Baaghi TV

Tag: بارش

  • لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش،سموگ میں کمی،لاک ڈاؤن جاری

    لاہور سمیت کئی شہروں میں بارش،سموگ میں کمی،لاک ڈاؤن جاری

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت کئی شہروں میں‌بارش، سموگ میں کمی آ گئی تاہم لاک ڈاؤن جاری رہے گا،

    بارش سے سردی میں معمولی اضافہ ہوا ہے،لاہور کے مختلف علاقوں میں صبح کے وقت بارش ہوئی،بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے تیز ہوائیں چلنے سے مختلف علاقوں میں بجلی کا ترسیلی نظام بھی متاثر ہو گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا .

    دوسری جانب لاہور سمیت مختلف شہروں کے جزوی لاک ڈاؤن میں تبدیلی کر دی گئی ،حکومت پنجاب نے 8 اضلاع میں مارکیٹس آج بروز جمعتہ المبارک کو کھولنے کی اجازت دے دی ہے، محکمہ پرائمری ہیلتھ کئیر پنجاب کی جانب سے ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ،نئے ترمیم شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق شاپنگ مالز سمیت مارکیٹس آج کھولی جا سکیں گی جبکہ ہفتے اور اتوار کو بند رہیں گی، آج بروز جمعہ شاپنگ مال اور مارکیٹس معمول کے مطابق کھلیں گی، ریسٹورنٹ، سینما، جم بھی آج کھلے رہیں گے

    بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ 

    فردجرم عائد کرنی تھی توکرونا ہو گیا،عدالت نے شہباز شریف کو پھر طلب کر لیا

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

  • پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے علاوہ،واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کا معاملہ،کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد، ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات،نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک،جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا دیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات، ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات ،گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کے علاوہ مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ2023 کو سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے جس کا تعلق تین صوبوں سے ہے۔ کچی کنال سے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس پانی کو بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے بہت زیادہ پانی آتا ہے۔ صوبائی محکمہ پنجاب ایری گیشن نے کوہ سلیمان کے علاقے میں کام کرنا ہے۔ بہتر ہے کہ ان کی موجودگی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں محکمہ پنجاب ایری گیشن کو بریفنگ کے لئے طلب کرلیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوہ سلیمان میں مسلسل بارشیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بڑے سیلابی ریلے آتے ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ جب پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ کچی کنال بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ سائفن بنائے جائیں، دریاؤں کے قریب بند بنائیں جائیں اور مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ کچی کنال بے شمار جگہوں پر سیلابی ریلے کی زد میں آجاتی ہے اس کا بند اوپر اٹھایا ہوا ہے۔ پانی کچی کنال کو ہٹ کرتا ہے۔جو اسٹرکچر ابھی بنا ہوا ہے وہ اس سیلابی پانی کو کنڑول نہیں کر سکتا،13 نالوں کا پانی آتا ہے اور ریلہ ایک لاکھ کیوسک تک ہو جاتا ہے۔ ایک جامع پلان کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پنجاب اور بلوچستان حکومت کو درخواست دی ہے کہ ایک جامع پلان دیں۔

    واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جو پالیسی دی گئی ہے اس سے بہتر واپڈا کی ٹائم اسکیل اپ گریڈیشن کی اپنی پالیسی ہے جس پر 2001 سے عمل کیا جارہا ہے۔ نئی پالیسی سے ملازمین کا نقصان ہوگا۔

    کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جو ہدایات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی اجلاس مورخہ18جولائی2023 کو کمیٹی کے ایجنڈا آئٹم 6 پر کہا تھا کہ تربیلا ڈیم T-iv اورT-v پاور ونگ کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس مل رہا تھا جبکہ واٹرو نگ کے ملازمین اس الاؤنس سے محروم تھے۔کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے اور برابر ی کی بنیاد پر الاؤنسز دیئے جائیں کیونکہ دونوں ونگ کے ملازمین ایک جگہ پر کام کر رہے ہیں۔جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے کہا تھا کہ ہم اس تضاد کو ختم کر یں گے اور سب ملازمین کو برابر الاؤنس دیئے جائیں گے۔ جبکہ آج کے ہونے والے کمیٹی اجلاس میں ان ہدایات پر عملدرآمد طلب کیا گیا تھا۔ جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی ہدایات پر من وعن عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تربیلا ڈیم کام کرنے والے ہزاروں ملازمین میں کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تربیلا ڈیم ملازمین نے چیئرمین واراکین کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پیسے عدالت میں جمع کر ا دیئے گئے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دینے ہیں کس کو نہیں یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
    نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک کے حوالے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کس طرح اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی جا سکی تھی۔ کیا مزید بھی ایسے نقصانا ت ہو سکتے ہیں۔ جب منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو اس پر موثر کام کیوں نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ٹنل کا یہ نقصان سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ جعفرافیائی مسئلے سے ہوا تھا۔ ٹنل کی 42 میٹر کی جگہ پر نقصان ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی منصوبے کو اگر 100 سالہ معیاد کے مطابق بنایا جائے تو خرچ زیادہ ہوتا ہے مگر معیار بہتر ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں 30 سالہ معیاد کے مطابق کم خرچ سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم منصوبے میں مرمت کے بعد منصوبے کی پیدا وار میں بہتر ی آئی ہے اور تقریبا سالانہ 50 ارب کی سالانہ آمدن ہو گی۔

    جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا ڈیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات بشمول میرٹ لسٹ میٹرک کے نمبر، ڈومیسائل، تعلیمی قابلیت و دیگر معلومات فراہم کی جائیں۔

    ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو پی سی ون تیار کرنے کا کہہ دیا ہے جسے ہی فراہم کر دیا جائے گا کمیٹی کو آگاہ کر دیں۔گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جارہا ہے۔ تین گیج اسٹیشن قائم کر کے ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے انکوائری کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی تھی وہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایک ماہ کا ٹائم دیا تھا انہوں نے جامع رپورٹ کے لئے مزید دو ماہ کا وقت مانگا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ انکوائری میں ان لوگوں کو شامل نہ کریں جو ڈیزائنگ میں شامل تھے۔ غیر متعلقہ لوگ شامل کیے جائیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 سال کی سروس والے گریڈ 19 کے آفسر کو انکوائری کمیٹی کا ہیڈ بنایا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیم میں جو پانی آتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے لیکج کی نشاندہی کریں اورا س مسئلے کی رپورٹ بھی انکوائری کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہت بڑے سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ مسئلہ آیا تھا اس وقت دریا پر ادارہ کام نہیں کر رہا تھا ٹنل پر کام کر رہے تھے۔ عارضی بند بنایا گیا تھا تین لاکھ کیوسک کا ریلہ آیا تھا۔ پوری ڈائی تباہ نہیں ہو ئی تھی بلکہ اس میں تھوڑا سا نقصان ہوا تھا۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

  • پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرے سے خبردار کر دیا

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرے سے خبردار کر دیا

    اسلام آباد: مون سون کی بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ بڑھنے لگا۔

    باغی ٹی وی: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے دریائے راوی اور دریائے چناب سے متصل نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے بھارت میں دریائے ستلج اور بیاس پر ڈیمز تقریبًا پانی سے بھر چکے ہیں-

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائےستلج اور بیاس کےبالائی علاقوں میں بارشوں کےامکانات ہیں آئندہ 24 گھنٹے میں بالائی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے امکانات ہیں،مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے گنڈا سنگھ والا اور زیریں علاقوں میں طغیانی کے بھی امکانات ہیں۔

    مختلف شہروں میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، وسطی پنجاب، خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبر پختونخوا میں بھی بارش متوقع ہے لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں بارش متوقع ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات، میانوالی اور سرگودھا میں بارش کا امکان ہے۔ خوشاب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور بھکر میں بھی بارش متوقع ہے۔

    انتخابات میں مداخلت کا الزام ، ٹرمپ پر فرد جرم عائد

    اسی طرح محکمہ موسمیات کی طرف سے منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، راولپنڈی، اٹک اور جہلم میں بارش کا امکان ہے۔ چکوال، مری اور گلیات میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، سندھ کےساحلی علاقوں میں بھی بوندا باندی کاامکان ہےآزاد کشمیر میں بھی چند مقامات پرگرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے خضدار، کوہلو اور قلات میں تیز ہواؤں کے ساتھ بادل برسیں گے۔

    پاک چین دوستی اورسی پیک کوسبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،چین

  • ملک بھر میں جولائی میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری

    ملک بھر میں جولائی میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری

    محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے 31 جولائی تک ملک بھر میں ہونے والی مون سون بارشوں کےاعداد و شمار جاری کردیے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی میں معمول سے 70 فیصد زائد بارشیں ہوئیں جبکہ جولائی کے دوران ملک بھر میں اوسطاً 107.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں جولائی کی معمول کی اوسط بارش 63.3 ملی میٹر ریکارڈ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں گلگت بلتستان میں معمول سے 233 فیصد زائد ( 44.3 ملی میٹر ) بارش ہوئی، گلگت بلتستان میں جولائی کی معمول کی اوسط بارش کا ریکارڈ 13.3 ملی میٹر ہے۔

    سندھ میں معمول سے 143 فیصد زائد ( 146 ملی میٹر) بارش ہوئی، سندھ میں جولائی کی معمول کی بارش کا اوسط 60.2ملی میٹر ہے۔ جولائی میں بلوچستان میں معمول سے 111فیصد زائد (62.7 ملی میٹر ) بارش ہوئی، اس مہینے میں بلوچستان میں اوسطاً 29.7 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ جولائی میں پنجاب میں معمول سے 47 فیصد زائد ( 152.8ملی میٹر ) بارش ہوئی جبکہ اس مہینے میں اوسطاً 104 ملی میٹر بارش پڑتی ہے۔ جولائی میں آزاد جموں وکشمیر میں معمول سے 31 فیصد زائد ( 227.7 ملی میٹر) بارش ہوئی، جبکہ یہاں جولائی میں بارش کا اوسط 173.9 ملی میٹر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کا کیس، فیصلہ آج، عمران خان کی نیب،پولیس میں طلبی بھی آج
    توشہ خانہ کیس، آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے ،جج ہمایوں دلاور
    علی امین گنڈا پور کے گھر چھاپہ،غلیل،ڈنڈے،سیلاب ریلیف کا سامان برآمد
    تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخاب ،الیکشن کمیشن میں سماعت ملتوی
    زیادہ بھیک کے لئے سفاک باپ نے کمسن بچی کو جلا دیا
    اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں خیبرپختونخوا میں معمول سے 19فیصد زائد ( 127.2 ملی میٹر ) بارش ہوئی، جولائی میں خیبرپختونخوا میں 106.7 ملی میٹر اوسط بارش ہوتی ہے۔

  • مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے پاکستان میں بارشوں کے بعد ہونے والے نقصانات کے حوالہ سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 25 جون سے شروع ہونے والے بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں اب تک 183 افراد کی موت ہو ئی ہے اور 266 افراد زخمی ہوئے ہیں،

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے نقصانات کی رپورٹ دو اگست کو جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان میں مون سون کی بارشیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں ، وہ علاقے جو گزشتہ برس سیلاب سے متاثر ہوئے تھے، پھر متاثر ہو سکتے ہیں، گزشتہ برس سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر اور 1739 کی موت ہو ئی تھی، اب موجودہ بارشوں کے بعد این ڈی ایم اے نے جو رپورٹ جاری کی اسکے مطابق اب تک رواں برس بارشوں کے بعد کی صورتحال کے نتیجے میں 183 افراد کی موت ہو چکی ہے، بلوچستان اور کے پی کے متعدد اضلاع شدید بارش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں،

    بلوچستان میں خاران، آواران، ژوب، قلعہ سیف اللہ، نصیر آباد، لسبیلہ، اوستہ محمد اور صحبت پورمیں شدید بارش ہوئی،صوبہ بلوچستان میں اب تک 12 افراد جاں بحق، 14 زخمی، 334 مکانات تباہ ہوئے، جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، اور 332 مکانات مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان کا ضلع واشک بری طرح متاثر ہوا اور 200 مکانات ضلع میں مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

    کے پی کے میں خیبر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، کرک، مردان، شانگلہ، اپر کوہستان، اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، مالاکنڈ،باجوڑ، ایبٹ آباد، اپر چترال، اور لوئر چترال متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، این ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 30 جولائی کے درمیان شدید بارشیں ہوئی، اس دوران سیلاب آیا اور 53 افراد کی موت ہوئی جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے، خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب کے باعث 219 مویشی لقمہ اجل بن گئے۔ شدید بارشوں نے دو اسکولوں اور 379 مکانات کو نقصان پہنچایا، جن میں 74 مکمل طور پر تباہ ہو ئے جبکہ 305 کو جزوی نقصان پہنچا۔

    صوبہ سندھ میں، ضلع دادو کی چھ یونین کونسلیں سیلابی پانی سے متاثر ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 183 دیہات اور 102,268 افراد متاثر ہوئے کیونکہ اہم سڑکیں زیر آب ہیں۔ لوگ آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کر رہے ہیں۔سندھ میں 10 اموات اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ حال ہی میں سیلابی پانی نے سکھر اور جیکب آباد کی آبادی کو متاثر کیا ہے۔ضلع میں 324 مکانات کو جزوی اور 18 کو مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔3,528 ایکڑ فصل کا رقبہ تباہ ہوا ہے ،

    دوسری جانب ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، رپورٹ کے مطابق لورالائی میں3 ،پنجگور ، ژوب اور نصیر آباد میں 2 ،2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آواران، قلعہ سیف اللہ، خضدار، ڈیرہ بگٹی، پشین،کیچ اور جھل مگسی میں بارشوں کے باعث ایک ایک ہلاکت ہوئی جاں بحق ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جب کہ بارشوں سے صوبے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے کا ریلیف آپریشن 9 جولائی سے جاری ہے۔صوبہ بھر میں اب تک 222 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔سیلابی ریلوں سے ننکانہ میں 454،اوکاڑ ہ 4075، قصور 7039،ویہاڑی 100 ،مظفر گڑھ  2124،خانیوال 48،ننکانہ 454افرا د کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔ قصورمیں 47058، اوکاڑہ 69868 ویہاڑی 1349 سیالکوٹ میں 41ننکانہ 1013لیہ میں 214افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔اسی طرح قصورمیں 2412،مظفر گڑھ 1758،ننکانہ 885،اوکاڑہ 132، ویہاڑی 305،خانیوال میں 200مویشیوں کو ریسکیو کیا گیاجبکہ ننکانہ میں 855 افراد میں راشن کے بیگز تقسیم کئے گئے۔

    ترجمان نے بتایا کہ سیلابی پانی سے بہاولپور میں تین، اوکاڑہ 77جھنگ 40مظفرگڑھ پانچ خانیوال 23ننکانہ 8لیہ میں 65 بستیاں پانی سے متاثر ہوئیں۔بہاولپور میں 220ایکڑ، اوکاڑہ میں 20275ایکڑ، ویہاڑی 19061ایکڑ، خانیوال 9ہزار ایکڑننکانہ 816ایکڑلیہ 5762ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ نگراں ڈ ی جی پی ڈی ایم ایعمران قریشی نے کہا کہ سیلابی پانی سے اوکاڑہ میں ایک شخص جاں بحق جبکہاوکاڑہ میں چار اور سیالکوٹ میں چھت گرنے سے د و افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال مانیٹر کر رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی محنت لائق تحسین ہے

  • 4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    ۔سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کے مطابق پنجاب کے دریاؤں کی سیلابی صورتحال نارمل ہونا شروع ہو گئی۔ آنے والے دنوں میں مون سون بارشوں کی شدت میں کمی کے امکانات بھی ہیں۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق تربیلا، چشمہ، کالا باغ، جسڑ شاہدرہ، بلوکی، جہلم اور چناب کے مقامات پر پانی کا بہاؤ نارمل ہے جبکہ دریائے ستلج اور سلیمانکی میں اسلام، دریائے راوی میں سدھنائی اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 70934 اخراج 63024 ہیڈ اسلام میں بالترتیب 54306 اور 53706 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج سے 357457 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل کے مطابق 4 سے 6 اگست کے دوران منگلہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اضلاع کی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے بھی دریائی کٹاؤ کہ وجہ سے چناب میں بہہ جانے والے موضع جات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات کی ہیں۔ تحصیل بھوانہ کے موضع ساہمل کوریا اور ٹھٹہ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نبیل جاوید نے ڈی سی چنیوٹ کو بحالی کے کاموں کیلئے فوری فنڈز فراہم کرنے، ایمرجنسی بنیادوں پر بحالی کا کام مکمل کرنے اور سیلاب متاثرین کو جلد از جلد باوقار رہائش فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ایس ایم بی آر نے اجلاس کو ہدایت دیتے ہوئے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • لاہور میں بارش،ہر طرف پانی ہی پانی،کئی علاقوں میں بجلی غائب

    لاہور میں بارش،ہر طرف پانی ہی پانی،کئی علاقوں میں بجلی غائب

    لاہور۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں موسلادھاربارش، نشیبی علاقے زیرآب آ گئے

    بارش سے حبس ختم، موسم خوشگوار ہو گیا،محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ گھنٹوں کے دوران مزید بارش کا امکان ہے، بارش کے بعد لیسکو کے 95 فیڈرز ٹرپ کرگئے،فیڈرز ٹرپ ہونے سے متعدد علاقوں میں برقی رو کی سپلائی معطل ہو گئی، گلیوں میں پانی کھڑا ہونے سے شہریوں کو گھروں سے باہر جانے میں مشکلات کا سامنا ہے

    شہر بھر میں موسلا دھار بارش ،سب سے زیادہ بارش گلشن راوی میں 130 ملی لیٹر بارش ہوئی ،پانی والا تالاب 125 ملی لیٹر بارش ہوئی ،لکشمی چوک میں 64 ملی لیٹر بارش ہوئی ،قرطبہ چوک میں 50 ملی لیٹر بارش ہوئی .تاج پورہ میں 45 ملی لیٹر بارش ہوئی ،نشتر ٹاؤن 44 ملی لیٹر بارش ہوئی ،سمن آباد 34 ملی لیٹر بارش ہوئی ،اقبال ٹاؤن 32 ملی لیٹر بارش ہوئی

    موسلا دھار بارش کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ متحرک رہی۔ ڈی سی لاہور رافعہ حیدر کی ہدایت پربارش تھمتے ہی بروقت اور تیز رفتار آپریشن شروع کیا گیا۔ڈی سی لاہور نے بتایا کہ نکاسی آب کے پوائنٹ کلئیر کر کے فوری آپریشن شروع کیا گیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    سپریم کورٹ میں گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت، عدالت نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق کیس کی سماعت،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

  • خیبر پختونخوا   میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک جاری رہنے کا امکان

    خیبر پختونخوا میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک جاری رہنے کا امکان

    محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں رواں ہفتے جاری رہنےکاامکان ظاہر کیا ہے،صوبےمیں بارشوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے تک رہے گا،اس حوالے سے ڈی جی، پی ڈی ایم اے گرج چمک کے ساتھ بارشوں اور تیز ہواؤں کےپیش نظر ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کر دی ہے،بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اورفلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے ۔پی ڈی ایم اے مراسلہ کے مطابقسوات،کوہستان، چترال،مانسہرہ،شانگلہ، دیر،ابیٹ آباد،خیبر،تور غر میں تیز بارشوں سے فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے،۔ مراسلہ میں بارشوں کے سبب پشاور،چارسدہ، نوشہرہ، مردان ،ڈی آئی خان اور کے بعض علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے،ضلعی انتظامیہ کو چھوٹی بھاری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی تلقین بھی کی گئی ہے،۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے برساتی نالوں کی نگرانی اورطوفان کی صورت عوام بجلی کی تاروں، کمزور تعمیرات، سایئن بورڈز اور بل بورڈز سے دور رہنے کی اپیل کی ہے،
    حساس بالائی علاقوں میں سیاحوں اور مقامی کمیونٹیز کو ایڈوائزری کی ترسیل یقینی بنائیں۔ پی ڈی ایم اے مراسلہ کے مطابق پیغامات مقامی زبانوں میں پہنچائے جائیں
    تمام متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس روڈ لنکس کی بحالی میں چوکس رہیں۔ مراسلہ میں سڑک کی بندش سے بچنے کے لیے ٹریفک کے لئے متبادل راستے فراہم کر نے اور انتظامیہ اسپیل کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کریں۔اسکے علاوہ حساس علاقوں میں صوبائی اور قومی شاہراہوں پرمسافروں کو پیشگی خبردار کیا جائے، متعلقہ حکام بوقت ضرورت لوگوں کومحفوظ انتظار گاہوں میں منتقل کریں۔مراسلہ کے مطابق اسپیل میں ہنگامی خدمات کے اہلکاروں کی دستیابی یقینی بنائیں۔صوبے کے سیاحتی مقامات پرسیاحوں کو موسمی صورت حال سے آگاہ کیاجائے ۔سیاح دوران سفر خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ پی ڈی ایم اے کے مراسلے کے مطابق پی ڈی ایم اے ،پی ای او سی کو صورتحال کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جانے کی ہدایت کی گئی ہے

  • نگران صوبائی وزیر کے پی کے کا  مالاکنڈ کے عوام کی ہر ممکن کوشش  کا عزم

    نگران صوبائی وزیر کے پی کے کا مالاکنڈ کے عوام کی ہر ممکن کوشش کا عزم

    خیبر پختونخوا نگران صوبائی وزیر آبپاشی حاجی فضل الہٰی کا کمشنر مالاکنڈ ڈویژن شاہد اللہ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے سیلاب و بارشوں سے مالاکنڈ ڈویژن میں ہونے مالی و جانی نقصانات پر تبادلہ خیال کیا ہے، صوبائی وزیر آبپاشی حاجی فضل الہٰی نے مالاکنڈ ڈویژن میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہے، بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ضلع کے لحاظ تفصیلی جائزہ لے کر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ،۔صوبائی وزیر آبپاشی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ نگران صوبائی حکومت متاثرین کی ہر ممکن امداد کریں گی۔ متاثرین کو ہر گز تنہا نہیں چھوڑ جائے گا۔ نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
    مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کے ساتھ ہیں۔ حاجی فضل الہٰی نے کمشنر مالاکنڈ ڈویژن نے صوبائی وزیر آبپاشی کو مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع سوات ، اپر و لوئر چترال میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے آگاہ کیا۔

  • سی بی ڈی کے انڈر پاسز کے نیچے پانی جمع ہونے پر عدالت کا اظہار برہمی

    سی بی ڈی کے انڈر پاسز کے نیچے پانی جمع ہونے پر عدالت کا اظہار برہمی

    لاہور ہائیکورٹ نے بارش کے دوران سی بی ڈی کے انڈر پاسز کے نیچے پانی جمع ہونے پر اظہار برہمی کیا ہے

    عدالت نے سی بی ڈی،سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کو تا حکم ثانی کام کرنے سے روک دیا،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت سی بی ڈی منصوبے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے گی ، کمیٹی موقع کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی، پھر دیکھیں گے،

    جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی ،پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شیبا قیصر پیش ہوئے، ایل ڈی اے ، محکمہ ماحولیات ،ٹریفک پولیس ، سمیت دیگر محکموں کے نمائندے پیش ہوئے ،ممبران ماحولیاتی کمیشن نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے متعلق رپورٹ پیش کی ،سی بی ڈی کے وکیل شازب مسعود نے انڈر پاسز منصوبے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی ،عدالت نے سی بی ڈی کی حکومتی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، عدالت نے سی بی ڈی کے انڈر پاسز میں پانی جمع ہونے پر اظہار ناراضگی کیا، جسٹس شاہد کریم نے سی بی ڈی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں حکومت کس طرح کی رپورٹس بنا رہی ہے، سب کے بارے میں کچھ لکھا ہے ، سی ای او جو ذمہ دار ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، وکیل سی بی ڈی شازب مسعود نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے انکوائری کمیٹی بنانی ہے ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے جس کا نام آنا چاہیے ، جس کا نام ہونا چاہیے وہ نہیں ہے ، جسٹس شاہد کریم نے سی بی ڈی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گلبرگ کے جتنے ایریا میں پانی گیا ہے اس کی نشاندھی کریں ، فی الحال کام بند کردیں ، کمیٹی بناتا ہوں ، فی الحال وہاں سارے کام روک دیں ،

    سی بی ڈی کے وکیل نے فاضل جج سے استدعا کی کہ آپ کمیٹی بنادیں ،کام نہ روکیں ۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انڈر پاسز کے معاملے پر روزانہ اخراجات بڑھا دیتا ہے، اس کے باوجود انڈر پاسز کے نیچے پانی کھڑا ہے، ایل ڈی اے انڈر پاسز بناتا ہے وہاں تو پانی اکٹھا نہیں ہوتا ، سی بی ڈی نے ایک ہی انڈر پاس بنایا ہے تو لوگوں کے گھروں میں پانی چلا گیا، یہ عوامی پیسہ ہے، اس کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے،دوران سماعت پنجاب حکومت کی خاتون وکیل خاموش کھڑی رہی عدالت نے کیس کی مزید سماعت ستمبر تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو