Baaghi TV

Tag: اٹک جیل

  • عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل،اے کلاس دینے کے لئے درخواست دائر

    عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل،اے کلاس دینے کے لئے درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو سزا سنائے جانے کے بعد حقِ دفاع بحال کرنے کی اپیل سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں حقِ دفاع بحال کرنے کی اپیل 10 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق 10 اگست کو سماعت کرینگے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا ہے ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کر دیا تھا ،چیئرمین پی ٹی آئی نے حقِ دفاع بحال کرنے کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کی درخواست دائر کی گئی ہے ،عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، وکیل نعیم پنجوتھا کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو جیل میں اے کلاس فراہم کی جائے، عمران خان کی قانونی ٹیم کو جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے عمران خان کو ذاتی معالج، اہلخانہ اور پارٹی کے سینئر قائدین سے بھی ملاقات کی اجازت دی جائے،عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے،

    دوسری جانب پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد ویڈیو پیغام میں تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں بیشتر ارکان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا،گرفتاری کا آرڈر اسلام آباد پولیس کے پاس تھا،گرفتاری پنجاب پولیس نےکی آرڈر اڈیالہ جیل لے جانے کا تھا لیکن اٹک جیل لے جایا گیا اٹک جیل میں بی کلاس تک کی سہولت بھی موجود نہیں ہمارے علم میں آیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 بائی11 کے سیل میں رکھا گیا ہے وکلاء کو چیئرمین پی ٹی آئی تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا امید ہے کہ عمران خان کو ان کا بنیادی اور آئینی حق دیا جائے گا،کورکمیٹی کی پہلی ترجیح چیئرمین پی ٹی آئی کا تحفظ اور ان کی رہائی ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو دو روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • مکافاتِ عمل ، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے،ریحام خان

    مکافاتِ عمل ، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے،ریحام خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد ان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کا طنزیہ ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : ریحام خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں اٹک جیل کی مختصر تاریخ بتاتے ہوئے لکھا کہ اٹک جیل کو برطانوی حکمرانوں نےبغاوت میں ملوث لوگوں کو قید کرنے کے لیے بطور جیل استعمال کیا تھا ریحام نےایک اور طنزیہ ٹوئٹ میں ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے ابھی تک احتجاج کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی-


    ریحام خان نے ایک ڈیجیٹل میڈیا کو انٹرویو میں عمران خان کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ یہ قدرتی عمل ہے ، جو عمران خان کے ساتھ ہوا وہ مکافاتِ عمل ہے، یہ وہ ہی لوگ ہیں جو میاں نواز شریف کی نااہلی پر تالیاں بجارہے تھے، ملک دشمنی کے نعرے لگا رہے تھے،تحریک عدم اعتماد کے بعد جو عمران خان نے کیا، میں نے ٹوئٹ کے ذریعے قمر جاوید باجوہ کو پیغام دیا تھا کہ ہم پہ جو بیتی ہے وہ تو ہم نے سہی ہے، آپ پہ جو گزرے گی وہ دنیا دیکھے گی-

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

    ریحام نے کہا میں نے متعدد انٹرویوز میں بتایا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد یہ شخص جو کرے گا وہ پوری دنیا دیکھے گی، بہت سے لوگوں کو تعجب ہوگا کہ میں اس کیس کو فالو نہیں کر رہی تھی، میں نے خبر دیکھی تو پتہ چلا کہ عمران خان پر ایک لاکھ جرمانہ ہوا ہے، جسے سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی-

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا سلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہ کرنے کی پوری کوشش کی،میجر گورو آریا

  • عمران خان اٹک جیل میں قید ہونے والے پہلے سابق وزیراعظم

    عمران خان اٹک جیل میں قید ہونے والے پہلے سابق وزیراعظم

    اٹک: سابق وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ سے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک لاہور سے گرفتاری کے بعد ہفتہ کی شام ڈسٹرکٹ جیل اٹک لے جایا گیا جہاں انہوں نے پہلی رات گزاری-

    باغی ٹی وی :پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پہلے انھیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے اسلام آباد منتقل کرنے کی خبریں گردش کرتی رہیں تاہم بعدازاں پی ٹی آئی چئیرمین کو سخت سیکیورٹی میں بذریعہ موٹر وے جیل لے جایا گیا۔ جیل کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سخت حفاظتی دستوں نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ اٹک پولیس کو ہدایت ملتے ہی جیل کے اطراف پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

    اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ عمران خان کے لیے جیل میں ایک وی وی آئی پی سیل تیار کیا گیا تھا۔ سیل میں ایئر کنڈیشننگ کی کوئی سہولت نہیں ہے لیکن اس کے اندر ایک پنکھا، بستر اور ایک واش روم ہے۔

    واضح رہے کہ اٹک پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا آخری شمالی شہر ہے جو سنہ 1904 میں انگریزوں کے دورِ حکومت میں کیمبل پور کے نام سے آباد کیا گیا تھا دریائے سندھ کے بائیں کنارے جہاں 120 سال پرانا شہر اٹک موجود ہے وہاں تھوڑے ہی فاصلے پر ‘اٹک خورد’ یعنی چھوٹا اٹک کے نام سے ایک گاؤں اس کہیں پہلے وجود رکھتا ہے۔

    عمران خان پہلے سابق وزیراعظم ہیں جو اٹک جیل میں بند ہیں جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو 1999 میں اٹک قلعہ میں قید کیا گیا تھا اس سے قبل انہیں 10 سالہ جلاوطنی پر جدہ بھیج دیا گیا تھا اٹک جیل اور قلعہ الگ الگ احاطے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔

    پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے،غیر ملکی ماہرین

    قلعہ اٹک خورد میں مغل بادشاہ اکبر کے دور میں 1581-83 میں خواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دریا کے گزرنے کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا یہ قلعہ صوبہ خیبرپختونخوا سے متصل دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ قلعہ کا داخلی راستہ راولپنڈی-پشاور جی ٹی روڈ کی طرف سے ہے، اس تاریخی قلعے کا ایک حصہ آج بھی پاکستانی فوج کے ‘سپیشل سروسز گروپ’ یعنی کمانڈوز کے زیرِ انتظام ہے۔

    دوسری جانب اٹک جیل شہر کے وسط میں راولپنڈی پشاور ریلوے ٹریک کے ساتھ واقع ہے۔ اسے برطانوی حکمرانوں نے 1905-06 میں 67 ایکڑ پر تعمیر کیا تھا برطانوی حکمران اس جیل کو زیادہ تر بغاوت میں ملوث لوگوں کو حراست میں لینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اسے اب ملک کی ایک ہائی سیکیورٹی جیل سمجھا جاتا ہے جہاں عام طور پر سخت زیر سماعت قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

    اسی قلعے میں سابق فوجی صدر ضیاالحق کے خلاف مبینہ طور پر بغاوت کے مقدمے سمیت بینظیر بھٹو کے خلاف مبینہ سازش کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلائے گئے،اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی سماعت بھی اسی تاریخی قلعے میں ہوتی رہی ہے اور وہ ایک طویل عرصے تک یہیں قید رہے۔

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی …

    اٹک کی ضلعی جیل شہر کے قیام کے ایک برس بعد 1905 میں قائم کی گئی اور پنجاب کے محکمۂ جیل خانہ جات کی ویب سائٹ کے مطابق یہاں 539 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے جبکہ اس وقت وہاں اس سے کہیں زیادہ یعنی 804 افراد قید ہیں۔

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 1999 میں اٹک فورٹ کی احتساب عدالت سے مشہور MI-8 ہیلی کاپٹر کک بیک کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد اٹک جیل میں رکھا گیا تھا مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز، سابق وزیراعلیٰ کے پی سردار مہتاب احمد خان، سابق وزیر مواصلات اعظم خان اور ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی جیل میں قید ہیں اس سال کے شروع میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری پر امریکا کا بیان

  • اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    اٹک جیل انتظامیہ نےعمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا،وکیل

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم پنجوتھا کا کہنا ہے کہ اٹک جیل کی انتظامیہ نے عمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: نعیم پنجوتھا کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے اٹارنی اور دیگر دستاویزات پر دستخط کرانے ہیں لیکن جیل کی انتظامیہ نے عمران خان سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا جیل انتظامیہ نےکہا پاور آف اٹارنی کے لیے پیر کو رابطہ کریں، اگر پیر کو بھی ملاقات نہ کرنے دی گئی تو ایک دن مزید ضائع ہو جائےگا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وکیل نعیم پنجوتھا چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اٹک جیل پہنچے تھے جہاں سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل ور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی اجازت مانگی،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے تا حال جواب نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی آئی سے پاور آف اٹارنی اور مختلف درخواستوں پر دستخط کروانے ہیں۔

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا تھا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر اپیل دائرکرنےکیلئے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کےدستخط کروانے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی سے خیریت، کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی پوچھنا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر عمران خان ایک لاکھ روپے جرمانہ نہیں دیں گے تو 6 ماہ مزید قید ہوگی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے عمران خان کو لاہورمیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے اسلام آباد منتقل کیا تھا جہاں سے انہیں اٹک جیل منتقل کیا گیا۔

    حقِ دفاع سے قبل ہی فیصلہ سنا کر سزا دے دی گئی ہے،وکیل پی ٹی …

  • قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    قانونی ٹیم عمران خان سے ملاقات کیلئے اٹک جیل پہنچ گئی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین سے ملاقات کیلئے ان کی قانونی ٹیم اٹک جیل پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی: وکیل نعیم پنجوتھا چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اٹک جیل پہنچے، جہاں سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل ور ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی اجازت مانگی،وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کے لیے تا حال جواب نہیں ملا، چیئرمین پی ٹی آئی سے پاور آف اٹارنی اور مختلف درخواستوں پر دستخط کروانے ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل نے کہا کہ توشہ خانہ کیس کے فیصلے پر اپیل دائر کرنے کیلئے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کے دستخط کروانے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی سے خیریت، کھانے پینے اور کپڑوں کا بھی پوچھنا ہے۔

    روس کی نمائندگی کےبغیرسعودی عرب کی میزبانی میں یوکرین بحران پر دوروزہ مذاکرات شروع

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین کو اٹک جیل منتقل کردیا گیا پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 6 بج کر 50 منٹ پر اٹک جیل منتقل کیا گیا، جہاں جیل مینویل کے مطابق ان کا میڈیکل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک لاہور سے گرفتار کیا، جس کے بعد وفاقی پولیس نے سابق وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچایا تھا۔

    یہ سب مکافات عمل ہے اب رونا کس لیے ہے،رانا ثنااللہ

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا تھا،اسلام آباد کی سیشن عدالت کے جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے والد محمد سعید گرفتار

  • تحریک انصاف کے گرفتار رہنما اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل

    تحریک انصاف کے گرفتار رہنما اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل

    پاکستان تحریک انصاف کے گرفتار رہنماوں کو اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں پولیس نے کسی بھی کارکن کو گرفتار نہیں کیا پولیس زرائع کے مطابق گرفتار رہنماوں کو اڈیالہ جیل سے اٹک منتقل کر دیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سے 5 سینئر رہنماوں کو گرفتار کیا گیا ہے شاہ محمود قریشی ،شیریں مزاری،اسد عمر، ملائکہ بخاری اور سیف اللہ نیازی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں،راولپنڈی سے فیض الحسن چوہان کو گرفتار کیا گیا ہے ،اسلام آباد سے علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کو گرفتار نہ کیا جا سکا اڈیالہ جیل حکام کے جگہ نہ ہونے پر انکار کیا جس کے باعث رہنماوں کو اٹک منتقل کیا گیا اب مزید کارکنوں اور رہنماوں کو گرفتار کر کے پنجاب کے دیگر شہروں کی جیلوں میں منتقل کیا جائے گا

    بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل حکام نے اہل خانہ کو شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی گوہر بانو قریشی گھنٹوں انتظار کے بعد اپنے والد سے ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں۔ شاہ محمود قریشی نے ایسے کسی بھی تحریری اقرارنامہ پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس سے ان کے سیاسی و جمہوری حقوق متاثر ہوں۔ اطلاعات ہیں کہ شاہ محمود قریشی کو آج اٹک جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔شاہ محمود قریشی کو کسی اور جیل منتقل کرنا عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو گی۔

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامے کئے گئے، فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں و کارکنان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے،کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں نے پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، تا ہم عمران خان کو گرفتاری کے دوسرے دن ہی عدالت سے رہائی مل گئی،عمران خان پر وزیرآباد حملے کے بعد سے لے کر اب تک عمران خان زمان پارک میں مقیم ہیں، عمران خان کو کئی بار پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے کارکنان کو ڈھال بنایا، عمران خان کی اسلام آباد عدالت پیشی کے موقع پر پولیس نے زمان پارک میں سرچ آپریشن کیا تھا اس دوران اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا

  • اٹک جیل میں ملاقاتی خواتین کو ہراساں کرنے سمیت بدترین جرائم کا انکشاف

    اٹک جیل میں ملاقاتی خواتین کو ہراساں کرنے سمیت بدترین جرائم کا انکشاف

    اسلام آباد: سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی کےبعد ڈسڑکٹ جیل اٹک کے حوالے سےبھی صوبائی انٹیلی جنس سینٹر محکمہ داخلہ پنجاب کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں ملاقاتی خواتین کو ہراساں کرنے سمیت کئی دیگر بدترین جرائم ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صوبائی انٹیلی جنس سینٹر کی خصوصی رپورٹ میں ڈسڑکٹ جیل اٹک میں ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کو ہراساں کیے جانے کے علاوہ جیل سپرنٹنڈنٹ ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 8 اہل کاروں کے مبینہ رشوت خوری میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق جیل میں اسیر منشیات فروش جن پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں، خواتین کے ذریعے منشیات جیل میں منگواتے ہیں۔ منشیات جیل کی کینٹین پر منگوائی جاتی ہے، جسے جیل کا اہلکار وہاں سے اندر پہنچاتا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیل کےاندر منشیات فروشی میں ملوث عناصر اس قدر بااثر ہیں کہ وہ بے خوف ہوکر دھڑلے سے کام کرتے ہیں۔

    جیل میں ہر قسم کی منشیات مہنگے داموں دستیاب ہے جب کہ لنگر خانے پر بھی رشوت لی جاتی ہے، جہاں تقریباً 100 اسیران تعینات کیے گئے ہیں، مگر 70 ایسے ہیں جو 5 ہزار فی کس ماہانہ دے کر مشقت نہیں کرتے اور ان کی جگہ غریب اسیران سے مشقت کروائی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اہلکار نے لنگر خانے پر رشوت وصولی سے انکار کرکے خود کو تبدیل بھی کروا لیا ہے۔

    انٹیلی جنس سینٹر کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جیل میں چند ادویات ہی دی جاتی ہیں۔ دیگر ادویہ کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر سے لکھوا کر باہر سے منگوائی جاتی ہیں، غریب اسیران کو سہولت میسر نہیں۔ جیل میں اسیران سے ملاقات کے لیے دن مقرر ہیں، تاہم ملاقاتی کی حیثیت دیکھ کر 500 سے 2 ہزار روپے وصول کرکے کسی بھی دن ملاقات کروادی جاتی ہے جب کہ صاحبِ ثروت افراد 10 ہزار روپے تک دے کر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے کمرےمیں روبرو ملاقات کرسکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عام اسیران کو جیل مینوئل کے مطابق کھانا دیا جاتا ہے، تاہم جیل کے باہر سے ایک ہزار روپے میں پسند کا ناشتہ، 5 ہزار روپے میں چکن کڑاہی اور 10 ہزار روپے میں مٹن کڑاہی فراہم کی جاتی ہے۔ منشیات مقدمے کا سزا یافتہ قیدی ماہانہ 50 ہزار روپے دے کر جیل کا لباس نہ پہننے و دیگر سہولیات لینے میں خودکفیل ہے۔

    خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قتل کے جرم میں ایک پولیس اہلکار بھی 30 ہزار ماہانہ دے کر سہولیات سے مستفید ہورہا ہے۔ جس قیدی کو صاحب ثروت دیکھتے ہیں، الزامات عائد کردیے جاتے ہیں، جب 6 سے 7 ہزار ماہانہ دینا شروع کردے تو پھر گھومنے پھرنے کی آزادی دے دی جاتی ہے۔

    جیل میں منشیات کے ریکارڈ یافتہ اسیران کے بار بار قید ہونے کی وجہ سے تعلقات بن چکے ہیں، وہ جیل کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈسڑکٹ جیل میں مذکورہ معاملات پر اعلیٰ سطح کی انکوائری کروائی جائے ۔ نیز جیل میں ملاقات کے لیے آنے والی خواتین کی تمام ترذمے داری خواتین جیل اسٹاف کی ہونی چاہیے۔

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

    تحریک انصاف نے نئی نیب ترامیم کوچیلنج کردیا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس