Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 7 انتخابی حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے 7 حلقوں میں دائر انتخابی اعتراضات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن جی بی نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا جو آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجوں کے بعد الیکشن کمیشن نے 7 حلقوں کے نتائج روک لیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے گئے غیر حتمی/ غیر سرکاری نتائج میں جی بی اے-19 غذر II میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان کامیاب قرار دیے گئے جی بی اے-19 غذر I میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے نشست جیتی-

    اسی طرح جی بی اے-3 گلگت III میں آزاد امیدوار سہیل عباس کامیاب ہوئے، جی بی اے-10 اسکردو IV میں پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر علی خان نے کامیابی حاصل کی ،جی بی اے-15 دیامر I سے آزاد امیدوار محمد دل پذیر فاتح قرار پائےمجی بی اے-5 نگر I میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد کامیاب ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلوں کے اعلان کے بعد ان حلقوں کے نتائج سے متعلق حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی، ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے-

    گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جی بی میں ہر طرف شیر،شیر اور شیر کی آوازیں آرہی ہیں مسلم لیگ (ن) کو عوام ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں،مخالفین مسلم لیگ (ن) پر کیچڑ اچھال کر ووٹ مانگتے ہیں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی جماعت نے ایک اینٹ تک نہیں لگائی-

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کا صفر ووٹ بینک ہے ان کے لوگ ایک ہفتے سے شور مچا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کو کمپین نہیں کرنے دی جارہی جن کے امیدوار بھی پورے نہیں، وہ قبل از وقت دھندلی کا واویلا کس منہ سے کررہے؟ تحریک انصاف کا بطور جماعت ہر بیانیہ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کارکردگی سے کریں، جھوٹ اور پروپیگنڈے ناکام سیاسی چالیں ہیں ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ گلگت کو لاہور جیسا خوبصورت بنائیں گے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی اے 17 داریل کے علاقے ڈوڈشال میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد زمان کے حامیوں کی گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہےنامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی اس فائرنگ کے واقعے کی تصدیق خود ن لیگ کے امیدوار ڈاکٹر محمد زمان نے کر دی ہے۔

    ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق فائرنگ کے اس حملے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور وہ علاقے میں پُرامن انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں فائرنگ کے اس واقعے کے ذمہ دار پا کستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے امیدوار محمد نسیم ہیں۔

    انہوں نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    واضح رہے کہ کل ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں امن و امان کی صورتحال اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیامر لیفٹیننٹ (ر) محمد اویس نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔

  • شفاف انتخابات اولین ترجیح  ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    شفاف انتخابات اولین ترجیح ہے،چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے گا-

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 2020 کی طرح اس بار بھی اضافی انتخابی عملہ دیگر صوبوں سے طلب کیا گیا ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہو گی ، وفاقی و صوبائی عہدیدار انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، گورنرز، وزراء اور سرکاری عہدیداروں کے انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی ہے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے، مقدمات اور دیگر قانونی کارروائی ہو گی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سیاسی جماعتیں اورامیدوار اشتعال انگیز تقاریر سے گریز کریں انتخابی عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے تعاون کیا جائے ، مانیٹرنگ افسران ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد یقینی بنائیں، سیاسی جماعتوں کو دوبارہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے سرکلرجاری کر دیا گیا ،شفاف، منصفانہ اور پرامن انتخابات اولین ترجیح ہے ، نفرت اور انتشار پھیلانے والوں کیخلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی ہو گی۔

  • گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات : سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب

    گلگت بلتستان انتخابات کی سکیورٹی کیلئے پنجاب پولیس سے نفری طلب کرلی گئی۔

    پنجاب پولیس کے 5000 اہلکار گلگت بلتستان بھجوائے جائیں گے،رائٹ مینجمنٹ فورس کے 1500 اہلکار گلگت بلتستان الیکشن کی سکیورٹی پر تعینات ہو ں گے،اس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری کے 1242 ،پنجاب ہائی وے پٹرول کے 1958 اہلکارگلگت بلتستان بھیجے جائیں گے۔

    لاہور پولیس کے 300 اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے بھجوائے جائیں گے،اس حوالے سے اے آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی ایم ٹی کو مراسلہ جاری کر دیاجس میں کہاگیاہے کہ اہلکاروں کو بھجوانے کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے،ٹرانسپورٹ اور عملے کی تفصیلات بھی سی پی او کو بھجوا نے کا حکم دیاگیاہے۔

  • آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    آزاد جموں و کشمیر انتخابات: نواز شریف کا امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں امیدواروں کے لیے خود جا کر ووٹ مانگنے کا فیصلہ کیاہے-

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت آزاد کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔

    مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے الیکشن مہم کے دوران آزاد کشمیر جانے کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کا جون کے وسط میں آزاد کشمیر جانے کا امکان ہے اور ان کے ساتھ مریم نواز بھی جاسکتی ہیں نواز شریف نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اور مریم نواز کو بطور وزیراعلیٰ، قانون کے مطابق کشمیر میں الیکشن مہم میں شرکت کی ہدایت کی ہے، شہباز شریف اور مریم نواز کے آزاد کشمیر میں 2 سے 3 جلسے متوقع ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں نوازشریف نے آزادجموں وکشمیر کے45 انتخابی حلقوں سے 206سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کیے اور ہر امیدوار کو دو سے تین منٹ ہی گفتگو کے لیے دیے گئے جبکہ پارٹی صدر نواز شریف بورڈ ارکان کی مشاورت سے دو سے تین روز میں حتمی امیدواروں کا فیصلہ کریں گے،انٹرویوز میں کامیاب امیدواروں کو 30 روز میں پارٹی ٹکٹ جاری کیا جائے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف اور پارلیمانی بورڈ نے امیدواروں سے پارٹی سے وابستگی اور عوامی مقبولیت کے بارے میں سوالات کیے اور آزاد کشمیر الیکشن پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما امیر مقام کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی ہے آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے نواز شریف کے سامنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران نظریہ پاکستان اور نظریہ تحریک آزادی کو شدید نقصان پہنچا، ہماری تحریک آزادی کو 5 سال میں جتنا نقصان پہنچا اسے واپس لانے میں بہت عرصہ لگے گا۔

    امیدواروں نے نوازشریف سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 5 سال میں آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا وہ افسوسناک ہے، کشمیریوں نے آزادی کےلیے اپنی جان اور اپنے بچوں کو شہید کروا کر لاشیں اٹھائیں، مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جوکشمیریوں کےحقیقی نظریہ اور شہدا کی وارث ہے،آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا جیتنا ناگزیر ہے وگرنہ آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ میں خود کشمیری ہوں اور کشمیریوں سے محبت میرے خون میں شامل ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن میں خود آکر اپنے امیدواروں کےلیے ووٹ مانگوں گا وفاق اور پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔

    پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان، محمد صفدر اور برجیس طاہر شامل ہیں اس کے علاوہ شاہ غلام قادر، راجہ محمد فاروق حیدر، مشتاق منہاس، چوہدری محمد سعید اور چوہدری طارق فاروق بھی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں اجلاس میں نجیب نقی خان، افتخار گیلانی اور چوہدری عبدالرحمان بھی شریک ہوئے۔

  • فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات:صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں

    فلسطینی بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کے حامی امیدواروں نے اکثریتی نشستیں حاصل کر لیں، جبکہ تقریباً 2 دہائیوں بعد پہلی بار غزہ کے ایک شہر میں بھی ووٹنگ کرائی گئی۔

    فلسطینی حکام کے مطابق یہ انتخابات نہایت حساس حالات، متعدد چیلنجز اور غیر معمولی صورتحال میں منعقد ہوئے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز اکتوبر 2023 کے بعد یہ پہلا انتخابی عمل تھا، جبکہ مجموعی طور پر غزہ میں 2006 کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے۔

    حماس نے اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ غزہ کے علاقے میں جہاں انتخابات منعقد ہوئے، باضابطہ طور پر اپنے امیدوار کھڑے نہیں کیے مرکزی غزہ کے شہر دیر البلح میں ہونے والی ووٹنگ کو علامتی اہمیت دی گئی، جس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ غزہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔

    ابتدائی نتائج کے مطابق دیر البلح میں عباس کی جماعت فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی حمایت یافتہ فہرست نے 15 میں سے 6 نشستیں حاصل کیں ایک دو سری فہرست، جسے مقامی سطح پر حماس سے قریب سمجھا جا رہا تھا، صرف 2 نشستیں جیت سکی، باقی نشستیں دو دیگر مقامی گروپوں نے حاصل کیں، جو کسی بڑی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

    مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق غزہ میں ووٹر ٹرن آؤٹ 23 فیصد رہا، جبکہ مغربی کنارے میں یہ شرح 56 فیصد ریکارڈ کی گئی غزہ میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کی ایک بڑی وجہ جنگی حالات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبادی کے پرانے رجسٹریشن ریکارڈ تھے۔

  • ہنگری میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے اقتدار کا خاتمہ

    ہنگری میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ وزیراعظم کے اقتدار کا خاتمہ

    ہنگری میں ا عوام نے 16 سال سے اقتدار میں موجود ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کو اقتدار سے باہر کر دیا۔

    کینیڈین ویب سائٹ سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پیٹر میجیار جو پہلے وکٹر اوربان کے حامی بھی رہ چکے ہیں، نے اپنی انتخابی مہم میں بدعنوانی کے خاتمے، بہتر صحت کی سہولیات اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے عوامی مسائل کو خاص طور پر اجاگر کیا،وکٹر اوربان نے اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کر لی اور اپنے حریف پیٹر میجیار کو کامیابی پر مبارکباد دی۔

    وکٹر اوربان کی جماعت کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ پارٹی بھی کہا جاتا ہے اس غیر متوقع نتیجے میں ووٹرز نے ان کی آمرانہ پالیسیوں اور سخت دئیں بازو کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے یورپ نواز رہنما پیٹر میجیار کو کامیاب بنا دیا۔

    پیٹر میجیار نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہنگری کے تعلقات کو یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ دوبارہ بہتر کریں گے، کیونکہ اوربان کے دور میں یہ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے یورپی رہنماؤں نے بھی انہیں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ میجیار کی ٹِسزا پارٹی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کر پائے گی یا نہیں، جس سے وہ اکیلے حکومت بنا سکیں رپورٹ کے مطابق 93 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ٹِسزا پارٹی کو 53 فیصد سے زائد ووٹ ملےجبکہ وکٹر اوربان کی جماعت فیدیز کو 37 فیصد ووٹ حاصل ہوئے, ابتدائی نتائج کے مطابق ٹِسزا پارٹی ہنگری کے 106 میں سے 94 حلقوں میں کامیابی حاصل کرتی نظر آ رہی ہے، جو ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔

  • گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی پولنگ کا دن مقرر کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو پاکستان گزٹ میں اشاعت کے لیے بھی بھجوا دیا گیا ہے، جس کے بعد انتخابی عمل کا باضابطہ آغاز تصور کیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر راجا شاہ باز خان نے انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انتخابات الیکشنز ایکٹ 2017 اور جی بی آرڈر 2018 کے تحت منعقد کیے جائیں گے،تمام انتظامات متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔

  • لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جمخانہ انتخابات : دو پینلز کی 6،6 نشستیں

    لاہور جم خانہ کی مینیجمنٹ کمیٹی کے انتخابات میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد سلمان صدیق، میاں مصباح الرحمن گروپ اور مناپلی بریکر پینل نے 12 میں سے 6،6 نشستیں حاصل کر کے برابری قائم کر دی۔

    جمخانہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو مختلف پینلز برابر نشستیں لے کر سامنے آئے ہیں،گزشتہ روز ہونے والے انتخاب میں تین مختلف پینلز کے مجموعی طور پر 39 امیدوار مدِ مقابل تھے کلب کے تقریباً 55 سو ممبران میں سے 3158 ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس سے انتخابی عمل میں غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوئی۔

    مناپلی بریکر پینل کے ڈاکٹر علی رزاق 1772 ووٹ لے کر سرفہرست رہے سلمان صدیق 1733 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر کامیاب قرار پائے جبکہ میاں مصباح الرحمن نے 1700 ووٹ حاصل کیے واجد عزیز خان 1693، کامران لاشاری 1637، سردار احمد نواز سکھیرا 1549 اور سرمد ندیم 1536 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دیگر کامیاب امیدواروں میں ڈاکٹر جواد ساجد (1328)، تسنیم نورانی (1297)، میاں پرویز بھنڈارا (1268)، ضیاء الرحمن خان (1220) اور مسز سمیرا نذیر (1201) شامل ہیں۔

    نتائج کے بعد دونوں گروپس کے درمیان چیئرمین کے عہدے کے لیے جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ تیز ہونے کا امکان ہے۔