Baaghi TV

Tag: اٹک جیل

  • پرویز الہی بازیابی کیس؛ کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا

    پرویز الہی بازیابی کیس؛ کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا

    لاہورہائیکورٹ میں پرویز الہی کی بازیابی کا کیس کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امجد رفیق نے سیشن جج کو کل پرویز الہی کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا اور جسٹس امجد رفیق کل سے لاہورہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ پر کیسز کی سماعت نہیں کریں گے ۔جسٹس امجد رفیق نے آئی جی اسلام آباد کو بھی توہین عدالت عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا.

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چوہدری پرویز الہٰی کی بازیابی کیس کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی تھی اور عدالت نے انہیں اٹک جیل سے بازیاب کرانے اور کل عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک کو حکم دیا کہ وہ بطور بیلف کل اٹک جیل سے پرویز الہٰی کو بازیاب کروائیں جب کہ آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ توہین عدالت نہیں کیونکہ عدالت کے اندر نہیں ہوئی، یہ فوجداری اور سول توہین عدالت ہے، ان افسران پر فرد جرم بھی عائد کروں گا اور اس کیس میں توہین عدالت اور محکمانہ کارروائی ہوگی اور عدالت نے کہا کہ پرویز الہٰی کو حوالے کرتے ہوئے قانون کو نظر انداز کیا گیا۔ اب سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔

    سماعت کے دوران سینیئر قانون دان لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری پری پلان تھی، یونیفارم میں ملبوس افسران سے سادہ لباس اہلکار پرویز الہٰی کو لے گئے، اگر انہیں اس عدالت کی حدود سے لے جایا گیا ہے تو عدالت کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی صوبے میں حکم دے سکتی ہے، اس طرح عدالتی حکم کی خلاف ورزی 50 سال کی وکالت میں نہیں دیکھی جبکہ اس موقع پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پرویز الہٰی کہاں ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ پنجاب کی کسی اتھارٹی یا ادارے کے پاس نہیں ہیں۔ آئی جی پنجاب نے بھی پرویز الہٰی سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا، ان کے اس جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اسلام آباد سے کوئی مراسلہ آیا کہ ہماری ٹیم آ رہی ہے جس پر انہوں نے بتایا کہ جی سی سی پی او کو رپورٹ دینے کا کہا جو رجسٹرار آفس میں جمع کرا دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی اسلام آباد پولیس کا آتا ہے تویونیفارم میں ہونا چاہیے جس پر پنجاب پولیس چیف نے کہا کہ میں اسلام آباد پولیس کا ذمے دار نہیں، میں تمام حقائق تحریری رپورٹ میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    تاہم خیال رہے کہ عدالت نے کہا کہ اگر کسی مجسٹریٹ کا نظر بندی کا حکم تھا تو وہ الگ معاملہ ہے، آپ اس معاملے کی محکمانہ انکوائری کرائیں جبکہ آئی جی پنجاب سے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے پر شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے بلکہ صرف نوٹس کریں، پہلے ڈی آئی جی کا پہلے ڈی آئی جی کا موقف سن لیں پھر جو آپ کا حکم ہو گا اس پر عمل کریں گے تاہم واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہٰی کو یکم ستمبر کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اسی روز انہیں اسلام آباد پولیس نے نقص امن کے تحت ظہور الٰہی روڈ سے گرفتار کیا، ان کی ایم پی او قوانین کے تحت گرفتاری عمل میں لای گئی اور انہیں خصوصی ہیلی کاپٹر سے اسلام آباد منتقل کرنے کے بعد اٹک جیل بھیج دیا گیا تھا۔

  • گرفتاری کا خوف،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئی

    گرفتاری کا خوف،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ،عدالت میں دائر درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں،درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں، درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائریز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے

     بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    عدلیہ،فوج،حکومت پر کب دباؤ ڈالنا؟ بشریٰ بی بی کی ہاتھ سے لکھی ڈائری پکڑی گئی

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    رات کے اندھیرے میں بشریٰ بی بی،بزدار یتیم خانوں میں کیا کرتے تھے؟

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اٹک جیل میں ہیں، عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا ہوئی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی، عمران خان اب بھی جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں نیب نے بشریٰ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئیں، نیب نے القادر یونیورسٹی کس میں بھی بشریٰ کو طلب کیا تھا، بشریٰ نے عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے تا ہم پھر بھی انکو گرفتاری کا خوف کھائے ہوئے ہے، بشریٰ بی بی جیل میں عمران خان سے ملنے بھی جا چکی ہیں

  • پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے، ترجمان پمز

    پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے، ترجمان پمز

    تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کی اٹک جیل میں طبیعت ناساز ہو گئی ہے،

    چودھری پرویز الہیٰ کو چیک اپ کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پمز ہسپتال میں لایا گیا ہے، سخت سیکورٹی میں پرویز الہی کو اٹک جیل سے پمز منتقل کیا گیا، پرویز الہی کا کارڈیالوجی وارڈ میں میڈیکل چیک اپ کیا گیا،پرویز الہی کو سینے میں اٹھنے والی درد کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا، پرویز الہی کی نبض اور بلڈ پریشر کو بھی چیک کیا گیا،پرویز الہی کے مزید ٹیسٹوں کے لیے نمونے بھی لیے گئے،

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ تقریبا پینتالیس منٹ تک ہسپتال میں رہے، اسکے بعد انہیں پھر دوبارہ اٹک جیل روانہ کر دیا گیا ہے ،پرویز الہیٰ کو ہسپتال لائے جانے کے موقع پر سیکورٹی کے سکٹ انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری ہسپتال کے باہر تعینات کی گئی تھی،پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ مکمل، ڈاکٹرز نے پرویز الہیٰ کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے، ترجمان پمز کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے،طبی معائنہ کے لیے کوئی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا،

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    پرویز الہیٰ کی دوبارہ گرفتاری پر انکی اہلیہ نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکی جس پر آج دو بار سماعت ہو چکی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں افسران سے پوچھ لیں کہ وہ آج پیش ہوں گے یا کل ؟کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ اسی وقت میرے پاس آجاتے

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں ، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر اٹک جیل میں ہیں، نو مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور ابھی تک چھوڑ رہے ہیں، کئی رہنما روپوش ہیں، اور عدالتیں انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہیں،

    ایسے میں تحریک انصاف نے بین الاقوامی عدالتوں میں بھی مقدمے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے،اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے، جیفری رابرٹسن بین الاقوامی عدالتوں میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نمائندگی کریں گے، یہ اعلان تحریک انصاف کے ٹویٹر ہینڈل سے کیا گیا

    تحریک انصاف کا ایک اور فیصلہ جسکا دفاع نا ممکن

    چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان نے سلمان رشدی کے وکیل بیرسٹر جیفری رابرٹسن کو اپنا وکیل مقرر کر دیا ،تحریکِ انصاف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے جیفری رابرٹسن کو وکیل کرنے کی توثیق کر دی ،جیفری رابرٹسن QC (کوئین کونسل) نے اسلام مخالف توہین آمیز کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) کے بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی کے خلاف لائے گئے توہین رسالت کے مقدمے میں ملعون رشدی کا دفاع کیا .جیفری رابرٹسن نے نہ صرف ملعون رشدی کا دفاع کیا بلکہ شاتم رسول کو اپنے گھر میں چُھپا کر رکھا۔ اس بات کا اعتراف جیفری نے خود اپنے لکھے گئے مقالے میں کیا ،اس کے علاوہ جیفری نے کس کا دفاع کیا؟ جی ہاں! Gay نیوز میگزین جس نے نعوذباللہ حضرت عیسیٰ کی شان میں انتہائی توہین آمیزنظم لکھی تھی اس کا بھی دفاع کیا۔ اس بات کا اعتراف بھی جیفری نے خود اپنے لکھے گئے مقالے میں کیا ،دنیا بھر کے کرپٹ حکمرانوں اور عالمی مالیاتی فراڈز کے ملزمان کے دفاع کیلئے بیرسٹر جیفری رابرٹسن نے کئی عالمی شہرت یافتہ کیس لڑے ،عالمی عدالتوں، انٹرنیشنل وار ٹربیونلز اور ایمنسٹی انٹرنیشنل میں بڑے بڑے مقدمات کی پیروی کے باعث بیرسٹر جیفری رابرٹسن ٹاپ کریمنلز کو بچانے والا وکیل کے نام سے مشہور ہے جیفری رابرٹسن کی ایک وجہ شہرت جنگی جرائم کے ملزم دہشت گردوں کے کیسز لینا بھی ہے بیرسٹر جیفری کی وجہ شہرت ریاستوں کے خلاف کام کرنے والی شخصیات کی وکالت بھی ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    اسرائیل سے دیرینہ روابط کی بنا پر بیرسٹر جیفری رابرٹسن پاکستان اور افواج پاکستان کیخلاف عرصہ دراز سے زہر اگلتا رہا ہے بیرسٹر جیفری رابرٹسن 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور سقوط ڈھاکہ کے سانحہ کے دوران بھارت کی بولی بولتا رہا اور پاکستان و پاکستانی فوج کیخلاف طوفان اٹھائے رکھا ،بیرسٹر جیفری رابرٹسن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ثابت شدہ کریمنلز کو بھی سزا سے بچا سکتا ہے بیرسٹر جیفری رابرٹسن وکی لیکس کے بانی جولین آسانج کا بھی وکیل رہا لیکن اسے سزا سے نہ بچا سکا .جیفری رابرٹسن کا بطور وکیل انتخاب چیئرمین تحریکِ انصاف کے اوپر لگے سنگین الزامات کی حساسیت کو بھی اجاگر کرتا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارف حنا سرور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ کا دعویدار۔۔۔ناانصافیو کے لیے امت محمدیہ کا واحد لیڈر ہے عمران خان اور اب اس واحد لیڈر کا وکیل جانتے ہیں کون ہے۔جی وہی مل ع و ن سلمان رشدی۔صرف مل عون نہیں ہے وہ۔ بلکہ 1971 جنگ میں پاکستان کے خلاف کیس لڑنے والا ٹھگ باز بھی ہے۔۔یہ ہے انقلاب تو اخ تھ و ہے اس انقلاب پر

    https://twitter.com/ChiryaClub/status/1697832167949123599

    فرحان ورک نے ٹویٹر پر لکھا کہ تحریک انصاف نے عالمی اسٹیبلشمنٹ سے مدد لینا شروع کردی جس شخص بیرسٹر جیوفری کو بین القوامی سطح پر اپنا وکیل مقرر کیا ہے وہ نا صرف سلمان رشدی جیسے گستاخ کا وکیل ہے بلکہ 1971 میں پاکستان کے خلاف بھی ایکٹو رہا ہے۔ثبوت ساتھ جڑے ہیں، خود تصدیق کریں۔

  • عمران خان کے پرسنل ڈاکٹرکو ملی ملاقات کی اجازت

    عمران خان کے پرسنل ڈاکٹرکو ملی ملاقات کی اجازت

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ، سائفر کیس اپڈیٹ،عدالت نے عمران خان کے پرسنل ڈاکٹر فیصل سلطان کو عمران خان سے جیل میں ملنے کی اجازت دے دی

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین نے احکامات جاری کئے، تحریک انصاف کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ عمران خان کے پرسنل ڈاکٹر کو جیل میں ملنے دیا جائے، عدالت نے درخواست منظور کر لی ہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری درخواست پر جج ابو الحسنات صاحب نے لیگل ٹیم میں شعیب شاہین،انتظار حسین پنجوتھہ،علی اعجاز بٹر،سردار سمیر کھوسہ ،ڈاکٹر فیصل اور مجھے عمران خان صاحب سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے،کچھ آج اور کچھ کل خان صاحب سے ملنے اٹک جیل جائیں گے .

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کو بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت

    عمران خان کو بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دے دی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اٹک جیل میں ہیں ،ایک دن قبل عدالت نے انکا سائفر کیس میں چودہ دن کا ریمانڈ دیا،آج عمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    سائفر کیس،اٹک جیل میں سماعت ،عمران کے ریمانڈ میں توسیع

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل پہنچ گئے

    سائفر کیس کی سماعت سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اٹک جیل میں موجود تھے، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواستِ ضمانت بعد ازگر فتاری دائر کر دی ،ان کیمرہ سماعت کے باعث میڈیا نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین سےکمرہ عدالت میں مکالمہ کیا اور کہا کہ کیا آپ کوعدالت اٹک جیل میں لگانےکا این او سی ملا تھا؟جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے اٹک جیل میں سائفرکیس کی سماعت کرنےکا این او سی ملا تھا، وکیل نے کہا کہ کیا آپ سے حکومت نے اٹک جیل سماعت منتقلی پر رائے لی تھی؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھ سے حکومت نے سماعت اٹک جیل منتقلی پر رائے نہیں لی، پی ٹی آئی وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ پھر آپ نے کیسے اٹک جیل منتقل کرکے سائفرکیس کی سماعت کرلی،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ،جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے فریقین سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر 2 ستمبر کو دلائل طلب کر لیے

    اٹک جیل میں لگائی گئی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت مکمل ہوگئی، عمران خان کے وکلاء کچھ دیر بعد آکر سماعت سے متعلق مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جج بھی سماعت کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں،دوسری جانب وکیل لطیف کھوسہ عمران خان سے ملنے اٹک جیل پہنچ گئے

    وزارت قانون نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کی اجازت دی تھی ،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا

    قبل ازیں پولیس نے چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو جیل جانے سے روک دیا ،پولیس کا کہنا ہے کہ صرف ایک وکیل کو جیل کے اندر جانے کی اجازت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے تمام ممبران کا جیل کے اندر جانے پر اسرار ہے،عمران خان کی لیگل ٹیم میں بیرسٹر گوہر، بیرسٹر عمیر نیازی، خالد یوسف چوہدری، پنجوتھہ برادران شامل ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانت کی داخواست تیار کر لی گئی ،بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہی نہیں،یہ سٹیج ضمانت کی بنتی ہے اس لیے آج ضمانت کی درخواست دائر کریں گے ،ٹرائل شروع نہیں ہوا ثبوت ٹرائل کے دوران دیئے جاتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی مقدمات بنائے جا رہے ہیں،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تھی، جس کے بعد عمران خان جنکو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا تھا وہ جوڈیشیل ریمانڈ پر تھے، آج انکا ریمانڈ ختم ہو رہا ہے، آج انکو عدالت پیش کیا جانا تھا تا ہم اب کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہی ہو گی،

    سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزا معطلی سے قیدی نمبر 804 صادق اور امین نہیں بنا

    اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کو جیل میں جو سہولتیں میسر ہیں دیسی گھی میں مٹن فراہم کیا جارہا ہے ، کیا عمران خان کی طرح دیگر قیدیوں کو بھی کھابے دیئے جائیں گے، آج ہائیکورٹ اسلام آباد میں گڈ ٹو سی یو کی دوسری قسط دیکھنے کو ملی،سزا معطلی کسی مجرم کو محترم نہیں بنا سکتی،مجرم ہر حال میں مجرم ہی رہے گا،نطام انصاف میں پائے جانے والے خلا اسیر اٹک جیل کو جیل بدر کروانے کا باعث بن رہے ہیں،اسوقت ملک کو آفات اور مراعات نے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آج ایک فیصلہ آیا جس کی گونج کئی دن سے سوشل میڈیا پر تھی ایک جماعت کئی دن پہلے ہی فیصلہ سنا چکی تھی فیصلے سے متعلق مبارکبادوں کا سلسلہ کئی روز سے جاری تھا ثابت ہو گیا طاقتور جب چاہے آئین اور قانون کو روند سکتا ہے دہرا معیار کب تک چلے گا، قیدی 804 کے ساتھ چہیتوں والا سلوک ہو رہا ہے  ،جیل میں فرمائشی کھانے کھائے جا رہے پھر بھی قیدی کا رونا بند نہیں ہو رہا،نگران حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرے

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے،ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا

    سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے،عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے،” سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں سزا معطل ہو ، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے ، اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے ، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے ، سزا معطلی کی درخواست منظور کر کے پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہفیصلہ باضابطہ طور پر کمرہ عدالت میں نہیں سنا رہے، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ تحریری فیصلے میں سزا معطلی کی وجوہات بتائی جائیں گی ،

    عدالت نے فیصلہ سنایا تو وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے اندر موجود تھی، عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان اور علیمہ بھی کمرہ عدالت میں آئیں تا ہم 12 بج کر پچاس منٹ پر عمران خان کی بہنیں فیصلہ سنے بغیر ہی واپس چلی گئیں،،اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر بھی تعینات کی گئی تھی،درخواست پر 9 کو اگست پہلی سماعت ہوئی تھہ آج 20 روز بعد فیصلہ سنایا گیا، عدالت نے فیصلہ سنانے کا وقت گیارہ بجے کا مقرر کیا تھا مگر فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    فیصلے کے انتظار کے دوران وکلا کمرہ عدالت میں ویڈیو بناتے رہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کی جانب سے تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ ویڈیو نہ بنائیں، موبائل سائلنٹ کردیں، سیٹوں پر بیٹھ جائیں، کچھ ہی دیر میں ججز آنے والے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    عمران خان نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ ایک دن میں فیصلہ کریں تا ہم ایک دن میں فیصلہ نہ ہو سکا، آج عدالت نے فیصلہ سنایا ہے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف
    عدالتی فیصلے پر سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلامآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

    سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی،مجرم ابھی بھی مجرم ہے
    صحافی فیصل عباسی کہتے ہیں کہ سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی ہے اور کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجرم ابھی بھی مجرم ہے اور الیکشن کے لیے نااہل ہے۔ قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ سے تین سال کی سزا تک کو اعلی عدلیہ اس وقت تک معطل کر سکتی ہے جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ اس عمل میں سزا پھر بھی قائم رہتی ہے اور مجرم ، مجرم ہی رہتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کرے گی جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اسکی مین اپیل کورٹ میں پینڈنگ ہے.

  • بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی

    بشریٰ بی بی توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد میں ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے پیش ہوئیں ،بشریٰ بی بی اپنے وکلاء لطیف کھوسہ اور انتظار پنجوتھہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواست پر سماعت کی

    احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی

    بشریٰ بی بی عدالت سے اٹک روانہ ہو گئی ہیں وہ اٹک جیل میں اپنے شوہر عمران خان سے ملاقات کریں گی، بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ملاقات کے لئے منگل کا دن مقرر ہے، آج بشریٰ بی بی کی عمران خان سے چوتھی ملاقات ہو گی

    بشری بی بی کو دوبارہ نیب نے نوٹس بھیجے تھے ،آج نیب نے بھی بشریٰ بی بی کو طلب کر رکھا تھا تا ہم بشریٰ بی بی نیب میں پیش نہیں ہوئیں، نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کو غیر ملکی معززین کی جانب سے نہایت قیمتی اورلاکھوں روپے مالیت کے تحائف ملے جو انھوں نے کم دام ادا کر کے اپنے پاس رکھ لیے بشری بی بی نے بطور تحفہ 2019 میں ملنے والا ایک لاکٹ اور چین، ایک جوڑا بُندے، دو عدد انگوٹھیاں اور ایک بریسلیٹ جبکہ 2020 میں ہیروں سے جڑا سونے کا ایک ہار، ایک بریسلیٹ، ایک انگوٹھی اور بُندوں کا ایک جوڑا، جبکہ 2021 میں ایک ہار، ایک جوڑا بُندوں کا، ایک انگوٹھی اور ایک ہاتھ میں پہنی جانے والی گھڑی اپنے پاس رکھی ، یہ تمام تحائف سرکار کی ملکیت تھے جنھیں آپ نے سرکاری طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا گیا اور نہ ہی ان کو ملکی قوانین کے مطابق حاصل کرنے کے لیے قیمت لگوائی گئیم سابق وزیر اعظم عمران خان اوران کی اہلیہ نے نہ صرف ان سرکاری حیثیت میں ملنے ولے تحائف کو اپنے پاس رکھا بلکہ ان سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا گیا۔ نوٹس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس میں درج سوالوں کے سچائی اور یمانداری پر مبنی جوابات جلد از جلد جمع کروائے جائیں

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    nab notice