Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جم خانہ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے انتخابات میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سلمان صدیق، میاں مصباح الرحمن گروپ اور مناپلی بریکر پینل نے 12 میں سے 6،6 نشستیں حاصل کر کے برابری قائم کر دی۔

    جمخانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو مختلف پینلز برابر نشستیں لے کر سامنے آئے ہیں،گزشتہ روز ہونے والے انتخاب میں تین مختلف پینلز کے مجموعی طور پر 39 امیدوار مدِ مقابل تھے کلب کے تقریباً 55 سو ممبران میں سے 3158 ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس سے انتخابی عمل میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوئی۔

    مناپلی بریکر پینل کے ڈاکٹر علی رزاق 1772 ووٹ لے کر سرفہرست رہے سلمان صدیق 1733 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر کامیاب قرار پائے جبکہ میاں مصباح الرحمن نے 1700 ووٹ حاصل کیے واجد عزیز خان 1693، کامران لاشاری 1637، سردار احمد نواز سکھیرا 1549 اور سرمد ندیم 1536 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دیگر کامیاب امیدواروں میں ڈاکٹر جواد ساجد (1328)، تسنیم نورانی (1297)، میاں پرویز بھنڈارا (1268)، ضیاء الرحمن خان (1220) اور مسز سمیرا نذیر (1201) شامل ہیں۔

    نتائج کے بعد دونوں گروپس کے درمیان چیئرمین کے عہدے کے لیے جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان ہے۔

  • بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلہ دیش انتخابات: ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈال دیا

    بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

    دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔

    ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے ووٹنگ کا عمل جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔

    یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں ان کی جماعت کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزا دے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتر ی کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔

    انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    بنگلادیش کی پارلیمنٹ 350 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز بھی پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • بنگلہ دیش میں عام انتخابات، ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا اعلان

    بنگلہ دیش میں عام انتخابات، ملک میں 4 روزہ تعطیلات کا اعلان

    بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم کی تیاریوں کے سلسلے میں بدھ سے 4 روزہ تعطیلات کا آغاز ہو گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے 11 اور 12 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا جو جمعہ اور ہفتہ (13 اور 14 فروری) کی ہفتہ وار چھٹیوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں مسلسل 4 دن کی تعطیل میں تبدیل ہو گئی ہےسرکاری اعلامیے کے مطابق 11 اور 12 فروری کو تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار اور نجی دفاتر کے علاوہ تعلیمی ادارے بند رہیں گے تاکہ ووٹرز بلا رکاوٹ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں اور پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے۔

    بنگلہ دیش بینک نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان 2 روز کے دوران تمام بینک اور مالیاتی ادارے بند رہیں گے اسی طرح شاپ اونرز ایسوسی ایشن نے بدھ اور جمعرات کو ملک بھر میں دکانیں، تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد میں ضروری خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ پرامن ماحول میں منعقد ہو سکے۔

  • بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم

    بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم

    بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 12 فروری کے ریفرنڈم اور 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے پیشِ نظر مسلح افواج کو اعلیٰ ترین سطح پر الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    آرمی ہیڈکوارٹرز میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات کے دوران محمد یونس نے آئندہ انتخابات کو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے شفاف، آزاد اور پُرامن انتخابی ماحول کی اہمیت پر زور دیا کہاکہ عوام کے اعتماد کے تحفظ میں مسلح افواج کا کردار نہایت اہم ہے۔

    چیف ایڈوائزر نے افواج سے غیر جانبداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کو مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی،انہوں نے کہا کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام کو ریاست کے مستقبل پر رائے دینے جبکہ انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع ملے گا، اور اس عمل میں کسی قسم کی کوتاہی عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔

  • بنگلادیش میں عام انتخابات  کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    بنگلادیش میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

    بنگلادیش میں انتخابات 12 فروری 2026 کو کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    بنگلادیش میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی دن قومی انتخابات اور چارٹر ریفرنڈم کرانے کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین کے مطابق 13ویں قومی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ 12 فروری 2026 کو ہوگی،چیف الیکشن کمشنر نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ انتخابات کے دن ہی اہم جمہوری اصلاحاتی چارٹر پر ریفرنڈم بھی کرایا جائے گا-

    امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 29 دسمبر مقرر کی گئی ہے جبکہ ان کی جانچ پڑتال 30 دسمبر سے 4 جنوری تک ہوگی کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 20 جنوری رکھی گئی ہےانتخابات میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت، بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کےدرمیان مقابلہ متوقع ہےسابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت، عوامی لیگ کو الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا ہے۔

    رنویر سنگھ کی فلم ’’دھریندر‘‘ کو خلیجی ممالک میں پابندی کا سامنا

    چیف الیکشن کمشنر نے پولنگ کا وقت بڑھا کر صبح ساڑھے 7 بجے سے شام ساڑھے 4 بجے تک کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، تاکہ شہری ایک ہی روز ووٹ اور ریفرنڈم دونوں میں حصہ لے سکیں،بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹ کی آن لائن رجسٹریشن جاری ہے، اور بدھ کی شام تک 2 لاکھ 97 ہزار افراد رجسٹر ہو چکے ہیں ان کے بیلٹ پیپرز پر صرف امیدواروں کے انتخابی نشانات ہوں گے اور انہیں ووٹنگ ختم ہونے سے قبل متعلقہ ریٹرننگ افسران تک پہنچانا ضروری ہوگا،الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز اور 2 لاکھ 44 ہزار 739 پولنگ بوتھس قائم کرنے کا منصوبہ بھی مکمل کرلیا ہے، جہاں 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

    بنگلادیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اپنے بیان میں کہا کہ 13ویں قومی انتخابات بنگلادیش کو نئی سمت دینے کا تاریخی موقع ہوں گے اور ضروری ہے کہ یہ انتخابات شفاف اور سب کے لیے قابلِ قبول ہوں،بنگلادیش میں ریفرنڈم کا مقصد ملک کے جمہوری اور آئینی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات لانا ہے تاکہ مستقبل میں آمریت کے لوٹنے کے امکانات کو روکا جا سکے اور ایک جوابدہ جمہوری نظام قائم ہو سکے۔

    صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

    یہ ریفرنڈم 2024 میں طلباء کے احتجاج کے نتیجے میں تیار کردہ ایک جامع جولائی چارٹر کی تجاویز پر عوام کی منظوری حاصل کرنے کے لیے کرایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلادیش میں اس سے قبل عام انتخابات 7 جنوری 2024 کو ہوئے تھے، جس میں شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس الیکشن میں نتائج اور ووٹر ٹرن آؤٹ پر ملکی اور عالمی سطح پر سوالات اٹھائے گئے تھے،بعد ازاں جولائی 2024 میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کی بحالی کے عدالتی فیصلے کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے، بنگلادیش میں طلبا کے ساتھ پرتشدد مظاہروں کے بعد سابق وزیراعظم حسینہ واجد بنگلادیش چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں،جس کے بعد بنگلادیش میں اگست سے محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم ہے،نومبر 2025 میں بنگلادیش کی عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے اور حکومت نے ان کی بھارت سے حوالگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    بلاول بھٹو نے فیض حمید کے حوالے سے فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیا

  • سینیٹ انتخابات: خیبرپختونخوا سے 7 نشستوں پر 16 امیدوار مدمقابل،  فہرست جاری

    سینیٹ انتخابات: خیبرپختونخوا سے 7 نشستوں پر 16 امیدوار مدمقابل، فہرست جاری

    خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد حیثیت سے مجموعی طور پر 16 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے خرم ذیشان، فیض الرحمان، مراد سعید اور اعظم سواتی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد اور پیپلز پارٹی کے محمد طلحہ محمود بھی اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا چکے ہیں،جے یو آئی (ف) کی طرف سے دلاور خان اور عطاء الحق میدان میں ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں میں آصف رفیق، اظہر قاضی مشوانی، شفقت ایاز، عرفان سلیم، فیصل جاوید، محمد وقاص آفریدی، مرزا محمد آفریدی اور نور الحق قادری شامل ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی جانچ پڑتال، اپیلوں اور حتمی فہرست کے بعد باقاعدہ پولنگ شیڈول کے مطابق ہو گی۔ سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان ووٹ کاسٹ کریں گے۔

  • کینیڈا کے انتخابات میں 2 پاکستانی نژاد خواتین رکن پارلیمان منتخب

    کینیڈا کے انتخابات میں 2 پاکستانی نژاد خواتین رکن پارلیمان منتخب

    اوٹاوا : کینیڈا کے انتخابات میں 2 پاکستانی نژاد خواتین رکن پارلیمان منتخب ہوگئیں۔

    پاکستانی نژاد اقرا خالد چوتھی بار کینیڈین پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں، انہوں نے حریف امیدوار پر 5 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل کی جب کہ ووٹوں کی گنتی سے لیڈ بڑھنے کا بھی امکان ہے رکن پارلیمان منتخب ہونے پر جذباتی منظر بھی سامنا آیا اور وہ فرطِ جذبات میں والد سے لپٹ گئیں۔

    ادھر پاکستانی نژاد خاتون سلمیٰ زاہد نے 21 ہزار ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

    بارش برسانے والا سسٹم یکم مئی سے ملک میں داخل ہوگا

    دریں اثنا، وزیر اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی کینیڈا کے انتخابات 2025 جیتنے والی ہے، ابتدائی تخمینوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی سے بہت زیادہ متاثر ہونے والی شدید مہم کے درمیان۔

    لبرلز اپنی لگاتار چوتھی حکومت بنانے کے راستے پر ہیں، کیونکہ ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اکثریت حاصل کر پائیں گے – جس کے لیے 172 نشستیں درکار ہیں – یا اقلیتی حکومت کی قیادت کریں گے۔

    بھارت آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے،محسن نقوی

    کارنی، جنہوں نے گزشتہ ماہ سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے استعفیٰ کے بعد لبرل قیادت سنبھالی، ٹرمپ مخالف جذبات کی لہر کا فائدہ اٹھایا اس کی مہم نے اوٹاوا کی خودمختاری کے دفاع پر بھرپور توجہ مرکوز کی، جب ٹرمپ نے متنازعہ طور پر کینیڈا کو "51 ویں ریاست” کے طور پر الحاق کرنے کی تجویز دی۔

    کنزرویٹو پارٹی جس کی قیادت پیئر پوئیلیور کر رہے تھے، جیتنے کے حق میں تھے اس سال کے شروع میں ٹروڈو کا استعفیٰ ریکارڈ کم منظوری کی درجہ بندی، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ان کی اپنی کابینہ میں بدامنی کے بعد ہوا۔

    پی ٹی اے کا اسٹار لنک کو فوری طور پر لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

    یہ الیکشن ایسے وقت ہورہے ہیں جب صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد ٹیرف ووٹرز کے ذہنوں پر سوار ہے۔ساتھ ہی شہری علاقوں میں گھروں کی قیمتیں زیادہ ہونا ،بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہونا اور ہیلتھ کئیر تک لوگوں کی رسائی میں دشواری سمیت دیگر اشوز بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبزول کیے ہوئےہیں۔

  • الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ، مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیے جانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا

    جسٹس منصور علی شاہ نے 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتی ہدایات کے باوجود الیکشن کمیشن ایسا رویہ اپناتا ہے جو اس کے آئینی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتا، الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ اسے دوسرے آئینی اداروں اور ووٹ کے بنیادی حق کو نظرانداز کرنے کا اختیار حاصل ہے، انتخابات جمہوریت کی زندگی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کے آزاد انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے، الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن کو جمہوریت کا غیرجانبدار محافظ رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں کہاہے کہ الیکشن کمیشن کا حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر ہو تو یہ سیاسی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا، انتخابی عمل کی حفاظت کا مرکز عوام کے ووٹ کا حق ہے، حق ووٹ کے استعمال سے جمہوری نظام میں طاقت اور قانونی حیثیت عوام کی مرضی سے حاصل ہوتی ہے۔

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا ہے

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابرہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی،دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا گزشتہ سماعت پر الیکشن تاریخ کیلئے الیکشن کمیشن نے وقت مانگا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ معاملے پر الیکشن کمیشن نے کچھ حد تک غور کیا، الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن سے متعلق میٹینگز کی ہیں،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ کو ہم دو ہفتے کا وقت دیتے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ زیادہ وقت دیں، ہو سکتا ہے سپریم کورٹ بھی کوئی فیصلہ کرے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے نہ کرانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد نے کہا پہلے آپ نہیں کروانا چاہ رہے تھے، اب الیکشن کمیشن کروانا چاہ رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ہمیں مزید وقت دیا جائے، کوشش کریں گےمعاملے کو حل کریں،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا.

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

  • بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات 2025 کے آخر اور 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے کی توقع ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

    پیر 16 دسمبر کو اپنے خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کو مکمل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں تاکہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔محمد یونس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں درست ووٹر لسٹوں اور دیگر بنیادی اصلاحات پر متفق ہو جاتی ہیں، تو نومبر 2025 کے آخر تک انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر تمام اصلاحات پر عمل درآمد کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو انتخابات میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی اصلاحات عبوری حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان اصلاحات کے ذریعے انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جولائی 2023 میں طلباء کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ان مظاہروں کے دوران 77 سالہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2023 کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا تھا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو بھارت کے شہر اگرتلہ اور پھر دہلی کے قریب غازی آباد کے ہنڈن ایئربیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت شیخ حسینہ بھارت میں کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد محمد یونس کو 8 اگست 2023 کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی قیادت میں عبوری حکومت نے انتخابی اصلاحات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    محمد یونس کے اس اعلان کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی اصلاحات اور ان کی ٹائم لائن پر مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اصلاحات کے مسودے پر کس طرح متفق ہوتی ہیں اور ان کے نفاذ میں کتنی تاخیر ہوتی ہے۔ عبوری حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اصلاحات کے عمل کو کب تک مکمل کر پاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کیسے پیدا ہوتا ہے۔