Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 نومبر تک سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا. اسٹے نا دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی، اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے پراسیکوٹر نے بار بار استدعا کی کہ سماعت کل تک ملتوی کر دیں اسٹے نا دیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کے لیے کیس رکھ رہے ہیں سارا ریکارڈ لے کر آئیں کیوں جیل ٹرائل کر رہے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمران خان کے خلاف سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا. اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست ہی مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اے ٹی سی جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے پر بھی سوال اٹھا دیا! جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کا آغاز وفاقی حکومت نے کیا.چیف جسٹس کی رائے لی گئی لیکن حتمی فیصلہ بھی وفاقی حکومت نے ہی کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اوپن کورٹ سماعت اور جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیازنے کیس کی سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کے چند افراد کو سماعت میں جانے کی اجازت کا مطلب اوپن کورٹ نہیں ، جس طرح سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے بھی اوپن کورٹ کی کارروائی نہیں کہہ سکتے ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا اور کہا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ، وفاقی کابینہ کی جیل ٹرائل منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کر دیں گے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ نوٹیفکیشن ہم دیکھیں گے اس میں کیا لکھا ہوا ہے ، تمام ٹرائلز تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہو گا ، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے کیا غیر معمولی حالات تھے کہ یہ ٹرائل اس طرح چلایا جارہا ہے ؟آپ نے ہمیں بتانا ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تمام متعلقہ اداروں سے ریکارڈ لیکر عدالت کے سامنے رکھ دوں گا، عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہو گا ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہو گا؟

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    توہین الیکشن کمیشن،اڈیالہ جیل میں اگلی سماعت ہونے کا امکان

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت ہوئی

    معاون وکیل نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل غیر حاضر، تھوڑی دیر میں پہنچیں گے،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے آنا ہے؟ ہم نے حلقہ بندیوں کی بھی سماعت کرنی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی خدشات ہیں تو سماعت جیل میں نوٹیفائی کرسکتے ہیں؟ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن حکام جیل جانا چاہتے ہیں تو نوٹیفائی کرسکتے ہیں، وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں، ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا قانون الیکشن کمیشن کو جیل میں سماعت کرنے کی اجازت دیتا ہے؟سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت پر وزارت قانون سے رائے لے لیتا ہوں،

    پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار ملاقات کی اجازت ملی، ملاقات کے دوران کاغذ پینسل تک لیکر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، کمیشن مناسب آرڈر دے ، ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم خود ہی اڈیالہ جیل چلے جاتے ہیں ، جب ہم جائیں گے آپکو تمام سہولیات مل جائیں گی،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی، لیول پلینگ فیلڈ‌بھی نہیں دی جا رہی،تحریری طور پر بھی کمیشن کو آگاہ کیا ہے،

    فوادچوہدری کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ سابق وفاقی وزیر جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ فوادچوہدری کس جیل میں ہیں؟فواد چوہدری کے وکیل نے کہا کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں،ممبر سندھ نثار درانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے اس پرآرڈرکردیتے ہیں، اسد عمر کی جانب سے کوئی بھی الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوا۔صائمہ جنجوعہ نے بتایا کہ اسد عمرکے وکیل نےالتوا کی درخواست کی ہے، الیکشن کمیشن نے کیسز کی سماعت 6 دسمبرتک ملتوی کردی.

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کر لی گئی

    نگران وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کرتے ہوئے جیل ٹرائل کی منظوری دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 14 نومبر کو ہوگی ،عدالت نے 14 نومبر کو اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کر رکھے ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی قریشی کےخلاف 14 نومبرکوسائفرکیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سائفرکیس کےجیل ٹرائل کی منظوری کیلئےوزارت قانون کی وفاقی کابینہ کوسمری ارسال کی گئی،سمری میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج ابوالحسنات نےجیل ٹرائل کی سفارش کی،چیئرمین پی ٹی آئی کودرپیش سیکیورٹی خدشات پر جیل ٹرائل کی سفارش کی گئی،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ،سابق وزیراعظم نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، سپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی، ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی،کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، چارج فریم کرنے کی کاروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے،سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • مستقل بات کروانا جیل رولز کا حصہ نہیں، عدالت میں جواب جمع

    مستقل بات کروانا جیل رولز کا حصہ نہیں، عدالت میں جواب جمع

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فون گفتگو کرانے کی درخواست پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جواب جمع کرا دیا ،

    جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ایک دفعہ خصوصی انتظامات کرکے عمران خان کی واٹس ایپ پر بات کرا دی مستقل بات کرانا جیل رولز میں نہیں ہے عدالت اگر مناسب سمجھے تو جیل رولز تبدیلی کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو ہدایت دے سکتی ہے،اڈیالہ جیل سے بیرون ملک کال کی سہولت موجود نہیں،اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو صرف لوکل اور اندرون ملک فون کال کی سہولت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی جس کیس میں اڈیالہ جیل میں ہیں اس کیس میں قیدیوں کو ٹیلیفون کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، چیئرمین پی ٹی آئی کو قاسم اور سلمان سے بات نہ کروانے پر اڈیالہ جیل حکام کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نوٹس جاری کیا تھا

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بیٹوں سے بات نہ کرانے پرتوہین عدالت درخواست پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر دیا تھا،عدالت نے جیل حکام کو جواب کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8 نومبر تک کیلئے ملتوی کردی تھی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے نوٹس جاری کیا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیراز احمد رانجھا ایڈووکیٹ نے درخواست دائرکی،درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سلمان اور قاسم سے بات نہ کرائی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا،عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے،جیل حکام کو چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کے حکم پر عمل درآمد کا حکم دیاجائے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو کل واٹس ایپ پر بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے دی

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس سماعت کی،درخواست شیراز احمد رانجھا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ،عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے چکی ہے، کل ہفتہ ہے بیٹوں سے واٹس ایپ پر بات کرانے کی خصوصی اجازت دی جائے،عدالت نے کل چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے دی،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہر ہفتہ کے روز بیٹوں سے بات کرانے کی درخواست پر عدالت نے نوٹس جاری کررکھے ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کےخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ،جوائنٹ سیکرٹری قانون و انصاف عرفان احمد،جوائنٹ سکریٹری کابینہ ڈویژن منیر صادق اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجودتھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنی مرضی سے ایک جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کا جج تعینات کر دیا، جج کی تعیناتی کے لیے متعلقہ چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی، وزارت داخلہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن جاری کیا، سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی اور 7 نومبر کو شہادتیں ریکارڈ ہونی ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہاں آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جج تعینات ہوا 27جون 2023 کو وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی تعیناتی کی منظوری دی،وفاقی کابینہ کی منظوری میں کہیں نہیں لکھا ہوا یہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کی جج کی تعیناتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون کی جانب سے سمری بھجوائی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دی،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا،کابینہ کی منظوری کے بعد تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت ہونی چاہیے،

    سائفر کیس اوپن ٹرائل کی عمران خان کی درخواست میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل سے اہم مکالمہ سامنے آیا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم 2023 میں رہ رہے ہیں ، یہ openness کا دور ہے ، اوپن کورٹ ، اوپن سماعت ، شفافیت کا تقاضا بھی یہی ہے اگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل میں سزا سنا دی جاتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہونگے یہ سب چیزیں آپ کو دیکھنا ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس کیس میں پیر کےلئے نوٹس جاری کر رہے ہیں، عدالت نے ایف آئی اے، وزارت قانون و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئےسماعت 6نومبر تک ملتوی کر دی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان تندرست،ہشاش بشاش ہیں، ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک

    عمران خان تندرست،ہشاش بشاش ہیں، ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک

    سی ای او شوکت خانم، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فیصل سلطان کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ عمران خان خوش، ہشاش ہیں، صحت نارمل ہے، ایکٹو ہیں،مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی، جس طرح انکی صحت ہے نارمل نظر آئے،مجھے روکنے کے بعد عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی، میں نے انکا معائنہ کیا، وہ ہشاش اور اچھی صحت ہے انکی، میں نے ان سے صحت کے بارے میں پوچھا تو عمران خان نے کہا ٹھیک ہوں، عمران خان نے شوکت خانم کے بارے پوچھا تو میں نے بریفنگ دی، خوشی ہے کہ عمران خان بالکل صحتمند، ہشاش ہیں،میں نے رپورٹس نہیں دیکھیں لیکن عمران خان کا معائنہ کیا ہے، وہ تندرست ہیں، جو میں نے دیکھا مجھے سلو پوائزننگ کے حوالہ سے کوئی چیز نظر نہیں آئی،شاید کسی موقع پر خدشے کا اظہار کیا ہو تو وکیل نے کوئی بات کر دی ہو، آج اس حوالہ سے کوئی بات نہیں ہوئی، میں نے علامات کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا کچھ نہیں، میرا فوکس انکی خیرو عافیت پر تھا، ان کا فوکس ہسپتال پر تھا جو میں نے انکو بتا دیا.خوراک کے حوالہ سے بھی عمران خان نے کوئی شکایت نہیں کی.ورزش پر بھی وہ کر رہے ہیں جتنی وہ جیل میں کر سکتے ہیں،ہمارے ڈاکٹروں کا کام روزانہ ہوتا ہے، مریض کمرے میں داخل ہوتا ہے تو اسکی چال ڈھال دیکھ کر اسکو جج کر لیتے ہیں،خوراک کو عمران خان نے تسلی بخش بتایا.شوکت خانم کو لوگ قومی ادارہ تصور کرتے ہوئے سپورٹ کر رہے ہیں، میں ڈونر کا شکریہ ادا کرتا ہوں

    قبل ازیں سی ای او شوکت خانم ڈاکٹر فیصل سلطان پی ٹی آئی چیرمین سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے تاہم جیل حکام نے عمران خان سے نہیں ملنے دیا گیا تھا،پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل شیراز احمد رانجھانے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملاقات کے لیے سی ای او شوکت خانم ڈاکٹر فیصل سلطان کو ملاقات سے روک دیا گیا ،ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کے حوالے سے عدالتی احکامات بھی موجود ہیں ،فیصل سلطان نے جیل بھی پی ٹی آئی چیرمین کی طبعی معائنہ بھی کرنا تھا ،عدالتی احکامات کی کاپی جیل انتظامیہ کو بھی موصول کروائی گئی ،جیل انتظامیہ نے ڈاکٹر فیصل سلطان کی ملاقات کروانے سے انکاری ہے ،جیل کا سپرٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اتنا طاقتور ہے کہ احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا ،نمل فاونڈیشن کے سی ای او قاسم زمان کو بھی ملاقات سے روک دیا گیا ،ہمارے تین وکلاء کو جانے کی اجازت دی گئی ہے

    علیمہ خان اور نعیم پنجوتھہ عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان کو تمام سہولیات دی گئی ہیں،جیل میں آٹھ کمرے عمران خان کے زیر استعمال جبکہ ان کے کھانے اور علاج کیلئے نو ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہیں،عمران خان کو ٹی وی بھی دیا گیا ہے، اخبار کی سہولت بھی دی گئی ہے، جیل میں واک کرنے کے لیے 20 فٹ کا صحن بھی موجود ہے،ملاقات بھی انہی کمروں میں کروائی جاتی ہے ،کھانا انکی مرضی کے مطابق بنا کر دیا جاتا ہے،البتہ باہر سے منگوانے کی اجازت نہیں.

  • پرویز الہیٰ کی سالگرہ،اہلخانہ کو ملی ملاقات کی خصوصی اجازت

    پرویز الہیٰ کی سالگرہ،اہلخانہ کو ملی ملاقات کی خصوصی اجازت

    انسداددہشتگردی عدالت اسلام آباد: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی سالگرہ پر اہل خانہ سے ملاقات کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے چوہدری پرویز الہی سے اہل خانہ کی ملاقات کیلئے اجازت دے دی،ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے فیملی سے ملاقات کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں کہا گیا کہ گزشتہ ملاقات والے دن چوہدری پرویز الہی لاہور میں تھے، ملاقات نہ ہوسکی،چوہدری پرویز الہی کی آج سالگرہ ہے،بیوی، بیٹے اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے، سالگرہ کی وجہ سے خصوصی ملاقات کی اجازت دی جائے،عدالت نے استفسار کیا کہ چوہدری پرویز الہی اڈیالہ جیل میں ہیں،وکیل نے کہا کہ جی چوہدری پرویز الہی اس وقت اڈیالہ جیل میں ہی ہیں، عدالت نے ملاقات کی اجازت دے دی

    نواز شریف اورشہباز شریف کے لیے ہی سارے ریلیف ہیں

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ہر ہفتے بیٹوں سے بات،عمران خان کی درخواست پرنوٹس جاری

    ہر ہفتے بیٹوں سے بات،عمران خان کی درخواست پرنوٹس جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر ہفتے کو بیٹوں سے بات کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر ہفتے کو بیٹوں سے بات کرانے کی درخواست پر جواب کیلئے نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے جواب طلب کرلیا، عدالت نے درخواست پر مزید سماعت 8نومبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ  عمران خان نے ہر ہفتے اپنے بیٹوں سے بات کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی,عمران خان کی کی جانب سے ان کے وکلا نے درخواست آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے عملے کو جمع کرائی ،عمران خان کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا. سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرائی گزشتہ ہفتےکی طرح آج چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہیں کرائی جارہی،عمران خان کا اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے بات کرنا حق ہے لہٰذا ہرہفتے کے روز چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی