Baaghi TV

Tag: امریکی صدر

  • ٹرمپ پر ریپ کا الزام ،نیوز چینل کو  15 ملین ڈالر ہرجانہ

    ٹرمپ پر ریپ کا الزام ،نیوز چینل کو 15 ملین ڈالر ہرجانہ

    نیویارک: ڈونلڈ ٹرمپ پر ریپ کا الزام امریکی نیوز چینل کو مہنگا پڑ گیا ہے، 15 ملین ڈالر ہرجانہ دینا پڑے گا۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ مقدمہ اینکر جارج سٹیفانوپولس کے آن ایئر تبصروں سے شروع ہوا، جنھوں نے مارچ میں امریکی نمائندے نینسی میس کے ساتھ نشر ہونے والے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ریپ کے ذمہ دار‘ ہیں۔ اے بی سی نیوز نے اینکر جارج سٹیفانوپولوس کے غلط آن ایئر دعوے پر ہتک عزت کا مقدمہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ کی صدارتی لائبریری کو 15 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔تصفیے کے طور پر اے بی سی نیوز کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ’صدارتی فاؤنڈیشن اور میوزیم‘ کے لیے وقف فنڈ میں پندرہ ملین ڈالر کا عطیہ دینا ہوگا۔ نیوز آرگنائزیشن اور سٹیفانوپولوس عوامی سطح پر یہ کہتے ہوئے معافی بھی مانگیں گے کہ اس نے مذکورہ انٹرویو کے دوران ٹرمپ کے بارے میں ’افسوس ناک بیانات‘ دیے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ٹرمپ کے وکیل کی قانونی فرم کو 1 ملین ڈالر کی قانونی فیس بھی ادا کرے گا۔اینکر جارج سٹیفانوپولس نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مصنفہ ای جین کیرول کی عصمت دری کے لیے شہری طور پر ذمہ دار پائے گئے ہیں اور وہ متاثرہ خاتون کو بدنام کر رہے ہیں، حالاں کہ نیویارک کے قانون کے مطابق اس کیس میں ایسا کوئی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ اے بی سی نیوز کی ترجمان جینی کیڈاس نے کہا ہمیں خوشی ہے کہ فریقین عدالت میں دائر مقدمہ خارج کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

    کراچی میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    شام میں تعلیمی ادارے کھل گئے، طلبا کا جشن

    فرانس میں فائرنگ سے5 افراد ہلاک

  • ٹرمپ نے اسرائیل نواز کابینہ نامزد کرکے مسلمان حامیوں کو مایوس کیا

    ٹرمپ نے اسرائیل نواز کابینہ نامزد کرکے مسلمان حامیوں کو مایوس کیا

    امریکی الیکشن میں فلسطین جنگ کے خلاف بطور احتجاج ری پبلکنز کا ساتھ دینے والے مسلمان رہنما نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے حامیوں پر مشتمل کابینہ کے چناؤ پر مایوس ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق پینسلوینیا میں ’ہیرس کی مہم ترک کرو‘ کی سربراہی اور ’مسلم فار ٹرمپ‘ شریک بانی فلاڈلفیا کے سرمایہ کار ربیع الچوہدری نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا ہے کہ’ ٹرمپ ہماری وجہ سے جیتے لیکن ہم وزیر خارجہ اور دیگر کے لیے ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہیں’۔دوسر ی جانب امریکی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے کی حمایت سے ہی ٹرمپ نے مشی گن میں کامیابی حاصل کی اور دیگر پانسہ پلٹ ریاستوں میں بھی ان کا اہم کردار ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے وزیر خارجہ کے لیے اسرائیل کے کٹر حامی مارکو روبیو کا انتخاب کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں مارکو روبیو نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کریں گے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو حماس کے ہر عنصر کو تباہ کردینا چاہیے، انہوں نے غزہ کے شہریوں کو ’وحشی جانور‘ قرار دیا تھا۔ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ میں امریکا کی نمائندگی کے لیے ری پبلکن نمائندے ایلس اسٹیفنک کا انتخاب کیا ہے جو غزہ میں اموات کی مذمت کرنے پر اقوام متحدہ کی ’یہود دشمنوں کی آماجگاہ‘ قرار دے چکے ہیں۔ٹرمپ نے اسرائیل کے ایک اور کٹر حامی سابق گورنر کنساس مائیک ہوکابی کو اسرائیل میں امریکی سفیر نامزد کیا ہے جو مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے حامی ہیں اور فلسطین میں دو ریاستی حل کو ناقابل عمل قرار دے چکے ہیں۔امریکن مسلم انگیجمنٹ اینڈ ایمپاور نیٹ ورک ( آمین) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریگزینالڈو نذرکو نے کہا کہ مسلمان ووٹرز کو امید تھی کہ ٹرمپ کابینہ کے لیے ایسے ناموں کا انتخاب کریں گے جو امن کے لیے کام کریں لیکن اب اسکی کوئی امیدنہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ’ ہم بے حد ناامید ہیں.ایسا لگتا ہے کہ یہ انتظامیہ نوقدامت پسندوں اور اسرائیل کے انتہائی کٹر حامیوں اور جنگ کی حمایت کرنے والوں سے بھری پڑی ہے جو کہ صدر ٹرمپ کی امن نواز اور جنگ مخالف تحریک کی ناکامی ہے‘۔ مسلمان برادری غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی، کم ازکم منظر نامے پر موجود تو ہیں۔’ہیرس کی مہم ترک کرو‘ تحریک کے شریک بانی اور گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کی حمایت کرنے والے یونیورسٹی آف منی سوٹا کے سابق پروفیسر حسن عبدالسلام نے کہاکہ کابینہ کے لیے ٹرمپ کے عزائم حیران کن نہیں لیکن یہ خدشات سے کہیں زیادہ شدت کے حامل ثابت ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ صہیونی اوور ڈرائیو پر جارہے ہیں، ہم ہمیشہ ہی انتہائی شکوک و شبہات کا شکار تھے، یقیناً ہم اب بھی انتظار کررہے ہیں کہ انتظامیہ کس طرف جاتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہماری برادری کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے۔ٹرمپ کے کئی مسلم اور عرب حامیوں نے کہاکہ انہیں امید تھی کہ مہینوں تک مسلم اور عرب کمیونٹی میں رسائی کی کوششوں کی قیادت کرنے والے ٹرمپ کے قائم مقام سربراہ برائے قومی انٹیلی جنس رچرڈ گرینل کابینہ میں اہم کردار ادا کریں گے اور انہیں کئی تقریبات میں اگلے وزیر خارجہ کے طور پر متعارف بھی کرایا گیا تھا۔ٹرمپ کے ایک اور کلیدی اتحادی مساد بولوس، جو ٹرمپ کی صاحبزادی ٹفینی کے لبنانی سسر بھی ہیں اور عرب امریکن اور مسلمان قائدین سے متواتر ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔مذکورہ بالا دونوں رہنماؤں نے عرب امریکن اور مسلمان ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ ٹرمپ امید کے امیدوار ہیں جو کہ مشرق وسطیٰ میں جاری اور اسکے بعد کی جنگوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں گے، دونوں میں سے کوئی بھی فوری طور پر قابل رسائی نہیں تھا۔ٹرمپ نے اکثریتی عرب امریکن اور مسلمان آبادی پر شہروں کے کئی دورے کیے اور خصوصی طور پر عرب اکثریتی شہر ڈیئربورن میں قیام کیا جہاں ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں، اسی طرح پٹسبرگ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا’مسلم فار ٹرمپ’ خوبصورت تحریک ہے جو امن و استحکام چاہتی ہے’۔

    پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم ہے،خالدمقبول صدیقی

    دفاعی نمائش آئیڈیاز 2024ء 19 تا 22 نومبر تک کراچی میں ہوگی

    بنگلہ دیش میں ڈینگی سےاموات 400 سے زائد ہو گئیں

  • ٹرمپ نے ایلون مسک کو بھی اہم ذمہ داری دے دی

    ٹرمپ نے ایلون مسک کو بھی اہم ذمہ داری دے دی

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم میں اہم کردار ادا کرنے والے دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ایلون مسک کو ایک اہم ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    نو منتخب امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ایلون مسک اور سابق ری پبلکن صدارتی امیدوار ویوک رام سوامی "ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی” (DOGE) کی سربراہی کریں گے۔ ٹرمپ نے ایلون مسک، جو کہ ری پبلکن کی صدارتی مہم کے دوران 119 ملین ڈالر خرچ کر چکے ہیں، کو وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدارتی الیکشن جیتے تو مسک کو ایک اہم عہدہ دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ ایلون مسک اور رام سوامی حکومتی بیوروکریسی کے تسلط کو ختم کرنے، غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے اور وفاقی ایجنسیوں کی ساخت کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے کام کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، "DOGE” ایک حکومتی ایجنسی نہیں ہے بلکہ یہ ایک آزاد ادارہ ہوگا جو حکومت سے باہر رہ کر ٹرمپ انتظامیہ کو مشورے اور مدد فراہم کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایلون مسک اور بائیو ٹیک انٹرپرینیئر رام سوامی دونوں اس عہدے پر رہتے ہوئے نجی شعبے کے لیے بھی کام کر سکیں گے۔ ایلون مسک نے اس عہدے کے لیے اپنی نامزدگی کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ان کا محکمہ امریکی نظام اور فضول اخراجات میں ملوث حکومتی اداروں کو "جھٹکے” فراہم کرے گا۔ وہ ماضی میں امریکی بجٹ سے 2 کھرب ڈالر کم کرنا چاہتے تھے لیکن اس حوالے سے انہیں بہت کم معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

    یاد رہے کہ ایلون مسک نے ستمبر 2024 میں الیکشن سے دو ماہ قبل سوشل میڈیا پر DOGE کے عہدے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی تھی۔

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

  • ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد 2024 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کی ہے اور نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دے کرخود کو وائیٹ ہاؤس کا ایک بار پھر مکین بنا لیا،ٹرمپ کی واپسی اس وقت ہوئی جب وہ امریکی کیپٹل میں 6 جنوری 2021 کو ہونے والی خونریز بغاوت میں ملوث ہونے کے بعد چار سال پہلے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر چکے تھے۔ ان کے اس اقدام نے امریکی سیاست میں ایک نیا باب لکھا تھا، لیکن اب وہ دوبارہ ملک کے صدر بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ٹرمپ کی جیت ایک غیر معمولی قانونی صورتحال پیش کرتی ہے کیونکہ انہیں نیو یارک کی فوجداری عدالت میں اس ماہ سزا سنائی جانی تھی۔ انہیں کاروباری ریکارڈز میں جعلسازی کرنے کے 34 الزامات میں مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ دیگر فوجداری مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں جن میں خصوصی مشیر جیک سمتھ کی جانب سے 2020 کے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے متعلق کیس بھی شامل ہے۔سابق صدر نے اپنے خلاف ان الزامات کو 2024 کی انتخابی مہم کا مرکز بنایا، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ "انتقام” لینے کا عہد کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ 78 برس کی عمر میں وائٹ ہاؤس واپس جا رہے ہیں اور اس طرح وہ تاریخ کے دوسرے صدر بن گئے ہیں جنہوں نے اپنی دوسری مدت کے دوران دوبارہ انتخاب جیتا۔ اس سے پہلے اس اعزاز کا حامل گریور کلیولینڈ تھا۔ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی ایسے وقت میں آئی ہے جب انتخابی مہم کے دوران ان پر دو بار قاتلانہ حملے بھی ہوئے ہیں، 2016 میں اپنے پہلے کامیاب وائٹ ہاؤس انتخاب کے بعد سے، ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا ہے اور وہ سیاسی جماعت پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں

    ٹرمپ نے 2016 کے انتخاب کی نسبت حالیہ انتخابات میں زیادہ کامیابی حاصل کی، اور جارجیا اور پنسلوانیا جیسے اہم ریاستوں کو دوبارہ ریپبلکن پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیا، ساتھ ہی نارتھ کیرولائنا کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھا، جنہیں ڈیموکریٹس نے نائب صدر کے لئے وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کی راہ میں اہم ہدف کے طور پر منتخب کیا تھا۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں آمرانہ طرز کے بیانات دیے اور جھوٹے دعوے کیے تھے کہ ملک کے شہر اور قصبے غیر ملکی مجرموں اور گینگوں کے قبضے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے امریکی عوام کی تبدیلی کی خواہش کا بھی فائدہ اٹھایا، جو مہنگائی کے اثرات کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خبردار کیا کہ صرف وہی شخص عالمی جنگ ثالث کے بڑھتے خطرات کو روک سکتا ہے۔

    ٹرمپ کی مہم کی شدت اور نوعیت کے پیش نظر ان کا انتخاب ملک و دنیا میں افراتفری کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں سیاسی حریفوں کے خلاف "انتقام” لینے کا وعدہ کیا ہے اور داخلی دشمنوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بارے میں کھل کر خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بیرون ملک، امریکی اتحادی ٹرمپ کی غیر متوقع خارجہ پالیسی کی واپسی کے لئے تیار ہیں، جس کے دوران امریکی فوجی اتحاد نیٹو کے دفاعی اصول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی یقینی طور پر ان کے 2020 کے انتخابی نتائج کو پلٹنے کی کوششوں کے بعد شروع ہونے والی وفاقی قانونی کارروائیوں کے خاتمے کا باعث بنے گی۔

    امریکا کی تاریخ میں پہلی بار مجرم،ملزم اعلیٰ عہدے پر،ٹرمپ سزا مؤخر کروائیں گے،قانونی ماہرین
    امریکہ کے صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منفرد اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے۔ وہ ایک ایسے مجرم کے طور پر دوبارہ وائٹ ہاؤس واپس پہنچے ہیں جو نیویارک میں "ہَش منی کیس” میں سزا کا منتظر ہے، اور دیگر ریاستی و وفاقی مقدمات میں بھی اپنی برا ت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے انتہائی منفرد ہے کیونکہ آج تک کسی مجرم ملزم کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر منتخب نہیں کیا گیا تھا۔ اسی طرح، سابقہ امریکی صدور کو کسی مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ،امریکی قانون کی ماہر جیسیکا لیوینسن، جو لوئولا لاء اسکول کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں: "واضح طور پر یہ حکمت عملی کامیاب رہی کہ ان مقدمات کو جتنا ممکن ہو مؤخر کیا جائے۔”نیویارک کی ایک عدالت میں ٹرمپ کو اس ماہ کے آخر میں سزا سنائی جانے والی ہے، تاہم انتخابات سے پہلے سزا کو ملتوی کر دیا گیا تھا تاکہ اس کا اثر انتخابی نتائج پر نہ پڑے۔ ٹرمپ کے وکلاء نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اب صدر منتخب ہونے کے بعد اس سزا کو مزید مؤخر کرنے کی درخواست کریں گے۔ٹرمپ نے اپنے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔اس وقت امریکی سیاست میں ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی اور ان کے قانونی مسائل کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک پیچیدہ صورت حال بن چکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح، وائٹ ہاؤس میں واپسی اور نئے چیلنجز
    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح انہیں وائٹ ہاؤس واپس لے آئے گی، لیکن ان کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا دوسرا دور پہلی بار سے بالکل مختلف ہوگا۔ریپبلکن پارٹی اب مکمل طور پر ٹرمپ کی ملکیت بن چکی ہے، اور جو لوگ پہلے ان کے مخالف تھے وہ ہمیشہ کے لئے پارٹی سے نکال دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس میں واپس آئیں گے، جہاں ان کے پاس اس عہدے کا تجربہ بھی ہوگا اور وہ اس بات پر غصہ بھی ہیں کہ کس طرح نظام نے ان کے ساتھ ناانصافی کی۔جو افراد کبھی ٹرمپ کے ارد گرد استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے کہ چیف آف اسٹاف، وزیر دفاع، قومی سلامتی کے مشیر اور اٹارنی جنرل ، اب ان سب نے ٹرمپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور ان کی صلاحیتوں اور کردار کے بارے میں سخت تنقید کی ہے۔

    جنوری 2021 میں عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد ٹرمپ کے اثر و رسوخ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر، جو پہلے ان کے اہم اتحادی اور وائٹ ہاؤس میں سینئر عہدوں پر فائز تھے، اب سیاست سے دور ہو چکے ہیں۔ ایوانکا ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے دوبارہ وائٹ ہاؤس جانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اگرچہ کشنر نے عبوری کوششوں میں حصہ لیا ہے، ذرائع کے مطابق وہ اپنی پرائیویٹ ایکویٹی فرم کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔اس کی بجائے، ٹرمپ اب اپنے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، ایلون مسک اور سوزی وائلز جیسے افراد پر انحصار کر رہے ہیں، جو ان کے تیسرے صدارتی امیدوار ہونے کے دوران اہم مشیر بن چکے ہیں۔ٹرمپ کا دوسرا دور وائٹ ہاؤس میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ پیش کر سکتا ہے، جہاں وہ اپنی پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے، مزید سخت موقف اپنانے کی کوشش کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی کامیابی پر ری پبلکنز کا مبارکباد کا پیغام
    امریکی کانگریس میں ری پبلکن رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی انتخاب میں پر مبارکباد دی ہے۔ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا، "صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے ساتھ، کوئی رکاوٹ اتنی بڑی نہیں اور نہ ہی کوئی چیلنج اتنا مشکل ہے۔”سینیٹر لنڈسے گراہم نے خصوصی مشیر جیک اسمتھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کے خلاف فیڈرل تحقیقات کا خاتمہ کریں۔گراہم نے ایکس پر پوسٹ کیا، "جیک اسمتھ اور آپ کی ٹیم: اب وقت آ چکا ہے کہ آپ اپنے قانونی کیریئر کے نئے باب کی طرف دیکھیں، کیونکہ صدر ٹرمپ کے خلاف یہ سیاسی طور پر متحرک الزامات ایک دیوار سے ٹکرا چکے ہیں۔” "سپریم کورٹ نے جو کچھ آپ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا ہے، اور آج رات کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی عوام قانون کی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان مقدمات کا خاتمہ کریں۔ امریکی عوام کو ایک واپسی کا حق ہے۔”

    سینیٹر جان تھوئن نے ایکس پر کہا، "آنے والی سینیٹ میں ری پبلکن اکثریت ٹرمپ-وینس انتظامیہ کے ساتھ مل کر خاندانوں کے اخراجات کو کم کرے گی، ہمارے جنوبی سرحد کو محفوظ بنائے گی اور امریکہ کی توانائی کی حکمرانی کو دوبارہ مضبوط کرے گی۔”سینیٹر جان کورنِن نے ایک بیان میں کہا، "مجھے پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ دفترِ صدر کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کریں گے – ایسا دفتر جو امریکی عوام کو محفوظ اور خوشحال رکھے۔”جنوری تک ہمیں ان کے نامزدگیاں منظور کرنے، بجٹ پاس کرنے، قرضوں کا حل نکالنے، ٹرمپ کے ٹیکس کٹوتیوں کو بڑھانے اور کملا ہیرس کی تباہ کن سرحدی سیکیورٹی پالیسیوں کو الٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔”

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

  • میرے حامی متشدد لوگ نہیں، جیت کے بارے پراعتماد ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

    میرے حامی متشدد لوگ نہیں، جیت کے بارے پراعتماد ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ انہیں اپنے حامیوں کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ ہار جاتے ہیں تو پرتشدد نہ ہوں۔

    امریکی میڈیا سے گفتگو میں سابق صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے حامیوں کو بتائیں گے کہ تشدد نہیں ہونا چاہیے تو جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے حامیوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تشدد نہیں ہونا چاہیے اور اگر وہ ہار جاتے ہیں تو انہیں انتخابات کے نتائج کو قبول کرنا چاہیے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میرے حامی متشدد لوگ نہیں ہیں اور میں یقینی طور پر کوئی تشدد نہیں چاہتا، لیکن مجھے یقینی طور پر انہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ عظیم لوگ ہیں۔ یاد رہے کہ ٹرمپ کے حامیوں نے 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر دھاوا بول دیا تھا اور ٹرمپ کے الیکشن ہارنے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے 2020 کے انتخابات کے نتائج کی تصدیق کو روکنے کی کوشش کی تھی. دوسری طرف اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد پریس سے بات کرتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ "بہت پُراعتماد” ہیں کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے. اس موقع پر ٹرمپ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نتائج آنے میں وقت لگنے کی وجہ سے انظار کرنا ہوگا.فرانسیسی انتخابات کو فوری انتخابات کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سارا پیسہ ووٹنگ مشینوں پر لگایا جسکی وجہ سے گنتی کے عمل کو تیز ہونا چاہیے اور نتائج میں تاخیر ہونے کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت پر بھی سوال اٹھ سکتا ہے.

    امریکی انتخابات، سافٹ ویئر خراب ، پولنگ وقت بڑھ گیا

    اسلام آباد ٹریفک پولیس نے تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک پلان جاری کر دیا

    امریکی انتخاب:ایریزونا میں وائرل وڈیو کے پیچھے روسی ملوث ہونے کا انکشاف

    کراچی:کچے کے ڈاکوؤں کے پیسوں کا حساب کتاب رکھنے والا سنار گرفتار

  • امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    جو بائیڈن انتخابی نتائج وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ سے دیکھیں گے، مہم کا خاموش اختتام

    امریکا میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ٹرمپ اور کملا ہیرس میں مقابلہ ہے، موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کملاہیرس کو نامزد کیا تھا، اب ہونے والے انتخابات میں امریکی صدر جو بائیڈن کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں ہوگا، لیکن ان کے لیے اس انتخابات کے نتائج کا بڑا اثر ہے، خاص طور پر ان کی 81 سالہ عمر اور ان کی سیاسی میراث کے حوالے سے، کیونکہ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وائیٹ ہاؤس کا مکین انکی نامزد کملا ہیرس بنتی ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ،

    صدر بائیڈن نے حالیہ دنوں میں نسبتاً کم سرگرمی دکھائی ہے اور آج بھی یہی توقع ہے۔ جوبائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن وائٹ ہاؤس کی رہائش گاہ سے انتخابات کے نتائج دیکھیں گے، جہاں ان کے طویل عرصے سے ساتھ کام کرنے والے مشیر اور سینئر عملہ بھی موجود ہوگا، ایک وائٹ ہاؤس اہلکار کے مطابق جو بائیڈن، جن کے شیڈول میں کوئی عوامی تقریبات شامل نہیں ہیں انتخابات کے نتائج کے دوران ملک بھر میں اپ ڈیٹس وصول کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

    آج کا انتخاب گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بالکل مختلف دکھائی دے رہا ہے، اگرچہ بائیڈن کو پس منظر میں ڈال دیا گیا ہے، وہ ٹرمپ کی ممکنہ دوبارہ صدارت کے خطرات سے بار بار آگاہ کرتے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بائیڈن کی کچھ اہم کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ اگر ٹرمپ جیت کر ان کی کامیابیوں کو رد کرنے کی کوشش کریں تو ان کا دفاع کیا جا سکے۔بائیڈن نے ہفتے کو کہا تھا کہ "میرے اور ٹرمپ کی شخصیت میں بڑے اختلافات ہیں،” "کیا ہوگا؟ اگر آپ میری انتظامیہ کو ان کی انتظامیہ سے بدل دیں گے تو کیا ہوگا؟”

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی، تجزیہ کار

    امریکی تجزیہ کار نے اپنی رائے میں کہاہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلیکن پارٹی میں نئی روح پھونک دی.

    غیر ملکی خبررساں ادارے الجزیرہ کے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں امریکی نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے سینئر نمائندے اولیور ناکس کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے ایک عشرے کے بعد پارٹی میں الیکشن مہم سے نئی روح پھونک دی ہے.اب ٹرمپ ہی ڈیموکریٹس کا چہرہ اور پہچان بن چکے ہیں. اولیور ناکس کا مزید کہنا تھا کہ 2020 کے واقع کے بعد کسی کو توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ دوبارہ سے انتخاب لڑنے اور سیاست میں رہیں گے لیکن انہوں کر دیکھایا.واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، اور صدارتی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی کوشش کی ۔ 6 جنوری 2021 ءکو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    صدارتی انتخابات شفاف ہونگے،امریکی انتخابی ادارے کی عوام کو یقین دہانی

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

  • امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا  آخری روز پنسلوینیا  میں  گزاریں گے

    امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے

    امریکی صدارتی امیدوار کاملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کا آخری روز پنسلوینیا میں گزاریں گے.

    غیر ملکی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیسے جیسے امریکی صدارتی انتخاب کا وقت قریب آ رہا ہے دونو‌ں امیدوار جیت کے لیے پوری کوششوں میں مصروف ہیں، مہم کے آخری روز امریکی ریاست پنسلوینیا سب کی نظروں کا محور بنے گی جہاں دونوں امیدواروں میں سخت مقابلہ متوقع ہے.انتخابات سے ایک روز قبل ہوئے پولز سے ظاہر 7 ریاستیں جہاں سے فیصلہ کن برتری متوقع ہے ان میں پنسلوینیا بھی شامل ہے.یہاں کاملا ہیرس ایک بڑی انتخابی ریلی کے ساتھ اپنی مہم کا خاتمہ کریں گی جبکہ ٹرمپ مہم کے آخری روز بلترتیب تین ریاستوں کا دورہ کریں جن میں نارتھ کیرولائنا، پنسلوینیا اور مشی گن شامل ہیں. نئے صدر کے لیے پنسلوینیا کی اہمیت بہت معنی رکھتی ہے جہاں امریکی نظام میں آبادی کے اثر و رسوخ کی وجہ سے دونوں امیدوار سب سے بڑے شہر پٹسبرگ میں ریلیاں نکالیں گے .واضح رہے کہ امریکی الیکشن 5 نومبر کو منعقد ہوں گے.

    اے این ایف کی کارروائیاں، 63.83کلو گرام منشیات برآمد، 11ملزمان گرفتار

    امریکہ میں جانوروں کی پارٹیوں سےمنسوب ہونیکی دلچسپ تاریخ

  • امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی، پاکستانی اور بھارتی صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے؟ ایک جائزہ

    امریکی انتخابات کا بڑا مقابلہ اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونے والا ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ اور کملا ہیرس نئے کی دوڑ میں آمنے سامنے ہیں، لیکن روکیں، کیا آپکو معلوم ہے کہ اس اعلی ترین عہدے پر فائز ہونے والے صدر کی تنخواہ کتنی ہوتی ہے اور انہیں کیا کیا مراعات ملتی ہیں؟امریکہ کے صدر کی اس وقت سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالرز ہے جو 2001ء میں مقرر کی گئی تھی جبکہ 2001ء سے قبل 3 دہائیوں تک صدر کی سالانہ تنخواہ 2 لاکھ ڈالرز ہوتی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سالانہ تنخواہ کے علاوہ صدر کو مرعات میں 50 ہزار ڈالرز اخراجات کی مد میں، 19 ہزار ڈالرز تفریح کے لیے اور 1 لاکھ ڈالرز سفر کے لیے ملتے ہیں، سفر کے لیے ملنے والی رقم ٹیکس فری ہوتی ہے اور عہدہ چھوڑتے وقت صدر نے ان مرعات میں بچنے والی رقم امریکی صدر کی ملکیت نہیں ہوتی اور اس کو رقم کو خزانے میں جمع کرانا پڑتا ہے۔عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکی صدر کابینہ سیکریٹری کے مساوی پنشن وصول کرتا ہے۔اس وقت ٹرمپ کو سابق صدر کی ہونے کے ناطے 2 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سالانہ وفاقی پنشن ملتی ہے۔

    پاکستانی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    صدرِ پاکستان کو تنخواہ الاؤنسز اینڈ پریویلجز ایکٹ 1975ء کے تحت ملتی ہے اس ایکٹ میں 2018ء کو ایک ترمیم کی گئی تھی۔اس ترمیم کے مطابق اب صدر کی تنخواہ میں اضافہ کابینہ کر سکتی ہےاور صدر کی تنخواہ، چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ سے علامتی طور پر 1 روپیہ زیادہ ہوتی ہے۔صدرِ پاکستان کی موجودہ ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 550 روپے ہے لیکن آصف علی زرداری نے منتخب ہونے کے بعد اپنی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔صدر ہاوس کے اعلامیے کے مطابق صدرِ مملکت نے یہ فیصلہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیشِ نظر کیا تھا۔

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ

    بھارتی صدر کی ماہانہ تنخواہ اضافی مراعات کو ملا کر 5 لاکھ بھارتی روپے بنتی ہے جو 16 لاکھ 25 ہزار پاکستانی روپوں کے برابر ہے،یہاں یہ یاد رہے کہ یہ بھارت میں تمام سرکاری عہدوں میں سب سے زیادہ تنخواہ ہوتی ہے۔

  • امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی صدارتی انتخابات، امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنا ووٹ ڈال دیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے آج صدارتی انتخابات کے سلسلے میں "قبل از وقت پولنگ ڈے” کے تحت اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا۔ بائیڈن کو ووٹ ڈالنے کے لیے تقریباً 40 منٹ تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا،جب جوبائیڈن کی باری آئی تو انہوں نے اپنی شناختی دستاویزات الیکشن ورکر کے حوالے کیں، جس کے بعد الیکشن ورکر نے صدر بائیڈن سے فارم پر دستخط کروائے اور اعلان کیا کہ "جوزف بائیڈن اب ووٹ ڈال رہے ہیں”۔امریکی میڈیا کے مطابق، کورونا وبا کے دوران عوامی ہجوم اور رش سے بچنے کے لیے "قبل از وقت پولنگ ڈے” کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی۔ اس سہولت کا مقصد بزرگ شہریوں اور بیمار افراد کو ووٹ ڈالنے میں آسانی فراہم کرنا تھا۔یہ کامیاب تجربہ کورونا کے بعد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کی مختلف ریاستوں میں اب بھی قبل از وقت ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سابق امریکی صدر جمی کارٹر، جو کہ 100 سال کی عمر کے ہیں، نے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کی جانب سے ووٹرز کو ڈونیشن دینے کے وعدے پر سخت تنقید کی ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ مسک کا یہ اقدام جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔بائیڈن نے ایک حالیہ بیان میں کہا، "ایسے اقدام سے عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری عمل کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ ڈالنا ہر شہری کا حق ہے، اور کسی بھی قسم کی مالی ترغیبات کا استعمال اس حق کو مشکوک بنا دیتا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسک نے یہ وعدہ کیا کہ وہ ووٹرز کو ان کے ووٹ ڈالنے کی صورت میں مالی مدد فراہم کریں گے، خاص طور پر اگر وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیں۔ اس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے جمہوری انتخابات کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔بائیڈن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد رہیں۔

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    فخر زمان کو بابر کے حق میں بولنا پڑا مہنگا،بابر اعظم فخر کونکالے جانے پر خاموش کیوں؟

    نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نتیجہ جیت کی صورت میں آیا۔محسن نقوی

    جیت کا سارا کریڈٹ پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے۔شان مسعود