Baaghi TV

Tag: ایف آئی اے

  • 4 خواتین کو سعودیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، پنجاب پولیس کی سابق  ملازم ملوث نکلی

    4 خواتین کو سعودیہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام، پنجاب پولیس کی سابق ملازم ملوث نکلی

    کراچی سے 4 خواتین کو مبینہ طور پر جبری مشقت کے لیے سعودی عرب اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی جبکہ بیرون ملک سے آنے والے 2 مسافر وں کو گرفتارکرلیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے امیگریشن سرکل کے مطابق کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے عمرے کی آڑ میں خواتین کی سعودی عرب اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنادی گئی 4 خواتین کو کراچی ائیرپورٹ پر پروازوں سے آف لوڈ کر دیا گیا، ان خواتین میں شازیہ بانو، ظمیرا عظیم، لبنیٰ اور ثنا شہزادی عمرے کی مسافر تھیں، بظاہر متاثرہ خواتین عمرہ ویزوں پر سعودی عرب جا رہی تھیں-

    متاثرہ خواتین اس سے قبل بھی سعودی عرب جا چکی تھی، ابتدائی تفتیش کے مطابق متاثرہ خواتین کو جبری مشقت کی غرض سے سعودی عرب بھجوایا جا رہا تھا، متاثرہ خواتین اس سے قبل بھی سعودی عرب جا چکی تھیں۔

    واٹر ایمرجنسی کی خلاف ورزی،واسا نے 2 شہریوں کا چالان کر دیا

    امیگریشن حکام کا کہنا ہے خواتین کو سعودی عرب بھجوانے میں آسیہ نامی خاتون ملوث ہے جو پنجاپ پولیس کی سابقہ ملازم ہے آسیہ نے ہی متاثرہ چاروں خواتین کے سفری اخراجات برداشت کیے جب کہ سعودی عرب میں قیام اور اخراجات کی سہولتکاری وسیم گجر نامی ایجنٹ کر رہا تھا، متاثرہ خواتین سے ایجنٹوں کے حوالے سے معلومات لی جا رہی ہیں۔

    کراچی میں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں،فاروق ستار

    جبکہ ایف آئی اے کی ایک اور کارروائی میں ایمرجنسی پاسپورٹ پر پاکستان پہنچنے والے 2 مسافر گرفتار کر لیے گئےایف آئی اے ترجمان کے مطابق گرفتار مسافروں کی شناخت ایلس اور ریان کے نام سے ہوئی، گرفتار ملزمان فلائٹ نمبر SV700 کے ذریعے کراچی پہنچے ، ملزمان کے پاس موجود ایمرجنسی پاسپورٹ جعلی پائے گئے، ملزمان کے پاسپورٹ پر لگی ایمرجنسی اسٹیمپ جعلی تھی، گرفتار ملزمان کی شہریت کو بھی مشکوک پایا گیا، گرفتار 2 ملزمان کو مزید قانونی کاروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا، مزید تفتیش جاری ہے۔

    مالاکنڈ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا بڑا اسکینڈل، گرفتارپروفیسر سے طالبات کی ویڈیوز اور تصاویر برآمد

  • ایف آئی اے میں 2018کے بعد بھرتی افسران کی چھان بین کا فیصلہ

    ایف آئی اے میں 2018کے بعد بھرتی افسران کی چھان بین کا فیصلہ

    اسلام آباد ایف آئی اے میں 2018کے بعد بھرتی ہونے والے افسران کی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق 2018 کے بعد بھرتی والے تمام افسران و اہلکاروں کی تعلیمی اسناد چیک کی جائیں گی۔ڈائریکٹر ایچ آر کی سربراہی میں ویری فکیشن سیل قائم کردیا گیا، تمام ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹرز کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔2019 یا اس کے بعد بھرتی ہونے والے افسران کے کوائف طلب کر لئے گئے، تمام افسران و اہلکار اپنی تعلیمی اور کریکٹر سرٹیفکیٹ جمع کروائیں گے۔ان تمام افسران و اہلکاروں کے تعلیمی کوائف چیک کیا جائے گا، ڈائریکٹر ایچ آر کی سربراہی میں ویریفکیشن سیل قائم کر دیا گیا، تمام ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹرز کو مراسلہ جاری کر دیا گیا۔ تمام سرٹیفکیٹ متعلقہ یونیورسٹی اور ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ہوں۔ڈومیسائل متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ سے تصدیق شدہ ہوں، مراسلے میں تین ماہ کے دوران تمام افسران و اہلکاروں کو دستاویزات جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بلوچستان سے 92 کروڑ مالیت کی چرس پکڑی گئی

    ٹرمپ کےپےدرپےبیانات،ایگزیکٹوآرڈرز، امریکا میں مہنگائی کی لہر

    کراچی: تیزرفتار ڈمپر نے ایک اور موٹرسائیکل سوار کچل دیا

    واٹس ایپ گروپ چیٹس کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کراچی سمیت سندھ بھر میں جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف

  • ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    ملک میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کی کارکردگی جانچنے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں کارکردگی رپورٹ تیار کرنے اور پرفارمنس آڈٹ کے لیے 5رکنی اسپیشل کمیٹی تشکیل دے دی گئی گئی ہے،ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو کو ایف آئی اے کی کارکردگی جانچنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کنوینیئر مقرر کیا گیا ہے جب کہ ڈائریکٹر پولیس بیورو، جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ،ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اور ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی اوسی یونٹ این پی بی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی کارکردگی کیسی رہی اس حوالے سے کمیٹی اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوائے گی۔ کمیٹی ایف آئی اے کا پرفارمنس آڈٹ بھی کرے گی۔ ایف آئی اے نے کتنے مقدمات درج کیے اور کتنے ملزمان پکڑےگئے، کمیٹی تمام امور کا جائزہ لے گی۔کمیٹی میں انسداد انسانی اسمگلنگ ،اینٹی کرپشن، کارپوریٹ کرائم، سائبر کرائم سمیت تمام شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    عظیم بلے باز حنیف محمد پی سی بی ہال آف فیم میں شامل

  • لیبیا کشتی حادثے  کا مرکزی ملزم گرفتار

    لیبیا کشتی حادثے کا مرکزی ملزم گرفتار

    لاہور: لیبیا کشتی حادثے کے مرکزی ملزم محمد اقبال کو لاہور ائیر پورٹ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹر ایف آئی اے سرفراز ورک کے مطابق ملزم 2013 سے لیبیا میں مقیم تھا اور انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلا رہا تھا، ملزم کے اکاؤنٹ سے 8 کڑور روپےکی غیر قانونی ٹرانزیکشنز بھی پکڑی گئی ہیں ملزم رقوم کی غیرقانونی ترسیل میں ملوث تھا، ملزم لیبیا سےانسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں رقوم کی ترسیل کرتا تھا، ملزم کا نام بلیک لسٹ میں تھا اور اس کے خلاف مختلف مقدمات درج تھے۔

    قبل ازیں ایف آئی اے نے اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئےلیبیا کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر کو گرفتار کیا تھا ایف آئی اے فیصل آباد کے عملے نے ایک کارروائی کے دوران لیبیا کشتی حادثے کے مقدمے سے منسلک اہم ملزم کو گرفتار کرکے 17 پاکستانی پاسپورٹ برآمد کیے تھے ملزم رانا اشفاق احمد کے قبضے سے17 پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوئے جو ملزم نے نوجوانوں کو یورپی مما لک اسمگل کے لیے لے رکھے تھے رانا اشفاق لیبیا کشتی حادثہ 2023 میں ملوث تیسرے نمبر کا ملزم ہے ملزم پر پاکستان سے زمینی راستے لیبیا، ایران، یونان اور یورپی ممالک انسانی اسمگلنگ کرانےکا الزام ہےگرفتار ملزم نے زمینی راستے سے یورپ بھجوانے کے لیے لاکھوں روپے وصول کیے۔

    افغانستان کی وجہ سے خیبرپختونخوا متاثر ہورہا ہے،علی امین گنڈاپور

    واضح رہےکہ جون 2023 میں یونان کے قریب لیبیا سے یونان جانے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی تھی، حادثے میں ہلاک افراد میں 100 سے زائد پاکستانی بھی شامل تھے۔

    کراچی،واٹر کارپوریشن کی رعایتی پالیسی میں تین ماہ کی مزید توسیع

  • ایف آئی اے نے  انٹرنیشنل ایکٹیو سمز فروخت کرنیوالا گینگ گرفتار کر لیا

    ایف آئی اے نے انٹرنیشنل ایکٹیو سمز فروخت کرنیوالا گینگ گرفتار کر لیا

    ایف آئی اے نے ایک کارروائی کرتے ہوئے انٹرنیشنل ایکٹیو سمز فروخت کرنے والا گینگ گرفتار کرلیا۔

    ترجمان کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل پشاور نے غیر قانونی بین الاقوامی ایکٹیو سمز فروخت کرنے میں ملوث 5 رکنی گینگ کو گرفتار کیا ہے، جن میں فیضان الدین، محمد اسلم، محمد خلیل، رامین رضا اور عابد شامل ہیں۔ملزمان کو چھاپا مار کارروائی میں پشاور کے علاقے صدر میں واقع ایک موبائل شاپ سے گرفتار کیا گیا، جو بین الاقوامی سمز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہیں۔ یہ بین الاقوامی نمبرز غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتے تھے۔

    ترجمان کے مطابق بین الاقوامی سمز کی فروخت سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ گرفتار ملزمان سے کارروائی کے دوران غیر قانونی سمز برآمد کر لی گئی ہیں۔ چھاپا مار کارروائی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور مقامی پولیس کی ٹیم بھی شامل تھی۔ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    محبت میں پاکستان آئی امریکی خاتون نامعلوم مقام پرروانہ

    القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی شہادت کی تصدیق

    خدیجہ شاہ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    بچت سکیموں پر منافع کی شرح کم ہو گئی

    حوالہ ہنڈی ،غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کا نیٹ ورک بے نقاب؛ 3 ملزمان گرفتار

  • حوالہ ہنڈی ،غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کا نیٹ ورک بے نقاب؛ 3 ملزمان گرفتار

    حوالہ ہنڈی ،غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کا نیٹ ورک بے نقاب؛ 3 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کارروائی میں خاتون سمیت 3ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت فریدہ، خبیب اور مزمل کے نام سے ہوئی ہے، جو بہادرآباد میں واقع ایک فلیٹ سے گرفتار کیے گئے۔ملزمان سے 2500 یورو اور 50 لاکھ روپے کی نقد رقم برآمد کی گئی، جبکہ ان کے قبضے سے چیک بکس، پرائز بانڈ، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر غیر ملکی کرنسی ایکسچینج سے متعلق ریکارڈ بھی برآمد ہوا۔چھاپا مار کارروائی ایف آئی اے کراچی زون کے ڈائریکٹر کی ہدایت پر خفیہ اطلاع کے تحت عمل میں لائی گئی۔ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔

    دو روز میں سونے کی قیمت میں 3 ہزار900 روپے کا اضافہ

    افغانستان سے مذاکرات کے لیے پختونخوا حکومت کا وفد بھیجنے کا فیصلہ

    سری لنکا کیخلاف جوش انگلس کی ٹیسٹ ڈیبیو پر تیز ترین سنچری

  • مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر،اہم ملزم گرفتار

    مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر،اہم ملزم گرفتار

    ایف آئی اے فیصل آباد زون نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلروں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل احمد اسحاق جہانگیر کی ہدایات پر کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

    ایف آئی اے نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث ایک اہم ملزم، جاوید احمد، کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔ جاوید احمد دیگر سمگلروں کے ساتھ مل کر متاثرہ شخص محمد انس کو اسپین بھجوانے کی کوشش میں تھا۔ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ متاثرہ شخص کو پہلے موریطانیہ بھیجا اور پھر کشتی کے ذریعے اسپین پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم، یہ کوشش ناکام رہی اور متاثرہ شخص واپس اپنے وطن پاکستان پہنچ گیا۔ کشتی حادثے کے نتیجے میں متعدد پاکستانی جاں بحق ہوچکے ہیں۔انسانی سمگلروں نے متاثرہ شخص کے اہلخانہ سے 35 لاکھ روپے اور 1500 یورو وصول کیے تاکہ ان کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجا جا سکے۔ ایف آئی اے نے ملزم جاوید احمد کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    جاوید احمد کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کو مزید اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں اور اس کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ایف آئی اے فیصل آباد زون کے ڈائریکٹر نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں اور اس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

    ڈائریکٹر ایف آئی اے فیصل آباد زون نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دلوائی جائیں گی اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے کی ٹیمیں متاثرہ افراد کے لواحقین سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کو انصاف فراہم کرنے کے لیے پوری کوشش کی جا رہی ہے۔

    انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو بین الاقوامی سطح پر جڑ سے ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ان معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ایف آئی اے کی یہ کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف جنگ مزید تیز ہوچکی ہے اور اب اس نیٹ ورک کو بین الاقوامی سطح پر شکست دینے کے لیے مکمل عزم کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیراعظم کی انسانی سمگلنگ کےمجرمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

  • سنگین جرائم میں مطلوب  سینکڑوں مفرورملزمان مختلف ممالک سے گرفتار

    سنگین جرائم میں مطلوب سینکڑوں مفرورملزمان مختلف ممالک سے گرفتار

    ایف آئی اے این سی بی انٹرپول نے سنگین جرائم میں مطلوب 116 ملزمان کو مختلف ممالک سے گرفتار کیا۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق ایف آئی اے این سی بی انٹرپول پاکستان نے 2024 کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب 116 ملزمان کو مختلف ممالک سے گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، اغوا, انسانی اسمگلنگ اور کرپشن کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ملزمان کی گرفتاری کے لئے ایف آئی اے این سی بی انٹرپول نے مجموعی طور پر 162 ریڈ نوٹسسز جاری کئے تھے جن میں 23 ملزمان ایف آئی اے، پنجاب پولیس کو 111، نیب کو 2, ایف آئی اے کو مطلوب 2 اور خیبر پختونخواہ پولیس کو مطلوب ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ یو اے ای سے 53, سعودی عرب سے 32 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ عمان سے 6, اسپین سے 4 اور اٹلی سے 4 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

    ایف آئی اے کے مطابق آذربائیجان، کویت، بحرین، ملائیشیا اور کرغستان سے 2, 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ سوئٹزرلینڈ، جرمنی، یونان، فرانس، یو کے اور قطر سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کو ایئرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن نے متعلقہ پولیس حکام کے حوالے کیا۔گزشتہ سال کے دوران این سی بی انٹرپول پاکستان نے سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لئے 162 ریڈ نوٹسسز 7، ییلو اور 2 بلیو نوٹسسز جاری کئے۔پنجاب پولیس کو مطلوب 131 ملزمان کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کئے گئے۔ ایف آئی اے کو مطلوب انسانی سمگلروں سمیت 23 ملزمان کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کئے گئے۔نیب کو مطلوب 3، کے پی پولیس کو مطلوب 3 ملزمان کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کئے گئیجبکہ اسلام آباد اور سندھ پولیس کو مطلوب 2 ملزمان کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کئے گئے۔

    ڈی جی ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کا کہنا تھا کہ این سی بی انٹرپول پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ 24 گھنٹے پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزمان کے لئے دنیا میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ڈی جی ایف آئی اے کا مزید کہنا تھا کہ سال 2024 میں انٹرپول کے فائنڈ سسٹم کے آئی بی ایم ایس سسٹم سے انضمام سے نئی تاریخ رقم ہوئی۔انٹرپول فائنڈ سسٹم سے مثبت نتائج موصول ہو رہے۔ ملزمان کی معلومات کے حوالے سے بھی انٹرپول کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ احمد اسحاق جہانگیر نے ایف آئی اے حکام کو ہدایات کیں کہ انسانی سمگلروں اور دیگر جرائم میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لئے کاروائیاں مزید تیز کی جائیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کئے جائیں اور سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

    بابر اعظم پر مبینہ زیادتی کا مقدمہ،خاتون عدالت میں طلب

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • مراکش کشتی حادثہ : انٹر پول نے  15 انسانی سمگلرز کیخلاف ریڈ نوٹسز جاری کردیئے

    مراکش کشتی حادثہ : انٹر پول نے 15 انسانی سمگلرز کیخلاف ریڈ نوٹسز جاری کردیئے

    اسلام آباد: موریطانیہ کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلرز کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی-

    باغی ٹی وی : ایف آئی اے حکام کے مطابق انٹر پول کی جانب سے لیبیا، یونان اور موریطانیہ میں روپوش، یونان، لیبیا اور مراکش کشتی حادثے میں ملوث 15 انسانی سمگلرز کے خلاف ریڈ نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں، ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان ممالک میں جائیں گی۔

    ادھر ایف آئی اے نے کشتی واقعے کی تحقیقات کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزم انصر کو گوجرانوالہ سے گرفتار کر لیا، ملزم نے عامر نامی شہری کو سپین بھجوانے کے لیے 54 لاکھ روپے لئے تھے جبکہ متاثرہ نوجوان عامر موریطانیہ کشتی واقعہ میں زندہ بچ گیا ہے، اس کے علاوہ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے فیصل آباد اور ساہیوال سے بھی 3 انسانی سمگلرز کو گرفتار کرلیا۔

    بانی پی ٹی آئی کسی صورت ڈیل نہیں کریں گے، فیصل جاوید

    واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر سپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے86 تارکین وطن کی کشتی 2 جنوری کو موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی، کشتی میں کل 66 پاکستانی سوار تھے تاہم کشتی حادثے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے کشتی حادثے میں جاں بحق 44 پاکستانیوں میں سے 12 نوجوان گجرات کے رہائشی تھے، اس کے علاوہ سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی کشتی میں موجود تھے۔

    بلوچستان میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگرد افغان شہری نکلا

    وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر تحقیقاتی ٹیم مراکش میں موجود ہے،جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چودھری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔

  • مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے،

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں ایک نیا اور خوفناک پہلو سامنے آیا ہے، جس میں زندہ بچ جانے والوں نے انسانی اسمگلروں کے ذریعے تاوان لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 44 پاکستانیوں کی جانیں گئیں، اور اب یہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے ایسے مجرمانہ آپریشنز کی حمایت کی یا ان میں ملوث رہنے کے لیے آنکھیں بند کیں۔وہ زندہ بچ جانے والے افراد جو اس خوفناک تجربے سے بچ کر مراکش میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آئے، انہوں نے اس سانحے کے حوالے سے ہولناک تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق، 66 پاکستانیوں کو لے کر جانے والی کشتی کو اسمگلروں نے کھلے سمندر میں جان بوجھ کر روک دیا۔ اسمگلر پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف ان افراد کو رہا کرتے گئے جو ادائیگی کر سکے – جو کہ 21 افراد تھے۔ باقی تارکین وطن کو چھوڑ دیا گیا، جنہیں قدرتی آفات، بھوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا، "انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا۔ جو لوگ پیسے نہ دے سکے، انہیں مارا پیٹا اور مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔”

    اس انکشاف نے پاکستان میں غصہ اور غم کی لہر دوڑادی ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، جن میں سے بیشتر گجرات کے ضلع کے نوجوان تھے۔ عوامی غصے میں اضافے کی وجہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے افسران پر غفلت اور ممکنہ طور پر اسمگلروں کی حمایت کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسران انسانی اسمگلنگ کے آپریشنز پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، رشوتیں لے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور مجرمانہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ایک وزارت کے ذرائع نے الزام لگایا، "یہ افسران اسمگلروں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وہ اہم شواہد دفن کرنے اور ان مجرموں کو بچانے کے لیے ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں۔”

    اس ممکنہ غفلت نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے سینکڑوں جانیں داؤ پر لگی ہیں۔جیسے ہی قوم اس سانحے پر غم و غصے میں ڈوبی ہوئی ہے، انصاف اور احتساب کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث اسمگلروں کے خلاف شفاف اور جامع تحقیقات کرے، ساتھ ہی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں موجود غفلت اور کرپشن کی تحقیقات بھی کرے۔

    واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے ایک حکومتی ٹیم بھیجنے کا حکم دیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔

    دوسری جانب موریطانیہ میں حالیہ کشتی حادثے کے متاثرہ خاندانوں کا غم بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ اس حادثے میں کئی پاکستانی شہریوں کی جانیں گئی ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔گوجرانوالہ کے دو سگے بھائی ہارون اور عزیر بھی اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ عزیر تو کسی طرح بچ گیا لیکن اس کے بھائی ہارون اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ عزیر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن حالات اتنے زیادہ سنگین تھے کہ وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان اجمل کا بھی موریطانیہ میں کچھ عرصہ سے کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اس کے والدین ابھی تک نہیں جان پائے کہ ان کا بیٹا کشتی حادثے کا شکار ہوا ہے یا وہ زندہ ہے۔ اجمل کے اہلِ خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مدد کی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کرے اور دیگر تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے۔

    انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایک اور ملزم گرفتار
    موریطانیہ کے کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا رکن تھا۔ اس ملزم کی گرفتاری سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس پورے نیٹ ورک کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کے درمیان متاثرین کے خاندانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے، اور ان کی جانب سے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط