Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا،نیتن یاہو

    ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا،نیتن یاہو

    ایران کےجوہری تنصیبات پر امریکی حملےکے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ حملے اسرائیل سے مکمل رابطےکے ساتھ کیےگئے،ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا-

    اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا ایران کاجوہری پروگرام اسرائیل کے وجود کےلیےخطرہ تھا اور اس سے ایرانی جوہری پروگرام سےدنیا کے امن کوخطرہ لاحق تھا،صدر ٹرمپ نے آپریشن مکمل ہونےکےفوری بعد مجھے کال کی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کاجوہری پروگرام ختم کرنےکاوعدہ پورا ہوگیا، ایران خطے میں دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے،امریکا نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرکے نا صرف اپنے اتحادیوں بلکہ پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نےصدر ٹرمپ کو اسرائیل کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایران کے خلاف مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج رات جو امریکا اور صدر ٹرمپ نے غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کیا، امریکا واقعی بے مثال ہےتاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا کے سب سے خطرناک نظام کو دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیاروں سے محروم رکھنے کے لیے اقدام کیا،ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت تاریخ کا ایک نیا رخ متعین کر رہی ہے، جو مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے امن و خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مبارک ہو صدر ٹرمپ، ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا آپ کا جراتمندانہ فیصلہ تاریخ کو بدل دے گا،صدر ٹرمپ اور میں اکثر کہتے ہیں ’طاقت کے ذریعے امن‘، پہلے طاقت آتی ہے اور پھر امن جب کہ آج رات، صدر ٹرمپ اور امریکا نے زبردست طاقت کے ساتھ عمل کیا۔

    واضح رہے کہ ہفتے کی رات 2:30 بجے امریکا نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    اب یا تو امن ہوگا یا پھر سانحہ،ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد قوم سے خطاب میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اسے اب امن قائم کرنا ہوگا، ورنہ آئندہ حملے ایران کے لیے سانحہ ہوں گے۔

    واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول فورڈو، نطنز اور اصفہان پرحملے کیے ہیں، دنیا نے سالوں تک ان ناموں کو سنا، جب ایران نے اس تباہ کن منصوبے کو تیار کیا تھا، آج رات میں یہ اطلاع دے سکتا ہوں کہ یہ حملے بے حد کامیاب رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب یا تو امن ہوگا یا ایران کے لیے وہ تباہی آئے گی جس کا ہم نے گزشتہ آٹھ دنوں میں مشاہدہ کیا یاد رکھیں کئی دیگر اہداف باقی ہیں آج رات کا حملہ ان سب میں سب سے مشکل اور شاید سب سے مہلک تھا لیکن اگر امن جلدی نہ آیا تو ہم ان دیگر اہداف کو تیز رفتا ری، مہارت اور درستگی کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔

    ٹرمپ نے ایران کے سابق فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی نے ہزاروں افراد کی جان لی، میں نے طے کیا تھا کہ اس کا سلسلہ یہاں نہیں رکے گا، اور یہ جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں نے اس تباہ کن خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا،ٹرمپ کا خطاب تقریباً چار منٹ تک جاری رہا، جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ مزید کشیدگی کے امکانات اور امریکہ کے عزم کا اظہار کیا۔

  • ایرانی میزائل حملے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے

    ایرانی میزائل حملے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس دھماکوں سے گونج اٹھے

    ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر جوابی میزائل حملہ کردیا-

    برطانوی خبر رساں اداے روئٹرز کے مطابق ایران نے امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب کے اوپر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں-

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936655853966234031

    الجزیرہ کے مطابق اردن کے محکمہ عوامی تحفظ کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں فضائی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجا دیے گئے ہیں۔

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936654436396597505

    اسرائیلی فوج نے ایران سے بھیجے گئے 2 ڈرونز گرانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مشرق کی جانب سے چھوڑے گئے ڈرونز کو اردن کی سرحد کے قریب روک لیا گیا ہے۔

    https://x.com/TehranTimes79/status/1936653512441467058

    اسرائیل کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے حالیہ پیش رفت کے پیش نظر فضائی حدود کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کردیا اسرائیلی اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’موجودہ حالات کے سبب اسرائیل کی فضائی حدود میں آمد و رفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم مصر اور اردن کے ساتھ زمینی سرحدی گزرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

  • ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کا ردعمل

    ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کا ردعمل

    امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران میں تین جوہری تنصیبات پر حملے مکمل کر لیے ہیں جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ایران کو اب اس جنگ کو ختم کرنے پر رضامند ہونا چاہیے،عظیم امریکی مسلح افواج کو مبارک ہو، دنیا کی کوئی دوسری فوج ایسا نہیں کر سکتی، اب امن کا وقت ہے!

    ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر بہت کامیاب حملہ مکمل کر لیا ہے جن میں فردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں تمام طیارے اب ایران کی فضائی حدود سے باہر ہیں، فردو پر ’بموں کا پورا پے لوڈ‘ گرایا گیا تھا اور تمام طیارے امریکہ واپس جا رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر امریکی حملوں میں ملوث تھے۔جیسا کہ ہم نے پہلے اطلاع دی تھی، امریکی بی ٹو سٹیلتھ بمبار طیاروں کو مبینہ طور پر امریکی جزیرے گوام کے علاقے میں منتقل کردیا گیا تھا جس سے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ طیارہ ایران پر امریکی حملے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کردی ہے۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے ایک بیان میں جوہری سائٹس پر امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کا نشانہ بنایا جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایران اپنےقومی صنعت کی ترقی روکنےکی اجازت نہیں دےگا، اہم تنصیبات پر امریکی حملےکے باوجود ایران پرامن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھےگا۔

    تنظیم نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ اس معاملے میں لاپرواہ اور یہاں تک کہ معاون ثابت ہوئی ہے۔

    ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کرے اور ایران کی جائز پوزیشن کی حمایت کرے دشمنوں کے منفی منصوبوں کے باوجود ایران کے سائنسدان اور ماہرین ملک کی جوہری صنعت کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھیں گے اس حملے کے بعد ایران ضروری اقدامات کرے گا، جن میں قانونی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی۔

    امریکی طیاروں کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد ایران کا ردعمل آگیا-

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ا مر یکہ نے ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی (NPT) کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ آج صبح کے واقعات نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں اور ان کے دیرپا نتائج ہوں گے اقوامِ متحدہ کے ہر رکن کو اس انتہائی خطرناک، غیر قانونی اور مجرمانہ طرزِ عمل پر تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔

    https://x.com/araghchi/status/1936638107169722536

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ایرانی جوہری تنصیاب پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں یہ تنازع بہت تیزی سے بے قابو ہوسکتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے رد عمل میں سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے ایران پر امریکا کے حالیہ فضائی حملوں کو ’انتہائی تشویشناک‘ اور ’خطرنا ک‘ قرار دیا،انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ تنازع بہت تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے، جس کے عام شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، میں ایران کے خلاف آج امریکا کے طاقت کے استعمال پر شدید تشویش میں مبتلا ہوں، یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

    https://x.com/antonioguterres/status/1936603735330898368

    انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشیدگی کو کم کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں، اس نازک لمحے میں ضروری ہے کہ افراتفری کے چکر کو روکا جائے اور اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ آگے کا واحد راستہ سفارتکاری ہے اور واحد امید امن ہے۔

    سعودی حکام نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد کسی قسم کی تابکاری نہ پھیلنے کی تصدیق کردی۔

    الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب کے نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل ریگولیٹری کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ماحول میں کسی قسم کی تابکار اثرات کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

    حماس کی ایران پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے حماس نے امریکی حملوں پر شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ وحشیانہ جارحیت کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتی ہے ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے

    ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکا کے جانب سے اس کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ایرانی مشن نے امریکی بمباری کو کھلی اور غیرقانونی جارحیت قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جائے۔

    مشن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سلامتی کونسل کی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ ان سنگین جرائم کے مرتکب کو مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور وہ سزا سے بچ نہ سکے۔

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح ا مر یکہ نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا،اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

  • ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پہلے ہی ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے جرمن اخبار بِلڈ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’ہم جو اندازہ لگا رہے ہیں، اس کے مطابق ہم نے پہلے ہی کم از کم دو یا تین سال کے لیے ان کے پاس جوہری بم کے امکان میں تاخیر کر دی ہے،سرائیل کا ایک ہفتہ طویل حملہ جاری رہے گا، ہم اس خطرے کو دور کرنے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے، جو ہم وہاں کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ رکھنے والا وہ واحد ملک ہے جس نے 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کرلی ہے تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس کے پاس جوہری وار ہیڈ بنانے کے لیے تمام اجزا موجود ہیں، آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ’یہ کہنا ’سراسر قیاس آرائیاں‘ ہیں کہ ایران کو ہتھیار تیار کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔

    ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم دو سال پیچھے دھکیل دیا ہے،اسرائیل

    جبکہ امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے خلاف اقوام متحدہ میں شکایت درج کرا دی ہے ایران کی جانب سے سیکرٹری جنرل اور سیکیورٹی کونسل کے صدر کو گروسی کیخلاف شکایت درج کرائی گئی، ایرانی مندوب نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مؤقف پر گروسی کی خاموشی پر اعتراض اٹھایا، انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے سربراہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے بھی گروسی کیخلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی نیوکلیئر تنصیب اراک پر حملے کا عالمی ادارے نے مؤثر ردعمل نہیں دیا ہے،جس پر سربراہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی گروسی نے کہا کہ ایجنسی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہی ہے، انسپکٹرز ایران میں موجود ہیں، جب ممکن ہوا نیوکلیئر تنصیبات کا دورہ کریں گے۔

    ماسکو سے گوادر تک. نئی راہیں، نئے امکان

  • اسرائیل کو کئی بار بتایا کہ ایران کے جوہری ہتھیار کے حصول کا کوئی ثبوت نہیں، پیوٹن

    اسرائیل کو کئی بار بتایا کہ ایران کے جوہری ہتھیار کے حصول کا کوئی ثبوت نہیں، پیوٹن

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس نے اسرائیل کو بارہا آگاہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے ارادے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق روسی صدر نے اسکائی نیوز عربیہ کو بتایا کہ ’روس اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے پاس کبھی بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں رہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اور ہم نے بارہا اسرائیلی قیادت کو اس سے آگاہ کیا ہےروس ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو فروغ دینے میں اس کی حمایت کے لیے تیار ہے، اور ایران کو اس کا حق حاصل ہے۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ ہم اپنا دفاع کریں گے اور وہ سب کچھ کریں گے جو ہمارا حق ہے۔
    سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 سے کم کر کے 10 فیصد کر دیاہے، وزیر خزانہ

    ایران حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ دوسروں کا مؤقف سننے پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے حکام جنیوا گئے، کسی بھی سفارتی عمل کی شروعات اسرائیل کے ایران پر حملوں کے اعتراف سے ہونی چاہیے دنیا کو سب سے پہلے یہ ماننا ہوگا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، اسرائیلی حملوں میں کمانڈرز، بچے، خواتین، سائنسدان شہید ہوئے، ترجمان ایرانی حکومت نے کہا کہ ایران کے ساتھ دھمکی کی زبان میں بات نہ کی جائے۔

    فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ہم اپنا دفاع کریں گے اور وہ سب کچھ کریں گے جو ہمارا حق ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ امریکاکوئی غلطی نہیں کرے گا،اگر کشیدگی بڑھی تو ہمارا ردعمل بھی اسی تناسب سے شدید ہوگا امریکا کے عراق پر حملے کی طرح ایران پر اسرائیلی حملہ بھی جھوٹے الزامات پر ہوا، مسئلہ ایٹمی ہتھیاروں کا ہے تو بارہا واضح کر چکے کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں،عراق پر بھی بہانوں سے حملے کیے گئے، کیا آج تک وہاں سے کوئی کیمیائی ہتھیار ملے؟گزشتہ 200 برس میں ا یران نے کبھی کسی جنگ کی شروعات نہیں کی، ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اپنا دفاع ہمارا حق ہے۔

    ملک میں تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ

  • ایران چاہے تو چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، تلسی گبارڈ

    ایران چاہے تو چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، تلسی گبارڈ

    امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ میڈیا جان بوجھ کر میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرکے جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

    تلسی گبارڈ نے کہا کہ مارچ میں واضح طور پر کہا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران چاہے تو چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے،امریکی انٹیلیجنس معلومات کے مطابق اگر ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے اسمبلی کا فیصلہ کرے تو چند ہفتوں یا مہینوں میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہےمیں اور صدر ٹرمپ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے ثبوت نہ ہونے کی تلسی گبارڈ کی بات غلط ہے،ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے قومی سلامتی کی مشیر تلسی گبارڈ کا کلیئرنس نوٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ تلسی گبارڈ نے کیا کہا تھا، ان کے خیال میں ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب تھا۔

    واضح رہے امریکا کی قومی سلامتی کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے مارچ 2025 میں کہا تھا کہ اُن کی انٹیلی جنس کے مطابق ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا بلکہ آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی اجازت ہی نہیں دی-

  • اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل

    اسرائیلی عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ ختم کرانے کی اپیل کی جارہی ہے-

    اسرائیلی فوج اور حکومت کی جانب سے اگرچہ مسلسل برتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، خاص طور پر فضائیہ کی جانب سے، جو ایرانی فضائی حدود میں باآسانی میزائل داغنے اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن عوامی سطح پر ایک اور قسم کی بحث جاری ہے خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے براہ راست ایران پر حملہ نہ کیا، تو یہ جنگ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جو نہ صرف مہنگی بلکہ ناقابل برداشت بھی ہو گی۔

    اس خدشے کا اندازہ تل ابیب کی سڑکوں پر لگے ان بل بورڈز سے بھی ہوتا ہے، جن میں امریکی صدر سے صاف الفاظ میں مطالبہ کیا جا رہا ہے: “Finish the Job” – کام مل کرو، یعنی ایران پر فیصلہ کن حملہ کریں تاکہ جنگ جلد ختم ہو۔

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اس جنگ کے دورانیے پر کوئی واضح بات نہیں کی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کئی ہفتے یا مہینے تک بھی جاری رہ سکتی ہے، جو اسرائیل کے لیے سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔

    واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سیاسی رہنما ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے-

  • ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

    ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا کہا کہ ،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع اور ایک دوسرے پر حملوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    دونوں ممالک کی جانب سے حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان دونوں طرف ہو رہا ہے، لیکن سوشل میڈیا اور دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسرائیل کی صورتحال پر مرکوز ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے غزہ پر حملے کرتا رہا ہے، جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ خود اسرائیل کو خوف اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی متعدد فوٹیجز گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی شہریوں کو زیرِ زمین بنکرز میں پناہ لیتے اور ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ دکھایا گیا ہے،تاہم ایران نے اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات کا امکان مسترد کردیا –

    وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی سے بھی خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں،اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف اسرائیلی جرائم میں شراکت دار ہے، موجودہ حالات میں، اور جب تک صیہونی حکومت کے حملے جاری ہیں ہم کسی سے خصوصاً امریکا سے اس معاملے پر مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، ہم نے ان پر واضح کردیا ہے کہ جب تک جارحیت اور حملے جاری رہیں گے، بات چیت یا سفارتکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حالتِ دفاع میں ہیں، یہ دفاع نہ رکے گا اور نہ روکا جا سکتا ہے، ایران کبھی بھی سویلین علاقوں کو نشانہ نہیں بناتا جوکہ اسرائیلی کارروائیوں کے برعکس ہے جن میں دانستہ طور پر غزہ میں اسپتالوں پر حملہ کیا گیا۔

    عراقچی سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے ہونی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی حل تلاش کرنا ہے یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب اسرائیل نے پچھلے ہفتے ایران پر شدید حملے شروع کیے، اور یہ یورپی ممالک کی پہلی بڑی سفارتی کوشش ہے کہ صورتحال کو پرامن انداز میں کنٹرول کیا جائے۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، جو اس مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے، انہوں نے کہا کہ "آنے والے دو ہفتوں میں ایک سفارتی حل کا موقع موجود ہے”، یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہی۔

  • ایران پر دباؤ بڑھا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

    ایران پر دباؤ بڑھا تو وہ ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے، امریکی اخبار کا انکشاف

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی دباؤ میں اضافہ کیا گیا، تو وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری بم بنانے کا فیصلہ نہیں کیا، حالانکہ اس کے پاس اتنی افزودہ یورینیم موجود ہے جو بم تیار کرنے کے لیے درکار ہوتی ہےانٹیلی جنس اور دیگر امریکی حکام کے مطابق اس حوالے سے ایجنسیوں کا تجزیہ مارچ میں کیے گئے سابقہ جائزے سے تبدیل نہیں ہوا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، پھر بھی ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے کسی حتمی اقدام کے شواہد موجود نہیں ہیں اگر امریکی فوج فردو میں ایران کے زیر زمین یورینیم افزودگی کے مرکز پر حملہ کرتی ہے یا اگر اسرائیل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرتا ہے تو ایسی صورت میں ایرانی قیادت جوہری بم بنانے کی جانب قدم بڑھا سکتی ہے۔

    خفیہ اداروں کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت صرف جوابی حکمتِ عملی کے تحت ایٹمی ہتھیار کی تیاری پر مائل ہو سکتا ہے، جو خطے اور دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہوگا۔

    تاہم امریکا اور اسرائیل میں ایران کے سخت ناقدین کا ماننا ہے کہ تہران پہلے ہی اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ وہ اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ بن چکا ہے، اس لیے یہ بحث کہ ایران نے بم بنانے کا فیصلہ کیا یا نہیں، ان کے نزدیک غیر متعلقہ ہے ایران کے جوہری ارادوں پر یہ بحث ایک طویل عرصے سے امریکی پالیسی حلقوں میں تنازع کا باعث رہی ہے، اور اب یہ معاملہ اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے جب صدر ٹرمپ فردو پر حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔