Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • پولنگ سٹیشن کے اندر مسلح اور وردی والا اہلکار قبول نہیں کریں گے،سیاسی جماعتیں

    پولنگ سٹیشن کے اندر مسلح اور وردی والا اہلکار قبول نہیں کریں گے،سیاسی جماعتیں

    پولنگ سٹیشن کے اندر مسلح اور وردی والا اہلکار قبول نہیں کریں گے،سیاسی جماعتیں
    اسلام آباد (محمداویس)سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے فوری صاف شفاف ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پولنگ سٹیشن کے اندر مسلح اور وردی والا اہلکار قبول نہیں کریں گے سیکیورٹی کا انتظام پولنگ سٹیشن کے باہر کیا جائے، اگر الیکشن کی تاریخ نامعلوم ہے تو شکوک وشبہات موجود ہیں الیکشن نہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن اور ان کے پشت پر ہونے والی قوتیں ہیں۔

    بدھ کو الیکشن کمشن میں سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنمانائب امیر جماعت اسلامی پاکستان فرید پراچہ نے کہاکہ 88شقوں پر ضابطہ اخلاق پیش کیا یہ واعظ ونصیحت نہیں ہونا چاہیے ۔اس پر عمل ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ عمل کرئے اس کا بھی بھلا اور جو نہ کرئے اس کا بھی بھلا ہو جنوری کے شروع اور دسمبر کے آخر میں الیکشن کروائے جائیں ۔الیکشن کمیشن اپنے آپ کو منوانا چاہیے ایسا نہ ہو الیکشن کے قریب آتے ہیں ریموٹ نہ ہوا اسلحہ اور وردی والا اہلکار پولنگ اسٹیشن میں نہیں ہونا چاہیے ۔پولنگ اسٹیشن کے اندر وردی اور بندوق والے کو برداشت نہیں کریں گے ۔الیکشن کمیشن پارٹی کے لیے بھی اخراجات کی حد مقرر کرئے ۔فارم 45میں ووٹوں کی گنتی ہندسوں کے ساتھ اردو یا انگلش میں بھی لکھا جائے ۔الیکشن کمیشن نے بعض شقوں کو قبول کیا اور بعض کو قبول کے بارے میں نہیں بتایا ۔

    الیکشن کمشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی سابق سینیٹر زاہد خان نے کہاکہ چیف الیکشن کمیشن نے کہاہے کہ الیکشن ہوگا ۔میاں افتخار نےکہاکہ ہم نے ضابطہ اخلاق پر تجویز دی ہیں اس پر عمل نہیں ہوتا ہے صاف شفاف الیکشن کے لیے ضابطہ اخلاق پر عمل ہونا چاہیے 90دن میں الیکشن ہمارا مطالبہ تھا اور ہے الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرئے ۔ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں الیکشن کمشن نے ہماری رائے سن لی ہے امید ہے عمل کریں گے ۔اگر الیکشن پر اعتبار نہ کریں تو کہاں جائیں الیکشن کمشن کی کیا مجبوری ہے کہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا جارہاہے۔ اگر تاریخ نامعلوم ہے تو شکوک وشبہات موجود ہیں الیکشن نہ ہوئے تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن اور ان کے پشت پر ہونے والی قوتیں ہیں .الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ الیکشن کروائے ۔

    پی پی پی رہنما نیئر بخاری نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ضابطہ اخلاق کے لیے مدعو کیاتھا ۔ضابطہ اخلاق میں تبدیلیاں کی ہیں اس پر ہمیں بلایا گیا ۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ آخری ڈرافٹ سے پہلے دوبارہ ساسی جماعتوں کے ساتھ ملاقات ہوگی ۔الیکشن کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔الیکشن کمشن کا کام صاف شفاف انتخابات ہیں اور وہ یہ کروائیں گے ۔(محمداویس)

    نواز شریف پاکستان کے مسائل کا واحد حل ہے،رانا

    شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنیوالے کو سز

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فافن رپورٹ پر وضاحت جاری کردی

  • انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    انتخابات:پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی,نگراں وزیرِ اعظم

    پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی ممکنہ گرفتاری اور جیل بھیجنے کے بارے میں حکومت نے وزارت قانون سے رائے طلب کی ہے۔

    اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد پاکستان واپسی سے قبل لندن میں قیام کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ چاہتےہیں نوازشریف کی واپسی پرقانون اپناراستہ اختیار کر ے، وطن واپسی پرممکنہ گرفتاری یا جیل بھیجنے کے معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی, موجودہ صورتحال میں لگ رہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ فوج سے نہیں بلکہ ریاست سے ہے۔

    بی بی سی اردو سے گفتگو میں نگران وزیراعظم نے نوازشریف کی پاکستان واپسی اوراڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کو درپیش قانونی مشکلات پربات کی,نگران وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے نوازشریف کی پاکستان واپسی سے متعلق وزارت قانون سے رائے لی ہے کہ جب وہ واپس آئیں گے تو قانون کے مطابق نگراں حکومت کا انتظامی رویہ کیا ہوناچاہیے۔ انہوں نےبتایا کہ اس ضمن میں ایک اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

    آئندہ عام انتخابات جیتنےکیلیے مودی حکومت کا

    ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے عمران خان کی سزا کے بارے میں جو اشارتاً بات کی اس کا مقصد تھا کہ عدالتی نظام میں جتنے بھی مواقع ہیں اگرانہیں استعمال کرنے کے بعد بھی قوانین کے تحت عمران خان کو الیکشن سے روکا گیا، تو یہ ہمارے مینڈیٹ سے باہر ہو گا کہ ہم کوئی ریلیف دے سکیں۔ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا اگرعدالتوں سے ریلیف نہ ملاتو پھر بدقسمتی سے عمران خان کو ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے کے دو پہلو ہیں، ایک سیاسی ہے تاہم اس بحث میں جائے بغیر مروجہ قوانین کے تحت دیکھا جائے تو فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ ایک سزا یافتہ شخص کو عدالتوں نے اجازت دی تھی، ایگزکٹیو نے نہیں دی تھی وازشریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ فردِ واحد کیخلاف فیصلہ تھا جس پرکچھ نے شادیانے بجائے لیکن اسی سیاسی شخص کی جماعت نے اگلے انتخابات میں 90 کے قریب نشستیں بھی حاصل کی تھیں-

    ورلڈ کپ 2023: قومی ٹیم کی سپورٹ کے بیان پر

    پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی

    انتخابات میں غیرجانبداری یقینی بنانے سے متعلق سوال پرانوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ قطعاً کوئی سختی نہیں برتی جائے گی ہاں اُن لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق ضرور نمٹا جائے گا جو منفی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے اور وہ مخصوص افراد ہیں جو پچیس کروڑ کی آبادی میں پندرہ سو، دو ہزار بنتے ہوں گے، اُنہیں پی ٹی آئی سے جوڑنا منصفانہ تجزیہ نہیں ہو گا تحریک انصاف کیخلاف کارروائی کا جنرل ضیاء کے زمانے میں پیپلز پارٹی کیخلاف یاجنرل مشرف کے زمانے میں مسلم لیگ کیخلاف ہونے والی کارروائی سے موازنہ کرنا ’بیہودہ تجزیہ اورغلط بات‘ ہو گی۔

    کرپشن نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا,نگران وزیرداخلہ

    بحران روکنا نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں

    نگراں وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرکوئی سیاسی رہنما انتخابات میں حصہ نہیں لے پاتا تو اس سے بحران پیدا ہو یا نہ ہو، یہ نگراں حکومت کا مسئلہ نہیں کیونکہ ہمارا مقصد بحران روکنا یا پیدا کرنا نہیں، قانون کے تحت ہمارا کردار الیکشن کروانا ہے۔الیکشن کے نتیجے میں بحران پیدا ہونا پورے معاشرے اور ریاست کا معاملہ ہے، نگراں حکومت کا نہیں-

    عام انتخابات کی 90 روزہ آئینی مدت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پرالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، جہاں آئین میں 90 دن کی مدت ہے وہیں 254 آرٹیکل میں یہ بھی درج ہے کہ کوئی چیز وقت کے اندرنہیں ہوتی تو وہ محض تاخیر کے باعث غیرآئینی اور غیرقانونی نہیں ہوجاتی-

    نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمد

  • عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا

    عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا

    عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا، 26 ستمبر کو سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا، سماعت میں عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس میں اسدعمر اور فواد چوہدری بھی نامزد ہیں جبکہ الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت 26 ستمبر کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن کا 4 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عملدرآمد سے امن قائم ہوسکتا ہے. انتونیو گوتریس
    پاک فوج؛ جونیئر لیڈرز نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. آرمی چیف
    جنسی زیادتی الزامات؛ رسل برانڈ کی یو ٹیوب پر اشتہاری آمدن معطل
    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نے جرمانوں میں اضافہ کر دیا
    پرویز الہٰی کیخلاف ایک اور مقدمہ درج
    تاہم یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے جبکہ تینوں پارٹی رہنماؤں کو 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔

    علاوہ ازیں واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 3 صفحات پر مشتمل توہین الیکشن کمیشن کیس کا تحریر حکمنامہ جاری کیا تھا عدالتی حکمانے کے مطابق فوادچوہدری کی یقین دہانی پرناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کئے، وکیل درخواست گزار نے بتایا قابل ضمانت وارنٹ کی تعمیل نہیں ہوئی تھی اور عدالت کا کہنا تھا کہ وارنٹ گرفتاری معطلی کا آرڈر 20 جولائی کے بعد ازخود غیر مؤثر ہو جائے گا، فواد چوہدری 20 جولائی کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کی مصدقہ کاپی جمع کرائیں۔

  • الیکشن کمیشن کےعام انتخابات کی تاریخ دینے کےاختیار کا اقدام چیلنج

    الیکشن کمیشن کےعام انتخابات کی تاریخ دینے کےاختیار کا اقدام چیلنج

    لاہور: الیکشن کمیشن کے عام انتخابات کی تاریخ دینے کے اختیار کے اقدام کو چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: جوڈیشل ایکٹوزیم پینل نےسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آئینی درخواست دائر کر دی جس میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت الیکشن ایکٹ میں ترمیم کو غیر آئینی قرار دے، آئین کے تحت اسمبلی کی مدت 5 برس ہے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ملک بھر میں عام انتخابات کی تاریخ پر وزارت قانون وانصاف اور الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو خط میں کہا تھا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہے،دوسری جانب گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن کمیشن ملک بھر میں بیک وقت 9 نومبر کوانتخابات کرانے کی تجویز دے رکھی ہے۔

    مانیٹری پالیسی کااعلان آج کیا جائےگا،شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا …

    صدر مملکت نے اس سے قبل 23 اگست کو چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر عام انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے مشاورت کی دعوت دی تھی اور اس کے بعد وفاقی وزارت قانون کو بھی اس حوالے سے خط لکھا تھا، تاہم دونوں جانب سے صدر مملکت کو جواب دیا گیا تھا کہ نئی قانون سازی کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔

    صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اب انتخابات کی تاریخ تجویز کرتے ہوئے خط میں کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کی لہٰذا آئین کے آرٹیکل 48 (5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ سے 90 دنوں کے اندر تاریخ مقرر کی جائے۔

    گجرات میں پولیس کانسٹیبل قتل

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے صدر مملکت کو جوابی خط میں کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 57 میں پارلیمنٹ نے ترمیم کی تھی، جس کے تحت الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ جہاں صدر اپنی صوابدید پر قومی اسمبلی کو تحلیل کرتا ہے، تو انہیں عام انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنی ہوتی ہے، تاہم اسمبلی وزیر اعظم کے مشورے پر یا آئین کے آرٹیکل 58 (1) میں فراہم کردہ وقت کے اضافے سے تحلیل کی جاتی ہے تو الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ انتخابات کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا اختیار خصوصی طور پر اس کے پاس ہے کمیشن انتہائی احترام کے ساتھ یقین رکھتا ہے کہ صدر کے خط میں ذکر کردہ آئین کی دفعات پر انحصار اس تناظر میں لاگو نہیں ہوتا۔

    راولا کوٹ:مسافر وین پُل سے ٹکرا گئی، 3 مسافر جاں بحق

  • انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا. نگراں وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیاں آئینی عمل کا حصہ ہیں، نگراں حکومت کا کام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے واضح ہدایات دی ہیں، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے احسن انداز سےکام جاری ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتیں بتدریج کم ہورہی ہیں، سول اداروں کی کارکردگی میں بہتری سے صورتحال مزید بہترہوگی، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کچھ عرصہ جاری رہی، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی نشاہدہی ہوچکی ہے، ڈالر کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، امید ہے روپے کی قدر میں مزید استحکام آئے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعتوں میں میر جعفر۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    قاضی فائز عیسیٰ کیلئے سکیورٹی مقرر کردی گئی
    ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ شدید تنقید کے زد میں
    مریم نواز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات
    شیخ رشید نے ایک بار پھر 20 ستمبر تک سیاست میں بڑی ہلچل کا دعوی کردیا/
    نگراں وزیراعظم نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، ماضی میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات میں کمی ہوئی ہے، معاشی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت ملکی مفاد کے خلاف اقدامات نہیں اٹھا سکتی، سانحہ 9 مئی جیسے واقعات کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، انتشار میں ملوث عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی۔

  • صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدر مملکت نے 6 نومبر کوعام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی

    صدرمملکت کی جانب سے عام انتخابات کی تاریخ کی تجویز کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کا اہم مشاورتی اجلاس کل طلب کرلیا،

    اجلاس کے وقت کا تعین تاحال نہیں کیا گیا،الیکشن کمیشن اجلاس میں صدرمملکت کے خط کا جائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں الیکشن کمیشن کی لیگل ٹیم بریفنگ اور قانونی ماہرین رائے دیں گے،اجلاس میں چاروں ممبران سمیت متعلقہ ونگز بھی شریک ہوں گے،

    ماہرقانون راجہ خالد کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چیف الیکشن کمشنر کا اختیار ہے،صدر کے تاریخ دینے سے آئینی بحران پیدا نہیں ہوگا کیونکہ یہ تجویزہے،تمام انتظامات کے بعد الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ وہ تاریخ کا اعلان کرے،

    صدر مملکت عارف علوی نے 6 نومبر کو عام انتخابات کرانے کی تجویز دیدی ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چيف الیکشن کمشنر ، سکندر سلطان راجہ ، کے نام خط لکھا ہے جس میں صدر مملکت نے کہا ہے کہ صدر مملکت نے 9 اگست کو وزیراعظم کے مشورے پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا،آئین کے آرٹیکل 48(5) کے تحت صدر کا اختیار ہے کہ اسمبلی میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے، تحلیل کی تاریخ سے نوے دن کے اندر کی تاریخ مقرر کرے، آرٹیکل 48(5) کے مطابق قومی اسمبلی کیلئے عام انتخابات قومی اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کے 89ویں دن یعنی پیر 6 نومبر 2023 کو ہونے چاہئیں،آئینی ذمہ داری پورا کرنے کی خاطر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لیے مدعو کیا گیا تاکہ آئین اور اسکے حکم کو لاگو کرنے کا طریقہ وضع کیے جا سکے ، چیف الیکشن کمشنر نے جواب میں برعکس موقف اختیار کیا کہ آئین کی اسکیم اور فریم ورک کے مطابق یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، اگست میں مردم شماری کی اشاعت کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل بھی جاری ہے اور آئین کے آرٹیکل 51(5) اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 کے تحت یہ ایک لازمی شرط ہے ،

    صدر مملکت نے کہا کہ وفاقی وزارت قانون و انصاف بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسی رائے کی حامل ہے ، چاروں صوبائی حکومتوں کا خیال ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مینڈیٹ ہے،وفاق کو مضبوط بنانے، صوبوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ اور غیر ضروری اخراجات سے بچنے کیلئے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن کرائے جانے پر اتفاق ہے، الیکشن کمیشن ذمہ دار ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے آرٹیکل 51، 218، 219، 220 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت طے شدہ تمام آئینی اور قانونی اقدامات کی پابندی کرے،تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آئین کی متعلقہ دفعات کے تحت صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اس بات کے پیش نظر کہ کچھ معاملات پہلے ہی زیر سماعت ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک ہی دن انتخابات کرانے کیلئے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے ،

    صدر مملکت عبوری صدر ہیں، انہیں الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے گا

    14 مئی کو الیکشن نہ کروانے والے تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔حامد خان

    چیف الیکشن کمشنر کا صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا

    پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندر ہوں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

  • حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

    الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد حلقہ بندیوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ بندی کی حتمی اشاعت 30 نومبر کو ہوگی جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    عام انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے کہا کہ جتنا جلدی ممکن ہوسکے گا الیکشن کا انعقاد کرنا ہے اور الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا جائےگا۔ دوسری جانب یاد رہے کہ اس سے قبل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پنجاب کی نگراں حکومت کو انتخابی قواعد وضوابط سے متعلق خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی قوانین نگراں حکومت یا وزیر کو سیاسی سرگرمیوں، جلسوں میں شرکت کی اجازت نہیں دیتے۔

    نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے خط میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ نگراں حکومت الیکشن عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرے گی اور خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ ارکان سیاسی سرگرمیوں اور الیکشن مہم میں شرکت نہیں کرسکتے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    علاوہ ازیں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے خط میں لکھا تھا کہ تمام سیاسی فریقین کو برابری کے مواقع فراہم کیے جائیں، نگراں کابینہ کے کسی وزیر کا قریبی عزیز الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا، خط میں کہا گیا تھا کہ نگراں کابینہ اپنے فرائص آئین وقانون کے مطابق سر انجام دینے کے پابند ہیں، خلاف ورزی کی صورت میں الیکشن کمیشن سخت اقدامات کرے گا اور خط ہدایت کی گئی تھی کہ محسن نقوی الیکشن کمیشن کی ہدایات تمام کابینہ اراکان تک پہنچا دیں۔

  • حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا آئندہ عام انتخابات سے متعلق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کاسلسلہ جاری ہے اور آج چیف الیکشن کمشنر سے مسلم لیگ ق ، تحریک لبیک پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود نے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔

    جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود سے ملاتوں کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ مزید کم کرنے کا خواہاں ہے ، حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا،اور اس کے فوراً بعد انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں تحریک لبیک پاکستان کے وفد نے کہا کہ ریٹرننگ افسرعدلیہ سے نہ لئےجائیں،وہ الیکشن بہترطریقے سےنہیں کراسکتے اورحلقہ بندیاں جلد مکمل کرنے کیلئے عملہ بڑھانے کا مطالبہ کیاہے۔

    علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان کے رہنما چودھری رضوان سیفی کا کہنا تھا کہ جو آئین ہے آئین پہ عمل درآمد کرتے ہوئے الیکشن ان ٹائم ہونا چاہیے جبکہ ق لیگ کے وفد نے الیکشن کمیشن کے نئی حلقہ بندیوں کےفیصلےکی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ ملکی مسائل کا حل معیشت کی بہتری ہے انتخابات نہیں اور رہنما ق لیگ غلام مصطفی ملک نے کہا کہ الیکشن90 روز کے اندر ہوں یا 190 روز کے اندر ، لیکن صاف اور شفاف ہونے چاہیے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور انداز میں اپنا لائحہ عمل اور منشور عوام کے سامنے رکھنے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ کم کرنا زیرغورہے،حلقہ بندیوں کے فوری بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں سے الگ مشاورت ہوگی جبکہ اعلامیہ کے مطابق نادراکےساتھ مل کرفوت شدگان کوانتخابی فہرستوں سےنکالا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی مہم اوراخراجات کی باقاعدہ مانیٹرننگ بھی ہوگی ۔

  • سپریم کورٹ بار کا عام انتخابات کے معاملے پر آل پاکستان وکلاء کنونشن کا اعلان

    سپریم کورٹ بار کا عام انتخابات کے معاملے پر آل پاکستان وکلاء کنونشن کا اعلان

    سپریم کورٹ بار کا عام انتخابات کے معاملے پر آل پاکستان وکلا کنونشن کا اعلان کردیا ہے جبکہ سات ستمبر کو کنونشن میں ملک بھر سے وکلاء بڑی تعداد میں شرکت کریں گے ، آئینی مدت میں انتخابات جمہوری عمل برقرار رکھنے کا ایک اہم پہلو ہے ، انتخابات سے قوم اپنا آئینی حق اور فرض ادا کرسکے گی.

    سپریم کورٹ بار اعلامیہ کے مطابق بنیادی اصول سے کوئی بھی انحراف سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، الیکشن تاخیر سے پیدا منفی نتائج مد نظر رکھنا بھی ضروی ہے، آل پاکستان وکلا کنونشن کے انعقاد کیلئے جگہ کا اعلان جلد کیا جائے گا.

    یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے انتخابات کے لیے نئی مردم شماری کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ پنجاب انتخابات فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونا آئینی طور پر لازم ہے۔

    جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نئی مردم شماری کی بنیاد پر عام انتخابات کرانے کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتخابات کے انعقاد میں غیر آئینی تاخیر کا سبب بنے کی وجہ قرار دے دیا تھا، علاوہ ازیں مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے نئی مردم شماری کی منظوری، ’وقت پر انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے، سپریم کورٹ بار نے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ آئین کے مطابق مقررہ وقت میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے، آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے 90 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز
    تاہم خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار نے مزید کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کرنے کا پابند ہے، آبادی میں حالیہ اضافے کے لیے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی ضرورت ہے تاہم یہ اضافہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،مغربی ممالک کا انتباہ

    انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،مغربی ممالک کا انتباہ

    مغربی ممالک نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جس میں ممکنہ طور پر تعلقات میں کمی بھی شامل ہے،مغربی ممالک چاہتے ہیں نہ صرف انتخابات وقت پر ہوں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کا میدان فراہم کیا جائے-

    باغی ٹی وی : سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں یہ ممالک ہمیشہ جمہوریت کی وکالت کرتے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں انتخابات کا انعقاد کسی بھی ترقی پسند جمہوری معاشرے کا نچوڑ ہےمغربی دارالحکومتوں میں خدشات ہیں کہ پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے اور موجودہ نگراں سیٹ اپ مقررہ مدت سے آگے جا سکتا ہے۔

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات 90 دن کے اندر کرانا ہوں گے تاہم پی ڈی ایم حکومت کے دور میں مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) نے مردم شماری کے نئے نتائج کی منظوری دی تھی،سفارتی ذرائع نے بتایا حلقہ بندیوں اور بعض تکنیکی معاملات کی وجہ سے چند ماہ کی تاخیر برداشت کی جا سکتی ہے تاہم، اگر انتخابات اگلے سال فروری سے آگے تاخیر کا شکار ہوئے تو ملک کیلیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اس سے آئی ایم ایف سمیت امریکی زیر قیادت مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی شمولیت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے-

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ سچ کہوں تو اگر انتخابات فروری سے آگے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمارے لیے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی یہی سطح برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا ایک اور سفارتی ذرائع نے میڈیا پر پابندی اور بعض سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جس پر ہماری گہری نظر ہے۔

    کینیڈا میں ملازمت ایک شکنجہ ہے. افریقی مہاجر