Baaghi TV

Tag: اٹک جیل

  • اٹک جیل میں قیدی پر مبینہ تشدد، 5 افسران معطل، سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ

    اٹک جیل میں قیدی پر مبینہ تشدد، 5 افسران معطل، سپرنٹنڈنٹ کا تبادلہ

    محکمہ داخلہ پنجاب نے اٹک جیل میں قیدیوں پر مبینہ تشدد میں ملوث 5 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل میں اٹک ڈسٹرکٹ جیل کے واش روم سے ایک قیدی کی لاش پراسرار حالت میں برآمد ہوئی تھی۔ جیل حکام کا مؤقف تھا کہ قیدی نے ڈوری سے خودکشی کی، جبکہ لاش دیگر قیدیوں کو واش روم کی کھڑکی سے لٹکتی ہوئی ملی۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سرمد حسن، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ مشتاق احمد، چیف وارڈن محمد رفیق، ہیڈ وارڈن ظفر اور وارڈن محمد ایوب کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان افسران کو اختیارات کے ناجائز استعمال، نااہلی اور بدانتظامی پر معطل کیا گیا ہے، کیونکہ یہ ایک قیدی پر مبینہ تشدد میں ملوث پائے گئے۔ان کے خلاف پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اور اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ 2006 کی شق 6 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔جیل قوانین کے تحت کسی قیدی پر تشدد کی اجازت نہیں، اور محکمہ داخلہ اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ عارف شہباز کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر لاہور منتقل کیا جا چکا ہے۔

    فرانس اور یورپی ممالک کا ایران اسرائیل کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی پیشکش کا اعلان

    ایران کے بوشہر پر حملہ خطے میں جوہری تباہی لا سکتا ہے،آئی اے ای اے سربراہ کا انتباہ

    برطانیہ نے ایران سے سفارتی عملہ سیکیورٹی خدشات کے باعث واپس بلا لیا

    اسحاق ڈار کی ترکی میں یوتھ ایوارڈ تقریب میں شرکت، صدر اردگان کو خراج تحسین

  • جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خان کیس میں عدالت نے سزا سنائی تو انہیں زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، اٹک جیل سے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے،عمران خان سے جیل میں انکی اہلیہ بشریٰ بی بی، اور وکلاء کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، عمران خان سے انکی بہنوں کی بھی ملاقات ہوئی ہے، آج بھی عمران خان کے وکیل اور ذاتی معالج جیل میں عمران خان کو ملنے گئے

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈاکٹر عثمان یوسف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، انکو صرف ہاضمے کا مسئلہ ہے،وہ پہلے بھی ہوتا ہے،جیل اتھارٹی کو ایک ٹیسٹ کا کہا ہے اسکے لئے دوا بتائی ہے، انکی خوراک سادہ رہی ہے، انکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، میں نے آج انکا تفصیلی معائنہ کیا، مجھے خوشی ہوئی انکی صحت اچھی لگی،جب سے انکو گولی لگی پچھلے برس سے تب سے وہ ورزش کم کر رہے تھے تو انکا وزن کم ہو گیا تھا،عمرا ن خان کی فزیکل اور مینٹل صحت کے حوالہ سے مطمئن ہوں، ماشاء اللہ وہ صحت یاب ہیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بیوقوف ہیں،انکو کسی بھی طرح گمراہ کیا جا سکتا ہے ایسی افواہیں اڑائی جاتی ہیں کہ سب یقین کر لیتے ہیں،عمران خا ن کےوکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عمران خان کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور اسوقت ملک کو مقبول رہنما کی ضرورت ہے، مقبول لیڈر ہی معیشت کو ٹھیک کر سکتا ہے،عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن نہیں کروائے، اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، اپیل کے حق کا فیصلہ درست فیصلہ ہے،

    عمران خان جیل میں ہیں لیکن انکا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو ہے اور مسلسل چل رہا ہے، آج عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس کا عنوان ہے،جیل سے عمران خان کا اپنے خاندانی ذرائع سے عوام کیلئے پیغام:

    عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ جب پانچ اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تھا تو پہلے چند روز میرے لئے خاصے مشکل تھے۔ سونے کیلئے میرے پاس بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پہ لیٹنا پڑتا تھا جہاں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے۔ لیکن اب میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔

    آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ پاک کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔ اور قرانِ پاک کے ساتھ ساتھ میں دیگر کتب کا مطالعہ بھی کررہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور بھی کررہا ہوں۔

    یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔ میں عوام کے حقِ حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی ترین شرط، صاف شفاف الیکشن، کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جو لوگ مجھے کہ رہے ہیں کہ آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں انکو میراایک ہی جواب ہے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے اور میں اپنی دھرتی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔

    جہاں تک سائفر مقدمے کا تعلق ہے، یہ مقدمہ سابق آرمی چیف جرنیل باجوہ، ڈونلڈ لو کو بچانے کیلئے گھڑا گیا ہے۔ ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی اور آج مجھ پہ مقدمہ اسلئے قائم کیا گیا کہ میں نے پاکستانی عوام کو، جو کہ اس ملک کے اصل حاکم ہیں، اس غداری کی خبر دی۔

    مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنان، خصوصاً خواتین کارکنان، کی اسیری کی تکلیف ہے جنہیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کیلئے کئی ماہ سے قید کیا ہوا ہے۔ میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنان کو رہائی دلائی جائے ۔

    آخر میں, آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ آپ ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں۔ یہ آزمائش کا وقت ختم ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے”۔ آپ ہر فورم پہ اس غیر منتخب حکمران ٹولے اور انکے سہولتکاروں کیخلاف آواز اُٹھاتے رہیں اور ملک میں صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    میں پیشنگوئی کررہا ہوں کہ جس دن بھی الیکشن ہوا، انشاءاللہ پاکستانی عوام کروڑوں کی تعداد میں نکلیں گے اور تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈال کر لندن پلان والوں کو شکست دیں گے۔ یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کرلیں، انکا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔

    پاکستان زندہ باد

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل سے جواب طلب

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل سے جواب طلب

    اسلام آباد: خصوصی عدالت برائے آفیشل سیکریٹ ایکٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل سے جواب طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل میں بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سماعت سیکریٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی جس دوران پراسیکیوٹر ایف آئی اے راجا نوید اور پی ٹی آئی کے وکیل شیراز رانجھا پیش ہوئے۔

    وکیل شیراز رانجھا نے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کیس میں سزا یافتہ نہیں، جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں ہیں، سیکریٹ ایکٹ یا پنجاب جیل قوانین مجرمان پر لاگو ہوتے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی سائفرکیس میں تاحال مجرم نہیں ہیں، پنجاب پرزنرز قوانین سزا یافتہ مجرمان پر نافذ ہوتے ہیں، تمام ملزمان کو اٹک جیل میں ٹیلیفونک ملاقات کرنے کی سہولت حاصل ہے۔

    سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا دو تین سال سے ٹیلیفونک ملاقات کی سہولت قیدیوں کو ملی ہوئی ہے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی سے بچوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانا ناانصافی ہے وکیل شیراز رانجھا نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی استدعا کی۔

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اوپن کورٹ میں فیصلہ تحریر کروایا اور سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل سے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر رپورٹ طلب کر لی پی ٹی آئی کے وکیل شیراز رانجھا نے سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر  جج نے ریمارکس دیئے کہ 26 ستمبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہو رہا ہے، اٹک جیل سپرنٹنڈنٹ سے میں خود بھی بات کروں گا کیا معلوم اٹک جیل سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ معاملات وہیں حل ہو جائیں۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

  • عمران خان کی بیٹوں سے بات نہیں کروا سکتے،جیل حکام کا انکار

    عمران خان کی بیٹوں سے بات نہیں کروا سکتے،جیل حکام کا انکار

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فون یا واٹس ایپ پر گفتگو کروانے کا معاملہ ،جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے سے انکار کردیا

    اٹک جیل سپرنٹینڈنٹ نے توہین عدالت درخواست میں جواب جمع کرا دیا ،جواب میں کہا گیا ہے کہ جیل رولز اجازت نہیں دیتے اس لئے ٹیلی فونک گفتگو نہیں کرا سکتے ،عدالت نے اٹک جیل سپریڈنٹ کے جواب 18 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے ،کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی ،عدالت نے کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ عمران خان اٹک جیل میں ہیں عدالت نے انکا سائفر کیس میں چودہ دن کا ریمانڈ دیا،عمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کی تھی تا ہم جیل حکام نے بات نہیں کروائی جس پر عمران خان نے دوبارہ درخواست دی، عدالت نے دوبارہ بات کروانے کا حکم دیا، آج جیل حکام نے عدالت میں جواب جمع کروایا ہے،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • القادر ٹرسٹ کیس،بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    القادر ٹرسٹ کیس،بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی کی قبل از وقت ضمانت 26 ستمبر تک منظور کر لی گئی

    لطیف کھوسہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آج آپ کو دوبارہ تکلیف دینے کیلئے آئے ہیں،القادر کیس میں نیب نے بیان دیا تھا کہ ہمیں گرفتاری مطلوب نہیں ،نیب کی جانب سے بعد میں کہا گیا کہ فل وقت گرفتاری مطلوب نہیں،آج بشریٰ بی بی کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات ہے اور نیب نے آج ہی بی بی کو طلب کر رکھا ہے،نیب کسی اور دن پیشی رکھ لے،ملاقات اٹک جیل میں 2 بجے ہے اور انہوں نے بھی 2 بجے طلب کر رکھا ہے،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ نیب نے 11 بجے طلب کر رکھا تھا،لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتاری اگر مطلوب ہو تو پہلے آگاہ کیا جائے،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ القادر کیس میں نیب کو ابھی بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سردار مظفر عباسی قابل احترام ہیں ،انہوں نے کہہ دیا ہم نے یقین کر لیا،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نیب پیشی کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ،اگر دن تبدیل کروانا ہے تو نیب میں درخواست دائر کر دیں،

    بشری بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس میں بھی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی گئی ، عدالت نے سماعت کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت 26 ستمبر تک منظور کر لی

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، بدنیتی سے سائفر کیس کی سماعت کا مقام تبدیل کیا گیا،سماعت کا مقام تبدیلی کے نوٹیفکیشن کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنا تھا،ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیا گیا، آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کے پیچھے بدنیتی ہے ،آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے ،اسلام آباد سے کسی دوسرے صوبے میں ٹرائل منتقل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کا ہے ، اسلام آباد الگ سے خود مختار علاقہ ہے ،کسی صوبے کی حدود میں نہیں آتا ، کسی بھی عدالت کی سماعت کا مقام تبدیل کرنے کا طریقہ کار قانون میں واضح ہے ،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ عدالت کے جج کی رضا مندی بھی ضروری ہوتی ہے، توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا تھا ،اگر ٹرائل تبدیلی کرنی تھی تو ان کو ٹرائل جج سے پوچھنا تھا لیکن نہیں پوچھا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہو چکی ،چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،عدالت نے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کی وضاحت طلب کر رکھی تھی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعت کیلئے عدالت اٹک جیل منتقل کی گئی تھی، یہ نوٹیفکیشن وزارت قانون نے کیا اور اسی کا ہی اختیار تھا، وزارت قانون نے این او سی جاری کیا کہ وینیو تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل کوئی ایسی چیز نہیں جو نہ ہوتی ہو، جیل ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہو گا اس سے متعلق بتائیں ،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ سائفر کیس کا ابھی ٹرائل نہیں ہو رہا وزارتِ قانون نے قانون کے مطابق عدالت کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس سے پہلے 2 ججز اسی بنیاد پر تعینات ہوتے رہے ہیں ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی اور جج راجہ جواد عباس کی تعیناتی بھی اسی طرح ہی ہوئی ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے اعتراض کیا کہ یہ کہا گیا کہ نوٹیفکیشن غیر مؤثر ہو گیا یہ نہیں کہہ سکتے غیر مؤثر کی حد تک یہ ہے کہ اگر کل دوبارہ آپ کر دیں پھر کیا ہو گا؟ یہ طے تو ہونا ہے کہ نوٹیفکیشن کس اختیار کے تحت کر سکتے ہیں؟ عدالت نے دیکھنا ہے کہ ملزم پر تشدد تو نہیں کیا جا رہا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ریمانڈ میں ملزم عدالتی تحویل میں ہوتا ہے وزارتِ قانون کا نوٹیفکیشن بد نیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا، درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی عدالت نے طے کرنا ہے کہ نوٹیفکیشن درست تھا یا نہیں کسی کے پاس جواب ہے کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کیوں قید ہیں ٹرائل کورٹ کے جج این او سی پر اٹک جیل کیوں چلے گئے؟ فاضل جج نے اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کیا اور چلے گئے کل لانڈھی جیل کا این او سی آ جائے تو جج صاحب لانڈھی چلے جائیں گے؟

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کے وزارتِ قانون کے نوٹیفکیشن کے خلاف فیصلہ دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہماری ایک اور درخواست پر فیصلہ محفوظ ہے ہماری استدعا ہے کہ محفوظ فیصلہ سنایا جائے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جواب دیا کہ میں اس پر بھی آرڈر پاس کروں گا،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کوجیل میں دیسی چکن دینےکیلئےاکاؤنٹ میں 79ہزارروپےجمع

    عمران خان کوجیل میں دیسی چکن دینےکیلئےاکاؤنٹ میں 79ہزارروپےجمع

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں کھانے کے لیے دیسی چکن دینے کے لیے ان کے اکاؤنٹ میں 79ہزار روپے جمع کروائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے’جنگ‘ کے مطابق جیل میں بطور قیدی عمران خان کے اکاؤنٹ میں پہلے 50 ہزار اور دوسری مرتبہ 29 ہزار روپے جمع کروائے گئے، یہ رقم چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔

    اخبار کے مطابق جیل حکام نے کچھ روز قبل عمران خان کے ساتھ کھانے کا مینیو طے کیا تھا،چئیرمین پی ٹی آئی سے کہا کہ انہیں صبح ناشتے میں دو انڈے، روٹی اوران کےساتھ دہی لازمی دیا جائے، دوپہر اور رات کے وقت روٹی کے ساتھ مختلف دالیں اور سبزیاں ہیں عمران خان نے کہہ رکھا ہے کہ کھانے میں دیسی چکن انہیں اس دن دیا جائے جس دن وہ اس کا کہیں۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    ذرائع نے بتایا کہ قیدیوں کے لیے جیل مینیو میں ہفتے میں 4دن چکن ہوتا ہےلیکن پی ٹی آئی چیئرمین نے برائلر چکن دینے سے منع کر رکھا ہے عمران خان کو پچھلے 15 روز میں کھانے میں دو مرتبہ دیسی چکن دیا گیا ہے جس پر 8 ہزار سے زائد خرچ ہوئے جو ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے گئے ہیں۔

    کراچی میں 114 تھانوں کے ایس ایچ اوز کی تقرریاں اور تبادلے متوقع

  • سائفر کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی ، عدالت نے آئندہ سماعت تک عمران خان کے وکلا کو درخواست پر تکنیکی اعتراض دور کرنے کی ہدایت کردی

    قبل ازیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کروانے کا حکم دیتے ہوئے 15 ستمبر تک عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی۔ جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار کے وکیل شیراز رانجھا نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات نہیں کرائی گئی، سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے-

    عدالت نے عدالتی احکامات پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح ریے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی تھی سپرٹنڈٹ اٹک جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ایڈوکیٹ شیراز رانجھا کی وساطت سے دائر کی گئی ہے،عمران خان کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اپنایاگیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی اُن کے بچوں سے بات نہیں کرائی گئی-

    درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے بات نہیں کرائی گئی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے ملاقات کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا عمران خان کی دائر کردہ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرکے توہین عدالت کی کارروائی کا آغازکیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی کی بچوں سے ٹیلی فون، واٹس ایپ پربات کرانے کا حکم دیا جائے۔

    سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس:سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان اور دیگر کے خلاف لانگ مارچ توڑ پھوڑ پر درج 2 مقدمات کی سماعت ہوئی۔جج احتشام عالم نے کیس کی سماعت تھی سول جج احتشام عالم کی عدالت میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا پیش ہوئے تھے عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے اور درخواستِ بریت دائر کردی گئیں۔

    وکیل نعیم پنجوتھا نے کہاتھا کہ دستاویزات، ثبوت عمران خان کی کی موجودگی میں فراہم کیے جائیں، عمران خان کی غیر موجودگی میں فئیر ٹرائل آگے نہیں چل سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی کی غیر قانونی گرفتاری ہوئی، سائفرکیس میں اٹک جیل قید ہیں،سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیاجائے،بعد ازاں پروڈکشن کی درخواست سے متعلق محفوظ فیصلے میں عدالت نے سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا۔

    ہمیں قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،نگران وزیراعظم

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

  • سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل شیرافضل نے کہا کہ اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئے کیا جا رہا ہے، حکام کہتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں رکھا گیا ہے،اڈیالہ جیل زیادہ محفوظ ہے یا اٹک جیل، یہ سب کو معلوم ہے، سردار لطیف کھوسہ نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلطیف کھوسہ نے کہا کہ اٹک جیل بے شمار نامعلوم قیدی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، وہاں مکھیاں ہیں، سپریٹنڈنٹ جیل نے میرے خلاف ایف آئی آر کرائی کہ میں نے اسے مارا ہے،
    اس سپریٹنڈنٹ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے میں تو اس سے ملا بھی نہیں تھا،

    اٹک جیل کی طرف سے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ حسرت عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جگہ نہ ہونے کے باعث اٹک جیل منتقل کیا گیا ، صرف اور صرف زیادہ تکلیف دینے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا گیا ، اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات بہتر ہیں ،بی کلاس بھی موجود ہے ، ہمارا حق ہے ہمیں اڈیالہ جیل منتقل کرکے بی کلاس فراہم کی جائے ، بشری بی بی جیل میں ملنے گئیں تو ان پر بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی ،الزام لگایا گیا کہ بشری بی بی نے جیل اہلکار کو 20ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کی ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ جیل میں اے اور بی کلاس ختم کر دی گئی ہے،جیل میں اب عام اور بیٹر کلاسز موجود ہیںچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں بیٹر کلاس دی گئی ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیٹر کلاس کا یہ حال ہے تو عام کا کیا ہو گا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں جو مسائل تھے وہ دور کر دیے گئے ہیں، باتھ روم کا مسئلہ تھا اسکی دیواریں اونچی کر کے سفیدی کروا دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا بھی انکی مرضی سے دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے پانچ ڈاکٹر تعینات کیے گئے ہیں، اانہیں دو دن چکن اور مٹن دیسی گھی میں بنا کر دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں

    ایف آئی اے وکلا نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ساری باتیں بتائیں لیکن درخواست گزار کا بنیادی اعتراض کچھ اور ہے، ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا تو اٹک جیل منتقل کیوں کیا گیا؟ کیا اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی درخواست کی؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئی جی کے پاس کسی بھی قیدی کو ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی کوئی جیل نہیں تو قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، وکیل شیرافضل نے کہا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تب چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا ہوئی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا اب معطل ہو چکی اور ضمانت مل چکی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا دوران حراست سٹیٹس اب تبدیل ہو چکا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت سزا نہیں کاٹ رہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک اور انڈر ٹرائل کیس میں حراست میں ہیں، اسلام آباد کے اندر ٹرائل قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جاتا ہے، اگر اٹک سے اٹھا کر کوٹ لکھپت لے جاتے ہیں تو کیا ہر پیشی پر لایا جا سکتا ہے؟ کوٹ لکھپت سے تو پانچ چھ گھنٹے کا سفر ہے، اٹک جیل سے اسلام آباد کا سفر کتنا ہے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اٹک سے اسلام آباد کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس گاڑی میں یہ لاتے ہیں اس میں دس پندرہ منٹ زیادہ ہی لگتے ہونگے، کیا سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل رکھنے کا کوئی فیصلہ ہوا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر آگاہ کر سکتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل صاحب کو ملاقات کرنے دیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کیس کی آئندہ تاریخ کیا ہے؟ وکیل شیرافضل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا 13 ستمبر کو کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کیس اُس سماعت سے پہلے رکھ لیتے ہیں، عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی، وزارت داخلہ متعلقہ وزارت بنتی ہے، وزارت قانون نے یہ نوٹیفکیشن کیسے کیا؟ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرسماعت ہے،تو ٹرائل کورٹ اس درخواست پر فیصلہ کرے ہائیکورٹ نے تو نہیں روکا ،ٹرائل کورٹ فیصلہ کر دے تو ہائیکورٹ میں درخواست غیرموثر ہو جائے گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے جو متاثرہ فریق ہوا وہ اپیل کر لے گا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جزوی دلائل سماعت شد، بارہ ستمبر کو دلائل مکمل ہوگئے تو اسی دن فیصلہ کردیں گے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پرویز الہیٰ کو پیش نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ طلب

    پرویز الہیٰ کو پیش نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ: عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت اور حبس بجا کی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدت نے حبس بجا کی درخواست پر سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور سپرنٹینڈنٹ اٹک جیل کو طلب کر لیا ،عدالت نے پرویز الٰہی کے پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ،عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ آپ کو توہین عدالت کے جرم میں سزادی جائے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا واضح حکم تھا وفاقی حکومت کے وکیل پیش ہو کر وضاحت کریں

    سرکاری وکیل نے کہا کہ ہارٹ پرابلم کی وجہ سے پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا گیا، ڈی سی اسلام آباد نے بیماری کی بنا پر انکو سفر کرنے سے منع کیا۔پرویز الٰہی کو ڈی سی اسلام اباد نے نقص امن عامہ کے تحت نظر بند کر دیا ہے، اب حبس بجا کی درخواست کا جواز نہیں رہتا،

    ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک بطور بیلف پیش ہوئے اور کہا کہ پرویز الٰہی کو نظر بند ہونے کی بنا پر بازیاب نہیں کرایا جاسکا ، پرویز الہیٰ اٹک جیل میں ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ حبس بیجا کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی جائے ،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد توہین عدالت میں پیش نہ ہوے ۔انکو طلب کیا جائے ،عدالت نے سپرنٹینڈنٹ جیل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ عمران خان کی عدالت پیشی کی بنا پر جیل سپرنٹینڈنٹ پیش نہ ہوئے ،

    کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی ،عدالت نے چیف کمشنر اور ائی جی اسلام آباد کو پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت کے طلب کرنے کے باوجود چیف کمشنر اسلام آباد، ائی جی اسلام آباد اور سپرنٹینڈنٹ اٹک جیل پیش نہ ہوئے ،وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید قصوری پیش ہوئے ،وفاقی وکیل نے جواب داخل کرنے اور ہدایات لینے کے لیے مہلت مانگی ،عدالت میں کہا کہ عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے قبل ہمیں سن لے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم پہلے کا ہے ۔اپ پہلے اس ارڈر کی تعمیل کریں

    ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے جسٹس امجد رفیق کا پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کی نظر بندی کے آرڈر معطل کر دیے ہیں ،عدالت نے کہا کہ چیف سیٹلمنٹ نے نظر بندی کے آرڈر جاری کیے اپ اس نظر بندی کو چیلنج کریں ،عدالت نے درخواست گزار کے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو برحال اسلام آباد ہائی کورٹ جانا پڑے گا ۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے

    قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس امجد رفیق کے ملتان تبادلے کے بعد پرویز الہیی کی درخواست جسٹس مرزاوقاص کی عدالت میں مارک کر دی،جسٹس مرزا وقاص روف کیس پر سماعت کریں گے ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک اسد علی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے ،ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ افضال بھی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے .جسٹس امجد رفیق کے ملتان بنچ کام کرنے کی بنا پر کیس دوسرے جج کے پاس سماعت کے لیے لگایا گیا ہے

    پرویز الٰہی کی رہائی،نیب نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی
    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے، نیب کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بنچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کیا پرویز الٰہی کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو