Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس میں این ڈی ایم اے حکام کو طلب کرلیا

    وکیل نے کہا کہ سانحہ مری کے تمام ذمہ داروں کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کی جائے، سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا،وزیر اعظم، وزیر داخلہ، پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا،25 ہزار سیاح کی گنجائش والے مری میں ایک لاکھ سے زائد سیاحوں کی اجازت کیوں دی گئی؟ تمام اعلیٰ حکام کا ایکشن نہ لینا مجرمانہ غفلت ظاہر کرتا ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کو روسٹرم پر طلب کر لیا،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ڈیزاٹر مینجمنٹ کا مطلب کیا ہے، پرونشل ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے، عدالت نے این ڈی ایم اے حکام کو 11 بجے طلب کر لیا،

    جس کے بعد ممبر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہو گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے آپ کو کہا تھا کہ این ڈی ایم اے کا قانون پڑھیں، آپ نے کہا کہ اگر زلزلہ آئے تو وہ ہماری ذمہ داری نہیں ،آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہو گا؟ یہ تعین کر لیں کہ جو 22 لوگ جاں بحق ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟

    ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے این ڈی ایم اے قانون پڑھ کر سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیاری اور اقدامات ہوتے تو 22 لوگوں اور بچوں کی جانیں نہ جاتیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کی میٹنگ کبھی ہوئی ہے، ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے عدالت میں کہا کہ کمیشن کی 5میٹنگز ہوئی تھیں، 5مارچ2007 اور 2010 کو کمیشن کی میٹنگ ہوئی،21فروری 2013 اور 28 مارچ 2018 کو بھی کمیشن کی میٹنگ ہوئی. عدالت نے استفسار کیا کہ اپوزیشن کے کسی ممبر نے کمیشن کی میٹنگ کیلئے درخواست بھیجی،جس پر ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ نہیں، اپوزیشن کے کسی ممبر نے درخواست نہیں بھیجی، عدالت نے کہا کہ کیا اس سے زیادہ طاقتور کوئی باڈی ہو سکتی ہے،کیا ڈی جی این ڈی ایم اے نے وزیراعظم سے کبھی میٹنگ بلانے کی درخواست کی، قانون موجود ہے، عملدرآمد ہوتا تو ایک جان بھی ضائع نہ ہوتی،یہ اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع تک ذمہ داری ڈالتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا این ڈی ایم اے نے ذمہ داروں کا تعین کیا ؟ ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی، جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون ٹھیک سے نہیں پڑھا،اس کیس میں انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں ہے، باہر جا کر تقریری سارے کرتے ہیں، کام کسی نے نہیں کرنا،ریاست کے یہ حال ہے کہ 2010 سے 2021 تک کوئی کارگردگی نہیں ہے،چیرمین این ڈی ایم اے نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہے، ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،وزیر اعظم سے لے کر اپوزیشن لیڈر اور چیف آف آرمی سٹاف سارے موجود ہیں، سارے لوگ مری کے لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں،این ڈی ایم اے اور پوری ریاست مری واقع کے ذمہ دار ہیں،
    وزیر اعظم این ڈی ایم اے کا اجلاس فوری طور پر طلب کرے، 9 بچے مری واقع میں مرے ہیں، عدالت نے سماعت جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاح تو ہرسال اسی طرح مری جاتے ہیں، این ڈی ایم اے اتنی بڑی باڈی ہے جس میں سارے متعلقہ لوگ موجود ہیں، اپوزیشن بھی ہے، کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟-

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

    دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل کا کہنا تھا کہ مفاد عامہ میں درخواست دائر کی، پٹشنر7 جنوری کو مری گیا جب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے تو کسی نے ان کو نہیں روکا نہ خدشے سے آگاہ کیا۔

    عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر این ڈی ایم اے سے متعلقہ قوانین پڑھنے کی ہدایت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر ہی عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں،-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا این ڈی ایم اے کی اس حوالے سے کبھی میٹنگ ہوئی، اس حوالے سے تو باقاعدہ مینجمنٹ پلان ہونا چاہیے تھا، اگر میٹنگ نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی، عدالت کو آ کر آگاہ کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی کے تھانہ سول لائین میں اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کرائی گئی درخواست میں درخواست گزارایڈووکیٹ شہناز بیگم جوڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی میں پریکٹس کرتی ہیں نےموقف اختیارکیا تھا کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ برف باری ہونی ہے اور سیاحوں کا رش پڑنا ہے انتظامیہ نے بروقت انتظامات کرتے تھے لیکن اموات انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئی-

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

    سانحہ مری،ثابت کریں کہ کسی خاتون نے کمرے کیلئے زیور گروی رکھا،ہوٹل ایسوسی ایشن

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسسٹںٹ کمشنر مری ، سی ٹی او ،ڈی سی او اور 1122 ان تمام کی غفلت اور لاپرواہی سے لوگوں کی قیمتی جانیں اور مال کانقصان ہوا ان تمام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات آئندہ نہ ہوں-

    مری:سڑک پربرف بکھیر کر رقم اینٹھنے والا ملزم گرفتار

  • وفاقی حکومت بارش متاثرین کے  لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول

    وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول

    وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول
    وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی ٰبلوچستان سے بارشوں سے نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی

    وزیر اعظم نے این ڈ ی ایم اے کو گوادر اور تربت میں متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کی اور کہا کہ بارشوں سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بلوچستان میں حالیہ بارش عوام کے لیئے پریشانی کا باعث بن گئی ہے .کوئیٹہ، گوادر، کوہلو، سبی، ژوب، تربت، چمن اور زیارت میں عوام کو نقصان اٹھانا پڑا ہے .وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے .نیازی حکومت نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا، حکومتی ادارے و افسران ملک کے پسماندہ صوبے کی مدد کے لیئے ذمہ داری نبھائیں .پی پی پی بارش متاثرین کے ساتھ ہے، کارکنان امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    سبی اور گردونواح میں مسلسل 12 گھنٹوں سے بارش کا سلسلہ جاری ہے. بلوچستان کے شمالی اضلاع میں شدید برفباری اور بارش کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ بند ہوگئی۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے

    بلوچستان بارش اور برف باری برسانے والا نیاطاقتور سسٹم داخل ہوگیا.کوئٹہ، کان مہترزئی، کوژک ٹاپ،لکپاس اور زیارت میں برف باری ہوئی ہے. مسلم باغ،قلعہ سیف اللہ،سنجاوی سمیت دیگر اضلاع میں برف باری اور بارش ہوئی ہے .ہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی .کان مہترزئی شاہراہ کو بحال کردیا گیا.ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کان مہترزئی،کوژک ٹاپ پر ہیوی مشینری موجود ہے،پی ڈی ایم اے،لیویز اوراین ایچ اے اور انتظامیہ شاہراہوں کی بحالی میں مصروف ہے .پاک فوج کی جانب سے مکران اور دیگر اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں. کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے بحال کردی گئی ہے

    شدید برفباری سے کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے بند تھی.لیویز فورس نے شدید برفباری میں بھی کوئیٹہ چمن شاہراہ سے برف ہٹانے کے سرتوڑ کوشش کی. ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل کوژک ٹاپ پہنچ گئے جاری کام کا خود معائینہ کیا برف ہونے کے باوجود ہیوی ٹرانسپورٹ کے علاؤہ شاہراہ پر ضروری سفر بحال رکھنے پہ زور دیا فورس شدید برفباری میں بھی کوئیٹہ چمن شاہراہ سے برف ہٹانے کے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں: شہری کوئیٹہ چمن شاہراہ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں

    ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ گڑنگ چیک پوسٹ اور ژڑہ بند پر ہیوی لوڈ گاڑیوں سفر سے گریز کریں کوژک ٹاپ پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹرییشن نے سنو مشین بلڈوزر کی مدد سے برفباری ہٹا رہے ہیں روڈ کلیر ہونے تک مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں لیویز فورس این ایچ اے بی اینڈ ار کے اہلکار الرٹ کردیں گئے کوژک ٹاپ پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹرییشن نے سنو مشین بلڈوزر کی مدد سے برفباری ہٹا رہے ہیں روڈ کلیر ہونے تک مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں

    پاک بحریہ کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز ساحلی علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کی گئی پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جہاں لوگوں کو علاج اور ادویات کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں کھڑا پانی نکالنے میں بھی مقامی افراد کی مدد کی۔ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں ساحلی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔