Baaghi TV

Tag: ایران

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے ہیں

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 18 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے ڈی-8 سمٹ میں شریک ہوں گے اس سمٹ کا موضوع ‘یوتھ میں سرمایہ کاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت طرازی، اور کاروبار کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔سمٹ کے دوران ایک خاص سیشن غزہ اور لبنان میں انسانی بحران پر بات کرے گا، جس میں اس خطے کے موجودہ حالات اور انسانی امداد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سیشن میں مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیاں بھی اس سمٹ میں شریک ہوں گے، جو ایران کی طرف سے ایک نیا سفارتی قدم ہے۔ یہ ایران کے کسی صدر کا مصر کا پہلا دورہ ہوگا، جو ایک دہائی سے زیادہ کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ مصر اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ دہائیوں میں کشیدہ رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے خاص طور پر غزہ کے بحران کے دوران باہمی تعلقات میں بہتری کی کوشش کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اکتوبر میں مصر کا دورہ کیا تھا، جب کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العتی نے جولائی میں تہران کا دورہ کر کے مسعود پزشکیاں کی حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ ایران اس سمٹ کے دوران دیگر شریک ممالک کے ساتھ علاقائی اور دو طرفہ امور پر بات چیت کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے بتایا کہ ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ سمٹ کے موقع پر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرے گا، جن میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے علاوہ دیگر علاقائی مسائل بھی شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سمٹ میں ڈی-8 وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی 11ویں ڈی-8 سمٹ اور غزہ و لبنان پر خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے۔ سمٹ کے دوران دونوں پاکستانی رہنما مختلف ملکوں کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے اقتصادی مفادات اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔یہ سمٹ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل کی ایرانی جوہری نظام پر حملے کی تیاری

    اسرائیل نے شام میں اپنے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کے لیے حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    اسرائیل کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے کمزور ہونے اور شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے لیے اسرائیلی فضائیہ اپنی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے ،اسرائیلی اخبار کے مطابق، اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیل مزید اقدامات کرے گا۔ فوجی حکام نے کہا کہ اسرائیل ایران کے جوہری منصوبے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ایران کو ایک جوہری بم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب ایران کے جوہری مقامات پر حملہ کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھا رہا ہے اور اسے روکنے کے لیے اسرائیل کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

    اسرائیلی فضائیہ نے شام میں فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے شام میں مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں شام کے فضائی دفاعی نظام کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ایران کے حامیوں، خاص طور پر لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

    اسرائیل کا موقف یہ ہے کہ ایران ایک جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر ایران کو اس پروگرام میں کامیابی حاصل ہوئی تو اس سے پورے خطے کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو جائے گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت کو روکنا اسرائیل کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسرائیل نے بارہا یہ کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں ناکام رہی تو اسرائیل کو خود ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹریش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حملوں کو فوراً روک دے اور شام سے باہر نکل جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور بے قابو بنا سکتی ہیں اور اس کے انسانی بحران کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔دوسری جانب، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اسرائیل کے دفاعی اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے ملک کی سلامتی کے لیے جو اقدامات درکار ہوں، وہ اٹھانے کا حق ہے، اور امریکہ اسرائیل کے اس حق کی حمایت کرتا ہے۔

    اسرائیل کی ممکنہ حملے کی شدت کا انحصار ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت اور اسرائیل کی عسکری حکمت عملی پر ہوگا۔ اسرائیل نے پہلے بھی ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے ہیں، اور حالیہ دنوں میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی فضائیہ کے مطابق، اس بار ایران کے جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ برسوں میں کئی بار بڑھ چکی ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیتا رہتا ہے۔ ایران بھی اسرائیل کے ان اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دے چکا ہے اور بارہا اسرائیل کو دھمکی دے چکا ہے کہ وہ اس کی جوہری صلاحیت کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دے گا۔

    اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، تو اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری میں اس حملے پر شدید ردعمل آ سکتا ہے، اور اس سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود سیاسی اور فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس صورتحال میں مداخلت کر سکتے ہیں تاکہ تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    پاکستان کوشام میں اسرائیلی جارحیت پرشدید تشویش ہے.ترجمان دفترخارجہ

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

  • ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے اسرائیل کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے قبضے کی توسیع کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے۔

    تہران کی جانب سے "جارحیت کو روکنے” اور اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانے کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شام کی سرزمین میں ایک "سیکیورٹی زون” قائم کرنے کا حکم دیا ہے، جو اقوام متحدہ کے مطابق 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا گولان کی بلندیوں میں اقدام "مقبوضہ رژیم کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ رویے کی علامت ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قانونی اصولوں اور ضوابط کی بے حرمتی ہے۔”

    اسرائیل نے 1967 میں گولان کی بلندیوں پر قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ یہ خطہ شام کی سرزمین تھا جسے اسرائیل نے جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کھلا جنگی تصادم ہو سکتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 اکتوبر 2023 کو ایران کے حامی گروپ حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کی جانب سے ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تفتان کوئٹہ ریلوے کی حالت مخدوش ہے جس کے باعث مال بردار ٹرینیں 30سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن کواپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپ گریڈ یشن پر 700ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔

    روسی ٹیلی ویژن رشیا ٹوڈے کو دیئے جانے والے انٹرویو میں وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ اگلے برس مارچ تک روس سے ایک مال بردار ٹرین چلانے کی آزمائش کی جائے گی جو آذربائیجان اور ایران کے راستے پاکستان آئے گی مغرب سے شمال کی جانب چلائی جانے والی اس آزمائشی ٹرین سے لاجسٹکس اور مختلف اشیا پاکستان لائی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان انسانی وسائل کے تربیتی پروگرام کو وسعت دینے، چینی اداروں کے نئی سٹیل بنانے کے تکنیکی اور مالیاتی امکانات کا جائزہ لینے پر بات کی جا رہی ہے جو سوویت یونین کے دور میں پاکستانی میں بنائی گئی تھی اور اب اس نے اپنی زندگی پوری کر لی ہے اور ہم پاکستان اور روس کے درمیان فضائی سروس شروع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جس سے فضائی سفر آسان ہوگا اور دونوں ممالک کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے اور کاروبار مواقع تلاش کر سکیں گے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اس سے کاروبار میں آسانی ہوگی، دو بدو رابطہ کاری آسان ہوگی، دونوں جانب کے شہری ایک دوسرے سے ملیں گے، کھیلوں کو فروغ ملے گا، اس کے سیاسی اور معاشی پہلو بھی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان کچھ عرصے کے دوران نہیں دیکھے گیے تھے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ برکس ممالک کے اتحاد میں شمولیت کے لیے پاکستان کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے البتہ شاید ایک ملک ’اس پر زیادہ خوش نہ ہو‘ اور پاکستان برکس میں شمولیت پر بہت زیادہ حصہ ڈال سکتا ہے پاکستان برکس میں شامل ہوکر کافی معاشی اور تجارتی تعاون حاصل کرسکتا ہے اور ان ہی شعبوں میں ممبر ممالک کو بہت سے فوائد پہنچا سکتا ہے۔

    روس کے ساتھ تعاون میں چیلنجز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاجروں کو امریکی اور چینی مارکیٹوں کا روسی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اندازہ ہے لہذا فی الحال سب بڑا چیلنج یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ اور تاجر ایک دوسرے کو جانیں پہچانیں۔

    پاکستان کی روس سے قربت بڑھنے پر مغرب سے دباؤ کے تحفظات کےبارے باتے کرتے ہوئے توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جیسے ہم تعلقات آگے بڑھا رہے ہیں ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ یہ کسی کے خلاف یا حمایت میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں اور اس حد تک ہیں جہاں تک ہمارے مفادات مشترکہ ہوں۔

    مغرب کی پابندیوں کا روس اور پاکستان کے تعلقات پر فرق پڑنے کے سوال پر اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ہاں ہم اس طرح تجارت اور معیشت میں تعاون نہیں کر پا رہے جس طرح ہم کر سکتے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جوہری توانائی کی پیداوار کا ہماری کل پیداوار میں بڑا حصہ ہے جو کلین اور افیشنٹ ہے، آئی جی سی کی سطح پر دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ جب بھی اس بارے میں دلچسپی ظاہر کی گئی چاہے ہماری جانب سے یا پھر روس کی جانب سے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

  • ایران یورینیم کی 60فیصد تک افزودگی کر چکا ہے،ایٹمی توانائی ایجنسی

    ایران یورینیم کی 60فیصد تک افزودگی کر چکا ہے،ایٹمی توانائی ایجنسی

    واشنگٹن: سربراہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : رافیل گروسی نے کہاکہ ایران یورینیم کی ساٹھ فیصد تک افزودگی کر چکا ہے جبکہ ایٹم بم بنانے کے لئے 90 فیصد یورینیم کی افزودگی کی ضرورت ہے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ بھی بڑھا ہے امریکا نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور تیل کی تنصیبات پر حملوں سے گریز کرے ایران میں ایٹمی تنصیبات کتنی ہیں، ان کی نوعیت کیا ہے اور ایران کس حد تک ایٹمی قوت کا حامل ہے یہ تمام باتیں بہت اہم ہیں اور تجزیہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کر رہی ہیں۔

    ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی موجودگی اور اس کے جاری رہنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی نگرا ن ادارے آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے 2003 میں اپنا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا خفیہ پروگرام روک دیا تھا، 2015 میں ایران نے امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین سے معاہدہ کیا جس کے تحت وہ ایٹمی ہتھیاروں کی طرف لے جانے والے پروگرام سے دست بردار ہوا اور اسے اقتصادی پابندیوں میں کچھ نرمی دی گئی، 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کردیا جس کے بعد ایران بھی اس معاہدے کے تحت عائد کی جانے والی پابندیوں کا احترام کرنے کا پابند نہ رہا۔

    اب ماہرین کہتے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے معاملے میں 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے90 فیصد کی منزل تک پہنچ کر وہ 4 ایٹم بم بنانے کے قابل ہوجائے گا۔

  • نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آج ایران جائیں گے

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی کونسل کے 28ویں اجلاس میں شرکت کے لیے آج ایران روانہ ہوں گے۔ اس اجلاس میں اسحاق ڈار اپنے خطاب کے دوران پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے کہ وہ ای سی او کے منشور کے مطابق علاقائی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، اسحاق ڈار خطے میں اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف اہم موضوعات پر بات کریں گے، جن میں ریل اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی ترقی، ویزا کے نظام میں آسانی اور سرحدی طریقہ کار کو سادہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے ای سی او ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط اور بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں اور معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔

    نائب وزیراعظم اپنے خطاب میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور ان کے خطے کی امن و سلامتی پر اثرات کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا بھی اعادہ کریں گے۔ نائب وزیراعظم اجلاس کے دوران دیگر وزراء اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کریں گے، تاکہ مختلف مسائل پر باہمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں اور خطے کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    پاکستان کی اقتصادی ٹیم ایران روانگی کے لیے تیار ہے اور اس اجلاس کے دوران اس کی موجودگی خطے میں اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

  • ایران کا اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار

    ایران کا اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار

    ایران نے متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی ربی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کر دیا ہے

    ابوظبی میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیلی ربی زوی کوگن کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔ایران نے اسرائیلی شہری کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، دوسری جانب اماراتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں لاپتہ ہونے والے یہودی ربی زوی کوگن کے قتل کے شبے میں 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،واضح رہے کہ اسرائیلی ربی جمعرات سے لاپتہ تھے اور اتوار کو ان کی لاش ملی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق 28 سالہ اسرائیلی ربی کے پاس مشرقی یورپی ملک مالدووا کا پاسپورٹ بھی تھا۔

    آرتھوڈوکس یہودی تنظیم کےلیے کام کرنے والے ربی زوی کوگن جمعرات کو دبئی میں لاپتہ ہوئے تھے، یہودی ربی زوی کوگن کے پاس یورپی ملک مالدووا کی شہریت بھی تھی، زوی کوگن نے مالدووا کے پاسپورٹ پر دبئی کا سفر کیا تھا، زوی کوگن کے قتل کی تحقیقات متحدہ عرب امارات، اسرائیل، مالدووا حکام کر رہے ہیں

    اماراتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سوسائٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف تمام قانونی اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • ایران کے وزیر خارجہ کی قطری ہم منصب سے ملاقات کی،دوطرفہ علاقائی امور پر تبادلہ خیال

    ایران کے وزیر خارجہ کی قطری ہم منصب سے ملاقات کی،دوطرفہ علاقائی امور پر تبادلہ خیال

    تہران:ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز تہران میں اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق عراقچی اور قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آلِ ثانی نے "دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا”۔ ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    قطر نے امریکہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ جنگ بندی کے لیے کئی مہینوں تک بے نتیجہ مذاکرات کی قیادت کی لیکن خلیجی ریاست نے اس ماہ کے شروع میں اپنی ثالثی کی کوششوں کو روک دینے کا اعلان کیا تھا۔

    یہ اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا گیا جب قطر نے ایرانی حمایت یافتہ حماس کو خبردار کیا تھا کہ اس کے سیاسی بیورو کو مزید خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ خلیجی ریاست نے 2012 سے امریکہ کی حمایت سے حماس کی میزبانی کی ہے۔

    قطر نے منگل کو کہا کہ حماس کے مذاکرات کار دوحہ میں نہیں تھے لیکن ان کا دفتر مستقل طور پر بند نہیں کیا گیا تھا۔

  • ایران نے خفیہ طور پر نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ؟

    ایران نے خفیہ طور پر نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ؟

    تہران:ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی حالت نازک ہے ایران نے خفیہ طور پر اپنا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی:ذرائع کا کہنا ہے کہ 85 سالہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے مجتبٰی خامنہ ای کو ایران کے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز کرنے کے لیے چُن لیا گیا ہے بعض اطلاعات کے مطابق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علی خامنہ ای کی زندگی ہی میں مجتبٰی خامنہ ای یہ منصب سنبھال لیں۔

    اطلاعات کے مطابق، تہران نے خفیہ طور پر ستمبر کے اواخر میں اپنے جانشین کا انتخاب کیا تھا جس میں علیل آیت اللہ علی خامنہ ای ممکنہ طور پر عہدے دستبردار ہو گئے تھے ایران کی ایک بین الاقوامی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے زندہ رہنے تک عہدہ سنبھالیں گے۔

    وائے نیٹ نیوز کے مطابق ایرانی منحرفین سے تعلق رکھنے والے فارسی زبان کے میڈیا آؤٹ لیٹ ایران انٹرنیشنل نے بتایا ہے کہ 85 سالہ علی خامنہ ای کی حالت کچھ وقت سے بہت خراب ہےوہ 4 اکتوبر کو حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی نمازِ جنازہ کی اما مت کے لیے منظرِعام پر آئے تھے۔

    ایران انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر 26 ستمبر کو ایرانی پارلیمنٹ کے 60 ارکان کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس کے شرکا سے کہا گیا کہ وہ علی خامنہ ای کا جانشین منتخب کریں، اجلاس کے شرکا کو دھمکیاں بھی دی گئی تھیں اور یہی سبب ہے کہ پانچ ہفتوں تک یہ خبر ڈھکی چھپی رہی۔

    لائیو منٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اب کئی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خامنہ ای کوما میں چلے گئے ہیں باوجود اس کے کہ ان کی صحت کے حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی، ایرانی رہنما کو آخری بار 7 نومبر کو اس وقت دیکھا گیا جب انہوں نے امام خمینی حسینیہ میں رہبری کے ماہرین کی اسمبلی کے چھٹے اجلاس سے خطاب کیا اس سے قبل انہوں نے 2 نومبر کو یوم طلباء کے موقع پر تہران میں یونیورسٹی کے طلباء سے ملاقات کی تھی۔

    27 اکتوبر کو نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ نے بھی اس دعوے کی حمایت کی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ خامنہ ای ایک بڑی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان کا بیٹا مجتبیٰ جانشین بنے گا۔

    مجتبٰی خامنہ ای 1969 میں مشہد میں پیدا ہوئے انہوں نے دینیات کی تعلیم اپنے والد اور دیگر اہلِ علم سے حاصل کی وہ قم میں پڑھاتے رہے ہیں اُن کی اہلیہ کا نام زہرا حداد عادل ہے اور اُن کے تین بچے ہیں۔