Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    پی ٹی آئی رہنما کی ایف آئی اے طلبی کی درخواست پر فریقین سے جواب طلب

    لاہورہائیکورٹ میں فواد چوہدری کی ایف آئی اے کی طلبی کے نوٹس کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے اہف آئی اے کو فواد چوہدری کے خلاف تادیبی کاروائی سے روکنے کے حکم میں 7 اپریل تک توسیع کردی ،عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا ،عدالتی حکم پر ایف آئی اے کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ جمع کرا دی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ فواد چوہدری کی ٹویٹ کے حوالے سے انکوائری جاری ہے۔

    فواد چودھری کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز نے ری ٹویٹ میں ایف آئی اے سائبر کرائم کو فواد چوہدری کے خلاف کاروائی کا لکھا۔ اگلے ہی روز ایف آئی اے نے فواد چوہدری کو طلبی کا نوٹس بھجوا دیا۔ ایف آئی اے نے سیاسی دباو پر غیر قانونی کاروائی کرتے ہوئے نوٹس بھجوایا۔ ایف آئی اے کے ذریعے انتخابی مہم سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت ایف آئی اے کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کوکالعدم قرار دے۔

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    لاہورہائیکورٹ، پولیس، ایف آئی اے کوعمران خان کیخلاف کاروائی سے روکنے کا حکم واپس

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت کے باوجود شہر میں کنٹیرز لگا کرراستوں کی بندش کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے کی بناء پر نمٹا دی، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ جلسہ ہوچکا اور راستے بھی کلئیر درخواست غیر موثر ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے حماد اظہر کی درخواست پر سماعت کی ، عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دی عدالتی حکم پر ضلعی انتظامیہ نے این او سی بھی جاری کیا۔ جلسے کو ناکام بنانے کے لئے شہر کےداخلی راستوں اور اہم شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا۔راستوں کی بندش سے عام شہریوں کی نقل وحرکت بھی محدود کردی گئی۔
    جلسے کی اجازت کے باوجود رکاوٹوں کا لگایا جانا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے عدالت راستوں کو فوری طور پر کھولنے اور کنٹینرز ہٹانے کے احکامات صادر کرے۔

  • فیصل آباد میں ایف آئی اے کی کارروائی،شہریوں کو کال کرکےلوٹنے والا منظم گروہ گرفتار

    فیصل آباد میں ایف آئی اے کی کارروائی،شہریوں کو کال کرکےلوٹنے والا منظم گروہ گرفتار

    فیصل آباد: ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نےایک کارروائی کرتےہوئےشہریوں کو کال کرکےلوٹنے والے منظم گینگ کے 4ارکان کوگرفتار کرلیا جن کے قبضے سے 9 موبائل فونز اور متعدد سمز برآمد کر لی گئی ہیں-

    باغی ٹی وی: ترجمان کے مطابق منظم گینگ سادہ لوح شہریوں سے بذریعہ کال فراڈ کرنے میں ملوث تھا۔ ملزمان خود کو شکایت کنندگان کا رشتےدار ظاہر کرتے ہوئے کال کرتے اور من گھڑت پریشانیوں کا اظہار کرتے ہوئے پیسے ہتھیا لیتے تھے۔

    ملتان: میگا کرپشن اسکینڈل میں ملوث پی ٹی آئی گرفتار


    ملزمان دھوکا دہی کے لیے خود کو بینک ملازمین بھی ظاہر کرتے ہوئے فراڈ کرتے تھے اور متعدد شہریوں سے لاکھوں روپے بٹور چکے تھے۔ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو شاہ کوٹ ننکانہ سے گرفتار کیا گرفتار ملزمان میں محمد رشید، محمد اویس، محمد عدیل اور تصور منظور شامل ہیں، ۔ ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکا میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    دوسری جانب فیصل آباد میں ہی جعل سازوں نے جعلی ہاؤسنگ اسکیموں کے ذریعے شہریوں کو 6 ارب روپے کا چونا لگادیا ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے 300 سے زائد افراد کوسرمایہ کاری کاجھانسہ دے کر فراڈ کیا جس میں ملزمان نے جعلی اسکیموں میں پلاٹ خریدنے پر بھاری انعامات کا لالچ دیا۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائی،بھاری مقدار میں منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے قیمتی گاڑیاں اور بے نامی جائیدادیں بنا رکھی ہیں جب کہ ملزمان نے شہریوں سے لوٹی رقم غیرقانونی طریقے سے دبئی منتقل کی مالکان سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جب کہ تین ملزمان بھی زیرحراست ہیں۔

  • محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج

    لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن کا مقدمہ خارج ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: اختیارات سے تجاوز کے مقدمے میں اینٹی کرپشن نے محمد خان بھٹی کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جبکہ محمد خان بھٹی کی جانب سے رانا انتظار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک نے محمد خان بھٹی پر کرپشن کے کیس میں پہلے سے محفوظ فیصلہ سنایا عدالت نے محمد خان بھٹی کے درج اختیارات سے تجاوز کا مقدمہ خارج کر دیا اینٹی کرپشن حکام نے ملزم محمد خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نےمحمد خان بھٹی رواں ماہ 22 تاریخ کو گرفتارکیا تھا ایف آئی اے کےمطابق محمدخان بھٹی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج تھا اینٹی کرپشن عدالت سے محمد خان بھٹی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے نے کیس میں گرفتارکیا تھا –

    دریں اثنا محمد خان بھٹی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ بعض اہم عدالتی شخصیات پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام لگا رہے ہیں ویڈیو میں محمد خان بھٹی کا کہنا تھاکہ ایک عدالتی شخصیت کےدو بیٹے کرپشن کر رہے ہیں، پرویز الٰہی نے کہا یہ حق میں فیصلے کراتے ہیں، اِن کا کام رکنا نہیں چاہیے ویڈیو میں محمد خان بھٹی سے سوال کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کیسے مینج ہورہی ہے؟ اس پر انہوں جواب دیا کہ لاہور ہائیکورٹ علی افضل ساہی کے ذمے ہے۔

    دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزا لٰہی نے اپنے سابق پرنسپل سیکرٹری کے ویڈیو بیان پر رد عمل میں کہا تھا کہ نامعلوم افراد کے ذریعے اٹھا کرمرضی کا بیان لینا وطیرہ بن چکا ہےمریم نواز اور شریف خاندان چاہتاہے ججز ان کے دباؤ میں رہیں، شریف خاندان سمجھتا ہے کہ جو فیصلے ان کے حق میں صرف وہی ٹھیک ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف مقدمات کی درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات ہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی۔

    باغی ٹی وی :اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

    احتساب عدالت میں پیشی،عثمان بزدار کورونا کا شکار ہوگئے

    عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی حد تک مقدمات کی تفصیلات عدالت میں جمع کرائی گئی جو آئی جی اسلام آباد اورایف آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی، دستاویزات میں ایک ہی دن عمران خان پر 15 مقدمات درج کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے-

    پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف 29 مقدمات درج ہیں، پولیس کے 28 اور ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا، پولیس کے مقدمات میں سے ایک مقدمہ خارج ہوچکا۔

    گزشتہ برس 26 مئی کو مختلف تھانوں میں 15 مقدمے درج کیے گئے، 26 مئی کو تھانہ ترنول میں درج مقدمہ عدالت خارج قرار دے چکی ہے 7 مقدمات تفتیش کے مراحل میں ہیں جبکہ باقی مقدمات میں عمران خان کے خلاف ٹرائل جاری ہے ایف آئی اے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج مقدمہ بینکنگ کورٹ میں زیر سماعت ہےلانگ مارچ والے دن 25 مئی کو بھی تھانہ کراچی کمپنی میں مقدمہ درج کیا گیا۔

    انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    عمران خان کے خلاف مقدمات کی فہرست میں 2014 کے دو مقدمے بھی شامل ہیں جبکہ سال 2022 اور 2023 میں 26 مقدمے بنائے گئے 2 مقدمات سال 2014 میں درج کئے گئے تھے اور 14 مارچ 2023 کو 3 نئے مقدمات بنائے گئے۔

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ کوئی ایک مقدمہ ہو تو سمجھ آتی ہے، یہاں بہت سے ہیں، آئی جی کے نمائندہ بھی یہاں عدالت میں ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے مقدمات کی تفصیل پیش ہونے پردرخواست نمٹاتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ بیٹھ کر تمام صورتحال کو دیکھیں اور فیصل چوہدری کے ساتھ رابطے میں رہیں-

    پاکستان،سعودی عرب، امارات ،ترکیےاور دیگر ممالک کی ڈنمارک میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے …

  • عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جاری ہونے کے بعد اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے دعوے غلط ثابت ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے خلاف تقریباً 100 مقدمات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہےتاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے (پنجاب) اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر درج مقدمات کی تعداد 37 ہے۔

    عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 28 مقدمات اسلام آباد، 6 پنجاب اور ایک مقدمہ بلوچستان میں درج ہے جب کہ فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت 2 مقدمات ایف آئی اے میں درج ہیں۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی دیگر لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کی بھی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں، جن کے مطابق تحریک انصاف کی دیگرلیڈرشپ اورکارکنان کےخلاف 127 مقدمات درج ہیں جسمیں اسلام آباد میں پی ٹی آئی لیڈرشپ اور کارکنان کے خلاف 43 مقدمات درج ہیں جبکہ پنجاب میں 84 مقدمات درج ہیں۔

    عمران خان نے 7 مقدمات میں عبوری ضمانت کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرا …

  • عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےعمران خان کی مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پرسماعت کی اس موقع پر وکلا کی جانب سے عدالت پہنچنے میں دشواری کی شکایت کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی اسی طرح آیا ہوں آپ کے پارٹی لیڈر آرہے ہیں، انہی کے لیے سیکیورٹی لگائی ہوئی ہے۔

    عدالت میں پیشی کیلئے عمران خان لاہور سے اسلام آباد روانہ

    وکیل فیصل فرید نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے گزشتہ روز کے بیان کی کاپی عدالت کے سامنے پیش کی اور کہا کہ صورت حال یہ ہے یہاں پر ضمانت کرا کے نکلتے ہیں تو فیک ایف آئی آر میں اٹھا لیا جاتا ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے درخواست منظور کرنے کی استدعا کی جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کہ آپ نے درخواست کر رکھی ہے کہ غیرقانونی گرفتاری روکیں، آپ کی درخواست منظور کروں تو آپ کے کلائنٹ گرفتار ہوجائیں گے، کیا میں کہہ دوں غیرقانونی نہیں تو قانونی گرفتار کرلیں؟ اپنے کلائنٹ کے ساتھ یہ نہ کریں، میں صرف اس عدالت کے دائرہ اختیار تک احکامات دے سکتا ہوں۔

    فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی عدالت نے نوازشریف کی صحت کی ضمانت مانگی تھی، اس پر عدالت نے کہا کہ میں کسی ایسی چیز میں نہیں جانا چاہتا، بائی بک ہی چلتا ہوں۔

    حسان نیازی کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    بعد ازاں عدالت نے ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کی حد تک تفصیلات طلب کرلیں اور کل تک عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس پر مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

  • افغانی پاسپورٹ کے ساتھ جعلی پاکستانی پاسپورٹ، ملزم ایئر پورٹ سے گرفتار

    افغانی پاسپورٹ کے ساتھ جعلی پاکستانی پاسپورٹ، ملزم ایئر پورٹ سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی ملک بھر میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ایف آئی اے امیگریشن نے لاھور ائرپورٹ پر کارروائی کی ہے ،ایف آئی اے امیگریشن نے لاھور ائرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر کو گرفتار کر لیا ، نور اسلام نامی افغان مسافر عمان سے ڈیپورٹ ہوا تھا۔ملزم فلائٹ نمبر WY343کے ذریعے عمان سے لاہور ڈیپورٹ ہوا تھا۔ دوران تلاشی ملزم سے افغانی پاسپورٹ اور جعلی پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوا۔ ملزم نے پاکستانی پاسپورٹ پر ملازمت کے غرض سے ایران سے عمان جانے کی کوشش کی۔ جعلی پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرنے پر ملزم کو عمان سے ڈیپورٹ کر دیا گیا۔

    ملزم کا تعلق افغانستان کے شہر کابل سے ہے۔ملزم نے ملازمت کے غرض سے پشاور کے رہائشی ایجنٹ کو 435000 روپے ادا کر کے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا۔ملزم نے رقم ایجنٹ کے بینک اکاونٹ میں جمع کروائی تھی۔ملزم واٹس ایپ نمبر کے ذریعے ایجنٹ سے رابطے میں تھا ملزم کو قانونی کارروائی کے لئے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل لاھور منتقل کر دیا گیا۔

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی: فواد چوہدری کا اعلان 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    دوسری جانب ایف آئی اے کے پی زون کی درگئ میں کارروائیاں کی گیں، ڈائریکٹر کے پی زون مجاہد اکبر خان کی ہدایت پر ہنڈی حوالہ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سرکل پشاور افضل خان نیازی کی زیرنگرانی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کے قبضے سے 29لاکھ 23 ہزار روپے اور ہنڈی حوالہ سے متعلق رسیدیں برآمد کر لی گئی ہیں، گرفتار ملزمان میں سدیس، زار محمد اور فیضان شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف 3 مقدمات درج کر لیے گئے۔مزید تفتیش جاری ہے۔

  • لیبیا کشتی حادثے میں ملوث گینگ کے دو ملزمان گجرات سے گرفتار

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث گینگ کے دو ملزمان گجرات سے گرفتار

    لاہور: ایف آئی اے کمپوزیٹ سرکل گجرات نے کشتی حادثہ میں ملوث منظم گینگ کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ دنوں اٹلی کے بعد لیبیا میں بھی کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا جس میں 3 پاکستانی جاں بحق ہوئےلیبیا کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلرزکےخلاف مقدمہ حادثےمیں جاں بحق منیب الرحمان کےوالدکی مدعیت میں درج کیاگیاجس پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ میں نامزد 6 ملزمان میں سے 2 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کرلیا۔

    گرفتار ملزمان میں راجہ راحیل اور سفیان شامل ہیں گرفتار ملزمان کا تعلق گجرات سے ہے ملزمان کو کھاریاں سے گرفتار کیا گیا،افسوسناک واقعہ سے پہلے ملزمان لیبیا کشتی حادثے کا شکار افراد کے لواحقین سے پیسے وصول کرتے تھے ملزمان وصول کئے گئے پیسے گینگ کے سرغنہ کو ٹرانسفر کرتے تھے۔

    ملزمان پیسے وصول ہونے کے بعد اگلی منزل کا تعین کرتے تھے ملزمان کی گرفتاری کے لئے جدید وسائل کو بروئے کار لایا گیا۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے غلام سرور وڑائچ کے مطابق گرفتار ملزمان میں راجا راحیل اور سفیان شامل ہیں ،ملزمان کو گجرات،کوٹلہ ارب علی خان سے گرفتار کیا گیا مقدمے میں نامزد دو انسانی اسمگلر حمزہ اور آفاق لیبیا میں مقیم ہیں جبکہ ملزم حمزہ انسانی اسمگلنگ کے گروہ کا سرغنہ ہے

    ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے نے بھی گزشتہ روز نوٹس لیتے ہوئے انسانی سمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔ ملزمان کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کا فیصلہ

    ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی دوست فرح گوگی کو پاکستان لانے کے لئے انٹر پول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے نے وزارت داخلہ سے اجازت مانگ لی ۔ ذرائع کے مطابق فرح گوگی کو اشتہاری قرار دینے کے لئے عدالت سے ریڈ وارنٹ حاصل کئے جائیں گے۔

    فرح گوگی کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیاہے۔ اسٹیٹ بنک کی ہدایت پر یہ مقدمہ درج کیا گیا تھا فرح گوگی کے اکاؤنٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز ہوئیں تھیں۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے فرح گوگی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے پنجاب اینٹی کرپشن لاہور کی طرف سے فرح گوگی کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے خلاف بھیجی گئی درخواست پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    فرح گوگی گزشتہ دورِ حکومت میں آر پی اوز، کمشنرز، ڈی پی اوز اور ڈی سی وغیرہ کے تبادلوں کے عوض اربوں روپے بطور رشوت لیتی رہیں۔ فرح گوگی نے فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ میں سال 2021 میں 60 کروڑ روپے مالیت کی 10 ایکڑ اراضی اپنی کمپنی المعیز ڈیریز اینڈ فوڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام پر غیر قانونی طور پر صرف 8 کروڑ میں الاٹ کروائی۔

    ایف آئی آر کے مطابق اس کے علاوہ فرح گوگی نے سرکاری افسران پر دباؤ کے ذریعے ٹھیکہ جات کے ٹینڈرز غیر قانونی طور پر ایوارڈ کروانے کی مد میں بھی کروڑوں روپے بطور رشوت لیے۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ فرح گوگی کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں گزشتہ دور حکومت کے پچھلے تین سالوں میں تقریباً 84 کروڑ روپے جمع کروائے گئے جو اس کے ذرائع آمدن سے مماثلت نہیں رکھتے ہیں۔

    فرح گوگی کے تمام بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر گزشتہ دور حکومت میں تقریباً ایک ارب روپے سے زائد بذریعہ کیش جمع کروائے گئے۔ صرف سال 2019 اور 2020 میں فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباَ41 کروڑ روپے بذریعہ کیش جمع کروایا گیا۔ فرح گوگی کے بینک اکاؤنٹس میں 50 سے زائد کیش رائیڈرز نے جمع کروایا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    تحقیقات کے دوران فرح گوگی کے اربوں روپے کے مزید بے نامی بینک اکاؤنٹس ملنے کا امکان ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں فرح گوگی کے نام پر بننے والے تقریباً 52 کروڑ روپے مالیت کے اثاثہ جات بشمول لاہور اور اسلام آباد میں کمرشل و رہائشی پلاٹ، پلازے اور گھر سامنے آئے ہیں۔

    فرح گوگی نے کرپشن، رشوت اور غیر قانونی سیاسی اثر و رسوخ و دباؤ کے ذریعے اربوں روپے کمائے اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اثاثہ جات بنائے۔ ایف آئی اے لاہور نے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا۔

    آئندہ فرح گوگی کے کمائے گئے کالے دھن سے جڑے اور بڑے بڑے سیاسی و سرکاری نام بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

  • صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    صوفیہ مرزا کو بڑا دھچکا، عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کے اغوا کا مقدمہ خارج کردیا

    لاہور کی مقامی عدالت نے عمر فاروق ظہور کے خلاف بیٹیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ خارج کردیا۔

    باغی ٹی وی :جوڈیشل مجسٹریٹ لاہور غلام مرتضیٰ ورک نے فیصلے میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کو لاہور میں مقدمہ درج ہی نہیں کرنا چاہیے تھا 14 برس قبل بچیوں زینب اور زنیرہ کے اغوا کا مبینہ واقعہ کراچی میں ہوا تو کارروائی بھی وہیں ہونی چاہیے تھی۔

    عدالت نے حکم دیا کہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہ نہیں ہے اس لیے اس کیس کی فائل تمام انکلوژرز اور شواہد کے ساتھ استغاثہ کو واپس کر دی جاتی ہے تاکہ اسے مناسب فورم پر دائر کیا جا سکے۔

    عدالت میں عمر ظہور کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ 2013 میں حل ہوچکا، صوفیہ مرزا نے 10 لاکھ لے کر کیس نمٹا دیا تھا۔

    ایف آئی اے نے مقدمے میں لائبیریا کے سفیر عمر فاروق، صدف ناز اور محمد زبیر کو نامزد کیا تھا،مجسٹریٹ کے فیصلے کے بعد تفتیشی عمل مکمل کرنے کیلئے کیس ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    عمر فاروق ظہور نے شکایت کی درج کرائی تھی کہ ان کی سابق اہلیہ صوفیہ مرزا سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر (مرحوم) ڈاکٹر رضوان کے ساتھ مل کر سازش کی اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور اغوا کے جعلی مقدمات درج کرائے تاکہ ان پر ایف آئی اے کو سزا دی جائے۔

    انتقام کی مہم اور آج کے آرڈر آف لرنڈ مجسٹریٹ نے اپنے موقف کی توثیق کی ہے کہ شہزاد اکبر نے ایف آئی اے لاہور کو اس حقیقت کے باوجود کہ ایف آئی اے لاہور کے دائرہ اختیار میں کمی کے باوجود ایف آئی اے لاہور کو اپنے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے پر مجبور کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صدف ناز کی درخواست کے مطابق کراچی میں 2009 میں ہونے والے مبینہ جرم کی ایف آئی آر کے اندراج میں 10 سال سے زائد کی غیر وضاحتی تاخیر ہوئی ہے اور استغاثہ نے 9 گواہ پیش کیے ہیں لیکن وہ جرم کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ملزم کے خلاف مواد صدف ناز نے استدعا کی تھی کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے "جعلی اور فرضی” کیس میں گھسیٹا گیا اس لیے ان کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ جج غلام مرتضیٰ ورک کے فیصلے کے بعد کیس اب باقی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کراچی کو بھیجا جائے گا۔

    اس حوالے سےعمر فاروق ظہورکا کہنا تھا کہ سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا نے جون 2020 میں نےانتقامی کارروائی کیلئےجعلی مقدمہ درج کرکے ایف آئی کو ملوث کیا تھا، مقدمہ درج کرانے کیلئے صوفیہ مرزا کو سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر رضوان کی معاونت حاصل تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ایف آئی اے کو غلط مقدمہ درج کرنے کیلئے مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ سال جون میں جیو اور دی نیوز نے تحقیقات کے بعد انکشاف کیا کہ صوفیہ مرزا کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر مبینہ فراڈ اور 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے شہزاد اکبر نے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کیلئے صوفیہ مرزا کو شکایت درج کرانے کا مشورہ دیا، شکایت وزارت داخلہ کے ذریعے پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ تک پہنچی تاہم کابینہ نے عمر فاروق ظہور اور ان کے عزیز کے خلاف 16 ارب روپے کے مبینہ فراڈ کی ایف آئی اے کو تحقیقات کی اجازت دی۔

    ایف آئی اے نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد عمر فاروق ظہور کے خلاف دو کیسز درج کیے، تحقیقات کے مطابق عمر فاروق ظہور اور شریک ملزم نے ناروے اور سوئٹزرلینڈ میں فراڈ کیے، اوسلو میں 2010 میں 89.2 ملین ڈالر کا بینک فراڈ اور برن میں 12 ملین ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا۔

    ایف آئی اے کو شکایت میں خوش بخت مرزا نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بطور اداکارہ و ماڈل صوفیہ مرزا کے نام سے معروف ہیں، صوفیہ مرزا نے شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا کہ عمر فاروق ظہور ان کے سابق شوہر ہیں۔

    شکایت میں الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور نےکئی ممالک میں فراڈ کیا اور ناروے میں سزا یافتہ اور مطلوب ہے،عمر فاروق ظہور نے مبینہ طور پر 9.37 ملین ترک لیرا کا بھی فراڈ کیا، گھانا میں 510 ملین ڈالر کا مشکوک معاہدہ بھی کیا، عمر فاروق ظہور کے پاس کالے دھن کے کئی ملین ڈالر اور پاکستان و دبئی میں کئی جائیدادوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

    صوفیہ مرزا نے سابق شوہر پر سونے کی اسمگلنگ، مہنگی گاڑیاں اورگھڑیوں کی ملکیت اور سونا و رقم گھر میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔

    ماڈل صوفیہ مرزا نے ایف آئی سے استدعا کی کہ وہ پاکستان کو بدنام کرنے والے شخص کے خلاف تحقیقات کرے، کابینہ میں شہزاد اکبر کی طرف سے پیش کی گئی سمری کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کیا گیا تھا کابینہ کو یہ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی کہ خوش بخت مرزا ہی اصل میں صوفیہ مرزا ہیں،کابینہ کو عمر فاروق ظہور کے خوش بخت کا سابق شوہر ہونے اور جڑواں بچیوں کی تحویل کی لڑائی سے بھی لا علم رکھا گیا۔

    جوڑے کی 2008 میں طلاق کے بعد بچیاں اپنی مرضی سے والد کے ساتھ دبئی میں مقیم ہیں، کابینہ کو اس بات سے بھی لاعلم رکھا گیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی اعلیٰ عدالتوں میں بچیوں کی تحویل کا معاملہ طے ہوچکا ہے۔

    صوفیہ مرزا نے بدعنوانی کے دو مقدمات سے قبل سابق شوہر پر بچیوں کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا، والدین پر اپنے بچوں کے اغوا کا مقدمہ نہ بننے کے قانون کے باوجود شہزاد اکبر کی ہدایت پر عمر فاروق ظہور کے خلاف مقدمہ بنا، کابینہ میں سمری کی منظوری کے بعد عمر فاروق ظہور کا نام ایگزٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا، قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر ناقابل ضمانت وارنٹس کے اجرا کے علاوہ پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بلیک لسٹ کردیے گئے، انٹرپول کے ذریعے عمر فاروق ظہور کی گرفتاری کیلئے ریڈ وارنٹس بھی جاری کر دیے گئے۔

    عمر فاروق ظہور نے لائبیریا کے سفیر کے طور پر ایف آئی اے کے اقدامات کو ختم کرانے کیلئے کارروائی شروع کی، عدالتی کارروائی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹس اور ریڈ وارنٹس منسوخ ہوئے۔

    عدالت نے یہ مشاہدہ کیا کہ اشتہاری قرار دینے سے قبل مجوزہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا، عدالت نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ 2019 سے لائبیریا کا سفیر ہونے کی حیثیت سے عمر فاروق ظہور کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

    عمر فاروق ظہور کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس جاری کیا، عمر فاروق کو استثنیٰ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کرائےگئے۔

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ایف آئی اے نے ڈفیوژن نوٹس کی اجازت کے حوالے سے انٹرپول سے جھوٹ بولا، ایف آئی اے کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کیلئے عمر فاروق نے جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک سے رابطہ کیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹس لاہور غلام مرتضیٰ ورک کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ دونوں کیسز میں نہ تو ناقابل ضمانت وارنٹس جاری کیےگئے اور نہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی، عمر فاروق ظہور کا نام سرخیوں میں اس وقت آیا جب سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عمران خان کے غیرقانونی احکامات ماننے سے انکار کا انکشاف کیا۔

    بشیر میمن پر مارچ 2022 میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے عمر فاروق کو پاکستان کے دورے کرنے کی غیر قانونی اجازت دی، سوئس حکام نے 7 دسمبر 2020 کو تصدیق کےشواہدکی کمی اور ٹائم بار کے سبب عمر فاروق کے خلاف کیس خارج کردیا گیا۔

    ترک باشندے کی طرف سے لگائےگئے فراڈ کے الزام کی نیب نے انکوائری کی، کرپشن کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر اگست 2013 کو احتساب عدالت نے عمر فاروق کو کلین چٹ دی تھی۔

    مئی 2020 میں ناروے حکام نے بینک فراڈ کیس عدم ثبوت پر عمر فاروق کے خلاف کیس بند کردیا تھا، سوئٹزرلینڈ اور ناروے کی طرف سے عمر فاروق ظہور پر کیسز ختم ہوتے ہی ان پر پاکستان میں عجلت میں کیسز بنائےگئے۔