Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سینیٹ الیکشن معاملہ جلد حل کرنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا ہے

    خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کروانے سے متعلق درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابرہیم اور جسٹس وقار احمد نے کی،دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا گزشتہ سماعت پر الیکشن تاریخ کیلئے الیکشن کمیشن نے وقت مانگا تھا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ معاملے پر الیکشن کمیشن نے کچھ حد تک غور کیا، الیکشن کمیشن نے سینیٹ الیکشن سے متعلق میٹینگز کی ہیں،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ آپ کو ہم دو ہفتے کا وقت دیتے ہیں، جس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ زیادہ وقت دیں، ہو سکتا ہے سپریم کورٹ بھی کوئی فیصلہ کرے ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے نہ کرانا چاہتے ہیں، جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ وقار احمد نے کہا پہلے آپ نہیں کروانا چاہ رہے تھے، اب الیکشن کمیشن کروانا چاہ رہا۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا ہمیں مزید وقت دیا جائے، کوشش کریں گےمعاملے کو حل کریں،پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن کے معاملے کو جلد حل کرنے کا حکم دے دیا.

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

  • بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش میں انتخابات کب؟ عبوری چیف ایڈوائزر کا اعلان

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے ملک میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عام انتخابات 2025 کے آخر اور 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہونے کی توقع ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

    پیر 16 دسمبر کو اپنے خطاب میں محمد یونس نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کو مکمل کیے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد ہی انتخابات کرائے جائیں تاکہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ ہو۔محمد یونس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں درست ووٹر لسٹوں اور دیگر بنیادی اصلاحات پر متفق ہو جاتی ہیں، تو نومبر 2025 کے آخر تک انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر تمام اصلاحات پر عمل درآمد کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو انتخابات میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، انتخابی اصلاحات عبوری حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور ان اصلاحات کے ذریعے انتخابی عمل کو زیادہ شفاف اور منصفانہ بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں جولائی 2023 میں طلباء کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔ ان مظاہروں کے دوران 77 سالہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو 5 اگست 2023 کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا تھا، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو بھارت کے شہر اگرتلہ اور پھر دہلی کے قریب غازی آباد کے ہنڈن ایئربیس منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت شیخ حسینہ بھارت میں کسی نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔شیخ حسینہ کے استعفیٰ کے بعد محمد یونس کو 8 اگست 2023 کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا تھا، اور ان کی قیادت میں عبوری حکومت نے انتخابی اصلاحات کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    محمد یونس کے اس اعلان کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی اصلاحات اور ان کی ٹائم لائن پر مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اصلاحات کے مسودے پر کس طرح متفق ہوتی ہیں اور ان کے نفاذ میں کتنی تاخیر ہوتی ہے۔ عبوری حکومت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اصلاحات کے عمل کو کب تک مکمل کر پاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کیسے پیدا ہوتا ہے۔

  • لاہور پریس کلب انتخابات،ایمپرانے مخدوم اطہر کو امیدوار نامزد کر دیا

    لاہور پریس کلب انتخابات،ایمپرانے مخدوم اطہر کو امیدوار نامزد کر دیا

    الیکٹرانک میڈیا پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (ایمپرا) کا اہم اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں لاہور پریس کلب کے الیکشن 2025 کے لیے پروڈیوسرز کمیونٹی کے متفقہ امیدوار کا انتخاب کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مخدوم اطہر محمود لاہور پریس کلب کے الیکشن میں ایمپرا کے متفقہ امیدوار ہوں گے۔

    اجلاس میں شریک شرکا نے مخدوم اطہر محمود کے نام پر اتفاق رائے کا اظہار کیا، جنہیں تمام پینلز کے نمائندگان نے اپنے امیدوار کے طور پر منتخب کیا۔ اس موقع پر شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مخدوم اطہر محمود کی قیادت میں لاہور پریس کلب میں پروڈیوسرز کمیونٹی کی آواز کو موثر انداز میں پیش کیا جائے گا اور ان کی حمایت سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی جائے گی۔

    اجلاس میں لالہ نعیم ثاقب، رائو اویس، میاں جاوید، آفتاب چوہدری، سید کرار شاہ، ندیم رضا، راؤ شاہد، احمد ابوبکر، نوید شیخ، ندیم زعیم، قاسم سندھو، آصف سندھو، عثمان فیروز، رانا نوید، حافظ شاہدرشید، جبار چوہدری، طارق خان، عمر بشیر، عرفان علی، ملک عمران خالد، خرم جہانگیر، سید تراب علی، عتیق چوہدری، عمیر عارف اور دیگر سینئر پروڈیوسرز شریک ہوئے،

    اجلاس کے دوران، تمام شرکا نے ایک متفقہ موقف اپنایا اور لاہور پریس کلب کے الیکشن میں ایمپرا کی کامیابی کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مخدوم اطہر محمود کی قیادت میں پروڈیوسرز کمیونٹی کی بہتر نمائندگی کی جا سکے گی اور انہیں لاہور پریس کلب کی ترقی کے لیے اہم فیصلے کرنے کا موقع ملے گا۔اس موقع پر، الیکٹرانک میڈیا پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کی متحدہ کوششوں سے لاہور پریس کلب میں پروڈیوسرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ تمام شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ لاہور پریس کلب کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے۔

    ایمپرا کو دوبارہ فعال،مضبوط بنانے کے لئے پروڈیوسرز کا اجلاس

    فیصل واوڈا،بیرسٹر گوہر کی "مسکراتے ” ہوئے ملاقات

    ملزم فیض حمید پر فردجرم،قید اور موت کی سزا،سب ختم شد،عمران خان شدید مایوس

  • جنوبی کوریا کے صدر کیخلاف مواخذے کی تحریک ناکام

    جنوبی کوریا کے صدر کیخلاف مواخذے کی تحریک ناکام

    سئیول: جنوبی کوریا کے صدر کیخلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : سئیول سے خبر ایجنسی کے مطابق ہفتے کو جنوبی کوریا کے صدر یون سوک ییول کی جماعت نے مواخذے پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا،صدر کے مواخذے کے لیے 300 میں سے 200 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت درکار تھی، صدر یون سوک کی جماعت کے 100 سے زائد ارکان نے مواخذے پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور ووٹنگ سے قبل ہی وہ پارلیمنٹ سے باہر چلے گئے۔

    ہفتہ کےروز واک آؤٹ کامطلب یہ تھا کہ قومی اسمبلی کےپاس 200 ووٹ نہیں تھےجو کہ جنگ زدہ یون کو باہر نکالنے کا عمل شروع کرنے کے لیے درکار تھےقومی اسمبلی کے سپیکر وو وون شیک نے کہا کہ کل 195 ووٹوں کے ساتھ ووٹ ڈالنے والے ارکان کی تعد اد کل ارکان کی مطلوبہ دو تہائی اکثریت تک نہیں پہنچ سکی لہذامیں اعلان کرتا ہوں کہ اس معاملے پرووٹ درست نہیں ہے، ڈرامائی واک آؤٹ کا مطلب یون کی قسمت کے گرد غیر یقینی صورتحال ہے۔

    جمعہ کو اس بات کا اشارہ دینے کے بعد کہ یون کی پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) کے کچھ ارکان اپوزیشن کے قانون سازوں میں شامل ہو سکتے ہیں اور مواخذے کی حمایت کر سکتے ہیں،ارکان پارلیمنٹ اپنے پریشان صدر کے گرد ریلی نکال رہے تھے۔

    واضح رہے کہ رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر نے چند روز قبل ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا تھا تاہم ان کا مارشل لا لگانے کا فیصلہ صرف چھ گھنٹے بعد ہی واپس لے لیا گیا تھاجب پالیمنٹ نے اس کی توثیق نہیں کی تھی،اس موقع پر صدر کے مخالف اپوزیشن ارکان ان کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور صدر کے حامی ارکان کو اندر جانے اور بزدل کہتے رہے، جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے اب بدھ 11 دسمبر کو اس حوالے سے پھر ووٹنگ ہوگی۔

  • سری لنکا: انتخابات میں صدر دسانائیکے کے اتحاد کو بڑی کامیابی

    سری لنکا: انتخابات میں صدر دسانائیکے کے اتحاد کو بڑی کامیابی

    سری لنکا میں انتخابی کمیشن نے عام انتخابات کے جو نتائج ظاہر کیے، اس کے مطابق مارکسی نظریات کی طرف مائل صدر انورا کمارا دسانائیکے کی پارٹی نے ناقابل تسخیر برتری حاصل کر لی ہے۔

    دسانائیکے کی قیادت والا اتحاد، نیشنل پیپلز پاور (این پی پی) پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہے۔ستمبر میں صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد سے صدر اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے مینڈیٹ کی تلاش میں تھے، جس کا مقصد ایک ایسے ملک میں غریبوں کی پریشانیوں کو دور کرنا ہے، جو حالیہ برسوں میں غربت کا شکار رہا ہے۔عام انتخابات سے قبل تک صدر دسانائیکے کے اتحاد کے پاس پارلیمنٹ کی کل 225 نشستوں میں سے صرف تین نشستیں تھیں۔اسی وجہ سے صدر نے پارلیمان کو تحلیل کر دیا تھا اور نئے مینڈیٹ کی تلاش میں الیکشن کرائے گئے۔سری لنکا کے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جو تازہ ترین نتائج شائع کیے گئے اس کے مطابق، جمعرات کے انتخابات میں این پی پی نے تقریباً 62 فیصد یا 5.4 ملین ووٹ حاصل کرتے ہوئے 52 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔انہیں دیگر جماعتوں پر اب بھی بڑی سبقت حاصل ہے اور اس طرح پارلیمنٹ میں ان کا اتحاد اکثریت حاصل کرنے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔صدر دسانائیکے نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا تھا کہ ان انتخابات کو، "ہم سری لنکا کے لیے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ہمیں ایک مضبوط پارلیمنٹ کی تشکیل کے لیے مینڈیٹ کی توقع ہے اور ہمیں یقین ہے کہ عوام ہمیں یہ مینڈیٹ دیں گے۔”ان کا مزید کہنا تھا، "سری لنکا کے سیاسی کلچر میں تبدیلی آئی ہے جو ستمبر میں شروع ہوئی تھی اور اسے جاری رہنا چاہیے۔”حزب اختلاف کے رہنما ساجیت پریماداسا کی سماگی جنا بالایوگیہ پارٹی نے 13 سیٹیں جیتی ہیں اور اسے تقریباً 19 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

  • امریکی  انتخابات:مشی گن اور پنسلوینیا میں دو امریکن پاکستانی خواتین  کو شکست کا سامنا

    امریکی انتخابات:مشی گن اور پنسلوینیا میں دو امریکن پاکستانی خواتین کو شکست کا سامنا

    واشنگٹن: امریکی عام انتخابات میں مشی گن اور پنسلوینیا سے الیکشن لڑنے والی دونوں امریکن پاکستانی خواتین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا-

    باغی ٹی وی : پاکستانی نژاد امریکی عائشہ فاروقی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور مشی گن ایوان نمائندگان کے لیے ان کا حلقہ 57 تھا جب کہ ان کا مقابلہ ری پبلکن امیدوار تھامس کہن سے تھا جو اس حلقے کے منتخب رکن اسمبلی ہیں، انتخابات میں عائشہ فاروقی کو 20 ہزار 2 ووٹ ملے اور ان کے حریف تھامس کہن 26 ہزار 749 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے۔

    پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے اگست میں ہونے والی پرائمری میں عائشہ فاروقی کو 4537 ووٹ ملے تھے جب کہ ان کے حریف ٹیلر فاکس 14 سو89 ووٹ لے پائے تھے۔

    عائشہ فاروقی فارمنگٹن ہائی اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ ہیں، وہ بطور اٹارنی اور فلم میکر بھی کام کر چکی ہیں جب کہ عائشہ مک کومب کاؤنٹی بلیک کاکس اور مسلم یہودی ایڈوائزری کاؤنسل کی رکن بھی ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ …

    دوسری جانب مریم صبیح نے پنسلوینیا میں ایوان نمائندگان کے حلقہ 131 سے الیکشن لڑا اور ان کا مقابلہ میلو مک کینزی سے تھا جو اس حلقہ سے ایوان کی رکن ہیں انتخابات میں مک کینزی کو 22 ہزار 140 ووٹ ملے جو 58.3 فیصد ہے جب کہ مریم صبیح 15 ہزار 816 ووٹ لے سکیں۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے اس حلقے میں انہیں ڈیموکریٹک پارٹی رکن جے سانتوس کا سامنا ہوا تھا، مریم نے 4 ہزار 171 ووٹ لیے تھے جبکہ سانتوس 1593 ووٹ لے پائے تھے۔

    مریم صبیح رٹگرز یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہوا ہے جب کہ وہ بطور صحافی بھی کام کرچکی ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد سمیت 500 اہلکاروں کیخلاف پختونخوا ہاؤس حملے کی ایف آئی …

  • امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    واشنگٹن: سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکی صدارتی انتخابات جیت چکے ہیں، ٹرمپ کو 2024 کے انتخابات میں اہم ریاستوں میں برتری رہی ہے یہ تیسرے انتخابات ہیں جن میں ٹرمپ کا نام گونج رہا تھا،حالیہ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔سی این این کے ایگزٹ پولز کے مطابق، 2016، 2020 اور 2024 کے انتخابات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح خراب معیشت نائب صدر کملا ہیرس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی، خواتین میں ان کی حمایت میں اضافے کی کوششیں ناکام ہوئیں، حالانکہ اس دوران اسقاط حمل کے حق میں حمایت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، اور کس طرح لاطینی مرد خاص طور پر ٹرمپ کی طرف مائل ہوئے۔

    اس سال کملا ہیرس کو خواتین میں جو برتری حاصل ہوئی، وہ صدر جو بائیڈن اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے کم تھی، جو نائب صدر کے لیے پریشان کن علامت ہے کیونکہ ان کا مقصد خواتین کو اسقاط حمل کے مسئلے پر متحرک کرنا تھا۔ دوسری طرف، ٹرمپ نے مردوں میں اپنی برتری برقرار رکھی۔ لاطینی ووٹرز، خصوصاً لاطینی مردوں میں، 2016 سے ٹرمپ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس سال، لاطینی مردوں نے پہلی بار ٹرمپ کو حمایت دی۔ 2020 میں جو بائیڈن نے ان کی حمایت 23 پوائنٹس سے حاصل کی تھی، لیکن 2024 میں یہ حمایت ٹرمپ کو حاصل ہوئی۔ لاطینی خواتین نے اب بھی ہیرس کو پسند کیا، لیکن یہ فرق پہلے کی نسبت کم تھا۔ دوسری جانب، ہیرس نے سیاہ فام مردوں اور عورتوں میں مضبوط برتری برقرار رکھی۔ سفید فام مردوں میں ٹرمپ کی برتری کم ہوئی۔سفید فام ناخواندہ ووٹرز ہمیشہ سے ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، اور یہ رجحان اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، سفید فام تعلیمی ڈگری رکھنے والے ووٹرز میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ 2016 میں یہ ووٹرز ٹرمپ کے حق میں تھے، لیکن 2024 میں ہیرس نے ان میں تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو کہ مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف سے تھی۔ ہیرس نے سفید فام خواتین میں تعلیمی ڈگری کے ساتھ 20 پوائنٹس کی برتری حاصل کی، جو بائیڈن اور کلنٹن کے مقابلے میں بہتری تھی۔

    حالیہ امریکی انتخابات میں نسل، عمر اور طبقاتی فرق میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو جمہوریت کے اصولوں پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور ترقی پسند نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ اسی طرح خواتین، رنگ دار افراد اور تعلیم یافتہ طبقات نے انتخابی عمل میں حصہ داری بڑھائی ہے، جس کا اثر امریکی سیاست پر گہرا پڑا ہے۔2016 کے انتخاب میں جس طرح سے ٹرمپ کی جیت ہوئی، اس کے بعد سے قدامت پسندوں اور ترقی پسندوں کے درمیان مقابلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ 2020 کے انتخابات میں جو بائیڈن کی جیت نے ایک نئی سیاسی سمت کا آغاز کیا، اور اسی دوران امریکہ میں مروجہ سیاسی تقسیم میں مزید اضافہ ہوا۔ خاص طور پر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انتخابی گفتگو اور بحث میں نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔معاشی حالات، صحت کی خدمات، موسمیاتی تبدیلیوں اور سوشل جسٹس جیسے مسائل نے عوام کے فیصلوں پر اثر ڈالا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور عوامی شعور میں اضافے نے بھی امریکی ووٹروں کے رویوں کو متاثر کیا ہے۔

    یہ انتخابات امریکی سیاست میں ایک نئے دور کی علامت ہیں، جہاں نہ صرف ٹرمپ کی مسلسل حمایت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ہیرس اور بائیڈن کی پالیسیوں کے اثرات بھی واضح ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ری پبلکن پارٹی کے نائب صدارتی امیدوار جے ڈی وینس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے انہیں اپنی انتخابی مہم میں شامل ہونے کا موقع دیا۔

    بدھ کی صبح ویسٹ پام بیچ میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے، وینس نے کہا، "میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔”وینس نے مزید کہا، "میرے خیال میں ہم نے امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی کامیاب واپسی دیکھی ہے،” حالانکہ ابھی کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وہ اور ٹرمپ مل کر "امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی اقتصادی کامیاب واپسی کی قیادت کریں گے۔”

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • امریکی انتخابات،ٹرمپ کی فحش گفتگو کی ویڈیو وائرل

    امریکی انتخابات،ٹرمپ کی فحش گفتگو کی ویڈیو وائرل

    امریکا میں صدارتی انتخاب کا عمل جاری ہے، اور اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پرانی فحش گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

    امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ویڈیو ٹک ٹاک پر تیزی سے پھیل رہی ہے اور نئی نسل کے ووٹرز کے درمیان کافی بحث و مباحثہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔اس وقت امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ دونوں امیدوار ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہے ہیں، جس سے انتخابی میدان میں گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان حالات میں ٹرمپ کی وائرل ویڈیو نے انتخابات کی فضا کو مزید متاثر کردیا ہے۔امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ” کی رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو دراصل 2005 کی ایک گفتگو پر مبنی ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک خاتون کے ساتھ جنسی تعلقات کے بارے میں انتہائی نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں ٹرمپ اور دیگر افراد کے درمیان کی گفتگو گاڑی کے اندر کی جا رہی ہے، جہاں وہ ایک خاتون کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ویڈیو میں موجود گفتگو کا مواد کافی غیر مہذب ہے، جس میں ٹرمپ ایک شخص کو اپنی جنسی مہمات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ گفتگو پہلے بھی 2016 کے انتخابات کے دوران وائرل ہوئی تھی، اور اس وقت بھی اسے واشنگٹن پوسٹ نے ہی شائع کیا تھا۔

    اس وائرل ویڈیو نے امریکا کے لاکھوں نئے نوجوان ووٹرز کو حیران و پریشان کردیا ہے، جنہوں نے ٹرمپ کے اس رویے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کئی نوجوان ووٹرز نے سوشل میڈیا پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے رویے سے ٹرمپ کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ فحش گفتگو اور اس کی وائرل ویڈیو نے نہ صرف انتخابی مہم کو متاثر کیا ہے بلکہ نوجوان ووٹرز کے خیالات اور جذبات کو بھی بیدار کیا ہے۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، اس طرح کی معلومات اور ویڈیوز عوامی رائے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ یہ انتخابی عمل کی سنجیدگی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • امریکی انتخابات،ٹرمپ سزا یافتہ ہونے کے باوجود ووٹ دینے کے اہل

    امریکی انتخابات،ٹرمپ سزا یافتہ ہونے کے باوجود ووٹ دینے کے اہل

    امریکا میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں ،صدارتی امیدوار ،سابق صدرٹرمپ آج سزا یافتہ مجرم ہونے کے باوجود ووٹ دے سکتے ہیں

    فلوریڈا میں عموماً ایسے افراد کے لیے ووٹنگ کے حقوق حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے جن پر فوجداری مقدمات چل چکے ہوں، لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج خود کے لیے ووٹ ڈالنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئے گی۔ٹرمپ کو اس سال کے شروع میں مین ہیٹن کی عدالت نے 2016 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اسٹارمی ڈینئلز کو خاموشی کے پیسوں کی ادائیگیوں سے متعلق کاروباری ریکارڈز میں جعل سازی کے 34 الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ وہ پہلا سابق امریکی صدر ہے جنہیں کسی فوجداری مقدمے میں سزا ہوئی ہے، اور ان کی سزا 26 نومبر کو سنائی جائے گی۔

    فلوریڈا کے قانون کے مطابق، اگر کسی شخص کی سزا دوسرے ریاست میں ہو تو فلوریڈا اس ریاست کے قوانین کو تسلیم کرتا ہے کہ کس طرح مجرم فرد اپنے ووٹنگ کے حقوق بحال کر سکتا ہے۔ٹرمپ کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیو یارک کے 2021 کے قانون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو سزا یافتہ افراد کو اس صورت میں ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے جب وہ انتخابات کے وقت قید کی سزا نہیں بھگت رہے ہوں۔تاہم، فلوریڈا میں دیگر افراد جنہیں فوجداری مقدمات میں سزا ہوئی ہو، ان کے لیے یہ قوانین اتنے آسان نہیں ہیں۔

    2018 میں ایک کامیاب بیلٹ انیشیٹو کے ذریعے سزا مکمل کرنے والوں کے ووٹنگ حقوق بحال کرنے کا عمل شروع ہوا تھا، لیکن ریاستی ریپبلکن قانون سازوں نے اسے ناقابل عمل بنا دیا۔ انہوں نے ایک ایسا قانون منظور کیا جس کے تحت سزا کے ساتھ جڑے تمام جرمانے اور فیسیں ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے، اور یہ عمل پیچیدہ ہے کیونکہ ایسی فیسوں کا سرکاری سطح پر کوئی مرکزی ریکارڈ نہیں ہوتا

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید