Baaghi TV

Tag: ایران

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے یہ مشن پیر کی صبح شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو آزاد کرانا ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع میں فریق نہیں ہیں دنیا کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہاز اور عملہ نکالنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے جس کے جواب میں انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلائیں، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیاء کی شدید کمی ہو چکی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان کمپنیوں اور ملکوں کو ریلیف دینا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کے بقول یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر اس انسانی ہمدرد ی کے عمل میں کسی نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل سب کے لیے انتہائی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس مشن کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے،سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ ہم بحری محاصرہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لیے امریکی فوج اپنے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں، جدید ڈرونز اور 15 ہزار فوجی اہلکاروں کا استعمال کرے گی تاکہ اس عالمی تجارتی راہداری میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت ایران واپسی کے لیے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کا کہنا ہے کہ آج امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، مزید 6 افراد کو گزشتہ ہفتے ہی ایک علاقائی ملک منتقل کر دیا گیا تھا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ 6 افراد عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ تھے۔

    کیپٹن ہاکنز کے مطابق توسکا جہاز کی تحویل بھی اس کے اصل مالک کو واپس کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق 19 اپریل کو جب توسکا کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی جانب سے دی گئی 6 گھنٹے کی وارننگ کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم پر متعدد گولے داغے،بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔

  • آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    گزشتہ ماہ کویت کی تیل برآمدات 35 سال میں پہلی بار مکمل طور پر رک گئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق کویت نے اپریل 2026 میں خام تیل کی ایک بھی بیرل برآمد نہیں کی، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے شپنگ مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اگرچہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری رہی، تاہم برآمدات مکمل طور پر معطل رہیں،ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو کویت کی تیل ترسیل کا واحد راستہ ہے۔

    حکام کے مطابق 17 اپریل کو کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ’فورس میجر‘ کا اعلان کرتے ہوئے برآمدات روک دیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدور فت مؤثر طور پر بند ہو گئی تھی یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔

    کویت، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور خطے میں ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، روزانہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جس میں سے لگ بھگ 18 لاکھ 50 ہزار بیرل برآمد کیے جاتے تھے ان برآمدات کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، بھارت اور جنوبی کوریا کو جاتا تھا مئی 2026 کے آغاز تک کویت کی تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کویت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 50 فیصد جبکہ حکومتی بجٹ کا 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔

    ایران نے مخالف جہازوں کے لیے راستہ بند رکھا ہوا ہے جبکہ امریکی بحریہ خلیج فارس میں ایرانی بندرگاہوں کے گرد سرگرم ہے اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

  • ایران نے مذاکرات کیلئےامریکا کو  14 نکاتی نئی جوابی تجاویز بھیج دیں

    ایران نے مذاکرات کیلئےامریکا کو 14 نکاتی نئی جوابی تجاویز بھیج دیں

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیج دیں-

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنے 14 نکاتی جوابی تجاویز بھیجی ہیں، جو امریکی 9 نکاتی جنگ بندی تجویز کے جواب میں پیش کی گئی ہیں ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تجاویز "جنگ بندی” کی بجائے "جنگ کے مکمل خاتمے” پر مرکوز ہیں، جس کے لیے امریکا کو ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں 2 ماہ کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل کو 30 دن کے اندر حل کیا جائے اور جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔

    ایران کی جانب سے پیش کی گئی 14 نکاتی تجویز میں متعدد اہم امور شامل ہیں، جن میں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی تجویز بھی ایرانی منصوبے کا حصہ ہے اور ایران اس وقت اپنی تجاویز پر امریکا کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جمعرات کو امریکا کو 14 نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔

    اس تجویز سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق اس میں ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے پر معاہدہ کیا جائے گا۔ ایرانی تجویز کے مطابق اس ابتدائی معاہدے کے بعد مزید ایک ماہ کی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ کو جمعرات کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اس کے بعد کوپر خطے کے دورے پر روانہ ہوئے اور ہفتے کے روز بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹرپولی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔

    جمعے کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ہفتے کے روز پام بیچ سے میامی روانگی سے قبل انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پرواز کے دوران اس کا جائزہ لیں گے ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہے۔

  • ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی، کہ انہوں نے گزشتہ 47 سالوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی کوئی بڑی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے بعد اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے، جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔

  • ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی آئل کمپنی کا جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک ایرانی آئل کمپنی کا تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے ایشیا بحرالکاہل کے علاقے تک پہنچ گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں کروڑوں ڈالر مالیت کا خام تیل موجود ہےا س جہاز کو سری لنکا کے قریب دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ انڈونیشیا کے سمندری را ستے سے آگے بڑھ رہا ہے ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ درجنوں ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کئی ایرانی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے اور اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  • موساد کیلیے جاسوسی، ایران میں 2 افراد کو پھانسی دیدی گئی

    موساد کیلیے جاسوسی، ایران میں 2 افراد کو پھانسی دیدی گئی

    ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی-

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تنسیم نیوز کے مطابق یعقوب کریمپور اور ناصر بقرزادہ پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے۔

    ایران کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز کےمطابق ملزمان پر موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے عوض ڈیجیٹل فنڈنگ بھی ملتی تھی، ملزمان موساد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے رابطے میں تھےدونوں ملزمان نے اہم ترین جوہری تنصیب نطنز کے ساتھ ساتھ حساس مقامات سے متعلق معلومات اور ڈیٹا جمع کرکے موساد کو فراہم کیا تھا جس سے ملک کی قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔

    ملزمان کو گرفتاری کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سزائے موت سنائی گئی جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا جس کی تعمیل میں آج صبح دونوں مجرموں کو پھانسی دیدی گئی۔

  • ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور امریکا کو اب سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا،-

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    تہران میں تعینات سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران مفادات پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کو جاری رکھتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکا کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا تنازع فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا اور8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، جب کہ پاکستان اس تنازع میں مؤثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    امریکی پابندیاں مسترد،چین کا ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان

    چین نے ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا-

    چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز قانونی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت چین کی پانچ آئل ریفائنریز پر عائد امریکی پابندیوں کو منسوخ کر دیا ہےا مریکی اقدامات میں ان چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو ایران سے تیل خریدتی ہیں، تاہم چین نے واضح کیا کہ یہ تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی، واشنگٹن کی پابندیاں قانونی حیثیت نہیں رکھتیں اور چین ان پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

    چینی وزارتِ تجارت نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے یہ اقدامات نہ صرف چینی کمپنیوں کو تیسرے ممالک کے ساتھ معمول کی تجارت سے روکنے کی کوشش ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں چین اقوام متحدہ کی منظوری اور عالمی قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف تمام یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہےچین نے اسی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کو نہ تسلیم کیا جائے گا، نہ ان پر عمل کیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں نافذ کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں میں ایران کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ان ریفائنریز اور متعلقہ کمپنیوں پر دباؤ اور پابندیاں بڑھا دی ہیں چین ایران کے تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، جہاں زیادہ تر خام تیل ’ٹی پاٹ ریفائنریز‘ کہلائی جانے والی نجی ریفائنریوں کے ذریعے درآمد کیا جاتا ہے یہ کمپنیاں رعایتی قیمتوں پر ایرانی تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    امریکا کی مشہور اور سستی ترین فضائی کمپنی ’اسپرٹ ایئرلائنز‘ نے ہفتے کے روز اپنا آپریشن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی،امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض د ہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔

    ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔