Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • لاکھوں روپے لوٹنے والا انسانی اسمگلر گرفتار

    لاکھوں روپے لوٹنے والا انسانی اسمگلر گرفتار

    ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ میں ملوث مطلوب ملزم ابراہیم خان کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم سال 2025 کے مقدمہ نمبر 290 میں مطلوب تھا،مقدمے کے مطابق ملزمان نے ڈنمارک کے ایمپلائمنٹ ویزے فراہم کرنے کے نام پر متاثرین سے فی کس 22 لاکھ روپے وصول کرنا تھے، جبکہ بیشتر رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی تھی۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزم بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم امیگریشن کلیئرنس کے دوران آئی بی ایم ایس (IBMS) سسٹم میں موجود اسٹاپ لسٹ میں ہٹ ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیاگرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کردیا گیا ہے، ملزم کے دیگر ساتھیوں اور سہولت کاروں کے کردار کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے۔

  • لاہور میں بڑا ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ ،بینک افسر سمیت 3 رکنی گروہ گرفتار

    لاہور میں بڑا ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ ،بینک افسر سمیت 3 رکنی گروہ گرفتار

    لاہور: ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ کے ایک بڑے کیس میں نجی بینک کے 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہواہے-

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق ملزمان نے بینکنگ سسٹم سے کروڑ پتی صارفین کا انتخاب کیا، ان کے موبائل نمبر، ای میل اور پتے تبدیل کیے، نئے اے ٹی ایم کارڈ حاصل کیے اور پھر اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیں،گروہ نے 5 مالدار صارفین کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے نکال لیے تھے تاہم کارروائی کر کے مزید صارفین کو نقصان سے بچا لیا گیا۔

    گروہ میں شامل نجی بینک کے ایک افسر نے مبینہ طور پر 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا اپنے ساتھیوں کو فراہم کیا، ملزمان نئے اے ٹی ایم کارڈز کی درخوا ست دینے کے بعد کسی دوسرے گھر کے باہر ریکی کرتے اور جعل سازی سے رائیڈر سے کارڈ وصول کرلیتے تھے ایف آئی اے نے تین رکنی گروہ کے قبضے سے 90 لاکھ روپے نقد اور اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے گرفتار ملزمان کی شناخت عبداللہ، عمران عزیز اور عاطف کے نام سے ہوئی۔

    ایف آئی اے نے شہریوں کو نئی نوعیت کے اس فراڈ سے محتاط رہنے اور اپنے بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کر دی۔

  • غیر قانونی گردہ پیوندکاری کیس:قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر شوکت بنگش گرفتار

    غیر قانونی گردہ پیوندکاری کیس:قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر شوکت بنگش گرفتار

    اسلام آباد :غیر قانونی گردہ پیوندکاری کیس، قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر شوکت بنگش گرفتار،ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی خصوصی ہدایت پر تشکیل دی گئی ٹیموں کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کارروائی، چھ ملزمان پہلے ہی گرفتار ہیں-

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ غیر قانونی اور کمرشل گردہ پیوندکاری کے منظم نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مالک ڈاکٹر شوکت بنگش کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی خصوصی ہدایت پر ایف آئی اے کی تشکیل کردہ ٹیموں نے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں، جس کے بعد اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر نمبر 16/2026 میں نامزد ڈاکٹر شوکت بنگش کو حراست میں لے لیا۔

    ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر شوکت بنگش پر الزام ہے کہ قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال میں مبینہ غیر قانونی اور کمرشل گردہ پیوندکاری کی سرگرمیوں میں سہولت کاری کی گئی، تحقیقاتی ٹیمیں ہسپتال انتظامیہ، متعلقہ طبی عملے اور دیگر افراد کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔

    اس مقدمے میں گردہ ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر نادر، ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹر عدیل شیرازی سمیت چھ ملزمان پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں ایف آئی اے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ سے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد گرفتار ملزمان جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈاکٹر شوکت بنگش کی گرفتاری کو تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے مبینہ نیٹ ورک میں ہسپتال انتظامیہ، عملے اور دیگر افراد کے کردار کے تعین میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

    گرفتار ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی جائے گی،مزید تحقیقات میں ہسپتال کے دیگر عملے کے ممکنہ کردار، مبینہ سہولت کاروں اور نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی شناخت بھی کی جائے گی

  • ایف آئی اے کاغیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 284 افراد ملک بدر

    ایف آئی اے کاغیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 284 افراد ملک بدر

    اسلام آباد:ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کی ہدایت پر غیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 284 افراد ملک بدر،ملزمان مبینہ طور پر لڑکیوں کی جعلی شناخت بنا کر پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے نام پر لوٹتے تھے، سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ مل گیا

    ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) عثمان انور کی خصوصی ہدایت پر آن لائن فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث غیر ملکیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے بعد گرفتار کیے گئے 284 افراد کو پاکستان سے فوری طور پر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ڈی جی ایف آئی اے نے آپریشن، تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جنہوں نے دن رات کام کرتے ہوئے گرفتار غیر ملکیوں کے قانونی، سفری اور انتظامی کوائف ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے عثمان انور نےمیڈیا نمائندےسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار افراد میں سے بیشتر مبینہ طور پر مختلف موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر لڑکیوں کی جعلی شناخت بنا کر پاکستانی شہریوں سے رابطے کرتے تھے اعتماد حاصل کرنے کے بعد انہیں مختلف کاروباری اور سرمایہ کاری اسکیموں میں بھاری منافع کا لالچ دیا جاتا اور بعدازاں ان سے رقوم ہتھیا لی جاتی تھیں۔

    ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق اس منظم طریقۂ واردات کے ذریعے متعدد پاکستانی شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا گیا ایسے فراڈ میں ملوث بہت سے غیر ملکیوں کو شواہد اور تکنیکی معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ پاکستانی شہریوں اور لوٹی گئی رقوم سے متعلق مزید تفصیلات بھی تحقیقات کے دوران سامنے آ رہی ہیں۔

    Exit Permit FIA 581-2026-2

    عثمان انور نے کہا کہ تحقیقات میں انتہائی تشویش ناک اور بھیانک حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں۔ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان منظم گروہوں کی صورت میں کام کرتے تھے اور ان کے پیچھے موجود متعدد مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔ بعض سرکاری محکموں سے وابستہ افراد یا افسران کی ممکنہ معاونت اور پشت پناہی کے پہلو کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے، تاہم کسی شخص یا ادارے کی ذمہ داری کا حتمی تعین مکمل تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    ایف آئی اے کی خصوصی ٹیموں نے کارروائی مکمل کرنے کے بعد وزارتِ داخلہ سے رابطہ کرکے گرفتار غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرائے اور ان کی ملک بدری کے لیے ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ جاری کروائے۔ وزارتِ داخلہ نے تمام 284 افراد کو آئندہ 15 روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں واقع اسپارکو پلازا میں ایف آئی اے کے بڑے آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔ ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور نے کارروائی کی براہِ راست نگرانی کرتے ہوئے متعلقہ ٹیموں کو ہدایت کی کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور ان کی ملک بدری کا عمل بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

    وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے 14 اگست 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے نمبر 5/2/2024-Visa کے مطابق یہ احکامات ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے مقدمہ نمبر 581/2026 کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔ مراسلے میں ایف آئی اے اسلام آباد زون کے 13 اگست 2026 کے خط نمبر DIZ/MISC/2026/1579 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

    سرکاری دستاویز کے مطابق تمام 284 غیر ملکیوں کے موجودہ ویزے منسوخ کرکے انہیں ایک مرتبہ پاکستان سے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ افراد درست سفری دستاویزات اور دیگر ضروری قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد 15 روز کے اندر پاکستان سے روانہ کیے جائیں گے۔

    وزارتِ داخلہ کی فہرست میں تمام غیر ملکیوں کے نام، پاسپورٹ نمبر، ویزا کیٹیگری اور قومیت درج ہے۔ گرفتار افراد میں اکثریت ویتنام، انڈونیشیا اور چین کے شہریوں کی ہے، جبکہ چند افراد کا تعلق دیگر ممالک سے بھی ہے۔ بیشتر غیر ملکی سیاحتی یا وزٹ ویزوں پر پاکستان آئے تھے۔

    وزارتِ داخلہ نے ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو ہدایت کی ہے کہ ان افراد کی روانگی کے فوراً بعد ان کے نام بلیک لسٹ اور فارنرز کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جائیں، تاکہ انہیں مستقبل میں دوبارہ پاکستان کا ویزا جاری نہ کیا جا سکے۔

    ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آن لائن مالی جرائم میں ملوث غیر ملکیوں، ان کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے خلاف تحقیقات جاری رہیں گی۔ جرم میں مدد فراہم کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے عہدے یا حیثیت سے قطع نظر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم

    ڈارک ویب جرائم کی نگرانی کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈارک ویب پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی، نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ قائم کردیا ہے-

    ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ یونٹ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں قائم جدید نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تحت کام کرے گا، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرموں کی شناخت، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والے مشکوک مالی لین دین کا سراغ لگایا جائےگا، یونٹ خاص طور پر جعلی سفری اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والے نیٹ ورکس، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر سائبر جرائم کی تحقیقات پر توجہ دے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ، ایف آئی اے کے کرپٹو کرنسی تحقیقاتی یونٹ کے ساتھ مل کر کام کرےگا اور بلاک چین فارنزکس اور اوپن سورس انٹیلی جنس جیسے جدید تحقیقاتی ذرائع استعمال کرےگا،مختلف مارکیٹ پلیسز، فورمز اور ویب سائٹس پر استعمال ہونے والے فرضی ناموں، یوزر نیمز اور شناختی علامات کا باہمی موازنہ کرکے حقیقی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔

    ایف آئی اے کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ انٹرنیٹ کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

    • سرفیس ویب (Surface Web): وہ عام ویب سائٹس جو گوگل جیسے سرچ انجنز پر نظر آتی ہیں، مثلاً خبریں، سوشل میڈیا اور آن لائن اسٹورز۔

    • ڈیپ ویب (Deep Web): وہ مواد جو سرچ انجنز میں شامل نہیں ہوتا، جیسے بینکنگ سسٹمز، ای میل اکاؤنٹس، تعلیمی ڈیٹا بیس اور نجی نیٹ ورکس، جن تک رسائی کے لیے خصوصی اجازت یا لاگ اِن درکار ہوتا ہے۔

    • ڈارک ویب (Dark Web): ڈیپ ویب کا وہ خفیہ حصہ جو عام براؤزر سے قابلِ رسائی نہیں ہوتا اور جہاں خصوصی سافٹ ویئر، جیسے Tor (The Onion Router)، کے ذریعے گمنام انداز میں رسائی حاصل کی جاتی ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق ڈارک ویب کی گمنامی اور خفیہ نوعیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، جن میں: انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات کی خرید و فروخت، منشیات اور اسلحے کی تجارت، چوری شدہ حساس معلومات اور ڈیٹا کی فروخت، سائبر حملے، ہیکنگ ٹولز اور میل ویئر کی خرید و فروخت، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیاں، کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی مالی لین دین

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈارک ویب پر سرگرم بیشتر جرائم سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں، اس لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون بھی ان جرائم کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہوگا،نئے تحقیقاتی یونٹ کا مقصد انہی جدید تقاضوں کے مطابق سائبر جرائم کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

  • ملتان ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک جانے والے 4 مسافر آف لوڈ

    ملتان ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک جانے والے 4 مسافر آف لوڈ

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کے شبہ اور جعلی دستاویزات رکھنے پر 4 مسافروں کو پرواز سے اتار دیا ہے۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق، آف لوڈ کیے جانے والے مسافروں میں تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں جو آذربائیجان، سعودی عرب اور بحرین جانے کی کوشش کر رہے تھے مسافر اپنے سفر کے مقصد اور دستاویزات کے حوالے سے امیگریشن حکام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، جس کی بناء پر انہیں سفر کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ بحرین جانے والی دو خواتین کے موبائل فونز سے ایکواڈور کے ویزے برآمد ہوئے ہیں، جو انہوں نے حکام کے سامنے ظاہر نہیں کیے تھے۔ حکام نے چاروں مسافروں کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں

  • بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    بیرونِ ملک جانے کی کوشش، صوبائی وزیر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر تعلیم وبلدیات مینا خان آفریدی کو پشاور ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم وبلدیات میناخان آفریدی کو ایف آئی اے حکام نے پشاور ائیرپورٹ سے بیرون ملک جانے سے روک دیا میناخان جرمنی میں ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کےلئے جارہے تھے،میناخان آفریدی کو پشاورباچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ایف آئی اے حکام نے اس وقت بیرون ملک جانےسےروکا جبکہ وہ ابوظہبی کے لئے روانہ ہورہے تھے میناخان آفریدی کی ابوظہبی سے جرمنی پروازشیڈول تھی، وہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کے لئے جا رہے تھے انہیں ایف آئی اے حکام نے امیگریشن سے پہلے ہی روکا۔

    صوبائی وزیر نے ایکس پر بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کی واضح اجازت کے باوجود انہیں ایف آئی اے امیگریشن نے فلائٹ پر سوار ہونے سے روکا وہ جرمن یونیورسٹی کی خصوصی دعوت پر بیرون ملک جا رہے تھے، جہاں دورے کے دوران کئی اہم سرکاری و تعلیمی معاملات طے کیے جانے تھے۔

    انہوں نے ایئرپورٹ پر روکے جانے پر شدید مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک مقام ہے کہ اب ملک میں ہائیکورٹ کے احکامات کو بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران صوبائی وزیر مینا خان کو اپنے سرکاری فرائض کے سلسلے میں بیرون ملک دورے کی اجازت دے رکھی تھی، دو روز قبل جاری کیے گئے عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ مینا خان کا نام پی این آئی ایل میں شامل ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کو جرمنی میں تقریب میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے، درخواست گزار یونیورسٹی تقریب میں شرکت کے بعد 16 جون کو واپس آ ئیں گے، ایف آئی اے عارضی طور پر درخواست گزار کا نام لسٹ سے نکال دے۔

  • جعلی دستاویزت پر افغانستان جانے کی کوشش  میں 5 افراد گرفتار

    جعلی دستاویزت پر افغانستان جانے کی کوشش میں 5 افراد گرفتار

    امیگریشن حکام نے پشاور میں طورخم بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

    پشاور میں طورخم بارڈر پر جعلی دستاویزات کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی،پشاور میں طورخم بارڈر پر امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی منی فیسٹ کے ذریعے افغانستان جانے کی کوشش ناکام بنا دی اور 5 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد نادرا سسٹم کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھےملزمان نے جعلی منی فیسٹ حاصل کرنے کے لیے فی کس 50 ہزار روپے ادا کیے ابتدائی تفتیش کے دوران ’فہد‘ نامی ایجنٹ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی عمل میں سہولت کاری کر رہا تھا گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • 2 کروڑ روپے کا فراڈ ،مفرور شریک ملزم سابق بینکر  گرفتار

    2 کروڑ روپے کا فراڈ ،مفرور شریک ملزم سابق بینکر گرفتار

    کراچی:2 کروڑ روپے کے فراڈ میں مفرور شریک ملزم سابق بینکر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق 20 ملین روپے خورد برد کیس میں مفرور شریک ملزم کو ایک بڑی کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا ، ملزم ایف آئی آر نمبر 26/21 میں مطلوب تھا، مرکزی ملزم سابق بینکر پہلے ہی ایف آئی اے کی تحویل میں ہے ملزمان نے کسٹمر سے ٹرم ڈپازٹ کے نام پر 20 ملین روپے کا چیک حاصل کیا اور چیک کو بدنیتی سے استعمال کرتے ہوئے ڈمی اکاؤنٹ کے حق میں پے آرڈر تیار کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق رقم دوسرے بینک میں قائم ڈمی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی بعد ازاں پوری رقم نکال لی گئی، شریک ملزم سابق بینکر نے اس فراڈ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے مفرور تھا،ملزم کو اولڈ سبزی منڈی سے گرفتار کیا گیا ہے، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • کراچی: 2 کروڑ روپے کے مالی فراڈ میں ملوث بینک ملازم گرفتار

    کراچی: 2 کروڑ روپے کے مالی فراڈ میں ملوث بینک ملازم گرفتار

    کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑ روپے کے مالی فراڈ میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت محمد ندیم کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے بینکر ہےکارروائی ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نے خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی،ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم نے ایک کسٹمر کے چیک کا دھوکہ دہی سے غلط استعمال کیا۔

    مذکورہ چیک دراصل ٹرم ڈپازٹ رسید (ٹی ڈی آر) کے حصول کے لیے جاری کیا گیا تھا تاہم ملزم نے اسے اصل مقصد کے بجائے پے آرڈر بنانے کے لیے استعمال کیا، ملزم نے بعد ازاں اسی پے آرڈر کے ذریعے 20 ملین روپے کی رقم فراڈ سے نکلوائی جس کے نتیجے میں کسٹمر کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    ایف آئی اے ٹیم نے بروقت اور مربوط کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا، جبکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے،کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات متوقع ہیں۔