Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی دوست فرح گوگی کو پاکستان لانے کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نے وزارت داخلہ سے اجازت مانگ لی ۔ ذرائع کے مطابق فرح گوگی کو اشتہاری قرار دینے کے لئے عدالت سے ریڈ وارنٹ حاصل کئے جائیں گے۔

    فرح گوگی کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔ اسٹیٹ بنک کی ہدایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا فرح گوگی کے اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز ہوئیں تھیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے فرح گوگی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے پنجاب اینٹی کرپشن لاہور کی طرف سے فرح گوگی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف بھیجی گئی درخواست پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    فرح گوگی گزشتہ دورِ حکومت میں آر پی اوز، کمشنرز، ڈی پی اوز اور ڈی سی وغیرہ کے تبادلوں کے عوض اربوں روپے بطور رشوت لیتی رہیں۔ فرح گوگی نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں سال 2021 میں 60 کروڑ روپے مالیت کی 10 ایکڑ اراضی اپنی کمپنی المعیز ڈیریز اینڈ فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر غیر قانونی طور پر صرف 8 کروڑ میں الاٹ کروائی۔

    ایف آئی آر کے مطابق اس کے علاوہ فرح گوگی نے سرکاری افسران پر دباؤ کے ذریعے ٹھیکہ جات کے ٹینڈرز غیر قانونی طور پر ایوارڈ کروانے کی مد میں بھی کروڑوں روپے بطور رشوت لیے۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ فرح گوگی کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں گزشتہ دور حکومت کے پچھلے تین سالوں میں تقریباً 84 کروڑ روپے جمع کروائے گئے جو اس کے ذرائع آمدن سے مماثلت نہیں رکھتے ہیں۔

    فرح گوگی کے تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر گزشتہ دور حکومت میں تقریباً ایک ارب روپے سے زائد بذریعہ کیش جمع کروائے گئے۔ صرف سال 2019 اور 2020 میں فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباَ41 کروڑ روپے بذریعہ کیش جمع کروایا گیا۔ فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں 50 سے زائد کیش رائیڈرز نے جمع کروایا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    تحقیقات کے دوران فرح گوگی کے اربوں روپے کے مزید بے نامی بینک اکاؤنٹس ملنے کا امکان ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں فرح گوگی کے نام پر بننے والے تقریباً 52 کروڑ روپے مالیت کے اثاثہ جات بشمول لاہور اور اسلام آباد میں کمرشل و رہائشی پلاٹ، پلازے اور گھر سامنے آئے ہیں۔

    فرح گوگی نے کرپشن، رشوت اور غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ و دباؤ کے ذریعے اربوں روپے کمائے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثہ جات بنائے۔ ایف آئی اے لاہور نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔

    آئندہ فرح گوگی کے کمائے گئے کالے دھن سے جڑے اور بڑے بڑے سیاسی و سرکاری نام بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔

  • عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    عمران خان کی گرفتاری سے متعلق خبروں پرایف آئی اے کا بیان سامنے آ گیا

    لاہور:عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں گرفتاری سے متعلق ایف آئی اے نے بیان جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نےعمران خان کی گرفتاری سے متعلق مختلف نیوز چینلز پر چلنے والی خبروں کی تردید کردی،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا،نیوز چینلز پر اس حوالے سے چلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں-

    پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ،وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل

    واضح رہے کہ یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ ایف آئی اے نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے،خبریں تھیں کہ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے لاہور کی 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے،ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز خان ورک کی قیادت میں ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتار کرے گی۔ عمران خان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد سے آئی ہوئی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

    عمران خان 4 بجے لاہورہائیکورٹ پہنچ جائیں گے،حماد اظہر

    ایف آئی اے ذرائع کے حوالے سے خبروں میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے پہلے عمران خان کو زمان پارک سےگرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر کارکنوں کے شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے اب ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اور پولیس نے تیاری مکمل کر لی ہے،پولیس ایف آئی اے کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ایف آئی اے اور پولیس کے اعلی حکام نے اس سلسلے میں وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ وکلاء سے تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

  • پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ،وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل

    پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ،وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل

    لاہور: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے لاہور کی 4 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے-

    عمران خان کی گاڑی کو لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت مسترد

    ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور سرفراز خان ورک کی قیادت میں ٹیم مقامی پولیس کی مدد سے عمران خان کو گرفتار کرے گی۔ عمران خان کو گرفتاری کے بعد اسلام آباد سے آئی ہوئی ٹیم کے حوالے کیا جائے گا۔

    ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے پہلے عمران خان کو زمان پارک سےگرفتار کرنے کا پروگرام بنایا تھا مگر کارکنوں کے شدید رد عمل کو دیکھتے ہوئے اب ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے بعد گرفتار کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے اور پولیس نے تیاری مکمل کر لی ہے۔

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گمشدگی کا معاملہ، سندھ پولیس نےعدالت میں جواب جمع کرادیا

    پولیس ایف آئی اے کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گی ایف آئی اے اور پولیس کے اعلی حکام نے اس سلسلے میں وکلا کی مختلف تنظیموں سے بھی مشاورت مکمل کر لی ہے تاکہ وکلاء سے تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی گاڑی کو عدالت کے احاطے میں داخلے کی اجازت کی درخواست مسترد کردی ہے لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد عزیز شیخ نے بطور انتظامی جج فیصلہ سنایا۔عمران خان کے وکلا نے گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانے کے لیے رجوع کیا تھا۔

    درخواست مسترد ہونے کے بعد اب لیگل ٹیم عمران خان سے لاہور ہائیکورٹ پیشی پر دوبارہ مشاورت کرے گی۔

    فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ایڈمن سےعمران خان کی گاڑی کوعدالتی احاطے میں لےجانے کی اجازت مانگی تھی۔عمران خان پرپہلے قاتلانہ حملہ ہوچکا ان پر دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے۔ڈاکٹرز نےٹانگ کی ہڈی فریکچر ریکوری کےلیے دھکم پیل سے احتیاط کی ہدایات دی ہے۔

    کوئٹۃ سے گرفتار مبینہ خودکش بمبار خاتون کوآج عدالت میں پیش کیا جائے گا

  • ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کو طلب کر لیا

    ایف آئی اے نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کو طلب کر لیا

    فیصل آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سابق وزیر مملکت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کو طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کی جانب سے فرخ حبیب کو بھیجے گئے نوٹس میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائزاستعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں ایف آئی اے نے فرخ حبیب کو 21 فروری کو طلب کیا ہے-

    ڈی آئی خان : سابق ناظم اعلیٰ نے پی ٹی آئی کو خیر باد کہہ دیا

    ایف آئی اے کے نوٹس پر اپنے ردعمل میں فرخ حبیب نے کہا کہ پہلے فواد چوہدری کو اسلام آباد لے جانے سے روکنے پر ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا گیا، اب مجھے ایف آئی اے کی جانب سے من گھڑت انکوائری کا نوٹس مل گیا ہے۔

    فرخ حبیب نے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتنی انتقامی کارروائیاں کرنی ہیں کر لو، عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، حق سچ کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

    قبل ازیں فرخ حبیب نے کہا ہےکہ ہمارا کوئی رہنما جیل جانے سے نہیں ڈرتا، عمران خان جب کال دیں گے ہم ملک کی جیلیں بھر دیں گے حکومت جو آئی ایم ایف سے معاہدے کرنے جا رہی ہے، عام آدمی کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنےجارہے ہیں۔

    واضح پیغام دے رہا ہوں ملک ڈیفالٹ نہیں کرے گا، صدر مملکت عارف علوی

    پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے، جنرل باجوہ آج آکر جواب کیوں نہیں دیتے جنہوں نے ان کو لا کر بھٹایا تھا۔

  • آڈیو لیکس معاملہ: شوکت ترین کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    آڈیو لیکس معاملہ: شوکت ترین کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پر غداری کے مقدمے میں ایف آئی اے نے مزید پیش رفت شروع کر دی۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزم شوکت ترین کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی گئی-

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اشتہاری قرار دینے کے بعد ایف آئی اے گرفتاری کے لئے اقدامات کرے گا۔ ملزم شوکت ترین کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے بھی مدد لی جائے گی۔

    شوکت ترین کی لیک آڈیو پر انکے خلاف مقدمہ درج ہے جس میں صوبائی وزرائے خزانہ تیمور جھگڑا اور محسن لغاری کو بھی نامزد کیا گیا ہے،یہ مقدمہ راولپنڈی کے رہائشی ارشد محمود کی مدعیت میں پیکا ایکٹ، 124a اور 505 پی پی سی کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے تینوں سابق وزرا پر آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    مقدمے میں 2 آڈیو کلپس کا ذکر ہے، جس میں شوکت ترین ہدایت دیتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ’’یہی لکھنا اور کچھ نہیں لکھنا‘‘۔آڈیو کے متن کے مطابق شوکت ترین نے کہا کہ ’’دیٹس آل ہم چاہتے ہیں کہ وہ جو ہے کہ ان سالوں کے اوپر پریشر پڑے‘‘۔یہ اپنا معاملہ کھنچ رہے ہیں اور ہمیں اندر کروا رہے ہیں۔ہمارے اوپر دہشت گردی کے مقدمے کروا رہے ہیں۔ یہ بالکل سپاٹ فری جارہے ہیں، وہ نہیں ہونے دینا ہم نے ۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق محسن لغاری نے کہا کہ کیا پاکستان بحیثیت ریاست اس کی وجہ سے نقصان اٹھا سکتا ہے؟ تو شوکت ترین نے کہا کہ سچ کہوں تو آپ کو معلوم ہے کہ جس طرح سے آپ کے چیئرمین اور باقی سب کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے ریاست کو تکلیف نہیں ہو رہی۔

    مقدمے کے مطابق ملزم شوکت ترین نے واضح طور پر وزیر خزانہ سے کہا کہ خطوط لکھیں جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی متعلقہ وزارتیں فاضل بجٹ وفاقی حکومت کو واپس نہیں کریں گی۔ جس سے حکومت و آئی ایم ایف کے مابین جاری معاہدے شدید متاثر ہوں گے۔ دوران تفتیش ملزم شوکت ترین کو طلب کیا گیا اور مبینہ آڈیو کلپس کے مواد کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔

    متن میں مزید تحریر ہے کہ شوکت ترین تسلی بخش جوابات نہ دے سکے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم فوری معاملے سے متعلق حقائق کو چھپا رہا ہے۔ اس کے پیچھے اپنے ارادوں اور مقاصد کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ مبینہ گفتگو و اس طرح کی کارروائیوں سے عوامی سکون میں خلل پڑ سکتا ہے اور ریاست کے ستونوں کے مابین صورتحال خراب پیدا ہو سکتی ہے ۔

    مقدمے کے متن کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال کی وجہ سے ریاست کے ہر شہری کے لیے خوف، خطرے اور دھمکی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ مبینہ گفتگو کو ریاست کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

  • شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج

    شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    باغی ٹی وی: شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کو ناکام کرنے کیلئے شوکت ترین نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو کال کی-
    FIR 42 2023 (2)
    ایف آئی اے کے مطابق شوکت ترین کی گفتگو آئی ایم ایف ڈیل کو نقصان پہنچانے کیلئے تھی،شوکت ترین قومی مفادات اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں –

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل شوکت ترین کی آئی ایم ایف سے تعاون نہ کرنے کے حوالےسے آڈیو لیک وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پنجاب اورخیبرپختونخوا کے اس وقت کے وزرائے خزانہ سے بات کر رہے تھے،وفاقی حکومت نے شوکت ترین کی آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے معاملہ ایف آئی کو بھجوایا تھا-

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کتھا کہ آڈیو لیک کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حکومت نے ایف آئی اے کو شوکت ترین کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے

    پی ایس ایل 8: سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کرنےکی منظوری

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شوکت ترین عمران خان کے بہکاوے میں آگئے تھے، ایف آئی اے نے آڈیو لیک کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کی اجازت مانگی جو حکومت نے دے دی۔ وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ادارے عمران خان کے خلاف بھی تحقیقات کررہے ہیں اور عنقریب ان کی گرفتاری کا مرحلہ بھی آنے کو ہے۔عمران خان نیازی کی چوریاں پکڑی گئی ہیں ثبوت بھی موجود ہے عدالتیں فیصلہ بھی کریں گی بہت جلد عمران خان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے ۔

  • ایف آئی اے شوکت ترین کو جلد گرفتار کرنے کیلئے تیار

    ایف آئی اے شوکت ترین کو جلد گرفتار کرنے کیلئے تیار

    ایف آئی اے شوکت ترین کو جلد گرفتار کرنے کیلئے تیار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینٹر شوکت ترین کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات مکمل کرلی۔ تحقیقات کے بعد ایف آئی اے نے شوکت ترین کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی حکومت نے شوکت ترین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے خزانہ کے ساتھ گفتگو کی لیک آڈیو پر تحقیقات کے لیے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوایا تھا۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ شوکت ترین کی گفتگو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ڈیل کو نقصان پہنچانے کیلئے تھی، شوکت ترین قومی مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایف آئی اے نے کارروائی کیلئے وزارت داخلہ سے اجازت طلب کرلی ہے، اجازت ملنے پر شوکت ترین کو گرفتار کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں شوکت ترین، تیمور جھگڑا اور محسن لغاری کا ایک مبینہ آڈیو کلپ سوشل میڈیا پرلیک ہوگیا جس میں سابق وفاقی وزیرخزانہ پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے ساتھ معاہدے سے متعلق بات کررہے ہیں۔ مبینہ آڈیو کلپ میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پنجاب کے وزیرخزانہ محسن لغاری کو آئی ایم ایف ڈیل سے متعلق معاملہ اٹھانے پرکہتے ہیں ، “ ہم ایسا سین کریں گے نا کہ یہ نہ نظر آئے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں“۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    مبینہ آڈیو ٹیپ خیبر پختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور جھگڑا کی جانب سے وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کو خط لکھنے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سرپلس چھوڑنا ناممکن ہوگا۔ اتحادی حکومت نے اس خط کے ردعمل میں پی ٹی آئی کی آئی ایم ایف ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی سازش ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری اس سے قبل ایسے خطوط کا اشارہ دے چکے ہیں جبکہ شوکت ترین نے اتوار کے روزاپنی ٹویٹ میں مفتاح اسماعیل کو خبردارکیا تھا کہ اگرخیبرپختونخوا کے مسائل حل نہ ہوئے تو پنجاب حکومت کی جانب سےبھی اسی طرح کا خط لکھا جائے گا۔

  • قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے

    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے سے متعلق معروف اداکارہ مہوش حیات، کبری خان کی درخواستوں پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے سے متعلق معروف اداکاراؤں مہوش حیات اور کبریٰ خان کی درخواستوں پر سماعت ہوئی جس میں پی ٹی اے، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے نے اپنے جواب جمع کرائے۔

    جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت پر مواد ہٹانے کی ہدایت دی تھی، کیا مواد ہٹا دیا گیا؟جس پر سرکاری وکیل نے مؤقف دیا کہ مہوش حیات کا بیان لے لیا گیا ہے تاہم کبری خان کا بیان لینا باقی ہے۔

    تفتیشی افسر سائبر کرائم نے بتایا کہ پی ٹی اے کو مواد ہٹانے کا کہہ دیا گیا ہے۔ متعلقہ مواد جلد ہی ہٹا دیا جائے گا۔

    پی ٹی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ قابل اعتراض مواد جو خود ہٹا سکتے تھے وہ ہٹا دیا گیا۔ جس مواد کو بیرون ملک سے ہٹایا جانا ہے اس کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایف آئی اے نے شکایت نمبرز جاری کرکے تحقیقات شروع کردیں ہیں جلد ہی مواد ہٹا دیا جائے گا اور تحقیقات کرلی جائیں گی۔

    عدالت نے پی ٹی اے، وفاقی حکومت، ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ مہوش حیات اور کبریٰ خان نے عادل راجا کے بیان کیخلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ دائر درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر من گھڑت، بے ہودہ الزامات سے ساکھ کو نقصان پہنچا، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تمام مواد ہٹایا جائے۔

  • کیسے تم اس پوسٹ پر لگے ہوئے ہو؟ عدالت کا ڈائریکٹر ایف آئی اے سے مکالمہ

    کیسے تم اس پوسٹ پر لگے ہوئے ہو؟ عدالت کا ڈائریکٹر ایف آئی اے سے مکالمہ

    لاہور ہائی کورٹ ،مونس الہی کی اہلیہ تحریم الہی کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپ کو کہا تھا اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ فائل کریں،کیا صرف انکوائری کی بنیاد پر کسی شہری کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے۔ منی لانڈرنگ کا ایک کیس تو ہائیکورٹ نے خارج کر دیا ہے ۔ وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ یہ کیس منی لانڈرنگ نہیں اس سے مختلف ہے ۔ عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سرفراز ورک سے استفسارکیا کہ پی این آئی ایل سمیت اور کتنی کیٹگریز ہیں جس کے تحت نام ڈالا جاتا ہے، یہ سارا معاملہ سیاسی نوعیت کا ہے ۔ کیا تم لوگوں نے نوکری کرنی ہے یا الیکشن لڑنا ہے ۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ ہم نے درخواستگزار کو بلایا تھا کہ سات آٹھ سوال ہیں انکے جواب دے دیں ۔

    جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو آپ انکوائری کریں، انکوائری پر کوئی حکم امتناع تو نہیں ہے ۔عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوسٹنگز زیادہ دیر تک نہیں چلتیں ۔ آئندہ سماعت پر ڈی جی ایف آئی اے کو کہیں کہ وہ پیش ہوں اور پی این ایل آئی کی لسٹ لیکر آئیں ۔ ایف آئی اے نے اپنے جواب میں ممکنات کا ذکر کیا ہے ۔ اپنی طرف سے تم ڈائریکٹر ہو لیکن تم کاپی پیسٹ کرتے ہو کیسی باتیں کرتے ہو ۔کیسے تم اس پوسٹ پر لگے ہوئے ہو ۔یہ چاہتا ہے یہ ہائیکورٹ سے سیدھا اپنے گھر جائے ۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے تفصیلی جواب جمع کرانے کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو شاید اپنے کیریئر کا خیال نہیں ہے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں جھوٹ بولا ہے ۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت میں کہا کہ میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں ۔ جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر آپکی معافی کو دیکھیں گے ۔لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ جمعے تک ایف آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ