Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • جرمنی: ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی تاریخی کامیابی

    جرمنی: ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی تاریخی کامیابی

    جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے ریاستی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔

    اتوار کو جاری کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق اے ایف ڈی نے 44.2 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت میں حکمران جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) صرف 17.4 فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہی۔

    تازہ انتخابی تخمینوں کے مطابق 83 رکنی ریاستی پارلیمنٹ میں اے ایف ڈی کو 39 نشستیں ملنے کا امکان ہے، تاہم حکومت بنانے کے لیے اسے 42 نشستوں کی ضرورت ہے،اس طرح واضح برتری کے باوجود اے ایف ڈی کو حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    اے ایف ڈی نہ جرمنی کی 16 ریاستوں میں سے کسی کی حکومت کا حصہ رہی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت میں شامل ہوئی ہےسی ڈی یو کے ریاستی رہنما اور موجودہ وزیر اعلیٰ سوین شولز نے اے ایف ڈی کی کامیابی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو انتخابی نتائج کے ساتھ جینا ہوگا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    اے ایف ڈی کی کامیابی کو مشرقی جرمنی میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی، معاشی عدم مساوات اور سابق مشرقی جرمنی سے وابستہ جذبات سے بھی جوڑا جا رہا ہےجماعت نے انتخابی مہم میں غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری، سخت امیگریشن پالیسی اور روایتی اقدار کے فروغ جیسے نکات کو نمایاں کیا۔

    سیکسنی انہالٹ کی اے ایف ڈی شاخ کو ریاستی داخلی انٹیلیجنس ادارے نے ’دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم‘ قرار دے رکھا ہے، تاہم جماعت اس الزام کو سیاسی بنیادوں پر کیا گیا اقدام قرار دے کر مسترد کرتی ہے انتخابی نتائج کو چانسلر فریڈرک مرز کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی حکومت کو جرمنی کی کمزور معاشی شرح نمو بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    اے ایف ڈی کی تاریخی کامیابی نے ملک میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے درپیش چیلنج کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

  • آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ مکمل، ن لیگ کی 6 نشستوں پر کامیاب

    آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ مکمل، ن لیگ کی 6 نشستوں پر کامیاب

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کاعمل مکمل ہوگیا، مخصوص نشستوں کےانتخابی نتائج کےمطابق مسلم لیگ ن مجموعی طور پر 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب۔

    ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 12 ووٹ ملےعلما و مشائخ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے پیر مظہر نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار حافظ طارق نے 12 ووٹ حاصل کیے،خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی مریم کشمیری، سحرش قمر اور مریم ادریس کامیاب قرار پائیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی فرزا نہ یعقوب اور زوبیہ خورشید بھی کامیاب ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ اوورسیز نشست پر مسلم لیگ ن کے عبدالرحمان آرائیں بلامقابلہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں،یوں مسلم لیگ (ن) نے مخصوص نشستوں میں ٹیکنوکریٹ، علما و مشائخ اور خواتین کی نشستوں سمیت مجموعی طور پر 6 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے خواتین کی 2 اور دیگر نشستوں پر 2 نشستیں حاصل کیں۔

  • آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ جاری

    آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ جاری

    آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، جو صبح 10 بجے شروع ہوا اور دوپہر ایک بجے تک جاری رہے گا،پولنگ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسمبلی ہال، مظفرآباد میں ہو رہی ہے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے شیڈول کے تحت خواتین، ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز اور علما و مشائخ کی نشستوں پر آج پولنگ ہو رہی ہے،خواتین کے لیے مخصوص 5 نشستوں پر ابتدا میں 7 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے، تاہم پیپلز پارٹی کی شاہین کوثر ڈار کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی واپس لیے جانے کے بعد اب 6 امیدوار میدان میں ہیں۔

    خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رفعت عابد، سحرش قمر، مریم ادریس اور مریم زمان، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجا امیدوار ہیں،علما و مشائخ کی ایک مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کے پیر مظہر سعید اور پیپلز پارٹی کے حافظ طارق محمود کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔

    ٹیکنوکریٹس و پروفیشنلز کی ایک مخصوص نشست کے لیے مسلم لیگ (ن) کے سید افتخار گیلانی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ذوالفقار علی مدمقابل ہیں، ریاستی باشندگانِ مقیمِ بیرونِ ملک کے لیے مخصوص ایک نشست پر صرف ایک امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے تھے، جس کے باعث مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان آرائیں بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ مخصوص نشستوں پر پولنگ کے بعد دوپہر 2 بجے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوگا، جس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے اور حکومت سازی کا مرحلہ مزید آگے بڑھے گا۔

  • ایشین کرکٹ کونسل کے انتخابات میں پاکستان کی تاریخی کامیابی

    ایشین کرکٹ کونسل کے انتخابات میں پاکستان کی تاریخی کامیابی

    ایشین کرکٹ کونسل کے انتخابات میں پاکستان نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ڈائریکٹرزکی تینوں نشستیں جیت لیں۔

    ذرائع کے مطابق سالانہ جنرل میٹنگ کی صدارت اےسی سی چیئرمین محسن نقوی نےکی،اجلاس میں بھارت کی نمائندگی راجیوشکلانےکی،بینکاک میں ایشین کرکٹ کونسل اجلاس میں ڈائریکٹرزکےانتخاب کیلئے سخت مقابلہ ہوا،پاکستانی حمایت یافتہ پینل نےتینوں نشستوں پربھارتی حمایت یافتہ امیدواروں کوشکست دیدی۔

    اے سی سی کےقیام کےبعد پہلی بارپاکستان کے حمایت یافتہ پینل نےتینوں نشستیں جیتیں،ذرائع کے مطابق اے سی سی اجلاس میں قطرکرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شیخ عبدالعزیز کو بطور ڈائریکٹر پاکستان کی حمایت حاصل تھی،اجلاس میں اےسی سی مینزایشیا کپ 2027کی وینیوزپرتبادلہ خیال ہوا ،ریجن میں کرکٹ کےفروغ کےاقدامات بھی زیر غور آئے،ڈائریکٹرز کی تینوں نشستوں پر کامیابی اے سی سی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔

  • کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے ،نواز شریف

    کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے ،نواز شریف

    ظفرآباد: مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا-

    پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مظفر آباد سے پیار ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے بے پناہ پیار ہے، پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنے ہیں لیکن یہاں وہی سڑک ہے جو 30 سال پہلے بنی تھی، کوہالہ سے مظفر آباد کوئی ہائی وے کیوں نہیں بنی۔

    انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم تھا تو راجا فاروق حیدر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے اور میں نے کہا کہ مانسہرہ سے مظفر آباد، مظفر آباد سے میر پور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ ایک خوب صورت ترین موٹر وے بننی چاہیے جبکہ یہ منصوبہ میں نے منظور کیا تھا اور یہ پاکستان کا ایک بہترین اور منفرد منصوبہ ہے اور آزاد کشمیر کے لیے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا بہترین تحفہ ہےاس منصوبے سے آزاد کشمیر میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا جال پھیلتا اور یہاں پر خوش حالی ہی خوش حالی ہوتی

    نواز شریف نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی تو پنجاب کی طرز کے ترقیاتی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کیے جائیں گے اور عوام کو جدید سفری و طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، میں نے کبھی آذاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا یا اسلام آباد میں کبھی تفریق نہیں کی، میرے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب ہے، یہ میرا دوسرا گھر ہے، میرے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔

    میں نے مریم نواز کو کہا ہے جیسے کسی کے ہاں مہمان جاتے ہیں تو کوئی فروٹ یا مٹھائی لے کر جاتے ہیں تو آج آپ بھی کشمیر کے لیے مٹھائی لے کرجا ئیں اور مظفر آباد کے عوام کو پیش کردو، ہمارا منصوبہ بڑا وسیع ہے، جو پروگرام لے کر آئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہاں بنی تو ایک ایک منصوب ے کو مکمل کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جس طرح پنجاب میں عوامی فلاح کے منصوبے جاری ہیں، اسی طرز پر مظفرآباد اور آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی کام ہونے چاہیئیں، مریم نواز نے بھی مظفرآباد کو پاکستان کے خوبصورت ترین شہروں میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    نواز شریف نے اعلان کیا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا جب وہ وزیر اعظم تھے تو آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کیا تھا، اب موقع ملا تو اسے دس گنا تک بڑھائیں گے، مریم نواز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 15 موبائل اسپتال بھی آزاد کشمیر کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہانتخابات میں کامیابی ملی تو میرا دل چاہتا ہے شہباز شریف کو کہوں کہ مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں، نواز شریف کو وزیراعظم بنادیں، آئندہ یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو ان شااللہ یہاں کی تمام مشکلیں اور مسائل حل کرکے دم لیں گے اگرچہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بننے کی بات مذاق میں کر رہے ہیں، تاہم کامیابی کی صورت میں ہر تین ماہ بعد وہ خود آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے-

    انہوں نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد آنے والی حکومت نے ملک کو نقصان پہنچایا اور ترقی کا سفر رک گیا، تاہم مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار میں آکر تمام کمیوں کو پورا کرے گی اور عوام کی خوشحالی کے لیے بھر پور اقدامات کرے گی۔

  • آزاد کشمیر  عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد کشمیر عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری

    آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کر دیا جبکہ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد کر دیے گئے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی،اس طرح آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا عمل 3 مراحل میں مکمل ہوگا، ہر مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد اسی مرحلے کے غیر سرکاری اور سرکاری نتائج جاری کیے جائیں گے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی انتظامی امور، انتخابی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے، شفاف، منظم اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہےمرحلہ وار انتخابات سے سکیورٹی، انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی عمل کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی،تمام ریٹرننگ افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ نئے انتخابی شیڈول کے مطابق اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابا ت کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: مظفرآباد ڈویژن کے 3 اضلاع میں پولنگ کا عمل شروع

    آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: مظفرآباد ڈویژن کے 3 اضلاع میں پولنگ کا عمل شروع

    آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت آج مظفرآباد ڈویژن کے تین اضلاع مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی کے 9 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے، پولنگ بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

    الیکشن حکام کے مطابق مظفرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر 8 لاکھ 95 ہزار 66 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جن میں 4 لاکھ 27 ہزار 400 مرد جبکہ تین لاکھ 82 ہزار 167 خواتین ووٹرز شامل ہیں،جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر مجموعی ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 38 ہزار 834 ہے، جن میں 2 لاکھ 47 ہزار 776 مرد اور 1 لاکھ 91 ہزار 54 خواتین ووٹرز شامل ہیں، ڈویژن بھر میں ایک ہزار 483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے لیے بھی آج پولنگ جاری ہےجموں اور وادی کشمیر کی 6، 6 نشستوں پر ملک کے مختلف شہروں میں مقیم 4 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ان نشستوں پر مجموعی طور پر 143 امیدوار میدان میں ہیں،ان میں سے 533 کو انتہائی حساس، 741 کو حساس جبکہ 209 کو نارمل قرار دیا گیا جبکہ پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ایک ہزار 57 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل شام پانچ بجے اختتام پذیر ہوگا، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے گی اور غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہونا شروع ہوں گےآزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے مظفرآباد ڈویژن سمیت ملک بھر میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر تمام انتظامات مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے حقِ رائے دہی بھرپور انداز میں استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی نےامیدواروں کا اعلان کردیا

    آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی نےامیدواروں کا اعلان کردیا

    پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ عام انتخابات 2026 کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے-

    پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 2026 کے لیے انتخابی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے،، پارٹی نے آزاد کشمیر اور مہاجرین نشستوں سمیت مختلف حلقوں سے امیدوار نامزد کیے ہیں، جن میں میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ، سدھنوتی، پونچھ، وادی نیلم، مظفرآباد، جموں اور ویلی کے حلقے شامل ہیں۔

    پارٹی کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نشستوں پر امیدوار مید ان میں اتارے گئے ہیں،اعلان کردہ امیدواروں میں میرپور ڈویژن میں ایل اے-1 میرپور 1 سے افسر شاہد، ایل اے-2 میرپور 2 (چکسواری) سے قاسم مجید، ایل اے-3 میرپور 3 (میرپور شہر) سے یاسر سلطان، ایل اے-4 میرپور 4 (کھڑی شریف) سے چوہدری صہیب ارشد اور ایل اے-5 بھمبر 1 (برنالہ) سے چوہدری پرویز اشرف کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

    کوٹلی ڈویژن میں ایل اے-8 سے ملک ظفر، ایل اے-9 سے جاوید اقبال بھڈھانوی، ایل اے-10 اور ایل اے-12 سے چوہدری یاسین جبکہ ایل اے-11 سے چوہدری اخلاق کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے باغ اور حویلی سے سردار قمر زمان اور فیصل ممتاز راٹھور جبکہ سدھنوتی پو نچھ کے مختلف حلقوں سے سردار امجد یوسف، سردار سعود صادق، سردار یعقوب، سردار محمد عابد خان اور سردار فہیم اختر ربانی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے، وادی نیلم، مظفرآباد اور دیگر علا قوں سے میاں عبد الوحید، سردار جاوید ایوب، سید بازل نقوی، سردار مختار احمد خان، مباشر منیر اعوان، اشفاق ظفر اور دیوان علی چغتائی شامل ہیں۔

    مہاجرین جموں و کشمیر کے حلقوں میں پاکستان کے مختلف شہروں سے امیدوار نامزد کیے گئے ہیں، جن میں کرنل (ر) قدیر چوہان، چوہدری آصف گجر، چوہدری احسن اسماعیل گجر، شاہین کوثر ڈار، راجہ شاہد اقبال ایڈووکیٹ اور دیگر شامل ہیں پیپلز پارٹی نے کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں سے بھی امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔

    آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی کو شیڈول ہیں، جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

  • گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    گلگت بلتستان کے 7 حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 7 انتخابی حلقوں میں انتخابی اعتراضات پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے 7 حلقوں میں دائر انتخابی اعتراضات اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن جی بی نے اپنا فیصلہ محفوط کرلیا جو آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ 7 جون کو ہونے والے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجوں کے بعد الیکشن کمیشن نے 7 حلقوں کے نتائج روک لیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانب سے روکے گئے غیر حتمی/ غیر سرکاری نتائج میں جی بی اے-19 غذر II میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہان کامیاب قرار دیے گئے جی بی اے-19 غذر I میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے نشست جیتی-

    اسی طرح جی بی اے-3 گلگت III میں آزاد امیدوار سہیل عباس کامیاب ہوئے، جی بی اے-10 اسکردو IV میں پیپلز پارٹی کے راجہ ناصر علی خان نے کامیابی حاصل کی ،جی بی اے-15 دیامر I سے آزاد امیدوار محمد دل پذیر فاتح قرار پائےمجی بی اے-5 نگر I میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد کامیاب ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے محفوظ کیے گئے فیصلوں کے اعلان کے بعد ان حلقوں کے نتائج سے متعلق حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔