Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • اراکین پارلیمنٹ اور  اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 اراکین کو نااہل قرار دے دیا تھا، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 11 اور سندھ اسمبلی کے 7 اراکین کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے اسلام آباد کے تین بڑے ہوٹلوں کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کر کے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

    ایف بی آر کے اسٹنٹ کمشنر محمدعتیق اکبر نے ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تینوں ہوٹلز کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کیا ہے اسلام آباد میں سیل کیے جانے والے ہوٹلوں میں سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ کے ہوٹلز شامل ہیں، سیل کیے جانے والے ہوٹلوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ایف بی آر کا  اپنے ہی افسران پرٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام

    ایف بی آر کا اپنے ہی افسران پرٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام

    کراچی:فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے اپنے ہی افسران پر شوگر ملز سے ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    باغی ٹی وی فیڈرل بورڈ آف ان لینڈ ریونیو نے شوگر ملز پر تعینات ایف بی آر افسران کی لاپرواہی پر نوٹیفکیشن جاری کردیا اور کہا کہ شوگر ملز پر تعینات افسران کا رویہ غیر پیشہ وارانہ اور غیر مؤثر ہے،اور متعلقہ چیف کمشنرز کو کارروائی کی ہدایت کردی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ شوگر ملز پر ایف بی آر افسران کی لاپرواہی سےٹیکس چوری کی شکایات موصول ہورہی ہیں، شوگر ملز کے متعلقہ چیف کمشنرزغفلت برتنے والےافسران کو وارننگ جاری کرکے کاروائی کریں، شوگر ملز کی ڈیوٹی پر مامور افسران اوقات کار کی پابندی نہیں کررہے ہیں اور رات کی ڈیوٹی سے غیرحاضر رہے ہیں۔

  • پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے  کا فیصلہ

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تجارت میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے نئے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا فیصلہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر )نے حکومت پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے میں ترامیم کامسودہ جاری کردیا ہے، معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبو ط بنانا اور باہمی تجارت میں سہولیا ت فراہم کرنا ہےایف بی آر نے اس حوالے سے نئے قواعد و ضوابط پرمبنی مسودہ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس میں ٹرانزٹ تجار ت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    مسودے کے تحت پورٹ، قاسم اور گوادر کی بندرگاہ تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے اہم مقامات قرار دئیے گئے ہیں مسودہ کے مطابق آذربائیجان کے کاروباری ادارے، حکومت، اور سفارتی مشنز کو پاکستان کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں رجسٹریشن کرانا ہوگا تاکہ وہ تجار تی سہولیات کا فائدہ اٹھا سکیں۔

    تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، ہر گاڑی کو ٹریکرز اور کسٹمز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سامان کی نگرانی ممکن ہو سامان کی نقل و حمل کے دوران کسی بھی نقصان کی صورت میں کارروائی کے قواعد بھی وضع کیے گئے ہیں۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر اضافی اجازت نامے جاری کر سکتے ہیں، تاہم ان پر مقررہ چارجز لاگو ہوں گے، تجارتی سامان کی نگرانی اور شفافیت کے لیے بیمہ گارنٹی فراہم کرنا لازمی ہوگا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں بین الاقوامی تجارت کی نئی راہیں کھولے گا اس سے نہ صرف پاکستان کی بندرگاہوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگا بلکہ آذربائیجان کے لیے بھی عالمی منڈیوں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

    نوٹیفیکیشن میں تمام متعلقہ فریقین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ان قواعد پر اپنی آراء یا تجاویز پیش کریں تاکہ اس کی حتمی منظوری دی جا سکے۔

  • بیرون ملک سے کمرشل اشیاء لانے پر پابندی عائد

    بیرون ملک سے کمرشل اشیاء لانے پر پابندی عائد

    ایف بی آر نے بیرون ملک سے کمرشل مقدار میں اشیاء لانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے ایف بی آر نے بیگج اسکیم میں ترمیم کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے صرف ایک موبائل فون لانے کی اجازت ہوگی، اگر کسی مسافر کے پاس ایک سے زائد موبائل فون ہوں گے تو وہ ضبط کیے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، 1200 ڈالر سے زائد مالیت کی اشیاء کمرشل تجارت کے طور پر شمار کی جائیں گی، اور ان پر ڈیوٹی، ٹیکس اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ تاہم، اضافی اشیاء ان شرائط پر بھی کلیئر نہیں کی جائیں گی۔ایف بی آر کے مطابق، اس ترمیم سے متعلق تجاویز اور سفارشات سات دن کے اندر جمع کرائی جا سکتی ہیں، اور مقررہ میعاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز پر غور نہیں کیا جائے گا۔ کمرشل مقدار سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ذاتی استعمال یا گفٹ کے بجائے اضافی مالی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے لائی جاتی ہیں۔
    ایف بی آر ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کمرشل اسمگلنگ کو روکنا اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

    کراچی: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حساس ادارے کا ملازم جاں بحق

    ڈی جی سیمنٹ، کروڑوں کی آمدنی، سڑک خستہ حالی کا شکار

    کراچی : عزیز آباد میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

  • ایف بی آر  کا بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

    ایف بی آر کا بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: بیرون ملک سے کمرشل مقدار میں اشیا ساتھ لانے پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی: ایف بی آر نے بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق بیگیج رولز 2006 میں مزید ترامیم سے متعلق مسودہ جاری کر دیا گیا ہے، قوانین میں ترامیم سے متعلق 7 روز میں سفارشات دی جاسکتی ہیں مقررہ معیاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز اور آرا قابل قبول نہیں ہوں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت 1200 ڈالر سے زائد مالیت کی اشیاء کمرشل تجارت تصور ہوگی بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے ایک موبائل فون لانےکی اجازت ہوگی ایف بی آر کے مطابق ترمیم کے تحت ایک موبائل فون کے سوا تمام موبائل فون ضبط کر لیےجائیں گے، بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت اضافی اشیاء ڈیوٹی، ٹیکس اور جرمانےکے باوجود کلیئر نہیں ہوں گی۔

  • وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن میں پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن سی متعلق تمام کام مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا،شوگر انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے ،سیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کے حوالے سے ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے ،وزیراعظم نےسیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے سسٹم ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے،چھوٹے کاروباروں کی ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن اس مہینے کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی،پرآل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے ،پرآل کا ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ کے حوالے سے سینٹرل اسیسمینٹ یونٹ کراچی میں قائم کیا جا چکا ہے جو کہ 31 دسمبر 2024 سے کام کا آغاز کر دے گا

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،وزیراعظم نےمحصولات میں اضافے کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ ،چئیر مین ایف بی آ ر، سیکریٹری خزانہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں،معاشی ٹیم کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ، فسکل اسپیس بڑھنا خوش آئند ہے

    وزیراعظم نے ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے محصولات کے نفاذ اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ایف بی آر ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے اہم کاموں کو 31 دسمبر 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے، پاکستان کی پیٹرولیم کی فروخت نومبر 2024 میں 25 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 1.58 ملین ٹن تک رہی کو کہ انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) 15 فیصد اضافہ ہوا ، جو توانائی کی مارکیٹ میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت کاروائی کی ہدایت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کے بروقت فیصلے کی بدولت پاکستان کو 500 ملین کا قیمتی زر مبادلہ ملا ،

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    اسلام آباد: ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں گزشتہ ماہ (نومبر 2024) کے دوران 148ارب روپے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ(جولائی تا نومبر)کے دوران سے 344 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے ۔

    ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں، تاہم یہ 1,003 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 148 ارب روپے کم ہے-

    ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 کے دوران محصولات کی عبوری وصولی 851 ارب روپے رہی ہے جو مقررہ ہدف 1,003 ارب روپے کے مقابلے میں 152 ارب روپے کم ہے تاہم حتمی اعداد و شمار اور ڈیٹا کی تصدیق کے بعد یہ فرق 150 ارب روپے تک محدود ہونے کی توقع ہے-

    رواں مالی سال 2024-2025 کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایف بی آر نے 4,295 ارب روپے محصولات جمع کیے، جو چار ہزار چھ سو 39 ارب روپے کے ہدف سے 344 ارب روپے کم ہیں، اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں 851 ارب روپے محصولات جمع کیے گئے جو نومبر 2023 میں جمع شدہ 736 ارب روپے کے مقابلے میں 115 ارب روپے زائد ہیں۔

  • ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس فراڈ کے خلاف مہم کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے

    ایف بی آر کے سینئیر افسر کی جانب سے کھربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی اور کاروائی،وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی کرنے والے ایف بی آر کے افسر اعجاز حسین کی وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی،وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کے آفیسر اعجاز حسین کی فرض شناسی کی پذیرائی کی،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی ایمانداری کے اعتراف میں ان کیلئے 50 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی فرض شناسی پر انہیں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرض شناس افسران اور اپنے پیشے سے مخلص باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ایماندار لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے. اطمینان بخش امر ہے کہ ایف بی آر اصلاحات کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے.پاکستان کی غریب عوام کے ٹیکس چوری کرنے والوں اور انکی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے گی.غریب عوام کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے شکنجے کو مزید مضبوط کیا جائے گا.اعجاز حسین نے اس احسن اقدام سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے جو لائق تحسین ہے.ایف بی آر ٹیکس فراڈ کی اس مزموم کوشش کی تفصیلی تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو قانون کے کٹھرے میں لائے. ایف بی آر ٹیکس فراڈ میں ملوث عناصر اور انکی معاونت کرنے والوں کو سزا دلوانے کیلئے بہترین قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کرے.

    اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس چوری کیلئے ایک 80 برس کی خاتون کے کوائف کو استعمال کیا گیا.4 مارچ 2024 کو ایف بی آر کے سینیئر افسر اعجاز حسین نے ٹیکس فراڈ کی اس کوشش کی نشاندہی کیسیلز ٹیکس فراڈ کی اس کوشش میں ابتدائی طور پر 37 کروڑ منتقل بھی ہوا جس کی ریکوری کا عمل جاری ہے. ٹیکس فراڈ کی کوشش میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد ٹیکس فراڈ کی کوشش میں مبینہ معاونت کرنے والے ایف بی آر کے حکام کی نشاندہی کرکے انہیں بھی قرار واقعی سزا دلوائی جائے .ملکی معیشت کی ترقی کیلئے ٹیکس بیس میں اضافے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں.ایف بی آر کی اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹائیزیشن سے مستقبل میں بھی اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام ہو سکے گی.

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی، جس میں عالمی بینک نے پاکستان میں محصولات بڑھانے کے لیے کوششوں میں اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

    ایف بی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین ایف بی آرراشد محمود لنگڑیال سے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بیہنسن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی اورملاقات میں پاکستان ریزز ریونیو پراجیکٹ کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے بارے میں حکومت کے وژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ ٹرانسفارمیشن پلان کامقصد محصولات میں اضا فہ اور ٹیکس کمپلائنس میں سہولت فراہم کرنا ہے،چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اورانسانی وسائل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ایف بی آر کی ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں وسیع تر اصلاحات کی جارہی ہیں۔

    ایف بی آر نے اعلامیے میں کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم سے ان اصلاحاتی ا قدامات کے لیے مزید تعاون کا کہا جن میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کا قیام، سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان اقدمات کے لیے درکار فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں، عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان ریونیو پروجیکٹ کے تحت ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    عالمی بینک کے وفد میں لیڈ کنٹری اکانومسٹ ٹوبیاس اختر حق، پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ ارم توقیراور سینئرآپریشنزآفیسرایوا لیزلوٹ لیسکرا ویٹ شامل تھے۔

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ