Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق سے بتایا گیا ہے کہ اگر زرعی ٹیکس نہ لگاتے تو آئی ایم ایف کی ٹیم نہ آتی اور پاکستان ڈیفالٹ میں چلا جاتا۔

    باغی ٹی وی: سندھ اسمبلی نے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس لگانے کی منظوری دے دی، سندھ اسمبلی سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ان ٹیکسز پر تحفظات ہیں، اراکین اپنی ترامیم پیش کریں، ہم اس پر نظرثانی بھی کر سکتے ہیں ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ہے، جب آئی ایم ایف کو اس طرح راستہ دکھا دیا جائے تو پھر وہ اٹک جاتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ زرعی ٹیکس قانون میں بہتری کی نشاندہی کریں، تبدیلیاں لے آئیں گے۔

    دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپیئن شپ 2025 کی افتتاحی تقریب

    واضح رہے کہ سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران زرعی ٹیکس نفاذ کی منظوری پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھاگزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران بیشتر اراکین نے صوبوں میں وفاق کے زرعی ٹیکس نفاذ کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا تھا۔

    کابینہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرعی ٹیکس میں صنعتوں کے برابر ٹیکس لگانا زرعی شعبے سے زیادتی ہوگی، زرعی شعبہ صنعتی شعبے کی طرح ریگیولیٹ نہیں ہوتا، اس لیے اس پر ٹیکس لگانا زیادتی ہے، زرعی شعبے میں ہاری (کسان) 50 فیصد کا حق دار ہوتا ہے جبکہ صنعت میں تنخوا دار ہوتا ہے۔

    گورنر کے پی کو آئی ایم سائنسز کے بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے بھی فارغ کرنے کا فیصلہ

  • ایف بی آر  افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

    ایف بی آر افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کی گاڑیاں خریدنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھانے پر ایف بی آر افسران نے مجھے قتل کی دھمکیاں دیں، میں شواہد پیش کرسکتا ہوں۔

    باغی ٹی وی: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال، کمیٹی کے ارکان اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 1010 گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ زیر بحث آیا۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گاڑیوں کا معاملہ اٹھایا ہے تو انہیں ایف بی آر افسران نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جس کے شواہد موجود ہیں انہوں نے چند ایف بی آر افسران کے نام بھی لیے اور کہا کہ ایف بی آر کے 54 کرپٹ لوگوں کی لسٹ تیار کی ہے وہ دینے کو تیار ہوں۔

    گورنر پنجاب نے 12 بلوں کی منظوری دے دی

    چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے گاڑیوں کا معاملہ اٹھانے پر مجھے بھی کچھ پیغامات ملے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے فیصل واوڈا کی تائید کی اور کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے آپ رکن پارلیمنٹ ہیں اور ایک اہم فورم کی نمائندگی کرتے ہیں اگر آپ کو دھمکی ملی ہے تو کل مجھے بھی مل سکتی ہے، اس معاملے کو ایسے ہی نہیں چھوڑا جائے گا، دھمکی کا معاملہ کرمنل انکوائری کیلئے انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھجوایا جائے۔

    محصولات میں اضافہ اور ٹیکس بیس کی توسیع ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم

    فیصل ووڈا نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت کے دور میں بھی ایسے معاملات کو فیس کیا ہے میں چاہتا ہوں اس معاملے میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ کسی کرائم ایجنسی یا ایف آئی اے کوبھیجا جائے۔

    رکن کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ پی پی آئی سے منظوری کرانے کے بغیر گاڑیاں نہیں خرید سکتے ہیں، میرے خیال میں دھمکی کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کیا جائے، کمیٹی میں دھمکی کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کو ایکسپوز ہونا چاہیے۔

    بچے کی پیدائش پرمٹھائی مانگنے پر ہسپتال کے 4اہلکار معطل

    کمیٹی میں اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال میں پالیسی کو ایف بی آر سے الگ کردیں گے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، تنخواہ دار طبقے کےلیے ٹیکس فارم کو سادہ رکھنے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں۔

  • ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس  پورا نہیں ہو سکا،گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں،فیصل واوڈا

    ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس پورا نہیں ہو سکا،گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 384 ارب روپے پورا نہیں ہو سکا اور اس کے باوجود غیر ضروری گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹر فیصل واوڈا نے ایف بی آر کی جانب سے فیلڈ افسران کے لیے 1010 گاڑیاں خریدنے کے معاملے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پروکیورمنٹ میں شفافیت کا فقدان ہے اور ابھی تک کسی اخبار میں اشتہار بھی جاری نہیں کیا گیا۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 384 ارب روپے پورا نہیں ہو سکا اور اس کے باوجود غیر ضروری گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ گاڑیاں خوش کرنے کے لیے خریدی جا رہی ہیں اور شاید اوپر سے حکم آیا ہے کہ یہی گاڑیاں خرید نی ہیں، ایف بی آر ملازمین کو پہلے ہی اضافی تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور گاڑیاں خریدنے کے بجائے کرائے پر لینے کا آپشن بھی موجود ہے۔

    حکومت کا پی ٹی وی سے جعلی ڈگریوں والے ملازمین کو نکالنے کا اعلان

    انہوں نے الزام لگایا کہ مخصوص کمپنیوں کو فائدہ دیا جا رہا ہے اور اگر مافیا کے خلاف آواز اٹھائی جائے تو مقدمے بنا دیئے جاتے ہیں، گاڑیاں گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کو دی جانی چاہیے تھیں، لیکن یہاں گریڈ 16 سے اوپر کے افسران کو گاڑیاں دی جا رہی ہیں ہم فیورٹ ازم کو قبول نہیں کریں گے اور چوری و غنڈہ گردی کے خلاف کھڑے رہیں گے،مخصوص کمپنیوں کو فیور دی جارہی ہے، مافیا کے خلاف آواز اٹھائیں تو مقدمہ بنا دیتے ہیں فائلیں کھل جاتی ہیں۔

    معمر رانا کی حفاظت اور دیکھ بھال ہم سب کی ذمہ داری ہے،میرا

    وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے فیصل واوڈا کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں گریڈ 17 اور 18 کے فیلڈ سٹاف کے لیے ہیں اور ان پر ٹریکر لگائے جائیں گے یہ گاڑیاں سیلز ٹیکس حکام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے خریدی جا رہی ہیں۔

    وزیر قانون نے وضاحت کی کہ دنیا بھر میں ٹیکس کلیکٹر شعبہ اپنی وصولی کا 5 فیصد خرچ کرتا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ خرچ ایک فیصد سے بھی کم ہےیہ فیصلہ وزیر اعظم کی منظوری کےبعد کیا گیا ہےاور ایف بی آر نے یقین دہانی کرائی ہےکہ اس سےٹیکس کا ہدف حاصل کیا جائے گایہ گاڑیاں ایف بی آر کے ایلوکیٹڈ بجٹ سے خریدی جائیں گی اور اس کا مقصد فیلڈ سٹاف کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔

    پنڈت کی بھائی کے ساتھ ملکر شوہرکے سامنے خاتون کیساتھ اجتماعی زیادتی

  • پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس پالیسی یونٹ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ میں شامل کر رہے ہیں –

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وفا قی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے وفد نے ملاقات کی جس کے دوران وزیر خزانہ نے منصفانہ ، موثر اور بہترین ٹیکس کے نظام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی یونٹ کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ میں شامل کر رہے ہیں جس کا مقصد ٹیکس پالیسی کو ریونیو کلیکشن کے دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے،وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے مشاورتی عمل شروع کردیا ہے-

    سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیمیں آنے والے دنوں میں تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیں گی پاکستان کے موجودہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب تشویشناک ہے اور 8 سے 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی سے ملکی معشیت اور عالمی حیثیت کے لیے ناقابل قبول ہے،وزیر خزانہ نے اس تناسب کو اگلے 3 سال میں 13.5 فیصد تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام فیلڈ فارمیشنز سے دہری شہریت رکھنے والے افسران سے تفصیلات طلب کرلیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان کا دورہ

    اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تمام ڈائریکٹرز جنرلز، چیف کمشنرزکو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کی دہری شہریت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی ہے مراسلے میں دہری شہریت رکھنے والے افسران سے نام، عہدہ، مدت ملازمت اور غیر ملکی شہریت کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    دہری شہریت رکھنے والے شوہر یا بیوی کا الگ الگ ڈیٹا فراہم کرنا ہوگا جبکہ اہل خانہ کی دہری شہریت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے،دہری شہریت رکھنے والے ایف بی آر افسران کو طلب کردہ تمام تفصیلات ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    مجھے یقین ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ثابت ہوگا،وزیراعظم

  • چیئرمین سینیٹ کمیٹی کا وزیرخزانہ کو  ایف بی آر  کیلئے گاڑیوں کی خریداری روکنےکیلئےخط

    چیئرمین سینیٹ کمیٹی کا وزیرخزانہ کو ایف بی آر کیلئے گاڑیوں کی خریداری روکنےکیلئےخط

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ایف بی آر افسران کے لیے گاڑیوں کی خریداری روکنےکے لیے خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین قائمہ کمیٹی نے وزیر خزانہ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ایف بی آر کی طرف سے 1010 گاڑیاں خریدنے پر سینیٹ کمیٹی کو تحفظات ہیں،کمیٹی ممبران نےگاڑیوں کی خریداری میں اوپن بڈنگ نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    سلیم مانڈوی والا نے خط میں کہا کہ گاڑیوں کی خریداری کے عمل کو مس مینجمنٹ اور ممکنہ بدنیتی سمجھاگیا، گاڑیوں کی خریداری کے عمل میں شفافیت پر سمجھوتا کیا گیا، خریداری میں شفافیت کو یقینی بنانا بنیادی اصول ہے، گاڑیوں کی خریداری کے بڈنگ پراسس میں باقی کمپنیوں کو شمولیت ملنی چاہیے، اس پروکیورمنٹ پراسس کو فوری روکنے کے لیے وزیرخزانہ کردار اداکریں۔

    صحافت اس وقت ملک ریاض کے ہاتھوں یرغمال بن چکی،خواجہ آصف

    خط میں مطالبہ کیا گیا کہ اے جی پی آر کو جاری پرچیز آڈر کینسل کر دیاجائے اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے رقم کی ادائیگی نہ کی جائے، وزارت خزانہ ایف بی آر کیلئے گاڑیوں کی خریداری روکنےکے لیے ہدایات دے، مالیاتی صورتحال اور شفافیت کو برقرار نہ رکھنا بددیانتی ہوگی۔

    سیما حیدر حاملہ مہا کمبھ میلے میں دودھ عطیہ کا اعلان

  • ایف بی آر افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری مل گئی

    ایف بی آر افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری مل گئی

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) افسران کو نقد انعامات دینے کی اسکیم کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کےمطابق ایف بی آر افسران کو انعامات دینے کی اسکیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کی وزیراعظم شہباز شریف نے منظوری دے دی ہے نقد انعامات صرف انکم ٹیکس اور کسٹمز کے 1800 کیڈر افسران کو دیئےجائیں گے۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے انکم ٹیکس اور کسٹمز کے افسران کی آن لائن ویلیوایشن کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر، ریٹنگ اور ریوارڈ سسٹم کا 21 جنوری کی سہ پہر ٹیسٹ رن کرے گا جس میں انکم ٹیکس اور کسٹمز افسران پیئر ریٹنگ کریں گے۔

    ایف بی آر کے مطابق اسکیم کے تحت ٹیکس افسران اپنے سینئرز ہم پلہ اور جونیئرز کی رینکنگ کریں گے، افسران کی رینکنگ اے، بی، سی، ڈی اور ای کیٹیگری میں کی جاسکے گی، رینکنگ کے تحت 20 فیصد افسران کو ایک کیٹیگری میں ڈالنا ضروری ہے جب کہ اے کیٹیگری والے افسران کو 5 بنیادی تنخواہیں انعام میں دی جائیں گی۔

  • حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    حکومتی عیاشیاں ،ایف بی آر کا 1010نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ

    ایک طرف پاکستان میں مہنگائی بڑھ رہی، غریب خود کشیاں کر رہے تو وہیں حکمران قومی خزانے پر عیاشیاں کر رہے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 1010 نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی مجموعی لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہو گی۔

    ایف بی آر نے گاڑیاں خریدنے کے لیے ایک کمپنی کو لیٹر آف انٹینٹ جاری کیا ہے، جس میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری 2 مراحل میں کی جائے گی۔ایف بی آر کے خط کے مطابق، گاڑیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب روپے کی پیشگی ادائیگی کی جائے گی، اور یہ پیشگی ادائیگی 500 گاڑیوں کی مکمل ادائیگی کے طور پر شمار کی جائے گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلی کھیپ کی ترسیل کے بعد باقی رقم کی ادائیگی کی جائے گی، اور 1010 گاڑیوں کی ڈلیوری جنوری سے مئی 2025 کے دوران مکمل ہو گی۔

    پہلے مرحلے میں جنوری میں 75 گاڑیاں، فروری میں 200 گاڑیاں اور مارچ میں 225 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں اپریل میں 250 گاڑیاں اور مئی میں 260 گاڑیاں ڈلیور کی جائیں گی۔ایف بی آر کے ترجمان نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فیلڈ افسران کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گاڑیاں صرف اور صرف فیلڈ افسران کے استعمال کے لیے ہوں گی۔

    تاریخی کوہالہ پُل پر "کشمیر بنے گا پاکستان” کنونشن کا انعقاد

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

  • ٹیکس دینے والوں میں کراچی اس بار بھی سر فہرست

    ٹیکس دینے والوں میں کراچی اس بار بھی سر فہرست

    رواں سال بھی ٹیکس دینے والوں میں کراچی ہر بار کی طرح اس بار بھی سر فہرست رہا جہاں سے ایف بی آر نے دو ہزار 522 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔

    ایف بی آر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 2023-24 کے دوران جغرافیائی اعتبار سے ٹیکس وصولیوں کی مرتب کردہ رپورٹ میں یہ بتایا ہے کہ ملک کے کون سے شہر نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والوں میں پہلا نمبر کراچی کا ہے جبکہ ٹیکسوں کی ادائیگیوں کی فہرست میں دوسرا نمبر لاہور اور تیسرے نمبر پر اسلام آباد ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے لارج ٹیکس آفس نے مجموعی طور پر 2 ہزار 522ارب روپے سے زائد مالیت کا ٹیکس جمع کیا، لارج ٹیکس آفس کراچی نے زیر تبصرہ مدت کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 1ہزار 360ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کی ہیں جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایل ٹی او کراچی کی وصولیوں کا حجم 13کروڑ 63لاکھ روپے رہا۔رپورٹ کے مطابق سیلز ٹیکس کی مد میں ایل ٹی او کراچی نے 1ہزار ارب روپے سے زائد کی وصولیاں کیں۔ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق ایل ٹی او لاہور نے زیرتبصرہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 1ہزار 402ارب روپے سے زائد مالیت کے محصولات وصول کیے جبکہ اسلام آباد لارج ٹیکس آفس نی1ہزار 164ارب روپے کا مجموعی ٹیکس جمع کیا۔

    اخراجات کمی،قطر ایئرویز کے پاکستان بھر میں دفاتر بند

    پاک بحریہ کی سالانہ کوسٹل کمانڈ ایفیشنسی پریڈ کا کراچی میں انعقاد

    کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں پاکستان ٹیم کو سلو اوور ریٹ پر جرمانہ

    انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب سمیت متعدد افسر تبدیل

  • پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    پاکستانی امیر ترین ٹیکس چوروں کی نشاندہی،ایف بی آر متحرک

    اسلام آباد: حکومت نے ایک بڑی کاروائی کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے امیر 10 فیصد افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، جنہوں نے گزشتہ برسوں میں ٹیکس چوری کی ہے۔ ان افراد کی تعداد 2 لاکھ 50 ہزار تک پہنچتی ہے، اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ہر ایک تقریباً 64 لاکھ پاکستانی روپے سالانہ ٹیکس چوری کرتا ہے۔

    اس فہرست میں سے حکومت نے مزید 1 لاکھ 90 ہزار افراد کو نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ افراد زیادہ تر کاروباری شخصیت، زمینوں کے مالکان اور بڑی کمپنیوں کے مالکان ہیں جو ٹیکس نیٹ ورک سے باہر ہیں اور ان کی دولت کا بیشتر حصہ غیر قانونی ذرائع سے آ رہا ہے۔

    پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کی شرح بہت کم ہے، اور ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو مضبوط بنانے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ایف بی آر نے ان افراد کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ان پر نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ٹیکس کی ادائیگیاں مکمل کریں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم سے ملک کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے اور اس رقم کو عوامی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

    یہ خبر ملکی معیشت کے حوالے سے ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے اور عوام میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے جو کرپشن کے خلاف ایک سنگین کارروائی کی صورت اختیار کر رہا ہے، جبکہ کچھ افراد اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات معاشی طبقاتی فرق کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی مرحلہ ہے اور اس کے بعد مزید افراد کی شناخت کی جائے گی جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا سکے۔پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوامی خدمات میں اضافہ کیا جا سکے۔

    فیصل آباد، دھند کی وجہ سے حادثہ،چھ افراد کی موت

    پاکستان کے ایٹمی اثاثے، سازشیں اور بلاول کا انتباہ

  • ٹیکس جمع نہ کروانے پر  شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    ٹیکس جمع نہ کروانے پر شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    ایف بی آر نے کراچی کے 4 شادی ہالز کی جانب سے ٹیکس جمع نہ کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے شادی ہالز مالکان کو صارفین سے ٹیکس وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، کراچی کے 4 شادی ہالز مالکان نے تاحال ٹیکس جمع نہیں کروایا۔ایف بی آر نے شہر قائد کے ایسے 4 شادی ہالز کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے تقریبات کے لیے ہالز کی بکنگ کروانے والے صارفین سے ٹیکس وصول کر کے اب تک قومی خزانے میں جمع نہیں کروایا۔کراچی کے 4 شادی ہالز مالکان نے ایف بی آر کے احکام پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا، اسی وجہ سے شادی ہالز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) نے یہ اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے قرض پروگرام لینے کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا عمل جاری ہے، ایف بی آر ایسے شعبوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کوشاں ہیں، جو طویل عرصے سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

    سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کا پاکستان کیلئے پروازوں کے آغاز کا فیصلہ

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

    پاکستانی شہریت کیلئے کم از کم 5 سال کا قیام لازمی قرار

    انسانی اسمگلنگ کا منصوبہ ناکام، بھارتی ایجنٹ ملوث نکلا