Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت

    القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت

    القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی،نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت پہنچ گئے۔چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے۔عمران کی بہنیں علیمہ خان وغیرہ بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین کی اہلیہ بشری بی بی بھی اڈیالہ جیل میں موجود ہیں

    نیب کی جانب سے عمران خان سے مزید تفیش کیلئے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید 4 روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ عدالت نے عمران خان کو پیر 27 نومبر کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عدالت میں پیشی کے بعد عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چییرمین پی ٹی آئی 28 تاریخ کو اسلام آباد عدالت میں پیشی کے حکم پر خوش ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی نے پوچھا کیا آرڈر ہوگیا، ہم نے چییرمین پی ٹی آئی کو بتایا عدالت نے آرڈر جاری کردیا ہے، خاور مانیکا کے انٹرویو پر چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا یہ انٹرویو متوقع تھا، چییرمین پی ٹی آئی نے کہا خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا اور اسے انٹرویو کیلئے مجبور کیا ہوگا،

    نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت 29 نومبر تک منظور ہوئی ہے۔29 تاریخ کو بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت پر بحث ہوگی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو کالعدم قرار دیا ہے، آج عدالت نے عمران خان کو پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے،سائفر کیس کی سماعت اب جیل میں نہیں ہو گی.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس گل حسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،،اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور لیگل ٹیم کے ارکان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی عدالت میں موجود تھیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے،جج کی تعیناتی کے معاملے پر سائفر کیس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اہم مکالمہ ہوا، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں سینکڑوں ماتحت عدلیہ کے ججز موجود ہیں حکومت نے ایک مخصوص جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دیدیا ، جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا تھا ہم نے دستاویزات دیکھے ہیں تعیناتی کیلئے کارروائی کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہوا، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمیں تو وہ دستاویزات بھی نہیں دکھائے گئے،عدالت نے کہا کہ ہمارے ذہن میں بھی یہی سوال تھا لیکن دستاویزات دیکھنے کے بعد صورتحال واضح ہوئی، آپ پہلے اٹارنی جنرل کے اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراض کا جواب دیں.

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 16 اگست کو اوپن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا ریمانڈ دیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے انکی عدم موجودگی میں ریمانڈ ہوا،بعد میں سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، 29 اگست کو سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، میڈیا کو عمران خان کا نام لینے سے بھی روک دیا گیا،یہ سب عمران خان کو عوام میں لانے سے روکنے کیلئے کیا گیا،شاہ محمود قریشی ریمانڈ کے وقت کمرہِ عدالت میں موجود تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپکے یہ دلائل بعد کے ہیں پہلے اپیل قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کچھ دستاویزات دکھائیں جس میں سپیشل رپورٹس بھی ہیں سی سی پی او کا لیٹر بھی ان دستاویزات کا حصہ ہے سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے اس لیٹر کا تب پتہ چلا ہے جب اٹارنی جنرل نے دستاویزات جمع کرائی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن میں لائف تھریٹ کا ذکر بھی موجود نہیں نا ہی وزارت داخلہ کی اسپیشل رپورٹ کا ذکر ہے ،اٹارنی جنرل کے دستاویزات کے مطابق سی سی پی او نے خط لکھا کہ عمران خان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ٹرائل جیل میں کیا جائے لیکن اس وقت تو ٹرائل شروع بھی نہیں ہوا تھا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ حکومت جیل ٹرائل کے لیے پراسیکیوشن کے ذریعے بھی درخواست دے سکتی ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل ٹرائل کی درخواست آئے تو عدالت نوٹس کر کے دوسرے فریق کو سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے،سیکشن 9 کے تحت جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا،اِس سیکشن کے تحت عدالت کا وینیو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جیل ٹرائل کا ذکر نہیں،یہ سزائے موت یا عمر قید کا کیس ہے اس میں سختی سے قانون کے مطابق چلنا چاہیئے، جسٹس ثمن رفعت امتیار نے استفسار کیا کہ اگر سیکیورٹی خدشات ہوں تو حکومت کو کیا کرنا چاہیئے تھا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو یہ معاملہ متعلقہ جج کے سامنے رکھنا چاہیئے تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب، آپ اپیل قابلِ سماعت ہونے پر اپنے دلائل دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی جانب سے دو اکتوبر کو لکھا گیا خط بھی پڑھنا چاہتا ہوں جو بہت اہم ہے،جج نے اس خط میں پوچھا کہ کیا ملزم کو پیش کرنے میں کوئی مشکلات تو نہیں؟جج اس خط کے ذریعے پوچھ رہا کہ آپ مناسب سمجھیں تو جیل ٹرائل کے لیے تیار ہوں، جج نے کہا کہ جو آپ کا حکم وہی میری رضا، وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی درست نہیں ، یہ بھی کنفیوژن ہے کہ جیل ٹرائل کا مقصد کیا ہے؟ ایسا سیکورٹی خدشات کے باعث ہے یا حساس کیس سے پبلک کو اس سے دور رکھنا مقصد ہے،اوریجنل آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہوتی ہے، سیکشن 9 سیشن عدالتوں کے وینیوز تبدیل کرنے سے متعلق ہے جیل ٹرائل کا نہیں لکھا ہوا ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے حوالے سے پراسیکیوشن کی درخواست ٹرائل کورٹ نے مسترد کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے بعد ہم اٹارنی جنرل نے جوابی دلائل سنیں گے، عدالت کیس قابلِ سماعت ہونے پر اپنا مائنڈ کلیئر کرنا چاہتی ہے،یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ نے دلائل دینے ہوئے تو دوبارہ موقع دیا جائے گا، آپ تھوڑا وقفہ کر لیں ہم اٹارنی جنرل کو قابلِ سماعت ہونے پر سن لیتے ہیں

    وکیل سلمان اکرم راجہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے سے شروع ہوا، اس سے پہلے کی تمام عدالتی کارروائی پری ٹرائل پروسیڈنگ تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سیکیورٹی تھریٹس سے متعلق رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے رکھی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں، وہ وہ رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے نہیں رکھی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کس مواد کی بنیاد پر پہلا خط لکھا ؟ اگر میرٹ پر دلائل سنتے ہیں تو آپ کو اِس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ بات عمومی طور پر پبلک ڈومین میں تھی اور عدالت کو بھی اس کا علم تھا،

    جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج تبدیل کیا جائے، عمران خان کے وکیل کی استدعا،سماعت میں وقفہ
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سماعت کے نوٹیفیکیشنز جاری ہوتے رہے اور جج تیزی سے کاروائی آگے بڑھاتے رہے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس اہم ترین معاملے میں ہماری درخواست پر کئی ہفتوں کیلئے فیصلہ محفوظ رکھا،سماعت مکمل ہونے کے ایک ماہ بعد تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ،اس دوران یہ سارے ایونٹس ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ، ٹرائل کورٹ کی کارروائی بھی جاری رہی ،سائفر کیس میں پندرہ نومبر تک کی تمام کارروائی غیر قانونی تھی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ سائفر کیس میں الزام کیا ہے؟ہم صرف جیل میں ٹرائل اور جج کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی نکات دیکھ رہے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو بھی جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے،میری استدعا ہو گی کہ اگر جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج کو تبدیل کیا جائے،

    کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے،وکیل عمران خان کی استدعا
    سلمان اکرم راجہ نے 1947کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جیل ٹرائل کے قواعد پورے نہ کرنے پر جج کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیاگیا تھا ،عدالت نے قرار دیا کہ جیل ٹرائل جاری رہے لیکن کوئی اور جج کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے ،عدالت نے نوٹ کیا کہ ہے کہ 25ستمبر کے نوٹیفکیشن میں وزارت قانون نے لفظ جیل شامل نہیں کیا ،عمران خان کے جیل ٹرائل کو اِن کیمرہ ٹرائل بنا دیا گیا ہے،اِس ٹرائل میں فیملی ممبرز کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس عدالت نے ایک سوال اپنے پہلے تحریری آرڈر میں بھی رکھا تھا،وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والے ٹرائل کا سٹیٹس کیا ہوگا؟آپ اپنے دلائل میں واضح کر دیں کہ آپ اس ٹرائل سے متعلق کیا چاہتے ہیں؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل خلاف قانون ہے، کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا آپ ڈکلیئریشن چاہ رہے ہیں؟پبلک کو عدالتی کارروائی سے باہر رکھنے کا اختیار متعلقہ جج کا ہے،اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ جج کی طرف سے پبلک کو باہر رکھنے کا کوئی آرڈر موجود نہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق ایسا آرڈر نہ ہونے کے باعث اسے اوپن ٹرائل تصور کیا جائے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے ٹرائل کورٹ میں پبلک کو ٹرائل سے باہر رکھنے کی درخواست دائر کی، جج نے آرڈر میں لکھا کہ ابھی تو پبلک کیس کی سماعت میں موجود ہی نہیں،جج نے لکھا کہ جب پبلک موجود ہوئی تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل فیملی اور پبلک کو دور رکھنے کیلئے ہی کیا جا رہا ہے،میڈیا،فیملی اور پبلک کو ٹرائل سے دور رکھنامحض بےضابطگی نہیں،استدعا ہے کہ پہلے ہو چکا ٹرائل کالعدم قراردیاجائے،عمران خان پر فرد جرم سے پہلے کچھ بہت اہم ہوا ، کچھ ایسا اہم ہوا کہ ہمیں دستاویزات تک فراہم نہیں کیے گئے، بغیر دستاویزات فراہم کئے فرد جرم عائد کی گئی اسے معمولی بے ضابطگی نہیں کہہ سکتے،

    سائفر کیس جیل ٹرائل اور جج تعیناتی معاملے میں اہم موڑ آ گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار ہائیکورٹ سردار طاہر صابر کو طلب کر لیا ، رجسٹرار عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ آپ سے صرف دو سوالات پوچھنے ہیں 20 جون 2023 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت قانون کے سیکرٹری کے نام کا لیٹر ہے کیا جج کی تعیناتی کا یہ پہلا لیٹر ہے ؟ یا وزارت قانون نے پہلے ریکوئسٹ بھیجی؟ چیک کرکے بتائیں ، دوسرا سوال یہ ہے کہ جیل ٹرائل سے متعلق کسی بھی اسٹیج پر ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کو کبھی بتایا ہے چیک کرکے بتائیں ،

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم
    سائفر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ، عدالت نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اسپیشل کورٹس کا ایڈمنسٹریٹو جج تھا تو مجھے شکایات موصول ہوئیں تھیں ،جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس میں تعینات کردہ اسٹاف وزارت قانون کا ہے وہ اسٹاف نہ ججز کی سنتا ہے نہ وہ ججز ،اس اسٹاف کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لے سکتے ہیں وزارت قانون کے تعینات کردہ اس اسٹاف کو کم سے کم ان ججز کی تو سننی چاہیے بار بار ، بار بار وزارت قانون کو لیٹرز لکھے گئے لیکن وزارت قانون نے کچھ نہیں کیا ،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے میں اس کو دیکھ لوں گا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ تین احتساب عدالتیں گزشتہ حکومت کے دور سے خالی پڑی ہیں ، ہم نے تین ججز کی تعیناتی کا کہا لیکن وہ بھی نہیں لگائے گئے ، یہ جو کہہ رہے ہیں ہمارے پاس کنٹرول ہے یہ ایسے اپنا کنٹرول استعمال کرتے ہیں ، اگر آپ ان معاملات کو دیکھیں تو وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں کے لیے بڑی سروس ہو گی ، اٹارنی جنرل نے حکومت کے سامنے معاملہ رکھنے کی یقین دہانی کروائی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں کل دن گیارہ بجے تک توسیع کردی ہے،عمران خان کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

  • القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان سے جیل میں تحقیقات،چارروزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان سے جیل میں تحقیقات،چارروزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    احتساب عدالت اسلام آباد،190 ملین پاؤنڈزا سکینڈل کیس کی سماعت ،احتساب عدالت اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا،تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ نیب کی جانب سے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جاتا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو 21 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے،

    دوسری جانب القادر پراپرٹی ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کی تحقیقات کا معاملہ ،نیب ٹیم راولپنڈی پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے تفتیش کے بعد اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئی،نیب ٹیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر راحیل اعظم کی زیر قیادت تھی،نیب کی ٹیم نے 15 نومبر سے تفتیش کا اغاز کر رکھا ہے،احتساب کی خصوصی عدالت کے جج محمد بشیر نے 21 نومبر تک چئیرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور کر رکھا ہے.عدالت نے نیب کو جیل میں ہی تحقیقات کی کرنے کا حکم دے رکھا ہے،نیب کی ٹیم 21نومبر تک روزانہ کی بنیاد پراڈیالہ جیل میں تحقیقات کرتی رہے گی ،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کی منظوری کی درخواست چیئرمین نیب نے کی تھی،نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں جج محمد بشیر کریں گے، نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرلیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں کیسوں میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا تو ہم امریکا میں ڈونلڈلو پر کیس کریں گے،علیمہ خان

    عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا تو ہم امریکا میں ڈونلڈلو پر کیس کریں گے،علیمہ خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی ہے

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر ہوگیا ہے یہ وہ دفعات لگائی جارہی ہیں جس پر سابق وزیراعظم کو سزائے موت اور عمر قید ہوسکتی ہے، بتایا جائے عمران خان نے کیا ایسا جرم کیا جس پر یہ دفعات لگائی گئی ہیں، رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی چیئرمین پر کیس کیا پاکستان میں انصاف ملنا چاہیے،دھمکی امریکہ نے دی اور جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بند کیا،سائفر تو ایک میسج تھا، میسج تو امریکہ سے آیا، ڈونلڈ لو کا میسج تھا، اس سے پوچھا جانا چاہئے تھا کہ میسج کیوں بھیجا، الٹا عمران خان اور قریشی کو بند کر دیا، کیونکہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے قوم کو امریکی دھمکی سے آگاہ کیا، فکر نہ کریں ہم ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، تب تک کھڑے رہیں گے جب تک عمران خان کو باہر نہیں نکالتے،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ دفعات لگائی جا رہی ہیں جس پر ہائیکورٹ کے جج نے کہا کہ سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے، یہ سوچ لیں کہ کس وجہ سے ایسا چارج لگایا گیا، کونسا جرم انہوں نے کیا،کہ سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو،ڈونلڈ لو جس نے پیغام پاکستان بھیجا ، اس پیغام کو عمران خان نے بہتر سمجھا کہ اپنی قوم کو بتائیں، اسکے اوپر رانا ثناء اللہ نے کیس کیا، عمران خان پر،اب کس کی سیکرٹ تھی جو ڈونلڈ لو نے پیغام بھیجا تھا، پاکستان میں انصاف نہیں ملتا، ڈونلڈلو کے خلاف ہم امریکہ میں کیس کریں گے،عمران خان نے بھی یہی کہا ہے، ہماری ملاقات ہوئی ،گھریلو ماحول بارے باتیں ہوئیں،سائفر کے اوپر واضح کہہ دوں کہ عمران خان نے کہا کہ امریکی ایمبیسی انوالو تھی،آپکا خیال ہے ہم چیزیں برادشت کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا.

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بالکل اچھی صحت میں ہیں. انہوں نے بتایا اچھی روٹین بنی ہوئی ہے،ورزش کا موقع ملتا ہے، کتابیں پڑھنے کا بھی موقع ملتا ہے، انہوں نے کھانے کی بھی کوئی شکایت نہیں کی، وہ جیل کے کھانے سے مطمئن ہیں،آج دو کیسز تھے،سائفر اور پھر نیب والا کیس،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے، درخواست دائر

    عمران خان سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے، درخواست دائر

    احتساب عدالت اسلام آباد ،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب کیس،چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں اہلیہ بشری بی بی ، بہنوں کی ملاقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    وکیل شیراز رانجھا نے درخواست دائر کی ، وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتار ہیں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ ، انکی تین بہنیں جیل میں ملنا چاہتی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق آج جیل میں سماعت ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے ،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیملی سے ملاقات کی درخواست کو بھی آج جیل میں سن لینگے ، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی

    دوسری جانب ،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی آج ہم نے ضمانت قبل از گرفتاری مانگی ہوئی ہے ، نیب کی جانب سے چیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی ،مجھے لگتا ہے ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ استدعا قبول نہیں ہو گی ،عدالت نے پہلے ہی نیب کو چیرمین سے تفتیش کی اجازت دے رکھی ہے ،چیرمین پی ٹی آئی ویسے بھی جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ،بشری بیگم کے حوالے سے اگر چیرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں تو اس پر بحث ہو گی ،نیب نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس ہمیں بشری بیگم مطلوب نہیں ہیں،القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس کا ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا ،القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس ابھی زیر تفتیش ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    بشری بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت

  • سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے سماعت 21نومبر تک بغیر کارروائی کے ملتوی کردی، سماعت کے بعد ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کی روشنی میں عدالت نے سماعت ملتوی کی ہے، سرکاری پراسکیوشن کی جانب سے گواہ بھی پیش نہیں کیا گیا

    دوسری جانب گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر کیس کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جس میں مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی گئی ، درخواست وکیل لطیف کھوسہ نے دائر کی جس میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا، علاوہ ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ نے 22 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ سماعت کرے گا جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کی فرد جرم کی کاروائی کے خلاف بھی سماعت ہو گی

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،حاضری والے قیدیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،حاضری والے قیدیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کی ہدایت

    اڈیالہ جیل سے قیدیوں کو اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشیوں کے طریقہ کار سے متعلق اہم اجلاس ہوا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اجلاس کی زیرصدارت کی،سیکرٹری قانون، اسلام آباد کے سیشن ججز اور چیف کمشنر اسلام آباد اجلاس میں شریک ہوئے،آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی جیل خانہ جات اور سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل بھی شریک ہوئے

    اجلاس میں جیل سے محض حاضری والے قیدیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتوں میں پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے محض حاضری کیلئے لائے جانے والے قیدیوں کو پیش کرنے سے روک دیا،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے روزانہ 15 سے 20 گاڑیاں قیدیوں کو اسلام آباد کی عدالتوں میں لاتی ہیں،قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کرنے پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ آتا ہے،

    چیف جسٹس عامر فاروق نےاسلام آباد کی اپنی جیل کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، سیکرٹری قانون نے بریفنگ میں بتایا کہ جیل کی تعمیر میں تاخیر کے باعث لاگت دس گنا بڑھ چکی ہے،

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • تنہائی میں شوہر سے ملنا چاہتی ہوں، بشریٰ بی بی کی درخواست

    تنہائی میں شوہر سے ملنا چاہتی ہوں، بشریٰ بی بی کی درخواست

    بشری بی بی نے عمران خان سے تنہائی میں ملاقات کےلیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا ہے کہ اہلکاروں کی موجودگی میں ملاقات کے باعث خاندان کے معاملات پر بات نہیں ہوپاتی،استدعا ہےکہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ کو میری شوہر سےتنہائی میں ملاقات کیلئےاحکامات جاری کئے جائیں

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی شریٰ بیگم کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست گزار بشریٰ بی بی کو درخواست پر اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار 7 روز میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کریں، درخواست گزار درخواست کے ساتھ متعلقہ دستاویزات بھی منسلک کریں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔بشریٰ بی بی کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ تمام اداروں سے مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، اس درخواست پر فیصلہ آنے تک کسی بھی مقدمے میں گرفتاری یا طلبی سے روکا جائے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں،لطیف کھوسہ

    پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نعیم حیدر پنجوتھہ اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روک دیا ہے۔جیل ٹرائل اوپن ٹرائل نہیں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئیے۔بند کمروں کے ٹرائل میں عوام کو رسائی نہیں۔جیل ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہے۔سارے مقدمات بد نیتی پر مبنی ہیں۔ پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں۔پہلے ملزم عدالت میں پیش ہوتا تھا اب عدالتیں ملزمان کے پاس چل کر آتی ہیں۔ کفر کی ریاستیں چل سکتی ہیں نا انصافی کی نہیں۔عدالتیں ضرور انصاف کرینگی ہم انصاف کیلئے کوشاں ہیں۔نیب کے لوگ اتنے جھوٹے ہیں غلط قانون کی تین تاریخیں پڑوائیں۔

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 6 گھنٹے سماعت جاری رہی، شاہ محمود قریشی کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی ،وزرات خارجہ کی ایک خاتون افسر کا بیان قلمبند ہوا،ہمیں باہر سے بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اوپن کورٹ پر حکم امتناع جاری کیا،17 نومبر کو سائفر سے متعلق سماعت ہو گی، ہمارا نقطہ تھا کہ ہمیں سائفر دستاویزات دی جائیں، سائفر دستاویزات نہ ملنے اور میٹنگ منٹس نہ ملنے پر ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے،کمرہ عدالت میں ہم نے 15 صفحات کو پڑھا اس میں کچھ بھی سیکریٹ نہیں ہے،جو دستاویزات ریکارڈ کا حصہ ہے وہ پبلک دستاویزات ہیں وہ ملنی چاہئے،فیملی ممبران کو آج کی سماعت میں جانے کی اجازت دی گئی ہے،شاہ محمود قریشی کی دو بیٹاں آج کی سماعت میں شامل تھیں،گواہان پر تفصیل کے ساتھ جرح ہوئی ہے،ہم عدالت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں

    اڈیالہ جیل کے باہر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس سے قبل پی ٹی آئی چیرمین کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی جس پر وقت زیادہ لگا، سائفر کیس میں دو گواہان کے بیانات قلم ہوئے اور ایک پر جرح مکمل کر لی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کا سائفر کیس میں حکم امتناعی سے متعلق زبانی بتایا، اگر تحریری حکم آتا ہے تو اس کی سماعت ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کی سماعت مکمل ہونے تک نہیں ہو سکتی،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری

    190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری

    190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا

    وزارت قانون کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف نیب کے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت جیل ہی میں کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، وزارت قانون نے جیل ٹرائل سے متعلق سرکولیشن سمری وزیراعظم کوارسال کی تھی، عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت جیل میں کیے جانے کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی، جس کے بعد وزارت قانون نے باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کی منظوری کی درخواست چیئرمین نیب نے کی تھی،نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں جج محمد بشیر کریں گے، نیب کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی

    واضح رہے کہ نیب نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کرلیا ہے،گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں کیسوں میں وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی،عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کی تو عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اب اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو رہے ہیں.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی