Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    ووٹوں کی دوبارہ گنتی:پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار ہار گئے

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک اور آزاد امیدوار دوبارہ گنتی میں اپنی سیٹ ہار گئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ صغیر احمد نے پنجاب کے حلقہ پی پی کہوٹہ کے 68 پولنگ سٹیشن کی دوبارہ گنتی کیلئے درخواست دی تھی، دوبارہ گنتی کے نتیجے میں راجہ صغیر احمد جیت گئے، دوبارہ گنتی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ صغیر احمد کے 3 ہزار 621 ووٹ بڑھ گئے، ہارنے والے آزاد امید کرنل (ر) شبیر اعوان نے کہا کہ بیلٹ پیپرز پر ڈبل مہر لگا کر ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔

    علاوہ ازیں پنجاب کے حلقہ پی پی 90 میں دوبارہ گنتی پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ کامیاب امیدوار عرفان اللہ خان ہار گئے جبکہ آزاد امیدوار احمد نواز خان نوانی 7 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہو گئے ہیں،عرفان اللہ خان نے کہا ہے کہ ری انتخابات
    کاؤنٹنگ غیر قانونی تھی، فارم 47 جاری ہونے کے بعد مجھے ہرانے کیلئے دوبارہ گنتی کی گئی، ہمارے ووٹ ریجیکٹ کئے گئے، ڈبل مہریں لگائی گئیں، جھوک قلندر بخش پولنگ سٹیشن کا ہمارا رزلٹ شامل ہی نہیں کیا گیابیلٹ پیپرز والے تھیلے پھٹے ہوئے تھے جو واضح ثبوت ہے کہ جعل سازی کی گئی، زبردستی ہرانے کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے، عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائیں گے۔

  • بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے  پہنچے

    بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں 31 فیصد نئے چہرے پہنچے ہیں، 69 فیصد ایسے اراکین ہیں جو دوسری سے آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 41 فیصد نومنتخب ارکان 2018 کی بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے،عام انتخابات 2024 میں بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر انتخاب ہوا ہے جبکہ 14 مخصوص نشستیں بعد میں پارٹی پوزیشن کے حساب سے تقسیم کی جائیں گی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 16 ارکان ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کا حصہ بنیں گے،نئے چہروں میں تین کا تعلق جے یو آئی، تین کا پیپلز پارٹی اور دو کا مسلم لیگ ن سے ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سید ظفرآغا، فضل قادر مندوخیل، ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، پیپلزپارٹی کے سردار زادہ فیصل جمالی، صمدخان گورگیج اور عبیداللہ گورگیج، ن لیگ کے زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، جماعت اسلامی کے عبدالمجید بادینی، حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان، تین آزاد امیدوار بخت محمد کاکڑ، ولی محمد نورزئی اور لیاقت لہڑی بھی پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ بنے ہیں، ان میں فیصل جمالی، صمد خان گورگیج، زرک خان مندوخیل اور برکت علی رند کا تعلق سیاسی خاندانوں سے ہیں اور ان کے بھائی، والد، سسر یا دوسرے قریبی رشتہ دار ایوانوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سینیٹر پرنس احمد عمر زئی اگرچہ ایوان بالا کا حصہ ہیں مگر وہ پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین میں سے 35 لوگ یعنی 69 فیصد پرانے چہرے ہیں ان میں 15 ارکان دوسری، سات ارکان تیسری، سات چوتھی، دو ارکان پانچویں بار، دو ارکان چھٹی بار اور دو ارکان آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔

    دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سرفراز احمد بگٹی، میر نصیب اللہ مری اور علی مدد جتک، اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے زابد علی ریکی، اصغر ترین، یونس عزیز زہری، خلیل الرحمان دمڑ، غلام دستگیر بادینی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ضیاء اللہ لانگو، عوامی نیشنل پارٹی کے ملک نعیم بازئی، آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ، عبدالخالق اچکزئی اورمولوی نور اللہ دوسری بار بلوچستان اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سردار سرفراز ڈومکی، ظہور احمد بلیدی اور میر اصغر رند، ن لیگ کے محمد خان طور اتمانخیل، جمعیت علمائے اسلام کے ظفراللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ تیسری بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں، سات ارکان چوتھی بار بلوچستان اسمبلی پہنچے ہیں ان میں سابق وزیراعلیٰ جمعیت علمائے اسلام کے نواب محمد اسلم رئیسانی، مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیران، محمد سلیم کھوسہ اور سردار مسعود لونی، پیپلز پارٹی کے محمد صادق عمرانی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی ) کے اسد بلوچ اور عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی شامل ہیں۔

    نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل پانچویں مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی اور مسلم لیگ ن کے میر عاصم کرد گیلو چھٹی بار بلوچستان اسمبلی میں اپنے حلقوں کی نمائندگی کریں گے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سب سے سینیئر ارکان میں سابق وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کے نواب ثناء اللہ زہری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار محمد صالح بھوتانی شامل ہیں دونوں آٹھویں بار بلوچستان اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری 1988 سے اب تک صرف 1997 میں بلوچستان اسمبلی سے باہر رہے، تاہم اس عرصے میں وہ سینیٹ کے رکن رہے۔

    سردار صالح بھوتانی 1985 سے اب تک صرف 2002 اور2008 کی اسمبلیوں سے باہر رہے اور ان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی محمد اسلم بھوتانی نے انتخاب لڑا اور دو مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ 51 جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والوں میں 21 افراد یعنی 41 فیصد پچھلی ( 2018 کی) بلوچستان اسمبلی کا بھی حصہ تھے۔

    ان میں جام کمال، نواب اسلم رئیسانی، زمرک خان اچکزئی، اسد بلوچ، ثناء اللہ زہری، عبدالرحمان کھیتران، طارق مگسی، ملک نعیم بازئی، زابد علی ریکی، صالح بھوتانی، سرفراز ڈومکی، محمد خان طور اتمانخیل، اصغر علی ترین، نصیب اللہ مری، سردار مسعود لونی، ضیاء اللہ لانگو، محمد خان لہڑی، یونس عزیز زہری، مولوی نور اللہ، محمد سلیم کھوسہ، ظہور احمد بلیدی شامل ہیں۔

    بلوچستان اسمبلی میں نو منتخب ارکان میں نواب ثنا اللہ زہری اور ظفر اللہ زہری آپس میں بھائی ہیں، نومنتخب رکن عبیداللہ گورگیج کے والد ملک شاہ گورگیج 8 فروری 2024 کے انتخابات میں این اے 259 کیچ کم گوادر سے رکن قومی اسمبلی، جبکہ نوابزادہ طارق مگسی کے بھائی نوابزادہ خالد مگسی حالیہ انتخابات میں این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ آٹھ نومنتخب ارکان ایسے ہیں جن کے والد بھی ماضی میں بلوچستان اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں ان میں جام کمال خان، نواب اسلم رئیسانی، سردار اختر مینگل، سرفراز ڈومکی، عبدالرحمان کھیتران، سردار مسعود لونی، خلیل الرحمان دمڑ اور شعیب نوشیروانی شامل ہیں، سردار صالح بھوتانی، فیصل جمالی، محمد خان لہڑی، ضیاء اللہ لانگو کے بھائی، زرک مندوخیل کے سسر، سلیم کھوسہ اور پرنس عمر احمد زئی، ظہور احمد بلیدی، برک علی رند، میر اصغر رند کے کئی قریبی رشتہ دار ماضی میں بلوچستان اسمبلی کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    ان میں پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج، نوابزادہ جمال رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے مولوی سمیع الدین، نیشنل پارٹی کے پھلین بلوچ، تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عادل خان بازئی، آزاد امیدوار میاں خان بگٹی شامل ہیں، سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے 25 سالہ نوابزادہ جمال رئیسانی قومی اسمبلی کے سب سے کم عمر ارکان میں ایک ہیں۔

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پہلی بار بلوچستان سے قومی اسمبلی کا رکن بنے ہیں، تاہم وہ اس سے پہلے اپنے آبائی صوبے خیبر پشتونخوا سے پانچ مرتبہ ایوان زیریں کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری تیسری بار قومی اسمبلی پہنچے ہیں۔

    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی چھ سال بعد قومی اسمبلی میں واپسی ہوئی ہے۔ وہ 2002،1997،1993،1990 اور 2013 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے سردار یعقوب خان ناصر پانچویں بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ وہ اس سے پہلے 1990، 1997، 2002 اور 2008 میں بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ خالد مگسی مسلسل تیسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان اور خان محمد جمالی، جمعیت علماء اسلام کے محمد عثمان بادینی دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل تیسری بار قومی اور صوبائی اسمبلی کا انتخاب بیک وقت جیتے ہیں۔ 1997 میں انہوں نے صوبائی اور2018 میں قومی اسمبلی کی نشست کو ترجیح دی۔

  • ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟  شاہ محمود

    ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ شاہ محمود

    راولپنڈی: تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بلاول کس منہ سے مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کریں گے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو جماعتیں پی ٹی آئی کو توڑ کر بنائی گئیں ان کے لیے شرمندگی ہے، ہمارے جیتے ہوئے الیکشن نہیں مان رہے، درخواست ہے عوام کا مینڈیٹ چوری نہ کریں، الیکشن میں جیتے ہوئے لوگ بھی اس الیکشن کو نہیں مان رہے، انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے،تمام سیاسی جماعتیں جن کامینڈیٹ چرایا گیا ہے وہ اکٹھی ہو جائیں-

    پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے، چیف جسٹس تحقیقات کرائیں، ان انتخابات سے سیاسی استحکام نہیں آ سکتا،قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے،انتخابات کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوئی میری بیٹی 14 ہزار کی لیڈ سے جیت رہی تھی، ایک دم رزلٹ آنا بند ہوگئے، 4 بجے تک جاگتا رہا رزلٹ نہیں آرہے تھے، میری بیٹی کے پاس 281 پولنگ اسٹیشن کے فارم 45 موجود ہیں، 16 ہزار 555 ووٹ مسترد ہوئے اس کے باوجود جیت رہے تھے-

    سری لنکا میں عام انتخابات اگلے برس کرانے کا فیصلہ

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لنگڑی لولی حکومت بنا بھی لی تو چل نہیں سکے گی، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر ہم الیکشن کمیشن جارہے ہیں،ان انتخابات کی ساکھ صفر فیصد ہے جو حکومت بنے گی وہ چلے گی کیسے؟ اگر حکومت بن بھی گئی تو قوم اسے قبول نہیں کرے گی، عالمی میڈیا پاکستان میں ہونے والے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہہ رہا ہے۔

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

  • الیکشن کمیشن نے این اے 70 اور پی پی45  کےنتائج روک دئیے

    الیکشن کمیشن نے این اے 70 اور پی پی45 کےنتائج روک دئیے

    اسلا م آباد : الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 70 اور پی پی45 کے سیالکوٹ کے نتائج روک دئیے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن میں انتخابی شکایات سے متعلق کیسز کی سماعتیں ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اورممبر خبیرپختوانخوا اکرم اللہ نے این اے 70 اور پی پی 45 کی انتخابی عذرداریوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ فارم 45کے مطابق دونوں نشستو ں پر آزاد امیدوارکامیاب ہوئے، فارم47 ترتیب دیتے وقت ڈی پی او نے دونوں آزاد امیدواروں کو گرفتار کیا جب کہ این اے 70 اور پی پی 45 کے نتائج امیدواروں کی غیر موجودگی میں جاری کیے گئے۔

    وکیل درخواست گزار کے دلائل پر الیکشن کمیشن نے این اے 70 اور پی پی 45کے ریٹرنگ افسران سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے دونوں حلقوں کے نتائج روک دئیے-

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

    ین اے 65 گجرات انتخابی عذرداری کیس میں وکیل نے مؤقف اپنایاکہ آزاد امیدوارسید وجاہت حسنین 90 ہزارکی لیڈ سے جیت چکے تھے قمر زمان کائرہ دوسری پوزیشن پر تھے لیکن تیسری پوزیشن پر موجود ن لیگ کے نصیرعباس کو کامیاب قراردیا گیا، کل ووٹ اور مسترد ووٹ کے اعداد و شمار بھی غلط ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے 20 فروری کو ریٹرننگ آفیسر (آر او) سے رپورٹ طلب کرلی۔

    الیکشن کمیشن میں این اے 118 سے متعلق عالیہ حمزہ کی دوبارہ گنتی کی درخواست پرسماعت ہوئی جبکہ کمیشن نے آر او سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 29 فروری تک ملتوی کردی۔

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    پی پی 71 سرگودھا کی انتخابی عذرداریوں کی سماعت میں وکیل نعیم حیدرپنجھوتہ نے کہا کہ حلقے میں دوبارہ ٹھپے لگا کر ووٹ ضائع کیے گئے، دوبارہ گنتی کی درخواست کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا امیدواروں کی موجودگی میں گنتی کا قانون ہے، الیکشن کمیشن نے پی پی 71 کی انتخابی عذردری سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    پی ایس ایل 9 کیلئے ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

  • اس حکومت کے ساتھ ملکر کام کریںگے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا،امریکہ

    اس حکومت کے ساتھ ملکر کام کریںگے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا،امریکہ

    عام انتخابات آٹھ فروری کو ہوئے، آزاد امیدوار، جماعت اسلامی،پیپلز پارٹی، تحریک لبیک سمیت متعدد جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی، آراوز نے گنتی کے وقت امیدواروں کو نکال دیا،دھاندلی کے خلا ف ملک گیر احتجاج بھی جاری ہے،کئی شہروں میں احتجاج کرنیوالوں کےخلاف مقدمے بھی درج ہوئے،دھاندلی کے الزام لگے اب پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات پر امریکہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے

    امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں، اس کا جائزہ لیتے رہیں گے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جسے پاکستانی عوام نے منتخب کیا، دھاندلی کے دعوؤں پر مکمل تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں،دھاندلی کے دعوؤں کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے، بے ضابطگیوں کی تحقیقات دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم جمہوری عمل کا احترام بھی کرتے ہیں،قانون کی حکمرانی، آئین کا احترام، آزاد صحافت، متحرک سول سوسائٹی کے احترام پر زور دیتے ہیں،سیاسی اور انتخابات سے متعلق تشدد، انٹرنیٹ ، فون سروس پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں، ان اقدامات نے انتخابی عمل کو منفی طور پر متاثر کیا، مداخلت،دھاندلی کے دعوے پر پاکستانی قانونی نظام کے تحت مکمل تحقیقات کی جائیں، آزادانہ تحقیقات کے لیے پاکستان قانونی نظام ہی پہلا مناسب قدم ہو گا، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہی وہ اقدام ہے جو کرنے چاہئیں، اگرتحقیقات کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہو تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

  • پی ٹی آئی نے حکومت سازی کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کردیں

    پی ٹی آئی نے حکومت سازی کیلئے خصوصی کمیٹیاں قائم کردیں

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے کہا ہے کہ جمہوریت کے بہیمانہ قتل اور عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کا پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ پر تعاقب کریں گے-

    باغی ٹی وی: پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں اہم حکومتی، پارلیمانی عہدوں کیلئے نامزدگیوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا، اجلاس میں کور کمیٹی نے کہا ہے کہ 8 فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے پاکستان کے عوام نے اپنی سیاسی و جمہوری پختگی کا سکّہ منوایاعوامِ نے ووٹ کےذریعےعمران خان کو حب الوطنی کا بےمثال سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے نوازا ہے۔

    کور کمیٹی نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر پاکستان کو مجرموں کے حوالے کرنے کی غیرجمہوری، غیرقانونی، غیر سیاسی اور غیراخلاقی کوششوں کی ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کریں گے، عوام کے مینڈیٹ کی کھلی توہین کرتے ہوئے مسترد شدہ گروہوں کے مابین اقتدار کی شرمناک بندر بانٹ عوام کی رائے اور فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے مترادف ہے۔

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

    کورکمیٹی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے بہیمانہ قتل اور عوام کے ووٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کا پارلیمان کے اندر اور باہر ہر جگہ پر تعاقب کریں گی، جس بےرحمی سے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی جارہی ہے اس پر ملک کے اندر ہی سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے آوازیں بلند ہورہی ہیں-

    انڈونیشیا میں فٹبال میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک کھلاڑی کی موت

    کور کمیٹی میں بتایا گیا کہ مرکز، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کی حکمتِ عملی کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کردی گئیں، کمیٹیوں کی سفارشات اور حکمتِ عملی کی روشنی میں اہم حکومتی اور پارلیمانی عہدوں کے لیے نامزدگیوں کا عمل جلد مکمل کرنے پر اتفاق ہوا۔

    راولپنڈی: پی پی 19 سے آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق

  • 7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی  ن لیگ میں شمولیت

    7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف سے 7 نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی:مریم نواز شریف سے پی پی 240 بہاولنگر سے سہیل خان، پی پی 48 سیالکوٹ سے خرم ورک، پی پی 249 احمد پور شرقیہ سے شہزادہ گزین عباسی نے ملاقات کی ، راجن پور سے خضر مزاری، پی پی 96 چنیوٹ سے ذوالفقار علی شاہ، پی پی 49 پسرور سے رانا فیاض اور پی پی 97 چنیوٹ سے ثاقب چدھڑ بھی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے

    مریم نواز شریف نے آزاد ارکان کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر مبارک دی اور ان کے فیصلے کا خیرمقدم کیا کہا کہ آپ کا فیصلہ پاکستان کے عوام کی مشکلات کے حل کا ذریعہ بنے گا، آپ کا اعتماد عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے میں محمد نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کرے گا-

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    https://x.com/pmln_org/status/1757039876095062054?s=20
    دوسری جانب آزاد ارکان اسمبلی نے میاں محمد نواز شریف کی قیادت اور عوام کی خوش حالی کے ایجنڈے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا-

    ماہرہ خان کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع؟

    قطر میں جاسوسی پرسزائے موت پانے والے بھارتی بحریہ کے 8 سابق افسر رہا

  • انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا،خالد مسعود سندھو

    انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ کامیابی کا پہلا مرحلہ طے کرلیا، انتخابات نے ہمارے عزائم اور حوصلے کو مزید مضبوط کیا، عوام نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے منشور اور مقصد کو شاندار قبولیت دی ہے۔اپنے ووٹرز، سپورٹرز، کارکنان، امیدواران اور پارٹی عہدیداران کے مشکور ہیں جنہوں نے انتہائی محنت سے انتخابی مہم چلائی اور ہمارا ساتھ دیا۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مرکزی سیکریٹریٹ میں قومی و صوبائی حلقوں کے امیدواران، پی پی صدور اور جنرل سیکرٹریز کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، مرکزی رہنما سیف اللہ خالد، چوہدری محمد سرور، انجنئیر حارث ڈار سمیت دیگر عہدیداران نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔

    انجنئیر حارث نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پہلے عوام کی خدمت کررہے تھے، اب بھی صبح و شام ان کے درمیان موجود رہیں گے، مزید محنت اور جذبے اس کام کو آگے بڑھائیں گے۔معاشرے تمام سیاسی و سماجی دھڑوں کو لے کر آگے بڑھیں گے، معاشرے سے نفرت و انتشار اور تفرقہ و تقسیم ختم کریں گے اور قومی مقاصد کی تکمیل کریں گے۔مرکزی مسلم لیگ عوامی امنگوں کی ترجمان اور مضبوط ملی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے۔

  • انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    سراج الحق نے امیر جماعت اسلامی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
    سراج الحق کا کہنا تھا کہ بھرپو کوشش اور محنت کے باوجود انتخابات میں مطلوبہ کامیابی نہیں دلا سکا،انتخابات میں ناکامی کو قبول کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی امارت سے استعفی دیتا ہوں،

    سراج الحق کے استعفیٰ کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نئے امیر کے کیلئے انتخابی مراحل 31مارچ تک مکمل کیے جائینگے ۔

    سراج الحق جماعت اسلامی کے دوسری بار امیر منتخب ہوئے تھے تا ہم اب انہوں نے امارت سے استعفیٰ دے دیا ہے،سراج الحق سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں، کے پی حکومت کے سابق وزیر بھی رہ چکے ہیں، 2024 کے انتخابات میں سراج الحق دیر سے اپنی سیٹ ہار گئے تھے.

    قبل ازیں گزشتہ روزجماعت اسلامی پاکستان نے نئے امیر کے انتخاب کا فیصلہ کرلیا، پہلے مرحلے میں شوریٰ کی رائے کے مطابق اراکیں جماعت کی راہنمائی کے لیے تین ناموں کا اعلان کیا ہے، صدر انتخابی کمیشن جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے امیر جماعت کے انتخاب کے پہلے مرحلے میں شوریٰ کی رائے کے مطابق اراکیں جماعت کی راہنمائی کے لیے تین ناموں کا اعلان کیا ہے جس میں سراج الحق، لیاقت بلوچ اور حافظ نعیم الرحمان شامل ہیں جبکہ اراکین جماعت اسلامی ان تین کے علاوہ بھی کسی رکن کو امیر جماعت کے منصب کے لیے اپنی رائے دے سکتے ہیں،
    ترجمان جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف نے کہا ہے کہ امیر جماعت کے انتخاب کے تمام مراحل 31 مارچ 2024 تک مکمل کیے جائیں گے جبکہ ماہ اپریل میں صدر الیکشن کمیشن راشد نسیم نتائج کا اعلان کریں گے جس کے بعد نو منتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان کسی تقریب میں حلف امارت لیں گے.

  • اس وقت ملک کو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے،حسن روؤف

    اس وقت ملک کو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے،حسن روؤف

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حسن روؤف نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے اور مضبوط حکومت ہی ملک میں استحکام لا سکتی ہے-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے ساتھ گفتگو کے دوران روؤف حسن نے کہا کہ 40کے قریب نشستیں ایسی ہیں جہاں جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا ہے ، جہاں ، جہاں پر ہمیں تحفظات ہیں ، ہم اعلیٰ عدالتوں تک جائیں گے،100میں 93آزادامیدوار ہماری سپورٹ سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ 7سے 8آزاد امیدواروں سے متعلق ہمارا خیال ہے کہ وہ ہمارے ساتھ بھی مل سکتے ہیں اور یہ آپشن بھی ہے کہ کسی پارٹی میں شامل ہو کر ریزرو سیٹیں حاصل کریں۔

    روؤف حسن نے کہا کہ جماعت اسلامی یا کوئی اور پارٹی ہو اس کیلئے جلد فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن سے ہمیں بھلے کی کوئی توقع نہیں تھی اور نہ ہے ، ہم کس پارٹی کے ساتھ جائیں گے اس کے بارے میں فی الحال ابھی نہیں بتا سکتےایم ڈبلیو ایم کے ساتھ ہمارا پورا اتحاد رہا ہے ، ایسی جماعت کے ساتھ جائیں گے جو ریزرو سیٹیوں کا کوٹا کلیم کر سکے۔

    مجلس وحدت المسلمین کی عمران خان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ کسی ریاستی ادارے سے ٹکراو نہیں کریں گے ، ہماری ریاست پر بہت زخم ہیں اس پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے ، اس وقت ملک کو مضبوط حکومت کی ضرورت ہے اور مضبوط حکومت ہی ملک میں استحکام لا سکتی ہےہم سے نیشنل اسمبلی کی 40کے قریب سیٹیں چھینی گئی ہیں ، جس کیلئے پرامید ہیں وہ واپس ملیں گی، ہمارا بیانیہ ہے کہ چوروں اور ڈاکوں کی حکومت نہ بنے،ہم ریاست کے ہر ادارے کےساتھ کھلے دماغ سے بات کرنے کو تیار ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ایک مضبوط اور مینڈیٹ والی حکومت بنے جو ملک کو آگے لے کر جائے-

    این اے 48 سے جیتنے کے بعد راجہ خرم شہزادنواز ن لیگ میں …