Baaghi TV

Tag: اومی کرون

  • بائیو این ٹیک نے”اومی کرون” کے خلاف ویکسین کی تیاری شروع کردی

    بائیو این ٹیک نے”اومی کرون” کے خلاف ویکسین کی تیاری شروع کردی

    جرمن بائیو ٹیکنالوجی کمپنی بائیو این ٹیک نے کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے خلاف نئی کوویڈ 19 ویکسین کی تیاری شروع کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق بائیو این ٹیک نے امریکی کمپنی فائزر کے ساتھ مل کر ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی کوویڈ 19 ویکسین تیار کی تھی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس کی جانب سے اومی کرون کے لیے ایک ویکسین کی تیاری شروع کردی گئی ہے تاکہ تیزی سے آگے بڑھنا ممکن ہوسکے۔

    دنیا بھر کے سائنسدان اور صحت عامہ کے حکام کی جانب سے اومی کرون پر نظر رکھی جارہی ہے جو سب سے پہلے افریقہ کے جنوبی خطے میں ابھری تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم میں بظاہر ایسی میوٹیشنز موجود ہیں جن سے اس کے زیادہ متعدی ہونے یا دیگر اقسام سے خطرناک ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔

    بائیو این ٹیک کے ترجمان نے بتایا کہ ہم ماہرین کی تشویش کو سمجھتے ہیں اور فوری طور پر اومی کرون پر تحقیقی کام شروع کیا گیا جبکہ اس کو مدنظررکھ کر ایک ویکسین بھی تیار کی جارہی ہے جو نئی اقسام کے حوالے سے ہمارے طے کردہ طریقہ کار کا حصہ ہے۔

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    ترجمان نے بتایا کہ ہمیں توقع ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کے خلاف موجودہ ویکسین کی افادیت کا ڈیٹا 2 ہفتوں کے دوران سامنے آجائے گا، اس ڈیٹا سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اومی کرون ویکسین کے اثرات سے بچنے والی قسم ہے جس کے لیے ایک اپ ڈیٹڈ ویکسین کی ضرورت ہےاس کی جانب سے اپ ڈیٹڈ ویکسین کی تیاری کے ساتھ موجودہ شاٹ کی بھی آزمائش کی جارہی ہے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔

    اس سے قبل 26 نومبر کو بائیو این ٹیک نے کہا تھا کہ وہ اپنی کووڈ ویکسین کا نیا ورژن 100 دن کے اندر مارکیٹ میں فراہم کرسکتی ہے۔

    دوسری جانب موڈرنا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اومی کرون ویرینٹ سے مقابلے کے لیے 2022 کے اوائل میں اپنی کووڈ 19 ویکسین کے اپ ڈیٹ ورژن کو جاری کرسکتی ہے۔

    موڈرنا کے چیف میڈیکل آفیسر پال برٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہمیں موجودہ ویکسین سے ملنے والے تحفظ کے بارے میں آنے والے ہفتوں میں معلوم ہوجا ئے گا، اگر اس کے بعد ضرورت محسوس ہوئی تو ہم 2022 کے شروع میں نئی ویکسین تیار کرسکتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں کہ موجودہ کووڈ ویکسینز اس نئی قسم کے خلاف کتنی مؤثر ہیں۔

    موڈرنا کے مطابق وہ اپنی موجودہ ویکسین کی آزمائش اس نئی قسم کے خلاف کررہی ہے۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اومی کرون کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون” کو امریکہ میں افراتفری نہیں پھیلانے دیں گے اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں، ہمارے پاس دنیا کی بہترین ویکسین، ادویات، سائنسدان ہیں اور ہم ہر روز کچھ نیا سیکھ رہے ہیں۔ ہم افراتفری نہیں پھیلنے دیں گے اور اس ویریئنٹ کے خلاف سائنسی اور علمی طریقے سے انتہائی تیزی کے ساتھ نمٹیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اومی کرون کے خلاف لڑنے کیلئےاتنے وسائل ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھے، ہمارے پاس پانچ سال تک کے بچوں کو لگنے والی ویکسین بھی موجود ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ اومی کرون کے بارے میں یہ نہیں پتہ کہ وہ کتنا اور کیسے پھیلتا ہے اور اس کے خلاف ویکسین کتنی موثر ہے تاہم اس وقت سائنسدان کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

  • "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون” کو امریکہ میں افراتفری نہیں پھیلانے دیں گے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں، ہمارے پاس دنیا کی بہترین ویکسین، ادویات، سائنسدان ہیں اور ہم ہر روز کچھ نیا سیکھ رہے ہیں۔ ہم افراتفری نہیں پھیلنے دیں گے اور اس ویریئنٹ کے خلاف سائنسی اور علمی طریقے سے انتہائی تیزی کے ساتھ نمٹیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اومی کرون کے خلاف لڑنے کیلئےاتنے وسائل ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھے، ہمارے پاس پانچ سال تک کے بچوں کو لگنے والی ویکسین بھی موجود ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ اومی کرون کے بارے میں یہ نہیں پتہ کہ وہ کتنا اور کیسے پھیلتا ہے اور اس کے خلاف ویکسین کتنی موثر ہے تاہم اس وقت سائنسدان کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    دوسری جانب یورپی ممالک اسپین اور سویڈن میں عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے شہر میڈرڈ میں 51 سالہ شخص میں اومیکرون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے متاثرہ شخص 28 نومبر کو جنوبی افریقہ سے واپس اسپین پہنچا تھا۔

    دوسری جانب سویڈن کے صحت کے حکام نے بھی ملک میں اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقا سے واپس لوٹنے والے ایک شخص میں اومی کرون پایا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ کینیڈا میں دو اور برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے تین متاثرین سامنے آچکے ہیں برطانیہ میں ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے جبکہ بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کورونا کی نئی قسم کے متاثرین بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پائے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سے نیدرلینڈز آنے والے سینکڑوں مسافروں میں اومیکرون کی تشخیص کی گئی ہے۔

    احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کئی ممالک نے افریقی ملکوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاہم جنوبی افریقہ کے صدر نے سفری پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے لیے پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سفری پابندیاں لگانے کی بجائے صحت سے متعلق عالمی قوائد وضوابط پر عمل کیا جائے، سفری پابندیوں سے اومی کرون کے پھلاو کو روکنے میں کم مدد ملے گئی، جبکہ عوامی اور معاشی مسائل زیادہ بڑھیں گے۔

    ڈبلیو ایچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ میوٹیشنز والی قسم اومی کرون ممکنہ طور پر عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور اس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے جس کے کچھ خطوں میں تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    رپعرٹس کے مطابق عالمی ادارے نے بتایا کہ ابھی اومی کرون سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کے ویکسینز ہا سابقہ بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کے بارے جانچ پڑتال کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ ہفتے اومی کرون کے اولین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور اب عالمی ادارہ صحت نے اپنے 194 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ خطرات سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن کی رفتار بڑھائیں اور طبی سروسز کو مستحکم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

  • عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام دینے کی وجہ بتا دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی جریدے ٹیلی گراف کے سینئر ایڈیٹر پال نکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عالمی ادارہ صحت کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے ایک ذریعہ نے تصدیق کی کہ اومی کرون کا لفظ یونانی حروف تہجی سے لیا گیا ہےعالمی ادارہ صحت نے کورونا کی تمام اقسام کا نام یونانی حروف کے مطابق رکھا ہے اومی کرون 15 واں یونانی زبان کا تہجی ہے۔


    ان کا کہنا تھا کہ یونانی زبان میں 13 ویں نمبر پر NU اور 14 ویں پر XE آتا ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے NU نام New سے مماثلت رکھتا ہے اور XE ایک خاص خطے کی زبان میں استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں حروف کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تمام وبائی امراض فطری طور پر سیاسی ہیں-

    چین میں پھرکورونا کیسز میں اضافہ:ماہرین صحت پریشان ہوگئے

    دوسری جانب ڈبلیو ایچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ میوٹیشنز والی قسم اومیکرون ممکنہ طور پر عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور اس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے جس کے کچھ خطوں میں تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    رپعرٹس کے مطابق عالمی ادارے نے بتایا کہ ابھی اومیکرون سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کے ویکسینز ہا سابقہ بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کے بارے جانچ پڑتال کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ ہفتے اومیکرون کے اولین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور اب عالمی ادارہ صحت نے اپنے 194 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ خطرات سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن کی رفتار بڑھائیں اور طبی سروسز کو مستحکم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق اومیکرون کے اسپائیک پروٹینز میں ہونے والی میوٹیشنز کی تعداد کی مثال موجود نہیں، جن میں سے کچھ تبدیلیاں باعث تشویشن ہیں کیونکہ وہ وبا کی صورتحال پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتی ہیں عالمی سطح پر کورونا کی اس نئی قسم سے لاحق ہونے والا خطرہ بہت زیادہ ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ میوٹیشن والی قسم اومیکرون کے ابھرنے سے عندیہ ملتا ہے کہ صورتحال کتنی خطرناک ہے، یہ نئی قسم ظاہر کرتی ہے کہ دنیا کو وباؤں کے حوالے سے ایک نئے معاہدے کی ضرورت ہے۔

    نیا عالمی معاہدہ مئی 2024 تک متوقع ہے جس میں مختلف مسائل جیسے ابھرتے وائرسز کا ڈیٹا اور جینوم سیکونسنگ کو شیئر کرنے کو کور کیا جائے گا اور ویکسینز سمیت دیگر معاملات کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے گا۔

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    اومیکرون کے بارے میں جنوبی افریقہ نے سب سے پہلے 24 نومبر کو رپورٹ کیا تھا عالمی ادارے کے مطابق خطرے سے دوچار آبادیوں پر اس نئی قسم کے اثرات تباہ کن ہوسکتے ہیں بالخصوص ایسے ممالک میں جہاں ویکسینیشن کی شرح کم ہے ویکسینیشن کرانے والے افراد میں کووڈ کیسز متوقع ہیں مگر ان میں یہ شرح کم ہوگی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر اومیکرون کے مدافعتی دفاع سے بچنے کی صلاحیت کے بارے میں ابھی کافی کچھ غیریقینی ہے اور مزید ڈیٹا آنے والے ہفتوں میں سامنے آسکا ہے۔

    دوسری جانب اٹلی کے بمبینو گیسو ہاسپٹل کے ماہرین نے اومیکرون کی پہلی تصویر حال ہی میں جاری کی جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ کووڈ کا بہت زیادہ میوٹیشن والا ورژن ہے اس تصویر میں اومیکرون کے اسپائیک پروٹین کی ساخت کو ڈیلٹا قسم کے اسپائیک پروٹین کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس سے بہت زیادہ میوٹیشنز کا انکشاف ہوتا ہے۔

    اسپائیک پروٹین وائرس کا وہ اہم ترین حصہ ہے جسے وہ انسانی خلیات میں داخلے کے لیے استعمال کرتا ہے اور ویکسینز میں بھی اسے ہی ہدف بنایا جاتا ہےدنیا بھر کے سائنسدان اومیکرون قسم کے بارے میں تفصیلات جمع کرنے کے لیے مسلسل کام کررہے ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری…

    یہ نئی قسم سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سائنسدانوں نے شناخت کی تھی اور اسے 26 نومبر کو عالمی ادارہ صحت نے ویرینٹ آف کنسرن یا قابل تشویش قرار دیا تھا اطالوی تحقیق میں ثابت ہوا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے اسپائیک پروٹین میں 43 میوٹیشنز ہوئی ہیں جبکہ ڈیلٹا میں یہ تعداد صرف 18 ہے۔

    اس سے قبل تخمینہ لگایا گیا تھا کہ اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں 32 میوٹیشنز ہوئی ہیں مگر اٹلی کی تحقیق میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی گئی تحقیق کے مطابق یہ میوٹیشنز اس حصے میں ہوئی ہیں جو انسانی خلیات سے رابطے میں رہتا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

  • کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم سامنے آگئی ہے

    اسد عمرکا کہنا تھا کہ کوروناکی نئی قسم خطرناک ہے پاکستان میں ایس او پیز پرعمل سے کورونا کیسزمیں کمی آئی ،پاکستا ن میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں کمی ہوئی ،کورونا کی نئی قسم کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر احتیاط لازمی ہے،کورونا کی نئی قسم دنیا میں پھیل سکتی ہے،کورونا کی نئی قسم سے بچاو کے لیے ویکسین موثر ہوگی ،کورونا کی نئی قسم کے پھیلنے کے خدشے سے صوبوں کو آگاہ کردیا،کورونا کی نئی قسم پاکستان میں بھی آئے گی ،ہم نے خطرے کو کم کرنا ہے آج 5 کروڑ پاکستانی ویکسنیٹڈ ہو چکے ہیں سب سے ضروری یہ ہے کہ ویکسین کا عمل مکمل ہو این سی او سی آنے والے کل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم خطرناک ہے ،کورونا کی نئی قسم پرانے کی نسبت زیادہ پھیل رہاہے، اومی کرون کے داخلے کوروکنا نا ممکن ہے ،اومی کرون سے نمٹنے کے لیے دنیاکے تمام ممالک رابطے میں ہیں،ویکسین لگوانے سے ہی اومی کرون سے بچا جاسکتاہے ،کورونا کی نئی قسم پاکستان میں داخل ہوئی تو ہمارے پاس وقت محدود ہوگا،

    کرونا کی نئی قسم نے ایک بار پھر دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے ،پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کرونا کی نئی قسم پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جنوبی افریقہ سے بھارت پہنچنے والے ایک مسافر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد کھلبلی مچ گئی اور اب تصدیق کی جا رہی ہے کہ مسافر میں کرونا کی نئی قسم اومی کرون تو نہیں، بھارتی محکمہ صحت مسافر کا ٹیسٹ کرے گی، 32 سالہ مسافر کو کرونا مثبت آنے پر قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    خبر رساں اداے کے مطابق مسافر جنوبی افریقہ سے دہلی پہنچا تھا جہاں اس کا ٹیسٹ کیا گیا تھا، بھارتی محکمہ صحت نے ان افراد کی تلاش بھی شروع کر دی جو گزشتہ دس روز میں جنوبی افریقہ سے بھارت آئے ہیں، بھارتی محکمہ صحت کے مطابق ایسے افراد کو تلاش کر کے انکے ٹیسٹ کروائے جائیں گے اور انکو قرنطینہ کیا جائے گا ،کورونا کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان، امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب ، برازیل سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں

    نیشنل یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے جنوبی افریقہ میں کرونا کی نئی قسم کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین بہت حد تک اس ویرینٹ کو قابو کرسکتی ہے، یہ ویرینٹ دیگر ویرینٹ کے مقابلے میں بہت خطرناک ہے، اس سے بچنے کے لیے سخت اقدامات اُٹھانے پڑے گے، یہ ویرینٹ پھیپھڑوں کو مکمل طور پر تباہ کردیتا ہے، سب سے پہلے ہم نے جلد سے جلد اپنے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنا ہے، جلد سے جلد لوگوں کو ویکسین لگانی ہے

    کووڈ انیس کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے لیے پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ سفری پابندیاں لگانے کی بجائے صحت سے متعلق عالمی قوائد وضوابط پر عمل کیا جائے سفری پابندیوں سے اومی کرون کے پھلاو کو روکنے میں کم مدد ملے گئی جبکہ عوامی اور معاشی مسائل زیادہ بڑھیں گے،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، بچاؤ کے لئے کیا کیا جائے؟ وفاقی کالجز کے پروفیسرزنے دی تجاویز

    کرونا وائرس سے کتنے پاکستانی چین میں متاثر ہوئے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

  • کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    سول ایوی ایشن (سی اے اے) کی جانب سے کورونا کی نئی قسم کے پیش نظر نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سول ایوی ایشن نے نیا سفر ہدایت نامہ پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق جاری کیا ہے سی اے اے نے جنوبی افریقہ سمیت افریقہ کے 6 ملکوں اور ہانگ کانگ میں سفری پابندی عائد کر دی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے۔ کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کیا گیا ہے کیٹگری سی کی فہرست میں شامل ممالک میں جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی ہیں۔

    بیرون ملک سے آئے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایئرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہو گا سی اے اے کے مطابق کورونا مثبت آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب ملک میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا کیس سامنے آنے پراسرائیل نے چودہ دن کے لیے غیر ملکیوں کی اپنے ملک میں آمد پر پابندی عائد کر دی ہے اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی وفاقی کابینہ کی جانب سے سرحدیں مکمل طور پر بند کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور پابندی کا اطلاق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سے ہوچکا ہے۔

    غیر ملکیوں کی آمد پر پابندی کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے ویکسینیٹڈ اسرائیلی شہریوں کو بھی تین دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ وہ اسرائیلی شہری جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی انہیں سات دن کے لیے قرنطینہ مکمل کرنا ہوگا۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    اسرائیل نے 50 افریقی ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے ان ممالک سے سفر کر کے اسرائیل آنے والے اسرائیلی شہریوں کو حکومت کی طرف سے متعین کردہ ہوٹلوں میں لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا اور ٹیسٹس کروانے ہوں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے مزید افریقی ممالک کیلئے پروازیں روک دی ہی ۔سعودی وزارت داخلہ نے ملاوی،زیمبیا،مڈغاسکر اور انگولا کے لیے پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب نے سیشلز، ماریشس اور کوموروس جزائر کیلئے بھی پروازیں روک دی ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک پاکستان نے ہانگ کانگ سمیت 6 افریقی ممالک پر سفری پابندی عائد کر دی

    دوسری جانب امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے اعلان کیا یے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے لیے ویکسین کے بوسٹر شاٹ تیار کرے گی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی نے کورونا کے نئے ویرینٹ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے تین آپشنز پر مشتمل حکمت عملی میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اومی کرون سے بچنے کے لیےموجودہ ویکسین کی زیادہ خوراک استعمال کی جائے۔

    موڈرنا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیفن بینسل نے کورونا کی نئی قسم کو تشویشناک قرار دیا ہےان کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نئی قسم کے خلاف اپنی حکمت عملی پر جلد عملدرآمد کریں۔

    پاکستان میں مزید 303 کورونا کیسز رپورٹ

    دوسری جانب یورپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹرزکا کہنا ہے کہ وہ نئی قسم کا جائزہ لے رہے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اومی کرون کے لیے نئی ویکسین کی ضرورت ہے یا نہیں اومی کرون سے متعلق معلومات ابھی نا کافی ہیں ان معلومات سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قسم زیادہ پھیلے گی یا ویکسین سے حاصل کی گئی مدافعت اس کے لیے کافی نہیں ہوگی یہ جاننے میں کچھ وقت لگے گا کہ اومی کرون کے لیے کسی نئی میڈیسن کی ضروت ہو گی یا نہیں۔

    کورونا کی نئی قسم اومی کرون کا سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں انکشاف ہوا اور اس کے بعد یہ وائرس بیلجیئم، بوٹسوانا، اسرائیل، ہانگ کانگ اور یورپی ممالک میں بھی پایا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک ترین قسم اومی کرون یورپ بھی پہنچ گئی غیر ملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم اومی کرون جرمنی، اٹلی اور برطانیہ بھی پہنچ گئی ہے جرمنی کے وزارت صحت کے حکام کے مطابق جنوبی جرمنی کی ریاست باویریا میں نئےکورونا وائرس کے دو کیسز اور ایک مشتبہ کیس ملک کے مغرب میں پایا گیا ہے۔

    سب سے پہلے جنوبی افریقہ سے واپس آنے والے ایک شخص میں اومی کرون کی علامات کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    برطانوی وزیر صحت ساجد جاوید نے کہا کہ برطانیہ میں اومی کرون وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز ہیں، ایک کیس چیلمسفورڈ اور ایک ناٹنگھم میں پایا گیا ہے دونوں افراد حال ہی میں جنوبی افریقہ کے سفر سے واپس آئے تھے۔

    اٹلی کے نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ موزمبیق سے میلان واپس آنے والے ایک شخص میں اومیکرون کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اس کے علاوہ چیک ریپبلک میں بھی نئے ویرینٹ کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی بتایا گیا ہے کہ یہ قسم کورونا کی پہلے سے معلوم اقسام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ابھی اس نئی قسم کے بارے میں مکمل سائنسی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم سامنے آنے پر ایک بار پھر پابندیوں کا امکان

    امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ۔ کینیڈا، برازیل، پاکستان، جاپان اور ساوتھ کوریا سمیت کئی ممالک نے افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اور کئی ایونٹ بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ویمن ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائر میچ منسوخ کردیا گیا تھائی لینڈ بمقابلہ امریکہ اور پاکستان بمقابلہ زمباوے میچز شیڈول کے مطابق ہوں گےورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 12 ویں وزارتی کانفرنس کو بھی ملتوی کر دیا ہے، کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ جنرل کونسل کے صدر نے اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا اور کہا کہ صحت کے لئے ضروری ہے کہ کام چلتا رہے، کانفرنس بعد میں منعقد کی جائے گی-

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی-

  • کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون”،آئی سی سی کی ویمن ٹیموں کو دبئی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز

    کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون”،آئی سی سی کی ویمن ٹیموں کو دبئی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز

    عالمی ادارہ صحت نے جنوبی افریقہ میں پائے گئے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کو ’اومی کرون‘ کا نام دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائرس کے نئے قسم کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر مختلف ممالک نے افریکی ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

    دبئی سے کورونا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے افریقی ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگادی ہے۔

    بیان کے مطابق کورونا کی نئی قسم کے باعث جنوبی افریقا، زمبابوے، موزمبیق اور نمیبیا سمیت دیگر ملکوں پر پابندی لگائی گئی، 29 نومبر سے افریقی ملکوں سے آنے والوں کو دبئی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہونے کے بعد فرانس نے افریقی ملکوں کے لیے فضائی سروس 48 گھنٹوں کے لیے معطل کردی ہے۔

    علاوہ ازیں روس نے بھی افریقی ملک ہانگ کانگ کےخلاف سفری پابندیوں کا اعلان کردیا ہے روس میں ہانگ کانگ سے آنے والے غیرملکیوں پر پابندی کا اطلاق کل سے ہوگا روسی حکام کا کہنا ہے کہ روس میں کورونا کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘ کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    جبکہ بھارت کی مرکزی وزارت صحت نے تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان تین ممالک کا سفر کرنیوالے مسافروں پر نظر رکھیں اور انکے ٹیسٹ کروائیں، بھارتی سیکرٹری صحت نے ریاستوں کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ کرونا کی نئی قسم سامنے آچکی ہے اسلئے انٹرنیشنل سفر کرنیوالے مسافروں کے کرونا ٹیسٹ لازمی کروائیں ، جو افراد ان ممالک کا سفر کر چکے انکا پتہ لگایا جائے اور انکے ٹیسٹ کروائے جائیں-

    یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

    برطانیہ نے بھی چھ افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے برطانیہ کے سیکریٹری صحت ساجد جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعہ کی دوپہر 12 بجے (جی ایم ٹی) سے چھ ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور یہاں سے تمام پروازوں پر عارضی طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برطانیہ نے جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور ایسواتینی جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

    دوسری جانب ’اومی کرون‘ سامنے آنے کے بعد آئی سی سی نے ویمن ورلڈکپ کوالیفائرز زمبابوے سے باہر لےجانے پر غور شروع کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے پروازیں معطل ہونے پر کرکٹ حکام پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں، 29 نومبر کو پابندی کے اطلاق سے قبل ٹیموں کو دبئی لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے کورونا کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ "بوسٹر ڈوز” ضروری

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں جاری ویمن ورلڈکپ کوالیفائرز کے بقیہ میچز دبئی میں ہوسکتے ہیں،۔

    رپورٹس کے مطابق اس وقت پاکستان سمیت 9 ملکوں کی خواتین ٹیمیں زمبابوے میں موجود ہیں، قومی ویمن ٹیم کی زمبابوے موجودگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی اور ٹیم سے رابطےمیں ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ٹورنامنٹ کو معطل کرنے سمیت متعدد آپشن پر بھی غور کررہا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    اہل پاکستان کےلیے مقام شکر:کئی ملکوں میں کورونا کی تباہی جاری: لوگوں نے تنگ…