Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    عالمی بینک کا پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کیلئے حمایت جاری رکھنے کا عزم

    اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے عالمی بینک کے وفد نے ملاقات کی، جس میں عالمی بینک نے پاکستان میں محصولات بڑھانے کے لیے کوششوں میں اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

    ایف بی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین ایف بی آرراشد محمود لنگڑیال سے عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرناجی بیہنسن کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی اورملاقات میں پاکستان ریزز ریونیو پراجیکٹ کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم کو ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کے بارے میں حکومت کے وژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ ٹرانسفارمیشن پلان کامقصد محصولات میں اضا فہ اور ٹیکس کمپلائنس میں سہولت فراہم کرنا ہے،چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اورانسانی وسائل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ایف بی آر کی ٹیکس ایڈمنسٹریشن میں وسیع تر اصلاحات کی جارہی ہیں۔

    ایف بی آر نے اعلامیے میں کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے عالمی بینک کی ٹیم سے ان اصلاحاتی ا قدامات کے لیے مزید تعاون کا کہا جن میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کا قیام، سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن اور ان اقدمات کے لیے درکار فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں، عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے پاکستان میں ریونیو بڑھانے کی کوششوں کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان ریونیو پروجیکٹ کے تحت ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کی سرگرمیوں میں تعاون کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    عالمی بینک کے وفد میں لیڈ کنٹری اکانومسٹ ٹوبیاس اختر حق، پبلک سیکٹر اسپیشلسٹ ارم توقیراور سینئرآپریشنزآفیسرایوا لیزلوٹ لیسکرا ویٹ شامل تھے۔

  • ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم  پر عملدرآمد میں خامیاں

    ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد میں خامیاں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو   کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم   پر عملدرآمد کے حوالے سے میریٹ ہوٹل، اسلام آباد میں ایک انتہائی اہم گول میز مباحثہ منعقد کیا گیا۔ پلڈاٹ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے زیر اہتمام اس مباحثے میں اہم سٹیک ہولڈر نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، صنعتی شعبے کے قائدین، پالیسی ماہرین اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ جنہوں نے تازہ ترین تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا۔

    تقریب کا آغاز مامون بلال، ایڈوائزر پلڈاٹ کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا جس کے بعد  انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ   کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  طارق جنید نے مذکورہ تحقیق کے کلیدی نتائج پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے صنعتی شعبے کے اندر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عدم تعمیل کے حوالے سے پریشان کن حالات پر روشنی ڈالی۔تمباکو کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں 2021 میں تین دیگر شعبوں کے ساتھ شروع ہوئیں جن میں سیمنٹ، کھاد اور چینی کے شعبے شامل تھے۔ جولائی 2022 سے ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر کے بغیر سگریٹ کا پیک فروخت کرنا غیر قانونی ہے۔ تاہم، حتمی تاریخ گزرنے کے بعد سےاس سسٹم پر عملدرآمد صرف ایک خواب ہی رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین اینڈ ریسرچ  نے پنجاب اور سندھ کے 11 شہروں میں مارکیٹ پر تحقیق کی جس میں 18 مارکیٹوں میں 40 پرچون فروشوں کی دکانوں  کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کل 720 دکانیں شامل تھیں۔ اس تحقیق کے دو مقاصد تھے؛ فروخت کے وقت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کی صورت حال کا پتہ لگانا اور سگریٹ کے لیے کم از کم طے شدہ قانونی قیمت   پر عملدرآمد کا جائزہ لینا جو ایف بی آر کی طرف سے لازمی ہے۔رپورٹ کے مطابق سروے کیے گئے 264 سگریٹ برانڈ میں سے صرف 19 برانڈ نے اس سسٹم کے مطلوبہ تقاضوں پر پوری طرح عمل کیا جو کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ عملدرآمد نہ کرنے والے برانڈ مارکیٹ کے 58 فیصد حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے   برانڈ 65 فیصد ہیں جبکہ سمگل شدہ برانڈ 35 فیصد ہیں جو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر کی غیر موجودگی سے لے کر قیمتوں یا صحت سے متعلق انتباہ کے ضوابط پر عملدرآمد نہیں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ 197 برانڈ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے کم جبکہ 48 برانڈ اس طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے پائے گئے۔ مزید یہ کہ وہ دیگر طے شدہ قانونی تقاضوں پر بھی عملدرآمد نہیں کر رہے تھے۔ 19 برانڈ تمام طے شدہ قانونی تقاضوں کے مطابق عملدرآمد کرتے پائے گئے مگر وہ کم از کم طے شدہ قانونی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے تھے۔

    اس گول میز مباحثے میں سٹیک ہولڈر کو اس سسٹم کے حوالے سے درپیش چیلنجز، پرچون کی سطح پر اس کے نفاذ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور صحت عامہ کی کوششوں پر عدم تعمیل کے مجموعی اثرات پر تفصیل سے تبادلہٴ خیال کرنے کا ایک موقع فراہم کیا گیا۔ کلیدی مقررین میں ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، محمد ظہیر قریشی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سسٹم کے نفاذ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بتایا۔ تقریب کی صدارت علی پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات نے کی جنہوں نے تمام شعبوں میں اس سسٹم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذکورہ سسٹم کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے بہتر ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے۔

    اس سسٹم پر عملدرآمد کو بڑھانے کے لیے اہم مجوزہ سفارشات:
    گول میز مباحثے کا اختتام قابل عمل سفارشات کے ساتھ ہوا جو مندرجہ ذیل ہیں،عدم تعمیل والے برانڈ تک رسائی کو روکنے کے لیے پرچون فروشوں کی سطح پر نفاذ کو مضبوط بنایا جائے،خلاف ورزیوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جائے،صارفین کو تعمیل شدہ مصنوعات کی خریداری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے عوامی آگاہی کی مہمات کا آغاز کیا جائے،

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

  • ایف بی آر کا بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ

    ایف بی آر کا بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مارکیٹ سروے اور چھوٹے دکانداروں کی رجسٹریشن روک کر بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق بڑے ریٹیلرز، دکانداروں اور تاجروں کی رجسٹریشن کے لیے بجلی کے بلوں اور ریٹرن کا ڈیٹا استعمال ہوگا، ہول سیل مارکیٹس اور بڑی منڈیوں کا سروے ہوگا،ایف بی آر کے اس اقدام کا مقصد رواں مالی سال تاجر دوست اسکیم کے لئے پچاس ارب روپے کے ہدف کا حصول ہے۔

    دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) نے ان لینڈ ریونیو کی 89 خالی آسامیاں ختم کر دیں۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو کی خالی آسامیاں مستقل طور پر ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق آسامیاں چیف ٹیکس آفیسرز، لارج ٹیکس پیئرز یونٹس اور ریجنل دفاتر میں ختم کی گئیں، خالی آسامیوں کا تعلق کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور سے ہے جبکہ حیدر آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں بھی خالی آسامیاں ختم کر دی گئیں۔

    امریکی انتخابات: ریما نےاپنا ووٹ کاسٹ کر دیا

    آئی پی ایل 2025 پلئیرز ڈرافٹ رواں ماہ جدہ میں ہوگا

    بدوبدی کی اصل ادکارہ چاہت فتح علی خان سے نالاں

  • آئی ایم ایف  کااضافی ریونیو کیلئے حکومت سے اضافی اقدامات کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کااضافی ریونیو کیلئے حکومت سے اضافی اقدامات کا مطالبہ

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے منی بجٹ کا مطالبہ کردیا،جبکہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے ٹیکس اہداف پر نظر ثانی کرکے کم کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ایف بی آر کو درپیش ریونیو شارٹ فال کے باعث آئی ایم ایف نے اضافی ریونیو کیلئے حکومت سے اضافی اقدامات کا مطالبہ کردیا –

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس اہداف میں ناکامی پر شارٹ فال پورا کرنے کے لیے منی بجٹ کا مطالبہ کیا ہے،ورچوئل بات چیت کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس اہداف پر نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے ٹیکس شارٹ فال کے باعث دوسری قسط میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور آئندہ مہینوں کے شارٹ فال کا تخمینہ لگا کر 500 ارب کا منی بجٹ آسکتا ہے۔ْ

    دوسری جانب ایف بی آر نے ٹیکس اہداف پر نظرثانی درخواست آئی ایم ایف سے مسترد ہونےکی خبر کی تردید کردی، ایف بی آر کا کہنا ہےکہ ٹیکس اہداف پر نظرثانی معاملے پر آئی ایم ایف سےکوئی ملاقات نہیں ہوئی، آئی ایم ایف سے ورچوئل اور دیگر ملاقاتوں میں یہ معاملہ کبھی ایجنڈے پر نہیں رہا، ایسی تمام خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں۔

  • ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    ایف بی آر نے کراچی کیلئے جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کے لیے پونے تین سال بعد جائیداد کی نئی قیمتوں کا تعین کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے‘نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔ایف بی آر کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے فیصلے کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں جائیدادوں کی 12 کیٹیگریز میں تقسیم ختم کر دی گئی ہے۔فیصلے کے مطابق رہائشی,کمرشل، صنعتی علاقوں کے لیے جائیداد کی قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے، جائیداد کے لیے قیمتوں کا تعین فی مربع فٹ کے حساب سے کیا گیا ہے۔اس سے قبل کراچی کی جائیداد کی قیمتوں کا تعین فی مربع گز کے حساب سے کیا گیا تھا۔ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں رہائشی جائیدادکی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ہزار روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔کراچی کے علاقے نیول، زمزمہ، فیز 5، ڈی ایچ اے کے رہائشی جائیدادکی قیمت سب سے زیادہ مقررکی گئی ہے، ان علاقوں کے لیے کمرشل پراپرٹی کی قیمت 75ہزار تک فی مربع فٹ مقررکی گئی ہے۔
    ایف بی آر کے مطابق عبداللہ ہارون روڈ اور برنس روڈ کی رہائشی جائیداد کی قیمت 7 ہزار روپے جبکہ بلدیہ ٹاون 1 ہزار 300 اور بفر زون کی رہائشی جائیداد کی قیمت 3 ہزار تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں سول لائنزکے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 10ہزار200 روپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی نئی قیمتوں کے بعد جمشید کوارٹرز7 ہزار، لیاقت آباد 3 ہزار 600، لیاری کوارٹرزکے لیے رہائشی جائیدادکی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نظر ثانی شدہ قیمتوں کے مطابق ایم اے جناح روڈ7 ہزار، محمود آباد اور نیلم کالونی 3 ہزار جبکہ پرانا گولیمار اور اورنگی ٹاون کے لیے رہائشی جائیداد کی قیمت 2 ہزار 200 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق شاہ فیصل کالونی 2 ہزار 200، شاہ فیصل ٹاون 3 ہزار روپے اور شاہراہ فیصل کی رہائشی جائیدادکی قیمت7 ہزارروپے تک فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ ریٹ کے قریب لانے کے لیے ایف بی آر نے 56 شہروں میں پراپرٹی ویلیوایشن کی شرح 80 فیصد تک بڑھا دی تھی۔ایف بی آر کے اس فیصلے کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا اور سرمایہ کاری کو معیشت کے زیادہ پیداواری شعبوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔

    کراچی سے حیدر آباد بذریعہ سڑک منتقل کیا جانے والا طیارہ تاخیر کا شکار

  • سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے 2014 سے 2021 کے درمیان سندھ کی 500 صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے ہیں تاہم وہ فنڈز سندھ کو منتقل نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے اور محنت کشوں کے پیسے واپس لیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بات محکمہ محنت اور مالیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، شاہد تھہیم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ، سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے سندھ کی 500 صنعتوں سے سندھ ویلفیئر ورکرز فنڈ ( ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ ( ایس ڈبلیو پی پی ایف ) کی مد میں 22 ارب روپے کی وصولی کے علاوہ ایف بی آر نے 2017-2016 سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی اور اینگرو گروپ جیسے بین الصوبائی اداروں سے بھی اربوں روپے وصول کیے ہیں تاہم اب تک حکومت سندھ کو منتقل نہیں کیے۔
    اجلاس میں بتایا گیا کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی یا بین الصوبائی اداروں سے ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ایس ڈبلیو پی پی ایف کی وصولی خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت بین الصوبائی اداروں سے جمع کیے گئے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کے 25 ارب 36 کروڑ روپے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اور رقم عدالت میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم سے درخوست کریں گے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں اور یقینی بنائیں کہ سندھ کو اس کا حصہ ٹرانسفر کیا جائے۔ وزیرعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کےلیے فلیٹس اور گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ورکرز ماڈل اسکولوں اور کالجوں میں محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بورڈ ہر ایک بچے کو یونیفارم، جوتوں، کتابوں اور تھیلوں کےلیے 10 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ محنت کش کی بیٹی کی شادی کی صورت میں 2 لاکھ روپے جہیز کی مد میں دئے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد محنت کشوں کے بچوں کو اسکالرشپ اور فوتگی کی صورت میں محنت کش کے قانونی ورثا کو 7 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ اجلاس میں وفاق سے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) کے اثاثوں اور بقایہ جات کی منتقلی پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ بہت جلد وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

    محکمہ داخلہ سندھ میں اجلاس ،پاک ایران جیل میں قیدیوں کی منتقلی پر غور

    کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی طالبہ تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں

  • امریکی سفیر کا پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ

    امریکی سفیر کا پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ

    وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی امریکی سفیر سے ملاقات ہوئی ہے

    وزیر خزانہ نے امریکی سفیر کو اہم اصلاحات پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکسیشن، توانائی اور ایس او ای کے محاذوں پر وسیع البنیاد اصلاحات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو 13.5 فیصد تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہے جس سے لیکیجز کو ختم کیا جائے اور بغیر ٹیکس والے شعبوں کو نیٹ میں لایا جائے۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ایف بی آر کے لیے ایک جامع تبدیلی کے منصوبے کی منظوری دی ہے اور بورڈ آف پرل (ایف بی آر کے آئی ٹی بازو) میں ماہرین کو شامل کیا ہے۔ وہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے بات چیت کر رہے تھے جنہوں نے آج وزارت خزانہ میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے میکرو اکنامک استحکام کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور حکومت کی جانب سے خاص طور پر ٹیکسیشن اور توانائی کے شعبوں میں چیلنجنگ اور جرات مندانہ اصلاحات شروع کرنے پر سراہا۔ انہوں نے تکنیکی اور ترقیاتی اقدامات میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے اور پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اعلیٰ معیار کی امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

  • روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے،چئیرمین ایف بی آر

    روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے،چئیرمین ایف بی آر

    اسلام آباد: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر )راشد لنگڑیال کا کہنا ہے کہ جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ قرض میں چلا گیا، روپے کی صلاحیت کے حساب سے اب بھی ٹیکس کلیکشن 2016 کی سطح پر ہے۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جو ٹیکس اکٹھا کیا وہ قرض میں چلا گیا، اگر پورے سال کا ٹیکس صرف قرض میں جائے تو معاملہ ٹھیک نہیں ہے ملک میں ٹاپ 1 فیصد افراد انکم ٹیکس پورا نہیں دے رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ مزید ٹیکس شرح نہ بڑھے، صنعت کار تکلیف دہ مراحل سے گزرے، اب حالات بہتر ہو رہے ہیں، امید ہے کہ شرحِ سود میں 2 فیصد کمی آئے گی۔

    آئی سی سی ٹیسٹ پلیئرز کی رینکنگ جاری،بابراعظم کی ایک درجہ …

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہمیں کسی ایفی ڈیوٹ کی ضرورت نہیں سب سیلز ٹیکس لاء میں موجود ہے، آپ کہہ دیں کہ ہر چیز قانون کے تحت خریدی گئی ہے، ہم کچھ نہیں کہیں گےایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ فلائنگ انوائس کا کاروبار کرتے ہیں، جانتے بوجھتے فلائنگ انوائس والے گرفتار ہوں گے۔

    راشد لنگڑیال نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ریفنڈز پر پیسے لیے جاتے ہیں، ہم ریفنڈز کو کھلی سماعت یا کیمرے کے سامنے کرنے کو تیار ہیں، میں نے افسر سے پوچھا ریفنڈز کے پیسے کیسے طے ہوتے ہیں؟ جس پر افسر نے کہا کہ جعلی ریفنڈز پر زیادہ، جائز پر کم پیسے لیتے ہیں-

    ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

  • قومی خزانے کو  نقصان پہنچانے کے الزام میں 10 افراد گرفتار

    قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 10 افراد گرفتار

    حیدرآباد: چیف کمشنر لینڈ ریونیو ڈاکٹر خالد ملک نے بتایا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قومی خزانے کو 6 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں 10 افراد کو گرفتار کرکے 10 کروڑ وصول کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریجنل ٹیکس آفس حیدرآباد میں سیمینار سے خطاب میں چیف کمشنر لینڈ ریونیو نے کہا کہ ٹیکسز کی چوری اور جعلی انوائسز بناکر سیلز ٹیکس چوری کرنے والے والوں کے خلاف کارروئیاں جاری رہیں گی، ایف بی آر کی انفورسمنٹ کے بعد جعلی انوائسز اور سیلز ٹیکس کی چوری میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے، جولائی 2023 سے تاحال حیدرآباد ریجن میں سیلز ٹیکس کی چوری میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کرکے 10 کروڑ وصول کیے ہیں جب کہ مزید کیسز پر کام جاری ہے۔

    چیف کمشنر لینڈ ریونیو نے کہا کہ کچھ کمپنیز کے مالکان زائد منافع کی لالچ میں جعلی کمپنیاں بنا کر ٹرانزیکشن کرنے کے ساتھ ساتھ پروڈکٹ کی مینوفیکچرنگ میں کاسٹ کے غلط اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے تاہم اب ایسا کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دوسری بار انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کردی ایف بی آر نے کہا کہ یہ قدم مختلف تجارتی اداروں، ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی درخواستوں اور اسلام آباد اور راولپنڈی میں اعلان کردہ بینکنگ تعطیلات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

    جبالیہ میں حماس کا اسرائیلی قافلے پر حملہ، کئی اسرائیلی فوجی ہلاک

    واضح رہے کہ مالی سال 2023-2024 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ گزشتہ روز تھی ایف بی آر نے کہا تھا کہ اس نے پہلے ہی ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں اس ماہ کی 14 تاریخ تک توسیع کی۔

    خیال رہے کہ کہ 15 اور 16 اکتوبر کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان حکومت کے اجلاس سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں تین روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے-

    جعلی حکمران علی گنڈاپور سے عوامی مسائل حل کرنا سیکھیں،بیرسٹر سیف

  • ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

    ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈان تیز کرتے ہوئے اربوں روپے کی جعلی انوائسنگ کے اسکینڈل میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی و فلائنگ انوائسز میں ملوث گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا۔ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے تمام فیلڈ فارمشنز سے اربوں روپے کی ٹیکس چوری کے کیسوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں اورٹیکس چوری کے جن کیسوں میں جائیدادیں اور ٹریڈ مارک ضبط ہوچکے ہیں ان کیسوں میں ریکوری کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔اس کے علاوہ جن کیسوں میں ٹیکس چور گرفتار ہیں انکی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور میں کاسمیٹکس سیکٹر میں ٹیکس چوری کے ایک بڑے کیس میں دو لوگ ایک عرصے سے گرفتار ہیں اور اس کیس میں ضبط کچھ جائیداد کی نیلامی سے اب تک آٹھ کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری ہوچکی ہے اور ٹیکس چور کمپنی کا ٹریڈ مارک بھی ضبط کیا جاچکا ہے لیکن لاہور کے ٹیکس حکام کی مبینہ ملی بھگت سے باقی کروڑوں روپے کی ریکوری کیلئے جائیدادوں کی نیلامی کا عمل رکا ہوا ہے۔
    ذرائع کے مطابق اب ایف بی آر نے ایسے کیسز، جن میں ریکوری کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود ٹیکس حکام کی مبینہ ملی بھگت سے ٹیکس واجبات کی ریکوری تاخیر کا شکار ہے، ان کیسوں میں ذمہ دار ایف بی آر حکام کا تعین کرکے انکے خلاف بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ ابھی ایف بی آر نے آٹھ رکنی گینگ کے لاہور سے تعلق رکھنے والے سرغنہ کو انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے کراچی سے گرفتار کیا۔
    ملزم نے مبینہ طورپر 11 ارب روپے کا سیلز ٹیکس میں فراڈ کیا۔لاہور، کراچی، اسلام آباد اور فیصل آباد سے فیک انوائس کی تفصیلات بھی جمع کرلی گئیں، فیک انوائسز پر ان پٹ کلیم کرنے والی کئی کمپنیوں سی60 کروڑ روپے کی ریکوری بھی کرلی گئی ہے۔مرکزی ملزم کی لاہور رہائشگاہ سے جعلی مہریں، چیک بکس، لیپ ٹاپ برآمد کرلیا گیا، ملزم کے کالز ریکارڈ اور نشاندہی پر6 ٹیکس کنسلٹنٹس گرفتار کرلیے گئے۔ ملزم نے 6مارچ2023 کو کمپنی رجسٹرڈ کروانے کے بعد55 ارب سے زائد سپلائی ظاہر کی۔ایف بی آر نے ٹیکس چوروں سے ریکوری کے معاملے میں ایف بی آر حکام کی غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور جہاں بھی ایف بی آر حکام غفلت کے مرتکب پائے جائیں گے انکے خلاف کارروائی کی جائے گی۔