Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی نکلا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کرنے والے امریکی معاون خصوصی کے اکاؤنٹ کا حقیقت میں جعلی ہونا سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ اکاؤنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرنیل کا ہے، تاہم تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق اس اکاؤنٹ میں کئی دھوکہ دہی کی علامات پائی گئی ہیں۔یہ اکاؤنٹ، جو ٹویٹر پر "رچرڈ گرنیل” کے نام سے چل رہا تھا، کے فالورز کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ہے۔ لیکن جب اس اکاؤنٹ کی تاریخ کو چیک کیا گیا تو یہ انتہائی حیران کن بات سامنے آئی کہ یہ اکاؤنٹ 2009 میں بنایا گیا تھا، مگر اس اکاؤنٹ کی فعال ٹویٹس کا آغاز نومبر 2024 سے ہوتا ہے۔ پروفائل پر موجود تصاویر کی تاریخ بھی عجیب ہے؛ اکاؤنٹ میں 7 تصاویر اپلوڈ کی گئی ہیں، جن میں سے پہلی تصویر 18 نومبر 2024 کو اپلوڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ اکاؤنٹ کے تمام پچھلے ٹویٹس اور میڈیا مواد کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق اس اکاؤنٹ کی تمام سرگرمیاں نومبر 2024 سے شروع ہوئی ہیں، حالانکہ اس کا بننا 2009 میں ہوا تھا۔ اس میں جو ابتدائی ٹویٹس اور میڈیا مواد تھے، وہ مکمل طور پر حذف کیے جا چکے ہیں

    اس اکاؤنٹ کی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 10 نومبر 2024 تک یہ اکاؤنٹ پاکستان تحریک انصاف کا ایک فین پیج تھا، تاہم 12 نومبر 2024 کو اس کے پچھلے ٹویٹس ڈیلیٹ کیے گئے، اور 15 نومبر 2024 سے اس اکاؤنٹ کا نام تبدیل کرکے رچرڈ گرنیل رکھ دیا گیا۔جب اس اکاؤنٹ کی مزید تفصیلات پر نظر ڈالی گئی، تو پتہ چلا کہ اس میں موجود پہلی ٹویٹ 9 نومبر 2024 کو کی گئی تھی۔ اس سے قبل اس اکاؤنٹ سے کوئی بھی ٹویٹ نہیں کی گئی تھی، اور نہ ہی اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کیمپین کے حوالے سے کوئی مواد تھا، جو کہ ایک سنجیدہ علامت ہے کہ اس اکاؤنٹ کا سابقہ استعمال کچھ اور تھا۔

    جب اس اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے یہ کوشش کی گئی کہ آیا رچرڈ گرنیل نے کسی اور پلیٹ فارم پر عمران خان کے حق میں کوئی بیان دیا ہے، تو اس بات کا پتا چلا کہ انہوں نے کسی بھی آڈیو، ویڈیو، یا تحریری بیان میں عمران خان کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے باوجود اس اکاؤنٹ پر عمران خان کے حق میں مسلسل ٹویٹس کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ، جب ڈونلڈ ٹرمپ کی فالوونگ لسٹ کا جائزہ لیا گیا، تو یہ واضح ہوا کہ ٹرمپ نے اس جعلی اکاؤنٹ کو فالو نہیں کیا ہے، حالانکہ انہوں نے اپنے دیگر مصدقہ اور قریبی ٹویٹر اکاؤنٹس کو فالو کیا ہوا ہے۔

    جہاں تک اس اکاؤنٹ پر بلو ٹک کے نشان کی بات ہے، تو یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ٹویٹر اب سبسکرپشن فیس کے ذریعے کسی بھی اکاؤنٹ کو بلو ٹک دے دیتا ہے، اس لئے یہ کسی اکاؤنٹ کی تصدیق کا قابل اعتماد معیار نہیں رہا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹویٹر پر کسی معروف شخصیت کے نام پر جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہوں۔ اس سے قبل بھی متعدد جعلی اکاؤنٹس سامنے آ چکے ہیں جن کا ان شخصیات سے کوئی تعلق نہیں تھا، جن کے نام پر یہ اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔

    اس معاملے پر معروف صحافی شمع جنیجو نے بھی اس اکاؤنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پوری قوم بے چارے رچرڈ گرینیل کو گ* کہہ کے گالیاں دے رہی ہے اور وہ اکاؤنٹ پیچھے سے کوئی یُوتھیا یا جبران الیاس چلا رہا ہے ،ہم سب یہ کیوں بھول گئے کہ یہ پیسے دے کے پُرانے اکاؤنٹ خریدتے ہیں، اُس کے سارے پچھلے ٹویٹ ڈیلیٹ کرتے ہیں، فیک فالوورز خریدتے ہیں، اور پھر پُوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہیں
    لیکن ایک بات بھول جاتے ہیں،ان کا ہر جعلی یا خریدا ہُوا اکاؤنٹ اگلے کی بے عزتی یا ٹرول کرتا ہے اور یہیں سے انہیں پکڑنا چاہئیے تھا

    https://x.com/ShamaJunejo/status/1870198988626178498

    یہ تمام انکشافات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رچرڈ گرنیل کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ہے، جس کا مقصد عمران خان کے حوالے سے بے بنیاد اور جعلی معلومات پھیلانا تھا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی موجودگی اور ان کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے کا ایک بڑا خطرہ ہے۔

    واضح ہو گیا کہ نو مئی کا ماسٹر مائند بانی چیئرمین پی ٹی آئی تھا ،عطا تارڑ

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش،4 خارجی ہلاک،ایک جوان شہید

    نومئی کے مجرموں کو سزا،منصوبہ سازبھی بچ نہ پائیں

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سیاہ فام کو پرواز سے اتارنے کا مقدمہ،ایئرلائن نے تصفیہ کر لیا

    ا مریکی ایئر لائنز نے تین سیاہ فام مردوں کی طرف سے دائر کردہ نسلی امتیاز کے مقدمے میں تصفیہ کر لیا ہے، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ انہیں جنوری میں ایک جسم کی بد بو کے الزام کی بنیاد پر ایک پرواز سے اُتار دیا گیا تھا۔

    تصفیہ کی شرائط کو منظر عام پر نہیں لایا گیا، تاہم اس میں فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں واقع ایئر لائن کی جانب سے مستقبل میں امتیاز کی روک تھام کرنے کا عہد شامل ہے۔یہ تین مرد 5 جنوری کو فلاٹ پر ہارٹ فورڈ سے نیو یارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ جانے والی پرواز پر سوار تھے، جب انہیں ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کی جانب سے جسم کی بدبو کے بارے میں شکایت کے بعد اُتارنے کی درخواست کی گئی۔ اصل شکایت میں کہا گیا کہ یہ شکایت "کوئی معقول وجہ نہ ہونے کے باوجود اور صرف ان کے نسلی پس منظر کی بنا پر” کی گئی تھی۔

    مردوں نے 29 مئی کو نیو یارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں کہا گیا کہ فلائٹ اٹینڈنٹ نے جسم کی بدبوکے بارے میں بغیر کسی ٹھوس وجہ کے شکایت کی، اور اس کے نتیجے میں پانچ دیگر سیاہ فام مردوں کو بھی پرواز سے اُتار دیا گیا تھا۔امریکی ایئر لائنز کے ترجمان نے اس تصفیے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "یہ معاہدہ تمام فریقوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔” انھوں نے مزید کہا، "ہم تمام گاہکوں کو خوش آمدید کہنے والے اور شمولیتی ماحول فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ اگرچہ ہم تصفیے کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کر سکتے، لیکن ہم نے اس مقدمے کے بارے میں ایک دوستانہ حل تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔”

    امریکی ایئر لائنز نے بعد ازاں وہ فلائٹ اٹینڈنٹس فارغ کر دیے تھے جو مسافروں کو اُتارنے کے ذمہ دار تھے، جیسا کہ ان مردوں کی جانب سے نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے بتایا۔

    مقدمے میں شامل مرد، ایلوِن جیکسن، امانوئیل جین جوزف، اور زیویر ویال نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: "ہم بہت خوش ہیں کہ امریکی ایئر لائنز نے ہماری شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور ہمیں امید ہے کہ ایسا دوبارہ کسی سیاہ فام مسافر یا کسی بھی رنگ و نسل کے فرد کے ساتھ نہیں ہوگا۔ ہمارا مقصد ہمیشہ تبدیلی لانا تھا، اور ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی آواز اٹھا کر سیاہ فام امریکیوں کی زندگیوں میں فرق ڈالا۔”

    مقدمے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکی ایئر لائنز کے ایک نمائندے نے پرواز کے آغاز سے پہلے ان تین مردوں اور دیگر پانچ سیاہ فام مردوں سے ملاقات کی اور انہیں پرواز سے اُتارنے کا حکم دیا تھا۔ ایئر لائن کے نمائندوں نے ان مردوں کو بتایا کہ بدن کی بو کی شکایت کی وجہ سے ان کو اُتار دیا گیا، حالانکہ کسی بھی مدعی کو ذاتی طور پر بدن کی بو کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا، اور حقیقت میں کسی کے جسم سے بُو نہیں آ رہی تھی۔

    امریکی ایئر لائنز پر حالیہ برسوں میں جہازوں پر نسلی امتیاز کی شکایات کا سامنا رہا ہے۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل نے 2017 میں امریکی ایئر لائنز کے خلاف ایک سفری انتباہ جاری کیا تھا، جب ایئر لائن کی پروازوں پر سیاہ فام مسافروں کے ساتھ بدسلوکی کی رپورٹیں سامنے آئیں۔ یہ انتباہ نو ماہ بعد اس وقت ہٹایا گیا جب ایئر لائن نے اس تنظیم کی تشویشات کے حل کی کوشش کی۔جون میں، ایک بار پھر امریکی ایئر لائنز سے تبدیلی لانے کی اپیل کی، جس کے بعد ایئر لائن نے نئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا، جن میں ایک مشاورتی گروپ کا قیام شامل ہے۔

    مدعیوں کے وکلا نے اس تصفیے کی ستائش کی۔ سوزن ہیوٹا، آؤٹن اینڈ گولڈن کی پارٹنر نے کہا: "امریکی ایئر لائنز کا امتیاز کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کا عہد عوامی کمپنیوں کے لیے نسلی امتیاز کے مقدمات میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ ہم خوش ہیں کہ اس تصفیے کے ذریعے ان بہادر مردوں کو عزت کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے۔”مائیکل کرک پیٹرک، پبلک سٹیزن لٹگیشن گروپ کے وکیل، جنہوں نے بھی مدعیوں کی نمائندگی کی، نے کہا: "کارپوریشنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے گاہکوں کے ساتھ نسل یا رنگ کی بنیاد پر بدسلوکی نہ ہو۔ ہم سراہتے ہیں کہ امریکی ایئر لائنز نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا اور اپنی سمت درست کرنے کا فیصلہ کیا۔”

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

  • ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    امریکہ کے صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کے درمیان تنازع نے ایک دن میں امریکی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا، اور حکومت کے شٹ ڈاؤن کی طرف بڑھنے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایلون مسک، جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، نے جانسن کے حکومت کی فنڈنگ کے لیے پیش کردہ مختصر مدت کے معاہدے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کی اور ایک نیا بحران پیدا کر دیا۔

    ایلون مسک کی مداخلت اور ٹرمپ کی حمایت
    ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ ٹرمپ نے انتخابی رات جانسن کو اپنے ساتھ رکھا، اور گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں بھی جانسن کو مدعو کیا۔ اس کے باوجود جب ایلون مسک نے ٹرمپ کی رضامندی سے سوشل میڈیا پر جانسن کے مختصر مدتی حکومت فنڈنگ معاہدے کو "غیر قانونی” قرار دیا تو یہ سب کو حیران کن لگا۔ مسک کی اس مداخلت کے بعد، ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کے خلاف آواز اٹھائی اور دھمکی دی کہ وہ 2026 میں ان ریپبلکن ارکان کے خلاف انتخابی مہم چلائیں گے جو اس معاہدے کی حمایت کریں گے۔

    ٹرمپ کے مطالبات اور حکومت کی بندش کا خطرہ
    ٹرمپ نے مزید مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سنبھالنے سے قبل قرض کی حد کو ختم کروا دیں یا کم از کم اسے معطل کیا جائے۔ یہ مطالبات ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کا باعث بنے، اور نتیجے کے طور پر حکومت کا شٹ ڈاؤن قریب آ گیا۔یہ غیر متوقع سیاسی تبدیلی اور تنازعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کتنے گہرے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما کی خواہشات ایوان کے اسپیکر کے ساتھ ٹکرا رہی ہوں۔

    کئی ریپبلکن قانون سازوں نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا۔ ایک قانون ساز نے سی این این کو بتایا، "یہ سب بہت عجیب ہے، یہ صورتحال مکمل طور پر قابلِ اجتناب تھی۔” تاہم، جمعرات کی شام تک، ٹرمپ نے دوبارہ جانسن کی حمایت کی جب جانسن نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا جو ٹرمپ کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی فنڈنگ کی مدت بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔جانسن اور دیگر قانون سازوں نے تین ماہ کے لیے حکومت کی فنڈنگ بڑھانے کی کوشش کی، جس میں قرض کی حد کو 2027 تک بڑھایا جانا، زرعی بل میں توسیع اور قدرتی آفات کے لیے 110 بلین ڈالر کی امداد شامل تھی۔ تاہم، اس منصوبے کی مخالفت میں 38 ریپبلکن ارکان نے ووٹ دیا اور یہ بل ناکام ہوگیا۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ اور جانسن کے تعلقات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں جانسن کے ساتھ گہرے گفتگو کی تھی اور اس موقع پر جانسن نے ٹرمپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ مختصر مدت کی فنڈنگ سے زیادہ وقت درکار ہے۔ تاہم، جب بل کا متن سامنے آیا، تو ٹرمپ نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تعلقات بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسک کی حمایت نے ٹرمپ کے موقف کو مزید تقویت دی، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بل میں بہت زیادہ رعایتیں دی جا رہی ہیں اور اس میں زیادہ خرچ کی پیشکش کی گئی ہے جو کہ ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

    اس تمام پیچیدہ صورتحال نے ایوان نمائندگان کی قیادت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کیسے کام کرے گی، خاص طور پر جب اس میں مختلف دھڑے موجود ہیں،ڈیموکریٹس، جنہوں نے گزشتہ موسم بہار میں جانسن کی حمایت کی تھی، اب کہتے ہیں کہ وہ مزید اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جانسن کو اپنے پارٹی کے اندرونی تنازعات سے نمٹنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

  • پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان پرامن ریاست،لیکن بیرونی جارحیت سے دفاع کا حق ہے،خواجہ سعد رفیق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، تاہم اسے کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نظرانداز کرتا ہے اور اس کی دوہری پالیسی کو سامنے لایا۔ "پاکستان کبھی بھی دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا، لیکن امریکہ کیوں پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خوفزدہ ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سزائیں کیوں عائد کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ملک پاکستان سے کبھی کسی خطرے کا شکار نہیں ہوا۔سعد رفیق نے کہا کہ "پاکستان کا جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے، اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اپنے دفاعی توازن کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حکام کو خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک استحکام کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔”

    خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کی کوشش کی ہے اور وہ اپنے دفاعی وسائل کو بڑھانے کا حق رکھتا ہے تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی دوہری پالیسیوں سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے دفاعی پروگرام پر ناپسندیدہ دباؤ ڈالنے کی بجائے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

  • پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

    پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے امریکی تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئیر حکومتی اہلکار نے باضابطہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسی ’کارآمد میزائل ٹیکنالوجی‘ تیار کر لی ہے جو اسے امریکہ کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنائے گی

    امریکہ کے نائب قومی سلامتی مشیر جان فائنر نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے اور اس کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ جان فائنر نے ایک تقریب کے دوران خطاب میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ یہ ترقی صرف پاکستان کے دفاعی شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ پاکستان کے روابط اور خطے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے۔ پاکستان کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں تیز رفتار پیشرفت عالمی طاقتوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، کیونکہ ان میزائلوں کی رینج اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ امریکی سرزمین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔جان فائنر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں میں اس اضافے سے علاقائی طاقتوں کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔عالمی برادری کو اس نئی حقیقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔

    امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکا کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے،ہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اسے بڑے راکٹ موٹرز کے تجربات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بہت آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت ہوگی۔

    پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں امریکی تشویش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں اس نوعیت کے مسائل ہمیشہ حساس رہے ہیں، خاص طور پر جب بات جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کی ٹیکنالوجی کی ہوتی ہے۔ پاکستان کی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی کا ارتقاء اس کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے اثرات کا مقابلہ کرنا اور خطے میں اپنے دفاعی اثرات کو مستحکم کرنا ہے۔

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    میزائل پروگرام،امریکی پابندیاں پاکستانی خود مختاری پر حملہ

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    پی ٹی آئی پر پابندی ،قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

  • طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    افغانستان میں امریکہ کی شکست پر طالبان کی فتح کا جشن منانے والے عمران خان کے لئے اب امریکہ سے ہی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی لابنگ فرم نے کام دکھانا شروع کر دیا ۔ امریکی غلامی سے آزادی لینے کے دعویدار امریکہ سے مدد مانگ رہے تو وہیں امریکی بھی عمران خان کے لیے لابنگ کرنے لگے

    طالبان جنہوں نے دو دہائیوں تک امریکی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور 2,400 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ 2021 میں جب طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے، عمران خان نے اس فتح کو خوشی کے ساتھ سراہا اور طالبان کے قبضے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی تربیت یافتہ افغان فوجیوں کی شکست کا مذاق اُڑایا اور طالبان کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔یہاں تک کہ عمران خان نے طالبان کی کامیابی کو ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کیا، جسے اس وقت کے عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی موقف کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے نہ صرف امریکہ کی فوجی طاقت کو شکست دی بلکہ افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھی ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے۔

    مگر آج کچھ عجیب سی صورتحال سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اہم ارکان اب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسے ہیرو اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس نے امریکہ کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک ایسا شخص جو کبھی طالبان کے حق میں بول رہا تھا، آج وہ امریکہ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کس طرح آئی؟اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب واشنگٹن کا لابنگ نظام ہے۔ وہ طاقتور لابنگ جو طالبان کے حمایتی کو بھی امریکہ کا دوست بنا دیتی ہے اور ناقدین کو بھی حامیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ کا لابنگ سسٹم نہایت حیرت انگیز طریقے سے اپنے مخالفین کو اپنے اتحادیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وقت نہیں آیا کہ ہم اس لابنگ سسٹم کی ذہانت اور اس کے کمالات کو تسلیم کریں؟ ایک ایسی قوت جو اپنے مخالفین کو بھی اپنے کیمپ میں شامل کر لیتی ہے، کیا یہ ایک سیاسی جادو نہیں؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ہمیں مزید واضح ہو سکے گا۔

  • امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امریکہ خود قاتل،پاکستانی کمپنیوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، حافظ نعیم

    امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے امریکا کی جانب سے پاکستان کی چار نجی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

    منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کس بنیاد پر پاکستان کی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رہا ہے؟ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام انتہائی غیر منصفانہ اور جابرانہ ہے کیونکہ وہ خود تاریخ میں کئی سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ "امریکہ خود ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا چکا ہے اور نسل کشی میں ملوث اسرائیل کی مالی امداد کر رہا ہے۔” حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ امریکہ نے عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کے جھوٹے دعوے کرکے لاکھوں افراد کو قتل کیا، اسی طرح ویتنام اور افغانستان میں بھی امریکی فوجیوں نے بے شمار انسانی جانوں کا ضیاع کیا۔امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ "امریکہ وہ ملک ہے جس نے لاکھوں افراد کو قتل کیا اور آج وہ ہماری نجی کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کریں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود اسرائیل دہشت گردی اور نسل کشی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ "غزہ میں 45 ہزار لاشیں مل چکی ہیں لیکن ملبے تلے کتنے اور افراد شہید ہوئے ہیں، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور یہ ایک سنگین انسانی بحران ہے۔انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی صورتحال پر سخت موقف اپنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ نے 20 جنوری تک یرغمالیوں کی رہائی نہ ہونے پر کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ عالمی برادری کو اسرائیل کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے۔”

    امیر جماعتِ اسلامی نے بتایا کہ ان کی جماعت غزہ میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ متاثرین کی مدد کی جا سکے، مگر انہوں نے کہا کہ یہ کام حکومت کا ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اپیل کی کہ حکومت پاکستان اس معاملے میں فعال کردار ادا کرے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسرائیل کے جرائم کے خلاف آواز بلند کرے۔

    پاکستان کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ملک کی زراعت کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر مافیا کو فائدہ پہنچا رہی ہے، اور کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے سے گریز کر رہی ہے۔” انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا اور مڈل مین اپنے مفادات کے لئے سرگرم ہیں اور کسانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 29 دسمبر کو اسلام آباد میں ایک بڑا ملین مارچ کرے گی جس میں غیر مسلم بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مارچ انسانیت کے خلاف جنگ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ "یہ صرف فلسطین یا غزہ کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے انسانی معاشرتی نظام کے خلاف ایک جنگ ہے اور ہم اس میں حصہ ڈالیں گے۔”

  • میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    میزائل پروگرام میں مدد،4 پاکستانی اداروں پر امریکی پابندی،پاکستان کا ردعمل

    امریکا نے پاکستان کے چار اہم اداروں پر پابندی عائد کردی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں مدد فراہم کی ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے مطابق، ان اداروں کی سرگرمیاں پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام کو مزید تقویت دینے کے لیے اہم رہی ہیں۔امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ان چار اداروں پر پابندیاں اس بات کی بنیاد پر عائد کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان میں وہ خصوصی وہیکل چیسز (گھومنے والی گاڑیاں) شامل ہیں جو بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

    ان اداروں میں شامل ہیں:
    نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) – اسلام آباد میں واقع یہ ادارہ پاکستان کے دفاعی پروگراموں کا اہم حصہ ہے۔
    اختر اینڈ سنز – کراچی میں قائم ایک دفاعی ادارہ۔
    ایفیلیٹس انٹرنیشنل – کراچی میں قائم ایک اور دفاعی ادارہ۔
    روک سائیڈ اینٹرپرائزز – کراچی کا ایک اور ادارہ جس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا ان کے ترسیلی ذرائع کی ترقی میں معاونت کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں لگائی جا رہی ہیں۔

    پاکستان کا شدید ردعمل
    پاکستان نے امریکا کی جانب سے ان چار اداروں پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو شدید طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس اقدام کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک پروگرام کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کا یہ اقدام خطے میں فوجی عدم توازن کو بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں پاکستان کے اسٹریٹجک اعتماد کو نظرانداز کرتی ہیں، جو 24 کروڑ عوام کی حمایت پر مبنی ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے، جس کی حفاظت اور اس کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کی پالیسیوں میں یہ امتیازی سلوک عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

    پاکستان کا موقف ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل اور دیگر اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد نہ صرف قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ اس کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس نوع کی پالیسیاں خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہیں اور عالمی سطح پر اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر عالمی سطح پر مزید بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو دور کیا جا سکے۔

  • نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

    نیویارک کے 112ویں سالانہ نیو یارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ایلکس بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے اچانک گر پڑے۔ بروسوِٹز 27 سالہ سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ہیں، جو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

    اتوار کی شام نیو یارک سٹی میں ہونے والی اس تقریب میں بروسوِٹز اسٹیج پر خطاب کر رہے تھے، اور ان کے ساتھ ٹرمپ کی ٹیم کے دیگر اہم ارکان جیسے اسٹیو بینن اور ڈین اسکیوینو بھی موجود تھے۔ جب بروسوِٹز خطاب کر رہے تھے، تو اچانک ان کی آواز لڑکھڑانے لگی اور وہ واضح طور پر بے چینی کا شکار نظر آئے۔ انہوں نے کہا، "میرے الفاظ یاد نہیں آ رہے”، جس کے بعد وہ اسٹیج پر گر گئے۔ ان کی حالت بگڑتے ہوئے دیکھ کر حاضرین میں ہلچل مچ گئی، اور فوراً لوگوں نے ان کی مدد کے لیے دوڑ لگا دی۔واقعے کے فوراً بعد بروسوِٹز کو اسٹیج سے ہٹا کر بیک اسٹیج منتقل کیا گیا، جہاں انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ اس دوران، کنزرویٹو انفلوانسر جیک پوزوبیک نے ٹویٹ کیا کہ اس نے بروسوِٹز سے بیک اسٹیج بات کی تھی اور اس نے بتایا کہ یہ ایک "غشی کا حملہ” تھا۔ تاہم، ابھی تک بروسوِٹز کی حالت اور اس کے باعث ہونے والے طبی مسئلے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

    ایلکس بروسوِٹز، جو "ایکس اسٹریٹیجیز” کے سی ای او ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ ٹرمپ کے نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے اور ان کے پیغامات کو بہتر طریقے سے پہنچانے میں مصروف تھے۔ بروسوِٹز کی حکمتِ عملی نے ٹرمپ کو نوجوان ووٹرز کے درمیان ایک نئی مقبولیت دلائی، اور انہوں نے ٹرمپ کو "کول” بنانے کی کوشش کی، خاص طور پر اس نئے میڈیا پلیٹ فارم کی مدد سے جو نوجوانوں میں مقبول تھا۔
    alex

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کی مہم کے دوران "نئے میڈیا” کو اپنا ہتھیار بنایا، جس میں پوڈکاسٹروں اور انٹرٹینرز کے ساتھ کام کرنے کی حکمتِ عملی شامل تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو ان غیر روایتی میڈیا پلیٹ فارمز پر لانے کی کوشش کی جہاں نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بروسوِٹز نے بارون ٹرمپ، ٹرمپ کے 18 سالہ بیٹے، کے ساتھ مل کر مختلف انٹرویوز کے منصوبے تیار کیے اور اس کے ذریعے ٹرمپ کو ایک "عام انسان” کے طور پر پیش کیا جو عوام کے ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتا ہے اور زندگی اور سیاست پر کھل کر بات کرتا ہے۔

    بروسوِٹز نے ٹرمپ کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ "امریکہ فرسٹ” تحریک کے ایک سرگرم حمایتی رہے ہیں۔ اپنے پروفائل میں بروسوِٹز نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی شہریوں کے مفادات کو ترجیح دینے والی پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتے ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کے حامیوں کی مدد سے مخالف ریپبلکن سیاستدانوں کو شکست دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کی حکمتِ عملی میں یہ بات شامل تھی کہ انہیں سیاسی پوڈکاسٹروں اور کامیڈینوں کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا تاکہ وہ اپنی سیاسی پیغامات کو مؤثر طریقے سے پھیلانے میں کامیاب ہو سکیں۔

    اس وقت تک بروسوِٹز کی طبی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کی طبی امداد کے حوالے سے روزنامہ "ڈیلی میل” نے ٹرمپ اور "ایکس اسٹریٹیجیز” سے رابطہ کیا ہے، لیکن کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بروسوِٹز کی صحت کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور ان کے حامی اور سوشل میڈیا پر موجود افراد ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔