Baaghi TV

Tag: اٹک جیل

  • عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،خواجہ عمران نذیر

    عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،خواجہ عمران نذیر

    نصیر آباد میں مسلم لیگ ن لاہور کے زیر اہتمام یوم آزادی کی تقریب منعقد کی گئی،

    یوم آزادی کی تقریب میں پرچم کشائی کی گئی اور کیک کاٹا گیا،صدرمسلم لیگ ن لاہور ملک سیف کھوکھر، جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نزیر نے پرچم کشائی کی ،اس موقع پر سیف الملوک کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی راہ پر نواز شریف نے گامزن کیا ترقی کرتے پاکستان کو عمران خان بہروپیے نے کھنڈرات میں تبدیل کیا، موٹرویز، ایئرپورٹس، بجلی کے کارخانے اور سماجی شعبے کی ترقی کا سہرا نواز شریف کے سر ہے،

    جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سولہ میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا ، شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیت سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ، خدا کی قدرت ہے جوکہتا تھا جیل میں اے سی بند کرونگا اب خود اے سی مانگ رہاہے، پنجاب حکومت سے گزارش ہے عمران کی جیل میں دوائی کا بندوبست بھی کریں ،قائدنواز شریف آئیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے ، عمران خان اور ثاقب نثار نے انتقامی کارروائیوں کی حدیں پار کیں، ثاقب اور عمران خان مسلم لیگ ن کو توڑنے میں ناکام رہے،

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    یوم آزادی کی مناسبت سے ریلیوں اور کیمپس کا انعقاد

  • عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    عمران خان کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اٹک جیل میں سہولیات،ملاقات اور اڈیالہ جیل منتقلی کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نےچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا ایک بار پھر حکم دے دیا، عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جائے نماز اور قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ بھی فراہم کیا جائے، وکلا، خاندان کے افراد اور دوستوں کو چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں،آئندہ سماعت پر فریقین گھر کے کھانے کی اجازت سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر عامر فاروق نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی وجوہات پراٹک جیل میں رکھا گیا ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اڈیالہ جیل میں رش اور سکیورٹی سے متعلق آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرائیں، وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے جانے پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق جیل میں ملاقات کے اوقات 8 سے 2 بجے تک ہیں، 3 بجے تک ملنے دیا جاسکتا ہے،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق مقررہ اوقات کے بعد ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی سے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات میں قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر ملاقات سپریٹنڈٹ جیل کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے،بتایا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وکلا ہفتے میں ایک یا دو بار ملاقات کیلئے اٹک جیل جائیں تاکہ بندوبست کرنے میں آسانی ہو، وکلاء کے مطابق اٹک جیل میں بی کلاس سہولیات موجود ہی نہیں ہیں، وکلاء نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کا مقصد بی کلاس سہولیات مہیا نہ کرنا ہے، وکلاء کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو چھوٹے کمرے میں قید کر رکھا ہے، گھر کے کھانے کی اجازت بھی نہیں، ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا جیل مینو کے مطابق جانچ پڑتال کے بعد دیا جاتا ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل،توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف مرکزی اپیل کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا،عدالت نے فریقین کو سزا کیخلاف اپیل کو جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے پر بھی نوٹس جاری کردیئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے حکم نامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ٹرائل کورٹ کے 5 اگست کے فیصلے کیخلاف ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف الیکشن کمیشن کی شکایت پر ٹرائل چلایا گیا، ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں، کیس کا ریکارڈ بھی منگوایا جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست جلد مقرر کرنے کی ہدایت کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی درخواست استدعا کر رکھی ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    اٹک جیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل استفسار کیا اور کہا کہ کیا ہو گیا شیر افضل صاحب؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ ہو گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا، آپ کے حکم کے باوجود ہمیں نہیں ملوایا گیا،ہم پر ایف آئی آر درج کر دی گئی،کل میں ضمانت پر تھا، پھر بھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر ڈیڑھ دو سو کیسز ہیں، ان کے وکیل کو صرف اس کیس میں تو نہیں ملنا جس میں ان کو سزا ہوئی، ان پر جو کیسز ہیں، ان سے متعلقہ وکیل ان کو ملنا چاہے گا،تاکہ وہ اس کیس سے متعلق عمران خان سے ہدایات لے سکے،

    عمران خان کو اڈیالہ منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب راؤ شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار وکلا کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل بھیجا آپ نے اٹک بھیج دیا ، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ تھا ؟ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں بھی لیٹر کی کاپی فراہم کی جائے ،

    وکیل پنجاب حکومت کی جانب سے خط پڑھا گیا ،اٹک جیل منتقلی سے متعلق خط میں وجوہات کا ذکر موجود تھا، عدالت نے استفسار کیا کہ ایک چیز بتائیں کیا وکلا ملزمان سے نہیں مل سکتے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ایک وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سے ملے ،وکیل صاحب نے پائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے وکالت نامے دستخط کرائے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف وکالت نامے دستخط کرانے کے لیے وکیل اپنے کلائنٹ سے جیل میں مل سکتا ہے ؟ اس طرح اجازت نا دینا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت میں آ جائے گا ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ہم نے ملنے کی اجازت دی آٹھ کو اور نو اگست کو یہ دیر سے پہنچے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ صبح آٹھ بجے سے دو اور یہ تین بجے تک بھی ہو سکتی ہے کیا یہی ہے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جی بالکل اسی طرح ہی ہے ،اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح 8 سے 2 بجے تک کوئی ملاقات کیلئے آئے تو کوئی قباحت تو نہیں؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے اور اس میں کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج ہونگے، وکیل پنجاب حکومت کہہ رہے ہیں کہ میں گزشتہ روز پونے پانچ بجے اٹک جیل پہنچا،گزشتہ روز ڈیڑھ بجے اٹک جیل کے باہر میڈیا کو انٹرویو دیا، ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا اور ہم دونوں وہاں موجود تھے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ساتھ ہی وہ سزا یافتہ بھی ہیں دونوں چیزوں کو برابری کی بنیاد پر لے کر چلنا ہے، وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا، یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے، ٹرائل جج، سپریٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی کمشنر نے کلاس کی سفارش کرنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کی وجوہات مضحکہ خیر ہیں، جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ اڈیالہ جیل سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے مستحکم جیل ہے،
    رولز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی بھی استدعا کی گئی ہے، نمائندہ پنجاب حکومت نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں معائنہ کے بعد ہی اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نواز شریف سے انکے وکیل ڈاکٹر عدنان روزانہ ملتے تھے، عدالت نے کہا کہ کیا ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں تھی؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل سے ریکارڈ منگوا لیں معلوم پڑ جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ اتنا تنگ کیوں کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات اور سہولیات سے متعلق میں آرڈر کروں گا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اس طرح کی شرائط عائد نہ کریں میں نے کہا تھا کہ دو تین وکلاء ملاقات کیلئے جایا کریں زیادہ نہیں،دو چار لوگوں سے کیا فرق پڑتا ہے سو پچاس جائیں تو پھر الگ بات ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نیب کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج ہو گئی ہے،نیب اب چیئرمین ہی ٹی آئی کو اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ لینا ہے،ہم گزشتہ روز بشری بی بی کے ساتھ گئے اُنکی ملاقات ہو گئی لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا،
    پولیس نے کہا کہ ایک دن میں ایک ہی ملاقات ہو سکتی ہے،واپسی پر ہمیں وکلاء کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،عدالتوں سے ہم ریلیف اسی لئے لیتے ہیں کہ ہماری عزت بچی رہے، ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ شاندانہ گلزار پر بھی تھری ایم پی او لگا دیا گیا ہے،عدالت اگر سختی نہیں کریگی تو یہ اسی طرح حقوق پامال کرتے رہیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جائے نماز اور قرآن پاک مانگا تھا ہم وہ لے کر گئے، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جیل میں اُنکے پاس جائے نماز اور قرآن پاک دونوں موجود ہیں، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ انگلش ورژن استعمال کرتے ہیں ہم نے وہ دینا تھا، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم انگلش ورژن بھی فراہم کر دینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی دوائیاں وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں؟
    کیا انہیں جیل میں ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے جیل میں پانچ ڈاکٹر موجود ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے میں اگر دو تین بار ملنا ہو تو اس میں کیا مضائقہ ہے،ایسا نہیں ہوتا پرچے ہوں وکیلوں پر ،جو قید میں ہیں ان کے حقوق ہیں ان کا انکار تو نہیں کر سکتے

    نعیم حیدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں ڈپٹی سپریڈنٹ جیل کے دفتر میں ملا ہوں وہاں کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ اس عدالت نے حفاظتی ضمانت مجھے دے رکھی ہے ان سے پوچھ لیں پھر بھی ہمیں گرفتار کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں نے 7 دن کی حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے توہین عدالت کی درخواست دیکھ لوں گا،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کی طرف سے یہ خطرہ ہے کہ ان کو زہر دیا جا سکتا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ یاد رکھئے گا چیئرمین پی ٹی آئی کی آپ کی حراست میں ہیں ذمہ داری جیل سپریڈنٹ پر ہے۔
    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب آرڈر جاری کریں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات

    بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں ملاقات

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی وکلاء کے ہمراہ اٹک جیل پہنچ گئیں

    بشری بی بی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد اٹک جیل پہنچیں جہاں انکو پولیس حکام نے آدھے گھنٹے تک روکے رکھا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، بشریٰ کے ہمراہ عمران خان کے وکلا کی ٹیم ہے،اٹک جیل انتظامیہ نے بشری بیگم کو سابق وزیراعم عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیدی بشری بیگم کچھ دیر بعد اٹک جیل کے اندر جائیں گی جیل انتظامیہ نے تحریک انصاف کے وکلاء کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی ،عمران خان کے وکلاء بشیری بیگم کے ہمراہ اٹک جیل کے باہر موجود ہیں

    وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے جیل حکام کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی ہے

    عمران خان سے ملاقات کے بعد بشریٰ بی بی جیل سے باہر آئیں جس کے بعد عمران خان کے وکلا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بشری بی بی کی آدھا گھنٹہ ملاقات ہوئی، بشری بی بی نے بتایا ہے کہ خان صاحب بالکل خیریت سے ہیں لیکن سی کلاس میں ہی عمران خان کو رکھا ہوا ہے.لیگل ٹیم کو ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ملنے نہیں دیا گیا.اس معاملہ کو کل ہم ہائی کورٹ میں اٹھائیں گے

    دوسری جانب زمان پارک میں پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے گھر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئر ہٹا دیئے،لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کی اور کرین کی مدد سے بیریئر، کنکریٹ ہٹا دئئے، اور ٹرک میں رکھ کر لے گئے، زمان پارک جو عمران خان کے ہوتے ہوئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا اسکو کلیئر کروا لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    بشری بی بی نے زمان پارک چھوڑ دیا، کالی گاڑیوں میں روانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی زمان پارک سے اسلام آباد روانہ ہو گئی ہیں دوسری جانب زمان پارک میں سیکیورٹی کے لئے تعینات پولیس نفری کو ہٹا لیا گیا

    بشری بی بی اسلام آباد روانہ ہوئی ہیں،عمران خان کے وکلاء کی کوشش ہے کہ بشریٰ کی عمران خان سے جیل میں ملاقات ہو جائے تاہم گزشتہ روز عدالت نے کہا تھا کہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، آج بشریٰ بی بی اسلام آباد کہاں جا کر ٹھہرتی ہین اور کس کس سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اس بارے ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، بشری بی بی کالی گاڑی پر زمان پارک سے روانہ ہوئی ہیں ، عمران خان کی گرفتاری کے بعد بشری بی بی نے مبینہ طور پر کالے کپڑے ہی پہن رکھے ہیں

    دوسری جانب زمان پارک میں پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے گھر کے باہر لگے سیکورٹی بیرئر ہٹا دیئے،لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کی اور کرین کی مدد سے بیریئر، کنکریٹ ہٹا دئئے، اور ٹرک میں رکھ کر لے گئے، زمان پارک جو عمران خان کے ہوتے ہوئے نو گو ایریا بنا ہوا تھا اسکو کلیئر کروا لیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو عدالت نے سزا سنائی،جس کے بعد انہیں زمان پارک سے گرفتار کیا گیا، عدالت نے عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی عمران خان کو پانچ سال کے لئے نااہل کر دیا،

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے اہیل پر سماعت کی،روسٹرم پر 35 سے زائد وکلاء موجود تھے، عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے وکلاء کو حراساں کرنے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھا دیا ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی اور سسٹم کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں، وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر کو چیمبر میں بلا لیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت کے بعد آپ میرے چیمبر میں آجائیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جج ہمایوں دلاور کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی. لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ملزم کے حق دفاع ختم کرنے کے خلاف اپیل آپ کے سامنے زیر التوا ہے،جب ایک کیس میں حق دفاع کی اپیل زیر التوا ہو تو ماتحت جج کیسے کیس کا فیصلہ سنا سکتا ہے، جج نے دو دن کا انتظار تک نہیں کیا، کل آپ حق دفاع ختم کرنے کے خلاف درخواست سنیں گے، ملزم کو سزا ہوچکی ہے اب آپ کیا درخواست سنیں گے؟ ایک ایڈشنل سیشن جج اگر عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کرے گا تو پھر یہاں کونسا نظام انصاف ہے؟ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی سزا آج ہی معطل کردی جائے،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی درخواست پر لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آکر دلائل شروع کیے تو کیس کے مرکزی وکیل خواجہ حارث اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس کا سارا ریکارڈ طلب کر لیا

    عمران خان کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ نوٹسز کررہے ہیں تو سماعت کل کے لیے رکھیں، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ منگوانا ہے، کل سماعت ممکن نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عام حالات میں ، میں آخری آدمی ہوں جو کیس چھوڑ کر کسی جج پر بات کروں گا، دکھ ہوتا ہے جب ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی تمام گزارشات آرڈر میں آبزرو کریں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس کیس میں سزا معطلی عمران خان کا آئینی حق ہے، ٹرائل جج نے تیسرے ہی دن فیصلہ کردیا،تیسرے نہ صحیح، پانچویں دن فیصلہ کر دیتے،کیا جلدبازی تھی؟ اگر چھ ماہ بعد آپ نے اس سزا کو ختم کرنا ہے تو ایک دن بھی عمران خان جیل کیوں رہیں؟ توشہ خانہ کیس میں ایک بھی گواہ نے یہ نہیں کہا عمران خان نے جرم کیا ہے،اس کیس میں صرف جج صاحب نے کہا جرم ہوا ہے، اس کیس میں جرم کی نیت کا پہلو ہی موجود نہیں جس کی عدم موجودگی میں سزا ہو نہیں سکتی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اپیل اسی طرح سنی جائے جیسے روزانہ کی بنیاد پر جج ہمایوں دلاور نے ٹرائل چلایا، 5 اگست کو کیا کچھ ہوا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں بتایا خواجہ حارث نے اپنے ایسوسی ایٹ کے وٹس ایپ وائس نوٹ کا ٹرانسکرپٹ ججز کے سامنے رکھ دیا ،خواجہ حارث نے اہم تصاویر ججز کے سامنے رکھ دیں ،میں 5 اگست کو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں لیٹ کیوں پہنچا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں ثبوت دے دیئے،اور کہا کہ میرے منشی کو ہائیکورٹ داخلے سے روکنے والے افراد کی تصویر موجود ہے، میں نے منشی سے کہا کہ خود کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا آڈیو نوٹ بھیج دو، میں آڈیو نوٹ کا ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے لایا ہوں، اب عدالت دیکھ لے کہ یہ سزا معطلی کا مثالی کیس ہے یا نہیں۔جج نے کہا کہ فیصلہ کر چکا ہوں، اب آپ کو نہیں سن سکتا، جج نے مجھے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنانا شروع کر دیا،ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا،ٹرائل کورٹ نے ہمیں سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ میں سزا کو فوری طور پر معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کل میں نے میڈیکل چیک اپ کروانا ہے شاید میں کل دستیاب نہ ہوں، چھٹیوں کے بعد درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہے، آپ فکر نہ کریں اگلے چار پانچ دنوں میں درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیں گے،

    قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہائیکورٹ بار روم آمد ہوئی،چیف جسٹس نے ہائیکورٹ سے بار روم جانے کے راستے کا افتتاح کیا ،بار روم سے ہائیکورٹ کی جانب جانے والے گیٹ افتتاح کے بعد کھول دیا گیا .گیٹ کھلنے سے بار روم سے بآسانی ہائیکورٹ تک رسائی ہوسکے گی صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک کی دعوت پر ججز نے بار روم کا دورہ کیا ، چیف جسٹس کے ساتھ دیگر ججز بھی شامل تھے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ،جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں ،بار روم میں ججز سے ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی ملاقات بھی ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 1997 کی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا نئی مردم شماری کے نتائج جاری کئے جا چکے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلیوں کی نشستیں بڑھا کر حلقہ بندیاں کی جائیں

    شہری کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس عامرفاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں  ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

  • قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی ڈسٹرکٹ جیل اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی پٹیشنر کی جانب سے شیر افضل مروت ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئےوکیل شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گزشتہ روز ملاقات کا آرڈر کیا تھا، عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نےاستفسار کیا کہ انہوں نے ملاقات نہ کرانے کی کوئی وجہ بتائی؟وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چھ بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، آرڈر لیٹ جاری ہوا تھا 6 بجے تک ملاقات کا وقت ہوتا ہے، کل ایک اور واقعہ بھی پیش آیا ہے، اور ایف آئی اے نے کل ایک وکیل کو بلایا اور آج خواجہ حارث کو بلایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کا مطلب کسی کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا، میں ایڈمنسٹریٹر سائیڈ پر اس کو دیکھوں گا، خیال رکھیں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، جو قانون میں ہے وہ آپ کو ضرور دیں گے۔

    وکیل شیر افضل نے استدعا کی کہ لسٹ کے مطابق اگر عدالت آرڈر کر دے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈرکردوں گا لیکن سیاسی اجتماع نہ بنائیے گا۔ جس پر وکیل شیر افضل نے یقین دہانی کرائی کہ سارے لوگ ایک دم نہیں جائیں گے، نوازشریف نے بھی اے کلاس سہولت لی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اے کلاس سہولت کے حقدار ہیں، لیکن انہیں 9×5 کے اٹک جیل سیل میں رکھا گیا ہے ، وہاں مچھر ہیں، حشرات الارض ہیں، بارش کا پانی بھی اندر گیا تھا۔

    جج نے ریمارکس دیئے کہ تفتیش کے نام پر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کو تنگ کیا جائے، قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے، ہر کسی کے حقوق ہیں، وکیل سے ملاقات کرانے سے انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صرف یہ خیال رکھیں کہ اس کو سیاسی معاملہ اور وہاں پر رش نا بنائیں، ایک ایک، دو یا تین وکلاء مل کر چلے جائیں، اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں اس لیے قیدیوں کو اڈیالہ جیل راولپنڈی رکھا جاتا ہے، کیا اٹک اور دیگر جیل بھجوانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟-

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل رولز کے مطابق اے کلاس کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں، اٹک کی ڈسٹرکٹ جیل میں اے کلاس نہیں اس لیے وہاں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کو بیرک کے بجائے سیل میں رکھا گیا ہے، رات کو بارش کا پانی بھی اس کمرے میں گیا جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کو رکھا گیا ہو سکتا ہے سیکیورٹی کے باعث بیرک میں نا رکھا گیا ہوچیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا گیا تھا مگر اٹک جیل بھجوا دیا گیا۔

    چیف جسٹس استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل کے بجائے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بھجوانے کا آرڈر کس نے کیا؟ ٹرائل کورٹ نے سزا دی مگر بطور قیدی حاصل حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صرف جیل میں اے کلاس کے حق سے محروم کرنے کے لیے اٹک جیل میں رکھا گیا، سابق وزیرِ اعظم کو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دینے کا بھی آرڈر کیا جائے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ قیدی کی جیل منتقلی کا فیصلہ کون کرتا ہے، پرسوں تک پوچھ کر بتائیں۔وکیل شیر افضل مروت نے استدعا کی کہ اس کیس کو پرسوں کے بجائے کل سماعت کے لیے رکھا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ طبیعت خرابی کے باعث شاید کل میں دستیاب نہیں ہوں گا عدالت نے کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی استدعا کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،سینئر وکیل شیر افضل مروت کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کی گئی، معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل راولپنڈی بنچ میں ہیں اگر آخر میں کیس کال کر لیں ، عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشریٰ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست، قانون دیکھیں گے، عدالت
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دیئے گئے، چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج صرف اعتراضات سن رہے ہیں، کل باقاعدہ سماعت رکھ لیتے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو وہ تمام سہولتیں جیل میں فراہم کی جائیں گی جن کے وہ حقدار ہیں، جو 3،4 وکلا ملنا چاہتے ہیں، ان کا نام دے دیں، آرڈر پاس کردوں گا، بشریٰ بیگم کے حوالے سے بھی جو باقاعدہ قانون ہوگا وہ دیکھیں گے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی کہ عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے جہاں اے کلاس سہولیات دستیاب ہیں اورفیملی، وکلا اورڈاکٹر سلطان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے

    واضح رہے کہ عمران خان کوتین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی