Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کے لیے آئینی تقاضے پورے کرچکا ہے،نگران وزیراعظم

    الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کے لیے آئینی تقاضے پورے کرچکا ہے،نگران وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے نہیں بلکہ کارکنوں کو جلاؤ گھیراؤ کے لیے اکسانے پر جیل میں ہیں۔

    باغی ٹی وی: ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر سی این بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑنے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پاس اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا انتخاب ہوگا اور وہ اگلے پانچ سال کے لئے حکومت منتخب کریں گے پاکستان میں 8 فروری کو انتخابات کرانا آئینی ضرورت ہے اور اس تاریخ کو انتخابات کرانے کے لیے پاکستان میں ہر کوئی پرعزم ہےپاکستان میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں، انتخاباتی کرانا آئینی ذمہ داری ہے اورنگراں حکومت خوش اسلوبی سے آئینی ذمہ داری انجام دے گی۔

    8 ارب روپے سے زائد مالیت کی چرس برآمد

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کوانتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کے لیے آئینی تقاضے پورے کرچکا ہے، عام انتخابات کےدوران عالمی مبصربھی پاکستان آئیں گےمعاشی صورتحال کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے دوسری قسط کی منظوری دے دی ہے،نگران حکومت کی ترجیح معاشی بحالی اور ترقی اور دیگر معاشی اشاریوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

    نگراں وزیراعظم نے دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے علاقائی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں انسداد دہشت گردی کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک درمیانے درجے کی طاقت ہے اور اس کی اصل صلاحیت اور کردار کو سراہنے کی ضرورت ہے دہشتگردی کےخلاف پاکستان کا ایک مضبوط مؤقف ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتاہے۔

    متحدہ عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کر دیا

    ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غیرقانونی افغان مہاجرین کی واپسی بہت ضروری تھی، پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سےافغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہےغیرقانونی غیرملکی پاکستان کی سیکورٹی کیلئےخطرہ ہیں، پاکستان میں جو بھی آئے گاوہ قانونی دستاویزا ت کے ساتھ داخل ہوگا۔

    چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھے جانے پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک طور پر قریبی تعلقات ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خطے یا کہیں اور کیا ہوتا ہے ، چین کے ساتھ ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔

    انوار الحق کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے جیل میں نہیں بلکہ 9 مئی کے فسادات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے اور اپنے کارکنوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کیوجہ سے جیل میں بند ہیں، اس طرح کے رویے سے قانون سے نمٹا جاتا ہے، جیسا کہ امریکا میں کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث افراد کے ساتھ سلوک کیا گیا۔ بے گناہ لوگ نہیں بلکہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث لوگ جیل میں ہیں، تو میں اسے ناانصافی نہیں سمجھتا۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر کی قسط موصول

    واضح رہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ ان دنوں سوئیٹزرلینڈ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے،نگران وزیراعلیٰ کے پی

    مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے،نگران وزیراعلیٰ کے پی

    پشاور: نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تیاریوں کا مفصل جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں متعلقہ صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز نے بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تیاریوں اور اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلی دفعہ ضم شدہ اور بندوبستی اضلاع میں بیک وقت صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں، صوبے میں قومی اسمبلی کی 45 اور صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ عام انتخابات کے لیے صوبے میں 15737 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، ان میں سے 4812 پولنگ اسٹیشنز حساس ترین، 6581حساس جبکہ 4344 نارمل قرار دئے گئے ہیں، 1919 پولنگ اسٹیشنز برفانی علاقوں میں ہوں گےرجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو کروڑ 16 لاکھ 92 ہزار 381 ہےضم اضلاع اور جنوبی اضلاع کےحساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 11 سیکیورٹی اہلکار فی پولنگ اسٹیشن تعینات کیے جائیں گے، باقی اضلاع کے حساس ترین پولنگ اسٹیشنز پر 7،7 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

    ساس بہو کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا

    ضم اور جنوبی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر بھی 7، 7 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار،چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے،باقی اضلاع کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پانچ، پانچ جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر چار، چار اہلکار تعینات کیے جائیں گے صوبائی حکومت کو انتخابات کے لیے 115430 سیکیورٹی اہلکار درکار ہوں گے جبکہ صوبائی حکومت کے پاس 89959 اہلکار دستیاب ہیں، اس طرح 25471 سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے فرنٹئیر کور کے چار ونگز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کی 165 پلاٹونز کی فراہمی کے لیے معاملہ وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھایا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر عام انتخابات کے لیے مختلف صوبائی محکموں سے 26213 اضافی اہلکاروں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ انتخابات کے دن امن و امان کی مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، پولیس کی جانب سے اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کنٹیجنسی پلان ترتیب دیے گئے ہیں، عام انتخابات کے لیے سیکیورٹی پلانز کے علاوہ ریسکیو ایمرجنسی پلانز ، ہیلتھ ایمرجنسی پلانز بھی ترتیب دیے گئے ہیں پولنگ اسٹیشنز میں تنصیب کے لیے 5552 سی سی ٹی وی کیمرے دستیاب ہیں، اور مزید 11668 کیمروں کی فراہمی کے لئے 986 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں خصوصی افراد کی سہولت کے لیے 11689 پولنگ اسٹیشنز میں ریمپس موجود ہیں جبکہ مزید 1536 ریمپس تعمیر کیے جارہے ہیں۔

    قومی ترقی کا راستہ پی او ایف واہ جیسی مقامی صنعتوں سے متعین ہوتا …

    اجلاس کو بتایا گیا کہ برفانی علاقوں میں انتخابی عمل کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے پلانز ترتیب دیے ہیں، برفانی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لیے درکار مشینری اور افرادی قوت کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا عام انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر سطح پر تمام شراکت داروں کے درمیان کوآرڈینیشن کا ایک جامع نظام وضع کیا گیا ہے، پولنگ کے دن سرکردہ سیاسی رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے ڈی پی اوز کی سطح پر پلان ترتیب دیے جارہے ہیں۔

    دوران اجلاس نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت عام انتخابات کے پر امن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے گی۔

    چودھری سرور کا این اے 127 میں بلاول بھٹو کی بھرپور حمایت کا …

    انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز عام انتخابات سے متعلق صوبائی حکومت کے پلانز اور فیصلوں پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائیں، مقامی انتظامیہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے عام انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کے احکامات اور ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، عام انتخابات کے انعقاد کے لیے صوبائی حکومت کی تمام مشینری اور وسائل دستیاب ہوں گے۔

    جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے مزید ہدایت کی کہ انتخابات کے پرامن، صاف اور شفاف انعقاد کے لیے ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کی بطریق احسن انجام دہی کو یقینی بنائیں، صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل اور تعاون کی فراہمی ممکن بنائے گی۔

    طیبہ گل ہراسانی کیس: سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال آئندہ سماعت پر ذاتی …

  • ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ  نہیں  کریں  گے،بیرسٹر گوہر

    ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹرگوہر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے، پی ٹی آئی 3 دنوں کے اندر اپنے امیدوار کی انتخابی نشانات کے ساتھ لسٹ جاری کرے گی-

    باغی ٹی وی: راولپنڈی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے پی ٹی آئی کے منتخب کردہ نمائندوں کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں، جو سیٹیں پینڈنگ میں رکھی تھی وہ جلدی فائنل ہو جائیں گی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلے کے فیصلے سے 25 کروڑ عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں ، یہ جمہوریت کے خلاف ایک سازش کامیاب ہوئی ہے، جمہوریت کا ایک بڑا نقصان ہوا ہے اس سے کرپشن کی ایک ابتدا ہوگی ہم کسی صورت الیکشن سے بائیکاٹ نہیں کریں گے، سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست ہر صورت دائر کرنی ہے، آئین کے تحت کیا کسی پارٹی سے نشان واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں، قانون کے تحت اس کیس کو سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نہیں 5 رکنی بینچ کو سننا چاہیئے تھا۔

    حامدخان،رؤف حسن جانیں،میں مہم ختم کر رہا، شیر افضل مروت ناراض

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ووٹرز کو یہ مسیج ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اپنے ووٹ کی حفاظت کرنی ہے، آپ اپنے ووٹرز اور امیدوار کی پہچان کریں، آج کسی بھی وقت مشاورت مکمل ہوجائے گی، 8 فروری کو فتح آپ کی ہوگی آپ متحد رہیں کل رات 9 بجے تک تمام لسٹیں فائنل کرلیں گے، سنی اتحاد کونسل سے ہمارا کبھی اتحاد نہیں ہوا، پاکستان کو جمہوری ملک بنانا چاہتے ہیں، شیخ رشید سے ہمارا اتحاد پہلے تھا، پی ٹی آئی کے ووٹرز اور عہدیدار اختلافات میں نہ پڑیں-

    گھس بیٹھیوں کو آٹھ فروری کو اٹھا کر لاہور سے باہر پھینکنا ہے،مریم نواز

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

  • پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی نشان بلے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں تمام امیدواروں کا آزاد انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی تمام نشستوں پر آزاد انتخاب لڑے گی، سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بلا چھین لیا ، پی ٹی آئی کے امیدوار اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے،ہم سے نشان لے لیا گیا ہے اس کا مطلب نہیں کہ پارٹی ختم ہوگئی ،آپ ووٹ دیں گے 8 فروری کو دوبارہ حکومت بنائیں گے،پارٹی کو نہیں چھیڑا گیا ، نشان واپس لیا گیا ہے-

    تحریک انصاف کا پلان بی، "بلے باز” کے نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو میں کہا کہ آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ،سپریم کورٹ کے متازع فیصلوں میں آج نئے باب کا اضافہ ہوا،تاریخ اس فیصلے کا فیصلہ کرے گی 14 لوگوں کی بات کی گئی وہ پی ٹی آئی کے ممبران نہیں تھے، انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے لیکن آج ایسا نہیں ہوا،بلا رہے نہ رہے، عوام بانی پی ٹی آئی کی آواز پر ووٹ دیں گے ،12 کروڑ ووٹرز میں سے 10 کروڑ ووٹرز پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں-

    بلے کا انتخابی نشان، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

  • پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اسمبلی کی 214 نشتوں پر پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے جبکہ 83 حلقوں میں ٹکٹ کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کی جانب سے قومی اسمبلی کے 32 اور پنجاب اسمبلی کے 83 حلقوں پر امیدواروں کا اعلان زیرِ التوا رکھا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے والے نمایاں امیدواروں میں شاہ محمود قریشی، زین قریشی ، عمر ایوب خان ، مراد سعید ، اسد قیصر ، راجا بشارت ، عالیہ حمزہ ، میاں اظہر ، یاسمین راشد ، شہریار آفریدی ، لطیف کھوسہ،عامر ڈوگر ، جمشید دستی ،زرتاج گل وزیر اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ہونیوالی فہرست کے مطابق پی پی 145 سے یاسر گیلانی ، پی پی 146سے جنید رزاق ایڈوکیٹ کوٹکٹ جاری کیا گیا،پی پی 147 سے محمد خان مدنی ، پی پی 148سے غلام محی ا لدین دیوان کو ٹکٹ ملا،پی پی 149 اور پی پی 150 پر امیدوار کااعلان نہیں ہوا، پی پی 151سے قیصر سہیل بٹ کوامیدوار نامزد کیا گیا۔

    ن لیگ کا طلال چوہدری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    پی پی 152 لاہور سے نعمان مجیدکو ٹکٹ جاری ہوا،پی پی 153 اور 154 پر امیدوارکااعلان نہیں کیا گیاپی پی 155 سےبلال اسلم بھٹی ، 156 سےعلی امتیاز وڑائچ ، 157 سےحافظ فرحت عباس امیدوارہوں گے،پی پی 158سے یوسف علی ، 149 سےمہر شرافت علی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کردیا گیا،پی پی 160 ،پی پی 161 اور پی پی 162 سے پارٹی امیدواروں کااعلان نہیں کیا گیا۔

    یکم رجب المرجب بروز ہفتہ کو ہو گی

    پی پی 163 سےعظیم اللہ خان اور 164 سےیوسف میو پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے،پی پی 165سے امیر بھٹی اور 166 سےخالد محمود گجر کو پی ٹی آئی کاٹکٹ ملا،پی پی 167 سے عامر بشیر گجر ، 169 سےمحمود الرشید اور 170 سے ہارون اکبر امیدوار ہوں گے،پی پی 171 سے میاں اسلم اقبال ، 172 سےمہر واجد پی ٹی آئی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

    ن لیگ کی اعلی قیادت نے جلسوں کی تیاری مکمل کرلی

  • آئی پی پی  نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    آئی پی پی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    لاہور: استحکام پاکستان پارٹی( آئی پی پی) نے عام انتخابات کے لیے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ۔

    باغی ٹی وی : آئی پی پی نے قومی اور پنجاب اسمبلی کے 51 ٹکٹ جاری کیے اور قومی و پنجاب اسمبلی کی 6 نشستوں پر امیدوار کھڑے نہیں کیے،استحکام پاکستان پارٹی کے مطابق پارٹی کے سربراہ جہانگیرترین این اے 149، این اے 155 اور پی پی227 سے انتخاب لڑیں گے، این اے 54 راولپنڈی سےغلام سرورخان اور این اے 56 سے شرجیل میر امیدوار ہوں گے۔

    این اے 70 سیالکوٹ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور این اے 79 گوجرانوالہ سے رانا نذیر خان امیدوار ہوں گے جبکہ این اے 88 خوشاب سے گل اصغر خان الیکشن لڑیں گے، اس کے علاوہ این اے 97 سے ہمایوں اخترخان آئی پی پی کے امیدوار ہوں گے لاہور کے این اے 117 سے مرکزی صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان الیکشن لڑیں گے جبکہ این اے 133 قصور سے ہاشم ڈوگر آئی پی پی کے امیدوار ہوں گے۔

    انتخابی نشان عقاب، سپریم کورٹ نے آل پاکستان مسلم لیگ کی درخواست خارج کردی

    این اے 143 ساہیوال سے ملک نعمان لنگڑیال الیکشن لڑیں گے اور این اے 147 خانیوال سے محمد ایاز خان نیازی میدان میں ہوں گے جبکہ این اے 149 اور این اے 155 لودھران سے جہانگیرخان ترین کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا، استحکام پاکستان پارٹی کا این اے 48 اسلام آباد اور این اے 128 لاہور کی سیٹوں پر فیصلہ زیرالتواء کا شکار ہے۔

    پنجاب اسمبلی امیدواروں کی فہرست میں پی پی 149 لاہور اور پی پی 209 خانیوال سے صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان امیدوار ہوں گے، پی پی 227 لودھراں سے جہانگیرخان ترین، پی پی 228 لودھراں سے نذیر احمد خان امیدوار ہیں راولپنڈی کے حلقہ پی پی 12 سے عمار صدیق خان اور پی پی 13 سے ملک عظمت محمود امیدوار ہوں گے جبکہ پی پی 16 راولپنڈی سے عاطف علی، پی پی 17 سے فیاض الحسن چوہان اور پی پی 19 سے عدنان حسن کے نام کو فائنل کیا گیا۔

    ن لیگ کی اعلی قیادت نے جلسوں کی تیاری مکمل کرلی

    پی پی 24 جہلم سے راجہ یاور کمال، پی پی 37 حافظ آباد سے مامون تارڑ کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا، پی پی 45 سیالکوٹ سے طاہر محمود ہندلی، گوجرانوالہ پی پی 59 سے محمد مصدق ریاض امیدوار ہیں پی پی 66 گوجرانوالہ سے رانا نذیر خان اور پی پی 68 سے رانا عمر نذیر کو ٹکٹ جاری کردیا گیا، خوشاب پی پی 81 عامر حیدر سنگھہ، پی پی 83 احسان اللہ ٹوانہ کو ٹکٹ مل گیا۔

    خوشاب پی پی 84 سے محمد زیبر، پی پی 102 فیصل آباد سے سکندر حیات جتوئی الیکشن لڑیں گے جبکہ پی پی 106 فیصل آباد سے چوہدری علی اختر اور پی پی 133ننکانہ صاحب سے نوشیرسبحان امیدوار ہوں گے اسی طرح پی پی 169 لاہور سے میاں سلمان سلیم ، پی پی 175 قصور سے میاں عبدالخالد امیدوار ہیں جبکہ پی پی 179 اور 180 قصور سے ہاشم ڈوگر، 182سے سلیم اختر کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیا گیا۔

    ن لیگ کا طلال چوہدری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

    پی پی 204 ساہیوال سے فلک شیر لنگڑیال اور پی پی 213 ملتان سے بریگیڈئیر ر قیصر علی حیدر امیدوارہیں، پی پی 236 وہاڑی سے اویس خاکوانی، بہاولپور پی پی 245 سے تحسین نواز گردیزی امیدوار ہوں گے،پی پی 250 سے افتخار حسن آئی پی پی کے امیدوار ہوں گے جبکہ پی پی 277 کوٹ ادو سے نیاز حسین گشگوری اور پی پی 282 لیہ سے سید رفاقت گیلانی کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔

  • تحریک انصاف نے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف نے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف نے پشاور کی قومی اور صوبائی نشستوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے
    پشاور سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر شاندانہ گلزار، ساجد نواز اور ارباب عامر پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے،ارباب شیر علی اور آصف خان بھی پشاور سے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے میدان میں اتریں گے،پشاور کی نشستوں پر محمود جان، تیمور جھگڑا، کامران بنگش اور ارباب جہانداد صوبائی اسمبلی کیلئے پی ٹی آئی کے امیدوار ہوں گے۔فضل الہٰی، حامدالحق، عاصم خان، میناخان اورعلی زمان بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر صوبائی نشستوں کیلئے میدان میں اتریں گے۔

    این اے 1 سے عبدالطیف، این اے 2 ڈاکٹر امجد، این اے 6 محبوب شاہ، این اے 7 بشیر خان، این اے 8 گلداد خان، این اے 9 جنید اکبر، این اے 11 نواز خان، این اے 12 غلام سعید، این اے 13 پرنس نواز خان، این اے 18 عمرایوب، این اے 19 سے اسد قیصر اور این اے20 سے سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کوٹکٹ جاری کیے گئے ہیں،این اے 23 سے علی محمد خان، این اے 35 شہریار آفریدی، این اے 30 شاندانہ گلزار، این اے 41 شیر افضل مروت، این اے 44 سے علی امین گنڈا پور کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے

    پی ٹی آئی نے صوابی سے قومی اسمبلی کی 2 اورصوبائی اسمبلی کی 5 نشستوں پر ٹکٹ دیے ہیں،پی کے49سےسابق ایم پی اے رنگیزخان ، پی کے 50 سے سابق ایم پی اےعاقب اللہ خان، پی کے51سےسابق ایم پی اےعبدالکریم خان، پی کے 52 سے فیصل خان ترکئی اور پی کے 53سےمرتضیٰ خان ترکئی کو ٹکٹ دیے گئے ہیں

    پی ٹی آئی نے کراچی پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر پارٹی ٹکٹوں کا اعلان کردیا
    ملیر این اے 229 سےولی محمد مغیری، 230 پر مسرور سیال،231 پر خالد محمود امیدوار ہیں،کورنگی این اے 232 علیم عادل شیخ،233پر ایڈوکیٹ حارث امیدوار ہوں گے،این اے 234 پر فہیم خان اور این اے 235 سے سیف الرحمان انتخابات کا حصہ ہوں گے،پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر این اے 236 پر عالمگیر خان انتخابی دنگل کا حصہ ہوں گے،این اے 237 سے ایڈوکیٹ ظہور محسود اور 238 پر حلیم عادل شیخ پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،این اے 239 یاسر بلوچ جبکہ 240 سے رمضان گھانچی تحریک انصاف کے امیدوار ہیں،این اے 241 پر خرم شیر زمان، 242 پر دوا خان،243 پر ایڈوکیٹ شجاعت علی امیدوارہیں،این اے 244سے آفتاب جھانگیر،245 پر عطا اللہ خان،246 پر ملک عارف اعوان امیدوار ہیں،این اے 247 بیرسٹر فیاض سمور ،248ارسلان خالد پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں،این اے 249 پر بیرسٹر عزیر غوری جبکہ این اے 250 پر ریاض حیدر الیکشن میں امیدوار ہیں۔



  • ایم کیو ایم نے  قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے اپنے امیدواروں کے حتمی ناموں کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ سینئیر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار دو حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے ایم کیو ایم نے ملیر کی تین اور ضلع جنوبی کی ایک نشست پر اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیاایم کیو ایم نے کراچی کی قومی اسمبلی کی 22 نشستوں میں سے 18 پر امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترجمان متحدہ قومی موومنٹ کے مطابق حتمی امیدواران کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے ایم کیو ایم پاکستان کے ٹکٹ پر انتخابا ت میں حصہ لیں گےضلع کورنگی کے حلقہ این اے 232 سے آسیہ اسحاق، حلقہ این اے 233 سے جاوید حنیف، ابو بکر حلقہ این اے 234 اور اقبال محسود حلقہ این اے 235 سے ایم کیو ایم کے امیدوار ہوں گے۔

    فحاشی کے اڈوں کی سرپرستی اور بھتہ وصول کرنے کاالزام،پولیس ملازمین گرفتار،مقدمہ درج

    ضلع شرقی میں حلقہ این اے 236 پر حسان صابر، حلقہ این اے 237 پر رؤف صدیقی، حلقہ این اے 238 پر صادق افتخار، حلقہ این اے 240 پر ارشد وہرہ متحدہ پاکستان کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

    ضلع جنوبی کے حلقہ این اے 241 سے فاروق ستار، حلقہ این اے 242 سے مصطفیٰ کمال، این اے 243 ڈسٹرکٹ کیماڑی سے ہمایوں عثمان، حلقہ این اے 244 سے فاروق ستار، این اے 245 سے حفیظ الدین جبکہ حلقہ این اے 246 سے امین الحق اور حلقہ این اے 247 سے مصطفیٰ کمال ایم کیو ایم کے امیدوار ہوں گےایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی حلقہ این اے 248، حلقہ این اے 249 سے احمد سلیم صدیقی، این اے 250 سے فرحان چشتی ایم کیو ایم کے امیدوار ہوں گے۔

    11 جنوری، مبشر لقمان کی سالگرہ

    ترجمان ایم کیو ایم نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن میں تاحال مسلم لیگ ن سمیت کسی بھی جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی ہے اور اس حلقے میں ایم کیو ایم کے امیدوار مصطفیٰ کمال ہیں ایم کیو ایم نے ملیر سے قومی اسمبلی کی تین نشستوں حلقہ این اے 229، 230 اور 231 پر اپنے امیدواروں تاحال کھڑے نہیں کیے جبکہ ضلع جنوبی لیاری کی نشست این اے 239 پر بھی ایم کیو ایم نے اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا۔

    رہنما ن لیگ دانیال عزیز کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے …

  • رہنما ن لیگ دانیال عزیز کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

    رہنما ن لیگ دانیال عزیز کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان

    لاہور: عام انتخابات کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے راولپنڈی، اٹک، چکوال،گوجرانوالہ، جہلم اور تلہ گنگ سے امیدواروں کی ٹکٹوں کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی؛ مسلم لیگ (ن) نے اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم،گوجرانوالہ اور راولپنڈی سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے ٹکٹوں کا اعلان کیا،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 سےراجہ اسامہ سرور عباسی ن لیگ کے امیدوار ہوں گے، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 6 سے بلال یامین ستی اور پی پی 7 سے راجہ صغیر احمد ن لیگ کی ٹکٹ پر میدان میں اتریں گے۔
    https://x.com/pmln_org/status/1745135324219781311?s=20
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 52 سے جاوید اخلاص، این اے 53 سے راجہ قمر اسلام، این اے 55 سے ملک ابرار اور این اے 56 سے حنیف عباسی کے ٹکٹ کا اعلان کیا گیا ہے اس کے علاوہ این اے 57 سے دانیال چوہدری اور این اے 58 سے میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال کا ٹکٹ کنفرم ہوگیا جبکہ این اے 59 سے سردار غلام عباس اور این اے 50 سے ملک سہیل خان کو مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ دیا ہے۔

    ‏مسلم لیگ نے گوجرانولہ، وزیرآباد، حافظہ آباد، نارووال اور سیالکوٹ کے لئے بھی امیدواروں کا اعلان کر دیا ،این اے 62 سے چودھری عابد رضا، این اے 63 سے نوابزادہ غضنفر علی گل، این اے 65 سے چودھری نصیر احمد عباس سدھو امیدوار ہوں گےاین اے 66 سے نثار احمد چیمہ، این اے 67 سے سائرہ افضل تارڑ، این اے 68 سے مشاہد رضا مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے، نارووال سے دانیال عزیز اور گجرات سے چوہدری جعفراقبال کو ٹکٹ نہیں دیاگیا۔

    اسی طرح این اے 69 سے ناصر اقبال، این اے 70 سے چودھری ارمغان سبحانی، این اے 71 سے خواجہ آصف امیدوار ہوں گے
    این اے 72 سے علی زاہد، این اے 73 سے نوشین افتخار، این اے 74 سے رانا شمیم احمد امیدوار ہوں گے،این اے 76 سے احسن اقبال، این اے 77 سے چودھری محمد بشیر ورک، این اے 78 سے خرم دستگیر میدان میں اتریں گے، این اے 79 ذوالفقار بھنڈر، این اے 80 شاہد عثمان اور این اے 81 اظہرقیوم ناہرہ ن لیگ کے امیدوار ہوں گے۔

    دانیال عزیز نے ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے،دانیال عزیز نے این اے 75 سےکاغذات جمع کرائے تھے،دانیال عزیز کو احسن اقبال پر تنقید کی وجہ سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا-

    واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات 2024 کا ایک اور مرحلہ مکمل ہوگیا،ریٹرننگ آفیسرز کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں پر فیصلے کا عمل مکمل ہوگیا۔ انتخابی شیڈول کے مطابق 11 جنوری کو امیدواروں کی نظرثانی فہرست جاری ہوگی، 12 جنوری تک امیدوار کاغذات نامزد گی واپس لے سکیں گے۔ 13 جنوری کو نشانات الاٹ ہونگے اور حتمی فہرست جاری کی جائیگی، ملک میں عام انتخابات کیلئے پولنگ 8 فروری کو ہوگی، الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 28 ہزار 626 کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے۔

  • برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے

    برطانیہ اور امریکا نے بنگلادیش میں متنازع الیکشن پر سوالات اٹھادئیے-

    باغی ٹی وی : عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ نے مسلسل چوتھی اور مجموعی طور پر پانچویں بار الیکشن جیت کر ریکارڈ قائم کیا ہےبنگلا دیشن کے انتخابات اپوزیشن کی طرف سے مکمل بائیکاٹ کےمتنازع قرار پائے ہیں ووٹنگ کے بعد عوامی لیگ دو تہائی اکثریت کی حامل قرار پائی، تاہم امریکا اور برطانیہ کی جانب سے الیکشن کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ شفاف تھے نہ ہی غیرجانبدار-

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم بنگلہ دیش کے عوام اور آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات میں رہنماؤں کے انتخاب کیلئے اُن کے حق کی حمایت کرتے ہیں ہم دوسرے مبصرین کے ساتھ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ انتخابات آزادانہ یا منصفانہ نہیں تھے، اور ہم انتخابات کے دوران اور اس سے پہلے کے مہینوں میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں ،افسوس ہے کہ بنگلادیش کےانتخابات میں تمام جماعتوں نےحصہ نہیں لیا۔
    https://x.com/StateDeptSpox/status/1744463990862827869?s=20
    دوسری جانب برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ بنگلا دیش کے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ معیار کے مطابق نہیں، اپوزیشن کی جانب سے بائیکاٹ کرنا بھی جمہوری نہیں ہے۔

    تاہم فتح کا جشن منانے والی شیخ حسینہ واجد نے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہاگرکوئی پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں، تنقید کرنے والے ایسا کرتے رہیں۔

    واضح رہےکہ 76 سالہ شیخ حسینہ واجد 2009 سے بنگلادیش کی وزیراعظم ہیں جب کہ انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے جماعتوں کو دہشتگرد جماعتیں قرار دیا ہے۔