Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیرخزانہ محمداورنگزیب کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں ترمیمی ٹیکس لا 2024 بارے اجلاس ہوا، وزیرخزانہ کو چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 برسوں میں ٹیکس تناسب جی ڈی پی کا 14 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔محمداورنگزیب کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کیلئے ماہرین و نجی شعبے کی خدمات لی جائیں گی، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے آئندہ 6 ماہ کے دوران نکال دیا جائے گا۔تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ٹیکس ٹو جی فی پی نہیں بڑھ سکتا، اگر ترامیم اب نہیں لائی گئیں تو انفورسمنٹ کیلئے اقدامات آئندہ بجٹ میں متعارف کرائے جائیں گے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بہت زیادہ ہے اگر ان کا ٹیکس کم کرنا ہے تو تمام سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا ۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ملک بھر میں 62 ہزار رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے صرف 42 ہزار کمپنیاں سیلز ٹیکس جمع کراتی ہیں، ایکٹیو ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار کو سیل کیا جائے گا، منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائیں گی اور وصول کنندہ کا تقرر کیا جائے گا۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس اس وقت صرف 300 آڈیٹرز ہیں جن کی کارکردگی ناقص ہے، نئی تجاویز کے باعث ترامیم سے 95 فیصد لوگ متاثر نہیں ہوں گے، ٹیکس لا ترمیمی بل سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 5 برسوں میں 18 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں اور انفرادی سطح پر انکم ڈیکلیئریشن اور اخراجات میں فرق بہت زیادہ ہے، ٹیکس نیٹ سے باہر قابل ٹیکس آمدن افراد کیلئے پراپرٹی، بینک اکاؤنٹس اور بزنس سیل کیا جا سکے گا، ترامیم سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکس آڈٹ کیلئے 1600 سو آڈیٹر ہائر کئے جائیں گے۔چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کا 18 فیصد ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے صوبوں کو 3 فیصد ٹیکس جمع کر کے وفاق کو دینا ہو گا، صوبے صرف 0.8 فیصد اور پٹرولیم لیوی سے ایف بی آر کو 1 فیصد جی ڈی پی کی شرح کا ٹیکس ملتا ہے، سیلز ٹیکس میں 3 ہزار ارب روپے اور انکم ٹیکس میں 2 ہزار ارب روپے کا گیپ ہے۔راشد لنگڑیال نے اپنی بریفنگ میں مزید کہا کہ ٹیکس گزار سمجھتا ہے ٹیکس کا پیسہ ارکارن پارلیمنٹ، ججز کی تنخواہیں بڑھانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، شبلی فراز یہاں تو سینیٹرز کی تنخواہیں ہی اتنی کم ہیں کہ گزارا بھی مشکل ہے۔

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    یورپی بینک کی کراچی واٹر کارپوریشن کو تعاون فراہم کرنے کی منظوری

    انسانی اسمگلروں کو 33 ،33 سال قید کی سزا

  • ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی جاری

    ایف بی آر نے نئی پاسورڈ پالیسی متعارف کروادی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایف بی آر کی نئی پاسورڈ پالیسی سامنے آگئی ہے، نئی پالیسی کے تحت پاسورڈ اب ہر 60 دن بعد تبدیل کرنے ہوں گے بصورت دیگر پاسورڈ ایکسپائر ہوجائیں گے۔ایف بی آر کے مطابق پاسورڈ ایکسپائر کے بعد فارگیٹ پاسورڈ کے ذریعے پاسورڈ تبدیل کرکے آپ اپنے پورٹل تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے وقت دیا جانے والا موبائل فون نمبر اور ای میل ایڈریس اپنی دسترس میں رکھیں، موبائل فون نمبر یا ای میل ایڈریس بھول گئے تو مشکلات ہوسکتی ہیں۔دوسری طرف صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد نے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے نام خط لکھ دیا۔میاں ابوذر شاد نے خط میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے لیے پاس ورڈ ہر 2 ماہ بعد تبدیل کرنے کی شرط مشکلات پیدا کرے گی۔آئرس سسٹم میں تکنیکی پیچیدگیاں اور اضافی بوجھ کا خدشہ ہے، چھوٹے کاروباری اداروں کو تکنیکی وسائل کی کمی سے مشکلات ہوں گی۔ خط میں مطالبہ کیا ہے کہ 2 مراحل کی تصدیق اور نگرانی کے جدید نظام جیسے متبادل اقدامات پر غور کیا جائے۔

    اسٹیل ملز سے قیمتی دھاتیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

  • اراکین پارلیمنٹ اور  اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ 31 دسمبر تک گوشواروں کی تفصیلات جمع کرائیں، اراکین پارلیمنٹ اہلخانہ اور زیرکفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں، گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی، گوشواروں میں غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں سیکشن 137 کے تحت بدعنوانی کی پاداش میں کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ گوشوارے جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلی کے 18 اراکین کو نااہل قرار دے دیا تھا، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 11 اور سندھ اسمبلی کے 7 اراکین کو نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    دوسری جانب ایف بی آر نے اسلام آباد کے تین بڑے ہوٹلوں کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کر کے بھاری جرمانہ بھی عائد کر دیا۔

    ایف بی آر کے اسٹنٹ کمشنر محمدعتیق اکبر نے ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تینوں ہوٹلز کو پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے پر سیل کیا ہے اسلام آباد میں سیل کیے جانے والے ہوٹلوں میں سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ کے ہوٹلز شامل ہیں، سیل کیے جانے والے ہوٹلوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پی او ایس رسیدیں جاری نہ کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ایف بی آر کا  اپنے ہی افسران پرٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام

    ایف بی آر کا اپنے ہی افسران پرٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام

    کراچی:فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے اپنے ہی افسران پر شوگر ملز سے ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے-

    باغی ٹی وی فیڈرل بورڈ آف ان لینڈ ریونیو نے شوگر ملز پر تعینات ایف بی آر افسران کی لاپرواہی پر نوٹیفکیشن جاری کردیا اور کہا کہ شوگر ملز پر تعینات افسران کا رویہ غیر پیشہ وارانہ اور غیر مؤثر ہے،اور متعلقہ چیف کمشنرز کو کارروائی کی ہدایت کردی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ شوگر ملز پر ایف بی آر افسران کی لاپرواہی سےٹیکس چوری کی شکایات موصول ہورہی ہیں، شوگر ملز کے متعلقہ چیف کمشنرزغفلت برتنے والےافسران کو وارننگ جاری کرکے کاروائی کریں، شوگر ملز کی ڈیوٹی پر مامور افسران اوقات کار کی پابندی نہیں کررہے ہیں اور رات کی ڈیوٹی سے غیرحاضر رہے ہیں۔

  • پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے  کا فیصلہ

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تجارت میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے نئے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا فیصلہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر )نے حکومت پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان نئے ٹرانزٹ تجارت معاہدے میں ترامیم کامسودہ جاری کردیا ہے، معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبو ط بنانا اور باہمی تجارت میں سہولیا ت فراہم کرنا ہےایف بی آر نے اس حوالے سے نئے قواعد و ضوابط پرمبنی مسودہ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس میں ٹرانزٹ تجار ت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    مسودے کے تحت پورٹ، قاسم اور گوادر کی بندرگاہ تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے اہم مقامات قرار دئیے گئے ہیں مسودہ کے مطابق آذربائیجان کے کاروباری ادارے، حکومت، اور سفارتی مشنز کو پاکستان کسٹمز کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں رجسٹریشن کرانا ہوگا تاکہ وہ تجار تی سہولیات کا فائدہ اٹھا سکیں۔

    تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو دونوں ممالک کے متعلقہ حکام سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، ہر گاڑی کو ٹریکرز اور کسٹمز سے منسلک کیا جائے گا تاکہ سامان کی نگرانی ممکن ہو سامان کی نقل و حمل کے دوران کسی بھی نقصان کی صورت میں کارروائی کے قواعد بھی وضع کیے گئے ہیں۔

    معاہدے کے تحت دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر اضافی اجازت نامے جاری کر سکتے ہیں، تاہم ان پر مقررہ چارجز لاگو ہوں گے، تجارتی سامان کی نگرانی اور شفافیت کے لیے بیمہ گارنٹی فراہم کرنا لازمی ہوگا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خطے میں بین الاقوامی تجارت کی نئی راہیں کھولے گا اس سے نہ صرف پاکستان کی بندرگاہوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگا بلکہ آذربائیجان کے لیے بھی عالمی منڈیوں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

    نوٹیفیکیشن میں تمام متعلقہ فریقین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ان قواعد پر اپنی آراء یا تجاویز پیش کریں تاکہ اس کی حتمی منظوری دی جا سکے۔

  • بیرون ملک سے کمرشل اشیاء لانے پر پابندی عائد

    بیرون ملک سے کمرشل اشیاء لانے پر پابندی عائد

    ایف بی آر نے بیرون ملک سے کمرشل مقدار میں اشیاء لانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے ایف بی آر نے بیگج اسکیم میں ترمیم کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے صرف ایک موبائل فون لانے کی اجازت ہوگی، اگر کسی مسافر کے پاس ایک سے زائد موبائل فون ہوں گے تو وہ ضبط کیے جائیں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق، 1200 ڈالر سے زائد مالیت کی اشیاء کمرشل تجارت کے طور پر شمار کی جائیں گی، اور ان پر ڈیوٹی، ٹیکس اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ تاہم، اضافی اشیاء ان شرائط پر بھی کلیئر نہیں کی جائیں گی۔ایف بی آر کے مطابق، اس ترمیم سے متعلق تجاویز اور سفارشات سات دن کے اندر جمع کرائی جا سکتی ہیں، اور مقررہ میعاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز پر غور نہیں کیا جائے گا۔ کمرشل مقدار سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ذاتی استعمال یا گفٹ کے بجائے اضافی مالی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سے لائی جاتی ہیں۔
    ایف بی آر ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کمرشل اسمگلنگ کو روکنا اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

    کراچی: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حساس ادارے کا ملازم جاں بحق

    ڈی جی سیمنٹ، کروڑوں کی آمدنی، سڑک خستہ حالی کا شکار

    کراچی : عزیز آباد میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات

    ماہرین معیشت نے سول نافرمانی کو ملک سے غداری قرار دے دیا

  • ایف بی آر  کا بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

    ایف بی آر کا بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: بیرون ملک سے کمرشل مقدار میں اشیا ساتھ لانے پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی: ایف بی آر نے بیگیج اسکیم میں ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق بیگیج رولز 2006 میں مزید ترامیم سے متعلق مسودہ جاری کر دیا گیا ہے، قوانین میں ترامیم سے متعلق 7 روز میں سفارشات دی جاسکتی ہیں مقررہ معیاد کے بعد موصول ہونے والی تجاویز اور آرا قابل قبول نہیں ہوں گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت 1200 ڈالر سے زائد مالیت کی اشیاء کمرشل تجارت تصور ہوگی بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے ایک موبائل فون لانےکی اجازت ہوگی ایف بی آر کے مطابق ترمیم کے تحت ایک موبائل فون کے سوا تمام موبائل فون ضبط کر لیےجائیں گے، بیگیج اسکیم میں ترمیم کے تحت اضافی اشیاء ڈیوٹی، ٹیکس اور جرمانےکے باوجود کلیئر نہیں ہوں گی۔

  • وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایف بی آر کی ڈیجیٹائز یشن میں پیشرفت بارے بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ ایف بی آر کی ویلیو چین کی ڈیجیٹائز یشن سی متعلق تمام کام مارچ 2025 تک مکمل ہو جائے گا،شوگر انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے ،سیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کے حوالے سے ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے ،وزیراعظم نےسیمنٹ انڈسٹری کی ویڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے لئے سسٹم ڈیزائن کا کام مکمل ہو چکا ہے،چھوٹے کاروباروں کی ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے موبائل فون ایپلی کیشن اس مہینے کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی،پرآل کا نیا بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے ،پرآل کا ہارڈ ویئر اور ڈیٹا سینٹر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے،فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ کے حوالے سے سینٹرل اسیسمینٹ یونٹ کراچی میں قائم کیا جا چکا ہے جو کہ 31 دسمبر 2024 سے کام کا آغاز کر دے گا

    وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اہم معاشی اصلاحات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے،وزیراعظم نےمحصولات میں اضافے کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی پر زور دیا اور کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ ،چئیر مین ایف بی آ ر، سیکریٹری خزانہ کی کوششیں لائق تحسین ہیں،معاشی ٹیم کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں ، فسکل اسپیس بڑھنا خوش آئند ہے

    وزیراعظم نے ملک میں ٹیکسیشن کو مؤثر ، تیز تر بنانے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے محصولات کے نفاذ اور اس حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے سخت اقدامات کی ہدایت کی،وزیراعظم نے ایف بی آر ڈیجیٹائز یشن کے حوالے سے اہم کاموں کو 31 دسمبر 2024 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسمگل شدہ ایندھن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے، پاکستان کی پیٹرولیم کی فروخت نومبر 2024 میں 25 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 1.58 ملین ٹن تک رہی کو کہ انتہائی خوش آئند ہے،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سال بہ سال (YoY) 15 فیصد اضافہ ہوا ، جو توانائی کی مارکیٹ میں بحالی کی نشاندہی کرتا ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت کاروائی کی ہدایت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی کی برآمد کے بروقت فیصلے کی بدولت پاکستان کو 500 ملین کا قیمتی زر مبادلہ ملا ،

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    ٕایف بی آر میں 344 ارب کا شارٹ فال

    اسلام آباد: ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں-

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں گزشتہ ماہ (نومبر 2024) کے دوران 148ارب روپے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ(جولائی تا نومبر)کے دوران سے 344 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے ۔

    ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداد وشمار کے مطابق ایف بی آر کو نومبر 2024 میں مجموعی طور پر 855 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس وصولیاں حاصل ہوئیں، تاہم یہ 1,003 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 148 ارب روپے کم ہے-

    ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 کے دوران محصولات کی عبوری وصولی 851 ارب روپے رہی ہے جو مقررہ ہدف 1,003 ارب روپے کے مقابلے میں 152 ارب روپے کم ہے تاہم حتمی اعداد و شمار اور ڈیٹا کی تصدیق کے بعد یہ فرق 150 ارب روپے تک محدود ہونے کی توقع ہے-

    رواں مالی سال 2024-2025 کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران ایف بی آر نے 4,295 ارب روپے محصولات جمع کیے، جو چار ہزار چھ سو 39 ارب روپے کے ہدف سے 344 ارب روپے کم ہیں، اپ ڈیٹ شدہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 میں 851 ارب روپے محصولات جمع کیے گئے جو نومبر 2023 میں جمع شدہ 736 ارب روپے کے مقابلے میں 115 ارب روپے زائد ہیں۔

  • ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،افسر کیلیے وزیراعظم نے کیا50 لاکھ انعام کا اعلان

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس فراڈ کے خلاف مہم کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے

    ایف بی آر کے سینئیر افسر کی جانب سے کھربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی اور کاروائی،وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ٹیکس فراڈ کی کوشش کی بروقت نشاندہی کرنے والے ایف بی آر کے افسر اعجاز حسین کی وزیرِ اعظم ہاؤس میں ملاقات کی،وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کے آفیسر اعجاز حسین کی فرض شناسی کی پذیرائی کی،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی ایمانداری کے اعتراف میں ان کیلئے 50 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا،وزیرِ اعظم نے اعجاز حسین کی فرض شناسی پر انہیں اعزازی شیلڈ بھی پیش کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرض شناس افسران اور اپنے پیشے سے مخلص باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ایماندار لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے. اطمینان بخش امر ہے کہ ایف بی آر اصلاحات کے مثبت نتائج کا سلسلہ جاری ہے.پاکستان کی غریب عوام کے ٹیکس چوری کرنے والوں اور انکی معاونت کرنے والوں کی نشاندہی کرکے انہیں کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے گی.غریب عوام کے ٹیکس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف قانون کے شکنجے کو مزید مضبوط کیا جائے گا.اعجاز حسین نے اس احسن اقدام سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے جو لائق تحسین ہے.ایف بی آر ٹیکس فراڈ کی اس مزموم کوشش کی تفصیلی تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو قانون کے کٹھرے میں لائے. ایف بی آر ٹیکس فراڈ میں ملوث عناصر اور انکی معاونت کرنے والوں کو سزا دلوانے کیلئے بہترین قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کرے.

    اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس چوری کیلئے ایک 80 برس کی خاتون کے کوائف کو استعمال کیا گیا.4 مارچ 2024 کو ایف بی آر کے سینیئر افسر اعجاز حسین نے ٹیکس فراڈ کی اس کوشش کی نشاندہی کیسیلز ٹیکس فراڈ کی اس کوشش میں ابتدائی طور پر 37 کروڑ منتقل بھی ہوا جس کی ریکوری کا عمل جاری ہے. ٹیکس فراڈ کی کوشش میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کیا جا چکا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد ٹیکس فراڈ کی کوشش میں مبینہ معاونت کرنے والے ایف بی آر کے حکام کی نشاندہی کرکے انہیں بھی قرار واقعی سزا دلوائی جائے .ملکی معیشت کی ترقی کیلئے ٹیکس بیس میں اضافے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں.ایف بی آر کی اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹائیزیشن سے مستقبل میں بھی اس قسم کی کاروائیوں کی روک تھام ہو سکے گی.

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل