Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    ایران کے سابق جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی کا خاندانی پس منظر

    رضا پہلوی جو سابقہ ایرانی سامراجی ریاست کے ولی عہد اور جلا وطن کیے گئے پہلوی خاندان کے سربراہ ہیں وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ فرح دیبا کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔

    رضا نکالے گئے ایک خود ساختہ مخالف گروہ، قومی مجلس ایران کے بانی اور سابق لیڈر اور ایران کی اسلامی جمہوری حکومت کے بڑے حریف ہیں بطور ولی عہد، رضا نے لابوک، ٹیکساس کے نزدیک ریز ایئر فورس بیس میں فضائی فوجی تربیت کے لیے سنہ 1977ء میں انقلاب ایران سے دو سال پہلے ایران چھوڑ دیا وہ اُس وقت کے بعد سے ایران واپس کبھی نہیں آئے۔

    فارسی شاونزم کے سب سے اونچے پیڈلرز کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی ابتدا فارسی نہیں تھی رضا شاہ کے والد پالانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مازندرانی تھے، ان کی والدہ ایروملو ترک یریوان کے علاقے سے تھیں محمد رضا شاہ پہلوی کی والدہ، تاج الملوک، دوبارہ ایروملو تھیں، اس بار اس کی جڑیں باکو میں تھیں۔

    لہٰذا نام نہاد فارسی ولی عہد اور ان کا پورا گھر مازندرانی اور کاکیشین ترکوں کے ذخیرے کی پیداوار ہیں، پھر بھی وہ کچھ تخیل شدہ "خالص فارسی” نسب کے سرپرست کے طور پر اپنا روپ دھارتے ہیں ایک قوم پرست افسانہ جو خون کی لکیروں پر بنا ہے جو ہر موڑ پر اس سے متصادم رکھتے ہیں-

    محمد رضا شاہ پہلوی پوری دنیا اسے شاہ ایران کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا دوست تھا‘ یورپی پریس اسے ’’امریکن گورنر‘‘ کہتا تھا‘ وہ امریکی وفاداری میں بہت آگے چلا گیا‘ امریکہ نے اسے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا حکم دیا اور اس نے ایران میں داڑھی اور پردہ پر پابندی لگا دی۔ اس کے دور میں کوئی باپردہ عورت گھر سے نکلتی تھی تو پولیس سرے عام اس کا برقع پھاڑ دیتی تھی‘ شاہ ایران نے تمام زنانہ سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سکرٹ کو یونیفارم بنا دیا‘ شراب نوشی‘ رقص اورزنا فیشن بن گیا۔

    شاہ کے دور میں ایران دنیا کا واحد ملک تھا جس میں کالجوں میں شراب کی دکانیں تھیں‘ یونیورسٹیوں میں خواتین کی سودے بازی ہوتی تھی اور اس مکروہ کاروبار کو قانونی حیثیت حاصل تھی‘ شاہ کے زمانے میں دو جرنیلوں کے ہم جنس پرست بیٹوں نے آپس میں شادی کی‘ سرکاری سطح پر نہ صرف ان کی دعوت ولیمہ ہوئی بلکہ شاہ اور اس کی کابینہ نے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔ شاہ نے امریکہ کی محبت میں ایران میں موجود 42ہزار امریکیوں کو سفارتی حیثیت دے دی ‘ امریکہ نے شاہ ایران کے دفتر میں ’’گرین فون‘‘ لگا رکھا تھا اور اسے امریکہ سے جو ہدایات ملتی تھیں ‘ وہ ان پر فوری عملدرآمد کراتا تھا لیکن پھر شاہ کی امریکہ نواز پالیسیوں پر بغاوت ہوئی ‘ یہ بغاوت تین سال تک چلتی رہی‘ شاہ نے 12شہروں میں مارشل لاء لگا دیا‘ عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا-

    شاہ نے حکومت شاہ پور بختیار کے حوالے کی اور ملک سے فرار ہو گیا‘ اس کا خیال تھا امریکہ اب اس کی وفاداریوں کا بدلہ دے گا لیکن جوں ہی شاہ ایران کا طیارہ ایران کی حدود سے نکلا‘ امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں‘ شاہ پہلے مصر گیا‘ پھرمراکش‘ پھر بہا ماس اور پھر میکسیکو‘ وہ اس دوران امریکہ سے مسلسل مدد مانگتا رہا لیکن وائٹ ہاؤس اس کا ٹیلی فون تک نہیں سنتا تھا شاہ ایران سواسال تک مارا مارا پھرتا رہا لیکن کسی نے اس کی مدد نہ کی‘ امریکہ نے اس کے اکاؤنٹس تک ’’سیز‘‘ کر دئیے‘آخر میں انورالسادات کام آیا اوراس نے اسے پناہ دے دی ۔

    جولائی 1980ء میں قاہرہ میں اس کاانتقال ہوا‘ انتقال کے وقت اس کے پاس اس کی تیسری بیوی کے سوا کوئی نہ تھا‘لوگ اس کا جنازہ تک پڑھنے نہ آئے چنانچہ اسے اس کے بیڈ روم ہی میں امانتاً دفن کردیا گیا-

    بعدازا ں اس کے بیٹےرضا شاہ پہلوی نے گزشتہ 40 سال سے ایرانی سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، اور بغیر کسی عوامی حمایت یا قانونی جواز کے بارہا ایران کے دشمن ممالک کا سہارا لیا ہے، جو ان کے عزائم میں موجود مایوسی اور سیاسی موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہےحالیہ مظاہروں میں جہاں کچھ اپوزیشن جماعتیں ایران کے اندر سرگرم ہیں جب کہ کئی جلاوطن رہنما بیرونِ ملک سے اپنی آواز ملا رہے ہیں۔

    ایران، یورپ اور امریکا میں مقیم ایرانی تارکینِ وطن نے حالیہ مظاہروں کے حق میں برلن، لندن اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی جارہی ہیں. ایران کے سابق بادشاہ کے واحد ولی عہد رضا پہلوی اس وقت امریکا میں جلاوطن ہیں وہ ایران کے معزول بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے ہیں۔

    رضا پہلوی ’’ایران نیشنل کونسل‘‘ نامی پلیٹ فارم سے ایک سیکولر اور جمہوری نظام کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کی بحالی کے بجائے ریفرنڈم کے ذریعے نظام کے تعین کے حامی ہیں، انھیں ایرانی تارکینِ وطن اور کچھ نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے، تاہم بائیں بازو اور جمہوری ریپبلکن حلقے ان کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

    ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی کے پاس ایران کے اندر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔

  • امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت

    ایران بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے،جس کے باعث امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے-

    امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔

    دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔

  • امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکی پر چین کا ردعمل

    امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکی پر چین کا ردعمل

    ایران میں جاری مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں پر امریکا کی فوجی کارروائی کی دھمکی پر چین نے کہا ہے کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہےچین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرا ت اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ایران پر مذاکرات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

    
غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدام کیا جائے، اقوام متحدہ سے اپیل

    ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی فوج یہ معاملہ قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے وہ اس سلسلے میں ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

    صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے ایران دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

    لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ بچی ساہیوال سے بازیاب،ملزمہ گرفتار

  • بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،ایرانی صدر

    بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پیژشکیان نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر سخت ردِعمل دیاہے-

    رپورٹ کے مطابق صدر پیژشکیان نے کہا کہ بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے ایسے عناصر کا ایران سے کوئی تعلق نہیں، اگر کوئی اس ملک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ پُرامن احتجاج کرے، ہم اس کی بات سنیں گے اور مسائل حل کریں گے، لیکن بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر محلے میں جمع ہو کر ہنگامہ آرائی کو روکیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ درست یا غلط تجزیوں کی بنیاد پر گمراہ نہ ہوں اور دہشت گردوں و فسادیوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔

    باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    صدر پیژشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ پسِ پردہ ان عناصر کو اُکسا رہے ہیں ان کے بقول وہی قوتیں جنہوں نے اس ملک میں ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو قتل کیا، آج ان لوگوں کو تباہی پھیلانے کے احکامات دے رہی ہیں، یہ کہہ کر کہ ہم پیچھے کھڑے ہیں، تم آگے بڑھو-

    انہوں نے خاندانوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو فسادی اور دہشت گرد عناصر سے دور رکھیں حکومت جائز احتجاج سننے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار ہے، آئیں ہم سب مل بیٹھیں، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بات کریں اور عوامی خدشات کو حل کریں پُرامن احتجاج ہمارا حق ہے، لیکن تشدد اور تباہی ناقابلِ برداشت ہے۔

    پاکستان کیلئےجاسوسی کرنے کے الزام میں کبوتر گرفتار ،بھارتی سیکیورٹی اداروں میں تشویش

  • تہران نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کر دیا

    تہران نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کر دیا

    کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں تہران نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کر دیا-

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جوابی کارروائی کا جائز ہدف سمجھے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ

    دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے کہ امریکا ایران میں جاری ملک گیر احتجاجی تحریک کی حمایت کے لیے براہ راست مداخلت کر سکتا ہے، اسرائیلی سیکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور امریکا و ایران کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران ایسی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہےاس سے قبل صدر ٹرمپ نےخبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مدا خلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا، ایران کے بعض شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار

  • ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ

    ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ

    تل ابیب: ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل میں سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات کے بعد اسرائیلی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے امریکی صدر نے متعدد بار ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر مداخلت کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے اپنی سکیورٹی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہائی الرٹ کی عملی صورت کیا ہوگی۔

    خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور ممکنہ امریکی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رابطے کی تصدیق کی، تاہم گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا کا دعوی

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران ایسی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہےاس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا، ایران کے بعض شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

  • ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں،ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔

    امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہےملک میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس کے باعث اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا ایران ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکا اس کی حمایت کے لیے تیار ہےمریکا ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

  • آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    سڈنی: آسٹریلیا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں اور غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال کے باعث ایران چھوڑ دیں۔

    بین لاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آسٹریلوی شہری اس وقت ایران میں موجود ہے تو اسے فوراً واپسی کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہےبیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہرے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور مجموعی سکیورٹی صورتحال نہایت غیر یقینی ہے۔

    واضح رہے کہ تہران میں آسٹریلوی سفارت خانے نے گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    آسٹریلوی حکومت کے مطابق ایران میں آسٹریلوی شہریوں کو قونصلر مدد فراہم کرنے کی صلاحیت اس وقت انتہائی محدود ہےجاری کی گئی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ آسٹریلوی شہریوں، بالخصوص دوہری شہریت رکھنے والوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    یہ احتجاج 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف غصے کے نتیجے میں شروع ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔ خاص طور پر مغربی علاقوں میں، جہاں کرد اور لور آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے، احتجاج زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

  • امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس  امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعدادمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوچکی ہے جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق چند گھنٹوں کے دوران امریکی فضائیہ کے درجنوں فضائی ایندھن بھرنے والے ٹینکر اور C-5 اور C-17 قسم کے بھاری ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے امریکہ سے اور برطانیہ کے ایک امریکی ایئربیس سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں مختلف ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہا ہے اور خطے میں افواج کی منتقلی کی جاری تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں برطانوی میڈیا کے مطابق امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعداد حالیہ دنوں میں برطانیہ پہنچ گئی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق کم از کم دس C-17 گلوب ماسٹر فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو AC-130J گھوسٹ رائیڈر گن شپ طیارے رائل ایئر فورس کے مختلف اڈوں پر تعینات کیے گئے ہیں یہ طیارے بھاری اسلحہ، فوجی ساز وسامان اور دستوں کی منتقلی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    یہ پیش رفت مبینہ طور پر وینزویلا میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکہ نے برطانیہ میں اپنی فوجی فضائی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ آئندہ فوجی کارروائیوں کی تیاری کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں گلوسیسٹرشائر میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اور سفوک میں آر اے ایف ملڈن ہال پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں ہوائی اڈے رائل ایئر فورس اور امریکی افواج مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مشرقِ وسطیٰ یا دیگر حساس خطوں میں ممکنہ آپریشنز سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی نقل و حرکت پر عمومی طور پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔

    ماہرین کے مطابق عالمی حالات کے تناظر میں یہ پیش رفت بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے، تاہم صورتحال کی مکمل نوعیت آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

  • ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مریکا ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا وینزویلا کے تیل پر قبضہ نہ کرتا تو روس اور چین اس پر کنٹرول حاصل کر لیتے امریکا وینزویلا میں تیل کے شعبے میں سو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہےصدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ روس اور چین اگر چاہیں تو امریکا سے تیل خرید سکتے ہیں، تاہم وینزویلا میں کون سی تیل کی کمپنیاں کام کریں گی، اس کا فیصلہ امریکا خود کرے گا،وینزویلا میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    مقابلے کے امتحان سی ایس ایس 2026 کی باقاعدہ ڈیٹ شیٹ جاری

    جبکہ امریکا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایکسن موبل نے وینزویلا کو سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ملک قرار دے دیا ہے، جس سے وہاں مستقبل کی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    باجوڑ: وزیرِ مملکت کے گھر پر دستی بم سے حملہ

    رپورٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔