Baaghi TV

Tag: ایران

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،چینی وزیر خارجہ کا ایرانی و سعودی ہم منصب سے رابطہ

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،چینی وزیر خارجہ کا ایرانی و سعودی ہم منصب سے رابطہ

    چینی وزیر خارجہ نے ایرانی اور سعودی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی پر بات چیت کی گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کو لے کر چین متحرک ہے، چین نے علاقائی اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہ بنانے کے ایران کے اقدام کو سراہا ہے، چینی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کو ٹیلی فون کیا ، اس دوران چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ” یقین ہے ایران اپنی خودمختاری کی حفاظت کرتے ہوئے صورتحال کو اچھی طرح سنبھال لے گا اور خطے کو مزید انتشار سے بچائے گا”؛ شام میں ایرانی سفارت خانے پرحملے کی شدید مذمت اور مخالفت کرتے ہیں، واقعہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اورناقابل قبول ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی سے آگاہ ہیں اور تحمل سے کام لینے پر آمادہ ہیں، ایران مزیدکشیدگی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا

    سعودی عرب چین پر مکمل اعتماد کرتا ہے،سعودی وزیر خارجہ
    چین کے وزیرخارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا،چینی وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں مزیدکشیدگی سے بچنے کیلئے ریاض کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے،سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال پرچین سے فعال اور اہم کردار ادا کرنے کی توقع ہے، سعودی عرب چین پر مکمل اعتماد کرتا ہے، غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی کیلئے چین کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنےکو تیار ہیں.

    اسرائیل کا ایران کے خلاف جنگ نہ کرنے البتہ نقصان پہنچانے کا فیصلہ
    دوسری جانب ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی جنگی کابینہ نے ایران کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اسرائیلی جنگی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایران کے خلاف جنگ نہیں کرنی بلکہ ایران کو نقصان پہنچانا ہے،ایران کے حوالے سے اسرائیلی جنگی کابینہ کا اجلاس آج پھر ہوگا۔اسرائیلی آرمی چیف نھی ایرانی حملے پر کہہ چکے ہیں کہ ایران کو اپنے اقدامات کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا

    علاوہ ازیں امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، یہ بات غلط ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملے کی وارننگ پہلے دی تھی، ایران سے حملے کا پیغام ملا تھا لیکن کوئی وقت، ہدف یا ردعمل کی نوعیت شامل نہیں تھی، ایران کی واضح نیت بہت زیادہ تباہی کی تھی، اسرائیل آج بہت مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی متحرک ہیں، امریکی وزیر خارجہ نےاردن، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے اپنے ہم منصبوں سے بات کی ہے، چیت میں امریکی قیادت نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تعزیتی پیغام جاری کیاہے

    قونصل خانے پر حملہ ہماری سرزمین پر حملہ ،اسرائیل کو سزا ملے گی، آیت اللہ خامنہ ای

     فلسطینی مسلمان بھی اسرائیلی مظالم کےہوتے ہوئے بھی عید منا رہے ہیں

    مریم نوازشریف بے سہارا، بےگھر اور بے نوا لوگوں کے درمیان پہنچ گئیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں سمیت مزید 125 فلسطینی شہید 

     اسرائیل کے سب سے بڑی جنگی بیس نیو اتیم ایئر بیس کو نقصان پہنچا

    اسرائیل کے لیے امریکی حمایت واضح اور آہنی ہے،امریکا

    واضح رہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور کروز میزائلز فائر کیے، ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تسلیم کیا کہ ایران کے فائر کردہ کچھ میزائل اسرائیل میں گرے، ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  • ایران نے اسرائیلی بحری جہاز پر موجود پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت دید ی

    ایران نے اسرائیلی بحری جہاز پر موجود پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت دید ی

    تہران: ایران نے تحویل میں لئے گئے اسرائیلی بحری جہاز پر موجود پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی: پاکستانی دفتر خارجہ کی کوششوں کے باعث ایران کی جانب سے اجازت دی گئی، ایران نے مطلع کیا ہے کہ ایم ایس سی ایریز پر پاکستانی عملہ جب چاہے وطن واپسی کیلئے آزاد ہے،جہاز کے کپتان کا اختیار ہے کہ وہ جب بھی اپنے عملے کو اجازت دے وہ جہاز چھوڑ دے۔

    واضح رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے بعد یہ ایرانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا،ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نئی حکومت قائم ہونے کے بعد پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت ہوں گے جو پاکستان کا دورہ کررہے ہیں ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر پیشرفت اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا-

    اسلام آباد اور تہران کی جانب سے ابھی تک دورے کے شیڈول کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے .ایرانی صدر رئیسی اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حالیہ پیش رفت اور علاقائی سلامتی کی صورتحال نمایاں طور پر سامنے ہوگی، صدر آصف علی زرداری دورہ کرنے والے صدر کے اعزاز میں خصوصی دعوت کا اہتمام کریں گے،دورہ دونوں ممالک کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے جسے جنوری کے میزائل تبادلے میں عارضی دھچکا لگا تھا،

  • ایران  نے جوابی کارروائی کے لیےصلاحیت اور  ہمت کا مظاہرہ کیا ، چوہدری شجاعت حسین

    ایران نے جوابی کارروائی کے لیےصلاحیت اور ہمت کا مظاہرہ کیا ، چوہدری شجاعت حسین

    گجرات: مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اسرائیل پر ایرانی حملے سے متعلق کہا ہے کہ شام میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملےکے جواب میں کارروائی پرایران مبارکباد کامستحق ہے-

    باغی ٹی وی : چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ شام میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملےکے جواب میں کارروائی پر ایران مبارکباد کامستحق ہے،ایران نے جوابی کارروائی کے لیےصلاحیت اور ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، ایران کے حملے نے اسرائیل اور اس کے مغربی حمایتیوں کو حیران کردیا ہےمیں ایران کی اپنے دفاع کے حق میں جوابی کارروائی کی حمایت کرتا ہوں۔

    چوہدری شجاعت نے کہا کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اسرائیل کوبتانا چاہیےکہ وہ غزہ میں بےگناہ فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرے،ایران کی کارروائیوں نے آج اسرائیل کی فوجی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، اسرائیل اخلاقی، قانونی، سیاسی، نفسیاتی اور سفارتی طور پر ہارگیا ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ایک خود مختار ملک کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا، ایران کے سینیئر فوجی افسر اس حملے میں شہید ہوئے، ایران جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے، ایرانی سفارت خانے پر حملے کے بعد توقع تھی کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا، ایران کے ساتھ جوکچھ ہورہا ہے وہ فلسطین کے ساتھ کھڑا رہنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایران کا اسرائیل پر حملہ ایک علامتی رد عمل اور نپا تلا حملہ تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل کی دفاعی تنصیبات کی معلومات ایران کو مل گئیں ہیں اور پورے اسرائیل کی میپنگ ہوگئی ہے، اسرائیل نے ایران پر جوابی حملہ کیا تو اسرائیل کا بہت نقصان ہوگا اس جنگ کے اثرات پوری دنیا میں جائیں گے، جو بڑے ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں یہ آگ ان کو بھی لپیٹ میں لے گی، اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان فلسطین کی آزادی کے لیے دعاگو اور ان کا حمایتی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کشیدگی بڑھے لیکن فلسطین میں قتل عام بند ہونا چاہیے، پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں۔

    ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایران کےساتھ ایک واقعہ ہوا تھا لیکن ایران سے تعلقات مستحکم ہیں، گیس پائپ لائن پر بھی بات آگے بڑھی ہے جس سے تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہےگوادر سے ایرانی سرحد تک اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بنا رہے ہیں، پاکستان پائپ لائن بچھانے کی پوزیشن میں ہے اور ہم نے فیصلہ کرلیا ہے۔

  • ایران اسرائیل کشیدگی،برطانیہ نے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے

    ایران اسرائیل کشیدگی،برطانیہ نے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے

    لندن:ایران کی جانب سےاسرائیل پر کئے جانے والے حملے کے بعد برطانیہ نے اپنے اضافی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ میں منتقل کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل پر ایران کے حملے کےبعد متعدد اضافی لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے ٹینکروں کو مشرق وسطیٰ میں منتقل کیا گیا ہے،ایک بیان میں حکومت نے کہا کہ فضائی اثاثے شام اور عراق میں مسلح گروپ داعش کے خلاف برطانیہ کے موجودہ آپریشن کو تقویت دیں گے اور ساتھ ہی ضرورت کے مطابق ہمارے موجودہ مشن کی حدود میں کسی بھی فضائی حملے کو روکیں گے۔

    ایک ترجمان نے کہا کہ طیاروں کی ایک بڑی تعداد کو رومانیہ سے عارضی طور پر منتقل کر دیا گیا ہے-

    واضح رہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور کروز میزائلز فائر کیے، ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تسلیم کیا کہ ایران کے فائر کردہ کچھ میزائل اسرائیل میں گرے، ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  • ایرانی صدر 22 اپریل کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    ایرانی صدر 22 اپریل کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے بعد یہ ایرانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا،ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نئی حکومت قائم ہونے کے بعد پہلے غیر ملکی سربراہ مملکت ہوں گے جو پاکستان کا دورہ کررہے ہیں ، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر پیشرفت اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا

    اسلام آباد اور تہران کی جانب سے ابھی تک دورے کے شیڈول کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے .ایرانی صدر رئیسی اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حالیہ پیش رفت اور علاقائی سلامتی کی صورتحال نمایاں طور پر سامنے ہوگی، صدر آصف علی زرداری دورہ کرنے والے صدر کے اعزاز میں خصوصی دعوت کا اہتمام کریں گے،دورہ دونوں ممالک کے تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے جسے جنوری کے میزائل تبادلے میں عارضی دھچکا لگا تھا، صدر رئیسی کے ایجنڈے میں دو طرفہ تعلقات، سیکورٹی تعاون، گیس پائپ لائن اور ممکنہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) شامل ہیں۔ ایرانی صدر کے دورے کے دوران دونوں فریقین افغانستان کی صورتحال اور مسئلہ فلسطین سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

  • قبضے میں لئے گئے جہاز میں پاکستانی شہری،دفترخارجہ نے ایران کے ساتھ معاملہ اٹھا دیا

    قبضے میں لئے گئے جہاز میں پاکستانی شہری،دفترخارجہ نے ایران کے ساتھ معاملہ اٹھا دیا

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہےکہ اسرائیلی جہاز پر اگر کوئی پاکستانی موجود ہے تو اسے برادرانہ تعلقات پر چھوڑ دیا جائے گا
    ایران کے زیرتحویل اسرائیلی جہاز میں پاکستانی عملےکی موجودگی کے معاملے پر ایران کے سفیر رضا مقدم نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہ زوڈائیک کمپنی کےجہازپرکسی پاکستانی شہری کے موجود ہونےکی تصدیق کا انتظارہے، کل پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات موصول ہوگئی ہیں جو تہران بھیجی ہیں اگر اس جہاز پر کوئی پاکستانی شہری موجود ہوا، تو قانونی تقاضوں اور برادرانہ تعلقات پراسے رہا کر دیں گے

    قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے قبضے میں لیے گئے جہاز پر 2 پاکستانیوں کی موجودگی کا معاملہ ایرانی حکومت کے سامنے اٹھا دیا ہے،ایرانی سفارتخانے کو جہاز میں‌ موجود دونوں پاکستانیوں شہریوں کی تفصیلات دے دی گئی ہیں، ایران کی جانب سے جس اسرائیلی جہاز پر قبضہ کیا گیا اس میں دو پاکستانی شہری موجود ہیں جبکہ اس میں بھارتی شہری بھی موجود ہیں،اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے نے معلومات تہران تک پہنچا دی ہیں، دونوں پاکستانیوں کی جلد رہائی کا امکان ہے۔

    ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی کمپنی کے پرتگالی جہاز پر قبضہ کیا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق پرتگالی جہاز ایم ایس سی ایریز اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کی کمپنی کا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے قبضے میں لیے گئے جہاز پر فلپائن کا 20 رکنی عملہ بھی ہے۔

    صیہونی حکومت کیخلاف ایران کی عسکری کارروائی ایک متناسب فوجی کارروائی تھی،ایرانی سفارتخانہ
    دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے اسرائیل پر ایرانی حملے کے حوالہ سے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کا مقصد مقبوضہ فلسطین میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا تھا، کسی شہری، غیر فوجی مراکز بشمول شہروں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، انفرااسٹرکچر وغیرہ کو نشانہ نہیں بنایا، صیہونی حکومت کیخلاف ایران کی عسکری کارروائی ایک متناسب فوجی کارروائی تھی، کارروائی یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق دفاع کے موروثی اور جائز حق کے فریم ورک کے اندر کی گئی تھی، کارروائی دمشق میں ایرانی سفارتخانے کے قونصلر سیکشن کو نشانہ بنانے والے صیہونی حکومت کے فوجی حملے کے جواب میں تھی، ایران یو این کے چارٹر کے اصولوں اور اہداف کی پاسداری پر زور دیتا ہے، ایران طاقت کے کسی بھی غیرقانونی استعمال اور جارحیت کیخلاف اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کا دفاع کرنے کے عزم پر زور دیتا ہے، ایران کا اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرنے کیلئے جائز دفاعی اقدامات ایک ذمہ دارانہ رویے کے عکاس ہیں،صیہونی حکومت غزہ کے بے گناہ لوگوں کی نسل کشی اور قتل عام کر رہی ہے، ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے اصولی ڈھانچے میں خطے میں جنگ اور کشیدگی کے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوشش نہیں کرتا، ایران نے اس مسئلے پر ذمہ دارانہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، موجودہ صورتحال حل کرنے کی کلید غزہ میں جنگ کا فوری خاتمہ اور جنگ بندی ہے، جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی آزادانہ روانی ہے، ایران کا ردعمل کم سے کم اور کم سے کم حد تک تھا، ایرانی ردعمل زیادہ سخت ہوسکتا تھا، اگر صیہونی حکومت دوبارہ یہی کام کرتی ہے تو اس بار ایرانی ردعمل زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تعزیتی پیغام جاری کیاہے

    قونصل خانے پر حملہ ہماری سرزمین پر حملہ ،اسرائیل کو سزا ملے گی، آیت اللہ خامنہ ای

     فلسطینی مسلمان بھی اسرائیلی مظالم کےہوتے ہوئے بھی عید منا رہے ہیں

    مریم نوازشریف بے سہارا، بےگھر اور بے نوا لوگوں کے درمیان پہنچ گئیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں سمیت مزید 125 فلسطینی شہید 

    دوسری جانب ایران نے ضبط شدہ اسرائیلی بحری جہاز کے بھارتی عملے سے سفارتی حکام کو ملاقات کی اجازت دی ہے، ایران نے اسرائیلی جہاز کو قبضے میں لیا جس میں دو پاکستانی اور 17 بھارتی شہری سوار تھے،بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے اپنے شہریوں کی حفاظت اور جلد از جلد رہائی کو یقینی بنانے کے لئے سفارتی ذرائع سے ایرانی حکام سے رابطہ کیا جس کے بعد ایران نے سفارتی حکام کو ملاقات کی اجازت دے دی ہے،

  • دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    شام کے شہر دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے نے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعہ بڑھا دیا ہے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے دو اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل تھے، جو شام میں تعینات تھے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران اور شام میں خفیہ کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا جس میں ایرانی اہلکاروں، جوہری تنصیبات اور پراکسی گروپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل پر خطے میں ایرانی اہداف پر متعدد خفیہ حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں ایرانی سائنسدانوں، انجینئروں، اسلامی انقلابی گارڈز کے کمانڈروں کا قتل اور شام میں ایرانی اور حزب اللہ کے اہداف پر حملے شامل ہیں۔

    دمشق میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کاروائی کی طرف بڑھا اور ایران نے پہلی بار براہ راست اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ تنازعہ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو پہلے پراکسیز کے ذریعے لڑا گیا تھا، جیسے غزہ میں حماس، جسے ایران سے فنڈنگ اور مدد ملتی ہے۔

    اسرائیل پر ایران کا براہ راست حملہ خطے میں وسیع جنگ کے امکانات کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایران محسوس کرتا ہے کہ اس کا ردعمل کافی ہے تو صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسرائیل نے ایران کے حملے کو کامیاب سمجھا، تو اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے جس کے بعدد ممکنہ طور پر پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے

    اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے، جس میں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،حماس جیسے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایران کی حمایت ایک بڑا تنازعہ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، ایران فلسطینی عسکریت پسند گروپوں بشمول حماس کو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ فراہم کرتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حالیہ حملے میں ایران کی طرف سے داغے گئے 99 فیصد میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے، لیکن براہ راست تصادم اس تنازع میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست ڈرون و میزائل حملوں کے تبادلے سے تنازع کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ایران کے اسرائیل پر براہ راست حملے کے مضمرات بہت دور رس ہیں، جس میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا امکان ہے جس میں متعدد اداکار شامل ہیں۔ امریکہ، جو تاریخی طور پر اسرائیل کا ایک مضبوط اتحادی رہا ہے، اس تنازعے کی طرف بڑھ سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ ایک وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔

  • اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    اردن کا اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایران

    تہران: ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے اس لیے کیے کیوں کہ صیہونی ریاست نے ایران کی سرخ لکیر کو عبور کیا تھا اور یہ ناقابل قبول ہے۔

    باغی ٹی وی : ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا کہ صیہونی ریاست کا شام میں ایران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے اور ایرانی قانونی مشیروں کو شہید کرنا ہماری ریڈ لائن تھی،اسرائیل کے خلاف آپریشن مکمل کرلیا اور اب مزید حملے جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اسرائیل نے دوبارہ کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

    https://x.com/RTEUrdu/status/1779400554369655013

    ایرانی حملوں پر اپنے ردعمل میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ ایران نے پھر دکھا دیا کہ وہ اپنے اطراف افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے،برطانیہ اسرائیلی سلامتی کے لیے کھڑا رہے گا، کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ایران کی تازہ کارروائی خطے کو غیر مستحکم کرے گی، جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کا حملہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھائے گا۔

    دوسری جانب چین نے اسرائیل پر ایرانی حملے سے پیدا کشیدگی پر شدید اظہار تشویش کیا ہےچین کی جانب سے جاری بیان میں غزہ تنازع کو موجودہ صورتحال کی وجہ قرار دیا،بیان میں سلامتی کونسل کی اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے قرارداد پر فوری عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

    ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں پر فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ کے باہر جشن منایا-

    ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، ایران نے 300 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے ،مسجد اقصیٰ کے باہر فلسطینیوں کے بڑی تعداد نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں پر جشن منایا کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے، بڑی تعداد میں لوگ لبیک یا اقصیٰ کے نعرے لگارہے ہیں اور خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔
    https://x.com/AhmadFarhadReal/status/1779250802046931339
    گزشتہ برس اکتوبر سے جاری غزہ جنگ میں اب تک 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس یکطرفہ جنگ میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 1500 سے زیادہ ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والے ایرانی حملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کی درخواست کر دی۔

    اسرائیل نے ایرانی حملے پر سخت جوابی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نےجنگی کابینہ کو ایرانی حملے پر ردعمل دینے کا اختیار دے دیا اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے، اسرائیل ہر قسم کے حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے،ایران اسرائیل کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار یعنی آج شام 4 بجے ہونے کا امکان ہے۔

    ادھر ایران کی طرف سے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں خوف و ہراس کی فضا ہے اور لوگوں نے شدید بدحواسی کے عالم میں ضروری اشیا کو ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔

    ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں نے ایرانی حملوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی تیاریاں شروع کردی ہیں، ہفتے کی شب شہر میں کئی دھماکے سنائی دئیے شہر کا افق کئی بار شدید روشنی سے سرخ ہوا، دوسری طرف شہری خوراک اور پانی وغیرہ جمع کرنے میں مصروف رہے اور پھر بنکرز میں پناہ لی،بیشتر دکانداروں نے ہفتے کی شب رات گئے تک دکانیں کھلی رکھیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ مقدار میں خوراک اور پانی وغیرہ خرید سکیں۔

    مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے مامیلا میں ایک دکان دار الیاہو برکات نے بتایا کہ دکان خالی ہوچکی ہے اور ہر شخص گھر کی طرف بھاگ رہا ہےحملہ ہوتے ہی لوگ بڑی تعداد میں آئے اور کھانے پینے کی اشیا لے گئے۔

    مقبوضہ بیت المقدس میں ایک شخص نے بتایا کہ اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو یقین ہے کہ اب کئی دن تک مشکلات برقرار رہیں گی، سروں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے اس کا کہنا تھا کہ کئی دن اسکول اور دفاتر بند رہیں گے۔

    اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ ایران نے کم و بیش 200 پروجیکٹائلز داغے جن میں درجنوں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز بھی شامل ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے علاقے میں بھی دھماکے سنائی دئیے اور فضا دھماکوں سے روشن ہوتی رہی۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل ہیگیری نے لوگوں سے کہا کہ وہ تیزی سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ایک بیان میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے لوگوں سے کہا کہ حملہ چاہے کہیں بھی ہوا ہوا، جب الازم سنائی دے تو فوراً شیلٹر میں چلے جائیں اور کم از کم دس منٹ وہاں رہیں، گھروں میں رہیں، باہر کہیں بڑی تعداد میں جمع ہونے سے گریز کریں، اسکول بند کردئیے گئے ہیں۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں پر وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے-

    امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی فوج نے پچھلے ہفتے ہی ہوائی جہاز اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز کو خطے میں منتقل کیا ان تعیناتیوں کی بدولت ہم نے اسرائیل کو آنے والے تقریباً تمام ڈرونز اور میزائلوں کو گرانے میں مدد کی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق ہم اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر رابطہ کیا اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے امریکی عزم کا اعادہ کیا،امریکی صدر کل جی 7 کا اجلاس بلائیں گے جس میں ایرانی حملے پر متحدہ سفارتی ردعمل کو طے کیا جائے گا-

    اسرائیل پر ایران کے میزائل حملے کے بعد کراچی کیلئے ترکش ائیر کی پرواز درمیان راستے سے واپس چلی گئی جبکہ اسلام آباد اور لاہور کے لیے پروازوں نے طویل ترین روٹ اختیار کیا۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق پرواز ٹی کے 708 کو عراق کی فضائی حدود سے واپس بلوایا گیا، یہ پرواز اج دوپہر طویل راستے سے ری شیڈیول کی گئی ہے جبکہ کراچی سے ترکش ائیر کی پرواز پی کے 709 کی شام 6 بجے روانگی متوقع ہے. ترکش ائیر کی پرواز نے اسلام آباد پہنچنے کیلئے طویل ترین روٹ اختیار کیا، پرواز ٹی کے 710 اور 711 تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان اور جارجیا کے راستے آپریٹ کی گئیں۔

    پرواز ٹی کے 714 روایتی راستے سے استنبول سے لاہور پہنچ چکی تھی جبکہ لاہور استنبول کی پرواز ٹی کے 715 نے بھی تاجکستان اور ترکمانستان کا روٹ اپنایا ایران کے اسرائیل پر حملے کی وجہ سے ترکش ائیر کا فلائٹ آپریشن درہم برہم ہوگیا اور بھارت، بنگلا دیش، ایران، عراق، چین اور کئی ملکوں کی پروازیں درمیان راستے سے واپس ہوئیں، بھارت، بنگلا دیش اور دیگر ملکوں سے بھی پروازیں تاجکستان، ترکمانستان اور جارجیا سے ہوتے ہوئے منزل پر پہنچ رہی ہیں۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ اور خلیجی مجلسِ تعاون نے ایران اور اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرات پیدا نہ ہوں، ایران کی جانب سے اسرائیل پر ردعمل کے طور پر کیے جانے والے حملے پر سعودی عرب نے خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے،مصر نے بھی خطے اورعوام کو عدم استحکام اور کشیدگی سے بچانے کیلئے قریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

    ایران کی جانب سے اسرئیل پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کے بعد خطے میں مزید بڑھتی کشیدگی کے نتاظر میں سعودی عرب نے تمام فریقین کو ‘انتہائی حد تک تحمل’ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے،سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تمام فریقین خطے اور اس کے لوگوں کو جنگوں کے خطرات سے بچانے کی کوشش کریں، علاقائی و عالمی امن برقرار رکھنے کے لیے سلامتی کونسل کو اپنا کردار بروقت ادا کرنا چاہیے کیونکہ عالمی امن کے لیے مشرقِ وسطیٰ بہت اہم خطہ ہے، کشیدگی بڑھنے کے عالمی امن کے لیے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت کرتے ہوئے فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی اور کہا کہ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے بڑے فوجی تصادم کا خدشہ ہو،خطہ یا دنیا ایک نئی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

    خلیجی مجلسِ تعاون (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایران اسرائیل کشیدگی پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ خلیجی مجلسِ تعاون علاقائی اور عالمی امن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے، لازم ہے کہ صورتِ حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے فریقین کشیدگی روکنے کے لیے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں، معاملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ایران اسرائیل کشیدگی سے خطے کے عوام کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں عالمی برادری علاقائی و عالمی امن برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    واضح رہے کہ ایران نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر 200 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل سے حملہ کر دیا، اسرائیل نے امریکا اور اردن کی مدد سے متعدد ایرانی میزائل مار گرائے،ایران کے پاسداران انقلاب نےکہا ہے کہ اس نے درجنوں ڈرون اور میزائل لانچ کرکے اسرائیل کے مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر وسیع پیمانے پر ڈرون حملے کیے ہیں، دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے 200 سے زائد ڈرون اور کروز میزائل فائر کیے ہیں،ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا، گولان کی پہاڑیاں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانے ایران کے حملوں کا نشانہ بنے، ایران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیا ب رہا، اسرائیلی اڈوں کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا۔

    ادھر ایران کے وزیر دفاع نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی ڈرون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا،اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل پر فوجی کارروائی دمشق میں ایرانی سفارتی احاطے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کی گئی، معاملہ اب ختم سمجھا جا سکتا ہے، اگر اسرائیلی حکومت نے کوئی اور غلطی کی تو ایران کا ردعمل کافی زیادہ سخت ہو گا، یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع ہے، امریکا کو اس سے دور رہنا چاہیے۔

    ادھر اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ایرانی ڈرونز سے جنوبی اسرائیل میں فوجی اڈے کو نقصان پہنچا، اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے میں ایک لڑکی زخمی ہوئی، خطرات ابھی ٹلے نہیں ، فورسزخطرات کا مقابلہ کر رہی ہیں،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں خوف کی فضا ہے ، تمام اسکولز اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل پر ایران کے ڈرون حملوں پر ایران میں شہریوں نے جشن منانا شروع کر دیا ایران کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے ڈرونز اور کروز میزائلز کے حملوں کے بعد تہران میں ایرانی شہری خوشی مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئےعوام ایران کے پرچم لے کر سڑکوں پر آگئے اور جشن بھی منایا، لبنانی دارالحکومت بیروت میں بھی اسرائیل پر ڈرون حملوں کی خوشی میں ریلی نکالی گئی۔

    ایران کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے ڈرون اور کروز میزائلز کے حملوں کے بعد امریکا اور اردن نے اسرائیل جانے والے کئی ایرانی ڈرونز مار گرائے ہیں امریکی لڑاکا طیاروں نے اسرائیل کی جانب پرواز کرنے والے درجنوں ایرانی ڈرونز کو تباہ کردیا امریکی لڑاکا طیاروں نے اردن سرحد کے قریب متعدد ایرانی ڈرونز مار گرائے۔

    دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق اردن کے جیٹ طیاروں نے بھی شمالی اور وسطی اردن سے اسرائیل کی طرف جاتے درجنوں ایرانی ڈرونز کو مار گرایاایرانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن کی جانب سے اسرائیلی حمایت میں جوابی حملوں پرنظر ہے، اردن ہمارا اگلا ہدف ہوسکتا ہے،ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو خبر دار کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کی حمایت نہ کرے اور ایران کے مفادات کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔

  • حملہ ختم،ڈرون اسرائیل پہنچنے سے قبل ہی ایران نے گھٹنے ٹیک دیئے

    حملہ ختم،ڈرون اسرائیل پہنچنے سے قبل ہی ایران نے گھٹنے ٹیک دیئے

    ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جوابی حملہ، ایران نے اسرائیل کے خلاف 100 ڈرون لانچ کر دیئے جبکہ کروز میزائل سے بھی حملہ کیا ہے

    ایران نے اسرائیل پر براہ راست ڈرون حملے کیے ہیں، ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے،اسرائیلی اور امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی طرف ایران نے ڈرون لانچ کئے ہیں،خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی ڈرون اسرائیلی فضائی حدود تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگیں گے۔ عراق پر ڈرون کی سرگرمی دیکھی گئی۔ اسرائیلی فوج اور فضائی دفاع ہائی الرٹ پر ہے،اسرائیلی ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے بند کر رہے ہیں،اسرائیل میں پناہ گاہیں کھول دی گئی ہیں، اسرائیل میں ہائی الرٹ ہے، اسرائیلی فضائیہ کے طیارے حرکت میں آ چکے ہیں.

    اسرائیلی سرزمین پر پہلا براہ راست ایرانی حملہ
    اسرائیل ڈیفنس فورس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف حملہ کیا ہے جس میں اب تک درجنوں "خود کش” ڈرون شامل ہیں جو اس وقت عراق سے گزر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈرونز کو اسرائیل تک پہنچنے کے لئے کئی گھنٹے لگیں‌گے،

    ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن کا کہنا ہے کہ آج رات کے حملوں کے بعد "معاملہ ختم سمجھا جا سکتا ہے”۔ اگر اسرائیل دوبارہ کوئی جوابی حملہ نہ کرے۔ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مشن کی جانب سے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران نے دفاعی حملہ کیا، جس کا اسے حق حاصل تھا، اگر اسرائیل دوبارہ حملے نہ کرے تو معاملے کو ختم سمجھا جا سکتا ہے،ایران کی فوجی کارروائی دمشق میں ہمارے سفارتی احاطے پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں تھی۔ اگر اسرائیلی حکومت نے ایک اور غلطی کی تو ایران کا ردعمل کافی زیادہ سخت ہوگا۔ یہ ایران اور بدمعاش اسرائیلی حکومت کے درمیان تنازعہ ہے، جس سے امریکہ کو دور رہنا چاہیے!

    اسرائیلی چینل 12 نے دعویٰ کیاہے کہ اسرائیل نے شام اور اردن پر کئی ایرانی ڈرونز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے ۔ایران نے 100کے قریب ڈرونز اور کروز میزائل فا ئر کئے تھے۔ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل، اردن کی فضاء میں غیر موثر کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی ڈرونز کی پہلی کھیپ اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہو گئی ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ کے لڑاکا طیاروں نے شام عراق سرحد کے قریب ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے۔وہیں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اہداف پر میزائل داغنے کی تصدیق کی ہے۔

    https://twitter.com/IranObserver0/status/1779266467617247595

    روس عالمی جنگ عظیم کے امکان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔روسی صدر
    روسی صدر کا کہنا ہے کہ ایران، حزب اللہ اور حوثیوں کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد، کل سے عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کی توقع ہے،مغرب کو گمراہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو خاص طور پر فلسطین اور غزہ کے شہریوں کے خلاف حملے میں مدد فراہم کرے۔روس عالمی جنگ عظیم کے امکان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

    https://twitter.com/Brics_Dollar/status/1779258160970129747

    ایرانی ڈرون حملوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم اسرائیل سے بھاگ گئے
    ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون لانچ کئے جانے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم اسرائیل سے بھاگ گئے،اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیلی ایوی ایشن نے فضائی حدود بند کر دی تا ہم ایک طیارہ اسرائیل سے باہر گیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ طیارہ حکومت کا ہے اور اس میں اسرائیلی وزیراعظم اسرائیل سے بھاگ گئے ہیں،ممکنہ طور پر کابینہ اراکین بھی ان کے ساتھ بھاگ گئے ہون‌گے.
    ایرانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جو بھی ملک اپنی فضائی حدود یا سرزمین اسرائیل کے لیے ایران پر حملے کے لیے کھولے گا اسے ہمارے فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا!

    ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی دفاعی افواج کے اعلان کے فوراً بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرون حملے کیے ہیں،ایک اسرائیلی اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے درجنوں ڈرون لانچ کیے ہیں۔عراقی سیکورٹی فورسز کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون عراقی فضاء سے اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں۔

    ایرانی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جو بھی ملک اپنی فضائی حدود یا سرزمین اسرائیل کے لیے ایران پر حملے کے لیے کھولے گا اسے ہمارے فیصلہ کن جواب کا سامنا کرنا پڑے گا.

    اردن کی سول ایوی ایشن ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا کہ ملک کی فضائی حدود تمام آنے والے، روانہ ہونے والے اور نقل مکانی کرنے والے طیاروں کے لیے عارضی طور پر بند کر دی جائے گی، کیونکہ پڑوسی ملک اسرائیل ایرانی حملے کے لیے ہائی الرٹ پر ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ ملک نے ایران یا اس کے پراکسیوں کے ممکنہ حملے کے خلاف مختلف ڈومینز بشمول زمین، فضائی، سمندری اور انٹیلی جنس سمیت اپنی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو تقویت دی ہے۔ اسرائیل اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گا، اور مزید کہا کہ ایران کے اقدامات اس کی "دہشت گرد ریاست” کی حیثیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اسرائیل کسی بھی قسم کی "دہشت گردی” کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے.

    دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق جب 50 ایرانی ڈرون اسرائیل میں داخل ہوں گے اور اسرائیلی فضائی دفاع کا آئرن ڈوم سسٹم مشغول ہونے لگے گا۔ ایران اسرائیل پر میزائل حملہ کرے گا جو 400 سیکنڈ میں اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے کل کے آسٹریا، ہنگری کے اپنے غیر ملکی دورے منسوخ کر دیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تمام افواج "مکمل الرٹ” پر ہیں اور درجنوں طیارے رن وے پر موجود ہیں، اسرائیل نے آج سے شروع ہونے والی تعلیمی اور نوجوانوں کی سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔ اعلیٰ اسرائیلی فوجی حکام آج رات ایک دفاعی میٹنگ کر رہے ہیں

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک براہ راست حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے مطابق جواب دیں گے۔”ہمارے دفاعی نظام کو تعینات کیا گیا ہے، اور ہم دفاع اور حملے دونوں میں کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کی ریاست مضبوط ہے، آئی ڈی ایف مضبوط ہے، عوام مضبوط ہے۔‘‘اگر اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا اور کسی حساس مقام پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل اس کا بھرپور جواب دے گا۔

    اسرائیل کی سلامتی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے،امریکی صدر
    اسرائیل پر ایرانی ڈرون لانچ ہونے کے بعدوائیٹ ہاؤس کا رد عمل سامنے آیا ہے،ترجمان وائیٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے ایران نے اسرائیل کے خلاف ہوائی حملہ شروع کر دیا ہے۔ صدر بائیڈن کو ان کی قومی سلامتی ٹیم کی طرف سے صورتحال کے بارے میں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے،وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ دیگر شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ صدر بائیڈن نے واضح کیا: اسرائیل کی سلامتی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے۔ امریکہ اسرائیل کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے خطے میں موجود امریکی فورسز کو حکم دیا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو اسرائیل میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیں۔ امریکی صدر بائیڈن وائٹ ہاؤس میں دفاعی اور فوجی حکام کے ساتھ ہیں جو اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے کی نگرانی کر رہے ہیں، صدر بائیڈن نے ابھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات کی ہے۔

    امریکہ نے قطر کے ذریعے ایران سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل پر حملہ بند کرے۔ ایران نے اس درخواست کو نظر انداز کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے مداخلت کی تو وہ امریکی اڈوں پر حملہ کر دے گا۔

    ایرانی ڈرون حملوں کے بعد یمن نے بھی اسرائیل پر ڈرون برسائے ہیں۔ کویت نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملے کے اعلان کے بعد اردن نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود میں موجود کسی بھی ڈرون کو مار گرائے گا۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ لبنان کے مرکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بعض خبروں کے مطابق ایرانی سرزمین کے علاوہ ایران کی دیگر پراکسیز بھی اپنے ڈرون حملے لانچ کر رہی ہیں۔

    ایران کو کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھانے کے نتائج کو بھگتنا ہوگا،اسرائیل

    قبل ازیں بھارت نے اپنے شہریوں کا ایران اور اسرائیل کا سفر کرنے سے روک دیا،ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی میں اضافے کے امکان کے پیش نظر بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک سفری ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جس میں بھارت کے تمام شہریوں‌کو ایران اور اسرائیل کا سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے، ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بھارتی شہری اگلے احکامات تک ایران اور اسرائیل کا سفر نہ کریں،جو لوگ ایران اور اسرائیل میں موجود ہیں وہ خود کو بھارتی سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں لائیں اور اپنا اندراج کروائیں تا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ان سے رابطے میں آسانی ہو، ایران اور اسرائیل میں جو شہری ہیں وہ بلا ضروت گھومنے پھرنے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیا ر کریں.

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے تعزیتی پیغام جاری کیاہے

    قونصل خانے پر حملہ ہماری سرزمین پر حملہ ،اسرائیل کو سزا ملے گی، آیت اللہ خامنہ ای

     فلسطینی مسلمان بھی اسرائیلی مظالم کےہوتے ہوئے بھی عید منا رہے ہیں

    مریم نوازشریف بے سہارا، بےگھر اور بے نوا لوگوں کے درمیان پہنچ گئیں

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں سمیت مزید 125 فلسطینی شہید 

  • ایران کو کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھانے کے نتائج کو بھگتنا ہوگا،اسرائیل

    ایران کو کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھانے کے نتائج کو بھگتنا ہوگا،اسرائیل

    تل ابیب: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی قسم کی کشیدگی بڑھانے کے نتائج کو بھگتنا ہوگا۔

    باغی ٹی وی: ایرانی فورسز کے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی کمپنی کے پرتگالی جہاز پر قبضے کے بعد اسرائیلی فوج کے ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری کا کہنا ہے کہ ایران نے کشیدگی میں اضافہ کیا تو نتائج بھگتے گا اسرائیل ہائی الرٹ ہے، ایران کی مزید جارحیت سے تحفظ کے لیے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں ردعمل کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی کمپنی کے پرتگالی جہاز پر قبضہ کرلیا اسرائیلی میڈیا کے مطابق پرتگالی جہاز ایم ایس سی ایریز اسرائیلی ارب پتی ایال اوفرکی کمپنی کا ہےاسرائیلی میڈیا کے مطابق ایرانی قبضے میں لیے گئے جہاز پر فلپائن کا 20 رکنی عملہ ہے ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسرائیلی کمپنی کا جہاز قبضے میں لینے کی تصدیق کردی ہے فلپائنی فلیگ والا بحری جہاز اسرائیلی بزنس مین کی کمپنی کا ہے۔

    دوسری جانب تین امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایران نے اس ہفتے کے شروع میں کئی عرب ملکوں کے ذریعے بائیڈن انتظامیہ کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی میں امریکہ کی شمولیت کی صورت میں خطے میں امریکی افواج پر حملہ کردیا جائے گا۔

    ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ کے مطابق تین امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ ایرانیوں نے حالیہ دنوں میں کئی عرب حکومتوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس اسرائیلی حملے کا ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے دمشق میں ایرانی جنرل جاں بحق ہوا اگر اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد امریکہ نے مداخلت کی تو خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا جائے گا۔ ہم ان قوتوں پر حملہ کریں گے جو ہم پر حملہ کرتی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی پیغام یہ تھا کہ ہم ان قوتوں پر حملہ کریں گے جو ہم پر حملہ کرتی ہیں۔ لہذا ہمارے ساتھ نہ الجھیں تو ہم آپ کے ساتھ گڑبڑ نہیں کریں گے۔

    امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا عمومی اندازہ یہ ہے کہ ایرانی اس وقت تک امریکی افواج پر حملہ نہیں کر سکتے جب تک امریکہ جوابی کارروائی میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دیتا۔

    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے سے باز رہے دمشق میں اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سینیر افسران کی ہلاکت کے بعد ایران نے اس حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا مگر فی الحال ایران کی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی گئی البتہ ایرانی قیادت کی طرف سے تل ابیب کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    جمعہ کو جب صحافیوں نے صدربائیڈن سے ایران کے لیے ان کے پیغام کے بارے میں پوچھا تو بائیڈن نے کہا کہ "میں ایرانیوں سے کہتا ہوں کہ وہ ایسا نہ کریں”روئٹرز کے مطابق انہوں نے اسرائیل کے دفاع کے لیے واشنگٹن کے عزم پر زور دیا ہم اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں ہم اسرائیل کی حمایت کریں گے ہم اسرائیل کے دفاع میں مدد کریں گے اور ایران کامیاب نہیں ہوگا معلومات کو ظاہر نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ایران کی طرف سے”جلد” حملہ ہوگا۔