Baaghi TV

Tag: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

  • سعودی ولی عہد کا امریکا کا دورہ ،ٹرمپ کا استقبال

    سعودی ولی عہد کا امریکا کا دورہ ،ٹرمپ کا استقبال

    سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ نے انہیں باضابطہ سلامی بھی پیش کی۔گزشتہ روز سعودی شاہی دیوان نے بتایا تھا کہ شاہ سلمان کی ہدایت اور صدر ٹرمپ کی دعوت پر شہزادہ محمد بن سلمان سرکاری دورے کے لیے امریکا روانہ ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق دورے کا محور دوطرفہ تجارت، تیل و سیکیورٹی تعاون، مالیات، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ملاقات سے قبل سعودی عرب نے امریکا سے جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کے حصول کا معاہدہ بھی طے کر لیا۔

    صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں اعلان کیا کہ امریکا سعودی عرب کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جو ماہرین کے مطابق عرب دنیا کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا سودا ہوگا

    ٹیکساس میں پاکستانی نژاد کراچی کی خاتون کو 8 سال قید

    کراچی: سی ٹی ڈی کی کارروائی، ٹارگٹ کلر سمیت 4 گرفتار

  • سعودی ولی عہد کی امریکا آمد، ٹرمپ کا ایف-35 طیاروں کی فروخت کا اعلان

    سعودی ولی عہد کی امریکا آمد، ٹرمپ کا ایف-35 طیاروں کی فروخت کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج امریکا پہنچ رہے ہیں اور امریکا سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جارہی ہے، جبکہ جرائم میں اضافے کے باعث بعض شہروں میں فوج تعینات کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری صحت بہتر ہے اور خود کو پہلے سے زیادہ بہتر محسوس کر رہا ہوں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتظامات جاری ہیں۔ ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے خواہشمند ہیں۔

    عہدیدار نے مزید بتایا کہ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات میں ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی

    برطانیہ میں امیگریشن کا نیا منصوبہ منظور، قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    ایئر کارگو کی ترسیل،پی آئی اے اور بنگلہ دیش بیمان کا تاریخی معاہدہ

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ جاری

  • محمد بن سلمان کی وائٹ ہاؤس آمد، تعلقات میں نئی پیش رفت کی کوششیں

    محمد بن سلمان کی وائٹ ہاؤس آمد، تعلقات میں نئی پیش رفت کی کوششیں

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کر رہے ہیں جو 2018 کے بعد ان کا پہلا امریکی دورہ ہے۔

    ملاقات کا مقصد تیل، سیکیورٹی، تجارت، ٹیکنالوجی اور ممکنہ جوہری توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔2018 میں جمال خشوقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک تعلقات کو نئی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق قتل کی منظوری ولی عہد نے دی تھی، تاہم انہوں نے براہِ راست حکم دینے سے انکار کرتے ہوئے بطور حکمران ذمہ داری قبول کی تھی۔رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ مئی میں سعودی عرب کے دورے کے دوران طے پانے والی 600 بلین ڈالر سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب سیکیورٹی کی مضبوط ضمانتیں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی تک رسائی اور سول جوہری پروگرام میں پیش رفت چاہتا ہے۔

    دفاعی معاہدہ تاحال چیلنجز کا شکار ہے، کیونکہ واشنگٹن اسے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مشروط سمجھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ محدود دفاعی مدد ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فراہم کر سکتے ہیں۔تجارتی اور تکنیکی تعاون پر پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، خصوصاً اے آئی اور جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں، جو سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے لیے اہم ہیں

    یوکرین فرانس معاہدہ: 100 رافیل طیاروں کی خرید، دستخط ہو گئے

    غزہ میں امداد کی بندش اور بارشوں سے تباہی، بے گھر فلسطینی پریشان

    بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ، بھارت کا ردعمل سامنے آگیا

  • سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط

    سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش بیانات کے باوجود امکان ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے رواں ماہ وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاہدہ طے نہیں پائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دہائیوں کی دشمنی کے بعد اگر سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی و سکیورٹی منظرنامے کو بڑی حد تک بدل دے گا اور اس سے خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انہیں امید ہے سعودی عرب بہت جلد اُن مسلم ممالک میں شامل ہوگا جنہوں نے 2020 کے ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل سے تعلقات بحال کیے تھے۔تاہم دو خلیجی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض نے واشنگٹن کو واضح کر دیا ہے کہ اس کا مؤقف برقرار ہے — سعودی عرب صرف اُس وقت معاہدے پر دستخط کرے گا جب فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح روڈ میپ طے پا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کسی بھی سفارتی غلط فہمی سے بچنے اور مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ 18 نومبر کو متوقع وائٹ ہاؤس ملاقات کے دوران کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اور موجودہ اٹلانٹک کونسل کے ماہر جوناتھن پینی کاف کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان کسی باضابطہ تعلقات کو اُس وقت تک آگے نہیں بڑھائیں گے جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کا قابلِ عمل راستہ واضح نہ ہو۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ولی عہد ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے تاکہ خودمختار فلسطینی ریاست کے لیے زیادہ مضبوط اور واضح امریکی حمایت حاصل کی جا سکے۔

    نئی کھدائی، کراچی میں ٹریفک جام کا نیا مرحلہ شروع ہونے کو تیار

    تھائی لینڈ کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے سات افراد ہلاک

    حکومت کا 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے،سید قمر رضا

  • ٹرمپ نے شٹ ڈاؤن کو نیویارک میئر الیکشن میں شکست کی وجہ قرار دے دیا

    ٹرمپ نے شٹ ڈاؤن کو نیویارک میئر الیکشن میں شکست کی وجہ قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا میں جاری شٹ ڈاؤن امریکا میں جاری شٹ ڈاؤن میں ریپبلکن امیدوار کی شکست کی سب سے بڑی وجہ تھی۔

    وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ ناشتے کی تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ طویل شٹ ڈاؤن کے باعث ایئرلائنز اور اسٹاک مارکیٹ متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرایا تاہم افسوس کا اظہار کیا کہ ڈیموکریٹس کو اتنا موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا رہا جتنا کہ انہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔صدر ٹرمپ نے فلی بسٹر کے خاتمے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ یہ قدم شٹ ڈاؤن کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز کو اب فلی بسٹر ختم کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ قانون سازی ممکن نہیں ہوگی۔

    انہوں نے سینیٹ کی "بلیو سلپ” روایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جس کے تحت مقامی سینیٹرز کو عدالتی یا اٹارنی نامزدگیوں پر اعتراض کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ روایت صدر کے اختیارات کو محدود کرتی ہے، اس لیے ان کی انتظامیہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوگئے، وہ شہر کے پہلے مسلمان میئر ہیں

    پاکستان نے سرحدی خودکش ڈرونز کا توڑ تیار کر لیا

    بیرسٹر گوہر کا 27ویں آئینی ترمیم پر اعتراض، وفاق کو خطرہ قرار

  • سعودی عرب جلد ابراہم معاہدے میں شامل ہوگا،ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    سعودی عرب جلد ابراہم معاہدے میں شامل ہوگا،ٹرمپ کا نیا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب جلد ابراہم معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام سِکسٹی منٹس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہے۔میزبان کے سوال پر کہ ولی عہد دو ریاستی حل کے بغیر معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے، ٹرمپ نے جواب دیا خۃ ہیں، میں سمجھتا ہوں وہ شامل ہوں گے۔ میرا خیال ہے ہم کوئی حل نکال لیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ دو ریاستی حل ہوگا یا نہیں، یہ اسرائیل، دیگر فریقوں اور ان پر منحصر ہے، تاہم ایران کو جوہری طاقت سے روکنا امن کے لیے ضروری ہے۔الجزیرہ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 18 نومبر کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے سرکاری ملاقات کریں گے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر بات ہوگی۔ اس موقع پر دفاعی معاہدے پر پیش رفت بھی متوقع ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں 2020 میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کروائے تھے

    کراچی میں ای چالانوں کی بھرمار، شہری پریشان؛ حکام سے جواب طلب

    دوحہ میں سماجی ترقی پر عالمی سربراہی اجلاس، ’دوحہ سیاسی اعلامیہ‘ کی منظوری

    سگریٹ برانڈز کی ٹیکس چوری، 81 فیصد مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ غائب

  • ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں تاریخی کمی، ریٹنگ منفی 18 پر پہنچ گئی

    ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں تاریخی کمی، ریٹنگ منفی 18 پر پہنچ گئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔

    دی اکانومسٹ کے تازہ سروے کے مطابق ان کی ’نیٹ اپروول ریٹنگ‘ منفی 18 تک گر گئی ہے، جب کہ 57 فیصد امریکی ان کے مخالف ہیں اور صرف 39 فیصد حامی۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ، جو خود کو "دنیا میں جنگیں رکوانے والا رہنما” کہتے رہے ہیں، عوامی مقبولیت میں مسلسل تنزلی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ان کے صدارتی دور کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران مہنگائی ختم کرنے، روزگار بڑھانے اور مڈل کلاس کو اوپر اٹھانے کے بڑے وعدے کیے تھے، تاہم رپورٹ کے مطابق مہنگائی اب بھی معیشت کے بڑے چیلنجز میں شامل ہے اور مڈل کلاس طبقہ دباؤ کا شکار ہے۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت ری پبلکن میں بھی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے

    ایشیا کپ ٹرافی تنازع: بھارت کا آئی سی سی میں معاملہ اٹھانے کا اعلان

    ویمنز ورلڈکپ میں ناکامی، ہیڈ کوچ محمد وسیم عہدے سے فارغ

    اسرائیل کی حمایت کرنے پر امریکا کے ساتھ تعاون ممکن نہیں، آیت اللہ خامنہ ای

    کراچی میں پہلا ای چالان معافی، 50 فیصد رعایت کا اعلان

  • بوسان میں چین اور امریکا کے صدور کی 6 سال بعد تاریخی ملاقات

    بوسان میں چین اور امریکا کے صدور کی 6 سال بعد تاریخی ملاقات

    جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔

    چینی میڈیا کے مطابق یہ 6 سال میں دونوں ممالک کے صدور کی پہلی ملاقات ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں شی جن پنگ سے ان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ملاقات میں چین امریکا تعلقات، تجارت، معیشت، توانائی اور افرادی و ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو طویل المدتی مفادات پر توجہ دینی چاہیے اور انتقامی اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

    ملاقات کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چین اور امریکا غیر قانونی امیگریشن، ٹیلی کمیونیکیشن فراڈ، اینٹی منی لانڈرنگ، مصنوعی ذہانت اور متعدی بیماریوں سے نمٹنے جیسے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات چین امریکا تعلقات میں استحکام اور مثبت پیش رفت کا اشارہ ہے

    ایم ڈی کیٹ 2025: پہلی تینوں پوزیشنز کراچی کے طلبہ کےنام

    جنوبی افریقا نے تیسرے ٹی20 میں پاکستان کو 140 رنز کا ہدف دے دیا

  • امریکا 33 سال بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا، ٹرمپ کی تصدیق

    امریکا 33 سال بعد جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا، ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا ایک بار پھر جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا۔

    ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا، لیکن ہم کچھ تجربات کرنے جا رہے ہیں۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ان تجربات میں روایتی زیرِ زمین دھماکے شامل ہوں گے جو سرد جنگ کے دوران کیے جاتے تھے، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ دیگر ممالک ایسا کر رہے ہیں، اگر وہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی کریں گے، ٹھیک ہے؟

    ایک روز قبل، انہوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج کو 33 سال کے وقفے کے بعد فوری طور پر جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ان کا یہ غیر متوقع اعلان چین اور روس جیسے حریف جوہری ممالک کے لیے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
    صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ٹروتھ سوشل پر اُس وقت کیا جب وہ میرین ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر چینی صدر شی جن پنگ سے جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں تجارتی مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ جوہری دھماکوں پر مبنی تجربات کی طرف تھا جو نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن انجام دیتی ہے یا جوہری میزائلوں کی پرواز کے تجربات کی طرف۔یاد رہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں صرف شمالی کوریا نے 2017 میں جوہری دھماکا کیا تھا، اس کے بعد کسی ملک نے ایسا تجربہ نہیں کیا۔

    پیٹرولیم مصنوعات ایک بار پھر مہنگی،قیمتوں میں اضافہ

    سندھ ،گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹس کے لیے مدت میں توسیع

    وزیر دفاع نے دانیال چوہدری کے بیان کی سخت مذمت کر دی

  • بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی چابہار بندرگاہ کے آپریشن کے لیے نئی دہلی کو چھ ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا ہے، جس سے افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے لیے دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ رواں ماہ نئی دہلی نے طالبان حکومت کے زیر انتظام افغانستان کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا ہے۔چاہ بہار بندرگاہ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے اور اس منصوبے کا مقصد افغانستان کو ریل لنک کے ذریعے جوڑنا اور کراچی بندرگاہ پر انحصار کم کرنا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کو چھ ماہ کی رعایت دی گئی ہے اور امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے

    دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع