Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے ،نواز شریف

    کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے ،نواز شریف

    ظفرآباد: مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا-

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مظفر آباد سے پیار ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے بے پناہ پیار ہے، پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنے ہیں لیکن یہاں وہی سڑک ہے جو 30 سال پہلے بنی تھی، کوہالہ سے مظفر آباد کوئی ہائی وے کیوں نہیں بنی۔

    انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم تھا تو راجا فاروق حیدر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے اور میں نے کہا کہ مانسہرہ سے مظفر آباد، مظفر آباد سے میر پور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ ایک خوب صورت ترین موٹر وے بننی چاہیے جبکہ یہ منصوبہ میں نے منظور کیا تھا اور یہ پاکستان کا ایک بہترین اور منفرد منصوبہ ہے اور آزاد کشمیر کے لیے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا بہترین تحفہ ہےاس منصوبے سے آزاد کشمیر میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا جال پھیلتا اور یہاں پر خوش حالی ہی خوش حالی ہوتی

    نواز شریف نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی تو پنجاب کی طرز کے ترقیاتی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کیے جائیں گے اور عوام کو جدید سفری و طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، میں نے کبھی آذاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا یا اسلام آباد میں کبھی تفریق نہیں کی، میرے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب ہے، یہ میرا دوسرا گھر ہے، میرے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

    میں نے مریم نواز کو کہا ہے جیسے کسی کے ہاں مہمان جاتے ہیں تو کوئی فروٹ یا مٹھائی لے کر جاتے ہیں تو آج آپ بھی کشمیر کے لیے مٹھائی لے کرجا ئیں اور مظفر آباد کے عوام کو پیش کردو، ہمارا منصوبہ بڑا وسیع ہے، جو پروگرام لے کر آئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہاں بنی تو ایک ایک منصوب ے کو مکمل کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جس طرح پنجاب میں عوامی فلاح کے منصوبے جاری ہیں، اسی طرز پر مظفرآباد اور آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی کام ہونے چاہیئیں، مریم نواز نے بھی مظفرآباد کو پاکستان کے خوبصورت ترین شہروں میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    نواز شریف نے اعلان کیا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا جب وہ وزیر اعظم تھے تو آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کیا تھا، اب موقع ملا تو اسے دس گنا تک بڑھائیں گے، مریم نواز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 15 موبائل اسپتال بھی آزاد کشمیر کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہانتخابات میں کامیابی ملی تو میرا دل چاہتا ہے شہباز شریف کو کہوں کہ مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں، نواز شریف کو وزیراعظم بنادیں، آئندہ یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو ان شااللہ یہاں کی تمام مشکلیں اور مسائل حل کرکے دم لیں گے اگرچہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بننے کی بات مذاق میں کر رہے ہیں، تاہم کامیابی کی صورت میں ہر تین ماہ بعد وہ خود آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے-

    انہوں نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد آنے والی حکومت نے ملک کو نقصان پہنچایا اور ترقی کا سفر رک گیا، تاہم مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار میں آکر تمام کمیوں کو پورا کرے گی اور عوام کی خوشحالی کے لیے بھر پور اقدامات کرے گی۔

  • آزاد کشمیر  عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد کشمیر عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کر دیا جبکہ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد کر دیے گئے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی،اس طرح آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا عمل 3 مراحل میں مکمل ہوگا، ہر مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد اسی مرحلے کے غیر سرکاری اور سرکاری نتائج جاری کیے جائیں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی انتظامی امور، انتخابی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے، شفاف، منظم اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہےمرحلہ وار انتخابات سے سکیورٹی، انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی عمل کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی،تمام ریٹرننگ افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ نئے انتخابی شیڈول کے مطابق اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابا ت کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی نےامیدواروں کا اعلان کردیا

    آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی نےامیدواروں کا اعلان کردیا

    پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات 2026 کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے-

    پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے لیے انتخابی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے،، پارٹی نے آزاد کشمیر اور مہاجرین نشستوں سمیت مختلف حلقوں سے امیدوار نامزد کیے ہیں، جن میں میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ، سدھنوتی، پونچھ، وادی نیلم، مظفرآباد، جموں اور ویلی کے حلقے شامل ہیں۔

    پارٹی کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر امیدوار مید ان میں اتارے گئے ہیں،اعلان کردہ امیدواروں میں میرپور ڈویژن میں ایل اے-1 میرپور 1 سے افسر شاہد، ایل اے-2 میرپور 2 (چکسواری) سے قاسم مجید، ایل اے-3 میرپور 3 (میرپور شہر) سے یاسر سلطان، ایل اے-4 میرپور 4 (کھڑی شریف) سے چوہدری صہیب ارشد اور ایل اے-5 بھمبر 1 (برنالہ) سے چوہدری پرویز اشرف کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

    کوٹلی ڈویژن میں ایل اے-8 سے ملک ظفر، ایل اے-9 سے جاوید اقبال بھڈھانوی، ایل اے-10 اور ایل اے-12 سے چوہدری یاسین جبکہ ایل اے-11 سے چوہدری اخلاق کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے باغ اور حویلی سے سردار قمر زمان اور فیصل ممتاز راٹھور جبکہ سدھنوتی پو نچھ کے مختلف حلقوں سے سردار امجد یوسف، سردار سعود صادق، سردار یعقوب، سردار محمد عابد خان اور سردار فہیم اختر ربانی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے، وادی نیلم، مظفرآباد اور دیگر علا قوں سے میاں عبد الوحید، سردار جاوید ایوب، سید بازل نقوی، سردار مختار احمد خان، مباشر منیر اعوان، اشفاق ظفر اور دیوان علی چغتائی شامل ہیں۔

    مہاجرین جموں و کشمیر کے حلقوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے امیدوار نامزد کیے گئے ہیں، جن میں کرنل (ر) قدیر چوہان، چوہدری آصف گجر، چوہدری احسن اسماعیل گجر، شاہین کوثر ڈار، راجہ شاہد اقبال ایڈووکیٹ اور دیگر شامل ہیں پیپلز پارٹی نے کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں سے بھی امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔

    آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو شیڈول ہیں، جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

  • گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 7 انتخابی حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے 7 حلقوں میں دائر انتخابی اعتراضات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن جی بی نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا جو آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجوں کے بعد الیکشن کمیشن نے 7 حلقوں کے نتائج روک لیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے گئے غیر حتمی/ غیر سرکاری نتائج میں جی بی اے-19 غذر II میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان کامیاب قرار دیے گئے جی بی اے-19 غذر I میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے نشست جیتی-

    اسی طرح جی بی اے-3 گلگت III میں آزاد امیدوار سہیل عباس کامیاب ہوئے، جی بی اے-10 اسکردو IV میں پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر علی خان نے کامیابی حاصل کی ،جی بی اے-15 دیامر I سے آزاد امیدوار محمد دل پذیر فاتح قرار پائےمجی بی اے-5 نگر I میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد کامیاب ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلوں کے اعلان کے بعد ان حلقوں کے نتائج سے متعلق حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی، ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے-

    گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جی بی میں ہر طرف شیر،شیر اور شیر کی آوازیں آرہی ہیں مسلم لیگ (ن) کو عوام ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں،مخالفین مسلم لیگ (ن) پر کیچڑ اچھال کر ووٹ مانگتے ہیں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی-

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا صفر ووٹ بینک ہے ان کے لوگ ایک ہفتے سے شور مچا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو کمپین نہیں کرنے دی جارہی جن کے امیدوار بھی پورے نہیں، وہ قبل از وقت دھندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے؟ تحریک انصاف کا بطور جماعت ہر بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کارکردگی سے کریں، جھوٹ اور پروپیگنڈے ناکام سیاسی چالیں ہیں ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی اے 17 داریل کے علاقے ڈوڈشال میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد زمان کے حامیوں کی گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہےنامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی اس فائرنگ کے واقعے کی تصدیق خود ن لیگ کے امیدوار ڈاکٹر محمد زمان نے کر دی ہے۔

    ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق فائرنگ کے اس حملے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور وہ علاقے میں پُرامن انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں فائرنگ کے اس واقعے کے ذمہ دار پا کستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار محمد نسیم ہیں۔

    انہوں نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں امن و امان کی صورتحال اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیامر لیفٹیننٹ (ر) محمد اویس نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔

  • شفاف انتخابات اولین ترجیح  ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    شفاف انتخابات اولین ترجیح ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے گا-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 2020 کی طرح اس بار بھی اضافی انتخابی عملہ دیگر صوبوں سے طلب کیا گیا ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی ، وفاقی و صوبائی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، گورنرز، وزراء اور سرکاری عہدیداروں کے انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے، مقدمات اور دیگر قانونی کارروائی ہو گی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیاسی جماعتیں اورامیدوار اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں انتخابی عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تعاون کیا جائے ، مانیٹرنگ افسران ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد یقینی بنائیں، سیاسی جماعتوں کو دوبارہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے سرکلرجاری کر دیا گیا ،شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات اولین ترجیح ہے ، نفرت اور انتشار پھیلانے والوں کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی ہو گی۔

  • گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب کرلی گئی۔

    پنجاب پولیس کے 5000 اہلکار گلگت بلتستان بھجوائے جائیں گے،رائٹ مینجمنٹ فورس کے 1500 اہلکار گلگت بلتستان الیکشن کی سکیورٹی پر تعینات ہو ں گے،اس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری کے 1242 ،پنجاب ہائی وے پٹرول کے 1958 اہلکارگلگت بلتستان بھیجے جائیں گے۔

    لاہور پولیس کے 300 اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے بھجوائے جائیں گے،اس حوالے سے اے آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی ایم ٹی کو مراسلہ جاری کر دیاجس میں کہاگیاہے کہ اہلکاروں کو بھجوانے کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے،ٹرانسپورٹ اور عملے کی تفصیلات بھی سی پی او کو بھجوا نے کا حکم دیاگیاہے۔

  • آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ کیاہے-

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے الیکشن مہم کے دوران آزاد کشمیر جانے کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کا جون کے وسط میں آزاد کشمیر جانے کا امکان ہے اور ان کے ساتھ مریم نواز بھی جاسکتی ہیں نواز شریف نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ، قانون کے مطابق کشمیر میں الیکشن مہم میں شرکت کی ہدایت کی ہے، شہباز شریف اور مریم نواز کے آزاد کشمیر میں 2 سے 3 جلسے متوقع ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں نوازشریف نے آزادجموں وکشمیر کے45 انتخابی حلقوں سے 206سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کیے اور ہر امیدوار کو دو سے تین منٹ ہی گفتگو کے لیے دیے گئے جبکہ پارٹی صدر نواز شریف بورڈ ارکان کی مشاورت سے دو سے تین روز میں حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے،انٹرویوز میں کامیاب امیدواروں کو 30 روز میں پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف اور پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں سے پارٹی سے وابستگی اور عوامی مقبولیت کے بارے میں سوالات کیے اور آزاد کشمیر الیکشن پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما امیر مقام کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے نواز شریف کے سامنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران نظریہ پاکستان اور نظریہ تحریک آزادی کو شدید نقصان پہنچا، ہماری تحریک آزادی کو 5 سال میں جتنا نقصان پہنچا اسے واپس لانے میں بہت عرصہ لگے گا۔

    امیدواروں نے نوازشریف سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 5 سال میں آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا وہ افسوسناک ہے، کشمیریوں نے آزادی کےلیے اپنی جان اور اپنے بچوں کو شہید کروا کر لاشیں اٹھائیں، مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جوکشمیریوں کےحقیقی نظریہ اور شہدا کی وارث ہے،آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا جیتنا ناگزیر ہے وگرنہ آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں خود کشمیری ہوں اور کشمیریوں سے محبت میرے خون میں شامل ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن میں خود آکر اپنے امیدواروں کےلیے ووٹ مانگوں گا وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔

    پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، محمد صفدر اور برجیس طاہر شامل ہیں اس کے علاوہ شاہ غلام قادر، راجہ محمد فاروق حیدر، مشتاق منہاس، چوہدری محمد سعید اور چوہدری طارق فاروق بھی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں اجلاس میں نجیب نقی خان، افتخار گیلانی اور چوہدری عبدالرحمان بھی شریک ہوئے۔

  • فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006 کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

    حماس نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ غزہ کے علاقے میں جہاں انتخابات منعقد ہوئے، باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں ایک دو سری فہرست، جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا، صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

    مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی غزہ میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔