Baaghi TV

Tag: ایران

  • پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور

    پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور

    پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا 12 واں دور منعقد ہوا، ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان ایران دوطرفہ سیاسی مشاورت (BPC) کا 12 واں دور 17-18 جون 2023 کو تہران میں منعقد ہوا۔ سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان اور ایران کے نائب وزیر خارجہ جناب علی باقعی کانی نے متعلقہ فریقوں کی قیادت کی،ملاقات میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی اور دونوں اطراف کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی،

    ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام دائرہ کار پر بات چیت کی اور گزشتہ بی پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا ،دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور متنوع بنانے اور توانائی، ٹرانسپورٹ روابط، تعلیم اور عوام سے عوام کے تبادلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ،دونوں فریقین نے علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ،دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقتصادی کمیشن اور مشترکہ تجارتی کمیٹی سمیت مختلف ادارہ جاتی میکانزم کے باقاعدہ اجلاس کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ای سی او سمیت کثیرالجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھنے اور مشترکہ تشویش کے عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا خیرمقدم

    سیکرٹری خارجہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کا خیرمقدم کیا ،سیکرٹری خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت حال سے آگاہ کیا ،سیکرٹری خارجہ نے کشمیر کاز کے لیے ایران کی ثابت قدم حمایت کو سراہا ،سیکرٹری خارجہ نے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ سے ملاقات کی ،دونوں فریقین نے اعلیٰ سطحی دوطرفہ تبادلوں کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور مختلف شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،رکن پارلیمنٹ ،چیئرمین پاکستان-ایران پارلیمانی فرینڈشپ گروپ احمد امیرآبادی فرحانی کے ساتھ ایک الگ ملاقات میں دونوں فریقوں نے پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ،سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان نے اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) کے سیکرٹری جنرل خسرو نوزیری سے ملاقات کی سیکرٹری خارجہ نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی رابطوں اور تجارتی فروغ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تہران میں سیکرٹری خارجہ نے معروف ایرانی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (IPIS) کے ایرانی دانشوروں اور اسکالرز سے بھی بات چیت کی ،ملاقاتوں کے دوران خطے میں امن اور ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالی

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیا گیا

  • سعودی وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات

    سعودی وزیر خارجہ کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات

    تہران: سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روز تہران میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی ہے۔

    تازہ ترین: سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ فیصل اور صدر رئیسی کے درمیان بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے اور وسعت دینے کی راہیں تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    دونوں عہدے داروں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مختلف علاقائی مسائل کے حل کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی ہے شہزادہ فیصل بن فرحان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی طرف سے ایرانی صدر کو سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی۔

    بیرون ملک چین کے خفیہ "تھانے”

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے تہران کے صدارتی محل میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا خیر مقدم کیا،سعودی وزیر خارجہ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد کی جانب سے ایرانی صدر، حکومت اور عوام کے لیے مزید ترقی اور خوشحالی کی خواہش کا اظہار کیا۔ ایرانی صدر نے بھی سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اس سے قبل ہفتے کے روز سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کار نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات کی تھی۔ انھوں نے ایرانی وزارت خارجہ کی عمارت میں دو طرفہ بات چیت کی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔

    شہزادہ فیصل نے ایرانی وزیرخارجہ سےمذاکرات کو’مثبت’ قرار دیا اورکہا کہ بات چیت میں اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہم دونوں ممالک میں سفارتی اور قونصلیٹ مشنز کی دوبارہ بحالی پر کام کر رہے ہیں، الریاض کو امید ہے کہ تہران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

    اسکول پر دہشت گردوں کا حملہ،بچوں سمیت 40 افراد ہلاک

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ سفارت خانے کو بحالی دیکھ چکے ہیں اور ساتھ ہی جدہ میں قونصلیٹ مشن اور او آئی سی مشن بھی دیکھا ہے اس سب کے بعد جلد ہی تہران میں سعودی سفارت خانہ بھی بحالی کر دیا جائے گاہم عازمین حج کو خوش آمدید کہتے ہیں سعودی عرب نے رحمٰن کے مہمانوں خدمت کے لیے تمام تر توانائیاں اور ادارے متحرک کر دیئے ہیں۔

    اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے ریاض میں سفارت خانے کی بحالی اور جدہ میں قونصلیٹ، او آئی سی کا نمائندہ دفتر کھولنے کے لیے راہ ہموار کرنے پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہےایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے ایرانی عازمین حج کی میزبانی کرنے پر بھی سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہماری تمام تر توجہ معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری پر مستحکم تعاون پر مرکوز ہے۔

    سعودی عرب؛ قلعہ عسفان جو حجاج کرام کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا

  • ایران میں منعقدہ ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس آج  روانہ ہونگے

    ایران میں منعقدہ ایشین اسنوکر چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس آج روانہ ہونگے

    پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن نے ایران میں ہونے والی ایشین 6 ریڈ اسنوکر چیمپئن شپ اور انڈر 21 چیمپئن شپ کیلئے پاکستانی کیوئسٹس کا انتخاب کردیا۔پاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عالمگیر شیخ کے مطابق ایران میں اس ماہ ہونیوالے تین ایونٹس میں دو کیوئسٹ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 16 سے 25 جون تک ہونے والے ان تین ایونٹس کیلئے احسن رمضان اور حارث طاہر کا انتخاب کیا گیا ہے، دونوں کھلاڑی آج کراچی سے تہران کیلئے روانہ ہوں گے انہوں نے مزید بتایا کہ حارث طاہر ایشین 6 ریڈ اور ایشین ٹیم چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے جبکہ احسن رمضان 6 ریڈ، ٹیم چیمپئن شپ اور انڈر 21 ایونٹ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔احسن رمضان اگلے ماہ سعودی عرب میں ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ بھی کھیلیں گے۔

  • روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ روس حالیہ ہفتوں میں کیف پر حملہ کرنے اور یوکرین کی آبادی کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایرانی یو اے وی کا استعمال کر رہا ہے –

    باغی ٹی وی: روئٹرزکے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے سیکڑوں ایرانی ڈرون ملے ہیں امریکا کو روس کے اندر ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے منصوبے پر تشویش ہےاورایسا لگتا ہے کہ روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے۔

    یوکرین روس تنازعہ میں نہیں پڑنا چاہتے،آئی ایم ایف سے رابطے میں ہیں،بلاول

    ترجمان وائٹ ہاؤس نے نئی خفیہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرون ایران میں بنائے گئے تھے، جنہیں بحیرہ کیسپین میں بھیجا گیا اور پھر روسی افواج نے یوکرین کے خلاف استعمال کیا ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے کہ روس ایران کے ساتھ مل کر روس کے اندر سے ایرانی یو اے وی تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس معلومات ہیں کہ روس ایران سےڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کےلیے ضروری مواد حاصل کر رہا ہے جو اگلے سال کے اوائل میں مکمل طور پر فعال ہو سکتا ہے ہم روس کے الابوگا اسپیشل اکنامک زون میں اس یو اے وی مینو فیکچرنگ پلانٹ کے مجوزہ مقام کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کر رہے ہیں۔

    صندل خٹک نے حریم شاہ کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی

    امریکہ اس سے قبل روس کو ڈرون سپلائی کرنے پر ایک دفاعی صنعت کار کے ایرانی ایگزیکٹوز پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ ایران نے روس کو ڈرون بھیجنے کا اعتراف کیا ہے لیکن کہا ہے کہ وہ ماضی میں فروری میں روس کے حملے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔

    دوسری طرف ماسکو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین میں ایرانی ڈرون استعمال کیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایران نے اگست سے اب تک کئی سو ڈرون روس کو منتقل کیے ہیں۔

    حکومت کا پیش کردہ وفاقی بجٹ عوام و تاجر دوست بجٹ ہے، نعیم میر کا …

  • ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    پاکستان کو اس وقت اہم معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خستہ حال معیشت، غیر ملکی ذخائر کی کمی، اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران شامل ہیں۔ تاہم، ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ بارٹر تجارتی معاہدے کرنے کا حالیہ فیصلہ ذہانت کا ایک نمونہ ہے اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیررسمی حکمت عملی واقعی قابل ذکر ہے۔
    بارٹر ٹریڈ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر کی ضرورت کے بغیر مختلف مصنوعات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے غیر ملکی کرنسی کے کم ہوتے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تبادلے کے لیے دستیاب مصنوعات میں قدرتی گیس، پیٹرولیم، پھل، گری دار میوہ، چاول، دودھ، سبزیاں، مٹھائیاں، کھیلوں کے سامان، بجلی کی اشیاء، ٹیکسٹائل، دواسازی اور چمڑا شامل ہیں۔

    بارٹر ٹریڈ میں دواسازی کی اشیاء کی شمولیت سے مقامی شعبے دوائیں بنانے کے لیے بااختیار ہو جائیں گے، خاص طور پر زندگی بچانے والی، اور دیگر عام دوائیں جن کی سپلائی یا تو کم ہے یا اجزاء کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ملکیت والے دونوں ادارے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد بارٹر پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے پاس خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے بھی کم مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔

    ایران اور افغانستان سے اسمگلنگ ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر بارٹر ٹریڈ سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیے اور غیر ملکی ذخائر کو بچانے میں بھی مدد ہونی چاہیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات، اور وزارت تجارت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق، ملک میں سمگل کی جانے والی اعلیٰ اشیاء سالانہ (25 نومبر 2020) 3.3 بلین ڈالر کماتی ہیں۔ ان سمگل شدہ مصنوعات میں سیل فون، ٹائر، انجن آئل اور کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سگریٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، جو پہلے 200 روپے کے مقابلہ میں اب 500 روپے فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں، افغان سگریٹ کو پاکستان میں ایک منافع بخش مارکیٹ ملی ہے، جو اچھی کوالٹی کا سگریٹ 130 روپے فی پیکٹ سے بھی کم میں مل جاتا ہے

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو صرف 11 اشیا کی سمگلنگ (12 جنوری 2023) کی وجہ سے سالانہ 2.63 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    بارٹر ٹریڈ کے علاوہ، ہمیں دیگر اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ میری تین تجاویز ہیں:

    سب سے پہلے ہمیں سازگار حالات بنا کر آئی ٹی جیسی صنعتوں پر پانچ سال کے لیے ٹیکس ختم کردینا چاہیے۔ ہم ان کی ترقی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسرا، ہمیں گرے اکانومی سے پیسے کی خاطر خواہ آمد کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، جو کہ غیر سرکاری ذرائع سے چلتی ہے۔ یہ دس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دے کر اور بعد کے سالوں میں ٹیکس چھوٹ دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، ہمارے ماہرین اقتصادیات کو 21ویں صدی کے حقائق کو قبول کرنے اور کریپٹو کرنسی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے قانونی شکل دینا اور منظم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہو سکے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان 21ویں صدی میں قدم رکھے اور ایسی اختراعی حکمت عملی کو اپنائے جو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔

  • سعودی عرب میں سالوں سے بند ایرانی سفارت خانہ آج کھول دیا جائے گا

    سعودی عرب میں سالوں سے بند ایرانی سفارت خانہ آج کھول دیا جائے گا

    تہران: سعودی عرب میں سالوں سے بند ایرانی سفارت خانہ آج کھول دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد تہران آج 7 برس بعد ریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دے گا۔

    ہر سفارتی رابطے پر بیان نہیں دیا جاتا،امریکا

    ذرائع کے مطابق ایرانی سفارت خانے کا دوبارہ افتتاح آج مقامی وقت کے مطابق شام 6:00 بجے کیا جائے گا جس میں سعودی عرب میں نامزد ایرانی سفیر بھی موجود ہوں گے یہ قدم تہران کی جانب سے گزشتہ ماہ ایک اعلیٰ سطح کے سفارت کار علی رضا عنایتی کو مملکت میں نیا سفیر مقرر کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2024 کی میزبانی امریکا اور ویسٹ انڈیزکو نہ ملنے کا امکان

    واضح رہے کہ سابق ایرانی صدر حسن روحانی کے دور میں کویت میں سفیر رہنے کے بعد عنایتی اس وقت نائب وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہیں، اپریل میں دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی وفود کا تبادلہ ہوا تھا اوران وفود نے سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی –

    افغانستان میں 2 پرائمری اسکولوں کی 80 بچیوں کو زہر دینے کا انکشاف

    10 مارچ کو ایران اور سعودی عرب نے چین کی سرپرستی میں اپنے سفارتخانوں کو دوبارہ کھولنے اور 20 سال سے زائد عرصہ قبل دستخط شدہ اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

  • ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

    تہران: ایران علاقائی استحکام کیلئے خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کی منصوبہ کرنے لگا۔

    باغی ٹی وی: ایرانی نیوی کے سربراہ رئیر ایڈمرل شہرام ایرانی نے کہا ہے کہ ایران کا خلیجی ممالک کے ساتھ نیول الائنس بنانےکا منصوبہ ہے جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عراق شامل ہوں گےجبکہ نیول الائنس میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہوں گے تاہم انہوں نے اس اتحاد کی تشکیل کے بارے میں مزید نہیں بتایا ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی تشکیل دیا جائے گا۔

    امریکی حکام کی سی آئی اے سربراہ کے دورہ چین کی تصدیق

    ایران کے نیوی کمانڈر کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے سے تعاون میں ہی علاقائی استحکام ہے،ایرانی نیول چیف نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات نے امریکی کی زیرقیادت 38 رکنی بحری اتحاد سے سے علیحدگی اختیار کرلی ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج فارس کی سلامتی کیلئے مشترکہ بحریہ تشکیل دی جائے گی۔

    ایران حال ہی میں کئی خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے،مارچ میں، سعودی عرب اور ایران نے چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت سات سال کی دشمنی کا خاتمہ کیا، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

    سلمان خان کا ٹرین حادثے پر شدید افسوس کااظہار

    ایران کے ساتھ سعودی عرب کے میل جول نے ایران کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی اسرائیل کی کوششوں کو مایوس کیا ہے متحدہ عرب امارات، جو کہ پہلا خلیجی عرب ملک تھا جس نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے معاہدے پر دستخط کیے، گزشتہ سال ایران کے ساتھ باضابطہ تعلقات دوبارہ شروع کیے تھےبعد میں بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں متحدہ عرب امارات میں شمولیت اختیار کی۔

  • ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ  بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری

    ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری

    پاک، ایران، روس تجارت کے حوالے سے بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے، حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

    وزارت تجارت نے اس حوالے سے بزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ رولز جاری کردئیے ،وزارت تجارت پاکستان نے ایران، افغانستان اور روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس او ایس جاری کیا ہے پاکستان اب افغانستان ایران روس کو بارٹر ٹریڈ کے ذریعے اشیاء برآمد کرسکے گا پاکستان بارٹر سسٹم کے تحت ایران اور روس سے خام تیل،ایل این جی ،ایل پی جی درآمد کرسکے گا،پاکستان ان ممالک کو گوشت، پھل سبزیاں چاول برآمد کرسکے گا،پاکستان ٹیکسٹائل مصنوعات، پرفیومز، کاسمیٹکس، آلات جراحی کٹلری برآمد کرسکے گا،پاکستان اب ایران افغانستان کو کھیلوں کا سامان بھی برآمد کرسکے گا،افغانستان سے پھل، میوہ جات سبزیاں دالیں آئل سیڈز درآمد کرسکے گا،بارٹر سسٹم کے تحت افغانستان سے منرلز، میٹلز اور کوئلہ درآمد کیا جاسکے گا،پاکستان ایران سے خام تیل، ایل این جی ایل پی جی منگوا سکے گا،ایران سے کیمکلز پراڈکٹس کھادیں پھل سبزیاں مصالحے بھی درآمد کی جاسکیں گی ،پاکستان روس سے بھی خام تیل ایل این جی ایل پی جی درآمد کرسکے گا،روس سے بارٹر سسٹم کے تحت گندم دالیں بھی منگوائی جاسکیں گی،روس سے صنعتی مشینری بھی درآمد کی جاسکے گی،

    حکومت نے چین، روس اور ایران سے بارٹر ٹریڈ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، یعنی مال ،سروسز کے بدلے مال،سروس. اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ امپورٹ کے بدلے ڈالر کے بجائے مال یا سروس دینی ہوگی اور ڈالر کی طلب کم سے کم ہوتی جائے گی. ماہرین کے مطابق یہ بہت بڑا انقلابی فیصلہ ہے.اس سے ہمارے لوکل مال کی ایکسپورٹس اور کھپت کے مواقع بڑھ جائیں گے اور ملکی معیشت مضبوط ہوگی.ہمیں اس وقت ڈالر کی کمی کا جو سامنا ہے، اس کے پریشر میں کافی کمی آ جائے گی ،ہماری لوکل انڈسٹری کا کام بڑھے گا اوراگر ایران، روس اور چائنہ سے یہ تجارت کامیاب رہتی ہے تو یقینی طور پر روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور بیروزگاری میں کمی ہوگی

    ای سی سی نے اشیاء کے بدلے اشیاء امپورٹ کرنے کی منظوری دی تھی، حکومت کی جانب سے یہ پاکستانی عوام کے لیے حقیقی تبدیلی اور حقیقی ریلیف ہے۔ پاکستان کو سستی ایرانی مصنوعات بشمول کوئلہ، خام تیل، ایل این جی، ایل پی جی وغیرہ تک رسائی ملے گی۔

    وزارت تجارت کی جانب سے بارٹر ٹریڈ کے لئے جاری ایس او آ رمیں اشیا کی فہرست بھی دی گئی ہے، اشیا میں دودھ، کریم، گوشت، انڈے، مچھلی،چاول، بیکری آئٹم،نمک،آئل، صابن، ٹیکسٹائل،ریڈی میڈ گارمنٹس، لوہا اور سٹیل،کاپر، الیکٹرک پنکھے و دیگر اشیاء شامل ہیں

    پاکستان اور ایران دونوں 5 ارب ڈالر سالانہ تجارتی حجم حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں اس سلسلے میں، بارٹر ٹریڈ میکانزم کو فعال کرنا ایک اہم قدم ہے ، وفاقی وزیر تجارت نوید قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان قریبی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کا آغاز کر رہا ہے،کوئی پیسے لے گا نہ دے گا، صرف اشیاء کا کاروبار ہو گا،سید نوید قمرکا کہنا تھا کہ کہ چین ہمارے ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تاہم بارٹر ٹریڈ ماڈل دو طرفہ تجارت میں نئی توانائی ڈالے گا

    صنعتکار رہنما چیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے کہا ہے کہ بارٹر ٹریڈ پالیسی سے روس، ایران، افغانستان سے تاجرت و برآمدات اور درآمدات میں اضافہ ہوگا،پاکستان کی روس،ایران اور افغانستان سے مال کے بدلے مال کی تجارت (بارٹر سسٹم) کے ذریعے ایک ارب15 کروڑ 30لاکھ ڈالرز مالیت کی برآمدات اور دو ارب سے زائد درآمدات کی صلاحیت ہے ابتدا ء میں بارٹر کے تحت45 سے50فیصد ایران سے 20 فیصد اور افغانستان سے15 سے 20فیصد بارٹر تجارت ہوگی،باقی تجارت پہلے کی طرح جاری رہے گی۔ وزارت تجارت کے مطابق بارٹر سسٹم میں رقوم کی منتقلی نہیں ہوتی حکومت نے اس حوالہ سے یکم جون کو ایس آر او بھی جاری کردیا ہے جس کے تحت تین ممالک کے ساتھ مال کے بدلے مال کی تجارت ہوگی۔بارٹر تجارت کا مقصد ڈالر پر دباؤ کم کرنا ہے۔پاکستان کے ہمسائیہ ممالک سے بارٹر تجارت میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہے گا روس سے پاکستانی تاجر دالیں، گندم، کوئلہ،پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس درآمدکرینگے۔انہوں نے کہا کہ بارٹر تجارت سے ڈالر پر انحصار کم،معیشت مستحکم اور کاروبار ی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سہیل اکبر،احسن منیر چاولہ وائس چیئرمین کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میاں خرم الیاس نے کہا کہ روس، افغانستان اور ایران کے ساتھ بارٹر تجارت سے معیشت کو استحکام ملے گا اور کارباری لاگت کم ہوگی روپے کی قدر میں استحکام آئے گا جس سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوگی اور اشیاء سستی ہونے سے صارفین کو ریلیف ملے گا،

  • کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    ایران اور افغانستان کے درمیان 1973 میں دو طرفہ پانی کے مطلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم، ایران میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے داخلی نقل مکانی کی بڑی وجہ پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا گرم موسم کہا جاتا ہے۔ 2021 میں، تقریباً 41,000 ایرانی بوجہ جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے قدرتی رہائش گاہوں سے بے گھر ہوئے۔ایرانی اور افغان کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، ایران دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان کم پانی چھوڑ رہا ہے جو کہ دوطرفہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران کا جنوب مشرقی علاقہ جو خشک سالی سے شدید متاثر ہے، افغانستان سے آنے والے پانی پر کثیر انحصار کرتا ہے۔

    افغانستان کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کھلنے کے باوجود بھی پانی ایران میں نہیں جائے گا۔ دو طرفہ آبی معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی ایران کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔
    ایران کا دعویٰ ہے کہ جب سے طالبان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس نے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی میں سے صرف 4 فیصد پانی حاصل کیا ہے (حسن کاظمی قومی، ا ایرانی خصوصی نمائندہ براے افغاستان : RFE/RFL ریڈیو فاردا، 19 مئی، 2023)۔

    پانی کی قلت کی کے بڑھنے سے ایران کو اپنی عوام کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے برعکس افغانستان میں جاری خشک سالی، جو 2021 سے 2022-2023 تک برقرار رہی، اس نے پانی کے بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ 20 نومبر 2022 کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، "79 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پینے، کھانا پکانے، نہانے یا طہارت جیسی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے پانی ناقافی ہے۔ خوراک کی قلّت اور گھرداری پر تباہ کن اثر۔”

    افغانستان کے کم پانی رکھنے کے دعوے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، بلخصوص کمال خان ڈیم کی 2022 میں تکمیل کے مدنظر۔ افغان صدر غنی نے ایران کو مفت پانی کی فراہمی بند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اور ایران کے ساتھ پانی کے بدلے تیل کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس سے افغانستان کی پانی کی قلّت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    کیا کمال خان ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود بھی افغانستان میں سابقہ خشک سالی برقرار ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف آزاد ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کی جانچ اور ایک فیصلہ تک پہنچنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہونا چاہئے۔

  • افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ، 3 افراد ہلاک

    افغان طالبان اور ایرانی فورسز کے درمیان ہفتے کو سرحد پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان یہ جھڑپ ایران کے صوبے سیستان اور افغان صوبے نمروز کی سرحد پر ہوئی ہے، فائرنگ کے تبادلے میں دو ایرانی سرحدی محافظوں سمیت ایک افغان طالبان ہلاک ہو گیا۔

    ایران اور روس کے درمیان کارگو ٹریفک میں غیرمعمولی تیزی

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا کہ ڈپٹی پولیس چیف جنرل قاسم رضاعی نے الزام لگایا کہ ہفتے کی صبح ایران کے سیستان بلوچستان صوبے اور افغانستان کے نمروز صوبے کی سرحد پر طالبان نے پہلے فائرنگ کی۔

    ارنا کے مطابق افغانستان سے فائرنگ کے تبادلے میں ایران کے دو سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں،ائرنگ کے واقعے کے اسباب معلوم نہیں ہو سکے ہیں تاہم دونوں ممالک میں پانی کے معاملے پر تنازعہ موجود ہے۔

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    طالبان حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نمروز صوبے میں ایرانی بارڈر گارڈز کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیاردعمل میں افغانستان کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی، واقعے میں ایک طالبان ہلاک ہو گیا جبکہ دونوں جانب کچھ افراد زخمی ہوئے اب حالات قابو میں ہیں، افغانستان کسی پڑوسی کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا۔