Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی ہراسگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے میں نئے ڈائریکٹر آئے ہیں،ایف آئی اے ڈائریکٹر اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی کا آزادی رائے کا حق متاثر نہ ہو،عدالت نے ،پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی ہراسگی سے متعلق درخواست نمٹا دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ایف آئی اے کو ہدایت کے ساتھ نمٹا دی ،عدالت نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے متاثرہ فریقین کے ساتھ کوآرڈینیشن کیلئے نمائندہ مقرر کریں، ایف آئی اے قانون کے مطابق کارروائی کرے کسی کو ہراساں نہ کیا جائے،ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائمز یقینی بنائیں کہ کسی کو ہراساں نہ کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ڈائریکٹر سائبر کرائم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نئے آئے ہیں، عدالت کو آپ پر مکمل اعتماد ہے، اس عدالت کو آپ سے توقع ہے کہ آپ اختیارات کے غلط استعمال کو ختم کرینگے ایف آئی اے جو بھی کرے وہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے،ایف آئی اے نے ایس او پیز بنائے تھے ان پر بھی عمل نہیں ہو رہا،وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کسی کی فیملی کو ہراساں نہ کرے، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پہلے ہراسگی کرتا رہا ہے اب آپ نے اسے ختم کرنا ہے،تنقید ہو سکتی ہے مگر کسی کو اشتعال نہیں دلا سکتے، ہم یہ درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا رہے ہیں،اگر کوئی شکایت ہو تو ڈائریکٹر سائبر کرائم کو بتائیں،ہم نہیں چاہتے کہ یہ دوبارہ کورٹ آئیں،آپ سے پہلے جو تھے وہ کافی اس عدالت آتے تھے، وکیل نے کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو ہم عدالتی اوقات کے بعد بھی عدالت سے رجوع کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ پوچھتے ہیں کہ رات کو عدالت کیوں لگی تو یہ 2019 کا نوٹی فکیشن ہے،

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی حراسگی، پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی تھی ،سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی حراسگی،پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا تھا

    پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس، آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی ایف آئی اے سائبر ونگ کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جارہے ہیں،پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مار کر انکی فیملیز کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے،اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سیاسی بنیادوں پر چادر چار دیواری پامال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جائے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا پیکا ترمیمی آرڈی نینس کالعدم کرنے کے فیصلے کا بھی درخواست میں حوالہ دیا گیا

    واضح رہے کہ اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

    دوسری جانب ترجمان خیبر پختونخواہ حکومت بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈ امہم کا حصہ نہیں فوج مقدس فریضہ سرانجام دے رہی ہے ، ان کی قربانیوں سے انکار نہیں پی ٹی آئی اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈ امہم کے خلاف ہے،پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن مہم میں ملوث پایا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے خلاف کارروائی شروع ہوچکی ہے

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو ہراساں کرنے کے حوالہ سے درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ڈی جی ایف آئی اے یقینی بنائیں کہ انکے افسر قانون کی خلاف ورزی نہ کریں، ڈی جی ایف آئی اے یقینی بنائیں کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ کی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ رات کو بھی یہ درخواست لے آتے تو انٹرٹین کر لی جاتی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر دی

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی حراسگی، پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی ،سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی حراسگی،پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

    پی ٹی آئی کے علی نواز اعوان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائرکردی درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس، آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی ایف آئی اے سائبر ونگ کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جارہے ہیں،پی ٹی آئی کارکنان کے گھروں پر چھاپے مار کر انکی فیملیز کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے،اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سیاسی بنیادوں پر چادر چار دیواری پامال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جائے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا پیکا ترمیمی آرڈی نینس کالعدم کرنے کے فیصلے کا بھی درخواست میں حوالہ دیا گیا

    واضح رہے کہ اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

  • پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند

    پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند

    پیکا آرڈیننس کالعدم،7 ہزار مقدمات بند،طالبات ہراسگی کیس بھی بند
    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پیکا آرڈیننس کالعدم قرار دینے کا معاملہ ایف آئی اے نے پیکا آرڈیننس کے تحت درج 7 ہزار مقدمات بند کر دئیے

    بیشتر درخواستوں کا تعلق سوشل میڈیا پر دھمکیوں اور ہتک سے متعلق ہیں پیکا آرڈیننس سابق حکومت کی جانب سے رواں سال فروری میں نافذ کیا گیا تھا ایف آئی اے نے پیکا کے سیکشن 20 کے تحت 7 ہزار مقدمات انکوائریاں درج کیں، 7ہزار کیسز اور انکوائریز میں سے 50 فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے ہے، بند کی گئی 71 فیصد شکایات سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف ہراسگی کی تھیں ہراسگی کا شکار ہونے والی خواتین میں بیشتر تعداد خواتین طالبات کی تھی،ہراسگی کی شکایات میں سے 60 فیصد فیس بک اکاؤنٹس سے خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی تھیں، خواتین نے ذاتی معلومات اور تصاویر استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹس بنانے کے خلاف بھی درخواستیں دیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دے دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 بھی کالعدم قرار دیدی پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 ہتک عزت کی حد تک خلاف آئین قرار دے دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ میں ہتک عزت کے تحت سزا بھی خلاف آئین قرار دیدی،عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 19 آزادی رائے کا حق دیتا ہے،

    عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ پیکا آرڈیننس کے تحت ہونے والی تمام کارروائیاں بھی کالعدم قرار دی جاتی ہیں، ایف آئی اے کے افسران نے اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کیا ،عدالت نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ایف آئی اے افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا اور کہا کہ سیکریٹری داخلہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کریں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو انکوائری ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا،عدالت نے کہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ جمع کرائیں،پیکا ترمیمی آرڈی نینس کو آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اور 19اے کی خلاف ورزی میں نافذ کیا گیا پیکا ترمیمی آرڈی نینس کا نفاذ غیر آئینی ہے اس لیے کالعدم قرار دیا جاتا ہے،وفاقی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہتک عزت کے قوانین کا جائزہ لے، توقع ہے وفاقی حکومت آرڈیننس موثر بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو مناسب قانون سازی کی تجویز دے گی

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

  • اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں

    سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

    ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے سوشل میڈیا پرسکیورٹی اداروں کے خلاف مہم چلانے پر مزید 7 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس کے بعد ملزمان کی تعداد 12 ہوگئی ہے جب کہ 9 ملزمان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم شخصیات اور حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے معاملے میں ایف آئی اے نے متعدد چھاپے مارے ہیں جس دوران لاہور سے دو، گجرات اور فیصل آباد سے 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے 50 افراد سینکڑوں کی تعداد میں جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس آپریٹ کر رہے تھے۔

    ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ حرکت میں آگیا حساس اداروں اور انٹیلی جنس بیورو نے لسٹیں ایف آئی اے کو فراہم کر دیں ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مشترکہ چھاپے پچاس ایسے افراد کے لسٹیں ایف آئی اے کو دی گئی جو سینکٹروں جعلی اکاؤنٹس آپریٹ کر رہے ہیں

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

  • اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق سماعت: حکومت کو بالکل بھی انتقامی کارروائی نہیں کرنے دیں گے ،چیف جسٹس

    اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق سماعت: حکومت کو بالکل بھی انتقامی کارروائی نہیں کرنے دیں گے ،چیف جسٹس

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے کے کردار کا 2 سال سے جائزہ لے رہے ہیں، اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کون سا قانون ہے؟-

    باغی ٹی وی : شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کی مرزا شہزاد اکبر اور شہباز گل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے مجاز افسر عدالت میں پیش ہوئے۔

    متحدہ عرب امارات حکام کی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    ڈائریکٹر لاء ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کا لیٹر ملا تھا کہ ملک میں غیر معمولی صورتحال تھی، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا مارشل لا لگ گیا تھا؟

    ڈائریکٹر لاء نے بتایا کہ ایف آئی اے زون اسلام آباد سے درخواست موصول ہوئی تھی، دو انکوائریز رجسٹر کی گئی ہیں۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا مطلب پچھلی حکومت خود یہ کیس ان پر بنا کر گئی، سنجیدہ بات کریں،، ایف آئی اے اس کورٹ کو ریگولر اٹینڈ کرتی رہی ہے، کیا اب کوئی نئی ایف آئی اے آگئی ہے؟عدالت اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دے گی، حکومت کو بالکل بھی انتقامی کارروائی نہیں کرنے دیں گے۔

    درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہوا، ابھی تک نام اسٹاپ لسٹ میں شامل ہیں۔

    ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے،وکیل ق لیگ

    ڈائریکٹر لاء ایف آئی اے نے بتایا کی شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام آمدن سے زائد اثاثوں پر لسٹ میں ڈالا گیا-

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کی سرزنش کرتے ہوئے کہا اپنے آپ کو شرمندہ نہ کریں یہ جان لیں یہ آئینی عدالت آپ کو یہ سب نہیں کرنے دے گی-

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کب سے اتنی آزاد ہو گئی تھی کہ حکومتی لوگوں کے خلاف انکوائری شروع کی؟ ایف آئی اے کے کردار کا 2 سال سے جائزہ لے رہے ہیں، اسٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کون سا قانون ہے؟

    شہزاد اکبر نے کہا کہ ان سے پوچھیں کیا سول سرونٹس کے خلاف بھی انکوائری شروع کی گئی جن کے نام اسٹاپ لسٹ میں ہیں؟

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ طریقے بہت پرانے ہو گئے ہیں، شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام اسٹاپ لسٹ سے فوری طور پر نکالے جائیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کےمینارِ پاکستان پر ہونے والے جلسے کی تاریخ تبدیل

    سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ان سے پوچھ لیں کہ ہم خود ہی اڈیالہ چلے جاتے ہیں، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ آپ جیل جانا چاہتے ہیں؟ شہزاد اکبر نے کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو شاید جانا پڑے گا۔

    اس پر شہباز گل کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی حد تک ایسا کوئی بیان نہیں ہے۔

    ایف آئی اے حکام نے کہا کہ عدالت کا حکم تاخیر سے ملا، افسران تراویح پڑھنے چلے گئے تھے، اب عدالت کے حکم پر عمل ہو گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ کسی کو ہراساں نہ کیا جائے، ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ 18 اپریل تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

    شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ سے نکلوانے کی درخواستوں پر سماعت18اپریل تک ملتوی کر دی گئی-

    دوسری جانب شہباز گل کا کہنا ہے کہ قانونی پراسیس مکمل کیے بغیر نام اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا،ہم جو کام کررہے ہیں اسے آپ نہیں روک سکتے،ہم نے کسی کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی،مجھے چپ کرانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں،اگر کوئی پیغام دینا ہے تو کھل کے دیں،جو تگڑی اور ترش باتیں کرتے ہیں وہ اپنے پوائنٹ سے نہیں ہٹتے-

    ہم مایوسی نہیں پھلانا چاہتے مگر کچھ چیزیں بتانا ضروری ہیں، مفتاح اسماعیل

  • تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے محفوظ فیصلہ سنایا، فیصلے کے بعد سیاسی رہنماؤں، صحافیوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا شکریہ جس نے پیکا آرڈیننس کو معطل کیا،

    سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فاشسٹ نیازی حکومت کے پیکا آرڈیننس کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم کردیا۔ آئین کی بالادستی اور آزادی اظہار کی ایک اور فتح۔ زندہ باد اسلام آباد ہائی کورٹ۔ جزاک اللہ جسٹس اطہر من اللہ۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائے کورٹ کی جانب سے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے پر صحافیوں اور پورے پاکستان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ 24 گھنٹوں کے اندر عدالت نے پی ٹی آئی حکومت کے ایک اور عمل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پیکا آرڈیننس مخالفین کو نشانا بنانے کے لئے لایا گیا تھا۔پیکا آرڈیننس آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ایک حکومتی ہتھکنڈا تھا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں میڈیا اور آزادی اظہار پر قدغنیں لگائی گئی۔ اب تحریک انصاف کے تمام غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے۔ انشااللہ ایک بدترین سویلین ڈکٹیٹرشپ کا اختتام ہوگا۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،ترجمان شازیہ مری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کاخیرمقدم کیا اور کہا کہ پیکا آرڈیننس کا کالعدم ہونا باعث مسرت ہے عمران خان آمر بن کر اظہار رائے کی آزادی چھیننا چاہتے تھے، ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنادیا گیا ہے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئین کی سربلندی کا فیصلہ دیاجو لائق تحسین ہے عدلیہ نے فیصلہ دے دیا کہ کوئی میڈیا اور عوام کو اندھا، بہرہ اور گونگا نہیں بناسکتا آئین میں دی گئی شہری آزادیوں اور اظہار رائے کا تحفظ دستور اور جمہوریت کا تحفظ ہے پیکا جیسے کالے قانون کے سبب تاریخ عمران خان کی ہمیشہ مذمت کرتی رہے گی ،

    قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے۔ عمران نیازی کا بدنیتی پرمبنی آزادی صحافت پرقدغن،سوشل میڈیا پر کنڑول اورصحافیوں کو سزائیں دینے کا کالا قانون یکا آرڈیننس اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا

    افراسیاب خٹک سینئر رہنما نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیکا (ترمیمی) آرڈیننس 2022 کو ختم کرنا ایک اچھی خبر ہے۔ یہ آرڈیننس فاشزم کے پھیلتے تاریکی کا حصہ تھا۔ عدالتوں کے حالیہ احکامات جمہوریت کے تحفظ کے لیے آزاد عدلیہ کی اہمیت کو ثابت کرتے ہیں۔

    محمد یوسف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جتبے بھی غلط فیصلے کیے ہیں۔۔ان فیصلوں میں زیادہ تر میں فواد چودھری کی راٰے اور آئیڈیا کا نمایاں ہاتھ ہے۔ پیکا ترمیمی آرڈیننس کا کالعدم قرار دینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ فواد چودھری نے عمران خان اور میڈیا میں دوریاں پیدا کیں۔

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

  • صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    ایف آئی اے حکام کی جانب سے رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی تو جواب دیں ، لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، عدالت کے سامنے ایس او پیز رکھے اور ان کو ہی پامال بھی کیا گیا،ایس او پیز کی پامالی کی اور وہ سیکشن لگائے گئے جو لگتے ہی نہیں ایس او پیزصرف اس لیے لگائے گئے تاکہ عدالت سے بچا جا سکے، بتائیں کہ کیسے اس سب سے بچا جا سکتا ہے؟

    ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی نے عدالت میں کہا کہ قانون بنا ہے، عمل کرنے کیلئے پریشر آتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے کسی عام آدمی کیلئے ایکشن لیا؟ لاہور میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا، بابر بخت قریشی نے کہا کہ ایف آئی آر سے قبل بھی گرفتاری ڈال دیتے ہیں پھر برآمدگی پر درج کرتے ہیں،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں? کس قانون کے مطابق گرفتاری ڈال سکتے ہیں، آپ اپنے عمل پر پشیماں تک نہیں اور دلائل دے رہے ہیں،کسی کا تو احتساب ہونا ہے، کون ذمہ دار ہے آج آرڈر کرنا ہے،صحافی کی نگرانی کی جارہی ہے، یہ ایف آئی اے کا کام ہے کیا، صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے، ملک میں کتنی دفعہ مارشل لا لگا ہے یہ تاریخ ہے لوگ باتیں کریں گے،

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سے زیر سماعت تمام کیسز میں رپورٹ طلب کر لی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے تمام کیسز کی رپورٹ کل عدالت میں جمع کرائیں ،کون کون سے کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے، دیگر کیسز میں ایف آئی اے نے جواب جمع کیوں نہیں کرایا،ایف آئی اے کل تمام کیسز میں جواب جمع کرائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 میں ریپوٹیشن کے علاوہ دیگر بھی چیزیں ہیں، اگر کسی کی فیملی کی تصویریں اجازت کے بغیر شیئر کر دی جائیں تو وہ سنجیدہ معاملہ ہے، سوشل میڈیا میں کسی کو بہکایا اور دھمکایا جائے تو وہ بھی اسی میں آتا ہے،عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ نے کہا کہ اس کے لئے الگ سے قانون موجود ہے،عدالت نے کہا کہ یہ تمام کیسز بھی اسی سیکشن کے تحت آتے ہیں، اس عدالت کے سامنے جتنے کیسز ہیں وہ صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیوں ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز ہونگے، ان کے علاوہ مزید بھی ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ تو پھر پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز کو کیوں دیگر پر فوقیت دی گئی، بہکانے اور دھمکانے کی الگ سے سیکشن کیوں نہیں بنا دی گئی، ان کیسز میں تو ایف آئی اے پی ٹی اے سے بھی مدد لے سکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو یہ مناسب لگا ہو گا اس لئے یہ قانون سازی کی گئی، میں پیکا ترمیمی آرڈیننس پر دلائل دینا چاہتا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تو خود آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا بیان دے چکی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 94 ہزار کیسز ہیں، 22 ہزار کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر سے خود کو شرمندہ نہ کریں،ایف آئی اے کی اتنی استعداد ہی نہیں ہے وہ اتنے تربیت یافتہ ہی نہیں ہیں،ایف آئی اے نے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے مخصوص کاروائیاں کیں، ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کے سامنے 22 ہزار میں سے صرف چار پانچ کیسز ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک پبلک آفس ہولڈر نے 9 بجے اسلام آباد میں شکایت درج کرائی ایف آئی اے نے مقدمہ لاہور میں درج کر کے اسی وقت اسلام آباد میں چھاپے بھی مارے،کیا یہ عدالت اس طرح کے اقدام کی اجازت دے سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا آرڈیننس سے متعلق درخواستیں یکجا کر کے سنی جا رہی ہیں گزشتہ سماعتوں میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ پیکا آرڈیننس لانے کی اتنی کیا جلدی تھی، صرف اسی ایک نکتے پر آرڈیننس کالعدم قرار ہونے کے قابل ہے ، درخواست گزاروں میں پی ایف یو جے ، اے این پی ایس ، سی پی این ای ، ایمنڈ ، لاہور ہائیکورٹ بار کے مقصود بٹر اور سیاستدان فرحت اللہ بابر شامل ہیں

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کل تک موجود پی ٹی آئی حکومت کا جاری کردہ تھا تبدیلی یہ ہے کہ ایک تو آج ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اس کے دفاع کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے موجود نہیں تھے دوسرا اب اس آرڈیننس کی مدت جیسے ہی مکمل ہو گی خود بخود غیر موثر ہو جائے گا

    اپوزیشن اراکین سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر پہنچ گئے

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

  • عدالت نے سابق ایم ڈی پی آئی اے کو خوشخبری سنا دی

    عدالت نے سابق ایم ڈی پی آئی اے کو خوشخبری سنا دی

    عدالت نے سابق ایم ڈی پی آئی اے کو خوشخبری سنا دی
    سندھ ہائی کورٹ میں سابق ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کے خلاف منی لانڈرنگ اور ملک سے باہر اثاثوں کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کے خلاف تحقیقات سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے سندھ ہائیکورٹ کو اعجاز ہارون کے خلاف انکوائری بند کرنے سے متعلق آگاہ کیا اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انکوائری بند کرنے کی سفارشات ہیڈ کوارٹرکو رسال کردی گئی ہے،ایف آئی اے کو اعجاز ہارون کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے، انکوائری بند کرنے کا حتمی فیصلہ ہائی اتھارٹی کرے گی،

    وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اعجاز ہارون ایف آئی اے کومکمل دستاویزات فراہم کرچکے ہیں اعجاز ہارون کی ملک سے باہر کوئی جائیداد نہیں ،عدالت نے تحقیقات کے خلاف درخواست نمٹا دی اعجاز ہارون کے خلاف منی لانڈرنگ اورملک سے باہر اثاثوں کی تحقیقات جاری تھیں

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ الیکشن کے لئے کتنے ریٹس لگے؟ وزیراعظم نے کیا حکم دیا؟

    حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں؟ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا اہم انکشاف

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے عدالت میں کیا درخواست دائر کر دی؟

    قبل ازیں نیب نے کڈنی ہلز کیس میں ایک کروڑ 62 لاکھ روپے کی رقم برآمد کر لی ،ملزم اظہر حسین نے اعتراف جرم کر کے ایک کروڑ 62 لاکھ واپس کر دیئے نیب کے مطابق اظہر حسین نے حوالہ ہنڈی سے اعجاز ہارون کیلئے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا، اعجاز ہارون نے کڈنی ہلز پلاٹس فروخت سے حاصل رقوم مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیے،اعجاز ہارون نے رشتہ داروں کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے رقوم منتقل کی تھیں،ایک کروڑ 62 لاکھ روپے کی رقم اظہر حسین مغل کے ملازم شکیل کے اکاونٹ میں گئی تھی ،چیئرمین نیب کی جانب سے پلی بارگین منظور کر لی گئی،

  • رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    لاہور:رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پراکسی پرایف آئی اے نے طلبی کرلی،اطلاعات کے مطابق لاہور کے ایک معروف مگرمتنازعہ صحافی جنہیں رضوان رضی کے نام سے لاہوری جانتے ہیں ایک بار پھرایف آئی اے کے ریڈار پرآگئے ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اے نے مخالفین کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈے اور الزام تراشیوں پر جواب طلب کرلیا ہے اور کہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ رضوان رضی صاحب کو ایک بار پھر FIAنے طلب کرلیا ہے اور درخواست گزار نے ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں ، دوسری طرف رضوان رضی نے اپنا دفاع کرنے کے لیے ایف آئی اے اور درخواست گزار کے خلاف سوشل میڈیا وار شروع کردی ہے اور مختلف قسم کے الزامات بھی عائد کرنا شروع کردیئے ہیں ،یہ بھی چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ ن لیگ کا سوشل میڈیا اس وقت رضوان رضی کی حمایت میں بہت زیادہ مہم چلا رہا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا

    ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔