Baaghi TV

Tag: ایران

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی سوشل میڈیا پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی جس میں ایرانی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔

    رضا امیری مقدم کی جانب سے آج صبح ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شائع کی گئی تھی جس میں ایران کے وفد کی پاکستان آمد کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اب یہ پوسٹ ایکس پر دستیاب نہیں ہے ،پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا تاکہ امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے،یرانی وفد آج رات اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا تاکہ ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کے تحت مذاکرات کیے جائیں۔

    انہوں نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ اس باوجود ہو رہا ہے کہ ایرانی عوام میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس سفارتی اقدام کو ناکام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے شک و شبہات پائے جا رہے ہیں ایران اس امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستانی قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اب تک پوسٹ ہٹانے کی وجہ یا اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ  کا اعلان

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کا اعلان

    ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی تاکہ ایران میں جاری جنگ کو روکا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اس خطرناک لمحے میں کانگریس کو اپنی اتھارٹی دوبارہ واضح کرنی ہوگی، انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے کیا تھایہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض دو گھنٹے باقی تھے، اس ڈیڈ لائن میں ایران کو وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو فیصلہ کن فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ امریکا کے اعلیٰ جنرل نے کہا کہ امریکی فوج لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ملک کے تحفظ کے لیے محدود فوجی کارروائی کرنے کے ان کے حقوق میں شامل ہیں۔

    سینیٹ اور ہاؤس میں ڈیموکریٹس نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار کوشش کی کہ جنگی اختیارات کی قرارداد پاس ہو تاکہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی اجازت لینا لازم ہو، مگر وہ ناکام رہے۔

  • تحفظات کے باوجود ایرانی وفد  آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    تحفظات کے باوجود ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تحفظات کے باوجود ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کے لیے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران میں مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، اسرائیلی ا قد ما ت کے کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد ایران کیجانب سے تجویز کردہ 10 نکاتی ایجنڈے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آج رات اسلا م آباد پہنچ رہا ہے۔

    اس سے قبل گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔

  • وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    وائٹ ہاؤس نے ایران سے جنگ بندی کیلئے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے قبل واشنگٹن نے پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالا تھا تاکہ تہران کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایک جانب ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران معاہد ے کے لیے بے تاب ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی انتظامیہ پس پردہ جنگ بندی کے لیے سرگرم تھی امریکا کئی ہفتوں سے پاکستان سے رابطے میں تھا اور اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو قائل کرے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور خطے میں کشیدگی کم ہو۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، اور بطور مسلم اکثریتی ہمسایہ ملک ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیا بی حاصل کی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں جاری بیک چینل سفارتکاری نے اہم پیشرفت ممکن بنائی یہ سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوئیں جب منگل کی رات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا، جسے خطے میں کشیدگی کم کر نے کی بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    منگل کو ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے ساتھ ہی،عاصم منیر نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف سمیت اعلیٰ امریکی حکام کو کال کرنے کا سلسلہ شروع کیا امریکہ اور پاکستان کا خیال تھا کہ اگر ایران ایک مسلم اکثریتی پڑوسی ریاست کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے جس نے تنازعہ کے دوران اپنی غیرجانبداری پر زور دیا تھا تو ایران امریکہ کی حمایت یافتہ پیشکش کو قبول کر سکتا ہے۔

    منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دو ہفتے کی تجویز کو سوشل میڈیا پر عام کیا شہباز شریف، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی پہل قرار دیا، غلطی سے اپنی پوسٹ کے اوپری حصے میں ایک موضوع کی لکیر شامل کر دی: "مسودہ — پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام X پر”-

    رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکیاں دی تھیں، جن میں تہذیب تباہ کرنے جیسے بیانات بھی شامل تھے تاہم پس پردہ وہ جنگ بندی کے خواہاں تھے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایران کی غیر متوقع مزاحمت کے باعث ٹرمپ کم از کم 21 مارچ سے جنگ بندی کے حق میں تھے، جب انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی-

    ٹرمپ کی جانب سے آبنائے کو کھولنے کے لیے اپنا پہلا الٹی میٹم جاری کرنے کے فوراً بعد عاصم منیر اور دیگر سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی سیاسی اور عسکر ی شخصیات اور وائٹ ہاؤس کے درمیان پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔

    انہوں نے اسلام آباد کو امن سربراہی اجلاس کے مقام کے طور پر پیش کیا، امریکہ کی طرف سے تیار کردہ 15 نکاتی تجویز اور پھر ایران کے پانچ اور 10 نکاتی ردعمل کا اشتراک کیا، اور 45 دن سے لے کر دو ہفتوں تک جنگ بندی کے آپشنز اٹھائے، دو علاقائی سفارت کاروں نے بتایا کہ دونوں فریق اپنے مطالبا ت میں بہت دور رہے، لیکن ایران، وقت گزرنے کے ساتھ، یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کمزور کرنے اور اسے قبول کرنے کے لیے زیادہ موزوں ہو گیا-

    کئی ہفتوں کی امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد، عراقچی اور تہران میں دیگر سیاسی رہنما اصولی طور پر ہرمز کے لیے عارضی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن پاکستان کی زیر قیادت بیک چینل سے واقف دو لوگوں کے مطابق، وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے حتمی منظوری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے-

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بظاہر سخت بیانات کے باوجود سفارتی سطح پر جنگ کو روکنے کی سنجیدہ کوششیں جاری تھیں، جن میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔

  • ایرانی وزیر خارجہ  کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے-

    عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں،جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  • اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، ٹریفک  پلان جاری

    اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، ٹریفک پلان جاری

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے پیش نظرٹریفک کا خصوصی ڈائیورژن پلان جاری کر دیا گیا ہے-

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق 9 اور 10 اپریل کو مختلف شاہراہوں پر سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث ٹریفک میں تبدیلیاں کی گئی ہیں سرینا چوک سے نادرا چوک جانے والے حضرات چیک پوسٹ روڈ استعمال کریں جبکہ خیابان سہروردی اور 9th ایونیو پر بھی مخصوص اوقات میں ڈائیورژن ہوگا۔

    اسی طرح جی-6، جی-5 اور ایف-6 کے اطراف آنے جانے والے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ فیصل ایونیو، 9th ایونیو اور مری روڈ پر بھی ٹریفک کی جزوی بندش یا تبدیلی متوقع ہے ریڈ زون میں داخلے کے لیے خصوصی چیکنگ کے باعث تاخیر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شہری بروقت معلومات کے لیے ایف ایم 92.4 اور سوشل میڈیا اپڈیٹس سے رہنمائی حاصل کریں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہیلپ لائن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے انتظامیہ نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات سکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور متبادل راستے استعمال کریں۔

  • مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے

    مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج اسلام آباد پہنچیں گے

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج رات پاکستان پہنچیں گے۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکی نائب صدر کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر بھی ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد پہنچیں گے ،امر یکی وفد میں معاونت کے لیے شامل 23 ارکان پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، وفد کے ارکان میں سکیورٹی ماہرین اور ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں جبکہ ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی آج رات گئے اسلام آباد پہنچیں گے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں، مذاکراتی ٹیم میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، مذاکراتی ٹیم ہفتے کی صبح اسلام آباد میں بات چیت کرے گی۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستانی وزیراعظم کو آگاہ کیا ہےکہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    ایران کا آبنائے ہرمز پر کرپٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ

    تہران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے پٹو کرنسی میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران اب یہاں سے گزرنے والے تیل کے ہر بحری جہاز سے فی بیرل ایک ڈالر ٹول ٹیکس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ ادائیگیاں روایتی کرنسی کے بجائے ڈیجیٹل کرنسی یعنی کرپٹو میں کی جائیں۔

    ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی کا کہنا ہے کہ تہران اب اس گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ انہیں ریگولیٹ بھی کرے گا، ہر جہاز کو گزرنے کی اجازت دینے سے پہلے اس کے سامان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ ایران کو یہ دیکھنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کیا اندر آ رہا ہے اور کیا باہر جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جنگ بندی کے ان دو ہفتوں کو ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اگرچہ جہازوں کو گزرنے دیا جائے گا لیکن اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔

    مجوزہ نظام کے تحت ٹینکرز کو ای میل کے ذریعے اپنے سامان کی تفصیلات شیئر کرنی ہوں گی جس کے بعد حکام ٹیکس کا حساب لگائیں گے اور کمپنیوں کو بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کے لیے بہت تھوڑا وقت دیا جائے گا۔

    اس وقت تقریباً 400 بحری جہاز خلیج میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں اور ماہرین اس منظر نامے کو ایک بڑی پارکنگ لاٹ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

    دوسری جانب جہاز رانی کی بڑی کمپنی میرسک نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن فی الحال معمول کی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اس معاملے پر عمان نے بھی اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی معاہدوں کے تحت اس بین الاقوامی گزرگاہ سے گزر نے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس یا فیس نہیں لگائی جا سکتی۔

  • ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ دینے پر سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔

    امریکی جریدے کے مطابق ایسےنیٹو ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکالا جائے گا جو ایران جنگ میں غیرمعاون رہے امریکی فوجیوں کو ممالک میں تعینات کیا جائے گا جو اس جنگ میں حمایت کر رہے ہیں،ممکنہ طور پر اسپین یاجرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا پلان میں شامل ہوسکتاہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوجی سامان فراہم کرنے والے ممالک کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا،یہ اعلان واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد سامنے آیا۔

    امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک ایران کو ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہوگی-

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس اور چین پر ماضی میں ایران کی فوجی صلاحیت بڑھانے میں مدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں میزائل، فضائی دفاعی نظام اور دہرے استعمال کی ٹیکنالوجی کی فراہمی شامل ہے تاہم روس اور چین نے حالیہ عرصے میں کسی بھی قسم کے اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور اراین کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان 45 منٹ تک ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں حالیہ جنگ بندی اور مستقبل کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائز کے لیے ایرانی قیادت کی ذہانت کی تعر یف کی اور امریکا کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے آمادگی پر ان کا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی اپنا پیغام بھجوایا۔

    اعلامیے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا مسعود پزشکیان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔