Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی

    عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

  • عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    عمران خان کی سائیکل اڈیالہ جیل پہنچا دی گئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی ورزش کیلئے سائیکل اڈیالہ جیل کے باہر منگوا لی گئی

    سائیکل جب اڈیالہ جیل کے اندر لے جانے کی کوشش کی گئی تو جیل سپرنٹنڈنٹ نے سائیکل اندر لے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ عدالتی آرڈر ابھی تک نہیں ملا، عدالتی آرڈر ملے گا تو اسکے بعد سائیکل اندر جائے گا، جس پرعمران خان کے وکلاء نے کہا کہ عدالتی آرڈر کچھ دیر میں پہنچ جائے گا

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائیکل مہیا کرنے سے متعلق درخواست منظور کی جس پر پی ٹی آئی وکلاء سائیکل لے کر اڈیالہ جیل پہنچے تھے،دوران سماعت جج اور عمران خان کی بہن علیمہ خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا تھا,علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایک صارف نے ٹویٹ کرتےہوئے کہاکہ چیک کیجئے اڈیالہ جیل کو سسرال بنانے والے جنہیں دیسی گھی میں مرغے بھون کر کھلائے جاتے فرمائش پر دیواریں توڑی جاتیں اور ورزش کا جدید ترین سامان مہیا کیا جاتا انہیں بھی دو دن کی ضمانت پر دندل پڑے ہوئے غشی کی حالت ہے

  • عمران خان کہتے  کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    عمران خان کہتے کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟عدالت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد،چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیرازاحمدرانجھا جج ابو الحسنات ذولقرنین کی عدالت میں پیش ہوئے، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرینڈنٹ کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئیں،جیل میں ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز آجائیں تودیکھ لیتے ہیں، وکیل صفائی شیرازاحمدرانجھا نے کہا کہ آج بھی ایس او پیز نہیں آئیں آپ کہیں تو میں عدالت کی معاونت کر دیتا ہوں،چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لئے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں، وکیل شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر عدالت اجازت دے تو سائیکل آج ہی مہیا کر دیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو، ایسا نہ ہوکہ سائکل جیل سپرینڈنٹ چلاتا رہے، جیل مینوئل بھی دیکھنا ہوتا ہ، ہمارے لئے انڈر ٹرائل ملزم کی سیکیورٹی اہم ہے، وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ اگر خدشات ہیں تو ایک بندہ مقرر کر دیں جس کی نگرانی میں سائیکل استعمال ہو، جج ابوالحسنات ذولقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمہ داری کون لےگا؟ اگر کھانا جیل میں تیار ہو تو جیل حکام ذمہ دار ہوتے ہیں،میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کر دیتا ہوں، معاملے کو حل کر دیتے ہیں،

    وکیل صفائی شیراز احمد رانجھا نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عدالت آج آنا ہے، جج ابو الحسنات نے استفسار کیا کہ کیوں آپ چاہتے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی موجودگی میں ریلیف دوں؟ چلیں علیمہ خان کو پہنچ جانے دیں، میرے لئے قابل احترام ہیں، جب تک علیمہ خان آتی ہیں، تب تک میں چائے پی لیتاہوں،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کے آنے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    جج نے کہا کہ ایس او پیز آگئےہیں جن کے مطابق ملزم کو بات کرنے کی اجازت نہیں، میں پھر بھی جیل مینوئل کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو کے معاملے کو دیکھ لیتاہوں،وکیل شیراز نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزم کو اپنی فیملی سے ٹیلیفونک گفتگو کروانے پر پابندی نہیں، پریزنرز رولز کے مطابق 12 گھنٹے اہلیہ، بچوں سے جیل میں ملاقات کروانے کی اجازت ہے،دیگر ملزمان کو ٹیلیفونک گفتگو کروانے کی بلکل اجازت ہے،جج نے کہا کہ مجھے جیل مینوئل میں بیرونِ ملک بات کرنے کی اجازت تحریر ہوئی دکھا دیں، وکیل نے کہا کہ جیل مینوئل میں اجازت نہیں لیکن فیڈرل شریعت کورٹ نے اس حوالے سے فیصلہ جاری کیاہے،

    وکیل شیرازاحمدرانجھا کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کو عدالت میں جمع کروا دیا اور کہا کہ ہفتے کو تمام قیدیوں کی ٹیلیفونک گفتگو کروائی جاتی ہے،جج نے کہا کہ مجھے بیرون ملک بات کروانے کی اجازت کے حوالے سے بتائیں، وکیل نے کہا کہ اٹک سپرٹنڈنٹ جیل نے غلط بیانی کی، شو کاز نوٹس دینا چاہیے،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے درمیان سائیکل پر دلچسپ گفتگو ہوئی،علیمہ خان عدالت پیش ہوئیں اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، اڈیالہ جیل میں جِم کی سہولت موجود ہے عمران خان کے گھر میں سائیکل ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں میرے بھائی نے سائیکل کے علاؤہ اور کچھ نہیں مانگا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے فیملی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو فیور دےدی ہے، ٹینشن نہ لیں، علیمہ خان نے کہا کہ ہمارا بھائی اور کچھ نہیں مانگتا، بس ایک سائیکل مانگی ہے کیا ایسا ہوسکتاہے کہ ایک مخصوص شخص گھر سے سائیکل خود جیل میں مہیا کردے؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت ہیں، اہم زندگی ہے، سائیکل پہنچاتے ہوئے دوران راستہ کچھ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ علیمہ خان نے جج ابوالحسنات سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف سی بات ہے! جیل کا کنٹرول آپ کے پاس ہے، سائیکل پر آپ جب حکم جاری کریں گے توجیل پہنچا دی جائے گی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میں نے جیل میں جا کر دیوار تڑوا دی، کون جج ایسا کرتاہے؟ جیل سے دیوار توڑ دی، اب چیئرمین پی ٹی آئی کی چہل قدمی آرام سے جاری ہے، علیمہ خان نے عدالت میں بار بار اسرار کیا کہ جتنی جلدی ہو جائے سائیکل دےدیں،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل کیا موٹر سائیکل بھی دےدیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے علیمہ خان سے سوال کیا کہ کچھ بتائیں کہ پٹشنر نے مانگا ہو اور میں نے نہ دیا ہو، علیمہ خان نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف مل جائے تو بہت شکر ادا کریں گے،چیئرمین پی ٹی آئی نے زندگی میں صرف اپنی صحت مانگی ہے،جج صاحب!! آپ سے ہی امید ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سائیکل بھی پہنچادیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سوئمنگ پول کے علاوہ باقی سب کچھ مہیا کردیں گے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائیکل کا خیال رکھیےگا کہیں پنکچر نہ ہو،علیمہ خان یہ کہتے ہوئے کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئیں کہ جج صاحب آرڈر کریں، سائیکل ہم ابھی بھیج رہے ہیں،

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عمران خان کی بیٹوں سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی گئی تھی، عمران خان اسوقت اٹک جیل میں تھے، اب عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، سائفرکیس میں ایف آئی اے نے چالان جمع کروا دیا ہے جس میں عمران خان کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا دینے کی استدعاکی گئی ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    ہیلی کاپٹر،جہاز یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں،عمران خان کی پیشی لازمی ہے ،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف تھانہ کھنہ میں دو اور ایک تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمات ،انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی استدعا کردی،وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواستیں بحال کی ہیں اس کیس میں ملزم کی پروڈکشن لازمی ہیں، ہیلی کاپٹر پر لائیں ، جہاز میں یا پھر بکتر بند گاڑی میں لائیں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی لازمی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے ، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے 24 اکتوبر تک تینوں مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا,عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،

    پراسکیوٹر ،راجہ نوید نے کہاکہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پیش نہیں ہوتے تھے،عدالت سیکورٹی سے متعلق رپورٹ طلب کرلے اس کے بعد فیصلہ کرے،پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کی یہاں موجودگی کی وجہ سے دو مقدمات درج ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن آج کہہ رہی چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی خدشات ہیں، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیسز کا ریکارڈ کہاں ہے؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ آج ریکارڈ نہیں ہے، ریکارڈ پیش کردیں گے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج سیکورٹی خدشات والی ہماری بات پراسکیوشن خود دہرا رہی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو کہتے تھے پیش ہوں ورنہ ضمانت خارج کردی جائے گی،چیئرمین پی ٹی آئی ہر پیشی پر عدالت پیش ہوتے تھے،کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جج ملزم کے سامنے پیش ہونے جارہاہو،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اگر چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی کا مسئلہ ہے تو کل جہاں ہم نے جانا ہے وہیں درخواستِ ضمانت سن لیں، درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری ضرور ہے مگر حقیقت ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کی عدالت میں موجودگی ضروری ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کل جیل میں درخواست ضمانت سنی جائے،جج ابوالحسن ذوالقرنین نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو ہر ریلیف ملے گا جو آپ کا حق ہوگا، سلمان بھائی آپ بہت بڑے چیمبر سے ہیں، بغیر کسی تفریق کے کیس چلے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • 16جون کے بعدبشریٰ بی بی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،حکومت

    16جون کے بعدبشریٰ بی بی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،حکومت

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر مقدمات، انکوائریوں کی تفصیلات کے حصول کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست موثر قرار دے کر نمٹا دی،عدالت میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے جوابات داخل کرا دیئے،وفاقی و صوبائی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ 16جون کے بعد درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا،درخواست گزار بشری بی بی کے وکیل نے درخواست پر زور نہ دیا اورواپس لے لی،جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی

    درخواست میں حکومت پاکستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی درخواست گزار کے خاوند اور جیل میں قید ہیں،درخواست گزار کیخلاف ملک بھر میں کیسز درج ہیں،درخواست گزار کیخلاف مختلف حکام کی جانب سے نظربندی کے احکامات جاری کیے گئے، نیب، ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور پولیس میں ایف آئی آرز، انکوائرئیز زیر التوا ہیں، عدالت تمام معلوم اور نامعلوم کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے،عدالت تمام کیسز میں درخواست گزار کی حفاظتی ضمانت منظور کرے ،عدالت درخواست گزار کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کا حکم دے

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    نیب گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی کو آگاہ کرنے کی پابند نہیں،عدالت
    دوسری جانب احتساب عدالت اسلام آباد،بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے متعلق درخواست کو قبل از وقت قرار دے دیا گیا،احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت کو بھی نمٹا دیا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا ، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ نیب کو بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکےمطابق نیب گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کی پابند نہیں، احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنے کی درخواست کو نمٹا دیا

  • ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہم نے جیل ہسپتال کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کو اڈیالہ جیل میں سہولیات فراہمی اور فیملی ، وکلا ذاتی معالج سے ملاقات کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، وکیل شیر افضل مروت نے دلائل میں کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں کوئی ہدایت نہیں کہ وہ جس سہولت کے اہل ہیں وہ دی جائیں ، سنگل بنچ نے فیصلے میں بی کلاس دینے کا حکم نہیں دیا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاستفسار کیا کہ ابھی کتنے مقدمات عمران خان کے خلاف چل رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ابھی وہ سائفر کیس میں جیل میں ہیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی عبوری حکم میں آپ کیا مانگ رہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ہم ورزش کے لئے جیل میں مشین مانگ رہے ہیں ، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟ اٹک جیل میں تو آپ کو سہولیات حاصل تھیں ؟ وکیل نے کہا کہ اٹک جیل میں بھی ہمیں سہولیات حاصل نہیں تھیں نا اڈیالہ جیل میں ہیں ، ذاتی معالج ، فیملی ، وکلا کی ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوسری طرف کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیتے ہیں ، ہم ان سے عمل در آمد رپورٹ بھی طلب کر لیتے ہیں ، جیل رولز کیا کہتے ہیں ؟ آپ اس حوالے سے بھی عدالت کی معاونت کریں ، وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے جیل رولز عدالت کے سامنے پڑھے گئے،وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ کا فیصلہ آئے ایک ماہ گزر گیا لیکن جیل حکام نے اجازت نہیں دی ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جیل کا وزٹ کیا وہ تو خود بیماریوں سے بھرا ہوا ہے ، آپ کی درخواست کے حوالے سے تحریری آرڈر پاس کریں گے ،

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے …

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

  • عمران خان  کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق سماعت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب جمع کرا دیا

    عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے متعلق سماعت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب جمع کرا دیا

    اسلام آباد: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے فون پر بات کرانے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کی درخواست پر سماعت کی جس میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جواب جمع کرایا،سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے فون پر بات کروانے سے انکار کردیا جس میں ایس پی جیل نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار ملزمان کی بیرونِ ملک ٹیلیفونک بات کروانے کی اجازت نہیں۔

    بھارتی ٹیم کا اہم کھلاڑی اسپتال داخل،پاکستان کیخلاف میچ میں شرکت مشکوک

    عدالت کے جج ابوالحسنات نے ایس پی اڈیالہ جیل سے قیدیوں سے فون پر بات کروانے سے متعلق جیل ایس او پیز طلب کر تے ہوئے 18 اکتوبر تک سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ایس او پیز جمع کروانے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

    جو دن گزر گۓ ہیں ترے التفات میں ،میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا …

  • چیئرمین پی ٹی آئی کو سلو پوائزن دیا جارہا ہے،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی کو سلو پوائزن دیا جارہا ہے،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے ہمیں ان کی صحت کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سلو پوائزن دیا جارہا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے سب سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، ہم نے چیف جسٹس سے کہا کہ ہمیں چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کی ضمانت آپ کے سامنے دی جائے ، سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے پر شرم آنی چاہیئے،یہ 25 کروڑ عوام کی ناموس کا مسئلہ ہے، ڈونلڈ لو کی ایک دھمکی پر ملک کے وزیراعظم کو چلتا کیا گیا ،یہ کس چیز پر فرد جرم لگائیں گے؟چیئرمین پی ٹی آئی نے جرم کیا کیا ہے؟؟ کیا یہ آفیشنل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے ؟یہ ایکٹ تاج برطانیہ نے غلام رکھنے کے لیے بنائے کیا ہم نے برطانیہ کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی گود میں چلے جانا ہے ؟

    واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی ہے،30 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس سے متعلق چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرایا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیا گیا ہے ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان اور شاہ محمود کو ٹرائل کر کے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل میں شفٹ کر دیا گیا ہے، عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں عمران خان کو اڈیالہ جیل میں بی کلاس سے سی کلاس سیکیورٹی وارڈ منتقل کردیا گیا,چئیرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی بیرک میں رکھا گیا ہے، سی کلاس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو ایک چارپائی، ٹیبل اور کرسی فراہم کی گئی ہے،  سی کلاس میں جیل مینیول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • فیملی، وکلاء، ذاتی معالج سے جیل میں ملاقات کی اجازت کیلئے درخواست

    فیملی، وکلاء، ذاتی معالج سے جیل میں ملاقات کی اجازت کیلئے درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی، وکلاء، ذاتی معالج سے جیل میں ملاقات کی اجازت کیلئے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی گئی،

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل شیر افضل مروت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا 25 ستمبر کا حکم نامہ چیلنج کیا گیا ہے، عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 25 ستمبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو بہتر کلاس کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی، وکلاء اور معالج سے ملاقات کی استدعا پر کوئی حکم جاری نہ کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ اور بہنوں کی ملاقات کیلئے سوموار کا روز مقرر کیا گیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقات کیلئے جمعرات کا روز مقرر کیا گیا ہے،جیل انتظامیہ کی جانب سے صرف ہفتے میں دو روز ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات میں صرف 4 وکلاء کو ملنے کی اجازت دی جاتی ہے، سنگل بینچ کے 25 ستمبر کے حکم نامے میں ترمیم کرکے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے،درخواست میں سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، سپریٹنڈٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل میں شفٹ کر دیا گیا ہے، عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں عمران خان کو اڈیالہ جیل میں بی کلاس سے سی کلاس سیکیورٹی وارڈ منتقل کردیا گیا,چئیرمین پی ٹی آئی کو سیکورٹی بیرک میں رکھا گیا ہے، سی کلاس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو ایک چارپائی، ٹیبل اور کرسی فراہم کی گئی ہے،  سی کلاس میں جیل مینیول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    راولپنڈی: خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ سائفر کیس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل میں ہورہی ہے، خصوصی عدالت کےجج ابو الحسنات ذوالقرنین، ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم، شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور بیٹا زین، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بھی اڈیالہ جیل اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے سماعت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنےتک سماعت نہ کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی میں چلان کی نقول تقسیم کی گئیں۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، اور فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 17 اکتوبر فرد جرم کے ساتھ تمام سرکاری گواہان کی طلبی ہوگی۔

    دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کیا گیا ہے،عمران خان
    راولپنڈی: شیر افضل مروتنے اڈیالہ جیل سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کارروائی میں جج صاحب نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تلخ باتیں کرنے کی کوشش کی،جو انکا حق نہیں تھا ،آج فاضل جج نےاپنے آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لئے بہت دلائل دیئے ،آج ہم نے فرد جرم پر دستخط نہیں کئے ،چیئرمین نے کہا کہ دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کر رکھا ہے،واک کی جگہ بھی نہیں ہے ،آج کارروائی ملتوی ہو گئی ہے،پیر کو سماعت ہو گی ،جج چیئرمین کو لیکر جیل کے اندر لےگئے ہیں،آرڈر لکھوایا ہے کہ انکو واک کی مناسب سہولت دی جائے مآج جو آرڈر ہوا ہے اسے چیلنج کر رہے ہیں ،آج چیئرمین میرا خیال ہے تھوڑا غصہ میں تھے، انکو ورکنگ سپیس اور ایکسرسائز مشین تک نہیں دے رہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج جیل کے اندر خان صاحب سے ملاقات ہوئی،ٹرائل کو جیل میں کیا جا رہا ہے،اسی طرح سے ان کیمرہ سماعت کی جاری ہے ،ہماری طرف سے بڑا واضح کہا گیا کہ جیل کے اندر سماعت کر کے کیسے فیئر ٹرائل کیا جا سکتا ہے ،ایسے بند کمرے میں جیل میں دیے گئے فیصلہ کو نہ ہم مانیں گے نہ قوم مانے گی.ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل اور جیل کے اندر عدالت لگانے کے نوٹیفیکشن کو ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہواہے اس کا فیصلہ آنے دیا جاۓ جو کہ کئی ہفتوں سے محفوظ ہے.اور دوسرا آج ہائی کورٹ میں ضمانت پر سماعت کا معاملہ 2 بجے فکس ہے.لہذا سماعت ملتوی ہو گئی.

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ آج پھر خان صاحب کو جہاں پر عدالت لگی ہوئی تھی وہاں نہیں لایا جا رہا تھا بلکہ کمرہ کے ساتھ پنجرہ نما سیل تھا جس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو لایا گیا اور عدالت نے کہا کہ کمرہ میں لے آئیں،آخری تاریخ پر بھی یہ ہی کیا گیا ،عدالت کو ہم نے بتایا کہ جب ہائی کورٹ نے حکم دیا ہوا ہے کہ جیل مینول کے مطابق ان کو حق دیا جاۓ تو نہ ہائی کورٹ کا حکم مانا جا رہا نہ آپ کا،اور اب کیوں کہ خان صاحب آپ کی کسٹڈی ہیں اور آپ اپنا حکم یقینی بنائیں ،2:30 مہینے ہو گئے ہیں خان صاحب سے ان کے بچوں کی فون پر بات نہیں کروائی جا رہی ،حالانکہ یہ اجازت آپ کی کورٹ نے دی ہوئی ہے لیکن کوئی حکم کی تعمیل نہیں کر رہا،خان صاحب کی سیفٹی اور ان کے حقوق کی آپ نے پروٹیکشن کرنی ہے،

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان ببر شیر ہے وہ ڈٹا ہوا صرف ہماری آزادی کے لیے،عمران خان کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے غلامی سے انکار کیا اور ابسلوٹلی ناٹ کہا،مجھے فخر ہے ان پر جس دلیری سے وہ جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہے ہیں،عمران خان صاحب نے پھر مطالبہ کیا ہے 9 مئی کے حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں،

    واضح رہے کہ 30 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس سے متعلق چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرایا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیا گیا ہے ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان اور شاہ محمود کو ٹرائل کر کے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔