Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • عام انتخابات:پیپلز پارٹی نےٹکٹ کے امیدواروں کیلئے بورڈ قائم کر دیا

    عام انتخابات:پیپلز پارٹی نےٹکٹ کے امیدواروں کیلئے بورڈ قائم کر دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے امیدواروں کے حتمی فیصلے کے لیے بورڈ قائم کر دیا۔

    باغی ٹی وی: سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بحاری کا کہنا ہے کہ پی پی نے ضعلی تنظیموں پر مشتمل بورڈ قائم کیا ہے، بورڈ میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، فیڈرل کونسل اور صوبائی کونسل کے ممبران شامل ہیں بورڈ میں ضلعی تنظیم، پیپلز یوتھ اور پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن (پی ایس ایف) کے ضلعی صدور بھی شامل ہیں، بورڈ میں خواتین ونگ، اقلیتی ونگ اور لیبر ونگ کے ضلعی صدور کو بھی رکھا گیا ہے ضلعی بورڈ 15 دن کے اندر قومی اور صوبائی نشستوں کی سفارشات ارسال کرے گا، ضلعی بورڈ اپنی سفارشات پارٹی سیکرٹریٹ کو بھجوائے گا۔

    عید الاضحیٰ پرمسافر ٹرینوں کےکرائے میں 33 فیصد کمی کا اعلان

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں راولپنڈی، اٹک، سیالکوٹ، خوشاب، جہلم اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی ملاقات کی-


    قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ہم نے پاکستان کو مسائل سے نکالنا ہے تو ہمیں دن رات محنت کرنی ہے،اور یہی وجہ ہے کہ ہم بہت شکر گزار ہیں کہ ہمارے جو فنڈز سیلاب کی تعمیر نو کے بجٹ میں شامل ہوئی ہیں مستقبل پر مبنی جو پیغام ہے اس کا 15 جوالئی تک اعلان ہو جائے گا میرے خیال میں پورے ملک اس کا نہ صرف ہمارا فائدہ ہے معاشی فائدہ ہے مگر ساکھ کی حد تک بھی بہت ضروری تھا اور ہم بہت شکرگزار ہیں کہ یہ ہو چکا ہے مگر ہماری جو سوچ ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی جو سوچ ہے کہ آگے جاکر پلاننگ اور ڈویلپمنٹ ہو یاس کو ہمیں اس کے اردگرد تشریق نو کرنا پڑے گا تاکہ اہم پاکستان کو ایک سبز انقلاب کے لئے تیار کریں چاہے وہ گرین انرجی ہو چاہے وہ گرین انفراسٹرکچر ہو چاہے وہ گرین ایگریکلچر ہو تاکہ ہم نہ صرفموسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے چ سکیں اپنے لووں کو تیار کر سکیں-

    دبئی :پاکستان پیپلز پارٹی گلف ومڈل ایسٹ ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی70ویں سالگرہ کا …

    ڈی جی خان:ڈائریکٹر جنرل بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ندیم بٹ کا دورہ ،ریٹیلرز …

  • بلوچستان کے 35 اضلاع کےڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کل ہو گی

    بلوچستان کے 35 اضلاع کےڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کل ہو گی

    کوئٹہ(محبوب مگسی): بلوچستان کے 35 اضلاع کے ڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 22 جون کو ہوگی۔

    باغی ٹی وی : تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ۔ خواتین، کسان، مزدور اور اقلیتوں کی نشستوں پر 1001 کاغزات نامزدگی جمع، چمن، ہرنائی، جھل مگسی اور آواران میں امیدوار بلامقابلہ منتخب، شریف اللہ صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان صوبائی الیکشن کمشنر بلوچستان شریف اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 35 اضلاع کے ڈسٹرکٹ کونسلزز کی مخصوس نشستوں (خواتین، کسان، مزدور اور غیر مسلم) پر انتخابات 22 جون کو ہوں گے۔ تمام انتظامات مکمل کر لیئے گئے ہیں۔ بیلٹ پیپر کی ترسیل مکمل کر دی گئی ہے۔ مخصوض نشستوں پر خواتین کی 289 نشستوں پر 522 کاغزات نامزدگی جمع ہوئے ہیں۔ کسان کی 47 نشستوں 190 کاغزات نامزدگی جمع ہوئے ہیں۔

    مزدود کی 47 نشستوں پر 196 کاغزات نامزدگی جمع ہوئے ہیں تفصیل درج ذیل ہے۔ اقلیتوں کی 47 نشستوں پر 93 کاغزات نامزدگی جمع ہوئے ہیں۔ضلع پشین کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 22 نشستوں پر 36، کسان کی 3 نشستوں پر 8 ،مزدور کی 3 نشستوں پر 11،جبکہ غیر مسلم کی 3 نشستوں پر 5 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع چمن کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 14 نشستوں پر 20، کسان کی 2 نشستوں پر 4 ،مزدور کی 2 نشستوں پر 3،جبکہ غیر مسلم کی 2 نشستوں پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع قلعہ عبداللہ کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 13 نشستوں پر 21، کسان کی 2 نشستوں پر 5،مزدور کی 2 نشستوں پر 4،جبکہ غیر مسلم کی 2 نشستوں پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع نوشکی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 5نشستوں پر 14 ،کسان کی 1 نشست پر 7 ،مزدور کی 1 نشست پر 5 جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع چاغی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 8 نشستوں پر 19، کسان کی 1 نشست پر 6 ،مزدور کی 1 نشست پر 10،اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 4 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع خاران کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 4نشستوں پر 6 ،کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 5 جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع واشک کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 13، کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 5،اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع ژوب کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 9 نشستوں پر 15 ،کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 7 جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع شیرانی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 9، کسان کی 1 نشست پر 3 ،مزدور کی 1 نشست پر 2، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع قلعہ سیف اللہ کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 11 نشستوں پر 15 ،کسان کی 2 نشست پر 6 ،مزدور کی 2 نشستوں پر 5 جبکہ غیر مسلم کی 2 نشستوں پر کوئی بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں ہوئے۔ضلع لورالائی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7نشستوں پر 12، کسان کی 1 نشست پر 3 ،مزدور کی 1 نشست پر 3، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع بارکھان کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 7 ،کسان کی 1 نشست پر 4 ،مزدور کی 1 نشست پر 4 اور غیر مسلم کی 1 نشست پرکوئی بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں ہوئے۔ضلع موسی خیل کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 11، کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 7، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع دکی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 10 ،کسان کی 1 نشست پر 4 ،مزدور کی 1 نشست پر 4 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع سبی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 5 نشستوں پر 11، کسان کی 1 نشست پر 6 ،مزدور کی 1 نشست پر 8، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع ہرنائی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 3 نشستوں پر 3، کسان کی 1 نشستوں پر 2 ،مزدور کی 1 نشستوں پر 1،جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع زیارت کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 5 نشستوں پر 7، کسان کی 1 نشست پر 4 ،مزدور کی 1 نشست پر 4، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع کوہلو کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 8 نشستوں پر 14 ،کسان کی 1 نشست پر 6 ،مزدور کی 1 نشست پر 5 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع ڈیرہ بگٹی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 8 نشستوں پر 16، کسان کی 1 نشست پر 4 ،مزدور کی 1 نشست پر 6، اور غیرمسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع نصیر آباد کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 15 نشستوں پر 31 ،کسان کی 2 نشستوں پر 8 ،مزدور کی 2 نشستوں پر 8 اور غیر مسلم کی 2 نشستوں پر 6 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع جعفر آباد کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7 نشستوں پر 12، کسان کی 1 نشست پر 7 ، مزدور کی 1 نشست پر 6، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 5 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع اوستہ محمد کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 6 نشستوں پر 13 ،کسان کی 1 نشست پر 9 ، مزدور کی 1 نشست پر 6 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 4 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع صحبت پور کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7 نشستوں پر 12، کسان کی 1 نشست پر 3 ،مزدور کی 1 نشست پر 3، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع کچھی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 10 نشستوں پر 24 ،کسان کی 2 نشستوں پر 8 ،مزدور کی 2 نشستوں پر 7 اور غیر مسلم کی 2 نشستوں پر 6 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع جھل مگسی کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 5 نشستوں پر 5، کسان کی 1 نشست پر 1 ،مزدور کی 1 نشست پر 1،جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع قلات کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 5 نشستوں پر 14 ،کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 7 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 1 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے ۔ضلع خضدار کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 17 نشستوں پر 22، کسان کی 3 نشستوں پر 8 ،مزدور کی 3 نشستوں پر 8،اور غیر مسلم کی 3 نشستوں پر 6 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع سوراب کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7 نشستوں پر 12 ،کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 4 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع مستونگ کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 9 نشستوں پر 22، کسان کی 1 نشست پر 9 ،مزدور کی 1 نشست پر 7،اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 2 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع آواران کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 3 نشستوں پر 4، کسان کی 1 نشست پر 1 ،مزدور کی 1 نشست پر 1،جبکہ غیر مسلم کی 1 نشست پر کوئی کاغذات نامزدگی جمع نہیں ہوئے۔ضلع لسبیلہ کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7 نشستوں پر 10، کسان کی 1 نشست پر 7 ،مزدور کی 1 نشست پر 7، اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے ۔

    ضلع حب کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 4 نشستوں پر 5 ،کسان کی 1 نشست پر 2 ،مزدور کی 1 نشست پر 3 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ضلع کیچ کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 24 نشستوں پر 56، کسان کی 4 نشستوں پر 16 ،مزدور کی 4 نشستوں پر 23،اور غیر مسلم کی 4 نشستوں پر 5 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    ضلع پنجگور کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 7 نشستوں پر 15 ،کسان کی 1 نشست پر 5 ،مزدور کی 1 نشست پر 4 اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔ ضلع گوادر کے ڈسٹرکٹ کونسل کی خواتین کی 4 نشستوں پر 6، کسان کی 1 نشست پر 4 ،مزدور کی 1 نشست پر 2،اور غیر مسلم کی 1 نشست پر 3 کاغذات نامزدگی جمع ہوئےضلع چمن ،ہرنائی،جھل مگسی اور آواران کے امیدواران بلا مقابلہ منتخب ۔

  • اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    اٹارنی جنرل، آپکے دلائل آپکی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات اور ریویو اینڈ ججمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان اور وکیل الیکشن کمیشن سجیل سواتی عدالت میں پیش ہوئے،سماعت شروع ہوئی تو وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں 10منٹس دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہم مہمان کے طور پربلاتے ہیں ہم تو آپ کا کیس نہیں سن رہے اٹارنی جنرل صاحب پہلے دلائل دے رہے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز آبزرویشن دی آرٹیکل 184/3کو دیگر کیسز سے الگ کیوں کردیا ؟ ہائیکورٹ کے کئی فیصلوں کیخلاف انٹراکورٹ اپیل، سپریم کورٹ سے بھی اپیل کا حق ہوتا ہے آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے آئین کے تحت ریاست کے تینوں ستونوں کے امور کو متعین کر دیا گیا، سیکشن 3 میں کہیں نہیں لکھا 5 رکنی لارجر بنچ میں کیس کے بنچ کے ججز شامل نہیں ہوں گے،

    وکیل الیکشن کمیشن نے دوبارہ کہا کہ مجھے 10منٹ دیں دلائل دینا چاہتا ہوں جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو آپ کا کیس سن ہی نہیں رہے اٹارنی جنرل کے بعد آپ کو سن لیتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب ہائیکورٹ کسی کیس کا فیصلہ کرتی ہے تو انٹراکورٹ سمیت دیگر اپیل کے فورمز موجود ہیں ،ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جاتا ہے،جب سپریم کورٹ آرٹیکل 184کی شق 3 کے تحت کیس سنتی ہے تو یہ پہلا عدالتی فورم ہوتا ہے قانون ساز عہد حاضر کو سامنے رکھ کر قانون سازی کرتے ہیں ریویو آف ججمنٹ کے تحت آرٹیکل 184 کی شق 3کے فیصلے کیخلاف اپیل 5 رکنی بنچ سنے گا،5 رکنی بنچ میں وہ 3 ججز بھی شامل ہوں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوگا

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ کا آرٹیکل 184(3) پر نقطہ نظر دوبارہ ظہور الہٰی کیس والا ہوگیا تو اس سے آج کے قانون پر فرق نہیں پڑتا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پوائنٹ نوٹ کر لیا ہے آگے چلیں، اٹارنی جنرل نے دلائل میں بھارتی سپریم کورٹ کے 2002 کیوریٹو ریویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا انصاف دینا کسی فیصلے کے حتمی ہونے سے کم اہم نہیں، فیصلہ میں کہا گیا کہ مکمل انصاف ہی خدائی منشاء ہے،عدالت خود کو آرڈر 26 تک محدود نہ کرے، آرڈر 26 دیوانی اور فوجداری کیسز سے متعلق ہے، سپریم کورٹ رولز 1980 میں بنائے گئے،آرٹیکل 188 نظر ثانی کے دائرہ کو محدود نہیں کرتا،1980 کے رولز آج کا تقاضا کیا ہے اس سے منع نہیں کرتے.اٹارنی جنرل نے بھارتی سپریم کورٹ کا کیوریٹیو نظر ثانی کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے قرار دیا انصاف کا قتل ہو تو ٹھیک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے بھارتی سپریم کورٹ نے خود کو نظرثانی میں محدود نہیں کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کو اپیل قرار نہیں دیا جا سکتا، زیر بحث قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اپیل اور نظرثانی ایک ہی چیز ہیں،نظرثانی کو اپیل کی طرح سمجھنا ہی اصل سوال ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہر اپیل آرٹیکل 185 کے تحت نہیں آتی، کورٹ فیصلوں کیخلاف اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ آتی ہیں،مسابقتی کمیشن اور الیکشن ایکٹ میں بھی ٹربیونل کیخلاف اپیلیں براہ راست سپریم کورٹ آتی ہیں، سپریم کورٹ میں اپیل کا حق آئین کے علاوہ مختلف قوانین میں بھی دیا گیا ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون میں اپیل کو نظرثانی کا درجہ دیا گیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں نیا قانون کہتا ہے نظرثانی اور اپیل ایک ہی بات ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بھارتی سپریم کورٹ کے جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں اس میں بھی نظر ثانی اور اپیل کا فرق برقرار رکھا گیا ہے، سپریم کورٹ اپنے اختیارات کو توسیع دے سکتی ہے، اٹارنی آپ کے دلائل آپ کی اپنی باتوں سے متصادم نظر آتے ہیں ،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی کا دائرہ اپیل کے دائرہ اختیار تک نہیں بڑھایا گیا۔اپیل میں مختلف بینچ کیس سنتا ہے۔ نئے قانون کے تحت نظرثانی سننے والے ججز میں اضافہ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیل اور نظر ثانی کا دائرہ کار مختلف ہے نظر ثانی میں از سر نو سماعت تو نہیں ہو سکتی۔ آپ آرٹیکل 184/3 میں متاثرین کو داد رسی کا آپشن دینا چاہتے ہیں ہم داد رسی کے اس آپشن کو ویلکم کرتے ہیں۔ بہر حال آپ کو یہ حق احتیاط سے دینا ہوگا۔کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی،

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کی استدعا منظور کرلی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

     مقدمات کا حتمی ہونا، درستگی اور اپیل کا تصور اہم ہے

  • گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا

    گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا

    سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: گوگل نے پاکستان کے انتخابات میں تاخیر پر اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا اور بتایا کہ پاکستان میں عام انتخابات کب ہونے ہیں گوگل اپنا ڈوڈل تبدیل کر کے یاد دہانی کروارہا ہے کہ 13 اگست 2023 کو قومی اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد 60 دنوں میں انتخابات کروانے ہیں اس کا مطلب پاکستان میں عام انتخابات 14 اکتوبر 2023 سے پہلے نہیں ہوں گے-

    کرکٹ ٹیم کی تشکیل ،سعودی ولی عہد نے پاکستان کا انتخاب کر لیا

    گوگل نے اپنے ڈوڈل میں پاکستان کا جھنڈا اور بیلٹ بکس شامل کرتے ہوئے عام انتخابات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے تین بڑی جماعتیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) (پی ایم ایل این) اور موجودہ وزیر خارجہ بلاول کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میدان میں اتریں گی-

    گوجرہ : شہر میں ڈاکو راج،3 وارداتیں،لاکھو ں روپے نقدی وموبائل فون چھین لئے گئے

  • ہواؤں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے،پی ٹی آئی کو مقبولیت کا پتہ چل گیا،فیصل کریم کنڈی

    ہواؤں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے،پی ٹی آئی کو مقبولیت کا پتہ چل گیا،فیصل کریم کنڈی

    وزیر مملکت پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی پریس کانفرنس کے دواہم ایشو ہیں کشمیر میں ضمنی الیکشن ہوا، بلاول بھٹو زرداری نے عراق کا دورہ کیا،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کشمیر باغ کی عوام نے پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا، پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی قیادت اور جیالے مبارک باد کے مستحق ہیں ،جنرل الیکشن میں بھی اس سیٹ پر پیپلز پارٹی کے امیدوار دھاندلی سے ہرایا گیا،پی ٹی آئی کو بھی اس الیکشن میں عوام میں اپنی مقبولیت کا پتا چل گیا، بلاول بھٹو زرداری نے ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑا، بلاول بھٹو زرداری نے پوری دنیا کے سامنے کشمیر پر پاکستان کا موقف سامنے رکھا، ہواؤں کا رخ تبدیل ہو رہا ہے، جو پیپلز پارٹی کو صرف سندھ کی پارٹی سمجھتے تھے ان کوپتا چل گیا پیپلزپارٹی عوامی پارٹی ہے،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین، غریبوں کے لیے بہترین بجٹ ہے،بلاول بھٹو زرداری اگلے وزیراعظم ہوں گے ساری توجہ الیکشن پر ہے،قاسم کے ابا کہتے تھے کھمبے کو کھڑا کر لوں جیت جائے گا وہ باتیں کہاں گئی،

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عراق کا اپنا پہلا دورہ کیا،یہ تین روزہ دورہ تھا، کامیاب رہا،بلاول بھٹو نے دورے کے دوران حکومتی ، مذہبی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں، بلاول بھٹو زرداری کی حکومتی افراد کے ساتھ مختلف مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی،زائرین کے ویزے کا مسئلہ ہوتا ہے اس پر عراقی حکام سے بات چیت ہوئی، عراق میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے بات ہوئی،

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان رونا رو رہے ہیں کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے 

  • ترکیہ انتخابات:ووٹوں کی گنتی جاری،طیب اردوان کوحزب اختلاف کےامیدوارکلیچ داراوغلوپرمعمولی برتری حاصل

    ترکیہ انتخابات:ووٹوں کی گنتی جاری،طیب اردوان کوحزب اختلاف کےامیدوارکلیچ داراوغلوپرمعمولی برتری حاصل

    ترکیہ کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے بعد گنتی کا عمل شروع ہو گیا اور ابتدائی نتائج کے مطابق صدر رجب طیب اردوان کو مخالف امیدواروں پر برتری حاصل ہےالبتہ ان کے 50 فیصد ووٹ جیتنے کے امکانات نہیں ابتدائی نتائج کے مطابق صدررجب طیب ایردوآن کواپنے حریف امیدوار پر معمولی برتری حاصل ہے لیکن کمال کلیچ داراوغلو کے حامیوں نے بھی ان کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں صدارتی انتخابات میں 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے صدارتی انتخابات کےاب تک کے نتائج کےمطابق صدر رجب طیب اردوان 49.34 فیصد ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ ان کے مخالف امیدوارکمال قلیچ دار اوغلو 45.69 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر ہیں جبکہ تیسرے امیدوار سنان اوغان اب تک 5.23 فیصد ووٹ لے سکے ہیں۔

    سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کا عوامی قوت سے جواب دیا جائےگا،پی ٹی آئی

    صدر بننے کے لیے 50 فیصد سے زائد ووٹ درکار ہیں،اگر ووٹوں کی یہی شرح برقرار رہتی ہے اور کوئی بھی امیدوار50 فی صد ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتاتو فاتح کا فیصلہ کرنے کے لیے دوسرے مرحلے کی پولنگ ناگزیرہوگی 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کے دوسرے مرحلے میں فیصلہ ہوگا

    اس کے علاوہ پارلیمانی انتخابات میں بھی 98 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور اب تک کے نتائج کے مطابق 600 کے ایوان میں صدر اردوان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی 266 نشستیں جیت چکی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق 80.48 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد صدرایردوآن کو 50.43 فی صد کے ساتھ برتری حاصل ہے جبکہ کلیچ داراوغلو نے 43.77 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

    حکومت اورمولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکرات کے باوجود ڈیڈلاک برقرار

    ترک ووٹروں نے اتوارکے روز پارلیمانی انتخابات کے لیے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔60۰36 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اورصدر ایردوآن کی انصاف اور ترقی پارٹی (آق) نے 37.91 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ کلیچ داراوغلو کی ریپبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) نے 28.89 فی صد ووٹ حاصل کیے تھےانتخابات میں 88.23 فی صد رائے دہندگان نے حصہ لیا ہے۔

    قبل ازیں ترکیہ کے ہائی الیکشن بورڈ کے سربراہ نے انتخابی نتائج کی اشاعت پرعائد پابندی ختم کردی تھی اورکہا تھا کہ بورڈ کی جانب ابتدائی سرکاری نتائج کےاعلان تک انتظار کیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہاغیر ملکی خبر رساں ادارے کےمطابق ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار24 پارٹیاں اور 151 آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ترکیہ میں ساڑھے 6 کروڑ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں صدارتی انتخاب میں ترک صدر طیب اردوان اور اپوزیشن رہنما کمال قلیچ داراوغلو کےدرمیان سخت مقابلہ ہوا ہےصدارتی انتخابات میں 50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا۔

    پنجاب انتخابات کیس؛ ؛ سپریم کورٹ میں کل اہم سماعت ہوگی

    ترکیہ میں حالیہ برسوں میں ایک درجن انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے 69 سالہ ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ جمہوریت کا احترام کرتے ہیں اورآمرہونے سے انکار کرتے ہیں۔وہ جدید ترکیہ کی گذشتہ ایک صدی کی تاریخ میں سب سے طویل عرصہ حکمران رہنے والے سیاسی رہ نما ہیں۔

    ترکیہ میں یہ انتخابات جنوب مشرقی علاقوں میں تباہ کن زلزلے کے تین ماہ بعد ہورہے ہیں۔اس میں 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ متاثرہ صوبوں میں بہت سے لوگوں نے حکومت کے سست رو ردعمل پرغم وغصے کا اظہار کیا ہے لیکن اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ اس مسئلے نے لوگوں کے ووٹ ڈالنے کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔

    صدر ایردوآن نے استنبول میں ووٹ ڈالا،وہاں موجود انتخابی عملہ سے مصافحہ کیا اور پولنگ اسٹیشن میں ایک ٹی وی رپورٹر سے بات کی۔کہا کہ ہم اپنے ملک، قوم اور ترکیہ کی جمہوریت کے بہتر مستقبل کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں-

    عمران خان حکومت سے محاذ آرائی روک دے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کا مطالبہ

    ان کے حریف 74 سالہ کلیچ داراوغلو نے انقرہ میں ووٹ ڈالا۔ وہ جب پولنگ اسٹیشن پرپہنچےتو وہاں موجود ہجوم نےخیرمقدمی تالیاں بجائیں انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ان تمام شہریوں کو اپنی مخلصانہ محبت اوراحترام پیش کرتا ہوں جو بیلٹ باکس میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ہم سب کو جمہوریت یادرکھنا چاہیے-

    پارلیمانی انتخابات میں ایردوآن کی اسلام پسند جماعت آق کے زیرقیادت قوم پرست ایم ایچ پی اور دیگر پرمشتمل عوامی اتحاد اورترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کردہ سیکولرری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) سمیت چھے اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل کلیچ داراوغلو کے زیرقیادت قومی اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    مسلم لیگ نواز کے بعد اے این پی نے بھی پی ڈی ایم احتجاج …

  • ترکیہ : صدارتی اور  پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ  کا عمل جاری،ترک صدر نے ووٹ ڈال دیا

    ترکیہ : صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری،ترک صدر نے ووٹ ڈال دیا

    ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    باغی ٹی وی:ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے ( پاکستان وقت کے مطابق 10 بجے ) شروع ہوا، شروع ہونے والی ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) تک جاری رہے گی۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں اپنا ووٹ ڈالا اورحزب اختلاف کے سربراہ کمال کلیک دار اوغلونے انقرہ میں ووٹ ڈال دیا،طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ مل کر مجھے گرانا چاہتی ہے آج عوام بیلٹ کے ذریعے بائیڈن کو جواب دیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار24 پارٹیاں اور 151 آزاد امیدوارانتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ترکیہ میں ساڑھے 6 کروڑسےزائد ووٹرزرجسٹرڈ ہیں صدارتی انتخاب میں ترک صدرطیب اردوان اوراپوزیشن رہنماکمال قلیچ داراوغلو کےدرمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

    50 فیصد سے زائد ووٹ نہ لینے پر 28 مئی کو انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوگا، مختلف اندازوں کے مطابق 6 اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوارکمال قلیچ داراوغلو کو اردوان کے مقابلے میں ہلکی برتری مل سکتی ہے۔

    زلزلے سے متاثرہ جنوبی صوبوں میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی سہولت کے لیے عارضی پولنگ اسٹیشن قائم ہیں۔ زلزلہ متاثرین کی عارضی پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کے لیے آبائی شہرآرہے ہیں۔

    ترکی میں اتوار کو ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کو بے مثال چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کی دو دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

    6 فروری کو آنے والے زلزلے میں 50,000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور جنوبی ترکی اور شمالی شام میں 5.9 ملین سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کے تین ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد ووٹرز ترکی کی جمہوریت کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔

    دوسری جانب ترکیہ میں سالوں سے جاری معاشی بحران کے باعث اردوان کی حمایت میں کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جب کہ اقتصادی پالیسیاں، فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے نمٹنے کی حکمت عملی سمیت مختلف چیلنجز اردوان کیلئے انتخابات میں مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اردگان کی حکومت میں جمہوری انحطاط ہے۔

    تجزیہ کاروں نے اس سال ریکارڈ ووٹر ٹرن آؤٹ کی پیش گوئی کی ہے، اور اردگان اور حزب اختلاف کے مرکزی امیدوار، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے رہنما اور چھ جماعتی نیشن الائنس بلاک کے صدارتی امیدوار کمال کلیک دار اوغلو کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

    ترک اخبار ڈیلی صباح نے بدھ کو ملک کے نائب وزیر خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بیرون ملک مقیم 1.8 ملین سے زیادہ ووٹرز نے 17 اپریل کو پہلے ہی اپنا ووٹ ڈالا ہے۔

    توقع کی جاتی ہے کہ ترکی کی آبادی بھی ایک کردار ادا کرے گی۔ فروری کے زلزلے کی زد میں آنے والے زیادہ تر صوبے اردگان اور ان کی اے کے پارٹی کے مضبوط گڑھ تھے۔ لیکن سپریم الیکشن کونسل (YSK) کے سربراہ احمد ینر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کم از کم 10 لاکھ ووٹرز اس سال بے گھر ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

  • خفیہ مقدمات میں بھی گرفتاری کا خدشہ،عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    خفیہ مقدمات میں بھی گرفتاری کا خدشہ،عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    لاہور:تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے 9 مئی کے بعد درج کسی بھی مقدمے میں گرفتاری رکوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی-

    باغی ٹی وی: عمران خان کی جانب سے دائردرخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کے ہاتھوں گرفتاری غیر قانونی قرار دی ہے اور ان کے خلاف کئی نئے مقدمے درج کرائے گئے ہیں، خفیہ مقدمات میں بھی گرفتاری کا خدشہ ہے ۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماؤں کا عالمی دن

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کے خلاف پنجاب میں درج نئے مقدمے کی تفصیلات طلب کرے اور 9 مئی کے بعد درج کسی بھی مقدمے میں ان کی گرفتاری روکنےکا حکم دے۔

    دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اس وقت ملک کی تاریخ میں کمزور جمہوریت ہے، اور امید صرف عدلیہ ہے، کسی ملک میں سب سے بڑی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو اس طرح پکڑا یا نظربند کیا جاتا ہے، حکومت نے اسلام آباد سے مجھے ایسے پکڑا جیسے میں کوئی دہشت گردہوں۔

    آسٹریلیا میں چینی طالبعلموں کی ’ورچوئل کڈنیپنگ‘ میں اضافہ

    عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت خوفزدہ ہے انہیں الیکشن میں شکست کا ڈر ہے، حکومت کا منصوبہ ہے مجھے اور میری جماعت کو انتخابات سے باہر کیا جائے۔

  • انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    انتخابات اور سیاسی کشیدگی ،نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا،تحریر: خادم حسین

    پنجاب اور کے پی کے الیکشن قبل ازوقت کروانے کے آئینی عمل نے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کا پول کھول دیا ہے۔ جہاں حکومت محض ذاتی مفادات کے خاطر الیکشن نہ کروا کر آئین اور عدلیہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر عدلیہ مخالف تقریریں اور حکم عدولی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 90روز کے اندر الیکشن کروانے کی بجائے سپریم کورٹ سے درخواست کررہا ہے کہ الیکشن کے عمل میں آپ مداخلت نہ کرے الیکشن کمیشن کا کام ہے ہمیں ہی کرنے دیں اور جو صورتحال نظر آرہی ہے اگر اسی طرح سسٹم رہا پھر تو حکومت اگر چاہے تو قیامت تک الیکشن نہ کروائے اور یہی کہتی رہی کہ فنڈز نہیں دینے، سیکورٹی نہیں دینی۔سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں تو اپنی جگہ پر مگر اب اداروں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑاکرنے سے نقصان صرف ملک اور غریب عوام کا ہورہا ہے جن کی مہنگائی کی چکی میں پیسا جارہا ہے جن کے لیے زندگی محال ہورہی ہے، جن کے دکھ درد میں مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور لاقانونیت کی وجہ سے اضافہ کیا جارہا۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہورہی ہے۔ چوری، ڈکیتی کی وارداتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مگر ریاست کے بااختیار، طاقتور اور اربوں کھربوں پتی سیاستدانوں کو ان مسائل سے کیا انہوں نے تو ہر دور میں ہر طرح سے عوام کا خون چوسنا ہے اور چوس رہے ہیں، ان کے کاروبار، جائیدادیں، بال بچے سب کچھ تو بیرون ملک ہے یہاں تو وہ صرف حق حکمرانی کے لیے آتے ہیں۔یہاں کتنے ججز اور بیوروکریٹس ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کی آخری سانسیں پاکستان میں لیتے ہوں؟

    انتخابات کے معاملے پر نہ صرف سیاستدانوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بلکہ ریاستی اداروں میں بھی ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ زیرک سیاستدان، صحافی، تجزیہ نگار، دانشور تو کئی دہائیوں سے اس سسٹم کو ناکارہ قرار دیتے آئے ہیں اور اسے طاقتوروں، لٹیروں اور مافیاز کا سہولت کار سمجھتے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طاقتوروں کے لیے الگ قانون اور غریب لوگوں کے لیے الگ قانون نظر آتا ہے، امیر لوگ پیسے کے ذریعے اس سسٹم سے ہر جرائم کے بعد ایسے بچ کر نکل جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال اور غریب بے چارہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال کال کوٹھڑیوں میں بند رہنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس دولت نہیں کہ وہ سسٹم کے تحت اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرسکے۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت شروع سے ہی برائے نام ہی رہی ہے، جو کوئی جمہوری ادوار گزرے ہیں انہیں بھی کٹھ پتلی حکمران ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جس وزیر اعظم نے بھی آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش کی، عوامی ریلیف کے لیے کوئی کام کرنے کی کوشش کی تو اس کا دھڑن تختہ کردیا گیا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں موروثیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ہی حقیقی جمہوریت پنپ ہی نہیں سکی۔ حق بات کہنے والے پارٹی لیڈر کو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے، پارٹیوں سے نکالنے کے لیے کوئی قاعدہ قانون، شوکاز نوٹس یا پھر کسی قسم کی کارروائی کے بغیر ہی میڈیا پر اعلان کردیا جاتا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر فارغ کردیا گیا ہے، حالانکہ جمہوری معاشروں میں پارٹی پالیسیاں بھی پارٹی بناتی ہیں مگر یہاں لیڈر جو سوچ لیتا ہے وہی پارٹی پالیسی بن جاتی ہے۔

    معاشرے انصاف کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں، جہاں عدل کا توازن بگڑ جائے وہاں زندگی اجیرن ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے اشرافیہ نے پاکستان کا وہ حال کردیا ہے کہ جہاں سچ بولنا جرم بن جاتا ہے، لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے، اگر حکومت ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردے تو پھر باقی اداروں اور عام لوگوں میں عدلیہ کے فیصلوں کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟ اور جب عدالتیں لوگوں کو انصاف ہی فراہم نہ کرسکیں تو پھر یہ انسانوں کی نہیں بلکہ حیوانوں کی بستی بن جائے گی۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون بن جائے گا۔ مہذب معاشروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے، جس میں ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھنا ریاست کے ذمہ ہوتا ہے مگر پاکستان میں ریاست لوگوں کو انصاف فراہم کررہی ہے نہ ہی ووٹ کے ذریعے اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق دے رہی ہے تو پھر لوگ کیا کریں، ریاست کے ذمہ داران کو ابھی بھی سرجوڑ کربیٹھ جانے کی ضرورت ہے اور سیاسی کشیدگی کو کم کروائیں، فوری انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار منتخب لوگوں کے حوالے کر کے تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملکی ترقی، سلامنی، امن و امان اور خوشحالی کے لیے کام کریں صرف اسی صورت پاکستان دنیا میں ترقی کرسکتا ہے۔

    سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک معاشی طور پر بھی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ لوگوں کا معیارزندگی پست ہوگیا۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے کوئی سمجھ نہیں کہ اگلے لمحہ کیا فیصلہ ہونے والا ہے، کیا رد عمل آئے گا۔ ایک ایٹمی ملک کا اس طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوجانا بھی لمحہ فکریہ ہے، ریاست کے ذمہ داران نے کبھی اس معاملے پر غور کیا کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر انجام کیا ہوگا؟ کیا ہمارا آج کا طرز حکمرانی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ہے؟ کیا ہم ملک میں افراتفری یا پھر انارکی چاہتے ہیں؟ پاکستان میں جس طرح سیاسی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے اس سے خدانخواستہ تباہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے اگر کوئی جامع حکمت عملی تیار نہ کی گئی تو پھر اس کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔

  • قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،چیف جسٹس

    ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کروانے کا کیس ،سیاسی جماعتوں کے رہنما سپریم کورٹ پہنچ گئے

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہوگئی، چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت فریقین کے وکلاء اور سیاسی رہنما کمرہ عدالت میں موجود ہیں،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آج سعد رفیق اور شاہ محمود قریشی دونوں نظر آ رہے ہیں،آج اپنے حوالے سے بھی کچھ بتانا ہے فاروق نائیک نے اتحادی حکومت کا جواب عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قرضوں میں78 فیصد، سرکولر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہو چکا ہے،سیلاب کے باعث31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معاہدہ، ٹریڈ پالیسی کی منظوری لازمی ہے، لیول پلیئنگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر اتفاق ہوا،اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہو سکا،ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے،ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں،سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے،مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہو سکتی،مذاکرات کیلئے مزید وقت درکار ہے

    فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے سیاسی ایشوز جو ہیں وہ سیاسی طور پر حل ہوسکتےہیں۔مذاکرات میں تاریخ اور مہینہ ابھی طے ہونا ہیں،پیپلز پارٹی یقین رکھتی ہے کہ مداخلت کے بغیر معاملات حل کئے جاسکتے ہیں اس لئے مزہد وقت درکار ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ فنانس منسٹرکی دستخط سے جمع ہوئی ہے سیاسی ایشوز کو سیاسی قیادت حل کرے لیکن موجودہ درخواست ایک حل پر پہنچنے کی ہے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات اس وقت بہت crucial ہیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بجٹ صرف قومی اسمبلی پاس ہی کرسکتی ہے ۔اگر آج پنجاب یا کے پی کی حکومت ختم نہ ہوتی تو یہ مسئلہ کھڑا نہ ہوتا۔ آپ کو پھر تکلیف نہ دی جاتی۔اس وجہ سے عدالت کا دوسرا کام ڈسٹرب ہوتا ہے سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل پر آمادہ نہیں،ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے
    مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہوسکتی، مذاکرات کیلئے مذید وقت درکار ہے حکومت نے مذاکرات سے متعلق عدالت سے مہلت کی استدعا کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بجٹ آئی ایم ایف کے پیکج کے تحت بنتا ہے؟ اخبارات کے مطابق دوست ممالک بھی قرضہ آئی ایم ایف پیکج کے بعد دیں گے،کیا پی ٹی آئی نے بجٹ کی اہمیت کو قبول کیا یا رد کیا؟ آئین میں انتخابات کیلئے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے میں کوئی دو رائے نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اور عوامی اہمیت کے ساتھ آئین پر عملداری کا معاملہ ہے،90 روز میں انتخابات کرانے پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے، کل رات ٹی وی پر دونوں فریقین کا مؤقف سنا، مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لیکر بیٹھی نہیں رہے گی، عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے، آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں، عدالت صرف اپنا فرض ادا کرنا چاہتی ہے،کہا گیا ماضی میں عدالت نے آئین کا احترام نہیں کیا اور راستہ نکالا،عدالت نے احترام میں کسی بات کا جواب نہیں دیا، غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لئے ہم غصہ نہیں کرتے،آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا، کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، آپ چار تین کی بحث میں لگے رہے،جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھیآج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کررہا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فنڈز اور سیکیورٹی ملنے کا کہا تھا،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہوسکے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں سیاست کرنا چاہتی، پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے، ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے، اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے، معاشی، سیاسی، معاشرتی، سیکیورٹی بحرانوں کے ساتھ ساتھ آئینی بحران بھی ہے،کل بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے،
    حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا،معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے ؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے،حکومت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنے کی پابند ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،قانون پر عملدرآمد کیلئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، سپریم کورٹ، قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کیلئے تیار ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے، شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں، دوسرے شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں، تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے،14 مئی چند دن بعد ہے لیکن فنڈز جاری نہیں ہوئے،نظریہ ضرورت کی وجہ سے الیکشن مزید تاخیر کا شکار نہیں کرسکتے،

    خواجہ سعد رفیق عدالت پہنچے تو چیف جسٹس نے کہا کہ خوش آمدید خواجہ سعد رفیق صاحب، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وکیل نہیں ہوں اس لیے عدالت میں بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم اعتماد بہت گہرا ہے،2017 سے عدالت نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی، میں بھی ایک شکار آپ کے سامنے کھڑا ہوں، کوئی بھی اداروں میں تصادم نہیں چاہتا،عوام کو صاف پانی نہیں دے سکتے، اداروں میں تصادم کے متحمل کیسے ہوسکتے ہیں، مذاکرات کے دوران بہت کچھ سننا پڑا، مذاکرات کے ذریعے ہی سیاسی بحران نکالا جا سکتا ہے،آئین 90 دن کے ساتھ شفافیت کا بھی تقاضہ کرتا ہے،پنجاب پر الزام لگتا ہے کہ یہی حکومت کا فیصلہ کرتا ہےالیکشن نتائج تسلیم نہ کرنے پر پہلے بھی ملک ٹوٹ چکا ہے آئین کے تقاضوں کو ملا کر ایک ہی دن الیکشن ہوں،صرف ایک صوبے میں الیکشن ہوا تو تباہی لائے گا،سیلاب اور محترمہ بینظیر کی شہادت پر انتخابات میں تاخیر ہوئی،اگر حکومت نے کوئی قانونی نقطہ نہیں اٹھایا تو عدالت ازخود ان پر غور کرے،کئی ماہ سے 63 اے والا نظرثانی کیس زیر التواء ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 63 اے والی نظرثانی درخواست سماعت کیلئے مقرر ہورہی ہے،اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چاہتے ہیں شفاف الیکشن ہوں اور سب ان نتائج کو تسلیم کریں، مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ یہ لوگ نتائج تسلیم کریں گے،سندھ اور بلوچستان میں اسمبلیاں بہت حساس ہیں، دونوں اسمبلیوں کو پنجاب کیلئے وقت سے پہلے تحلیل کرنا مشکل کام ہے، پی ٹی آئی نے کھلے دل سے مذاکرات کیے اس پر ان کا شکر گزار ہوں، مذاکرات کا مقصد وقت کا ضیاع نہیں ہے، مذاکرات جاری رکھنے چاہیئے، یہ میری تجویز ہے، عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں، اپنی مدت سے حکومت ایک گھنٹہ بھی زیادہ نہیں رہنا چاہتی، ملک کی قیمت پر الیکشن نہیں چاہتے، مستقل کوئی بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے اپ ہوں یا ہم، عدالت ہدایت نہ دے ہم خود مل بیٹھیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی ہدایت دیں گے نا ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے، اگر چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے، کیا نظرثانی اپیل دائر کرنے کی مدت ختم ہوچکی ہے؟نظرثانی اپیل دائر کرنے کا وقت گزر چکا ہے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل قابل سماعت ہے؟الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ صرف فنڈز اور سیکیورٹی چاہیے، شاہ خاور نے کہا کہ شہباز شریف اور عمران خان مذاکرات میں شامل ہوں تو حل نکل سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور عمران خان مصروف لوگ ہیں ان کے نمائندے موجود ہیں،پارٹی لیڈران کیلئے سیاسی قائدین سے بات کریں، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کو ہی بات کرنے دی جائے، عدالت کو مذاکرات میں نا لایا جائے، پہلے ہی کافی خرابی ہو کی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے کوئی نئی بات نہیں کی، پرانا مؤقف دہرایا ہے، اپنی پوری کوشش کی کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں،حکومتی بینچز سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور تکبر والی باتیں آرہی ہیں، ہماری متفرق درخواست پر تمام کمیٹی ارکان کے دستخط ہیں، حکومتی جواب میں صرف اسحاق ڈار کے دستخط ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومتی درخواست صبح آئی ابھی نمبر بھی نہیں لگا، لیکن اسے سن لیا، پی ٹی آئی اور حکومت کی آپس کی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، عدالت کو صرف یہ دیکھنا ہے کسی تاریخ پر اتفاق ہوا یا نہیں، کیا دو یا تین دن میں کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے؟ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کہتی تھی بارہ جماعتیں ہیں مشاورت کیلئے وقت دیں، عمران خان سمیت سب نے تنقید کی کہ تین دن کا وقت کیوں دیا، تیسری نشست دن گیارہ بجے ہونی تھی لیکن رات نو بجے ہوئی، نظرثانی یہ نا دائر کریں، مرضی کی مہلت بھی لیں، فیصلہ نہ ہو تو آئین کیوں داؤ پر لگائیں؟ آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئی ایم ایف والا معاملہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ سننا چاہتے ہیں،

    تحریک انصاف نے 14مٸی کو انتخابات کے حکم پرعملدرآمد کی استدعا کردی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے،حکومت نے 14مٸی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست داٸر نہیں کی ،فاروق ناٸیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہے،آٸین سے باہر نہیں جایا جا سکتا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فاروق ناٸیک نے عدالت کو صرف مشکلات سے آگاہ کیا،

    تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت لچک مظاہرہ نہیں کررہی ہم مذاکرات اور یہ پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں تنقید کے باوجود ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھے ، فاروق نائیک نے کہا کہ مسئلہ حل ہوجائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ صرف وعدہ کرتے ہیں ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات سےمتعلق کیس کی سماعت مکمل ،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے کہا کہ مناسب حکم جاری کیا جائے گا

    پاکستان تحریک انصاف سے فواد چوہدری اور علی محمد خان سپریم کورٹ پہنچ گئے ،پاکستان مسلم لیگ ن سے خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ پہنچ گئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت الیکشن کمیشن کے حکام بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وفاقی حکومت نے بھی الیکشن پر مذاکرات سے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا، جواب اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا، جواب میں کہا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک تاریخ پر الیکشن کرانے پر متفق ہیں ملک کی بہترین مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو تیار ہیں قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا ،

    پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہوئے ہیں، پی ڈی ایم سرکار کے ساتھ تین نشستوں کا خلاصہ عدالت کے سامنے پیش کر دیا، تحریک انصاف نیک نیتی سے معاملات سلجھانا چاہتی ہے،جانتے ہیں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ،انتخابات کے لئے حتمی امیدواروں کی لسٹ بنائی جا چکی،اس کے باوجود سیاسی حل کے لئے ہم ساتھ بیٹھے ہم نے بہت لچک دکھائی ہے،مذاکرات میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا،اب سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھنا ہو گا پی ٹی آئی نے آئین کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے، سپریم کورٹ کی آئینی حیثیت سے غافل نہیں رہنا،کل بروز ہفتہ پورے پاکستان میں چیف جسٹس کے ساتھ 5:30 بجے اظہار یکجہتی کے اجتماعات ہوں گے، عمران خان خود لاہور میں ریلی کی قیادت کریں گے، اسلام آباد میں بھی ریلی کا اہتمام کیا جائے گا،

    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج