Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا تاکہ چند سال بعد دوبارہ ایران سے اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑےفلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران جنگ سے جلدی میں انخلا کیا تو 3 سال بعد یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس بار مکمل اور دیرپا حل ضروری ہے۔

    صدر ٹرمپ کے بقول ایران جنگ کو امریکا درست طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ جنگ کے کسی بھی عارضی معاہدے یا حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کون سے کام کو مکمل کیئے بغیر واپس نہیں جائے گا؟ تاہم اس سے قبل وہ متعدد بار رجیم چینج کا عندیہ دے چکے ہیں۔

    جنگ کے آغاز کے پہلے روز اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ متعدد بار ایران میں نئی قیادت لانے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔

  • ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران میں بم ناکارہ بنانے کے دوران دھماکا، پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

    ایران کے صوبے زنجان میں جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے گرائے گئے نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز اُس وقت پیش آیا جب خصوصی ڈیمولیشن یونٹس ایک حساس مشن پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد علاقے میں موجود نہ پھٹنے والے گولہ بارود کی نشاندہی کرکے ناکارہ بنانا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کلسٹر بموں اور دیگر بارودی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد زنجان کے وسیع علاقے کو خطرات لاحق ہو گئے تھے اس بارودی مواد کے باعث زرعی زمینوں سمیت تقریباً 1200 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا۔

    بیان کے مطابق ان ہی خطرات کے پیش نظر خصوصی یونٹس نے انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ بارودی مواد کی تلاش، صفائی اور ناکارہ بنانے کا آپریشن شروع کیا تھا ٹیمیں اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھیں کہ اسی دوران ایک مقام پر بارودی مواد اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا تمام جاں بحق اہلکار تربیت یافتہ، تجربہ کار اور ماہر افراد تھے جو خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک خصوصی ٹیمیں 15 ہزار سے زائد نہ پھٹنے والے بارودی مواد کو ناکارہ بنا چکی ہیں، تاہم اب بھی کئی علاقوں میں بارودی مواد موجود ہےیہ ہتھیار بین الاقوامی کنونشنز کے تحت ممنوع تصور کیے جاتے ہیں کیوں کہ ان کے چھوٹے چھوٹے حصے برسوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں، کلیئرنس آپریشن کے دوران یہ مواد زمین کے نیچے تقریباً تین میٹر گہرائی میں بھی دفن پایا گیا، جس کی نشاندہی اور ناکارہ بنانے کا عمل انتہائی خطرناک تھا۔

  • ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران ک ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہےماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے، ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی سابقہ سخت شرائط میں نرمی اختیار کرلی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے بدلے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حملے روکنے کی ضمانت دی جائے جبکہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت کی پیشکش کی ہے تہران نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد جوہری امور پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں زیرِ غور لایا جائے، ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے نہ کوئی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس میں فریقین کسی نکتے پر متفق نہیں ہو سکے تھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ فون پر بات چیت جاری ہے، 18 گھنٹے کا سفر کرکے ایسی باتیں کرنے کا فائدہ نہیں جن کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکے۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • ٹرمپ نے  ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے  متعلق سی این این کی رپورٹ  فیک قرار دی

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار  کی علامت ہے،ایرانی صدر

    آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-

    خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

  • آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے-

    ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنےنئے پیغام میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نیا باب شروع ہو رہا ہے، امریکا کی ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے، دو ماہ کی کشیدگی اور امریکی منصوبے کی ناکامی کے بعد خطے میں نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسٹریٹیجک اثاثہ ہرمز صدیوں سے کئی شیطانی طاقتوں کی لالچ کو ابھارتا رہا ہے، خلیج فارس نہ صرف اقوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اور منفرد راستہ بھی فراہم کرتی ہے، ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے۔

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس مسلم اقوام، بالخصوص اسلامی ایران کے عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی ایک بے مثال نعمت ہے، اسلامی انقلاب خطے میں “مغرور طاقتوں” کے اثر و رسوخ کے خاتمے کا اہم موڑ تھا، ایران کی خلیج فارس کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی ہے، ایرانی قوم نے خطے کی آزادی اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • ایران سے منسلک ہیکرز نےہزاروں امریکی فوجیوں کاذاتی ڈیٹا لیک کر دیا

    ایران سے منسلک ہیکرز نےہزاروں امریکی فوجیوں کاذاتی ڈیٹا لیک کر دیا

    ایران سے مبینہ طور پر منسلک ایک ہیکر گروپ نے خلیج فارس میں تعینات ہزاروں امریکی میرینز کی ذاتی معلومات کو لیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے امریکی دفاعی حلقوں میں شدید تحفظات پیدا ہوئے ہیں۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ”ہنڈالا“ نامی ایک سائبر گروپ، جس کے ایران سے روابط بتائے جاتے ہیں، نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تعینات 2 ہزار 379 امریکی میرینز کی ذاتی معلومات جاری کردی ہیں گروپ نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر ایک پیغام میں کہا کہ اس نے اہلکاروں کے نام اور دیگر شناختی تفصیلات شائع کی ہیں، جبکہ اسے اپنی ”نگرانی کی صلاحیت“ کا ثبوت قرار دیا۔

    عراقی میڈیا ادارے شفق نیوز کے مطابق خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے، جن میں کہا گیا کہ وہ نگرانی میں ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے ہیکر گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے پاس مزید حساس معلومات بھی موجود ہیں، جن میں اہلکاروں کے اہل خانہ کی تفصیلات، گھریلو پتے، روزمرہ معمولات اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شامل ہیں اور عندیہ دیا کہ مزید انکشافات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    اس واقعے کے بعد امریکی دفاعی اداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ فوجی اہلکاروں کی شناخت اور مقام ظاہر ہونے سے سیکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک کس حد تک ہوا اور اس کے آپریشنل سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ہیکرز نے یہ معلومات کیسے حاصل کیں اور آیا مزید سسٹمز بھی متاثر ہوئے ہیں یا نہیں۔

    یہی گروپ گزشتہ ماہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ بھی کرچکا ہے، جس میں اس نے مبینہ طور پر ان کی تصاویر اور ریزیومے بھی آن لائن شائع کیے تھے۔