Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت پر جلد سماعت کا معاملہ ،وکیل کی عدم دستیابی کے باعث بغیرکاروائی سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، پراسیکیوٹر عمر خان،ڈپٹی ڈائریکٹر وقارالحسن اور محسن ہارون عدالت پیش ہوئے،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ پیش نہ ہوسکے۔نیب کی جانب سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کرنے کی استدعا کی گئی،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میرے وکیل لطیف کھوسہ ہی دلائل دیں گے،عبوری ضمانت کے خلاف درخواست نیب نے عدالت میں دائر کی تھی،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت کی

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس،شریک ملزمان ملک ریاض،زلفی،فرح ودیگر اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو گیا

    احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامہ میں عدالت نے کہا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے، ملزمان کے خلاف اشتہاری قرار دیے جانے کی مزید کارروائی 6 جنوری 2024 کو ہوگی،

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں درخواستِ ضمانت میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،نیب نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت جلد سماعت کیلئے مقررکرنے درخواست دائرکردی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نیب کی جانب سے دائر درخواست منظورکرلی،بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی،احتساب عدالت کے جج محمدبشیر اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین کی درخواست ضمانت پر سماعت کریں گے،پہلے عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پرسماعت 13 دسمبرتک ملتوی کی تھی

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے،

    عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کررکھی ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    نیب کی سفارش پر 190 ملین پاونڈ اسکینڈل میں چئیرمین پی ٹی آئی سمیت 29 افراد کو ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، عمران خان، شہزاد اکبر، ذلفی بخاری ، فرح گوگی،ملک ریاض، سمیت 29 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالے گئے، 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکر رکھا ہے،ریفرنس میں عمران خان کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

  • عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

    تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں آنے والے صحافیوں نے میڈیا نمائندگان کی زبردست انداز میں آواز بلند کی ،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر جو دفعات لگائی گئی ہیں اس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے ، جب بھی ڈونلڈ لو کا نام لیا جاتا ہے تو سب پر خوف طاری ہو جاتا ہے ، ڈونلڈ لو نے جنرل باجوہ کو پیغام بھجوایا تھا وہ پیغام وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے تھا ،اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملکی سازش میں ڈونلڈ لو کا نام تھا وہ نوکری سے فارغ ہو جائے گا ،ہم امریکہ جا کر ڈونلڈ لو پر کیس چلائیں گے، جنرل باجوہ بتائیں وہ کہاں ہیں اب ، عمران خان نے لندن ایگریمنٹ تھا کہ عمران خان کو ہٹایا جائے ،ایگریمنٹ کے مطابق پی ٹی آئی کو کرش کیا جائے اور نواز شریف کے کیسسز ختم کیئے جائیں ،ہمارے لوگوں کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، سزائے موت کے کیس میں یہ مجرم نہیں، ان لوگوں کا جرم ڈونلڈ لو کا پیغام عوام کو بتانا ہے،ڈونلڈ لو کا نام لیتے ہوئے چینل گھبراتے ہیں،ڈونلڈ لو نوکری سے برطرف ہو سکتا ہے، ہمیں یہاں انصاف نہ ملا تو ہم باہر جا کر کیس کریں گے،امریکہ میں مقدمہ کریں گے کہ اسکو بچانے کے لئے ادھر سزائیں دی جا رہی ہیں،

    سائفر کیس کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیے،زین قریشی
    دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ آج کی سماعت کا اوپن ٹرائل کیا جائے ،سیکورٹی خدشات کو بہانہ بنا کر شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، آج کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی، پبلک اور میڈیا آج کی سماعت میں موجود نہیں تھے ، انٹرنیشنل میڈیا اور پاکستان کا سارا میڈیا موجود تھا کسی کو اجازت نہیں دی گئی ،کمرہ عدالت میں 200 سے 250 افراد بیٹھ سکتے ہیں ، ہمارے شور کرنے پر 4 سے 5 افراد کو بیٹھایا گیا،وہ بظاہر پبلک کے لوگ نہیں تھے ،آج کی سماعت میں اوپن ٹرائل کا تقاضا پورا نہیں کیا گیا، ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ سماعت پر میڈیا اور پبلک کے لوگ موجود ہوں گے ،پاکستان کے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو ٹرائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، سائفر کیس کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں ، انٹرا پارٹی الیکشن میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا یہ کسی اور جماعت میں نہیں ہوا،ہم الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ کی ہے ، انٹرا پارٹی الیکشن پر سوالیہ نشان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ، الیکشن کمیشن میں فیصلہ محفوظ ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارا انتخابی نشان بلا آلاٹ کیا جائے،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • سائفر کیس،سماعت ملتوی،میڈیا کو کمرہ عدالت تک جانے کی اجازت نہ ملی

    سائفر کیس،سماعت ملتوی،میڈیا کو کمرہ عدالت تک جانے کی اجازت نہ ملی

    راولپنڈی سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ ، اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں موجود ہیں، صحافیوں کو سماعت سننے کی اجازت مل گئی ہے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں.میڈیا کو جیل میں داخل ہونے اور سائفر کیس کے ٹرائل کی کوریج کی اجازت مل گئی، اسپشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی بھی عدالت میں موجود ہیں،پراسیکیوٹر شاہ خاور اور ذوالفقار عباس نقوی ایڈووکیٹ بھی عدالت میں موجود ہیں،شاہ محمود قریشی کی فیملی میں عدالت میں موجود ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ اور عمیر نیازی بھی عدالت میں موجود ہیں،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور ذوالفقار عباس نقوی اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،سائفر کیس میں آج صرف ملزمان کی حاضری لگائی گئی، میڈیا کو اندر جیل میں بلایا گیا تاہم کمرہ عدالت تک نہیں جانے دیا گیا، عدالتی حکم کے باوجود میڈیا نمائندوں کو سماعت کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی

    سائفر کیس،عدالت صدر مملکت کو طلب کرے،شاہ محمود قریشی کی استدعا
    سماعت کے دوران شاہ محمود قریشی نے عدالت میں دو گزارشات کیں اور کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 یا 2023 کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے،ہمیں کبھی بھی سیکورٹی خدشات نہیں رہے،اکیلا گاڑی میں آتا جاتا رہا،ہمارے پروڈکشن آرڈر پر جیل انتظامیہ نے حکم عدولی کی،ہماری ضمانت پر انتطامیہ نے ریکارڈ پیش نہ کیا،ہمیں اس کیس میں ٹرائل کرنے کی کوشش جاری ہے جسکا نہ سر ہے نہ پاؤں،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ترمیمی قانون سے صدر پاکستان بھی انکاری ہے،میری گذارش ہے کہ صدر پاکستان کو عدالت طلب کیا جائے،وہ عدالت میں حلف دے کر بتائیں انہوں نے یہ ترمیم منظور کی یا نہیں،میرے پاس جہانگیر ترین جیسے لوگ نہیں کہ بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر سکیں،چیئرمین مشہور شخص ہیں بڑے نامور وکلاء انکے کیس کی پیروی کرنے کو تیار ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ بات سن لیں آپ کا اعتراض ختم ہو گیا میڈیا اور پبلک آج موجود ہے ۔انتظار پنجوتھہ نے اعتراض کیا تو عدالت نے روک دیا،عدالت نے کہا کہ آپ کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت پیش نہیں کیا گیا، آپ اور چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل الگ نہیں ہو سکتا یہ کیس انٹر لنک ہے۔ آپ پر عارف علوی والے ترمیمی قانون کی کوئی شق لاگو نہیں ہو گی ۔ آپ کا ٹرائل آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شک نو اور پانچ کے تحت ہو گا ۔ہم میرٹ پر کاروائی کرینگے ۔

    ہمیں بکریوں کی طرح بند کر کے نواز شریف کو لے آئے، عمران خان
    تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان نے کہا کہ میں نے بطور وزیراعظم اس معاملے کی انکوائری کا آرڈر کیا ۔ اس میں جو لوگ ملوث ہیں وہ طاقتور ہیں انہیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اللہ کے سوا مجھے کسی کا ڈر نہیں ۔
    ہمیں بکریوں کی طرح بند کر دیا گیا نواز شریف کو وہاں سے یہاں لے آئے ۔

    سماعت کے بعد بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ آج کی سماعت میں حاضری لگائی گئی،صرف 3 میڈیا نمائندگان کو بلایا گیا،ہم نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو کہا کہ یہ کیسا اوپن ٹرائل ہے جس میں کسی کو نہیں بلایا گیا ، پی ٹی آئی چیرمین نے بھی کہا کہ کیس کا اوپن ٹرائل کیا جانا چاہیئے، کورٹ اپنا تعین کرئے گی کہ آئندہ سماعت پر کیا کرنا ہے،

    آج کی سماعت کے دوران عدالت میں بیٹھے افراد کو کبھی نہیں دیکھا،وکیل عمران خان
    عمران خان کے وکیل انتظار پنجوتھا نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت میں ہائی کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کی گئی سابق وزیرِ اعظم کے وکلاء کو اندر تک رسائی نہیں تھی اور پبلک کے نام پر مخصوص لوگوں کو لایا گیا، آج کی سماعت کے دوران عدالت میں بیٹھے افراد کو کبھی نہیں دیکھا میڈیا نمائندگان نے عدالت میں کہا کہ ہم سارے میڈیا کی نمائندگی نہیں کرتے اور جب میڈیا کے لوگوں کو اندر بلایا گیا تب تک آج کی سماعت ہو چکی تھی، اوپن ٹرائل سے متعلق سابق وزیرِ اعظم نے اپنا مؤقف دیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں کسی کا خوف نہیں، ہم بالکل بے گناہ ہیں

    گزشتہ روز ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا عندیہ دیا تھا,جج آفیشیل سیکرٹ ایکٹ عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان،بشری،فرح گوگی،ملک ریاض و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس دائر

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان،بشری،فرح گوگی،ملک ریاض و دیگر کیخلاف نیب ریفرنس دائر

    عمران خان، شہزاد اکبر،زلفی بخاری، فرح گوگی و دیگر کے وارنٹ جاری

    نیب نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے،نیب نے شہزاد اکبر،ضیا المصطفی،زلفی بخاری،فرح گوگی کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے،ملزمان پر کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے،نیب نے ملزمان کو کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر وارنٹ گرفتاری کیے،نیب نے آئی پنجاب کو ملزمان کی گرفتاری کی تعمیل کیلئے ہدایت کر دی، نیب نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ عدالت پیش کیا جائے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ، 190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کردیا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا،احتساب عدالت رجسٹرار آفس نے ریفرنس کی جانچ پڑتال شروع کردی

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء انتظار حسین پنجوتھا اورشہباز کھوسہ نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی پربے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں،القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا،القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری بیگم کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،ہائرنگ فائرنگ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کوئی کردار نہیں،القادر ٹرسٹ کو شوکت خانم کی طرح آزاد بورڈ چلا رہا ہے،یہ کیس چیئرمین پی ٹی آئی کی کریڈیبلٹی کو خراب کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر ٹرسٹ ڈیڈ پبلک کرنے جارہے ہیں،یہ ادارے عام عوام کے لیے ہیں انکو نقصان پہنچا کر عوام کا نقصان کیا جارہا ہے،

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اپنے دیگر وکلاء ساتھیوں نعیم حیدر پنجوتھا اور علی اعجاز بھٹرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انتظار حسین پنجوتھا اورشہباز کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار ہیں آج ہم نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی ہے،چیئرمین پی ٹی ٹی کے اوپر القادر ٹرسٹ کیس میں بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں،میڈیا میں جو عدالتی کاروائی رپورٹ ہوتی ہے وہ عدالتی کارروائی کے برعکس ہوتی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر ٹرسٹ ڈیڈ پبلک کرنے جارہے ہیں،عمران خان کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے،القادر ٹرسٹ کیس میں زمین سے متعلق گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ شاید عمران خان نے اپنے زاتی استعمال کے لیے وہ زمین لی ،القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا،القادر ٹرسٹ کو شوکت خانم کی طرح آزاد بورڈ چلا رہا ہے،اس ٹرسٹ کو بنانے کا مقصد ایک اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنا ہے اورملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے سکول اور کالج قائم کرنا شامل ہے،اگر اس یونیورسٹی کی کسی وجہ سے تکمیل نہیں ہوتی تو بھی یہ زمین صرف ٹرسٹ کے مقاصد کے لیے ہی استعمال ہونا تھی،اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد صرف دینی اور سائنسی تعلیم فراہم کرنا ہوگا،عمران خان اور ان کی فیملی اس کو اپنے نام کر ٹرانسفر نہیں کرسکتے،القادر ٹرسٹ کا مقصد خیراتی ادارہ قائم کرنا تھا،

    وکلا کا کہنا تھا کہ پیسہ ملک ریاض کا تھا جو سپریم کورٹ میں آیا ،مشرق بینک کی سٹیٹمنٹ بھی اس معاملے میں سامنے آئےیہ ثابت کرنا ہے کہ عمران خان نے 190 ملین پائونڈ نہیں کھائے،یہ کیس عمران خان کی کریڈیبلٹی کو خراب کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ ادارے عام عوام کے لیے ہیں ان اداروں کو نقصان پہنچا کر عوام کا نقصان کیا جارہا ہے،حسن نواز کی پراپرٹی جب بکی تو 50 ملین پاؤنڈ میں ملک ریاض نے خریدی، اس پراپرٹی کی اصل حقیقت 25 ملیں پاؤنڈ تھی،جب یہ پراپرٹی دگنی قیمت میں بکی تو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی حرکت میں آئی ملک ریاض کی ایک بہو کے اکاؤنٹ میں 190 ملین پاؤنڈ پڑے ہوئے تھےبرطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ان 190 ملین پائونڈ کو سیز کردیا ،ملک ریاض کی کمپنی کے ساتھ سپریم کورٹ کے ساتھ سیٹلمنٹ ہوئی،ملک ریاض کی کمپنی نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے طے کیا کہ یہ پیسہ ہم پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کروائیں گے،اس تمام پراسیس سے پاکستان تحریک انصاف یا حکومت پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا یہ رقم پہلے آئی اور اس پر کابینہ کی میٹنگ بعد میں ہوئی،جس میں فیصلہ ہوا کہ پیسہ سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں، پیسے ڈائریکٹ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئے،سپریم کورٹ نے خود ہی یہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ سے نکال کر حکومت کے حوالے کردئیے ہیں،ایک سیاسی لیڈر کو جیل میں رکھ کر انتخابات کروائے گئے تو کوئی انتخابی نتائج کو کوئی نہیں مانے گااس سے ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا۔

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ ،عوام اور میڈیا کو جیل سماعت میں موجود رہنے کی اجازت ہو گی، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی،اوپن کورٹ ہوگی۔میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی۔پہلے کی طرح پانچ پانچ فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی۔آئندہ سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامہ میں کہا گیا کہ آج کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی غیر حاضر رہے،23 نومبر کو سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دونوں ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں سکیورٹی رپورٹ پیش کی گئی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ اسلام آباد پولیس، آئی بی اور اسپیشل برانچ کی معلومات کی بنیاد پر تھی،رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، عدالت کی جانب سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا، رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے،عدالت سابق وزیراعظم کی جان کو لاحق خطرات کی تشخیص کو ہلکا نہیں لے سکتی، ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکنان کا جوڈیشل کمپلیس پر دھاوا بولنے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا، جوڈیشل کمپلیس میں سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے محفوظ ہے نہ ہی دیگر افراد کیلئے، ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیتی ہے،چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہورہا ہے، شاہ محمود قریشی کا بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ایک اوپن ٹرائل ہوگا،ملزمان کے وکلا اور خاندان کے پانچ پانچ افراد کو ٹرائل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام اور سماعت سننے کے خواہشمد افراد کو ٹرائل کی کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام کو جیل رولز اور مینول اور کمرہ عدالت میں گنجائش کی بنیاد پر ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء اور ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی عدالت میں موجود تھی، سلمان صفدرایڈوکیٹ نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات ہیں، سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا جائے گا،ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا،

    عدالت نے اسٹاف کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی،جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کردی ،جج ابولحسنات ذوالقرنین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے، جیل حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکورٹی خدشات ہیں ، اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کیساتھ منسلک ہے

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی زمہ داری ہے ، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے ، 23 نومبر کو عدالت نے چیئرمین پی ٹی اور شاہ محمود قریشی کو طلب کیا تھا، عدالت نے حکم دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلہ سے معلوم ہوگا کہ استغاثہ کیس کہاں تک متاثر ہوگا ،ہم کہتے رہے ان حالات میں فرد جرم عائد نہ کریں ،ہمیں کہا جاتا تھا کہ حکم امتناع ہے تو دکھا دیں، ہم کہتے رہے ابھی آگے نہ بڑھیں طے ہو لینے دیں کہ یہ کیس کیسے چلنا ہے، کبھی کوئی کیس اتنی جلدی میں چلا ؟ بے نظیر بھٹو کیس کتنے سال چلا؟ اس کیس کو ہم پانچ ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے،اس خط و کتابت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، ہمیں صبح سے بلکہ کل سے حالات بتا رہے تھے کہ یہ پیش نہیں کریں گے ،یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، ہم جان پر کھیل کر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں،کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں ؟جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کرکے بھی لایا جاسکتا ہے،اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلاء سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں ؟آپ کا حکم حتمی ہوتا ہے پھر آج کیا ہوا ہے؟ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے تو ملزمان کو ضمانت دے دی جائے ، یہ ٹرائل کہا چل سکتا یہ بتا دیں،یہ ٹرائل یہاں پر نہیں چل سکتا اور نہ جیل میں چل سکتا ہے تو پھر کہا چل سکتا ہے

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا ،علی بخاری نے کہا کہ جیل سپریڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے،شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ؟,اب تو کوئی چارج فریم نہیں ہوا اور نہ کوئی نقل تقسیم ہوئی ہے پھر اندر کیوں رکھا ہوا ہے،آپکا اپنا آرڈر تھا جیل سپرنٹینڈنٹ کو کہیں میرے آرڈر پر عملدرآمد کروائیں نہیں تو نتائج بھگتیں،وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزم کو عدالت میں پیش کرنا قانونی زمہ داری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے، شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر کرے گی، کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جتھے مرضی نوٹیفکیشن لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،عوام کو رسائی ہونی چاہیے ، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے ، میں خواہش کا لفظ استعمال کررہا ہوں کہ جو بھی کیس سننے کی خواہش رکھتا ہو کیا آپ اسے اجازت دے سکتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کی طرف فیصلے کرنے والا جیل سپرٹنڈنٹ کون ہے، جیل سپرٹنڈنٹ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کیساتھ بتایا کہ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یہاں پر,آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا،عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے،

    وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی خط و کتابت نہیں انکو پیش کیوں نہیں کیا گیا ، سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہاں کون سا ایسا واقعہ ہوا جس سے کہیں کوئی تھریٹ ہے، روزانہ اڈیالہ جیل سے دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے،اب یا تو پیش کیا جائے یا زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ،اسکندر ذوالقرنین سلیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ آئی جی کو طلب کیا جانا چاہیے ، ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کام نہیں ہے کہ وضاحتیں دیں ، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل سپرٹنڈنٹ کے درمیان خط و کتابت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت ، سائفر کیس ،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہ کرنے جیل حکام کی رپورٹ ،عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

    190ملین پاؤنڈ کیس میں اہم پیشرفت،عمران خان کا مزید جسمانی ریمانڈ دینے کی عدالت نے استدعا مسترد کر دی

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کا جوڈیشل ریمانڈ منظور کر لیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی تھی،نیب ٹیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں عمر ندیم، عبدالستار، عرفان اور تنویر شامل ہیں ،نیب ٹیم نے 23 نومبر سے 26 نومبر تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا.

    القادر پراپرٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ، نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تحقیقات جاری ہے، نیب ٹیم روزانہ کی بنیاد پر عمران خان سے تحقیقات کر رہی ہے،نیب کی چیئرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان
    میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے چار دنوں کی تفتیش کے دوران نیب ٹیموں سے عدم تعاون کیا۔سابق وزیراعظم عمران خان کا رویہ دوران تحقیقات انتہائی متکبرانہ رہا ۔اڈیالہ جیل حکام نے تفتیش کےلیے الگ سے کمرہ مختص کر رکھا ہے، عمران خان تفتیشی ٹیم کے سامنے ایک کرسی پر براجمان ہوتے ہیں ،نیب کی ٹیموں نے متعدد بار سابق وزیر اعظم کے سامنے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی دستاویزات رکھیں ۔اس سکینڈل سے متعلق متعدد سوالات بھی کیے گیے ،سابق وزیراعظم عمران خان نے اکثر سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوال و جواب کا مطالبہ کرتے رہے ۔سابق وزیراعظم القادر ٹرسٹ سے متعلق سوالات پر اسے روحانیت اور صوفی ازم کا بڑا منصوبہ قرار دیتے رہے ۔سابق وزیراعظم ہر سوال کے جواب میں لمبی تقریر جھاڑتے ہوئے انتقامی کاروائیوں کا ذکر کرتے رہے ۔190 ملین پاؤنڈ سے متعلق تمام ملبہ شہزاد اکبر اور ایک سابق عسکری عہدے دار پر ڈال دیا ۔عمران خان کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر اور سابق چیئرمین نیب کے پاس جو دستاویزات تھیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں۔کابینہ نے اس سارے معاہدے کی منظوری دی تھی اب سب مکر گئے ۔نیب ٹیم نے اس وقت اس بارے کابینہ اجلاس کے منٹس سامنے رکھے ،میں بطور وزیراعظم اس سارے معاملے کا اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی دوران تفتیش بہت سے فیصلے غلط کرنے کا اعتراف بھی کرتے رہے ۔نیب دونوں کیسز کا تمام ریکارڈ دستاویزات ماضی کے اجلاسوں کے منٹس ساتھ لیکر جاتی رہی .

    اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات ختم ہو گئی،ملاقات کرنے والوں میں مہرین قریشی، مہربانو قریشی، گوہر بانو قریشی اور بیرسٹر تیمور ملک شامل تھے، اہلخانہ اور وکلاء کی ملاقات اڈیالہ جیل کی کانفرنس روم میں کروائی گئی، شاہ محمود قریشی کی اہلخانہ سے جیل سہولیات اور کیسسز کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی کے اہلخانہ اور وکلاء اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • دوران عدت نکاح نامنظور، بشریٰ بی بی کی گاڑی کو شہریوں نے گھیر لیا

    دوران عدت نکاح نامنظور، بشریٰ بی بی کی گاڑی کو شہریوں نے گھیر لیا

    اڈیالہ جیل کے باہر شہریوں کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف نعرے بازی کی گئی

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تو شہریوں نے پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی کی گاڑی کو گھیر لیا ،شہریوں کی جانب سے بشری بی بی کی گاڑی کے آگے شدید نعرے بازی کی گئی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کرنے پر فوری کاروائی کی جائے،

    آج بشرٰی بی بی کی عدالت میں پیشی کے دوران تین مختلف مقامات پر ان کی گاڑی کو گھیر کر جادو ٹونا نامنظور، عدت میں نکاح نامنظور وغیرہ کے نعرے لگائے گئے۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے کیسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہونی تھی، بشریٰ بی بی عدالت پیش ہونے کے لئے گئی تھین، بشریٰ بی بی کی شوہر عمران خان سے ملاقات بھی ہونی تھی،

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے بھی مقامی عدالت میں دوران عدت نکاح پرعمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے

    تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے اڈیالہ جیل کے باہر بشریٰ بی بی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی گاڑی کو گھیرے میں لے کر نعرے لگائے گئے، اس موقع پر وہ پولیس کہاں چلی گئی تھی جو پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کرنے میں اتنی چوکس ہے؟ ایسا لگتا ہے اس واقعے کے پیچھے پنجاب پولیس اور پنجاب انتظامیہ کا ہاتھ ہے

    شریف برادران کے کیسز میں نیب اب سہولت کار بن گئی ہے،لطیف کھوسہ
    اڈیالہ جیل میں کیسز کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے باہر ایک ڈرامہ رچایا گیا لیکن اس ساری صورتِ حال کے باوجود بھی عمران خان نے کہا ہے کہ ہم الیکشن میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے،لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں القادر ٹرسٹ کیس ختم ہو گیا ہے، عمران خان کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے،آج سماعت ہوئی تو ہم نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی جس پر عمران خان کا عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ منظور کیا،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ این سی اے نے خود 35 ارب روپے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بھیجے، 190 ملین پاونڈ کی رقم سیدھا سرکاری خزانے میں آئی ہے ہم پہلے دن سےکہہ رہے ہیں کہ این سی اے نے رقم سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بھیجی اور القادرٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ سے چیئرمین پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں، نیب کا ادارہ سیاسی انتقام کے لیے بنایا گیا ہے، شریف برادران کے کیسز میں نیب اب سہولت کار بن گئی ہے، نوازشریف کو اقامے پر نہیں نکالا گیا، 10 والیمز موجود ہیں، منی لانڈرنگ کے حوالے سے اسحاق ڈار کا بیان آن ریکارڈ ہے، سائفر کیس میں کل چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، نگراں حکومت اگر کسی کو سیکیورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو مستعفی ہو جائے،خان صاحب نے بتایا ہے کہ کل نیب کی چار رکنی ٹیمیں آئیں تھی دو سے تین سوال پوچھنے کے علاوہ کچھ نہیں پوچھا اور میرے ساتھ گپ شپ لگا کر چلے گئے

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس ،گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس ،گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    احتساب عدالت اسلام آباد،190ملین پاؤنڈ سکینڈل میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے5صفحات پر مشتمل حکمنانہ جاری کیا۔حکمنامہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردارمظفر عباسی نے مزید10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست دی۔نیب نے بتایاعلی ظفر ایڈووکیٹ نیب کی طلبی پر23 نومبر کو نیب دفتر پیش ہوئے۔نیب نے بتایاعلی ظفرایڈووکیٹ نے متعلقہ ریکارڈ نیب کوفراہم کیا۔نیب نے بتایاعلی ظفر نے24مارچ2021ء کے معاہدہ کا ریکارڈ بھی نیب کو فراہم کیا۔نیب حکام نےکہا قومی خزانے کو منتقل ہونے والی رقم سے متعلق تفتیش کرناہے۔نیب نے کہاتفتیش کو مکمل کرکے کیس کو حتمی نتیجے تک پہنچا نے مزید ریمانڈ درکارہے۔وکلاء صفائی نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کی اور دو لیٹر پیش کیے۔ایک لیٹر6نومبر2019ء کا مشرق بنک سے متعلق ہے۔وکلاء نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا رقم منتقلی سے کوئی سروکار نہیں۔وکلاء نے کہاچیئرمین پی ٹی آئی کا 240 کنال اراضی منتقلی سے بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔وکلاء نے کہاچیئرمین پی ٹی آئی نے دوکینسر ہسپتال بنوائے تیسرا کراچی میں بن رہا ہے۔نیب حکام نےکہاکہ علی ظفر کی جانب سے فراہم کیے گئے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیلئے ریمانڈ ضروری ہے۔عدالت10کی بجائے4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کو27نومبر کو دوبارہ عدالت پیش کیاجائے۔

    دوسری جانب القادر ٹرسٹ پراپرٹی 190 ملین پاؤنڈ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے تفتیش کا معاملہ،ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب وقار احمد تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، وقار احمد پی ٹی آئی چیرمین سے اڈیالہ جیل میں تفتیش کریں گے، نیب ٹیم 15 نومبر سے روانہ کی بنیاد پر اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی چیرمین سے تفتیش کر رہی ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے، آج عدالت نے عمران خان کو پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے،سائفر کیس کی سماعت اب جیل میں نہیں ہو گی.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی