Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

    ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزار 33 ہو گئی ہے-

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے مجموعی طور پر 110 اضلاع میں 57 لاکھ 73 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہیں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ میں 74، خیبرپختونخوا میں 31، پنجاب میں 1، بلوچستان میں 4، گلگت بلتستان 6 اور آزاد کشمیر میں بھی 1 شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے)کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق بارشوں کے بعد سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں میں 32 بچے 56 مرد 9 خواتین شامل ہیں-

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب سے مزید 119 افراد جاں بحق اور 71 زخمی ہوئے ہیں، مجموعی طور پر 15 سو 27 زخمی ہیں، 83 ہزار مویشی بھی جان سے گئے ہیں ساڑھے 9 لاکھ مکانات اور 3 ہزار 451 کلومیٹر سڑکوں اور 149 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان لورالائی شاہراہ پر بھی ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔ گلگت بلتستان میں نلتر،غذر ،شندور اور ششپر ويلى کی سڑکیں سیلاب کی وجہ سے بند ہیں خوازہ خیلہ سے بشام اور جھل کٹ تک نیشنل ہائی وے کو بند کیا گیا ہے۔ پنجاب میں این55 فاضل پورسے راجن پور تک بند ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق سندھ میں بارشوں اور سيلاب کے باعث 2ہزار 328 کلوميٹر سڑک کو نقصان پہنچا، بلوچستان میں ایک ہزار کلوميٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے سبب 9 لاکھ 49 ہزار گھر ،7 لاکھ 19 ہزار سے زائد لائف اسٹاک سیلاب کی نظر ہوئے، 2 لاکھ 67 ہزار 719گھر ملیا میٹ، 3 ہزار 116 کلومیٹر شاہراہیں، 149 پُل سیلاب میں بہہ گئےسندھ میں 49 لاکھ، پنجاب میں 4 لاکھ 50 ہزار، بلوچستان میں 3 لاکھ 60 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے لیے ترکیہ سے امدادی سامان لے کر دو جہاز کل کراچی پہنچیں گے، کراچی میں ترکیہ کے قونصل جنرل کل صبح ہوائی اڈے پر امدادی سامان پاکستانی حکام کے حوالے کریں گےترکیہ کی جانب سے بھیجے گئے سامان میں خیمے، ادویات اور دیگر اشیاء شامل ہیں جبکہ امداد کی ایک اور کھیپ جلد ملنے کا امکان ہے۔

    وزیراعظم نے اے پی سی بلا لی،پی ٹی آئی کو دعوت نہ دینے کا فیصلہ

  • ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق

    ملک بھر میں سیلاب اوربارشوں سے مزید 45 افراد جاںبحق

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 45 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد وشمار کےمطابق سیلاب اوربارشوں کے باعث ہونے والے مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 982 تک پہنچ گئی جبکہ 14 سو 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں منڈا ہنڈورڈکس کا پل ٹوٹ گیا،چار سدہ سے لوگوں کی نقل مکانی شروع

    این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں میں اب تک سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئی ہیں اور سندھ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 339 ہوگئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں کے دوران 8 لاکھ 2 ہزارسے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 149 پلوں کو نقصان ہوا اور 6 لاکھ 82 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    کوئٹہ اور مستونگ میں 3 بچوں سمیت 7 افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے، سیلابی پانی میں ڈوبنے والے ساتوں افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کردی گئیں۔

    کوئٹہ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کے بعد مختلف ندیوں میں آنے والے سیلابی ریلوں میں تین بچوں سمیت چھ افراد پانی میں ڈوب جانے کے باعث جاں بحق ہوئے۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    بلیلی، ہنہ اوڑک، چشمہ اچوزئی اور مشرقی بائی پاس پر ہونے والے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشیں سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردی گئیں مستونگ کے علاقے دشت میں ڈوبنے والے شاہ زین نامی نوجوان کی لاش بھی اسپتال منتقل کردی گئی۔

    دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے)نے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے پی ایم اے لاہورکے سربراہ پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں بھی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی اشیا اکٹھی کی جائیں گی۔

    پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ملکوں میں سرفہرست ہے،فلڈ انفارمیشن سسٹم کی موجودگی میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان اداروں کی غیر ذمہ داری کے باعث انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے پی ایم اے آفس میں امدادی کیمپ قائم کیا جا رہا ہے، مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوج بھیجنے کا فیصلہ

    ہرنائی میں مانگی کے مقام پر رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا،قومی شاہراہ مکمل بند ہو گئی

    ریسکیو ذرائع کے مطابق مالاکنڈ میں خار کے مقام پرسیلاب میں پھنسے 15 افراد کو زندہ نکال لیاگیا،ریسکیو اورسول ڈیفنس کی ٹیموں نے آپریشن میں حصہ لیا تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے-

    سبی میں دریائے ناڑی کینال بپھرنے کے باعث ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا ڈپٹی کمشنر سبی کے مطابق مختلف مقامات پر کٹ اور حفاظتی بند باندھنے کے بعد پانی کا رخ تبدیل کر دیا گیا ہے،عوام اطمینان رکھیں،شہر اب بالکل محفوظ ہے-

    ڈپٹی کمشنر سبی کے مطابق دریائے ناڑی کینال میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے،سبی میں دریائے ناڑی کینال بپھرنے کے باعث متعدد دیہات زیر آب آ چکے ہیں،متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، کھانے پینے کی اشیاء فراہم کردی گئیں،کسی بھی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ الرٹ ہے،

    ریسکیو حکام کے مطابق نوشہرہ میں دریائے کابل میں 274000 کا سیلابی ریلے ریکارڈ کیا گیا ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق دریائے کابل سے گزرنے والا سیلابی ریلہ نقصان کیے بغیر بحفاظت گزر جائے گا،دریائے کابل میں پانی کی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، دریائے کابل میں 2 لاکھ 35 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی کا ریلاہےدونوں ڈیمز سے پانی کے اخراج کو کم سے کم کیا جارہاہے-

    ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے مطابق واپڈا حکام نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ہرممکن تعاون کا یقین دہانی کرائی ہے،سیلاب کی شدت اور دریائے کابل میں بھی پانی کے بہاومیں کمی آئے گی،پانی کے اخراج کو کم کرنے سے سیلابی ریلہ اٹک کے مقام پر دریائےسندھ میں بحفاظت ڈسچارج ہوسکے گا-

    وارسک اور تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج کو کم کرنے کیلئے بات چیت جاری، صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا نوشہرہ میں سیلاب کی شدت کو کم کرنے کیلئے واپڈا حکام سے رابطہ کیا گیا ہے خیر آباد تفریحی کنڈ پارک بھی سیلابی پانی میں ڈوب گیا،صوبے کے تیسرے بڑے اسپتال قاضی میڈیکل کمپلیکس میں طبی سہولیات عارضی طور پر ملتوی کر دی گئی ہیں-

    ریسکیو ذرائع کے مطابق نوشہرہ میں مختلف علاقوں میں سیلابی الرٹ،مکینوں کیطرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے آبادی میں پانی داخل ہونے کے باعث رہائشیوں کی نکل مکانی جاری ہے پیرسباق کے علاقے میں پانی کی سطح مزید بڑھنے لگی-

    دریائے کرم میں گھڑی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ،دریائے ناگمان میں چارسدہ رو ڈ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب
    دریائے شاہ عالم میں تخت آباد کے مقام درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ دریائے سندھ میں تربیلہ، چشمہ کے مقام پر نچلے، جناح بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا-

    دریائے پنجکوڑہ میں دیر کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، پانی کا بہاو 56ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا دریائے سندھ میں اٹک خیر آباد کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، بہاو 5 لاکھ 79 ہزار کیوسک دریائے جندی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، چارسدہ کے مقام پر بہاو 33 ہزار ریکارڈ دریائے سوات خیالی میں چارسدہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، بہاو ایک لاکھ 40 ہزار ریکارڈ کیا گیا-

    دریائے سوات میں چکدرہ اور منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا دریائے سوات میں خوازخیلہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا

    ادیزئی کے مقام پر 79 ہزار 300 کیوسک ریلا گزر رہا ہے ،نوشہر ہ ،پانی کا بہاو 2 لاکھ 74 ہزار، ورسک ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکار ڈ دریائے کابل میں ورسک اور ادیزئی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب

    خانوزئی ڈیم اور مستونگ میں بولان ندی کے صبری ڈیم ٹوٹ گیا ،مکانات منہدم ،لوگ بے گھر ہو گئے ڈیرہ مرادجمالی کے دریاے لہڑی اور دریاے مولا میں طغیانی سے قریبی آبادی متاثر ہوئی مکران ڈویژن ،نصیر آباد صحبت پوراور کچھی میں بھی دیہات زیرآب آگئے ،متاثرین کی نقل مکانی ، ژوب ، موسٰی خیل، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، قلات میں سیکڑوں دیہات ڈوب گئے-

    بلوچستان میں بارش ، ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں ٹوٹ گئیں،اندرون ملک سےرابطہ منقطع ہو گیا دریائے ناگمان میں چارسدہ رو ڈ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا-

  • مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    مون سون بارشوں اور سیلاب سے تباہیاں،300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات،اور5 لاکھ کے قریب مکانات تباہ

    سندھ اور بلوچستان اور پنجاب سمیت ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی،ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 300 بچوں سمیت900 سے زائد اموات ہوچکی ہیں-

    باغی ٹی وی: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے ) نے بارشوں اور سیلاب کے باعث 14 جون سے اب تک ہونے والے نقصانات کے اعدادو شمار جاری کردیئے،۔این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 14جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب سے 903افراد جاں بحق ہوئے-

    خیبرپختونخوا:بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریاں،12 اقسام کی مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے4لاکھ 95ہزار259مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا سیلاب سے ایک ہزار 293 افراد زخمی ہوئے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے،ہزاروں ایکڑ فصلیں اجڑ گئیں۔ سڑکیں بہہ گئیں، شہروں اور صوبوں کا آپس میں رابطہ کٹ گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں 230 افراد جاں بحق ہوئے۔سندھ 293افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ پنجاب میں 164افراد لقمہ اجل بنےآزاد کشمیر میں سیلاب اوربارشوں سے 37افراد جاں بحق ہوئے۔گلگت بلتستان میں 9افراد سیلاب کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں 26ہزار 897 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا خیبر پختونخوا میں 15 ہزار117مکانات سیلاب اوربارشوں میں بہہ گئے پنجاب میں 84 ہزار106مکانات متاثر ہوئے سندھ میں 3 لاکھ 68 ہزار233 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا۔

    کراچی میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے آج اور کل ہونے والی بارش سے کراچی ملیر ندی میں طغیانی کی وجہ سے کورنگی کاز وے ایک بار پھر زیر آب آگئی طغیانی کی وجہ سے کئی بار کورنگی کازوے زیر آب آچکی ہے جس کی وجہ سے کازوے کی سڑک خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہےاور پھر ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

    کے پی کے میں سیلاب سے تباہی،عمران خان کو جلسوں سے فرصت نہیں

    ٹریفک پولیس نے رکاوٹیں لگا کر کازوے کو بند کیا ہے اور ٹریفک کو متبادل راستے کی طرف موڑا جارہا ہے۔

    دوسری جانب سوئی سدرن گیس حکام کے مطابق بولان میں سیلاب کے باعث گیس پائپ لائن بہنے سے کوئٹہ سمیت کئی اضلاع کو گیس کی فراہمی بند ہوگئی بولان کے علاقے بی بی نانی میں گیس پائپ لائن ریلےمیں بہہ گئی جس سےکوئٹہ کوگیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    ایس ایس جی سی کے مطابق برساتی ریلے میں گیس پائپ لائن بہنے سے مچھ، زیارت، پشین، مستونگ اورقلات کو بھی گیس کی فراہمی بند ہوئی شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 24 انچ گیس کی پائپ لائن پہلے ہی بہہ چکی ہے بولان ندی میں پانی کم ہونےکے بعدگیس لائن کی مرمت میں کچھ دن لگ سکتے ہیں جب تک متبادل 12 انچ کی لائن سے گیس فراہم کی جارہی ہے۔

    ادھر بارش برسانے والا ایک اور مضبوط سسٹم شمالی بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جبکہ ندی نالوں میں طغیانی، رابطہ سڑکیں بہہ جانے اور پل ٹوٹنے کے باعث بلوچستان کا ملک کے دیگر تمام صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق بارشیں برسانے والا مضبوط سسٹم جنوب وسطی اور مغربی بلوچستان تک پھیل رہا ہے جس کے باعث چمن شہر کےنواحی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں چمن میں کئی علاقوں کے برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، شہر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بھی متاثر ہیں۔

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز…

    لیویز کنٹرول کے مطابق کوہ خواجہ عمران کے دامن میں سیلابی ریلوں میں رابطہ سڑکیں بہہ گئی ہیں جس کے باعث سپینہ تیزہ اور غوژئی کے دیہات کا 3 دن سے چمن شہر سے رابطہ منقطع ہے پشین، برشور، خانوزئی، کان مہترزئی اور مسلم باغ میں گرج چمک کےساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ لورا لائی، ژوب، میختر، شیرانی، دکی اور زیارت میں بھی بادل خوب برس رہے ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ بارش سے مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور امدادی کاموں میں بھی دشواری کا سامنا ہے قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور گلستان میں موسلادھار بارش کے باعث رابطہ سڑکیں آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی ہیں جبکہ توبہ اچکزئی میں برج متکزئی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    نئے طاقتور اسپیل نے بلوچستان کے بالائی اور شمالی علاقوں میں پھر سے سیلابی صورتحال بنا دی ہے، بالائی علاقوں میں سیلابی ریلوں سےکئی مکانات اور باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے ڈیرہ بگٹی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل میں تیز بارش کے باعث برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے جس سے مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    شدید بارشوں، ندی نالوں میں طغیانی اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ساتھ زمینی رابطہ معطل ہو چکا ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دل کھول کر امداد فراہم کریں، سراج الحق کی اپیل

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24گھنٹے کے دوران سندھ ،بلوچستان ،پنجاب ،خیبر پختونخوا میں بارش ہوئی،آزاد کشمیراور گلگت بلتستان کے بعض مقامات پر بھی بارشیں ہوئیں،سب سے زیادہ بارش سندھ میں سکرنڈ 175، پڈعیدن 142، نوابشاہ میں 118ملی میٹر بارش ریکارڈ،ٹنڈو جام 92، میرپور خاص 87، بدین 81، خیرپور 71،چھور 70، حیدرآباد 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    منڈی بہاؤالدین 32، چکوال 26، منگلا 21، اسلام آباد سید پور 20، گولڑہ میں 9ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی ،سیالکوٹ ایئرپورٹ 49، سٹی 36، جہلم 47، کوٹ ادو 38 اور مری میں 33 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بنوں 10، چترال، بالاکوٹ 08، پتن میں5 ملی میٹر بارش ریکارڈہوئی-

    کالام 17، دیر بالا 24، زیریں 11، مالم جبہ 20، دروش 13، پاراچنار 12 میں ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی میر کھانی میں 28ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ،خیبر پختونخوا میں ڈیر ہ اسماعیل خان ایئرپورٹ 54، سٹی 44، سیدو شریف 32، کاکول میں 23ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی زیرو پوائنٹ 8، بوکرا 7، ائیرپورٹ کے قریب2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    وزیراعظم نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر لندن کا دورہ منسوخ کر دیا

    کراچی،ناظم آباد، کیماڑی، جناح ٹرمینل 11، یونیورسٹی روڈ 10، ایم او ایس، مسرور بیس میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی سعدی ٹاؤن 19، نارتھ کراچی، صدر 18، فیصل بیس، اورنگی 17، گلشن معمار 14 ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی قائد آباد 27، گلشن حدید، گڈاپ ٹاؤن 24، سرجانی 23، کورنگی 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی-

    لاڑکانہ 65، موہنجو داڑو، روہڑی 62، جیکب آباد 59،سکھر 42، دادو 39 اور مٹھی 25ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی نارووال 11 ، ملتان ایئرپورٹ 5، شہر 1، گجرات 3، جوہر آباد 2، لیہ، اٹک میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی بھکر17، رحیم یار خان 16، ڈی جی خان 11، راولپنڈی شمس 11، کچہری 9، چکلالہ ایئرپورٹ پر 5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،خضدار 36، بارکھان 22، لسبیلہ 18 اورقلات میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی-

    راولپنڈی میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

  • اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، سیلاب متاثرین کیلئے5 ارب روپےکی منظوری

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، سیلاب متاثرین کیلئے5 ارب روپےکی منظوری

    اسلام آباد:اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، سیلاب متاثرین کیلئے5 ارب روپےکی منظوری،اطلاعات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے 5 ارب روپے کی منظوری دیدی، این ڈی ایم اے کے ذریعے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا خصوصی اجلاس ہوا، جس میں بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد سمیت دیگر معاملات پر غور کیا گیا۔

    وزیر خزانہ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس

    ای سی سی نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 5 ارب روپے کی منظوری دیدی۔ وزارت خزانہ کے مطابق رقم این ڈی ایم اے کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 5 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

    وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ…

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف کی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ای سی سی اجلاس میں سیلاب کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

    عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل نے وفاق اور صوبوں‌ کے ترقیاتی بجٹ کی

    سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں مون سون کی معمول سے زیادہ بارشوں کے دوران حادثات اور سیلابی صورتحال سے 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں: این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت

    سیلاب کی تباہ کاریاں: این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد:ملک میں بارشوں اورسیلابوں کی وجہ جو صورت حال اس وقت درپیش ہے اس سے نمٹنے کےلیے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 5 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیدیا۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو مؤثر انداز سے سرانجام دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کردی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء، مشیران، پارلیمنٹ کے ارکان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، سینئر حکومتی ارکان، چیئرمین این ڈی ایم اے اور ڈی جی محکمہ موسمیات نے شرکت کی۔

    وزیرِاعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ وزیراعظم نے وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر 5 ارب روپے این ڈی ایم اے کو جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی ایک قومی فریضہ ہے، ہمیں اپنے جماعتی مفادات سے بالا تر ہو کر عوام کی مدد کرنی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہم سیاست بعد میں کریں گے، ابھی اُن لوگوں کی مشکلات کا مداوا کرنے کا وقت ہے جو سخت مشکل میں ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے دوران میں نے اتحاد اور قومی یگانگت کی بات کی تاکہ ہم سب مل کر اس بہت بڑے چیلنج سے نمٹ سکیں۔

    وزیراعظم نے این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے درمیان ریسکیو اور ریلیف کے کام کو مؤثر انداز سے سرانجام دینے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی۔

    کمیٹی وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع، وزیر برائے پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی، وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور سیکریٹری وزارتِ مواصلات پر مشتمل ہوگی۔

    ڈیرہ غازی خان ۔ وزیراعظم کا دورہ، سیلاب سے جاں بحق افراد کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے امداد دینے کا…

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی فوری اپنا اجلاس منعقد کرے، وفاقی اور صوبائی اداروں میں روابط کو بہتر کرنے کیلئے اپنی تجاویز پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر، وسط مدتی سے طویل مدتی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومتیں مستند معلومات پر مبنی رپورٹس وفاقی حکومت کو ارسال کریں تاکہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جاسکے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کو موسمیاتی تبدیلی کی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں سیلاب اور بارشوں کے نقصانات سے بچا جاسکے۔

    راہِ حق کےشہیدو،وفا کی تصویرو!:عمران خان شہیدلیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی کےگھرپہنچ

    وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹیوں نے سیلاب زدہ علاقوں کے دوروں کے بعد اجلاس کو بریفنگ دی اور ساتھ ہی ریسکیو اور ریلیف کے حوالے سے مسائل سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

    روس نےیاری کاحق ادا کردیا:ہندوستان پرنوازشات ہی نوازشات

  • این ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردیں

    این ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردیں

    پنجاب: لاہور میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور کے بیدیاں روڈ پر مکان کی خستہ حال چھت گر گئی جس کے ملبے تلے دب کر دو افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔

    ریسکیو زرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت عثمان اور دلاور کے نام سے ہوئی ہےزخمی ہونے والی بچی کو فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردی پاکستان میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 304 افراد لقمہ اجل بنے۔

    این ڈی ایم اے کے جاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جس میں جاں بحق افراد میں 132 مرد 84 خواتین اور 118 بچے شامل ہیں –

    بارش میں دوران ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اسلام آباد پولیس

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 99خیبر پختونخواہ میں 61 اموات پنجاب میں 60 اموات، سندھ میں 70 گلگت بلتستان 8 آزاد کشمیر پانچ اسلام آباد ایک موت رپورٹ ہوئیں۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں کے نتیجے میں 8 ہزار 8 سو 89 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں سے 5255 گھر جزوی طور پر متاثر ہوے ، 3634 گھر منہدم ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستا ن میں 6 ہزار خیبر پختونخواہ میں 2406 گھروں کو نقصان پہنچا، اسی طرح سندھ میں 165 جی بی میں 173 گھر متاثر ہوئے جبکہ 1694 لائیو سٹاک سیلابی ریلوں کی نظر ہوگئے۔

    حیدرآباد،پی ٹی آئی کارکنوں کی پیپلز پارٹی کے کارکن کی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش

  • مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    لاہور: ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہےمحکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کے موجودہ سپیل میں توسیع کی پیشگوئی کے بعد محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے دریائے راوی اور دریائے چناب کے 11 نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دریائے راوی اور چناب میں پانی کے تیز بہاؤ کی توقع ہے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے گوجرانوالہ ڈویژن کے متاثر ہونے کا امکان ہے جبکہ گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ کے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی:ٹرینوں کا نظام درہم برہم

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جبکہ پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کا عملہ 24 گھنٹے الرٹ رہے گا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون ہواؤں کا حالیہ سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک مزید جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مون سون کے سپیل میں ہفتے کے آخر تک مزید شدت آسکتی ہے۔

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں 5 جولائی رات تا 7 جولائی صبح آندھی،تیز ہواؤں اور بوندا باندی کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے، جس کی وجہ سے وفاقی، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ودیگر محکموں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور وفاقی وزیر ماحولیات کے مطابق حالیہ مون سون بارشیں توقع سے 87 فیصد زیادہ ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم گرما میں برفانی جھیلیں پھٹنے کے 16 واقعات ہوئے جبکہ ہر سال اس طرح کے 5 یا 6 واقعات ہوتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 14 جون سے اب تک مون سون میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں اور بلوچستان میں سب سے زیادہ 39 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ آئندہ دنوں میں مون سون کے اثرات پنجاب میں ہوں گے جبکہ آزاد کشمیر میں 49 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اوربلوچستان میں بھی اندازےسے 274 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اور یہ مون سون میں شدید بارشوں کی شروعات ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی کے بعد حکومت نے کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے وئٹہ میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بھر گئے پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔

    پاکستان میں موسم کیسا رہے گا؟

    جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔

    بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمطابق بارشوں کےباعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متا ثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی:این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی:این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    اسلام آباد:پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی،اطلاعات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں طوفانی بارشوں کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق 20 تا 22 جون ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں، بارشوں سے ندی نالوں، دریاؤں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آنےکا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکمے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز کومتعلقہ اداروں سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مسافروں اورسیاحوں کو متوقع بارشوں اور راستوں کی صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے بھی طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آج رات یا کل بارش کا ایک مضبوط سسٹم بلوچستان میں اثرانداز ہوسکتا ہے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بلوچستان میں مضبوط سسٹم بن رہا ہے جس کے باعث اس حصے میں غیرمتوقع بارش اور ژالہ باری کاا مکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کیلئے فلڈ وارننگ جاری کی ہے اور کہا گیا ہے کہ کوہلو، بارکھان، موسیٰ خیل، شیرانی، ہرنائی، ژوب، دکی، زیارت اور لورالائی میں بھی بارش کا امکان ہے۔

  • بارشوں اور برفباری سے7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌

    بارشوں اور برفباری سے7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌

    پشاور : بارشوں اور برفباری سے 7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارشوں اور برفباری سے مختلف واقعات میں 7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے۔

    پروونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور برفباری سے 15 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا اور ایک گھر مکمل تباہ ہوا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بند سڑکوں کوبحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پی ڈی ایم اے) نے شانگلہ کے متاثرہ علاقےکا دورہ بھی کیا اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو جلد معاوضہ ادا کیا جائے۔

    دوسری جانب پولیس کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی ہیں اور رزمک سے ڈنگین روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کا بتانا ہے کہ جنوبی وزیرستان سرحد تک سڑک سے برف ہٹا کرکنٹینرزکے گزرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے، ساتھ ہی برف میں پھنسے سیاح اور گاڑیوں کو نکالنے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر عقیق حسین کے مطابق سیاحوں کو برف میں ڈرائیونگ سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں جبکہ سیاحوں کے لیے رزمک پولیس اسٹیشن کو کھول دیا ہے جہاں انہیں چائے،کھانے پینے اور گرم بستر کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔

    ادھر کوئٹہ میں بارش اور برفباری کے بعد شدید سردی سے گھروں میں پائپ لائنوں مین پانی جمنے لگا، معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔

    حالیہ دنوں سردی کی شدید لہر نے شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کردیا ہے، بلوچستان کے بیشتر اضلاف میں موسم شدید سرد اور خشک ہوگیا جب کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی متوقع ہے۔کوئٹہ میں بارش اور برفباری کے بعد موسم کی شدت میں اضافہ ہوگیا جس نے معمولات زندگی بھی متاثر کردئیے۔

    شدید سردی کے باعث گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی بھی جمنے لگا ہے، صبح کوئٹہ کا کم سے کم درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

  • مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس میں این ڈی ایم اے حکام کو طلب کرلیا

    وکیل نے کہا کہ سانحہ مری کے تمام ذمہ داروں کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کی جائے، سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا،وزیر اعظم، وزیر داخلہ، پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا،25 ہزار سیاح کی گنجائش والے مری میں ایک لاکھ سے زائد سیاحوں کی اجازت کیوں دی گئی؟ تمام اعلیٰ حکام کا ایکشن نہ لینا مجرمانہ غفلت ظاہر کرتا ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کو روسٹرم پر طلب کر لیا،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ڈیزاٹر مینجمنٹ کا مطلب کیا ہے، پرونشل ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے، عدالت نے این ڈی ایم اے حکام کو 11 بجے طلب کر لیا،

    جس کے بعد ممبر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہو گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے آپ کو کہا تھا کہ این ڈی ایم اے کا قانون پڑھیں، آپ نے کہا کہ اگر زلزلہ آئے تو وہ ہماری ذمہ داری نہیں ،آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہو گا؟ یہ تعین کر لیں کہ جو 22 لوگ جاں بحق ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟

    ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے این ڈی ایم اے قانون پڑھ کر سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیاری اور اقدامات ہوتے تو 22 لوگوں اور بچوں کی جانیں نہ جاتیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کی میٹنگ کبھی ہوئی ہے، ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے عدالت میں کہا کہ کمیشن کی 5میٹنگز ہوئی تھیں، 5مارچ2007 اور 2010 کو کمیشن کی میٹنگ ہوئی،21فروری 2013 اور 28 مارچ 2018 کو بھی کمیشن کی میٹنگ ہوئی. عدالت نے استفسار کیا کہ اپوزیشن کے کسی ممبر نے کمیشن کی میٹنگ کیلئے درخواست بھیجی،جس پر ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ نہیں، اپوزیشن کے کسی ممبر نے درخواست نہیں بھیجی، عدالت نے کہا کہ کیا اس سے زیادہ طاقتور کوئی باڈی ہو سکتی ہے،کیا ڈی جی این ڈی ایم اے نے وزیراعظم سے کبھی میٹنگ بلانے کی درخواست کی، قانون موجود ہے، عملدرآمد ہوتا تو ایک جان بھی ضائع نہ ہوتی،یہ اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع تک ذمہ داری ڈالتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا این ڈی ایم اے نے ذمہ داروں کا تعین کیا ؟ ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی، جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون ٹھیک سے نہیں پڑھا،اس کیس میں انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں ہے، باہر جا کر تقریری سارے کرتے ہیں، کام کسی نے نہیں کرنا،ریاست کے یہ حال ہے کہ 2010 سے 2021 تک کوئی کارگردگی نہیں ہے،چیرمین این ڈی ایم اے نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہے، ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،وزیر اعظم سے لے کر اپوزیشن لیڈر اور چیف آف آرمی سٹاف سارے موجود ہیں، سارے لوگ مری کے لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں،این ڈی ایم اے اور پوری ریاست مری واقع کے ذمہ دار ہیں،
    وزیر اعظم این ڈی ایم اے کا اجلاس فوری طور پر طلب کرے، 9 بچے مری واقع میں مرے ہیں، عدالت نے سماعت جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاح تو ہرسال اسی طرح مری جاتے ہیں، این ڈی ایم اے اتنی بڑی باڈی ہے جس میں سارے متعلقہ لوگ موجود ہیں، اپوزیشن بھی ہے، کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟-

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

    دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل کا کہنا تھا کہ مفاد عامہ میں درخواست دائر کی، پٹشنر7 جنوری کو مری گیا جب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے تو کسی نے ان کو نہیں روکا نہ خدشے سے آگاہ کیا۔

    عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر این ڈی ایم اے سے متعلقہ قوانین پڑھنے کی ہدایت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر ہی عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں،-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا این ڈی ایم اے کی اس حوالے سے کبھی میٹنگ ہوئی، اس حوالے سے تو باقاعدہ مینجمنٹ پلان ہونا چاہیے تھا، اگر میٹنگ نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی، عدالت کو آ کر آگاہ کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی کے تھانہ سول لائین میں اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کرائی گئی درخواست میں درخواست گزارایڈووکیٹ شہناز بیگم جوڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی میں پریکٹس کرتی ہیں نےموقف اختیارکیا تھا کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ برف باری ہونی ہے اور سیاحوں کا رش پڑنا ہے انتظامیہ نے بروقت انتظامات کرتے تھے لیکن اموات انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئی-

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

    سانحہ مری،ثابت کریں کہ کسی خاتون نے کمرے کیلئے زیور گروی رکھا،ہوٹل ایسوسی ایشن

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسسٹںٹ کمشنر مری ، سی ٹی او ،ڈی سی او اور 1122 ان تمام کی غفلت اور لاپرواہی سے لوگوں کی قیمتی جانیں اور مال کانقصان ہوا ان تمام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات آئندہ نہ ہوں-

    مری:سڑک پربرف بکھیر کر رقم اینٹھنے والا ملزم گرفتار