Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہر ہفتے اپنے بیٹوں سے بات کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی

    عمران خان کی کی جانب سے ان کے وکلا نے درخواست آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے عملے کو جمع کرائی ،عمران خان کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا. سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرائی گزشتہ ہفتےکی طرح آج چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہیں کرائی جارہی،عمران خان کا اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے بات کرنا حق ہے لہٰذا ہرہفتے کے روز چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا جائے

    عمران خان کے وکیل نے بات کروانے بارے درخواست عدالتی عملے کو جمع کروائی،عدالت کےجج ابوالحسنات کی عدم دستیابی کے باعث درخواست پر کارروائی نہ ہوسکی.

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس، گواہان کے بیانات نہ ہو سکے،سماعت ملتوی

    سائفر کیس، گواہان کے بیانات نہ ہو سکے،سماعت ملتوی

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں آج سماعت ہو ئی

    راولپنڈی اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی، سائفر کیس میں استغاثہ کے 5 گواہان عدالت میں پیش کیے گئے،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی ،
    استغاثہ کے طلب کردہ 5 گواہان کے بیانات قلم بند نہ ہو سکے،سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری حکمنامہ تک ملتوی کر دی گئی

    تمام تحفظات کو سپریم کورٹ کے پاس لیکر جا رہے ہیں،وکیل عمران خان
    چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدرنے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دونوں درخواستیں مسترد ہو گئیں،ہم سے لگاتار زیادتی کی جا رہی ہے،چیئرمین کی گرفتاری نظربندی کا دورانیہ بڑھانے کے لئے سب کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین کی درخواست پر 10 گھنٹے دلائل سنے،یہ ٹرائل خصوصی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں مذاق بن چکا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے پیغام دیا کہ سائفر کا ایشو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا،سائفر ڈی کلاسیفائی ہوا تو سیکرٹ کیسے ہو گیا،سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ملزم کے خلاف اہم ثبوت کا اسے علم ہونا چاہیئے، شاہ محمود قریشی سے زیادہ سائفر کیس کو کوئی نہیں جانتا، آج شاہ محمود بھی خفا تھے،جج سے گلہ کیا کہ وکلاء سے ملنے نہیں دیا جا رہا،یہ فیئر ٹرائل،اوپن ٹرائل نہیں ہے،یہ بند کمرے کا ٹرائل ہے،جو شفافیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہا،نظر آ رہا ہے کہ جج صاحب کیا کرنا چاہ رہے ہیں،تمام تحفظات کو سپریم کورٹ کے پاس لیکر جا رہے ہیں،عمران خان کا پیغام ہے کہ یہ آفیشل سیکرٹ تھا ہی نہیں،یہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی، شہباز شریف کے پاس 169 دن سائفر رہا انھیں اس کیس میں گواہ نہیں رکھا گیا،ایف آئی اے نے شہباز کو عدالتی نوٹس دیتی اور طلب کرتی ہے، چیئرمین کی ضمانت خارج اور اخراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونا حیران کن نہیں ہے،

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،سائفر کیس کے 5 سرکاری گواہان کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ،گواہان میں نادر خان ،عمران ساجد شامل ہیں ،سائفر کیس میں بطور گواہ محمد نعمان ، شمعون قیصر اور فرخ عباس بھی پیش ہو گئے

    گزشتہ سماعت پر جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد عدالت نے گواہان کو طلب کیا تھا،

    دوسری جانب آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    عمران خان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے، چارج شیٹ
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سائفرکیس میں لگی چارج شیٹ منظرعام پر آگئی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چارج شیٹ آج چیئرمین پی ٹی آئی کو پڑھ کر سنائی تھی، چارج شیٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم غیرقانونی سائفر اپنے پاس رکھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹ دستاویز کو غلط طریقے سے استعمال کیا، سائفر پاکستان اور امریکہ کے درمیان انتہائی خفیہ دستاویز تھی، سیکرٹ دستاویز کو ممنوع مقام جلسے میں غلط طریقہ کار سے استعمال کیا،سائفر کی خفیہ معلومات کو غیر ضروری افراد تک پہنچایا، ریاست کے مفاد کے خلاف معلومات آگے استعمال کرنے کے مجاز نہیں تھے،وزارت خارجہ نے اعتماد کرتے ہوئے سائفر آپ کو فراہم کیا،آپ نے سائفر اپنے پاس رکھتے ہوئے سیاسی مقاصد لیے استعمال کیا،آپ نے اس عمل سے سائفر، ملک کے سیکیورٹی سسٹم پر کمپرومائز کیا،آپ کے اس عمل سے ریاستِ پاکستان کی سیفٹی متاثر ہوئی،28 مارچ 2022 بنی گالا اجلاس میں ملزم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ آپ نے سائفرکو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی،آپ نے بدنیتی کی بنیاد پر سائفر اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، وزارتِ خارجہ کی طرف سے سائفر آپ کو بھیجا گیا، آپ نے پاس رکھا اور واپس نہیں بھیجا، غیرمجاز ہونے کے باوجود سائفر غیرقانونی طور پر سائفر اپنے پاس رکھا، سائفرسیکیورٹی، ملک کےسیکرٹ سیکیورٹی سسٹم کو آپ نے کمپرومائز کیا،بیرون ملک پاکستان کے سیکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا،آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں،

    شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کا متن ” آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جرم میں معاونت کی ، جس طرح چیئرمین پی ٹی آئی نے جرم کیا اسی طرح آپ بھی شریک جرم ٹھہرے ، آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں ”

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت

  • سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟   اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں فرد جرم کی کاروائی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دئیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے دس دن لگے ضمانت میں دلائل دینے میں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی اسی وجہ سے دس دن لگے ، میں نے آپ کو کہا تھا اس قسم کا معاملہ پہلی دفعہ سامنے آیا ہے ، دونوں طرف سے اچھے طریقے سے دلائل دئیے گئے تھے اس لئے مجھے بھی وقت لگ رہا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کاپیز تقسیم ہونے کے بعد چھ دن بعد مجھے پر فرد جرم عائد کر دی گئی ،سائفر نا چالان نا فائل کا حصہ ہے جس کا الزام ہے ، الزام تھا سائفر کے الفاظ تبدیل کئے گئے اب نہ تو تبدیل شدہ نہ ہی اصل سائفر ہمیں فراہم کیا گیا ،

    سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم کےخلاف درخواست پر سماعت میں وکیل سلمان صفدر نےریلیف کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلیف آپ کو کل بھی مل جاتا لیکن دوسرے جج صاحب مانے نہیں ،

    سائفر کیس کا ٹرائل کل رکے گا یا جاری رہے گا ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹے کی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی، عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مدعی مقدمہ یوسف نسیم کھوکھر اور ریاست کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق مقدمہ کی نقول تقسیم کرنے کے سات دن بعد چارج فریم کیا جا سکتا ہے، ٹرائل کورٹ نے سات دن کے قانونی تقاضے کو بھی مدنظر نہیں رکھا،ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں فردجرم عائد کی اور ٹرائل بھی جلدبازی میں مکمل کرنا چاہتی ہے، اعلی عدلیہ کی جانب سے ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر سماعت یا جلد مکمل کرنے کی کوئی ہدایت نہیں، جلدبازی میں ٹرائل آگے بڑھانے سے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوں گے، مرکزی ثبوت سائفر ٹیلی گراف کی عدم موجودگی میں ٹرائل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا 23 اکتوبر کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل سلمان صفدر اور خالد یوسف کے ذریعے درخواست دائر کی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،وکیل

    عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی وکلاء اور فیملی سے ملاقات کی درخواست نمٹا دی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سپریٹنڈنٹ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کا نیا شیڈول بنایا ہے،سپریٹنڈنٹ جیل نے نئے شیڈول میں تھوڑا ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی مرضی سے ملاقات کیلئے کچھ لوگوں کے نام شامل اور نکالے گئے ہیں، ہمیں دس وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے،ہم نے ہفتے میں چھ دن ملاقات کا کہا تھا لیکن دو دن وکلاء اور ایک فیملی کو دیا گیا ہے،ہماری استدعا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ سے ملاقات بھی دو دن کر دی جائے، چیئرمین پی ٹی آئی نے مجھ سے ملاقات میں ایک شکوہ کیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ سے ملاقات میں کوئی پرائیویسی نہیں دی جاتی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ طریقے پرانے دور کے ہیں، بےنظیر بھٹو اور دیگر کے ساتھ ایسا کیا جاتا تھا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملاقات کا پھر غلط استعمال نہ کیا جانا چاہئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ شوہر اور بیوی کا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ میں وکلاء کی ملاقات سے متعلق کہہ رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ پھر کہہ رہے ہیں کہ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروا لیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل میں ملاقات کو باہر آ کر سیاسی طور پر استعمال نہ کیا جائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات بامقصد اور بامعنی ہونی چاہیئے جس میں لیگل ایڈوائس دی جائے،

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی،پرویز الہیٰ

    نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی،پرویز الہیٰ

    صدر تحریک انصاف، سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے عدالت پیشی کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اورشہباز شریف کے لیے ہی سارے ریلیف ہیں ،پانچ ماہ سے ہم ضمانت پر ہیں پھر بھی ہمیں تنگ کیا جا رہا ہے،اسپیشل انصاف کیا صرف شریفوں کے لیے ہے ؟انصاف تو وہ ہے جس کو عوام تسلیم کریں ،ہم نے ہمیشہ اداروں اور عدالتوں کا احترام کیا ہے،شریفوں نے ہمیشہ ججز کے خلاف باتیں کیں، یہ کہاں کا انصاف ہے ،نواز شریف لاڈلے کے لیے ریلیف اور باقیوں کے لیے سختی ہے ،نواز شریف ججز کے خلاف بولتے ہیں کیا جج وہ باتیں بھول گئے ہیں

    پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس،چودھری پرویزالٰہی کو ضلع کچہری میں پیش کردیاگیا، پرویز الہی بھرتیاں کیس کی سماعت ہوئی،پرویز الہی کے وکلانے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، عدالت میں موقف اپنایا کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ،ہائیکورٹ کے حکم کا انتظار کیا جائے ، پرویز الہی کے مرکزی وکیل بھی ہائی کورٹ میں ہیں ،اینٹی کرہشن حکام کی جانب سے کیس کی سماعت شروع کرنے کی استدعا کی گئی، تفتیشی نے استدعا کی کہ عدالت ہمارے دلائل سن لے بعد میں پرویز الہی کے وکلا کو بھی سنا جا سکتا ہے ،مجسٹریٹ نے سماعت ملتوی کر دی

    ‏لاہور ضلع کچہری: شوگر ملز کو کوٹہ دینے کا معاملہ ،چوہدری پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت ہوئی،اینٹی کرپشن کی جانب سے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، وکیل عامر سعید راں نے کہا کہ پورے معاملے سے پرویز الہی کا کوئی تعلق نہیں ،ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے شوگر مل کا کوٹہ بڑھانے پر فیصلہ کیا ،مونس الہی مل کے پارٹنر ہیں اس میں پرویز الہی کا کیا قصور ہے ،بیٹا مل کا شٸیر ہولڈر ہو تو پرویز الہی پر ذمہ داری کس طرح بنتی ہے اینٹی کرپشن نے یہ بتایا ہی نہیں کہ اس پورے معاملے میں پرویز الہی نے کیا کردار ادا کیا ،اینٹی کرپشن یہ بتائے جسمانی ریمانڈ کس جرم کی تفتیش کے لیے مانگ رہی ہے ، یہ جسمانی ریمانڈ کا نہیں بلکہ ڈسچارج کا کیس بنتا ہے ،پرویز الہی کے وکلا اور اینٹی کرپشن کے وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی،عدالت نے شوگر ملز کوٹہ کیس میں جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر لاہور منتقل کیا گیا، ان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ درج ہے، انہیں ایڈیشنل سیشن کے فیصلے کے مطابق لاہور لایا گیا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب  کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سائفر کیس، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان قانونی امور نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے، وکیل نعیم نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آرڈرز پرعملدرآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاءکوچیئرمین پی ٹی آئی سےنہیں ملنےدیاجاتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو معاملات ہیں، جیل مینوئل کے مطابق جیل میں معاملات چلتےہیں، وکیل نعیم نے کہا کہ آپ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جو کہیں گے، ویسا ہی وہ کریں گے، جج نے کہا کہ اگر زیادہ وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے میٹنگز ہوں گی تومعاملات دیکھنےپڑتےہیں، وکیل نے کہا کہ سائفرکیس سیکرٹ طریقہ کار سے چلایاجارہاہے، صحافیوں کو بھی کوریج کی اجازت نہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائفرکیس ہے ہی سیکرٹ ایکٹ کے تحت، ہم نے تو نہیں بنایا، قانون 1923 کا ہے، وکیل نے کہا کہ صحافیوں کو نہیں لیکن کم سے کم وکلاء کو تو جیل میں سماعت سننے کی اجازت دی جائے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے صحافیوں سے سائفرکیس کور کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں، صحافی قابل احترام ہیں،

    وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کی دیوار تڑوا دی، کمرہ بھی تڑوا دوں کیا؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کرنے پر بہانے بنائے جارہے، سپرٹنڈنٹ جیل جان کو خطرے کا بیان دیتاہے، جج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت تو ہیں، اُن کی زندگی کو تحفظ دینا ضروری ہے، وکیل نے کہا کہ انہی اداروں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی نہیں دی، ہائیکورٹ میں معاملہ پینڈنگ ہے، نوازشریف کو تو انہوں نے پوری سیکیورٹی دی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنی سیکیورٹی خود لاتےتھے، عطاتارڑ آجاتا ہے، بوتلیں بھی پھینکی گئیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی دینا انتظامیہ کا کام ہے، انتظامیہ نہیں دے رہی سیکیورٹی، جج نے کہا کہ قانون کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے،میری اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گھنٹہ بات ہوئی، انہوں نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کررہاہوں،آپ جا کر پوچھیں چیئرمین پی ٹی آئی سے کہ انہوں نے کیا جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے مجھے نہیں کہا؟ چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو بھی سپرٹنڈنٹ جیل نے دیکھناہے، ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ دے کر کیس بہت آسانی سے چل رہاہے، میں نے بیس سال وکالت کی، وکالت کرنا آسان ہے، جج کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن ملی؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہمارے معاملات پینڈنگ رہتےہیں، جج نے کہا کہ مجھے کوئی ایک ایسی ملاقات سے متعلق درخواست بتا دیں جو میں نے مسترد کی؟ وکیل نے کہا کہ آپ نے درخواستِ ضمانت مسترد کی، فردجرم روکنے کی درخواست مسترد کی، جج نے کہا کہ قانونی درخواستوں کی بات نہ کریں، میں ملاقات سے متعلق درخواستوں کا کہہ رہاہوں، میں نے سپرٹنڈنٹ جیل کو شٹ اپ کال دی تھی، سائکل اسی وقت چیئرمین پی ٹی آئی کو مہیا کروائی، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہےہیں، جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات سے متعلق سپرٹنڈنٹ جیل کو ہدایت جاری کردیں

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • جو سہولت نواز شریف کو دی جا رہی عمران خان کو بھی دیں، وکیل کی استدعا

    جو سہولت نواز شریف کو دی جا رہی عمران خان کو بھی دیں، وکیل کی استدعا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں سیکیورٹی اور تحفظ کی بشری بی بی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،بشری بی بی کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں سیکورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپرٹنڈنٹ جیل کو بلا لیتے ہیں وہ آکر بتا دینگے کیا سہولیات اور اقدامات کیے جا رہے ہیں .اس درخواست پر آرڈر کرکے اگلے ہفتے کیس کو دوبارہ لگا دینگے ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرے خیال میں پہلے محفوظ کیے گئے فیصلے سنا دیں ان کیسز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ،جو سہولت نواز شریف کو پیش کی جا رہی ہے باقیوں کو بھی فراہم کی جائے ،نواز شریف کی طرح چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی سزا معطل ہو چکی ہے ،

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل مینوئل کے تحت سہولیات دے رہے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک درخواست شیر افضل مروت صاحب کی تھی اس پر ڈویژن بنچ نے آرڈر کیا ہے ،اٹک تو کھلا علاقہ یے وہاں کیا سہولیات تھیں یہاں کیا ہیں ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تو سزا بھی معطل ہے پھر بھی ایسا سلوک کیا جارہا ہے ،آپکی اپنی ججمنٹ ہے خادم حسین کیس میں جس میں آپ نے ڈائریکشن دی ہیں اسی پر عمل درآمد کروادیں،عدالت نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کو اسی لیے بلا رہا ہوں تاکہ تسلی ہو جائے کہ عمل درآمد ہو رہا ہے کہ نہیں

    بشریٰ بی بی نے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ خدشہ ہے کہ عمران خان کو جیل میں کھانے کے ذریعے زہر دیا جا سکتا ہے گھر کے کھانے کی اجازت نہیں دی گئی جیسا کہ ماضی میں قیدیوں کو سہولت دی گئی ذمہ دار میڈیکل افسر کے ذریعے خالص خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ملاوٹ زدہ خوراک شوہر کی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے

    بشری بی بی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ میرے شوہر کو جیل مینوئل کے مطابق وہ سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں جس کے وہ حقدار ہیں جیل میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق عدالتی حکم پر عمل درآمد کرایا جائے میرے شوہر کے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک آئین کے آرٹیکل 9 اور14 کی خلاف ورزی ہے عمران خان کو جیل میں واک اور ایکرسائز کی سہولت فراہم کی جائے ".

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں جیل میں جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل شفٹ کر دیا گیا ہے، سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے چار اکتوبر کو طلب کر لیا ہے، ایف آئی اے نے سائفر کیس میں چالان جمع کروا دیا ہے،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • عمران خان کو  سماعت کے موقع پر پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں،وکیل

    عمران خان کو سماعت کے موقع پر پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں،وکیل

    جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ایک پنجرے میں کھڑا کر دیتے ہیں جہاں ان سے بات تک نہیں ہو سکتی، اس میں جالیاں لگی ہوئی ہیں جس میں دستخط کرانے کیلئے کوئی دستاویز تک نہیں دی جا سکتی،سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو پنجرے میں کھڑا کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے،اڈیالہ جیل میں ان کے پاس ایک ہال بھی ہے جہاں ٹرائل ہے لیے کورٹ لگ سکتی ہے،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ چیف جسٹس کی عدالت میں بھی ان نکات پر تفصیلی دلائل دے چکے ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ ڈویژن بنچ کے سامنے ہیں سنگل بنچ میں جو ہوا اسکو بھول جائیں، آپ اس عدالت کو اپنے دلائل سے مطمئن کریں، چیئرمین پی ٹی آئی کو وکلاء سے ملاقات کیلئے ہفتے میں آدھ گھنٹے کی اجازت دی جاتی ہے،یہ تو پھر فیئر ٹرائل کا تاثر نہیں آ رہا، فیئر ٹرائل کیسے مل رہا ہے، خدا کیلئے، یہ منشیات کا کوئی عام کیس نہیں ہے،یہاں تو فرسٹ امپریشن میں کیسز کے فیصلے ہو رہے ہیں،آپ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت پچھلا ٹرائل اسلام آباد میں کب کیا تھا، پچھلی دو تین دہائیوں میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا کوئی ٹرائل بتا دیں، ایک شخص کے خلاف 189 مقدمات درج ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی، چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل ہو چکی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ پھر یہ بدسلوکی کیوں کی جا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو انکے وکلاء سے ملاقات کی اجازت اُنکی ضرورت کے مطابق دی جانی چاہئے،

    عمران خان سے وکلا کو ملنے دیا جائے، عدالت

    خاور مانیکا ہی عدالت کو بتائیں گے کہ طلاق کب دی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

  • نیب کیسز میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست، سماعت ملتوی

    نیب کیسز میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست، سماعت ملتوی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی نیب کیسز میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا چیئرمین پی ٹی آئی کی اِن کیسز میں گرفتاری ڈالی گئی ہے؟ نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہی نہیں ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے احتساب عدالت کے فیصلے کے 53 دن بعد درخواست دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کیس کل سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں اس نکتے کو دیکھ لیں، عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارے لئے پابندی ہے نواز شریف کیلئے 9 سال بعد بھی پابندی نہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس کیس کو بدھ کے روز سماعت کیلئے رکھ لیں، عدالت نے کیس کی سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کر دی

    ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی ،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر اُنکی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں

    عمران خان سے وکلا کو ملنے دیا جائے، عدالت
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں سہولیات فراہمی سے متعلق انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،عدالتی حکم پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہو گئے،پٹیشنر کے وکیل شیر افضل مروت اور وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ ایک کنفیوژن کی وجہ سے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہو سکے تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ پٹیشنر کے خلاف کتنے مقدمات ہیں؟ شیر افضل مروت ایڈوکیٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 189 ایف آئی آرز درج ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل چل رہا ہے،اس کے علاوہ سات اور کیسز میں بھی ٹرائل چل رہا ہے،میں گزشتہ سماعت پر جیل گیا تو کوئی وجہ بتائے بغیر سپرنٹنڈنٹ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائی،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی پر اتنے مقدمات ہیں تو ان کی وکلاء سے ملاقات بھی کرائی جانی چاہئے، انہوں نے اپنے وکلاء سے مشاورت اور دستاویزات پر دستخط کرنے ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز کے مطابق ہفتے میں ایک دن ملاقات کی اجازت ہے جس کا دورانیہ آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے لیے دو دن رکھے گئے ہیں،ایک دن فیملی کے افراد اور ایک دن وکلاء سے ملاقات کے لیے مختص ہے، وکیل نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ چھٹی والے دن بھی ملاقات کی اجازت دے سکتا ہے،

    جس دفتر سے نکل کر آیا تھا، اللہ نے اسی میں واپس بلوایا ہے، اسحاق ڈار

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

  • کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    اسلام آبادہائیکورٹ میں سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ، شاہ محمود قریشی کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک سے زیادہ ملزم ہوں تو کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ایک نیا نوٹیفکیشن بھی ہو گیا ہے 13اکتوبر کو جیل ٹرائل کا،وہ پراسیکیوٹر نے دائر کرنا تھا مگر وہ ابھی ٹرائل کیلئے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے علی بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے 13اکتوبر والا نوٹیفکیشن دیکھا ہے؟

    علی بخاری نے عدالت میں کہاکہ شاہ محمود قریشی کیخلاف3سے 13تاریخ تک کی تمام عدالتی کارروائی غیرقانونی ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ فرض کریں نیا نوٹیفکیشن نہیں ہواجس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر لکھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اس صورت میں دوملزمان کے دوالگ ٹرائل ہوں گے؟

    قبل ازیں عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو