Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ، ایف آئی اے نے خبردار کر دیا

    شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ، ایف آئی اے نے خبردار کر دیا

    کراچی: ایف آئی اے نے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور سائبر کرمنل بالخصوص خواتین کے اکاؤنٹس کو نشانہ بنارہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے عوام الناس کو خبردار کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شہریوں کے واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں سائبر کرمنل خواتین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سائبر کرمنل خواتین کے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کی ذاتی معلومات بشمول چیٹ، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے ان کا استحصال اور بلیک میل کرتے ہیں، سائبر کرمنلز واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے لیے جدید طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں جن میں فشنگ اور سوشل انجینئرنگ شامل ہیں، فشنگ کی حکمت عملی اکثر دھوکہ دہی کے پیغامات پر مشتمل ہوتی ہے جو صارفین کو ذاتی معلومات ظاہر کرنے یا بدنیتی پر مبنی لنکس پر کلک کرنے پر مائل کرتی ہیں۔

    ایف آئی کے مطابق سائبر حملوں میں بنیادی طور پر خواتین صارفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے ان کی ذاتی معلومات، تصاویر اور گفتگو تک رسائی حاصل کی جاتی ہے، پھرسائبر کرمنلزان ہیک شدہ اکاؤنٹس کو نامناسب مواد کی اشاعت اور فراڈ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں

    ایف آئی اے کے مطابق درج ذیل حفاظتی اقدامات کر کے آپ اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں:

    واٹس ایپ سیٹنگز میں ٹو سٹیپ ویریفکیشن کو فعال کریں، ٹو سٹیپ ویریفکیشن ایک اضافی حفاظتی پرت فراہم کرتا ہے جو آپ کے اکاؤنٹ کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔

    غیر متعلقہ /اجنبی نمبرز سے بھیجے گئے پیغامات یا فوٹوز، ویڈیوز یا فائلز کو اوپن کرنے سے گریز کریں۔ یہ پیغامات اکثر اسپام لنکس یا فائلوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں جو آپ کے موبائل فون کو نقصان یا آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اپنی ذاتی معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے اپنی واٹس ایپ پرائیویسی کی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ان کو اپ ڈیٹ کریں۔

    اگر آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات کریں:

    فوری طور پر ایف کی ہیلپ لائن 1991 پر رابطہ کریں یا قریبی ایف آئی اے سرکل کا وزٹ کریں،اپنے اکاؤنٹ پر کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے اور مناسب حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کرنے کے لیے واٹس ایپ ہیلپ سے رابطہ کریں،اپنے اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع اپنے قریبی دوستوں ، خاندان کے افراد اور اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کو دے دیں تا کہ وہ کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچ سکیں۔

  • ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    عمران خان کے آفیشل ایکس اکاونٹ سے ریاست مخالف پوسٹ تفتیش کا معاملہ،عمران خان شامل تفتیش ہو گئے

    ایف آئی اے کی ٹیم نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تفتیش کی،عمران خان اپنے وکلاء چوہدری ظہیر عباس، انتظار پنجھوتا کی موجودگی میں شامل تفتیش ہوئے،ایف آئی اے ٹیم نے عمران خان کو ان کے ایکس اکاونٹ سے پوسٹ دکھا کر تفتیش کی،عمران خان نے اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوالوں کے جوابات دییئے،

    تحقیقات کے بعد ایف آئی اے کی دو رکنی جیل سے واپس روانہ ہو گئی،ایف آئی اے کی دو رکنی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز اور سب انسپکٹر منیب احمد شامل تھے،ایف آئی اے کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی سے 1 گھنٹے سے زائد تفتیش کی، ایف آئی اے کی ٹیم نے آفیشل ایکس سے ریاست مخالف پوسٹ کی تشہیر پر تفتیش کی،

    واضح رہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم اس سے قبل بھی دو بار اڈیالہ جیل عمران خان سے تحقیقات کے لئے گئی تھی تا ہم عمران خان نے وکلا کی غیر موجودگی میں شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے ٹیم واپس لوٹ گئی تھی، آج اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت میں کیس کی سماعت تھی، عمران خان کے وکلا بھی موجود تھے، ٹیم دوبارہ گئی تو عمران خان شامل تفتیش ہو گئے.

    متنازعہ ٹویٹ کیس میں ایف آئی اے نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو بھی طلب کیا تھا، دونوں پیش ہو چکے ہیں اور بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں تا ہم دونوں نے عدالت میں بھی درخواست دائر کی تھی جس پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کے خلاف ایف آئی اے کو تادیبی کاروائی سے روک دیا , عدالت نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں ،ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے نہ تادیبی کاروائی کرے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کے خلاف تحریری حکم جاری کر دیا, عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کر لیا

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • بچوں کی سمگلنگ،صارم برنی پر درج مقدمے کی تفصیلات

    بچوں کی سمگلنگ،صارم برنی پر درج مقدمے کی تفصیلات

    گزشتہ روز انسانی سمگلنگ کیس میں گرفتار صارم برنی پر مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئیں، صارم برنی کی اہلیہ کو بھی ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات میں شامل کئے جانے کا امکان ہے، صارم برنی نے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی ہے

    صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ صارم برنی کیخلاف ایف آئی اے کے ہیومن ٹریفکنگ سیل میں پاکستان سے بچوں کی امریکا اسمگلنگ کے الزام میں پہلی ایف آئی آر 26/2024 درج کی گئی ہے، درج مقدمے میں حیا نامی نومولود بچی کو امریکا میں سمگل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، مقدمے کے مطابق ملزم صارم برنی نے گزشتہ ایک برس میں کم از کم بیس نومولود بچوں کو امریکی والدین کو گود دینے کے نام پر امریکا میں اسمگل کیا،جو بچے سمگل کئے گئے ان میں سے 15 لڑکیاں اور پانچ لڑکے تھے،

    صارم برنی کے خلاف امریکی ادارے بھی متحرک ہیں اور تحقیقات کر رہے ہیں، امریکی شکایت پر ہی صارم برنی کو گزشتہ روز امریکا سے پاکستان واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا،صارم برنی کو ان کے حالیہ دورہ امریکا کے دوران امریکی حکام نے سرویلنس میں رکھا تھا اور ان سے دو بار پوچھ گچھ بھی کی گئی تھی۔ صارم برنی کی جانب سے امریکا منتقل کیے گئے بچوں کا ریکارڈ سفارت خانے سے ایف آئی اے حکام کو فراہم کیا گیا ہے، حکام کے مطابق” ٹرسٹ کی دستاویزات میں صارم برنی کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی بینیفشری ہیں، سندھ حکومت سے دستاویزات کی تصدیق کے بعد صارم برنی کی اہلیہ عالیہ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا جا سکتا ہے”۔

    ایف آئی اے کے مطابق صارم برنی نے آخری مرتبہ حیا نامی بچی امریکا بھیجی تھی وہ بچی مبینہ طور پر اس کے والدین سے 10 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی، بچی کی خریداری میں صارم برنی کی ایک سے زائد افراد نے معاونت کی تھی، بچی کے والدین انتہائی غریب ہیں ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    صارم برنی دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
    دوسری جانب صارم برنی کو ایف آئی اے نے عدالت پیش کر دیا، عدالت نے صارم برنی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا،دوران سماعت صارم برنی کے وکیل نے صارم برنی کو رہا کرنے کی درخواست پر دلائل دیئے،صارم برنی کے وکیل نے کہا کہ صارم برنی کے خلاف کیس نہیں بنتاا نہیں رہا کیا جائے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ ہمیں صارم برنی کا بیان ریکارڈ کرنا ہے ، شریک ملزمان کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کرنی ہے، ہمیں کسٹڈی نہیں دی گئی تو شواہد ضائع کیے جانے کا خدشہ ہے اسلئے صارم برنی کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے.دوران سماعت صارم برنی کے وکلاء نے کہا کہ صارم برنی کی معاشرے کے لیے خدمات نمایاں ہیں، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ان کو گرفتارکیا گیا، ان کو سماجی خدمات پر ایوارڈز مل چکے ہیں، غلط کام کا تصور نہیں کر سکتے۔

  • متنازعہ ٹویٹ ،پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونےکا حکم

    متنازعہ ٹویٹ ،پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایف آئی اے کے سامنے پیش ہونےکا حکم

    بانی پی ٹی کے ایکس ہینڈل سے شیخ مجیب الرحمٰن متعلق پوسٹ کا کیس .پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کے خلاف ایف آئی اے کو تادیبی کاروائی سے روک دیا , عدالت نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں ،ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے نہ تادیبی کاروائی کرے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کے خلاف تحریری حکم جاری کر دیا, عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کر لیا

    متنازعہ ٹویٹ،بیرسٹر گوہر،رؤف حسن کا ایف آئی اے میں بیان قلمبند
    بانی پی ٹی آئی کے اکاونٹ دے متنازعہ ٹوئیٹ کا معاملہ ،ایف آئی اے نے ترجمان تحریک انصاف روف حسن اور بیرسٹر گوہر کا بیان قلمبند کر لیا،ایف آئی اے سائبر کرائم نے رؤف حسن سے چار گھنٹے تک تفتیش کی ،رؤف حسن انکوائری کے بعد میڈیا سے بات کیے بغیر روانہ ہوگئے ،بیرسٹر گوہر سے ایف آئی اے نے دو گھنٹے تک سوالات کیے ، ایف آئی اے پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل سپریم کورٹ میں نیب کیس میں عمران خان آن لائن پیش ہوں گے، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا کہا، ابھی تک اجازت نہیں دی گئی، کل بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا، آج ایف آئی اے نوٹس پر مجھے، عمر ایوب اور رؤف حسن کو انکوائری کیلئے طلب کیا گیا تھا، میں ایف آئی اے میں پیش ہوگیا، ایک گھنٹہ ایف آئی اے کے سوالات کے جوابات دیے . رؤف حسن سے بھی تفتیش کی گئی ہے جبکہ عمر ایوب کی جانب سے بذریعہ وکیل تحریری جواب دیا گیا، ایف آئی اے نے دوبارہ بلایا تو آئیں گے،عوام کا مینڈیٹ چوری نہیں ہونا چاہیے، بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی کوشش کریں گے۔ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ جو پارٹی جیتی ہے اس کو اس کا مینڈیٹ واپس دینا چاہیے اور مخصوص نشستیں بھی ہم اس تناظر میں مانگ رہے ہیں، اور ٹویٹ بھی اسی لیے تھا،

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے مندرجات پر مبنی ویڈیو کے پوسٹ کئے جانے پر ایف آئی اے کے نوٹس کا معاملہ ،مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اور قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب خان نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    ایف آئی اے کے نوٹس کے معاملے کو پارلیمان میں اٹھانے اور عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا بھی اعلان کر دیا،عمر ایوب خان نے ایف آئی اے کو نوٹس کا جواب تحریری طور پر بھجوا دیا ،جواب ممتاز ماہرِ قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی وساطت سے بھجوایا گیا ،جواب میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے ہمارے مؤکل عمر ایوب خان کو ایک ہتک آمیز نوٹس بھجوایا جس میں مبہم، مشکوک اور غیرقانونی سوالات پوچھے گئے،نوٹس سقوطِ ڈھاکہ سے جڑے واقعات سے متعلق ہے جس پر حکومتِ پاکستان نے کمیشن قائم کیا، اس کمیشن نے 1972 میں عبوری جبکہ 1974 میں مکمل رپورٹ ریاست کو جمع کروائی جسے نہ تو مسترد کیا گیا نہ ہی اس کے مندرجات کی تردید کی گئی، کمیشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں جنرل یحییٰ خان اور ہتھیار ڈالنے والے جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کے بیانات بھی قلمبند کئے اور انہیں رپورٹ کا حصہ بنایا، حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کابینہ ڈویژن میں موجود ہے، ایف آئی اے نہ تو تاریخ دانوں پر مشتمل ایک محکمہ ہے نہ ہی سپریم کورٹ اور 2 ہائیکورٹس سے بالا کوئی ادارہ ہے، ایف آئی اے کے اس نوٹس کا واحد مقصد ملک کے مقبول ترین سیاسی قائد عمران خان اور ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب کو نشانۂ انتقام بنانا ہے، ایف آئی اے جواب کی تیاری کیلئے حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل فراہم کرے، عمر ایوب اپنے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے اس نوٹس کے ذریعے کئے جانے والے پراپیگنڈے کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے اور اسے عدالت کے روبرو چیلینج کرنے کا حق بھی استعمال کریں گے،

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی منظم مہم تھی، ایف آئی  رپورٹ عدالت پیش

    معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی منظم مہم تھی، ایف آئی رپورٹ عدالت پیش

    جسٹس بابر ستار کیخلاف سوشل میڈیا مہم اور فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بینچ میں شامل ہیںدوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے آئی ایس آئی کی رپورٹ جمع کرائی گئی ۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے اپنی رپورٹ کا جائزہ پیش کیا گیا، رپورٹ کے مطابق ٹویٹ کرنے اور ری ٹویٹ کرنے والے چند اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی ۔رپورٹ سے صاف ظاہر ہے کہ معزز جج کیخلاف تین ہیش ٹیگز پر مبنی یہ ایک منظم مہم تھی، ایف آئی اے کی جانب سے ایکس انتظامیہ کو بھی مشکوک اکاؤنٹس کی معلومات کے لیے ایمرجنسی ڈسکلوژر ریکویسٹ بھیجی گئی ہیں۔
    حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے حکام کے مطابق چند مزید اکاؤنٹس سے متعلق معلومات آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے رکھی جائیں گی ۔عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل، امیگریشن حکام نے واضح کیا کہ گرین کارڈ محض ایک سفری دستاویز ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور امیگریشن حکام نے تسلیم کر لیا ہے کے گرین کارڈ کا مطلب شہریت نہیں ہے، اس وضاحت کے بعد حکومت نے جسٹس بابر ستار کے خلاف ٹویٹس میں الزامات کے جھوٹا ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی اے، آئی بی، ڈی جی امیگریشن، سی ٹی ڈی، پیمرا اور ایف بی آر کی رپورٹس عدالت میں جمع کرادی گئی ہیں۔تحریری حکم میں کہا گیا کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام اداروں کے رپورٹ تیار کرنے والے ایکسپرٹس مختصر پریزنٹیشن طلب کر لی ہے۔
    رپورٹ کے پہلے دو صفحات پر کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹس غیر فعال ہونے کے باعث پیش رفت نہیں ہوسکتی، جس ہر عدالت نے کہا کہ بڑی مایوسی کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ نامکمل ہے۔عدالت نے ففتھ جنریشن وار کے تناظر میں پوچھا کہ اگر صدر مملکت یا آرمی چیف پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے جائیں تو کیا آئی ایس آئی پھر بھی یہی جواب دے گی؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آئی ایس آئی ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ ہمیں ان دونوں سوالوں سے متعلق جواب نہیں مل سکا۔

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام،مسافر گرفتار

    جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام،مسافر گرفتار

    جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا،ایف آئی اے امیگریشن کی اسلام آباد ائرپورٹ پر بڑی کاروائی،جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے کو کوشش ناکام بنا دی گئی،ملک شہزاد نامی مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا، ملزم فلائٹ نمبر TK711 کے ذریعے اٹلی جا رہا تھا،ملزم کے پاسپورٹ پر اٹالین شینگن کا جعلی ویزا لگا ہوا تھا،ملزم کا تعلق گجرانوالہ سے ہے،ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے 30 لاکھ روپے کے عوض ایجنٹ سے مذکورہ ویزا حاصل کیا، ملزم کو بعد ازاں مزید قانونی کاروائی کے لئے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔مزید تفتیش جاری ہے

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق جعلی سفری دستاویزات بنانے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاون کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایجنٹوں اور سہولتکاروں کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ اپنی ذاتی دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں،شہری ویزا حصول کے لے ہمیشہ متعلقہ ملک کی ایمبیسی یا سفارتخانے سے رابطہ کریں،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • متنازع ٹویٹ، پی ٹی آئی نے ایف آئی اے طلبی نوٹس چیلنج کر دیا

    متنازع ٹویٹ، پی ٹی آئی نے ایف آئی اے طلبی نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پی ٹی آئی کی قیادت نے متنازع ٹویٹ کے حوالے سے کمپلینٹ اور ایف آئی اے کے طلبی کے نوٹسز کو چیلنج کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان، سیکرٹری اطلاعات روف حسن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی،درخواست میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹس سے ہونے والے ٹویٹ کا مقصد پاکستان کیلئے یکجا ہونے کا درس دینا تھا،ٹویٹ کا مقصد ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے نیشنل ڈائیلاگ کے اہتمام کی ترغیب دینا تھا، بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ہونے والے ٹویٹ کو سیاسی مخالفین نے توڑ مروڑ کر پیش کیا، سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے کمپلینٹ فائل کر دی جاتی ہے،کمپلینٹ میں کہا جاتا ہے کہ ٹویٹ سے مسلح افواج کے جوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر کی کمپلینٹ ایک کمپلینٹ نہیں، بلکہ ٹرائل کے بغیر فیصلہ معلوم ہوتا ہے، تفتیشی افسر کی جانب سے 31 مئی کو درخواست گزاران کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، اس کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کا مقصد درخواست گزران کو ہراساں کرنا ہے، عدالت کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے،درخواست کے زیر سماعت ہونے تک فریقین کو درخواست گزاران کو گرفتار کرنے یا ہراساں کرنے سے روکے، درخواست میں سیکٹری داخلہ، شکایت کنندہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے

    ایسے گراؤنڈز موجود نہیں جس سے پی ٹی آئی کو بین کیا جائے،بیرسٹر گوہر
    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہم نے آج سپریم کورٹ میں کہا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کی ہیں،سنی اتحاد کونسل بھی پی ٹی آئی کے کارکنان کی وجہ سے جیتی ہیں،سپریم کورٹ انصاف مہیا کرے گی، عوام کا حق ان کو ملے گا،ہماری 77 مخصوص نشستیں ہیں جو ہمیں ملنی چاہئے،انشاءاللہ ہماری مخصوص نشستیں ہمیں ملیں گی،یہ سیٹیں ہماری بہنوں، اور اقلیتوں کا حق ہیں،ایسے گراؤنڈز موجود نہیں جس سے پی ٹی آئی کو بین کیا جائے،تحریک انصاف محب وطن لوگوں کی جماعت ہے،اللہ کرے پاکستان کے تمام مسائل حل ہوں، جیسے سائفر میں ہوا ویسے ہی باقی کیسز میں بھی فیصلے آئیں گے،انصاف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے،بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرنے کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں،

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد سے چوری ہونیوالا کروڑوں روپے مالیت کا مال برآمد ،ملزمان گرفتار

    راولپنڈی پولیس نے ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کے مال خانہ سے چوری ہونے والا کروڑوں روپے مالیت کا مال مقدمہ برآمد کرکے سابقہ ایف آئی اے ملازم سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تھانہ مندرہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کو ٹول پلازہ پر رکنے کا اشارہ کیا، بھاگنے پر تعاقب کرکے ایل آر بی ٹی اسپتال کے قریب پکڑ لیا گیا، گاڑی کی تلاشی لینے پر ایف آئی اے تھانہ سی بی سی دفتر سیکٹر جی 13سے چوری کیے گئے مال مقدمات کے 7 پارسلز، موبائل فونز، وائرلیس سیٹ، گاڑی کی جعلی نمبر پلیٹس، سروس کارڈز، ایئرپورٹ پر داخلہ کا عارضی پرمٹ، قومی شناختی کارڈز، اے ٹی ایم کارڈز، موبائل سمز، ماسک، افغان سیٹیزن کارڈ اور ترکش کارڈ برآمد کرلیے۔

    ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان سعد انور اور محمد حمزہ نے اعتراف کیا کہ برآمد سامان ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز تھانہ کارپوریٹ بینکنگ سرکل سیکٹر جی 13 سے گزشتہ روز چوری کیا جس میں عبداللہ خان، مہتاب، علی اور حسن بھی ان کے ساتھ شامل تھے،گرفتار ایک ملزم ایف آئی اے سے جبری طور پر برطرف کیا گیا تھا جبکہ ملزمان کے 4 دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ایف آئی اے کے چوری ہونے والے مال مقدمات کے برآمدگی کے حوالے سے ایف آئی اے حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے،قبضہ میں لیے گئے مختلف پارسلز میں 5کروڑ سے زائد کی ملکی و غیر ملکی کرنسی موجود ہے-

  • ایف آئی اے کی کارروائی،جعلی دستاویزات  پر  بیرون ملک  جانےکی کوشش کرنے والے 4 مسافرگرفتار

    ایف آئی اے کی کارروائی،جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانےکی کوشش کرنے والے 4 مسافرگرفتار

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اےکے امیگریشن سیل کے عملے نےکراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانےکی کوشش کرنے والے 4 مسافروں کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں محمد عبداللہ، عامر اقبال، ابو سفیان اورگلفام احمد شامل ہیں، ملزم محمد عبداللہ، عامر اقبال اور ابوسفیان فلائٹ نمبر WY324 کے ذریعے وزٹ ویزے پر ترکی جا رہے تھے، ملزمان کے پاسپورٹ پر ترکی کے جعلی ویزے لگے ہوئے تھے،ملزمان کا تعلق سرگودھا، بمبر اور منڈی بہاؤالدین سے ہے۔

    ملزم گلفام احمد براستہ اسپین فلائٹ نمبر QR611 کے ذریعے اندورا (یورپ) جا رہا تھاملزم کے پاسپورٹ پر اندورا کا جعلی ورک ویزا لگا ہوا تھا، ملزم کی جانب سے پیش کیا جانے والے اسپین کا ٹرانزٹ ویزا بھی جعلی نکلا، ملزم کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے،گرفتار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا، ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے-

    آئی ایم ایف کا ایک بار پھر سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا …

    وزیر داخلہ محسن نقوی کے لندن میں3 اہم اداروں کے تفصیلی دورے

    ہم جنس پرستوں سے متعلق ماہرین کا نیا انکشاف