Baaghi TV

Tag: انجنئیر ظفر اقبال وٹو

  • سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    حج کا دوسرا دن تھا اور ہم منیٰ کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے اس ادھیڑ عمر پاکستانی جوڑے کو پریشانی اور خوف کے عالم میں آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے کچھ گھبرائے لیکن ہمارے اصرار پر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ کل رات سے راستہ بھولے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا خیمہ نہیں مل رہا۔ اگر ہم ان کو ان کے خیمے تک پہنچانے میں کچھ مدد کر دیں تو وہ ہمارے شکر گزار ہوں گے۔

    اس وقت تک گوگل میپ نہیں آیا تھا اور سمارٹ فون بھی اتنا سمارٹ نہیں ہوا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسے خیموں میں اپنا خیمہ تلاش کرنا بعض لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت تھا۔بہت بڑی تعداد میں پاکستانی حجاج خصوصاْ اپنے گروپ سے بچھڑ جانے والے لوگ اپنے خیمے تک مشکل سے واپس پہنچ پاتے۔

    ہم نے پہلے دن ہی پاکستانی حج مشن کے منیٰ میں کیمپ سے منٰی کے خیموں کا لے آوٹ میپ لے کیا تھا اور اپنی سول انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ کا کام میں لاتے نہ صرف خود اپنے خیمے تک با آسانی پہنچ جاتے بلکہ دوسرے حجاج کی بھی مدد کرتے ۔ ہم اپنے آفس سے تین سال انجنئیر دوست اکٹھے ہی حج کے لئے آئے ہوئے تھے اور منیٰ کے قیام کے دوران فارغ وقت میں راستہ بھولے حجاج کی نقشے کی مدد سے ان کے خیموں تک راہنمائی کرتے رہتے ۔

    بہرحال اس جوڑے کا خیمہ مین روڈ کے پاس ہی تھا اور ہم انہیں دو تین منٹ میں ہی منزلِ مقصود پر لے گئے۔ اپنی رہائش پر پہنچتے ہی رات بھر منیٰ میں بھٹکنے والی خاتون شوہر پر پھٹ پڑی

    “لخ دی لعنت تیری سول انجُئیرنگ تے۔ ساری رات ہم خیمے کے سامنے گزرتے رہے اور خوار ہو گئے مگر اس نالائق انجنئیر کو خیمہ نہ مل سکا جب کہ ان عام سے لڑکوں نے دو منٹ میں تلاش کر لیا ۔میں تو سات پشتوں تک وصیت کر جاؤں گی کہ اپنے بچوں کو سول انجنئیر نہ بنانا۔۔۔۔ پینجاپی سے ترجمہ”

    پتہ چلا کہ حاجی صاحب سول انجنئیر ہیں اور ایل ڈے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ہم تینوں دوست اب تک اس تبصرے سے محظوظ ہوتے ہیں۔

  • منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    منجا — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شادی سے دودن پہلے دُولہے کے دوست دُولہا کے ہمراہ محلے کے ہر گھر سے جا کر ایک ایک منجا اکٹھا کرتے۔ منجے کے پاوے پر اس گھر کے سربراہ کا نام لکھا جاتا۔ منجے کی صحت سے گھر کی معاشی حالت کا اندازہ ہوجاتا۔ کچھ بہتر حالات والے گھر سے منجے کے ساتھ ایک عدد سرہانہ یا چادر بھی مانگ لی جاتی ۔ ملک صاحب کے گھر سے سرخ پایوں والا منجا اور نئے سرہانے ملتے۔

    منجے شادی والے گھر کے مردان خانے کی چار دیواری کے اندر یا پھر کُھلے میں ایک ترتیب سے لگا دئے جاتے جہاں اگلے دودن شادی کی تقریبات جیسے سہرا بندی اور بارات کی روانگی وغیرہ کے لئے لوگ ان پر بیٹھتے۔ دور سے آئے ہوئے مہمان دو چار دن پہلے ہی چکے ہوتے اور وہ ان منجوں پر دن رات بیٹھک جماتے۔ کبھی کبھی کسی منجی کا شیرو ، بانہہ یا پاوا مہمانوں کے بوجھ ٹوٹ جاتا۔ ایک کڑاک کی آواز آتی اور مہمان چاروں شانےچِت۔اس زخمی منجی کو ایک طرف کھڑا کر دیا جاتا تاکہ شادی کا رولا ختم ہونے کے بعد اسے ٹھیک کروا کر مالک کے گھر بھیج دیا جائے۔ اکثر لوگ اپنی زخمی منجی اٹھا کر کے جاتے اور مرمت کروا لیتے۔

    یہ نہیں کہ اکٹھے کئے گئے سارے منجے مرد ہی استعمال کرتے، کوئی پانچ دس منجیاں زنان خانے میں بھی بجھوا دی جاتیں جن پر مہمان خواتین شادی والے دنوں میں اپنے چھوٹے بچے سلاتیں۔ ہ منجیاں ان کی ڈائننگ ٹیبل، صوفہ اور بچوں کا باتھ روم ہوتیں۔ صاف منجی دیتے ہوئے گھر والے کہتے “پتر اس نوں زنانے میں نہ دینا”

    موسم کی مناسبت سے ان منجوں کو لوگ سائے یا دھوپ میں خود ہی گھسیٹ لیتے اور وقت کی مناسبت سے ان پر لمے ہو جاتے یا بیٹھ جاتے۔فنکشن کے وقت ایک ایک منجے پر چھ سے دس دس لوگ بیٹھ جاتے۔

    وقت بدلا ، ٹینٹ سروس آئی، منجوں کی جگہ اسٹیل کی کرسیاں آئیں، پھر دریاں اور قالین بچھائے جانے لگے اور اب حالت یہ ہے کہ میرے چھوٹے سے قصبے کُندیاں میں دلہا دلہن تیار ہو کر پارلر سے سیدھے مارکی آتے ہیں۔ شادیوں میں منجوں پر بیٹھ کر لگنے والے مارکے (اکٹھ)ختم ہو چکے۔ تین گھنٹے میں ٹِک ٹاک شادی ختم۔

  • نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نعمتوں کی قدر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کووِڈ کے دوران ایک سینئیر پروفیشنل انجنئیر خلیجی ملک سے اپنی نوکری سے فارغ ہوگئے اور کئی ماہ بے روزگار رہنے کے بعد بالآخر ہماری فرم میں ایک منیجمنٹ پوزیشن کے لئے منتخب ہوگئے۔ پراجیکٹ سائٹ ان کے گھر ملتان سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر سطح کے شہر میں تھی جہاں انہوں نے ہر وقت موجود رہ کر اپنی ٹیم سے کام کروانا تھا سوائے ہفتہ وار چھٹی کے جو کہ تعمیراتی منصوبوں میں جمعہ والے دن ہوتی ہے۔

    شروع میں چند دن انہوں نے ٹھیک ٹھاک کام کیا لیکن پھر روزانہ پراجیکٹ کی گاڑی پر ملتان سے آنا جانا شروع کردیا۔ مجھ تک بات پہنچی تو ان سے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کو ہر وقت سائٹ پر ہونا چاہئے جہاں کمپنی نے آپ کو رہائش ، کھانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی خراب صحت کا بتایا اور وعدہ کیا کہ یہ چند دن کی بات ہے اور والدین کی صحت بہتر ہوتے ہی وہ دوبارہ سائٹ پر شفٹ ہو جائیں گے۔

    تاہم وہ دن نہ آیا اور اب انہوں نے روزانہ دس گیارہ بجے سائٹ پر پہنچنا اور تین بجے ملتان واپسی کرنا شروع کردی۔ پھر ہر ہفتے ایک آدھ دن ناغہ مارنا شروع کردیا ۔ ہمارے بار بار رابطہ کرنے پر وہ بتاتے کہ وہ سائٹ پر مکمل رابطے میں ہیں اور کلائنٹ کو بھی سنبھالا ہوا ہے جس کا دفتر ملتان میں تھا۔ تاہم ہم نے انہیں فوراً سائٹ پر شفٹ ہونے کا کہا لیکن ان کی روٹین تبدیل نہ ہوئی ۔ ان کے بقول وہ بیمار والدین کو کسی کے حوالے نہیں کر سکتے جس پر ہم نے انہیں ایک دو ماہ چھٹی لینے یا پھر جاب تبدیل کرنے کی آفر کی مگر انہوں نے سابقہ روٹین برقرار رکھی۔

    ہم نے پراجیکٹ کی بگڑتی صورت حال کے پیشِ نظر ایک اور قابل بندے کو سیلیکٹ کرکے ان کی جگہ بھیج دیا کہ چارج ان کے حوالے کردیں۔ وہ فرم کے صدر دفتر حاضر ہوئے معافی تلافی کی اور آئندہ سے نظم و ضبط کی پابندی کے وعدے کے ساتھ پھر سے سائٹ پر شفٹ ہو گئے۔ ایک آدھ مہینہ صحیح نکالنے کے بعد وہ دوبارہ پرانی روٹین پر آگئے اور کلائنٹ کے لوگوں کے ساتھ گروپ بنا کر ہفتے میں دو تین دن غائب رہنے لگے۔

    ہم نے انہیں ایک مہینہ کا ایڈوانس نوٹس دے کر نیا انجنئیر سائٹ پر بھیج دیا اور ان کو گھر بھیج دیا۔ کچھ عرصہ تو انہوں نے مختلف ذرائع سے دباؤ ڈلوا کر واپس آنے کی کوشش کی لیکن الحمدللّٰہ ناکام رہے اور اس عرصے میں نئے بندے نے کام سنبھال لیا اور پراجیکٹ سیدھا ہونے لگا۔کبھی کبھار پرانے بندے کو فارغ کرنے پر افسوس بھی ہوتا لیکن ان کی وجہ سے کام بھی کافی متاثر ہورہا تھا۔

    کچھ دن پہلے ان کا دوبارہ میسیج آیا ہے کہ آپ نے تو مجھے فارغ کردیا تھا لیکن میں پھر خلیج آگیا ہوں، اس سے کئی گنا بہتر جاب پر۔ سوچ رہا ہوں اس کے بیمار والدین کس حال میں ہوں گے؟ اس پراجیکٹ پر تو وہ ہفتے میں ایک دو دن انہیں ملنے جا سکتا تھا لیکن خلیج سے تو شائد ایک دو سال بعد ہی واپس آنا نصیب ہو۔ ہم کیوں نہیں اپنی موجود نعمتوں کی قدر کرتے؟

  • تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تین شہر۔ تین ٹونٹیاں۔ تین کہانیاں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    پہلی ٹوٹی

    یہ ٹونٹی لاہور میں میری سوسائٹی کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اس کا شائد پیٹ کھل گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی ناب پوری طرح بند نہیں ہوتی لہذا اس سے پانی کی باریک دھار ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ اس ٹونٹی کا بڑا دل کرتا ہے کہ کوئی مسیحا آکر اس کے لوز موشن بند کرے۔

    پچھلے جمعہ کی بات ہے کہ ایک حاجی صاحب بڑے خشوع وخضوع سے اس ٹونٹی پر وضو کررہے تھے کہ ان کا موبائل بجنا شروع ہوگیا۔ انہوں نے کھلی ٹونٹی کے نیچے پیر رکھتے ہوئے ہی جیب سے موبائل نکال کر سکون سے بات کی تاکہ دوسرا عضو دھونے تک پہلا عضو خشک نہ ہو۔

    مجھ سے ٹونٹی کی بے بسی اور پانی کی بے قدرے برداشت نہ ہوئی اور حاجی صاحب سے نرم لہجے میں شکایت کی تو وہ برا منا گئے۔ کہنے لگے کیا ہم مسجد کا چندہ دوسروں سے کم دیتے ہیں۔ان لوگوں کو کیوں نہیں کچھ کہتے جو استنجا خانے میں جاکر پہلے دوتین لوٹے پانی بہاتے ہیں اور پھر اپنا کام شروع کرتے ہیں۔

    اگر ہماری یہی اجتماعی سوچ رہی تو صرف چار پانچ سال بعداس مسجد میں دوسری اور تیسری قسم کی ٹونٹیاں لگی ہوں گی جن کی تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

    دوسری ٹونٹی

    اس ٹونٹی سے میری ملاقات پچھلے ماہ پشاور رنگ روڈ کی ایک مسجد میں ہوئی۔ اس کی ناب اس مکینیکل طریقے سے فٹ کی گئی تھی کہ ایک ہاتھ سے اسے پکڑ کر اوپر کرنا پڑتا تھا تاکہ پانی کی قلیل فراہمی شروع ہو سکےاور دوسرے ہاتھ سے وضو کی کوشش کی جاتی۔ یہ پانی بچانے کا ایک نہایت اچھا طریقہ تھا۔ مجھ جیسے پانی ضائع کرنے والے میدانی علاقے والے کو یہ ٹونٹی ایک نری مصیبت ہی لگی کیونکہ میرے وضو کی تکمیل شک میں پڑ گئی۔ یہ شرارتی ٹونٹی مجھے پورے وضو میں چھیڑتی رہی۔لیکن اس ٹیکنیک سے یہاں پر ہر کوئی بڑے کم وقت اور کم پانی سے اپنا وضو مکمل کرکے نماز ادا کر رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ وقت پہلے شائد یہاں “پہلی قسم “ کی ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں گی۔

    اس مسجد کے باتھ روم بھی اس کفایت شعاری سے بنائے گئے تھے کہ آپ کوئی ایسی بڑی کاروائی نہیں ڈال سکتے تھے جس کی وجہ سے بعد میں دو دوتین لوٹے بہانے پڑیں۔ ہمیں تو یہاں چھوٹی موٹی کاروائی کی بھی ہمت نہ ہوئی کیونکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے پبلک میں رسوا ہونے کا امکان تھا۔ باتھ روموں کے اس ڈیزائن کی وجہ سے اور کچھ ہو نہ ہو پانی کی بہت بچت ہورہی تھی۔

    واٹر مینیجمنٹ کے یہ زبردستی طریقے پشاور کے علاقے میں پانی کی فراہمی کی صورت حال میں تناو کو صاف ظاہر کر رہے تھے۔

    تیسری ٹونٹی

    یہ ٹونٹی کوئٹہ میں میرے محلے ارباب کرم خان روڈ کی مسجد میں لگی ہوئی ہے۔ اسے میں ایک دھائی سے بند ہی دیکھ رہا ہوں۔ اسے شائد عبرت کے لئے لگایا گیا ہے ورنہ ہم نے پچھلے دس سال میں اس سے پانی بہتا کبھی نہیں دیکھا۔ وضو کے لئے ایک چھوٹے سے ٹینک کا نل گیڑھ کر پلاسٹک کے چھوٹے سے لوٹے میں پانی لانا پڑتا ہے جس سے اکثر دو لوگ بھی وضو کر لیتے ہیں۔ اکثریت گھر سے وضو کرکے آنے والوں کی ہوتی ہے۔ اردگرد کی دکانوں والے تو ایک وضو سے دوتین نمازیں ادا کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔

    اس ٹونٹی سے بہتے پانی کو دیکھنا میرا ایک خواب ہے۔ یہ غم زدہ ٹونٹی بھی شائد اپنے بننے کا اصل مقصد بھول چکی ہے یا شائد پانی کے وچھوڑے کے غم سے پیرا لائز ہو چکی ہے۔ پرانے نمازی بتاتے ہیں کہ کبھی یہ بھی “پہلی قسم “ کی ٹونٹی تھی جس سے بے دریغ پانی بہتا تھا جب کوئٹہ کازیر زمین پانی ہزار فٹ سے نیچے نہیں گیا تھا اور پانی کے ٹینکر کا ریٹ ہزاروں روپے نہیں ہوا تھا۔ اب تو یہ ٹونٹی بھی بانجھ ہوگئی۔اس مسجد کے باتھ روم کو تالا لگا ہوا ہے۔

    جنتی ٹونٹی

    جنتی ٹونٹی ہم سب کے ذہن میں لگی ہے اس کی ناب ہماری سوچ کے دھارے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ٹونٹی ہم سارا دن اپنے گھر، دفتر، اسکول ، پبلک پلیس یا کاروبار کی جگہ پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے استعمال میں آنے والی ہر ٹونٹی کا پانی استعمال کرتے ہوئے اسے اپنی پانی بچانے والی سوچ کی ناب سے کنٹرول کریں گے تو کئی ٹونٹیوں کو بانجھ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو تازہ پانی کا تحفہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اپنی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

  • دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہمارے ہاشم عاشورہِ محرم میں سیکیورٹی کے نام پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہوجاتی ہے لوگوں کو رابطے میں دشواری ہوتی ہے اور آن لائن کاروبار ٹھپ ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل کمپنیوں کا کاروبار بھی کچھ دنوں کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

    اسی طرح کسی بھی احتجاج کے دوران کنٹینر لگا کر راستے بند کردئے جاتے ہیں۔ بزرگ ، مریض، حاملہ عورتوں اور بچوں کو سکول، ہسپتال اور روزمرہ زندگی کے معاملات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ عام کاروبار بھی کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔

    تازہ ترین یہ ہے کہ آج کل کے دنوں میں دُھند کے دوران موٹر وے بند کردیا جاتا ہے جس سے لوگوں کا سفر اور کاروبار ڈسٹری ہوتا ہے اور مہینے بھر کے لئے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔

    پتہ نہیں ہم ہر کام کا حل چلتی پھرتی زندگی کو جام کرنے اور اپنا نقصان کرنے میں ہی کیوں سوچتے ہیں۔ کیا ان مسائل کو مواقع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟

    کہتے ہیں کام کرنے والے کام کرنے کی کوئی ایک وجہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جب کہ نکمے اور سست لوگ سو وجوہات کے ہوتے ہوئے بھی کام نہ کرنے کا ایک بہانہ تراش لیتے ہیں ۔

    دُھند زدہ اس ایک مہینے کے بعد اب ہمارے ہاں پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے پر واویلا ہوگا حالانکہ اس مضمون کے ساتھ شراکت کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دُھند کو پانی میں تبدیل کرنا تیکنیکی طور پر کتنا آسان اور قابلِ عمل ہے۔

    اس سے ملتے جلتے بے شمار طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں جس میں کپڑے کا نیٹ، پلاسٹک کی شیٹیں یا کوئی بھی اس جیسا اور میٹیرئیل استعمال کرکے دُھند کو پانی بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ دُھند کی نعمت سے فائدہ اُٹھائیں۔

    یہ ایک اچھوتا بزنس آئیڈیا بھی بن سکتا ہے جس میں کوئی بھی زرعی مشینری سے متعلقہ سیٹ اَپ دُھند سے پانی بنانے والے متحرک (موبائل) یونٹ بنا کر کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرائے پر بھی دے سکتا ہے۔

    دُھند سے پانی بنانے والے یہ یونٹ اِس طرح بھی ڈیزائن کئے جاسکتے ہیں کہ مون سون کے موسم میں یہ افقی ہوکر بارش کا پانی بھی جمع کر سکیں ۔ یوں یہ مون سون اور دُھند، دونوں موسموں میں کارآمد ہو جائیں گے۔ ضرورت کے حساب سے ان کا سائز چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے اور ہر وہ جگہ جہاں ترپال یا پلاسٹک شیٹ کا استعمال ہو تا ہے وہاں اس طرح کے یونٹ کے لئے بھی وہی کپڑا استعمال ہو سکتا ہے۔

    اسی اُصول پر بھَٹّوں اور کارخانوں کی چمنیاں بھی ، جو عام طور پر ڈھند میں بند ہوتے ہیں ، دُھند کو واپس اندر کھینچ کر پانی میں تبدیل کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں یا پھر ایسی کئی موبائل چمنیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں جو کھیتوں کی کنارے دُھند اپنے اندر کھینچ کر دوسری طرف نالے یا تالاب میں پانی نکال رہی ہوں۔

  • آبی سالنامہ  2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آبی سالنامہ 2022 — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہم پاکستان کی آبی تاریخ کے شاید سب سے ظُلمی سال کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جس کے پہلے چھ ماہ پانی کی کمی سے لوگ اور جانور مرتے رہے تو اگلے چھ ماہ بارشی سیلابی پانی کی زیادتی سے۔

    اس سال کی شروعات ہی تاریخ کی بدترین خشک سالی سے ہوئی۔تربیلا ڈیم 22 فروری کوئی ڈیڈ لیول پر آگیا تھا۔ محکمئہ موسمیات کے مطابق اس سال مارچ اور اپریل کے مہینوں میں ملک بھر یں معمول سے 62 فی صد سے لے کر 74 فی صد تک کم بارشیں ہوئیں اور یہ مہینے گزشتہ چھ دہائیوں کے اب تک کے سب سے زیادہ گرم مہینے تھے۔گرمی کی شدت کا اندازہ لگائیں کہ مئی میں ژوب کے پاس ضلع شیرانی کے ہزاروں ایکڑ پر پھیکے زیتون اور چلغوزوں کے باغات میں آگ بڑھک اٹھی جس پر کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد ہی قابو پایا جاسکا۔ 10 کلومیٹر لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ہزاروں درخت جل گئے اور اس زیادہ جنگلی حیات مر گئی۔

    مار چ اپریل میں ہی سندھ اور پنجاب جے کاشتکار پانی کی کمی کی وجہ سے سڑکوں پر آگئے تھے جب نہروں میں ضرورت کا صرف ایک چوتھائی پانی چل رہا تھا اور خریف کی فصل خصوصاً گندم پانی کی کمی کی وجہ سے تباہی سے دوچار تھی۔

    دوسری طرف مئی میں چولستان اور ڈیرہ بگٹی میں لمبی خشک سالی سے پانی کے ٹوبے ،کنڈ اور تالاب خشک ہو چکے تھے اور جانوروں کے ریوڑ کے ریوڑ پیاس سے مر رہے تھے اور ان علاقوں کی انسانی آبادی خطرے کو بھانپتے ہوئے ہجرت پر مجبور تھی۔ پیر کوہ میں تو کئی انسانی اموات بھی ہوئیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے اجاگر ہونے سے ریسکیو 1122 اورکئی فلاحی تنظمیں متحرک ہوئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ان علاقوں میں ٹینکرو سے پانی پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کا 17 فی صد سے زیادہ زمینی رقبہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں صحرائے تھل، چولستان، تھر، نوشکی اور خاران کے علاقے شامل ہیں جہاں انسان اور جانور خشک سالی سے متاثر ہوئے۔

    جہاں ایک طرف خشک سالی اور گرمی کی شدت زور پر تھی وہیں محکمئہ موسمیات نے اپریل کے آخر میں اس سال ایک ظالم مون سون آنے کی پیش گوئی کر دی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہ کیا گیا۔مئی کے آخر (22مئی) میں چولستان میں تیز بارش اور ژالہ باری ہوئی اور روہیلوں نے اس کا استقبال جشن منا کر کیا۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں اس سال معمول سے زیادہ بارشیں اور 2010 سے بھی بڑا سیلاب آنے کی خبر سنا دی لیکن خشک سالی کے ماحول میں اس اعلان کو توجہ نہ دی گئی۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل مئی تک مون سون سے نپٹنے کے اپنے اپنے منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کروا دیتے ہیں لیکن ملک میں اُس وقت جاری سیاسی سرکس کی وجہ سے معمول کا یہ کام بھی صحیح طریقے سے نہ کیا گیا۔

    جون کے آخر میں ملک سے سب بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ہر طرف جل تھل ہو گئی اور پورے شہر کی آبادی کئی دنوں اپنے گھروں میں قید ہوگئی کیونکہ سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا تھا۔ انہی دنوں میں کراچی میں امان خان کاکاخیل ستون نیکی والے ابھر کر سامنے آئے جو کراچی میں بارشی پانی سے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے انتہائی سادہ اور کسی حد تک بالکل بنیادی مگر بے حد مفید طریقے سے خشک کنوؤں کو تر کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے تھے۔

    جب ملک کراچی کے ڈوبنے کو دیکھ رہا تھا تو جون کے آخر اور جولائی کے شروع میں میانوالی میں کوہِ نمک اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان پر ہونے والی طوفانی بارشوں سے پہاڑی نالوں میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی۔ کرک، لکی مروت اور ڈی آئی خان کے پہاڑوں کے دامن کے علاقے بھی طوفانی ریلوں کی زد میں آگئے لیکن سرکار ابھی تک بھی سوئی ہوئی تھی اور راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

    اس سال جولائی کے شروع ہوتے ہی شمالی بلوچستان میں مون سون شروع ہوگئی جس یں ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ ، لورا لائی، با رکھان، ہرنائی، پشین اور کوئٹہ تک میں بارشیں شروع ہو گئیں۔یہ عیدالاضحیٰ کے دن تھے۔ 6 جولائی سے شروع ہونے والی یہ بارشیں اگست تک جاری رہیں جو کہ بلوچستان کے کیے ایک غیر معمولی صورت حال تھی کیونکہ بلوچستان کے صرف مشرقی اضلاع ہی مون سون کی آخری حد ہیں جس کے بعد ان کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم اس دفعہ جنوبی بلوچستان میں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی جس میں آواران اور تربت جیسے علاقے بھی شامل تھے۔کئی ڈیم اور بین الصوبائی رابطہ سڑکوں کے پُل ٹوٹ گئے۔ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں سیلابی پانی کے ساتھ بہہ گئیں۔

    جولائی کے تیسرے ہفتے تک سندھ بھی طوفانی مون سون کی زد یں آچکا تھا اور ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی اس سال کی مون سون اس لئے مختلف تھی کہ بارش کا ایک دورانیہ ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہوجاتا اور زمین جو پہلے ہی گیلی پڑی ہوتی اس میں پانی سینچنے کی بجائے فوراً سیلابی صورت حال اختیار کر لیتا۔ دوسرے ایک دو اسپیل کی بجائے بارش کے چھ سے سات اسپیل ہوئے اور چند دنوں میں ہی پانچ چھ سالوں کے حجم برابر مینہہ برس گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے چھ گنا زیادہ بارشیں ہوئیں۔یہ پہلی دفعہ ہورہا تھا کہ سندھ میں دریائے کابل اور تربیلا سے چلے ہوئے سیلابی ریلے ابھی نہیں پہنچے تھے لیکن صوبے کا بڑا حصہ بارشی پانی سے زیرِآب آچکا تھا۔

    اسی دوران کوہِ سلیمان کے سیلابی ریلے تونسہ اور ڈی جی خان یں تاریخی تباہی لے کر آئے اور کئی بستیوں کو آنِ واحد میں اُجاڑ کر رکھ دیا۔جولائی کے آخر تک کراچی کے لئے پانی ذخیرہ کرنے والا حب ڈیم بھر چکا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر مون سون کی سر زمین پنجاب میں معمولی بارشیں ہورہی تھیں۔

    اگست کے آخر (26 اگست) میں مون سون نے وادئی سوات میں تباہی مچادی اور دریائے سوات اپنے کناروں سے چھلک پڑا۔ دریا کنارے بنائے گئے بیشتر سیاحتی ہوٹل تنکوں کی طرح پانی یں بہنے لگے۔ کے پی میں کوہستان کی وادئی دبیر میں پانچ بھائیوں کی سیلابی ریلے میں پھنسنے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چار بھائی سیلابی ریلے کے ساتھ مدد پہنچنے سے پہلے ہی بہہ گئے۔

    سندھ اور بلوچستان کے ملحقہ علاقوں پر 100 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر سیلابی پانی نے عارضی جھیل بنا دی جس کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری بھی غمگین ہو گئے اور انہوں نے اس سیلاب کو “a monsoon in steroids” کہا۔ حکومت بھی جاگی اور سیلابی علاقوں میں فلاحی تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ صرف الخدمت کی طرف سے قائم کی گئی عارضی خیمہ بستیوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی۔

    ان تباہ کن بارشوں کو عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا اور عالمی سطح پر پاکستان سے ہمدردی کے جذبات دکھائے گئے کیونکہ پاکستان کا عالمی ماحول کو خراب کرنے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا لیکن یہ اس موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا تھا۔ سیلابوں سے پاکستانی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا، تین کروڑ سے زیادہ آبادی متاثر ہوئ، 2 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور 8 لاکھ سے زیادہ جانور ہلاک ہوئے۔

    نومبر کے پہلے ہفتے میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونیوالی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP27) میں مصر نے پاکستان کو اس کی مشترکہ صدارت پیش کی ۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ G77 کی سربراہ کے طور پر شرکت کی۔پاکستانی وفد نے عمدہ طریقے سے اپنا کیس لڑا اور دریائے سندھ کی بحالی کے منصوبے کو عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔

    تاہم اکتوبر سے دوبارہ خشک سالی والے حالات بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ سال کے آخری تین مہینوں میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں خصوصاًلاہور کی فضاسموگ سے زہر آلود ہو چکی ہے۔

    سال ختم ہونے کو ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی پچھلے چار مہینوں سے نہیں نکال سکی۔ کھجور، چاول اور کیلے کی فصل تو سیلاب نے پہلے ہی تباہ کردی ، اب کھڑے پانی میں گندم کی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکتی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال، کچھی کینال اور پٹ فیڈر کینال میں بھی سیلابی تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک نہ ہو سکنے کی وجہ سے نہری پانی نہیں چل رہا۔ کسانوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ حالات ایک آنے والے دنوں میں خوراک کی قلت کا سنگین مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آنے والا سال پاکستان کے آبی وسائل کی بہتری کا سال ہو۔

  • ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈی پرنٹر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی سے گریجویٹ کرنے کے بعدپوری ربع صدی آنی وسائل کے غیر ملکی اور ملکی مشاورتی اداروں میں کام کرتے گزری ہے۔ دنیا بھر میں مشاورتی اداروں ( سول انجنئیرنگ کنسلٹنٹس) کے بارے میں کافی باتیں مشہور ہیں تاہم ایک بات جس پر شروع دن سے دل کڑھتا تھا وہ ہے ”کاغذ “ کا بے دریغ استعمال۔

    مشاورتی اداروں کو اپنی رپورٹس اور ڈارئنگوں کی پرنٹنگ کے لئے بے انتہا کاغذ چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیزائن فائنل کرنے تک ایک ایک ڈیزائن شیٹ کم ازکم دس سے بارہ دفعہ مختلف انداز میں ڈار فٹ پرنٹ ہو کر چیک ہو چکی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار ایک دفعہ کا پرنٹ کیا ہوا سینکڑوں ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹوں کا پوار سیٹ ڈیزائن کی ایک معمولی سی تبدیلی سے دوبارہ پرنٹ کرنا پڑتا ہے۔ کلائنٹ کے کمنٹس آجاتے ہیں، دوران تعمیر سائٹ کے مسائل آجاتے ہیں۔ الغرض ہر تبدیلی کا مطلب ہے نئی پرنٹنگ۔

    یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا اگر آپ کو کاغذ کے ایک صفحے کے پیچھے ہونے والی قدرتی تباہی کا اگر پتہ نہ ہوتا۔ کاغذ کا ایک رِم بنانے کے کئے پتہ نہیں کتنے درختوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور پھر درخت سے کاغذ بننے کے عمل میں بے انتہا پانی بھی پراسسنگ اور کولنگ میں ضائع ہوجاتا ہے۔ پاکستان کے اندر موجود پیپر انڈسٹری تو عالمی معیار سے کم ازکم دس گنا زیادہ پانی ضائع کرتی ہے۔

    کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پچھلی ربع صدی میں اکیلے میں نے جتنے کاغذ پرنٹنگ میں استعمال کردئے ہیں ، اس سے تو کئی جنگل اس دھرتی کے سینے سے کٹ گئے ہوں گے اور پانی کی کئی ندیاں بہہ گئی ہوں گی۔ اس عمل کی تباہی کو کچھ کم کرنے کے لئے ہم ہمیشہ ضائع شدہ پرنٹ والے کاغذ سنبھال کر رکھ لیتے اور رف / ڈرا فٹ پرنٹنگ ان کی دوسری صاف سائیڈ پر کر لیتے۔ اس طرح کم ازکم اس تباہی کا اثر آدھا تو کم ہو جاتا۔

    تاہم اب ایک کمپنی “ڈی پرنٹر “ میدان میں لائی ہے جو کہ عام استعمال ہونے والے لیزر پرنٹر کے اُلٹ کام کرتا ہے۔ اس کے اندر اگر آپ ایک پرنٹ شدہ صفحہ ڈالیں تو یہ اسے سلیٹ کی طرح صاف کرکے دوسری طرف نکال دیتا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ ایک صفحے کو آپ دس بار تک ڈی پرنٹ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی ماحول دوست ایجاد سمجھی جارہی ہے جو کہ اس سیارے سے درختوں کی کٹائی کا عمل سست کرنے، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

  • ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شکر ہے کہ ہمارے وقت میں سوشل میڈیا کا وجود نہ تھا وگرنہ جس طرح کل سے 29 میڈل لینے والے ڈاکٹر ولید کی مسلسل تحقیر کی جارہی ہے ، میں تو خودکشی کر لیتا۔

    چونکہ میرا تعلیمی کیرئیر ڈاکٹر ولید سے مماثل ہے اور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں اسی طرح ہم نے بھی گردن بھر میڈل لئے تھے تو میں کسی قدر جان سکتا ہوں کہ بے چارے ولید اور اس کے والدین اگر سوشل میڈیا ئی طوفانی پوسٹیں دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت دُکھی ہوں گے۔ کیوں کہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کی عزم وۂمت کی داستان وہی جانتے ہیں۔

    فرسٹریشن کے مارے کسی ڈاکٹر توصیف آفریدی نے بظاہراً نظام کے نوحے کے نام پر ایک پوسٹ لکھ ماری جس میں اس کا تقابل ایک ڈانسر لڑکی سے کیا گیا کہ جسے ندا یاسر تو اپنے شو میں بلاتی ہے یاسر شامی پیچھا کرتا ہے مگر اس لڑکے کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔ ڈاکٹر ولید کو ایک بے کار انشان کہا گیا کہ اس کی شکل دیکھ لو یہ آپ کو دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

    زنگر برگروں نے ذہنی چسکے کے لئے اس پوسٹ کو خوب اٹھایا۔ کہا گیا کہ اس نے پریکٹیکل لائف میں آکر دھکے کھانے ہیں، نوکری نہیں ملنی، رشوت سفارش سے کوئی نوکری مل بھی گئی تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ اور اگر وہ ملک چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تو اس کا اپنی اگلی نسلوں پر احسان ہوگا۔اسے میڈل بیچ دینے تک کا کہا گیا۔

    قسم لے لیں جو کسی ایک زنگر برگر نے بھی اس کی محنت اور جذبے کو سراہا ہو، اس کو کامیابی پر مبارک باد دی ہو یا ا س کے بہتر مستقبل کی دعا کی ہو ۔ ہماری ذہنی حالت اس سے زیادہ اور بانجھ اور اپاہج کیا ہوسکتی ہے۔

    ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ولید کو جھوٹی سچی ہمدردی کے نام پر اپنی تحقیر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انشااللہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔

    میرے گلے میں جب وزیراعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب بار بار لگاتار میڈل ڈال رہے تھے تو میں اس وقت چھ ماہ سے جاری مسلسل بے کاری کی حالت میں تھا۔ اور الحمدللّٰہ ٹھیک بیس سال بعد میں ایک فرم اونر کے طور پر انکے شروع کردہ فارم ٹو مارکیٹ روڈ پراجیکٹ کی کنسل ٹینسی کا کانٹریکٹ لینے کے بعد ان سے کِک سٹارٹ میٹنگ کر رہا تھا۔

    ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہم لوگوں نے ہی ٹھیک کرنا ہے نہ کہ اپنے بہترین دماغوں کا ٹھٹہ اڑا کر انہیں بے عزت کرنا ہے، اپنے پڑھنے والے بچوں کا دماغ خراب کرنا ہے اور ان کے والدین کا مایوس کرنا ہے۔

    ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، ہمیشہ اسےاپنی پروفیشنل لائف سکریچ سے شروع کر نا پڑتی ہے اور اپنے فن سے اپنے فیلڈ میں نام بنانا پڑتا ہے۔

    مانا کہ زندگی کے زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، بہت دشواریاں، رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ایک دن کے لئے ۔۔ صرف ایک دن کے لئے۔۔۔کیا ان سب مسائل کو اپنے ذہن سے جھٹک کر ہم کسی کی محنت اور کامیابی کو سیلی بریٹ نہیں کرسکتے؟

    کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو معاشرے میں بہت دشواریاں ہیں لیکن آپ کی بے مثل کامیابی کی وجہ سے آپ یقیناً لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ انشااللہ بہت ترقی کریں گے۔

  • نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نیوٹن کا قانون حرکت برائے مویشیاں و انساناں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    یہ بات غلط ہے کہ نیوٹن جب درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو اس کے سر پر سیب گر کر لگا- اصل میں تو وہ سکول سے بھاگ کر وہاں بیٹھا “کٹے” اور “وچھے” کی حرکات پر غور کر رہا تھا جس کے بعداس نے یہ قانون حرکت دریافت کیا-سیب قدرتی طور پر اس دوران اس کے سر پر گر گیا تھا-

    ڈیجٹل نسل کیلئے وضاحت کرتا چلوں کہ” کٹا “ میڈم بھینس“کے صاحبزادے کو کہتے ہیں اور” وچھا “ مس گائے کے بچے کا نام ہے-نیوٹن کے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کٹے اور وچھے کی گہری دوستی ہو گئی – وچھا کٹے سے کہتا کہ “یار آؤ گلی میں چھلانگیں مارتے ہیں “ جبکہ کٹا ہر وقت اس موڈ میں ہوتا کہ “نہیں بھائی -دیوار کے ساتھ بیٹھ کر “جگالی” مارتے ہیں(یعنی چیونگم چباتے ہیں)”- یہیں سے کٹے وچھے کا قانون دریافت ہوا-

    آپ اگر غور کریں تو آپ کو کئی “کٹے “ اور “وچھے” انسانی روپ میں آپ کے گھر گلی محلے اور دفتروں میں نظر آیئں گے- انسان نما کٹے ہر وقت چینگم چبا رہے ہوں گے اور آپ کو کہیں گے”یہ مشکل ہے”، “تم بزنس نہیں گر سکتے”، “ایک دفعہ سرکاری نوکری مل جائے تو پھر ٹھنڈ ہی ٹھنڈ”، “میں سیلیکٹو سٹڈی کروں گا”، “مین یہ سمسٹر ڈراپ کر دیتا ہوں اگلے میں زیادہ تیاری کروں گا”،”میں سی ایس ایس نہیں کر سکتا”، “میری انگلش ٹھیک نہیں ہو سکتی”، حالات میرے بس سے باہر ہیں”،”یہ نظام کی خرابی ہے”، “ہمارے حکمران ہی نالائق ہیں”، وغیرہ وغیرہ-

    کٹوں کے سب سے پسندیدہ جملے ہوتے ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”اس کام پر میرا دل نئیں کررہا” یا “آج میرا موڈ نہیں” یا “تم یہ کام نہیں کر سکتے”-

    کٹے دن رات ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر ٹاک شو دیکھتے رہیں گے مگر جب کوئی گھر کا کامُ کہےگا تو انہیں سانپ سونگھ جائے گا-تھکاوٹ یاد آجائے گی- یہ ہر جگہ آپ کو اپنی” کٹا گیری” کرتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم کام کل پر ڈالیں گے اور دعا کریں گے کہ وہ کل کبھی نہ آئے- یہ ساری رات سمارٹ فون پر گزار کر دفتر میں اونگھتے نظر آیئں گے- یہ ہر اہم میٹنگ میں بغیر تیاری کے جایئں گے اور میٹنگ شروع ہونے تک ان کی خواہش ہو گی کہ اللہ کرے نہ ہی ہو-

    کٹے جم میں داخلہ کر سمجھیں گے کہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہی وزن کم ہو جائے گا-یہ آپ کو ڈیوٹی پر اونگھتے نظر آہیں گے – کٹوں کے بال بڑھے ہوں گے کئی کئی دن نہ نہانے کی وجہ سے ان کے جسم سے” کٹ سوری” کی مہک آرہی ہوگی-یہ رات والے کپڑے پہن کر دفتر آجائیں گے- یہ آپ کو ہر وقت سہولیات کی کمی اور کام کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے- ان کے خیال میں یہ غلط وقت پر غلط ملک اور غلط لوگوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں- یہ ہر وقت مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہوں گے-یہ دیر سے سویئں گے اور دیر تک سوئیں گے- ان کی تو ندیں نکلی ہوں گی اور یہ نماز میں بھی اپنے رب کے حضور کٹھے ڈکار مار رہے ہوں گے

    کٹوں سے بچیں – یہ مضر انسانیت ہیں- یہ سب آپ کے اندر کے وچھے کو ورغلا کر “او گل” (جگالی) پر لگانا چاہتے ہیں – حالانکہ آپ کے اندر کا وچھہ باہر کی دنیا میں چھلانگیں لگانا چاہتا ہے- آسمان کو چھونا چاہتا ہے- ہواؤں کو مسخر کرنا چاہتا ہے- پانیوں پر تیرنا چاہتا ہے-

    آپ کی جب بھی کسی وچھے سے بات ہو گی وہ کہے گا “تم یہ کرسکتے ہو”، “تم کسی سے کم نہیں”، “تمہارے اردگرد کی دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے”،”ہمارا ملک بھی کسی سے کم نہیں”، “”محنت ضائع نہیں جاتی” – وچھے کو جب بھی موقع ملے گا یہ چھلانگیں لگائے گا یہ سراپا توانائی ہوگا- اس کے زندگی میں بڑے بڑے گول(ارادے) ہوں گے- اسی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہوگا – یہ کئی کٹوں سے بھی زندگی میں اپنی “وچھا ماری “سے بڑی بڑی چھلانگیں لگوانے کی کوشش میں ہوں گے-

    وچھوں کا پسندیدہ جملہ ہوگا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰”ہم یہ کام کیسے نہیں کر سکتے؟” وچھے کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہوتا، اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ “پندرہ روپے کے نوٹ کا کھلا کروالو گے “ تو یہ کہیں گے کہ “ساڑھے سات کے دو نوٹ چاہئیں یا سوا تین کے چارنوٹ”

    دنیا کی ساری مادی ترقی وچھوں کی مرہون منت ہے- وچھوں کا سکرین ٹائم کم ہوگا-ان کے پاس فیملی اور دوستوں کے لئے وقت ہو گا- ان کا اپنے رب سے بھی رابطہ برقرا ہوگا- یہ آپ کو مولا کی عنایتوں کا شکر ادا کرے نظر آیئں- یہ کم کھائیں گے- ان کے سونے اور جاگنے کے وقت مقرر ہوں گے- ان کا لباس صاف ہوگا – یہ آپ کو لوگوں کے ساتھ قہقہے لگاتے نظر آئیں گے- پارک میں واک کرتے نظر آیئںگے-

    اگلی دفعہ آپ کو اگر کوئی کٹا میکڈانلڈ میں بیٹھ کر ڈبل زنگر برگر کے بعد کوک سے ڈکار مارنے کی دعوت دے تو آپ اسے جم میں جاکر پش آپس لگانے کا پتہ پھینکیں- جب بھی آپ کسی کے منہ سے سنیں کہ “تم یہ کام نہیں کر سکتے “ “یا چھوڑو یار کل کریں گے” تو آپ زورُسے نعرہ لگائیں کہ ۰۰۰۰۰“کٹا ای اوئے” اور اس کی صحبت سے نکل جایئں ۰۰۰۰

    زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو وچھے کی طرح اپنے آپ سے پوچھیں ۰۰۰۰۰۰۰۰۰“میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں؟” ۰۰۰۰۰۰۰ یہ “کیسے” کا سوال ہی آپ کو آپ کے اندر کے “وچھے“کی صلاحیتوں سے روشناس کروائے گا – جس نے اپنے اندر کو کھوج لیا وہ کامیاب ہوا- اس کی سب مرادیں بر آیئں-اسے اپنے دنیا میں آنے کا مقصد مل گیا- اسے نروان حاصل ہو گیا-

    آخر میں نیوٹن کا اصلی قانون حرکت بیان کرتا چلوں کہ

    ”اگر کوئی انسان حالت حرکت میں ہے تو وہ متحرک ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “کٹا” نہ ٹکر جائے ۰۰۰۰۰۰۰۰ اور اگر کوئی انسان حالت سکون میں ہے تو وہ ساکن ہی رہے گا جب تک اسے کوئی “وچھا” نہ مل جائے”

    ویسے گورے یونہی تو گائے کا دودھ نہیں پیتے اور ہم بھینس کا؟”

  • رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کمرے کے وسط میں رکھی میز پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک گورا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کل ہی دبئی کے راستے لاہور پہنچا تھا ۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹیکنیکل منیجر تھا اور آج اپنی کمپنی کے لئے اسے کچھ نئے انجنئیرز کا ٹیسٹ لینا تھا۔

    کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ لمبی سی میز پر کئی اقسام کے ٹول پڑے ہوئے تھے جو مشینوں کو کھولنے یا اسمبل کرنے میں استعمال ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے والے ہر انجنئیر سے گورے کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مجھے یہ مشین کھول کر دکھاؤ ۔

    ڈیل یہ تھی کہ جس انجُئیر نے اس مشین کو کھول لیا گورا اسے کمپنی کے لوکل آفس میں بہت اچھے پیکیج پر بھرتی کر لے گا اور اگر کسی نے مشین کو کھول کر اسے دوبارہ اسمبل بھی کر لیا تو اسے سیدھا انٹرنیشنل سٹاف کا حصہ بنا لے گا۔

    یہ 1998 کا سال تھا اور انجنئیرز کا سخت بے روزگاری کا دور چل رہا تھا۔ حکومت ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ملازموں سے جان چھڑوا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے انجنئیر کو کسی جگہ عام سی جاب کے لئے بھی بہت تگ ودو کرنا پڑ رہی تھی اور یہاں تو معاملہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کا تھا۔

    جو بھی انجنئیر کمرے میں داخل ہوتا وہ جاکر کوئی نہ کوئی پیچ کس نما ٹول اٹھاتا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنا انتخاب یقینی بنانے کے لئےمشین کے ساتھ کشتی لڑنے میں مصروف ہوجاتا لیکن کسی کی دال نہ گلتی۔ مشین نے نہ کھلنا تھا نہ کھل سکی۔ ایک دو ہٹے کٹے نوجوانوں نے تو زور زبردستی لگا کر مشین کا ایک آدھا پیچ وغیرہ کھول بھی لیا جس کی وجہ سے مشین کے پیچوں کی جھریاں بھی خراب ہو گئیں لیکن پھر تنگ آکر انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئے۔

    احسن بھی امیدواروں کی قطار میں بیٹھا کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی یوای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ کی تھی لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک اسے کوئی کام نہیں مل سکا تھا۔وہ ساری رات اس انٹرویو کی تیاری کرتا رہا تھااور اب اس عجیب و غریب مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں کورس کی کتابیں خاموش تھیں۔

    اپنی باری پر احسن کمرے کے اندر گیا تو گورے نے اسے بھی مشین کھولنے اور اسے دوبارہ اسمبل کرنے کا ٹاسک دیا اور خود آرام سے ایک طرف منہ کرکے کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ تاہم کبھی کبھار وہ عینک کے شیشے کے پیچھے سے اس کی طرف بھی دیکھ لیتا۔

    احسن نے سب سے پہلے تو مشین کے چاروں طرف گھوم پھر کر اس کا جائزہ کیا۔ اس کے پیچ اور سیلیں وغیرہ دیکھتا رہا اور پھر ٹولز والی میز کے قریب جاکر مشین کے پیچوں کی مطابقت رکھنے والا ٹول ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے استعمال کرکے مشین کھولی جا سکے ۔ تاہم باوجود تلاش کے اس طرح کے منہ والا ٹول اسے میز پر نظر نہ آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس ٹول کے بغیر اور کون سے ٹول سے مشین کھولی جا سکتی ہے لیکن اسے کوئی ملتا جلتا ٹول بھی وہاں نہیں دکھ رہا تھا۔ اوپر سے ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔اس نے آکر مشین کو دوبارہ چیک کیا اور پھر ٹولز کو دوبارہ دیکھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    جب اسے میز کے پاس کھڑے کافی دیر ہوگئی تو گورے نے گلہ کنگھار کر اسے کہا کہ مسٹر احسن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ جلدی سے مشین کو کھولنا شروع کریں۔ تب احسن نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سر مشین کو صحیح طریقے سے کھولنے والا متعلقہ ٹول میز پر موجود ہی نہیں اور دوسرے ٹولز کے استعمال سے مشین کے پیچ خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔

    گورے نے کتاب بند کی، عینک اتاری اور کرسی سے کھڑا ہوتے ہو ئے کہا “ کانگریجولیشنز ۔ یو آر ہائیرڈ” وہ دوست اب اس ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلی عہدے پر ہیں اور ماشااللّہ بہت خوش حال ہیں۔

    آج کل ڈیجیٹل سکلز سیکھنے ، سکھانے اور اس سے لمحوں میں دولت مند ہونے کا بہت رجحان ہے۔ یقینی بنائیے کہ آپ اپنا وقت اور پیسہ ایسے ٹول سیکھنے پر لگا رہے ہیں کہ جس سے آپ اپنے بہترمستقبل کی مشین کو آسانی سے کھول سکیں۔ بھیڑ چال میں الٹے سیدھے ٹولز کے استعمال سے سے اپنی ترقی کی مشین کو داغدار نہ کریں۔