Baaghi TV

Tag: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

  • ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جسے عالمی فلمی صنعت کے لیے ایک غیر معمولی اور بڑے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ اقدام ہالی ووڈ کی بین الاقوامی کاروباری حکمتِ عملی کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ’ٹرتھ سوشل‘ پر کہا کہ امریکا کی فلم سازی کی صنعت غیر ملکی مقابلے کے باعث پیچھے جا رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی فلم انڈسٹری کو دیگر ممالک نے ایسے لوٹا ہے جیسے کسی بچے سے کینڈی چھین لی جائے۔ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کون سا قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے تبصرے سے گریز کیا جبکہ ہالی ووڈ کے بڑے اسٹوڈیوز، جن میں وارنر برادرز ڈسکوری، کام کاسٹ، پیراماؤنٹ اسکائی ڈانس اور نیٹ فلکس شامل ہیں، نے فوری ردِعمل نہیں دیا۔

    فی الحال سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے، اور نیٹ فلکس کے حصص ابتدائی کاروبار میں 1.5 فیصد گر گئے۔ رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ نے پہلی بار فلموں پر ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر تفصیلات نہیں دی تھیں، جس سے فلمی صنعت کے بڑے ادارے اب تک تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا یہ پالیسی مخصوص ممالک تک محدود ہوگی یا تمام درآمد شدہ فلموں پر لاگو کی جائے گی۔

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان

    بنگلہ دیش میں قبائلی لڑکی کے گینگ ریپ کے بعد ہنگامے، تین ہلاک، کرفیو نافذ

    خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، تعداد 2283 تک پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، تعداد 2283 تک پہنچ گئی

  • ٹرمپ نے غزہ امن منصوبہ پیش کر دیا،  مسلم ممالک کی حمایت  حاصل

    ٹرمپ نے غزہ امن منصوبہ پیش کر دیا، مسلم ممالک کی حمایت حاصل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کا پیش کردہ امن منصوبہ متعدد عرب اور مسلم ممالک کی حمایت حاصل کر چکا ہے اور وہ بہت پُراعتماد ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں آئے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔

    پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک بڑا دن ہے اور ان کا ہدف صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کرنا ہے۔ اُن کے منصوبے میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی (ممکنہ طور پر 72 گھنٹوں کے اندر)، غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلا کے مرحلے، اور غزہ کی سیکیورٹی و نگرانی کے لیے عرب و مسلم امن دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے اور زیرِ زمین سرنگوں و ہتھیار سازی کے ٹھکانوں کو نابود کرنے کے وعدے اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ غزہ میں نئی عبوری انتظامیہ کے قیام اور مقامی پولیس فورس کی تربیت کی بھی بات کی گئی ہے، جبکہ ایک نیا بین الاقوامی نگران ادارہ ’بورڈ آف پیس‘ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں عرب رہنماؤں، اسرائیل اور نامزد بین الاقوامی شخصیات (جن میں ٹونی بلیئر کا امکان بھی بتایا گیا) شامل ہوں گے۔

    ٹرمپ نے ورلڈ بینک کو یہ ذمہ داری سونپنے کا کہا کہ وہ فلسطینیوں پر مشتمل نئی حکومت کی تربیت اور تقرری میں مدد دے، اور واضح کیا کہ حماس یا دیگر دہشت گرد تنظیمیں غزہ کی حکومت میں کوئی کردار نہیں پائیں گی۔ اگر حماس معاہدہ قبول نہ کرے تو اُنہوں نے نیتن یاہو کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے بعض عرب و مسلم رہنماؤں اور (انہوں کے بقول) وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل (سید عاصم منیر) کی اس منصوبے میں حمایت کا بھی ذکر کیا۔

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بہت پُراعتماد ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں کی جلد ہی مشترکہ پریس کانفرنس متوقع ہے۔

    رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس سے فون کال کے دوران قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے دوحہ فضائی حملے پر معذرت کی۔ ایک علیحدہ ذریعے کے مطابق قطری تکنیکی ٹیم بھی وائٹ ہاؤس میں موجود ہے، جبکہ ایک سفارت کار نے اے ایف پی کو بتایا کہ نیتن یاہو نے قطری خودمختاری کی خلاف ورزی اور ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

    بات چیت سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ یرغمالیوں کو واپس لانا ہے… یہ وہ گروپ ہے جو یہ کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور گروپ نہیں جو ایسا کر سکے، اس لیے آپ کے ساتھ ہونا اعزاز ہے۔”انہوں نے اس تنازعے کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: "ہم نے یہاں 32 ملاقاتیں کی ہیں، لیکن یہ سب سے اہم ہے کیونکہ ہم ایک ایسے معاملے کو ختم کرنے جا رہے ہیں جو شاید کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔”

    اسرائیلی چینل 12 اور امریکی ویب سائٹ ایکس یوس کے مطابق صدر ٹرمپ کے امن منصوبے میں فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں (زندہ یا جاں بحق) کی رہائی۔غزہ سے اسرائیلی انخلا کا مرحلہ وار منصوبہ، جس میں حماس شامل نہیں ہوگی بلکہ فلسطینی اتھارٹی کردار ادا کرے گی۔غزہ کی سیکیورٹی اور انخلا کی نگرانی کے لیے عرب و مسلم امن دستوں کی تعیناتی۔علاقائی شراکت داروں کی فنڈنگ سے تعمیرِ نو اور عبوری پروگرام جیسے نکات شامل ہیں.

    یہ منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ اسرائیل کا تیار کردہ منصوبہ نہیں ہے۔

    بھارت میں قید پاکستانی شہری راقیب بلال رہا، وطن واپس روانہ

    نیتن یاہو کی قطری وزیراعظم سے دوحہ حملے پرمعذرت

    حکومت سندھ کا بڑا اقدام: پاکستان کی پہلی حکومتی ٹیکسی سروس کا اعلان

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب ہیں،وائٹ ہاؤس

  • افغانستان نے امریکی شہری عامر امیری کو رہا کردیا

    افغانستان نے امریکی شہری عامر امیری کو رہا کردیا

    افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکی شہری عامر امیری کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں امریکی وفد کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یرغمالیوں کے معاملات کے لیے خصوصی ایلچی ایڈم بولر نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے خوشگوار لمحہ ہے۔امیر خان متقی نے کہا کہ افغان حکومت شہریوں کے مسائل کو سیاسی زاویے سے نہیں دیکھتی اور سفارت کاری کے ذریعے ان مسائل کے حل کے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے قیدی کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے پر قطر کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    ایڈم بولر نے کابل اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے پچھلے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ باقی مسائل پر بات چیت جاری رہے گی۔ یہ امریکی وفد کا کابل کا دوسرا دورہ تھا۔افغان وزارت کے مطابق گزشتہ ملاقات میں امریکی وفد نے امریکی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ طالبان رہنماؤں نے افغان شہری محمد رحیم کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جو گوانتانامو بے میں قید سمجھے جاتے ہیں۔

    امریکی وفد اصولی طور پر محمد رحیم کی رہائی پر متفق ہوا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں قطر منتقل کیا جائے گا، تاہم افغان وزارت کے بیان میں اس کی مزید وضاحت شامل نہیں تھی۔

    بھارت: 20 لڑکیوں سے زیادتی،مذہبی رہنما سوامی سرسوتی گرفتار

    کراچی: قاتلانہ حملے میں زخمی صحافی امتیاز میر دم توڑ گئے

    غزہ پر اسرائیلی بمباری: حماس کا 24 گھنٹے جنگ بندی کا مطالبہ

    لندن میں خطاب: وزیراعظم شہباز شریف نے کرکٹ کی مثال دے دی

  • کل وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات ہوگی

    کل وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات ہوگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کل وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات ہو گی۔

    واشنگٹن سے خبر ایجنسی کے مطابق اس ملاقات کا مقصد جنگ بندی معاہدے کا فریم ورک طے کرنا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ٹرتھ سوشل پوسٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ "کچھ خاص ہونے والا ہے، سب تیار ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعے کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ غزہ پر ڈیل ہو جائے گی۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے اپنا خطرناک ہتھیار یوکرین بھیج دیا ہے۔

    ان کے مطابق پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام یوکرین کو موصول ہو چکا ہے اور ملک میں تعینات بھی کر دیا گیا ہے۔دی یروشلم پوسٹ کے مطابق یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ ایسے دعوؤں کی تردید کر چکی تھی۔رائٹرز کے مطابق صدر زیلنسکی نے مزید بتایا کہ یوکرین کو جلد ہی دو مزید پیٹریاٹ سسٹمز ملنے کی امید ہے۔

    روس کے خلاف جنگ: اسرائیل نے یوکرین کو خطرناک ہتھیار بھیج دیا

    اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرے، نیتن یاہو کو جوتے مارے گئے

    ایشیا کپ فائنل: پاکستان کی بیٹنگ جاری،6 وکٹوں کے نقصان پر 133 رنز

  • ٹرمپ کا غزہ جنگ بندی منصوبہ ہمیں پیش نہیں کیا گیا،حماس

    ٹرمپ کا غزہ جنگ بندی منصوبہ ہمیں پیش نہیں کیا گیا،حماس

    فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تجویز کردہ غزہ جنگ بندی منصوبہ حماس تک پیش نہیں کیا گیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    اس سے قبل اخبار ہآرتز کے مطابق، ٹرمپ کے معاہدے کی تجویز میں شامل تھا کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 100 درجن فلسطینی قیدی آزاد کرے اور اسرائیلی افواج بتدریج پسپائی اختیار کریں گی۔ منصوبے میں یہ بھی کہا گیا کہ حماس کی حکومت ختم ہو جائے، اور اسرائیل غزہ کو الحاق یا فلسطینی باشندگان کو بے دخل نہ کرے۔تاہم حماس کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ”ہمیں کسی بھی منصوبے کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔“

    صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے کہا، ”ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے پاس غزہ پر معاہدہ ہو سکتا ہے“، مگر انہوں نے معاہدے کی تفصیلات یا وقتی جدول فراہم نہیں کی۔اسرائیل کی جانب سے ابھی تک ٹرمپ کے بیانات پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ٹرمپ منگل کو اسرائیلی وزیراعظم بینیامین نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے، جو حماس کی مکمل تباہی تک جنگ ختم کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیگر ممالک کے ساتھ غزہ مذاکرات شدید ہیں اور جتنی دیر ضروری ہو، جاری رہیں گے۔

    سیلاب،مرکزی مسلم لیگ کا کراچی سے 10 ہزار خاندانوں کے لیے راشن روانہ

    صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرلیے

    سندھ سولر پروگرام میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، ناصر حسین شاہ

  • ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کا حکم

    ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ حکم نامہ 25 ستمبر 2025 کو جاری کیا گیا، جس کے تحت ٹک ٹاک کو کسی بھی امریکی فرد یا ادارے کو فروخت کیا جائے گا۔نائب امریکی صدر کے مطابق ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کی مالیت تقریباً 14 ارب ڈالر مقرر کی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایگزیکٹو آرڈر 2024 کے قانون کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور اس کا مقصد امریکی مارکیٹ میں ٹک ٹاک کے آپریشنز کی قانونی منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔

    ابھی تک چینی حکومت نے اس فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقرر کردہ قیمت بہت کم ہے، کیونکہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی متوقع قیمت 40 سے 45 ارب ڈالر تک لگائی جا رہی تھی، جبکہ ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق اس کی قیمت صرف 14 ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کس کمپنی یا فرد کے حوالے کیے جائیں گے، تاہم ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ یہ ایپلی کیشن امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے پاس جائے گی۔

    فائنل جیت کے لیے کھیلیں گے،سلمان علی آغا کا دبنگ اعلان

    امارتی وزیر کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات،غزہ میں جنگ بندی پر زور

  • امریکا نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری ختم کرنے کا دباؤ ڈال دیا

    امریکا نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری ختم کرنے کا دباؤ ڈال دیا

    امریکی تجارتی مذاکرات کاروں نے بھارتی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھارت کو روس سے تیل کی خریداری ختم کرنا ہوگی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں لیکن امریکا کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں مارکیٹ تک رسائی، تجارتی خسارہ اور روسی تیل کی خریداری شامل ہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت، یورپی یونین اور نیٹو اراکین پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ روسی تیل کی خریداری کم کریں تاکہ ماسکو کی آمدنی محدود ہو اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

    ٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو روسی تیل کی درآمدات پر پابندیوں سے مشروط کر رہی ہے۔امریکا پہلے ہی بھارتی درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر چکا ہے، جس سے مجموعی درآمدی ڈیوٹیاں 50 فیصد تک پہنچ گئی ہیں اور اس کا منفی اثر دونوں جمہوریتوں کے درمیان تجارتی مذاکرات پر پڑ رہا ہے۔

    امریکا پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کر رہا، خواجہ آصف

    یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

    سندھ کابینہ میں ردوبدل، وزرا کے قلمدان تبدیل

    نواز شریف کا جینیوا سے پاکستان واپسی کا فیصلہ

  • ٹرمپ سے ملاقات،شہباز شریف واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے

    ٹرمپ سے ملاقات،شہباز شریف واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف پاکستانی وفد کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے.

    اینڈریوز ایئر بیس پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا ریڈ کارپٹ پر امریکی ایئر فورس کے اعلی عہدیدار نے استقبال کیا. وزیرِ اعظم کا موٹرکیڈ امریکی سیکیورٹی کے حصار میں ایئربیس سے روانہ.وزیرِ اعظم کچھ ہی دیر میں وائٹ ہاؤس پہنچیں گے. وزیرِ اعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ملاقات امریکی وقت کے مطابق شام ساڑھے 4 بجے اوول آفس میں ہوگی، جہاں صدر ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کا خیر مقدم کریں گے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ اس دوران مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور مسئلہ کشمیر بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل نیویارک میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوچکی ہے۔

    ایشیا کپ 2025 کا بڑا معرکہ، پاکستان اور بھارت پہلی بار فائنل میں آمنے سامنے

    پیٹرولیم ڈویژن کی قطر سے ایل این جی درآمد موخر کرنےکی تجویز

    برطانیہ، ہر بالغ کے لیے لازمی ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اعلان متوقع

    گنڈاپور نے پی ٹی آئی جلسے سے قبل ساڑھے 9 کروڑ روپے خرچ کر دیے

  • روس سے تیل و گیس نہ خریدیں، ٹرمپ کا ترک صدر کو مشورہ

    روس سے تیل و گیس نہ خریدیں، ٹرمپ کا ترک صدر کو مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روس سے تیل اور گیس نہ خریدیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ترک صدر واشنگٹن کے دورے پر پہنچے، جہاں ان کے ایجنڈے میں امریکا سے ایف-35 فائٹر جیٹ طیاروں کا حصول اہم ترین نکتہ ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں ترکی کو ایف-35 پروگرام سے اس وقت خارج کر دیا گیا تھا جب انقرہ نے روس سے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اس سے ایف-35 کی صلاحیتوں کا ڈیٹا روس کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

    اوول آفس میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، ہمیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، اور ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔”ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے اردوان ان چیزوں کو خریدنے میں کامیاب ہو جائیں گے جن کی انہیں ضرورت ہے۔یہ 2019 کے بعد وائٹ ہاؤس میں ترک صدر کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں اردوان کے ساتھ "بہت اچھے تعلقات” کا ذکر کیا تھا۔

    امریکی حکام برسوں سے ترکی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور روس کے ساتھ تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ غزہ اور شام کے معاملات پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی بعض اوقات امریکا-ترکی تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔

    بھارت سے کشیدگی کی بڑی وجہ شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہے، ڈاکٹر محمد یونس

    سلووینیا کی اسرائیلی وزیراعظم کے ملک میں داخلے پر پابندی

    اسرائیلی حملوں نے خطے کو خطرے میں ڈال دیا،شامی صدر

  • ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

    ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبیل امن انعام جیتنے کی خواہش ایک بار پھر پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

    عالمی امور کے ماہرین اور نوبیل پرائز سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ اور سابقہ اقدامات انہیں امن کے فروغ سے دور اور انعام کے معیار سے نیچے لے جاتے ہیں۔نوبیل انعام کی ماہر تاریخ دان آسلی سوین نے کہا کہ "ٹرمپ کا نوبیل امن انعام جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔” ان کے مطابق غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوششوں نے ٹرمپ کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق نوبیل انعام دینے والی نارویجن کمیٹی ہمیشہ سیاسی دباؤ سے آزاد رہتی ہے اور کسی بھی امیدوار کی لابنگ یا عوامی مہم اس کے خلاف جا سکتی ہے۔ کمیٹی ان افراد یا اداروں کو ترجیح دیتی ہے جنہوں نے بین الاقوامی بھائی چارے اور امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہوں۔نینا گریگر، ڈائریکٹر امن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا کو عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی معاہدے سے الگ کیا، پرانے اتحادیوں کے ساتھ تجارتی جنگیں شروع کیں، یہ سب کسی پُرامن رہنما کی خصوصیات نہیں ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس سال نوبیل امن انعام ان بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو دیا جا سکتا ہے جو مشکل حالات میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جن میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR)، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، ریڈ کراس اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز شامل ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ ان ہی ماحول میں کام کر رہی ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امدادی کٹوتیوں نے مزید دشوار بنا دیا ہے۔

    سندھ ایمپلائز الائنس کی کال پر احتجاج، ٹھٹھہ اور کندھ کوٹ میں سرکاری ادارے بند، ریلیاں اور دھرنے

    ٹرمپ انتظامیہ کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش

    فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب، اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرم اور نسل کشی قرار