Baaghi TV

Tag: ایران

  • پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں –

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں،یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

  • امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی  پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

    فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

    دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

    مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

    بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

    جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

    خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

  • ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔

    نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔

    تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا-

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑے تصادم کو روکنے کی کامیاب کاوشوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر جہاں اپنی کامیابی کے قصیدے پڑھے تو وہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

    جس عباس عراقچی انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والے اس بیان میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو اس کی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں خطے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو واضح کر رہی ہیں۔

    ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1 ہزار 900 اموات کی تصدیق کی ہے لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار 530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے تین امن اہلکار بھی مختلف واقعات میں مارے گئے۔

    عراق میں کم از کم 117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں میں 23 افراد مارے گئے اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات میں 13 افراد جان سے گئے۔ قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 افراد، اور کویت میں بھی 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں دیگر علاقوں میں مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد، جبکہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے فرانس کا ایک فوجی بھی شمالی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔

    انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں پر ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو اوسطاً 891 ملین ڈالر یومیہ بنتے ہیں۔

    ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے کے 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے اثاثے شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں سے خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان پہنچا، جس سے عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ماہرین کے مطابق تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی پر کم از کم 25 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق جنگ کے پہلے 20 دنوں میں ہی سیاحت کی آمدنی میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 600 ملین ڈالر کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔

    تنازع کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ صرف دبئی میں پہلے ہفتے کے دوران 80 ہزار سے زائد ہوٹل بکنگز منسوخ کی گئیں، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو سیاحت میں 27 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس سے 38 ملین سیاح کم آئیں گے اور تقریباً 56 ارب ڈالر تک کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کو سیاحت سے 200 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران

    سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد اپنی تمام فوجی یونٹس کو فائرنگ روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے جاری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم تمام فوجی شاخیں سپریم لیڈر کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے فائر بندی کریں۔

    ایران نے واضح کیا کہ اس سیزفائر کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں اور اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی کی گئی تو فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو جنگ کے خاتمے سے تعبیر نہ کیا جائے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے ہاتھ ٹریگر پر موجود ہیں، دشمن کی معمولی غلطی کا بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں جنگ کے پہلے ہی روز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوگئے تھے گزشتہ 39 دنوں کے دوران اس تنازع میں مختلف ممالک میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں،ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے تقریباً تمام اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں اور ایرانی عوام کی قربانیوں نے دشمن کو تاریخی شکست سے دوچار کیا ہے۔

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی ایک بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی دھمکیاں واپس لینا اور مذاکرات پر آمادگی دراصل ایران کے دس نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر تسلیم کرنا ہے۔

  • ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران ایک اہم اور نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز اِس منصوبے پر بات چیت کی گئی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے اور فیس عائد کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران اس رقم کو تعمیرِ نو کے کاموں میں استعمال کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عمان اپنی حاصل کردہ رقم کس مقصد کے لیے خرچ کرے گا۔

    آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے، لیکن اب تک دنیا اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھتی آئی ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کبھی کوئی فیس ادا نہیں کی گئی ایران اب یہ چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے حصے کے طور پر اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

    ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیس جہاز کی قسم، اس پر لدے سامان اور دیگر حالات کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی ،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ،ہم عمان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنے ہوں گے تاکہ اس راستے سے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا سکے۔

    عالمی سطح پر اس تجویز کو شدید تنقید اور تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جدید تاریخ میں کبھی بھی کسی قدرتی آبی گزرگاہ پر اس طرح یکطرفہ طور پر فیس لاگو نہیں کی گئی،بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے صرف مخصوص خدمات جیسے کہ رہنمائی یا ٹگ بوٹ کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن محض گزرنے کا ٹیکس نہیں لگا سکتے اس کے برعکس نہر سوئز یا نہر پانامہ جیسے راستے انسانوں نے خود کھود کر بنائے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس فیصلے پر اصرار کرتا ہے تو عالمی برادری کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ ایران کے پہاڑی ساحلوں پر موجود مضبوط فوجی پوزیشنز اسے یہ طاقت دیتی ہیں کہ وہ دور تک جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔

  • جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن

    دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔

    جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے، اس دوران لوگوں نے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی مظاہروں میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان سب شامل رہے اور مختلف شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی۔

    بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔

    مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔

    سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے، تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں،شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

    ادھر ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور کہا حملے روکنے کے لیے موسیقی بجائیں گے دوسری جانب عراق کے دارالحکو مت بغداد میں بھی جنگ بندی پر جشن کا سماں رہا، لوگ رات گئے گھروں سے باہرنکل آئے، ایران پر مسلط جنگ روکے جانے کاخیرمقدم کیا۔

  • ایران امریکا جنگ بندی: حیران کن حد تک درست پیشگوئی کرنے والا شخص کروڑ پتی بن گیا

    ایران امریکا جنگ بندی: حیران کن حد تک درست پیشگوئی کرنے والا شخص کروڑ پتی بن گیا

    عالمی واقعات اور سیاست پر شرطیں لگانے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر ایک گمنام صارف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی بالکل درست پیش گوئی کر کے چار لاکھ ڈالرز یعنی کروڑوں روپے جیت لیے ہیں۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ’پولی مارکیٹ ہسٹری‘ نامی اکاؤنٹ نے ان مشکوک شرطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی صارف نے دو ایسی شرطیں جیتیں جن کا وقت اور نتیجہ سو فیصد درست تھا، اس شخص نے نہ صرف ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کا صحیح وقت بتایا بلکہ بدھ کے روز ہونے والی جنگ بندی کی تاریخ کی بھی بالکل درست پیش گوئی کی۔

    اس غیر معمولی جیت پر کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض قسمت کا کھیل نہیں بلکہ ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ یعنی اندرونی معلومات کا نتیجہ ہو سکتا ہے-

    اس سے قبل بھی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، تو اسی طرح کے چند گمنام اکاؤنٹس نے عین وقت پر درست شرطیں لگا کر بھاری رقم جیتی تھی، اور اب ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری ہے،ان واقعات کے بعد پولی مارکیٹ کو شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید کچھ لوگوں کو امریکی حکومت کے اہم فیصلوں کی پہلے سے خبر ہوتی ہے جو اس پلیٹ فارم کا استعمال کر کے بڑی رقم بناتے ہیں۔

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب عام دنیا جنگ کے سائے میں ڈری ہوئی ہوتی ہے، اس وقت کچھ گمنام لوگ ان فیصلوں سے لاکھوں ڈالرز کما رہے ہوتے ہیں،فی الحال اس صارف کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اس واقعے نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر بڑ ے سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔

  • ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    ٹرمپ کی امریکی پائلٹ کی گمشدگی رپورٹ کرنیوالے صحافی کو جیل بھیجنے کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی خبر لیک کی، لیک ہونے والی معلومات سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی حکام اس شخص یا ادارے کی تلاش میں ہیں جس نے ایران میں پھنسے دوسرے پائلٹ کی معلومات لیک کیں صدر کے مطابق یہ معلومات منظرِ عام پر آنے سے ریسکیو آپریشن مزید مشکل ہو گیا اور اس سے پہلے ایران کو دوسرے پائلٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جس میڈیا ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی، امریکی حکام اس سے لیک کرنے والے کی شناخت طلب کریں گے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ خبر لیک کرنے والے کو ڈھونڈیں ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے تلاش کر لیں گے کیونکہ ہم اس میڈیا کمپنی کے پاس جائیں گے اور کہیں گے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، معلومات دو یا جیل جاؤ۔

    پریس بریفنگ آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔

    ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوران نچلی پرواز کرنے والے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر شدید فائرنگ ہوئی، حتیٰ کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی متعدد گولیاں لگیں، تاہم فوری مرمت کے ذریعے انہیں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ کمپنیوں کو ایسی مرمت میں کئی دن لگ جاتے، مگر امریکی فوج نے یہ کام محض 10 منٹ میں انجام دیا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شدید موسمی اور زمینی حالات، خصوصاً ریت کی وجہ سے دو پرانے طیارے پرواز نہ کرسکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے کم وزن طیاروں کے ذریعے وہاں پہنچ کر ان طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی اور انہیں استعمال یا جانچ نہ سکے۔

    ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے زخمی پائلٹ کو پکڑنے پر انعام کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم امریکی فوج نے تمام خطرات کے باوجود کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے آپریشن میں کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور تمام طیارے شدید نقصان کے باوجود بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی تھی کہ کسی بھی صورت میں اپنے اہلکاروں کو واپس لایا جائے، کیونکہ امریکی فوج کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔

    اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا اور اس آپریشن میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔