Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس،جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،جج

    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور پی ٹی آئی وکیل شیراز رانجھا کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بتائے بغیر اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل ہی نہیں کرنا چاہئے تھا،جج نے کہاکہ اڈیالہ جیل کے حالات سازگار نہیں، ماحول اٹک جیل سے بہت مختلف ہے،اڈیالہ جیل میں 2200ملزمان کی گنجائش ہے لیکن 7ہزار قیدی ہیں،درجنوں مرغیوں کے ڈربے میں 32مرغیاں ہوں گی تو کیا حالات ہوں گے،اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے آمنے سامنے بات ہوتی تھی،اڈیالہ میں حالات ہی مختلف ہیں،

    جج نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بہت رش ہے ، اٹک جیل میں سکون تھا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر غیرضروری سختی ہو رہی ہے،عدالت بہتر کلاس کا فیصلہ کرتی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ٹی وی، بہتر بستر کیوں نہیں دیتے؟ اٹک جیل میں سکون تھا،جج نے کہاکہ اٹک جیل میں لائبریری ، ورزش ، اخبار کی سہولت چیئرمین پی ٹی آئی کو دی تھی،جیل منتقلی کا خوامخواہ تماشا بنایاگیا، اڈیالہ جیل میں کوئی کہانی ہی نہیں،

    پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی،عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل شیراز ارانجھا نے کہاکہ جیل منتقلی کی درخواست سے قبل شیر افضل کو قانونی ٹیم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی،اٹک جیل میں وکلا کی ملاقات بہت آسان تھی، اڈیالہ جیل میں تو بہت مسائل ہیں،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے دفتر بیٹھا تھا، میرے سامنے سے 70ملزمان گزرے ،پٹرول کی پوری ٹنکی لگتی تھی لیکن اٹک جیل میں سماعت آسانی سے ہوتی تھی، نوٹ کر لو سب،شکر ہے آپ اڈیالہ جیل منتقلی کی غلطی مانے تو سہی، کوئی اور بہتر جج لگتا ہے تو لے آئیں، میں صاف بات کرنے والا جج ہوں،مجھے کوئی شوق نہیں ، میں اپنا پیشہ ورانہ کام کررہا ہوں،وکیل شیراز رانجھا نے عدالت میں کہاکہ ہم چاہتے ہیں سائفر کیس کا ٹرائل ہی نہ ہو،جج نے کہا کہ جرم کیا ہے تو سزا ہو گی، نہیں کیا تو بریت ملے گی،سائفر کیس کی سماعت کیلئے لمبی تاریخ دے دیتا ہوں،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جتنے دن قید ہیں ا س کا کیا ہوگا؟

    ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، جج
    جج نے کہاکہ آپ مجھے جج ہمایوں دلاور سمجھتے ہیں وہ بھی انسان تھے،ہمایوں دلاور نے اپنے انداز سے توشہ خانہ کیس چلایا، ابوالحسنات سائفر کیس اپنے طریقے سے چلائے گا، سائفر کیس کا ٹرائل ہو گا تو چیئرمین پی ٹی آئی باہر آئیں گے نا ،مجھے بتائیں اب تک سائفر کیس کی سماعت کیا موثر انداز میں نہیں ہوئی؟وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ کوئی شک نہیں کہ آپ پی ٹی آئی وکلا کی باتوں کو سمجھتے ہیں، جج نے کہا کہ اللہ نے سائفر کیس کا فیصلہ ابوالحسنات کے ہاتھوں سے کرانا ہے تو ابوالحسنات ہی کرے گا، وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ آپ نے مائنڈ نہیں کرنا، سائفر کیس کی سماعت 10اکتوبر کو تھی، نقول کیلئے کیوں جلد سماعت رکھی؟ جج نے کہاکہ اگر سائفر کیس کا ٹرائل چلانا ہے تو بتائیں، نہیں چلانا تب بھی بتا دیں،ٹرائل کیلئے وافر وقت دے رہا ہوں، آپ کی قانونی ٹیم کو سمجھ ہی نہیں آ رہی،میں سائفر کیس کا ٹرائل بہت موثر انداز میں چلانا چاہ رہا ہوں،ابوالحسنات ذوالقرنین نہیں تو کوئی اور سائفر کیس کا ٹرائل کرلے گا، سائفر کیس میں چالان کی نقول کبھی نہ کبھی تو فراہم کرنی ہیں نا،جوڈیشل ریمانڈ کی اہمیت کو سمجھیں ، چالان آ جائے تو جوڈیشل ریمانڈ غیرموثر ہو جاتا ہے ،جوڈیشل ریمانڈ کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کی 14روز بعد خیروعافیت معلوم کرنا ہے،

    وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ججز نے کہاجج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے،توشہ خانہ، سائفر کیس میں ملزم کو ٹرائل کی جلد ی ہونی چاہئے،یہاں مدعی جلدی کررہا ہے،دیگر کیسز معمول کے مطابق چلائے جارہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کا جلدی ٹرائل کیا جا رہا ہے،جج نے کہا کہ سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، ہائی پروفائل حساس کیس ہے، اہمیت کو سمجھیں ،وکیل شیراز رانجھا نے کہاکہ سائفرکیس کوئی حساس کیس نہیں، سائفر کیس کو حساس بنایا جا رہا ہے،جج نے کہاکہ سائفر کیس چالان کی نقول فراہم کرنی تھی، پی ٹی آئی قانونی ٹیم نے عدالت کی نہیں سنی

    چئیرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لئے لیگل ٹیم کے تین ارکان کو اجازت مل گئی،اجازت ملنے والی وکلاء کی ٹیم میں حامد خان، عمیر نیازی، شعیب شاہین شامل ہیں،اڈیالہ جیل کے باہر بھی وکلا کی بڑی تعداد موجودہے

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت ،شاہ محمود قریشی کی بینک جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بائیو میٹرک کی اجازت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے آج ہی جواب طلب کر لیا، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی ایک ہی اکاؤنٹ ہولڈ کرتے ہیں ،شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں اور روز مرہ امور چلانے کے لیے جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتے ہیں ،بائیو میٹرک کے لیے بینک اسٹاف کو جیل جانے کی اجازت دی جائے ،شاہ محمود قریشی کا ایک بیٹا ہے وہ واحد خود کفیل ہیں ملازمین کو تنخواہیں بھی دینی ہے ، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے سماعت میں وقفہ کردیا

    شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ایف آئی اے نے چالان میں شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو عدالت نے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے،

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا ، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر کی پھر چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ سی ڈی منسلک ہے،ایف آئی اے نے 28 گواہوں کی لسٹ چالان کے ساتھ عدالت میں جمع کرا دی ،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کے گواہوں میں شامل ہیں، سائفر وزارت خارجہ سے لیکر وزیراعظم تک پہنچنے تک تمام چین گواہوں میں شامل ہیں

  • ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں وینٹیلیشن کا کوئی ذریعہ نہیں،پرویز الہی

    ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں وینٹیلیشن کا کوئی ذریعہ نہیں،پرویز الہی

    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کو اڈیالہ جیل میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی

    دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواستگزار سابق وزیر اعلی پنچاب،سابق سپیکر پنجاب اسمبلی اور سینئر سیاستدان ہیں،درخواستگزار کو یکم ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا،جیل قوانین کے مطابق درخواستگزار جیل میں بہتر کلاس اور سہولیات کا حقدار ہے درخواستگزار کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک رکھا جا رہا ہے،درخواستگزار کو ایسے سیل میں رکھا گیا جہاں وینٹیلیشن کا کوئی ذریعہ نہیں،ملزم کے سیل کے باہر ہوا اور وینٹیلیشن کو روکنے کیلئے بدنیتی سے دیوار کھڑی کی گئی ہے،درخواستگزار 77سالہ عارضہ قلب میں مبتلا ملزم ہے،درخواستگزار کے پاس عدالت کا آئینی دائر اختیار استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،عدالت درخوستگزار کو جیل میں بہتر سہولیات فراہم کرنے کا حکم جاری کرے،عدالت درخواستگزار کے سیل کے باہر سے دیوار ہٹانے کا حکم دے پرویز الہی کی جانب سے درخواست سردار عبدالرازق نے دائر کی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کی دوبارہ گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے آئی جی اسلام آباد ناصر اکبر خان کے خلاف توہین عدالت درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا ،تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ پرویز الہیٰ کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اسلام آباد کے نظربندی احکامات پر یکم ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہائیکورٹ نے 5 ستمبر کو نظربندی آرڈر معطل کر کے فوری رہائی کا حکم دیا رہائی کے احکامات کی کاپی متعلقہ اداروں کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے مطابق عدالتی حکم پرعملدرآمد کرتے ہوئے پرویز الٰہی کو رہا کر دیا گیا وکیل کے مطابق پٹیشنر کو پولیس لائنز کے گیٹ سے سی ٹی ڈی حکام نے دوبارہ گرفتار کیاوکیل کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی میں گرفتاری عمل میں آئی لاہور ہائیکورٹ اسلام آباد پولیس اورانتظامیہ کو توہین عدالت درخواست پر نوٹس جاری کر چکی ہے پرویز الہیٰ کے وکیل مطمئن نہیں کر سکے کہ اس عدالت کے آرڈر کی خلاف ورزی کیسے ہوئی؟ لہٰذا آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جاتی ہے

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    ایمان مزاری کیس،خدشہ ہے کہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،ایمان مزاری کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی، وزارت داخلہ حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایمان مزاری کے خلاف صوبوں میں درج مقدمات کی تفصیلات منگوائی ہیں ؟ وزارت داخلہ حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے ، وفاقی حکومت ایسے معاملات میں صوبوں کو حکم نہیں دے سکتی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ؟ ہم نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا ہے ، اسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرڈر دیر سے ملا ہے کچھ وقت دے دیا جائے ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا جائے ،

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع
    اسلام آباد ہائیکورٹ: اڈیالہ جیل کے باہر سے دوسری بار گرفتار ایمان مزاری نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،ایمان مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دو مقدمات میں ضمانت کے بعد ایمان مزاری کو تیسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے، ایمان مزاری کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں، ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو بھی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روکے،عدالت ایمان مزاری کیخلاف ملک بھر میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا اسلام آباد پولیس ایمان مزاری کو لے کر روانہ ہو گئی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع

    انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمہ کی سماعت ہوئی

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی ، عدالت نے ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے محفوظ فیصلہ سنایا ، ایمان مزاری کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    سماعت کے دوران عدالت میں پراسیکیوٹر نے کہا کہ لوگوں سے رقم جمع کرنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کا الزام ہے ،ایمان مزاری کا تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے،ملزمہ کے قبضے سے رقم برآمد کرنی ہے،شریک ملزمان تک پہنچنا ہے،

    وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت میں کہا کہ 26 اگست 2023 کو ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔26 اگست کو ایمان مزاری جیل میں تھیں اور ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہونا تھی،پی ٹی ایم کو حکومت پاکستان نے جلسے کیلئے این او سی دیا ایمان مزاری کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے وقت تھانہ بارہ کہو کی پولیس وہاں موجود تھی ،ایک واقعہ پر متعدد ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتیں ،عدالت آج مقدمہ سے ڈسچارج کرے کسی اور کیس میں گرفتار کر لیا جائے گا ایمان مزاری پی ٹی ایم کی عہدے دار نہیں ہیں ،ایمان مزاری کی بینک اسٹیٹمنٹ دینے کو تیار ہیں فون اور لیپ ٹاپ پولیس کے پاس ہے ،ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کیوں ہے ،ایمان مزاری ایف آئی آر درج کروانے والے سے نہ کبھی ملیں نہ پیسے لیئے،ایمان مزاری کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے ،

    جلسے کیلئے این او سی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست مخالف نعرے لگائے جائیں،پراسیکوٹر

    پراسیکوٹرنے عدالت میں کہا کہ جلسے کیلئے این او سی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست مخالف نعرے لگائے جائیں ، عدالت ریمانڈ دے گی تو شواہد اکٹھے کریں گے،وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ ایمان مزاری تفتیش میں تعاون کر رہی ہیں اس لیئے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں،عدالتوں کو سکور برابر کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے عدالتوں کو اس معاملے کو بھی دیکھنا ہے ،

    اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتاری،ایمان مزاری نے عدالت سے کیا رجوع
    اسلام آباد ہائیکورٹ: اڈیالہ جیل کے باہر سے دوسری بار گرفتار ایمان مزاری نے حفاظتی ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،ایمان مزاری کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ دو مقدمات میں ضمانت کے بعد ایمان مزاری کو تیسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا، ایمان مزاری کو ایک کے بعد ایک مقدمے میں گرفتاری کا سامنا ہے، ایمان مزاری کو حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکیں، ایمان مزاری مقدمات کی تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کیلئے بھی تیار ہیں،عدالت ایف آئی اے اور صوبائی اداروں کو بھی ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روکے،عدالت ایمان مزاری کیخلاف ملک بھر میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا اسلام آباد پولیس ایمان مزاری کو لے کر روانہ ہو گئی

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    عمران خان کو اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت میں پیش

    اٹک جیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل استفسار کیا اور کہا کہ کیا ہو گیا شیر افضل صاحب؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ ہو گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا، آپ کے حکم کے باوجود ہمیں نہیں ملوایا گیا،ہم پر ایف آئی آر درج کر دی گئی،کل میں ضمانت پر تھا، پھر بھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر ڈیڑھ دو سو کیسز ہیں، ان کے وکیل کو صرف اس کیس میں تو نہیں ملنا جس میں ان کو سزا ہوئی، ان پر جو کیسز ہیں، ان سے متعلقہ وکیل ان کو ملنا چاہے گا،تاکہ وہ اس کیس سے متعلق عمران خان سے ہدایات لے سکے،

    عمران خان کو اڈیالہ منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب راؤ شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت عدالت کے سامنے پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار وکلا کا کہنا تھا ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل بھیجا آپ نے اٹک بھیج دیا ، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ اڈیالہ جیل سے اٹک جیل منتقلی کا فیصلہ تھا ؟ پنجاب حکومت کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا خط عدالت کے سامنے پیش کر دیا گیا، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہمیں بھی لیٹر کی کاپی فراہم کی جائے ،

    وکیل پنجاب حکومت کی جانب سے خط پڑھا گیا ،اٹک جیل منتقلی سے متعلق خط میں وجوہات کا ذکر موجود تھا، عدالت نے استفسار کیا کہ ایک چیز بتائیں کیا وکلا ملزمان سے نہیں مل سکتے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ایک وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سے ملے ،وکیل صاحب نے پائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے وکالت نامے دستخط کرائے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف وکالت نامے دستخط کرانے کے لیے وکیل اپنے کلائنٹ سے جیل میں مل سکتا ہے ؟ اس طرح اجازت نا دینا تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت میں آ جائے گا ، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ سات اگست کو ہم نے ملنے کی اجازت دی آٹھ کو اور نو اگست کو یہ دیر سے پہنچے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ صبح آٹھ بجے سے دو اور یہ تین بجے تک بھی ہو سکتی ہے کیا یہی ہے ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جی بالکل اسی طرح ہی ہے ،اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح 8 سے 2 بجے تک کوئی ملاقات کیلئے آئے تو کوئی قباحت تو نہیں؟ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ ہائیکورٹ ہے اور اس میں کی جانے والی غلط بیانی کے نتائج ہونگے، وکیل پنجاب حکومت کہہ رہے ہیں کہ میں گزشتہ روز پونے پانچ بجے اٹک جیل پہنچا،گزشتہ روز ڈیڑھ بجے اٹک جیل کے باہر میڈیا کو انٹرویو دیا، ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ میں کیس چل رہا تھا اور ہم دونوں وہاں موجود تھے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ساتھ ہی وہ سزا یافتہ بھی ہیں دونوں چیزوں کو برابری کی بنیاد پر لے کر چلنا ہے، وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کس کلاس میں رکھنا ہے، سات دن میں یہی فیصلہ نہیں ہو سکا، یہ کام ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ کے جج کا کام ہوتا ہے، ٹرائل جج، سپریٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی کمشنر نے کلاس کی سفارش کرنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل منتقل نہ کرنے کی وجوہات مضحکہ خیر ہیں، جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں تو چیئرمین پی ٹی آئی کے آنے سے کیا فرق پڑ جائے گا؟ اڈیالہ جیل سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے مستحکم جیل ہے،
    رولز کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا ہی نہیں جا سکتا تھا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی بھی استدعا کی گئی ہے، نمائندہ پنجاب حکومت نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں معائنہ کے بعد ہی اپنے ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست کی جا سکتی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نواز شریف سے انکے وکیل ڈاکٹر عدنان روزانہ ملتے تھے، عدالت نے کہا کہ کیا ایک اور ہائی پروفائل قیدی کو اپنے ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت نہیں تھی؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہاکہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ اڈیالہ جیل سے ریکارڈ منگوا لیں معلوم پڑ جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکا اپنا ڈاکٹر چیک کر لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ مجھے سمجھ نہیں آتی یہ اتنا تنگ کیوں کر رہے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقات اور سہولیات سے متعلق میں آرڈر کروں گا، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اس طرح کی شرائط عائد نہ کریں میں نے کہا تھا کہ دو تین وکلاء ملاقات کیلئے جایا کریں زیادہ نہیں،دو چار لوگوں سے کیا فرق پڑتا ہے سو پچاس جائیں تو پھر الگ بات ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نیب کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج ہو گئی ہے،نیب اب چیئرمین ہی ٹی آئی کو اپنی حراست میں لے کر ریمانڈ لینا ہے،ہم گزشتہ روز بشری بی بی کے ساتھ گئے اُنکی ملاقات ہو گئی لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا،
    پولیس نے کہا کہ ایک دن میں ایک ہی ملاقات ہو سکتی ہے،واپسی پر ہمیں وکلاء کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی،عدالتوں سے ہم ریلیف اسی لئے لیتے ہیں کہ ہماری عزت بچی رہے، ہمیں اب پتہ چلا ہے کہ شاندانہ گلزار پر بھی تھری ایم پی او لگا دیا گیا ہے،عدالت اگر سختی نہیں کریگی تو یہ اسی طرح حقوق پامال کرتے رہیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جائے نماز اور قرآن پاک مانگا تھا ہم وہ لے کر گئے، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ جیل میں اُنکے پاس جائے نماز اور قرآن پاک دونوں موجود ہیں، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ انگلش ورژن استعمال کرتے ہیں ہم نے وہ دینا تھا، وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہم انگلش ورژن بھی فراہم کر دینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کوئی دوائیاں وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں؟
    کیا انہیں جیل میں ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے جیل میں پانچ ڈاکٹر موجود ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے میں اگر دو تین بار ملنا ہو تو اس میں کیا مضائقہ ہے،ایسا نہیں ہوتا پرچے ہوں وکیلوں پر ،جو قید میں ہیں ان کے حقوق ہیں ان کا انکار تو نہیں کر سکتے

    نعیم حیدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں ڈپٹی سپریڈنٹ جیل کے دفتر میں ملا ہوں وہاں کوئی سیکورٹی کا مسئلہ نہیں،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ اس عدالت نے حفاظتی ضمانت مجھے دے رکھی ہے ان سے پوچھ لیں پھر بھی ہمیں گرفتار کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں نے 7 دن کی حفاظتی ضمانت دے رکھی ہے توہین عدالت کی درخواست دیکھ لوں گا،وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کی طرف سے یہ خطرہ ہے کہ ان کو زہر دیا جا سکتا ہے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ یاد رکھئے گا چیئرمین پی ٹی آئی کی آپ کی حراست میں ہیں ذمہ داری جیل سپریڈنٹ پر ہے۔
    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب آرڈر جاری کریں گے

    واضح رہے کہ عمران خان کو قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے کے حوالہ سے درخواست،جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں اسمبلیوں کی جنرل نشستوں کی تعداد بڑھانے اور حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 1997 کی مردم شماری کے بعد نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا نئی مردم شماری کے نتائج جاری کئے جا چکے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلیوں کی نشستیں بڑھا کر حلقہ بندیاں کی جائیں

    شہری کی درخواست پر چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین سے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس عامرفاروق نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں  ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دے دی گئی ملک بھر میں نئے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہونگے ،پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 میں مکمل ہو چکی ہے

  • عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست،سماعت میں وقفہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی استدعا کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،سینئر وکیل شیر افضل مروت کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ملتوی کی گئی، معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل راولپنڈی بنچ میں ہیں اگر آخر میں کیس کال کر لیں ، عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا

    بشریٰ کی عمران خان سے ملاقات کی درخواست، قانون دیکھیں گے، عدالت
    وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دیئے گئے، چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج صرف اعتراضات سن رہے ہیں، کل باقاعدہ سماعت رکھ لیتے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو وہ تمام سہولتیں جیل میں فراہم کی جائیں گی جن کے وہ حقدار ہیں، جو 3،4 وکلا ملنا چاہتے ہیں، ان کا نام دے دیں، آرڈر پاس کردوں گا، بشریٰ بیگم کے حوالے سے بھی جو باقاعدہ قانون ہوگا وہ دیکھیں گے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی کہ عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے جہاں اے کلاس سہولیات دستیاب ہیں اورفیملی، وکلا اورڈاکٹر سلطان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے

    واضح رہے کہ عمران خان کوتین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • پرویز الٰہی اڈیالہ جیل منتقل

    پرویز الٰہی اڈیالہ جیل منتقل

    تحریک انصاف کے صدر اورسابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو لاہورکی کیمپ جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پرویز الہیٰ کوگزشتہ شب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے

    دوسری جانب پرویز الہٰی کی رہائی کی روبکار پر عمل نہ کرنے،شوکاز نوٹس کا کیس ،عدالت نے جیل حکام کیخلاف شو کاز نوٹس کی کارروائی 1بجے تک موخر کر دیا اینٹی کرپشن کورٹ نے ڈی آئی جی جیل خانہ جات نوید رؤوف کو طلب کر لیا ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جج علی رضا اعوان نے سماعت کی ،سابق وزیراعلیٰ پرویز الہٰی دیگر مقدمات میں ابھی جیل میں ہیں ،جیل حکام نے پرویز الہٰی کی رہائی کی روبکار پر اعتراض عائد کیا تھا

    دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کیخلاف مقدمات خارج ہونے کا معاملہ،پنجاب حکومت کی 3 مقدمات میں چوہدری پرویزالٰہی کو ڈسچارج کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،عدالت نے سماعت بغیر کارروائی 12 اگست تک ملتوی کر دی عدالت نے چوہدری پرویز الہی کو دوبارہ نوٹس جاری کر رکھے تھے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی ،دائر درخواست میں متعقلہ ججز سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کیخلاف شواہد موجود ہیں،متعلقہ ججز نے حقائق کے برعکس فیصلے دئیے،عدالت جوڈیشل مجسٹریٹ کا مقدمات خارج کرنے کا اقدام غیر آئینی قرار دے،

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • کیوں نہ توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟آفریدی کی عدم پیشی،عدالت کے ریمارکس

    کیوں نہ توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟آفریدی کی عدم پیشی،عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کو متعلقہ عدالت پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے تفتیشی افسر کو 15 جون کو طلب کر لیا ،عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی حکم عدولی کیوں ہوئی ؟ کیوں نا توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟ عدالت نے نوٹس جاری کرکے فریقین سے 15 جون تک جواب طلب کر لیا ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے سات جون تک شہریار آفریدی کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا،عدالت پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرے ، عدالت نے 7 جون تک شہریار آفریدی کو متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا عدالت نے حکم عدولی پر توہین عدالت کارروائی شروع کرنے عندیہ دیا تھا ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی نظربندی سے متعلق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی قرار دیا تھا ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا شہریار آفریدی اپنے خلاف پہلے سے درج کریمنل کیسز میں گرفتار تصور ہوں گے ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا شہریار آفریدی کے خلاف درج مقدمات میں تفتیشی افسر پٹیشنر کومجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گا

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو 15 روز کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا تھا تاہم انہیں رہا ہوتے ہی راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرلیاپولیس کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔