Baaghi TV

Tag: انتخابات

  • امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکہ میں صدارتی انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے وہیں موسم نے بھی ووٹرز کے لئے مشکلات کھڑی کر دی ہیں،آج، امریکہ کے اہم بیٹل گراؤنڈ ریاستوں میں ایک طاقتور سرد موسم داخل ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں شدید بارشیں اور طوفانی موسم کا سامنا ہوگا۔ یہ موسمی حالات انتخابات کے دن ان ریاستوں میں پریشانی کا سبب بنیں گے جہاں ووٹرز کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لیے باہر نکلنا ہے۔سب سے زیادہ بارش مشرقی ٹیکساس سے لے کر مِسوری،الینوائے سرحد تک ہو رہی ہے، جس میں سینٹ لوئس بھی شامل ہے۔ یہاں طوفان بھی آ رہے ہیں اور ساتھ شدید سیلاب کے خطرات بھی ہیں۔ کچھ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران 3 سے 8 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    بارشوں کا یہ سلسلہ آہستہ آہستہ مشرق کی طرف منتقل ہو گا، اور اس سے پہلے جو بارشیں ہو چکی ہیں ،انتخابی دن کی صبح، ان علاقوں میں گلیوں اور سڑکوں پر پانی جمع ہو سکتا ہے جس سے آمد و رفت میں دشواری ہو گی۔سرد موسم مشرق کی طرف بڑھتے ہوئے مینیسوٹا، ویسکونسن اور مشی گن جیسے بیٹل گراؤنڈ ریاستوں تک پہنچے گا اور جنوبی لوزیانا تک بارشیں لے کر آئے گا۔ گزشتہ انتخابات میں بارشوں کا اثر ووٹر ٹرن آؤٹ پر پڑا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ویسکونسن میں موسم سب سے زیادہ خراب ہو گا، جہاں سیلابی طوفانوں کے لیے شدید خطرے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ یہاں طوفانی بارشیں اور آندھی، جس کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، عوامی زندگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بعض علاقوں میں مختصر مدت کے لیے طوفان اور بگولے کا بھی امکان ہے۔آج کے دن سب سے زیادہ بارش مشرقی ٹیکساس سے لے کر جنوبی انڈیانا تک ہوگی، جو انتخابات میں ووٹرز کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    اس موسمی حالات کے باوجود، امریکہ میں انتخابی عمل جاری رہے گا، اور ووٹرز کے لیے یہ ایک چیلنج ہوگا کہ وہ ان قدرتی آفات کے باوجود اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

  • کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    امریکی صدارتی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کے حامی نہ صرف امریکہ میں ان کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کے حامی بھارت کے جنوبی صوبے تمل ناڈو کے ایک چھوٹے سے گاؤں تھولاسندرا پورم میں بھی ان کے حق میں دعائیں کر رہے ہیں تاکہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے سکیں۔

    کملاہیرس کی کامیابی کے لیے گاؤں تھولا سندرا پورم کے مندر میں پوجا کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ کئی روز سے جاری ہے،گاؤں تھولا سندرا پورم میں ایک دکان کے مالک جی مانی کندن کا کہنا تھا کہ کملا ہیرس کے لئے مندر میں خصوصی دعا کی گئی، اگر کملا جیت گئیں تو ہم یہاں بھارت میں جشن منائیں گے،مندر میں ایک پتھر پر کملا ہیرس کے نانا کے نام کے ساتھ ان کا نام بھی کندہ ہے جو کہ عطیہ دینے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔گاؤں تھولا سندرا پورم میں کملا ہیرس کے فلیکس لگائے گئے ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کملا ہیرس منتخب ہو گئیں تو ہمیں بھی خوشی ملے گی کیونکہ امریکی صدر ہمارے گاؤں کا ہو گا،گاؤں والے پرجوش ہیں اور کملا ہیرس کی تصویریں گھروں، دیواروں پر آویزاں کر رکھی ہیں.

    کملا ہیرس کے نانا، پی وی گوپالن، ایک صدی سے زیادہ پہلے تھولاسندرا پورم میں پیدا ہوئے تھے۔ بعد ازاں وہ چنئی شہر ہجرت کر گئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کے طور پر گزارا،کملا ہیرس کی والدہ، شیاملا گوپالن، بھارتی علاقے چنئی میں پیدا ہوئیں اور 1958 میں محض 19 سال کی عمر میں امریکا منتقل ہو گئیں۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی،شیاملا گوپالن نے چھاتی کے کینسر پر تحقیق کر کے عالمی شہرت حاصل کی،شیاملا نے 1963 میں ڈونلڈ ہیرس سے شادی کی، جو جمائیکا سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے کالج ساتھی تھے۔کملا ہیرس اور ان کی چھوٹی بہن مایا امریکا میں پیدا ہوئیں اور پرورش پائیں۔ کملا ہیرس اکثر اپنی والدہ کو اپنا آئیڈیل قرار دیتی ہیں،شیاملا گوپالن کا 2009 میں کینسر کے باعث انتقال ہو گیا، اور کملا ہیرس اپنی والدہ کی اسھیاں (راکھ) کو ہندو رسومات کے مطابق سپردِ آب کرنے کے لیے چنئی آئی تھیں،تھولاسندرا پورم گاؤں کو چار سال قبل عالمی توجہ اس وقت ملی جب کملا ہیرس امریکہ کی نائب صدر منتخب ہوئیں۔

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

  • ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ کا ہارس پر معیشت کے حوالے سے تنقید، جارجیا میں تقریر

    ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے جارجیا میں ایک تقریب کے دوران اپنے ڈیموکریٹ حریف کملا ہیرس پر شدید تنقید کی، جس میں انہوں نے معیشت کی بدحالی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا الزام ہیرس پر عائد کیا۔ ٹرمپ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر انہیں دوبارہ منتخب کیا گیا تو وہ مہنگائی کے مسئلے کو حل کریں گے۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران معیشت کو خاص توجہ دی ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ کے مطابق یہ مسئلہ امریکیوں کے لئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ رائے شماریوں سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹرز اس بات پر تقسیم ہیں کہ کون معیشتی مسائل، جیسے بے روزگاری اور روزمرہ کی ضروریات کی قیمتوں، کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔

    ایک سروے میں، جو 21 اکتوبر کو کیا گیا، 43 فیصد ووٹرز نے ہیرس پر اعتماد ظاہر کیا جبکہ 41 فیصد نے ٹرمپ کو ترجیح دی۔ خوراک اور پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے، ٹرمپ کو معمولی برتری حاصل تھی، جہاں 42 فیصد نے ان کی حمایت کی جبکہ 40 فیصد نے ہیرس کو ترجیح دی۔دریں اثنا، گیلپ کے ایک سروے میں، جو اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں ہوا، 54 فیصد ووٹرز نے ٹرمپ کو معیشت کی بہتر نگرانی کرنے والا قرار دیا، جبکہ 45 فیصد نے ڈیموکریٹک امیدوار کو ترجیح دی۔

    گیلپ کے مطابق، "ٹرمپ کو ہیرس کے مقابلے میں معیشت کے مسئلے کو بہتر طور پر سنبھالنے کے لئے ترجیح دی گئی ہے، جو انتخاب میں انہیں ایک نمایاں فائدہ دیتا ہے، حالانکہ یہ جزوی طور پر اس وجہ سے ہے کہ ریپبلکنز ڈیموکریٹس کے مقابلے میں معیشت کو ایک انتہائی اہم مسئلہ سمجھنے کے لئے زیادہ مائل ہیں۔”یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معیشت، جسے عوامی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے، آنے والے انتخابات میں ایک اہم موضوع ہوگی۔

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابی مہم کے اپنے آخری دن کو مختلف متنازعہ ریاستوں میں مصروف گزاریں گے۔

    وہ پیر کے روز شمالی کیرولائنا میں صبح کے وقت ایک ریلی منعقد کریں گے، جہاں وہ اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد وہ پنسلوانیا کا سفر کریں گے، جہاں ریڈنگ اور پٹسبرگ میں چند تقریبات کا انعقاد کریں گے۔ٹرمپ اپنی مہم کے اختتام کو مشی گن کے گرینڈ ریپڈز میں ایک بڑی ریلی کے ساتھ ختم کریں گے۔ اس ریلی کا مقصد اپنے حامیوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ وہ 5 نومبر کو ووٹ ڈالنے نکلیں۔ٹرمپ کے دن کا آغاز شمالی کیرولائنا میں ایک بڑے اجتماع سے ہوگا۔ یہاں، ٹرمپ اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے اور انہیں 5 نومبر کو ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کریں گے۔شمالی کیرولائنا کے بعد، ٹرمپ پنسلوینیا کا سفر کریں گے۔ یہاں وہ ریڈنگ میں ایک تقریب میں حصہ لیں گے جو کہ فلاڈلفیا کے مغرب میں واقع ہے۔ اس کے بعد، وہ پٹسبرگ میں بھی ایک ریلی کا انعقاد کریں گے، جہاں وہ اپنی مہم کی حکمت عملی پر روشنی ڈالیں گے۔ دن کا اختتام میشی گن کے گرینڈ ریپڈس میں ایک بڑی ریلی کے ساتھ ہوگا۔ یہ ریلی ٹرمپ کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہوگی، جہاں وہ اپنی حمایت کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کریں گے۔

    ٹرمپ کا یہ آخری دن مختلف ریاستوں میں مہم چلانے کی ایک حکمت عملی نظر آتا ہے، جہاں وہ اپنے حامیوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کر کے انہیں مزید متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے مواقع پر، جب انتخابات قریب ہیں، امیدواروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور انہیں ووٹ کے لیے متوجہ کریں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ٹرمپ خاص طور پر متنازعہ ریاستوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، جو انتخابی نتائج کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دن سیاسی طور پر بہت اہم ہے، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں الیکشن کے نتائج متنازعہ ہو سکتے ہیں۔ شمالی کیرولائنا، پنسلوانیا، اور مشی گن جیسی ریاستوں میں کامیابی ان کی مہم کی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کریں اور انہیں ووٹ دینے کی ترغیب دیں۔ان ریلیوں کے ذریعے ٹرمپ نہ صرف اپنی مہم کی طاقت کو ظاہر کریں گے بلکہ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ان کا پیغام عوام تک پہنچ رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک اہم وقت ہے، لیکن یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ان کی کوششیں واقعی لوگوں کو متاثر کر پائیں گی یا نہیں۔ٹرمپ کے حامی ان کی ریلیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب بھی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم شخصیت ہیں۔ الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی ان کی سرگرمیاں اور بھی بڑھ جائیں گی، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ حکمت عملی ان کے حق میں کام کرے گی یا نہیں۔

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

    امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس اور ان کے ریپبلکن حریف سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی مہم کے آخری لمحات میں بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    امریکی انتخابات کے لئے دونوں صدارتی امیدوار اپنے حامیوں سے حمایت مانگ رہے ہیں اور انہیں جذباتی انداز میں وائٹ ہاؤس بھیجنے کی اپیل کر رہے ہیں،امریکا میں صدارتی انتخابات 5 نومبر کو ہونے والے ہیں، جس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے،صدارتی امیدوار اور امریکی نائب صدر ہیرس نے ہفتے کے روز وسکونسن میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہم جیتیں گے، امریکی سیاست میں نئی نسل کو آگے لانے کا وقت آگیا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنی مہم کے لیے ورجینیا کا انتخاب کیا اور اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں امن اور خوشحالی کے نئے دور کا وعدہ کیا اور کملا ہیرس کو ایک لبرل بائیں بازو اور بنیاد پرست قرار دیا۔ ٹرمپ کے اگلے دو دنوں میں مشی گن، پنسلوانیا، جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں مہم چلانے کی منصوبہ بندی ہے۔

    امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ایک امیدوار کو 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں، ہیرس کو 226 اور ٹرمپ کو 219 الیکٹورل ووٹ ملنے کی توقع ہے، ہیرس کو 270 کے ہدف تک پہنچنے کے لیے 44 اضافی ووٹ اور ٹرمپ کو 51 ووٹ درکار ہیں، دونوں امیدواروں کی نظریں ایریزونا، نیواڈا، وسکونسن، مشی گن، پنسلوانیا اور شمالی کیرولائنا جیسی سات سوئنگ ریاستوں پر ہیں،ان ریاستوں میں ووٹروں کی ترجیحات ہر الیکشن میں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے انہیں سوئنگ اسٹیٹس کہا جاتا ہے

    سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پنسلوانیا اور مشی گن اس بار انتخابی نتائج میں اہم کردار ادا کریں گی۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، ان دونوں ریاستوں میں کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلہ ہے، جہاں ٹرمپ کو ہیرس پر معمولی برتری حاصل ہے، دونوں امیدوار اپنی تمام تر کوششیں ان سات ریاستوں میں لگا رہے ہیں اور بڑی ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

    سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری

    لاہور : سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے-

    باغی ٹی وی :لاہور میں سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل 15 منٹ تاخیر سے صبح ساڑھے 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا،سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے لیے 5 نشستوں پر 17 امیدوار مدمقابل ہیں، ان انتخابات کے لیے عاصمہ جہانگیر گروپ اور حامد خان گروپ میں مقابلہ ہے۔

    عاصمہ جہانگیر گروپ کی طرف سے صدر کی نشست پر میاں محمد رؤف عطا اور حامد خان گروپ سے منیر احمد خان کاکڑ کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے جبکہ سیکرٹری کی سیٹ پر حامد خان گروپ سے سلمان منصور اور عاصمہ جہانگیر گروپ کےملک زاہد اسلم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    اسی طرح نائب صدر پنجاب کی سیٹ پر رانا بختیار اور رانا غلام سرور کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری کی سیٹ پر محمد اورنگزیب اور راجہ زبیر حسین مقابلے میں ہیں، اسی طرح فنانس سیکرٹری کی سیٹ پر حامد خان گروپ سے اورنگزیب میر اور عاصمہ جہانگیر گروپ کے چوہدری تنویر مدمقابل ہیں۔

    سپریم کورٹ بار کے الیکشن میں 4 ہزار 21 وکلا اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، سب سے زیادہ ایک ہزار 414 ووٹرز کا تعلق لاہور سے ہے۔

  • جاپان،حکمران اتحاد کی اکثریت ختم،کسی پارٹی کو نہ ملی اکثریت

    جاپان،حکمران اتحاد کی اکثریت ختم،کسی پارٹی کو نہ ملی اکثریت

    جاپان میں ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں حکمران اتحاد کی اکثریت ختم ہوگئی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن اتحاد نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 98 سیٹیں زیادہ حاصل کیں، مگر وہ بھی حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل نہیں کر سکیں،جاپان میں حکومت بنانے کے لئے کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں مل سکی

    جاپان ٹائمز کے مطابق، اس بار کوئی بھی جماعت ایوان زیریں میں اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کی وجہ سے 15 سال بعد جاپان کی حکمران جماعت، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، اکثریت کھو بیٹھی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اتحادی جماعت کومیٹو نے 215 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اپوزیشن کی کانسٹیٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان نے 148 نشستیں حاصل کیں، جب کہ پچھلے انتخابات میں یہ جماعت صرف 58 نشستیں حاصل کر سکی تھی۔جاپان میں حکومت قائم کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو ایوان زیریں میں 465 میں سے 233 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

    جاپان کی آئندہ حکومت کی تشکیل عدم استحکام کا شکار رہی، کیونکہ ووٹرز نے وزیراعظم کی سکینڈل زدہ حکومتی اتحاد کو اتوار کے انتخابات میں سزا دی، جس کے نتیجے میں کسی بھی پارٹی کے پاس واضح مینڈیٹ نہیں تھا کہ وہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی قیادت کرے۔اس عدم یقینیت نے ین کی قیمت کو تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا، یہ اس وقت ہوا جب ملک اقتصادی مشکلات، اور جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کی طرف سے پیدا ہونے والی تناؤ کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اور ایک ہفتے بعد امریکی ووٹرز ایک اور غیر متوقع انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں گے۔

    ایشیا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہمیں نہ تو سیکیورٹی اور نہ ہی اقتصادی ماحول میں بہت مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے بھی جمود کی اجازت نہیں دینی چاہیے،” اور وہ بطور وزیراعظم جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ایشیا کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے جونیئر اتحادی پارٹنر کومیٹو نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 215 سیٹیں حاصل کیں، جو کہ پہلے 279 سیٹیں تھیں، کیونکہ ووٹرز نے مالی سکینڈل اور مہنگائی کی مشکلات کی وجہ سے حکومی پارٹی کو ووٹ نہیں دیئے۔ دو کابینہ کے وزراء اور کومیٹو کے رہنما، کیئیچی ایشی نے اپنی سیٹیں کھو دی ہیں،

    رات کے سب سے بڑے فاتح، بنیادی اپوزیشن جماعت آئینی جمہوری پارٹی جاپان نے 148 سیٹیں حاصل کیں، جو پہلے 98 تھیں، مگر پھر بھی 233 کی اکثریت سے بہت پیچھے ہیں۔آئین کے مطابق، جماعتوں کے پاس اب 30 دن ہیں کہ وہ ایک ایسا گروپ تلاش کریں جو حکومت بنا سکے، اور اس بات میں ابھی بھی عدم یقینیت ہے کہ ایشیبا، جو ایک مہینے سے کم عرصے میں وزیراعظم بنے ہیں، کتنی دیر تک اس عہدے پر رہ سکیں گے۔ چھوٹی جماعتوں نے بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کا مذاکرات میں کردار کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔

    یہ انتخابات جاپان کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں حکمران اتحاد کی اکثریت کا ختم ہونا واضح کرتا ہے کہ عوامی رائے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اپوزیشن کی نشستوں میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے، مگر یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی حکمرانی کا ختم ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام نئے رہنماؤں کی تلاش میں ہیں۔ مستقبل میں یہ صورتحال جاپانی سیاست کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

  • خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

    پشاور:خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے ، پولنگ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : سوات، مانسہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد، شانگلہ، لوئردیر ، باجوڑ، بونیر، کرک، مانسہرہ، کوہاٹ، نوشہرہ اور لکی مروت میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 45 ہزار 604 ہیں ، 260 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے 6500 سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پشاور میں 800 سے زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔

  • انٹراپارٹی انتخابات، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، چیف جسٹس

    انٹراپارٹی انتخابات، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نظرثانی اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی تین رکنی بینچ کا حصہ ہیں ،سپریم کورٹ نے کیس کے فریقین کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں،پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے گزشتہ روز فیملی مصروفیت کے باعث التواء کی درخواست دائر کی تھی ،13جنوری 2024کو سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا

    وکیل نے کہا کہ حامد خان کی جانب سے التوا کی درخواست آئی ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کی درخواست میں فیملی مصروفیات کے بارے میں لکھا، سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت چاہے تو ہفتے کو سماعت مقرر کردے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر یہ کہیں گے کہ ہفتےکو کیس کی سماعت مقرر کرلیتےہیں،پہلے ایسا ہوتا تھا کہ سینیئر وکلا عدالتوں کا دفاع کرتے تھے ،ہماری ایک جج کی ہارٹ سرجری ہوئی ہے اس کے باوجود وہ یہاں بیٹھی ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ اس درخواست میں جو گراؤنڈ دی گئی ہے وہ نامناسب ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہیڈ لائینز بن جاتی ہیں ، تنقید کریں لیکن سچ بھی بولیں،ان کے اس کیس میں پانچ وکلا ہیں، ایک کی التوا کی درخواست ہے باقیوں نے نہیں دی ، 13 جنوری کو پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کیس کا فیصلہ دیا مگر نظرثانی درخواست 6 فروری کو دائر ہوئی، لگتا ہے پی ٹی آئی فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہی نہیں تھی، متاثرہ فریق تو فیصلے کے خلاف فوری نظرثانی درخواست دائر کرتا ہے، حیران کُن طور پر نظرثانی درخواست اتنی تاخیر سے دائر کی گئی اور جلد سماعت کی درخواست بھی نہیں دی،پی ٹی آئی کی طرف سے التواء مانگنا تاخیری حربہ ہے، کیس ملتوی کر دیتے ہیں لیکن سچ تو بولیں،پی ٹی آئی انٹرپارٹی انتخابات سے متعلق ہمارے فیصلے کی جان بوجھ کر غلط تشریح کی گئی،

    اب تو جلوس نکالو ڈنڈے مارو یہ حیثیت رہ گئی ہے وکیلوں کی، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت بار بار مداخلت پر وکیل کی سرزنش کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ مجھے بات کرنے دیں ،ہم اپنے زمانے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ جج بول رہا ہو اور ہم بیچ میں بولیں ،اب تو جلوس نکالو ڈنڈے مارو یہ حیثیت رہ گئی ہے وکیلوں کی، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں ،مہذب معاشروں میں اختلاف رائے رکھنے کا بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے.

    انٹرا پارٹی الیکشن اور پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلا نظرثانی کیس میں حامد خان کی التواء کی درخواست منظور کر لی گئی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بنچ نے نظرثانی درخواست کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت کیس ملتوی کر رہے ہیں التوا کی درخواست منظور نہیں کررہے حامد خان کی ذات کیلئے کیس ملتوی نہیں کریں گے۔

  • انٹر اپارٹی انتخابات کیس، پی ٹی آئی نے مہلت مانگ لی

    انٹر اپارٹی انتخابات کیس، پی ٹی آئی نے مہلت مانگ لی

    تحریک انصاف انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نےسماعت کی،چییرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، ممبر بلوچستان نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کے الیکشن کیا چمکنی میں ہوئے تھے؟بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہیں جناب، انتخابات اسلام آباد میں بھی ہوئے تھے۔ہم نے دستاویزات جمع کروانی ہیں ایک ہفتہ سے دس دن تک کا وقت دیں۔بینچ نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو ہم اب بھی تسلیم نہیں کرتے تو کیا مستقبل ہو گا۔ ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے کہا کہ پارٹی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں رہے گا۔ بینچ نے ڈی جی پولیٹیکل فنانس کو ہدایت کی کہ آپ ہمیں اس نکتہ پر معاونت فراہم کریں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم بھی اس معاملہ پر آپ کو معاونت دیں گے۔ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن جو کر سکتا تھا اس نے کر لیا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو دستاویزات جمع کروانے کیلئے مہلت دے دی سماعت دو اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے فیڈرل الیکشن کمشنر رؤف حسن کی جانب سے تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں تھیں جس پر الیکشن کمیشن نے اعتراض عائد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کئے تھے، رؤف حسن نے فارم 65 پر مشتمل پارٹی سربراہ کا سرٹیفیکیٹ بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروا یا ،مرکزی اور صوبائی سطح پر نو منتخب پارٹی عہدے داروں کی تفصیلات شامل ہیں،مرکزی کور کمیٹی کے ارکان کے نام اور تفصیلات بھی شامل ہیں،فیڈرل الیکشن کمشنر کے نوٹیفکیشن کے علاوہ دیگر دستاویزات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئیں

    علاوہ ازیں،اکبر ایس بابر نے بھی پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کردیا ، اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے۔اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں باضابطہ درخواست دائر کردی، درخواست میں کہا گیا کہ ساڑھے 8 لاکھ میں سے 960 ووٹ پڑے ،سنی تحریک میں شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے،پی ٹی آئی کے فنڈز منجمند کئے جائیں۔

    تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا تھااور کہا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں بیرسٹر گوہر چیئرمین اور عمر ایوب سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ہیں، اس بار الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کرے گا اور ہمیں انتخابی نشان واپس ملے گا

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان