوانین کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ ان کے بعد کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    جاپان میں کرسمس ویلنٹائن ڈے کی طرح،نوجوان جوڑے رومانس کیلئے تیار

  • روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    روس میں امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں سزا

    ماسکو: روس کی عدالت نے منگل کے روز ایک امریکی شہری کو جاسوسی کے الزامات پر 15 سال قید کی سزا سنائی ہے، ۔

    جین اسپیکٹر، جو روس میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں امریکہ منتقل ہو کر امریکی شہریت حاصل کی، کو روس میں رشوت کے معاملے میں ثالث کے طور پر کام کرنے پر پہلے ہی 4 سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی، روس کے آزاد نیوز ادارے "میڈیا زونا” کے مطابق، جس کے ایک صحافی نے عدالت کے اندر رپورٹنگ کی، اسپیکٹر کو جاسوسی کے الزامات پر 13 سال کی سزا دی گئی ہے۔ اس سزا کے ساتھ ان کے پہلے رشوت کے الزام میں لگائی گئی سزا بھی شامل کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کے علاوہ اسپیکٹر پر 14,116,805 روبل (تقریباً 140,500 امریکی ڈالر) جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق، 2020 میں اسپیکٹر نے رشوت کی ثالثی کے الزامات میں اپنی گناہ کا اعتراف کیا تھا۔ یہ رشوت سابق روسی نائب وزیر اعظم آرکادی ڈورکوفچ کے سابق معاونہ اناستاسیا ایلکسیویوا کے لیے دی گئی تھی، اس سے قبل اسپیکٹر میڈپولیمرپروم گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین تھے، جو کینسر کے علاج کی ادویات میں مہارت رکھتا تھا،

    امریکہ کے سفارتخانے کے ایک اہلکار نے اگست 2023 میں سی این این کو بتایا کہ انہیں یہ یقین تھا کہ اسپیکٹر پہلے ہی جیل میں ہے، اور اس نئے الزامات کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔

    پشپا 2 کی نمائش:انتہائی مطلوب گینگسٹر اور منشیات اسمگلر گرفتار

    جاپان میں کرسمس ویلنٹائن ڈے کی طرح،نوجوان جوڑے رومانس کیلئے تیار

  • جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 37 وفاقی قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، صدر جو بائیڈن نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام میری انتظامیہ کے زیرِ نگرانی وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ قدم انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور اس کا مقصد وفاقی عدلیہ کے نظام کو مزید انسان دوست بنانا ہے۔”

    اگرچہ بائیڈن کی انتظامیہ نے 37 قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ہے، لیکن دہشت گردی اور اجتماعی قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے لئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ "جو افراد بڑے پیمانے پر قتل یا دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے لئے سزائے موت کی سزا برقرار رکھی جائے گی۔”امریکی میڈیا کے مطابق، کچھ معروف مجرموں کی سزائے موت اس فیصلے کے باوجود برقرار رہیں گی۔ ان میں سے ایک اہم نام 2013 کے بوسٹن میراتھون بم دھماکے کے مجرم جوہر سرنیف کا ہے، جسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جوہر سرنیف نے بوسٹن میراتھون کے دوران بم دھماکے کر کے 3 افراد کو قتل اور 260 سے زائد افراد کو زخمی کیا تھا۔اسی طرح، 2015 میں ساؤتھ کیرولائنا کے ایک چرچ میں حملے کے مجرم ڈائیلان روف کی سزائے موت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ روف نے چرچ میں داخل ہو کر 9 سیاہ فام افراد کو قتل کیا تھا۔اس کے علاوہ، پٹسبرگ میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے مجرم رابرٹ بوورز کی سزائے موت بھی بدستور برقرار ہے۔ بوورز نے 2018 میں پٹسبرگ کی ایک عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے 11 افراد کو قتل کیا تھا۔

    ٹھل کے صحافی نبی بخش کنرانی بخشاپور سے مبینہ اغوا، کاربرآمد

    اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

  • امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    پیگاسس اسپائی ویئر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر چھا یا ہوا ہے اور ہندوستان میں اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

    امریکی عدالت نے اسرائیل کی معروف اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ کو پیگاسس کے ذریعے 1400 واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں 300 ہندوستانی افراد شامل ہیں۔ ان میں اہم شخصیات جیسے صحافی، سیاستدان، سرکاری افسران اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔امریکی عدالت میں این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت جج فلِس ہیملٹن نے کی۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی اور متاثرین کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے اپنے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔ عدالت نے کمپنی کو ان کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کئی اہم شخصیات کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان میں اپوزیشن کے رہنما، مرکزی وزراء، سرکاری افسران، اور سماجی کارکن شامل تھے۔ 2021 میں انکشاف ہوا کہ پیگاسس کے ذریعے 300 سے زیادہ ہندوستانی موبائل نمبروں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا، جن میں دو مرکزی وزراء، تین اپوزیشن رہنما، متعدد صحافی، اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھے۔یہ انکشافات ہندوستان میں سیاسی ہلچل کا سبب بنے تھے اور مودی حکومت پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی نگرانی کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کر رہی ہے۔

    پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال دنیا بھر کی حکومتوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کے لیے کیا گیا تھا۔ 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا اور امریکی اداروں پر اس کے پروڈکٹس خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔این ایس او گروپ نے ہمیشہ اپنے موقف کا دفاع کیا ہے اور واضح کیا کہ اس کی مصنوعات صرف حکومتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے لیے دستیاب ہیں، نہ کہ فرد یا غیر سرکاری اداروں کے لیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسپائی ویئر فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود پیگاسس کے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

    ہندوستانی حکومت نے ہمیشہ پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی قسم کی جاسوسی کی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔ پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی

  • بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔

    انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تفصیل سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سلیوان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے بجائے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی میں اضافے کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار کے لیے ہے، مگر امریکہ اس دعوے سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا اور اس خدشے کو آج بھی برقرار رکھا ہے۔ جیک سلیوان نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہو گا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایران کی جوہری صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور اس سے ایران کی دفاعی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔سلیوان نے مزید کہا کہ یہ صورت حال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک معاون قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کی کمزور پوزیشن عالمی سطح پر اس کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    جیک سلیوان نے شام میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کے زوال سے ایران کی علاقائی پوزیشن کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اس سے ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کم ہوا ہے، جس کے باعث ایران کی حکمت عملی اور طاقت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے حوالے سے سخت نگرانی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام  امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام پر لگائی گئی پابندیوں اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن فائنر کے حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کی محب وطن شخصیات پر پابندیاں اور قومی سلامتی کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے، امریکہ کی جانب سے بھارتی جنگی جنون، کشمیر میں ریاستی جبروظلم اور بھارت میں جوہری مواد کی مسلسل چوری پر تو کبھی کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا، پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف حالیہ جھوٹے پروپیگنڈے اور پابندیوں کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔

    تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے دو سال پہلے ہی اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا کہ پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشیں جاری ہیں، اور آج یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔28مئی 2023 کو مینارِ پاکستان گراؤنڈ اور 28 مئی 2024 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقدہ تاریخی تکبیر کانفرنسز کے ذریعے پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے عوامی سطح پر ایٹمی پروگرام کے دفاع کی مہم چلائی۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ واضح کرتی ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ترجمان تابش قیوم نے مزید کہا کہ ایٹمی پروگرام کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے، اور اس ضمن میں ملک گیر تحریک چلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    ہم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،مرکزی مسلم لیگ
    پاکستان کا میزائل اور ایٹمی پروگرام ہمارے امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف امریکی پابندیوں پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی پاکستان کی محب وطن شخصیات پر پابندیاں اور قومی سلامتی کے امور میں مداخلت کی کوشش کرتا رہا ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ، پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکی پابندیوں اور امریکی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جوناتھن فائنر کے بیان کی شدید مذمت کرتی ہے۔ امریکہ نے بھارتی جنگی جنون، کشمیر میں ریاستی جبروظلم اور ہندوستان میں جوہری مواد کی مسلسل چوری کے خلاف کبھی کوئی اقدامات نہیں کیے۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور پابندیوں کے پیچھے بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے اس خطرے سے دو سال پہلے آگاہ کیا تھا کہ پاکستان کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ اور ابھی وہ بات کھل کر سامنے بھی آ گئی ہے، پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 28 مئی 2023 کو مینارِ پاکستان گراؤنڈ اور 28 مئی 2024 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں تاریخی تکبیر کانفرنس منعقد کیں اور پورے ملک میں عوامی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے دفاع کے لیے مہم چلائی ہم یہ باور کروا دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے اور ہم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایٹمی پروگرام کے خلاف کسی بھی اندرونی و بیرونی سازش کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو گی اور اس کیلئے ملک گیر تحریک چلانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ امریکہ میں موجود صیہونی اور بھارتی لابی، ٹرمپ انتظامیہ کو گمراہ کر کے پاک-امریکہ تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت اور پاکستانی کمپنیوں پر پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو گمراہ کرنے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے کیلئے بہت سی اندرون اور بیرونی ملک دشمن قوتیں سرگرم ہیں ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارتی جارحیت کے مقابلے میں دفاع اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، ماضی میں بھی پاکستان کے میزائل پروگرام پر تنقید اور پروپگنڈا کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اور میزائل نہ غیر محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کا ہدف کوئی مخصوص ملک ہے۔ پاکستانی عوام قومی خودمختاری اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرے گی۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ یہ سمجھتی ہے کہ یہ کمزور حکومت کی ناکامی ہے جو دنیا کی بدلتی صورتحال میں پاکستان کا مقدمہ لڑنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ جب وزیر دفاع خود اپنی تاریخ اور شناخت کو مسخ کریں گے تو بیرونی قوتوں سے کیا شکوہ کیا جائے، خواجہ آصف کا سلطان محمود غزنوی کو "لٹیرا” کہنا ہندوستان نوازی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موصوف بھارت کے وزیر دفاع ہیں

    خواجہ آصف کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے،مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    پولیوٹیموں پر حملے نہ صرف بزدلانہ بلکہ قومی جدوجہد پر حملہ ہیں،خالد مسعود سندھو

    سانحات سے سبق لیتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔خالد مسعود سندھو

    سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔رانا جبران

    احتجاج،مزدور طبقے کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،رانا جبران