Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    مولانا جذبات میں بہہ گئے، بڑا اعتراف،سیاسی کھیل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عون چودھری نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی لیکن اس کا مستقبل کیا ہے، اگر سیٹ نہیں ملتی تو مخدوش مستقبل ہے، یہ الیکشن کافی لوگوں کی سیاست کا آخری الیکشن ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس وقت سنگل لارجسٹ پارٹی ہے، اس میں کوئی شک نہیں،دھاندلی کے الزامات بڑے مضبوط ہیں، لوگ ان کی بات پر یقین کر رہے ہیں،امریکہ، اقوام متحدہ بھی کہہ رہے ہیں، گارڈین نے بھی لکھا،پی ٹی آئی کی جانب سے میڈیا کو دھاندلی بارے ویڈیو دکھائی گئیں،میں مانتا ہوں کچھ میں شاید ہوا ہو، میں سمجھتا ہوں ن لیگ کو بھی چاہئے ،باقیوں کو بھی چاہئے کہ پی ٹی آئی حکومت بنائے ووٹ دے دیں گے تاکہ افراتفری کی جو صورتحال آئی ہوئی ہے وہ ختم ہو، لوگوں‌کو پتہ چلے کہ کوئی جان بوجھ کر مارنے کی کوشش نہیں کر رہا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جو مرضی کہیں، شاندانہ گلزار کو میں نہیں جانتا، وہ کہتے ہیں کہ 55 سیٹیں پنجاب سے چھینی گئیں، اس طرح تو ہر ایک سے مینڈیٹ چوری ہوا، 36 ملین ووٹ ملے یا نہیں یہ کاؤنٹ کر کے بتا سکتاہوں ،یہ ایک کلیم ہے،اب انہو ں نے دوبارہ لابنگ فرمز کو متحرک کیا ہے کہ میڈیا پر یہ سب کچھ آئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا کے بیان کی تردید ہوئی ہے، باجوہ صاحب کہتے ہیں کہ مولانا صاحب کو حقائق درست کرنے چاہئے، کیونکہ فیض اسوقت ڈی جی آئی نہیں تھے، جے یو آئی کہتی ہے کہ دو بار مولانا کی ملاقات ہوئی، اب مولانا کہتے ہیں کہ میرے کل کے بیان کو اگنور کر دیا جائے، کیسے اگنور کر دیں، آپ اتنے بڑے لیڈر ہیں، اب پنڈورا باکس کھل گیا،پی ٹی آئی نے اس انٹرویو سے بہت کھیلا ہے،کل میں نے ایک بات کہی تھی کہ بہت سے سوالات اٹھتے ہیں جو اسوقت اینکر کو مولانا سے پوچھنے چاہئے تھے لیکن نہیں پوچھے، میں ہوتا تو وہیں سوال پوچھتا اور ایک کلیرٹی آ جاتی، اب زبان کا پھسلنا، یہ بیکا ر باتیں ہیں، انہوں نے ایک انٹرویو میں نہیں دو انٹرویو میں باتیں کیں، اس کے بعد وہ پی ٹی آئی والوں سے ملے ، وہ انٹرویو کرنے والے کمزور تھے اگر کوئی تگڑا منصور علی خان، شاہزیب خانزادہ ،مہر بخاری،کاشف عباسی یا میں ہوتے تو ان سے سوال کرتے، اس بات سےنکلنے نہ دیتے، اب مولانا کے بیانات کی تحقیقات کیا ہونی ہیں، جب وہ بیان سے ہی پھر گئے ہیں

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی سپیکر قومی اسمبلی، سلیم مانڈوری والا چیئرمین سینیٹ اور آصف زرداری صدر ہوں گے، راجہ پرویز اشرف بھی سپیکر کے امیدوار ہیں تا ہم فوقیت یوسف رضا گیلانی کو ملے گی.

  • مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    مولانا نے کشتیاں جلا دیں، واپسی ناممکن،مبشر لقمان کو کیا بتایا؟ کہانی بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل سے پاکستان کی سیاست نے بہت بڑی قلا بازی کھائی ہے، اس وقت پاکستان کا مستقبل کمزور نظر آ رہا ہے، لوگ طعنے دیتے ہیں کل بھی ایک صاحب سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے جب میں نے جواب دیا تو کہنے لگے اللہ بہتر کرے گا، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے،کہ فیصلے خود کرنے ہیں ہم اپنی ناکامیوں‌کو اللہ پر نہیں ڈال سکتے وہ ہمارے ہی کئے ہوئے فیصلے ہیں جب ہم قدرت کے نظام سے اکڑ دکھاتے ہیں تو پھر جو ہمارے ساتھ جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل مولانا فضل الرحمان ایک دم بھڑک اٹھے، دو ایسے انٹرویو دیئے جو ابھی تک کسی کو سمجھ نہیں آ رہے،میں بیک گراؤنڈ بتاتا ہوں اس میں نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ، کچھ ججز بھی شامل ہیں، مولانا نے یہ انٹرویو دینے کے لئے بہت لمبا انتظار کیا، میں مولانا کو ملا ہوا ہوں،وہ بہت ہی زیرک سیاستدان ہیں، ٹھنڈے مزاج کے ہیں، کبھی گالم گلوچ نہیں سنی ہو گی، بڑی سے بڑی بات میں بھی انکی دھمکی شائستہ زبان میں ہوتی ہے، وہ محاورتا جملے استعمال کرتے ہیں لیکن ایسی کی تیسی یا خواتین پر گھٹیا کلمات استعمال نہیں کرتے، اب وہ شخص جس پر ہمیشہ سے لیبل رہا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہے وہ جب اتنا پھٹ جائے اور ہر کشتی جلا دے، انہوں نے کہا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں، اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں، یہ طویل کہانی ہے، دو سال پہلے شروع ہوئی، اسکا انجام بہت بدترین صورتحال میں ہو گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اشرافیہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جن کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں،اور وہ ہر شعبے میں ہیں، اور انکا جو مخالف شعبہ ہے، 99 فیصد وہ احساس محرومی کا شکار ہے، مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کو اب امید کی کرن نہیں نظر آ رہی، مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کے خلاف مہم چلائی، بقول انکے وہ مہم کسی کے کہنے پر چلائی، مولانا عمران خان کے اختلاف پہلے دن سے ہی ہیں، مولانا یہودی ایجنٹ کہتے رہے تو عمران خان کرپٹ مولانا کہتے رہے، میری مولانا، عمران خان دونوں سے ملاقات ہوتی رہی، دونوں سے بات ہوئی، اب حالات ایسے ہو گئے کہ دونوں ساتھ بیٹھ رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے مطابق نواز شریف نے آنے سے پہلے بڑی شرائط منوائیں، کل کھل کر بات کی، ورنہ نواز شریف آنے کو تیار نہیں تھے، چار سال وہ باہر تھے اور ایک رات بھی ہسپتال میں نہیں رہے، ڈاکٹر عدنان ٹویٹر پر صرف انکی صحت بارے بتاتے پھر وہ غائب ہو گئے، میاں صاحب کے گارنٹر شہباز تھے کسی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا کہ مجرم کہاں ہے، چار سال بعد ڈیل ہوئی تو واپسی پر فقیدالمثال استقبال کیا گیا، اگلے ہی دن انکے کیسز ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے،مولانا کا خیال ہے کہ یہ سب اسلئے ممکن ہوا کہ پی ڈی ایم کی سربراہی وہ کر رہے تھے اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور میاں صاحب کے اختلافات ختم کرنے میں کردار ادا کیا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میں خلاف تھے ، مولانا سب کو ٹھنڈا کر کے رکھتے تھے، مولانا سے بھی بڑے وعدے ہوئے، صدر کے لئے بھی وعدہ کیا گیا کہ صدر پاکستان بنائیں گے، پھر ہوا یہ کہ نواز شریف نے دو لسٹیں دیں، میں نے وی لاگ میں رپورٹ کیا تھا،نواز شریف نے ایک لسٹ ان لوگوں کو دی جن کو ہر حال میں جتوانا ہے، ایک جن کو ہر حال میں ہروانا ہے، اس لسٹ میں سرفہرست مولانا کا نام تھا ، جب پی ڈی ایم کی حکومت تھی تو طے تھا کہ مل جل کر الیکشن لڑیں گے تا کہ پی ڈی ایم کے زیادہ لوگ اوپر آ سکیں، لیکن الیکشن کے وقت پر مولانا کو جھنڈی دکھا دی گئی، نواز شریف انکو ملنے بھی نہیں گئے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ، جے یو آئی الائنس میں چلے گئے تو انکو مخصوص سیٹیں بھی مل جائیں گی، مولانا صدر کے امیدوار بھی ہوں گے، پی ٹی آئی کے پاس سوشل میڈیا فورس مولانا کے پاس ورک فورس، انہوں نے سوچ لیا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا، کمزور حکومت قرضے کیسے دے گی؟ سب کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے الیکشن صحیح نہیں ہوئے، سب کو تشویش ہوئی، اگر افرا تفری بڑھ گئی تو گیس کے بل ابھی نہیں دیئے جا رہے، بجلی کےبل بھی اگلے مہینے بڑھ جائیں گے،

    پی ٹی آئی والے کم ازکم علما کے قدموں میں تو بیٹھ گئے،کیپٹن ر صفدر

    پی ٹی آئی ،جے یو آئی قیادت کی ملاقات، پیپلز پارٹی، ن لیگ کا ردعمل

    "عین”سے عمران،تحریک انصاف میں ابھی بھی "عین” کی مقبولیت جاری

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    میں آپکے لیڈر کے کرتوت جانتا ہوں،ہم نے ملک جادو ٹونے پر نہیں چلانا، عون چودھری

  • نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ الیکشن کا مرحلہ ختم ہو گیا، اب اسکا دوسرا مرحلہ شروع ہوا،جس کے لئے ہر امیدوار نے کروڑوں روپے خرچ کئے، سیاسی پارٹیوں نے اربوں روپے خرچ کئے اقتدار کی جنگ شروع ہو چکی ہے جوڑ توڑ شروع ہے،تیاریاں عروج پر ہیں، ملاقاتیں جاری ہیں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لاہور سیاسی جوڑ توڑ کا مرکز بنا ہوا ہے، محسن نقوی کے گھر زرداری بلاول شہباز کی ملاقات ہوئی، شہباز شریف نے پارٹی کو اس ملاقات کا احوال بتایا اسکے مطابق آصف زرداری نے شہباز شریف کے آتے ہی بلاول کے لئے وزارت عظمیٰ مانگ لی اور کہا کہ بلاول کو وزیراعظم بنائیں،پھر ہم آپ کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں کل ایم کیو ایم والوں سے ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے سندھ کی گورنر شپ اور اہم وزارتیں مانگ لیں، ن لیگ اب جس پوزیشن میں ہے ہر جماعت اسکو نچوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، ن لیگ مجبور بن چکی، کل بلاول اسلام آباد گئے، اسکی ملاقات امریکی سفیر سے ہوئی، بلاول کو دوبارہ لاہور بلایا گیا، بلاول ہاؤس لاہور میں ن لیگ کا وفد آیا اس میں ن لیگی لوگ شامل تھے، وفد نے آصف زرداری، بلاول سے ملاقات کی، آصف زرداری نے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ بلاول کو وزیراعظم بنایا جائے، وفاق میں وزارتیں دی جائیں ،پنجاب آپ رکھ لیں، اگر ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پنجاب او ر بلوچستان کی وزارت اعلیٰ ہمیں دے دیں، ہم آپ کے وزیراعظم کوووٹ دے دیں گے،اب دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا، دونوں کے اعلامیہ میں فرق تھا، ن لیگ نے کہا ساتھ چلنے کو تیار ہیں ،پیپلز پارٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کریں گے پھر بتائیں گے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب الگ سے پریشان ہیں، اگر وفاق پیپلز پارٹی کو دینا وزیراعظم بلاول بننا تو میاں صاحب کو کیوں بلایا، لندن سے وہ یہاں آئے وہیں رہتے اچھے تھے، کافی پیتے، چہل قدمی کرتے، سادہ اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے ن لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف ہیں، اگر وہ بنتے ہیں تو انکو پنجاب سے وزارت اعلیٰ چھوڑنی پڑے گی اور مریم نواز کا ن لیگ کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا،نواز شریف مریم نواز کی ٹریننگ کر رہے تھے، اب اسکا کیا ہو گا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ‌آصف زرداری ن لیگ کو نچوڑ رہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ڈیل نہیں ہوتی تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف کی طرف دیکھے گی ، تحریک انصاف کے آزاد اراکین لوٹے بننا شروع ہو گئے ہیں،روحیل اصغر کو ہرانے والے وسیم قادر ن لیگ میں شامل ہو گئے،مریم نواز ماضی میں کہتی تھی کہ لوٹوں کی جگہ غسلخانوں میں ہے تو اب ن لیگ غسلخانہ بن گئی، کیونکہ وہ لوٹوں کی سیاست کر رہی ہے، آزاد امیدوار کسی بھی جماعت میں جا سکتے ہیں پی ٹی آئی کے لئے سب سے بڑا چیلنج سیاسی جماعت میں شامل ہونا اور مخصوص نشستیں لینا ہے،

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

    انتخابات میں ناکامی، سراج الحق جماعت اسلامی کے عہدے سے مستعفی

    5 آزاد ارکان اسمبلی کی شہباز شریف سے ملاقات ، ن لیگ میں شمولیت کا اعلان

  • تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    تحریک انصاف آگے، حمزہ شہباز خطرے میں،عمران خان کو سزا،شریعت،قانون کیا کہتا؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی عمران خان کی بیوی نہیں رہیں کیا اب بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر انکو وہاں رکھنا جائز ہے،مزمل سہروردی نے کہا کہ این اے 127 میں پیسے چل رہے، آٹھ فروری کو دیکھنا ہے کہ کس کے پیسے کا جادو چل گیا ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ مزمل صاحب، عمران خان کی سزاؤں کی ہیٹ ٹرک ہو گئی ہے، نکاح کیس کے فیصلے کے بعد قانونی طور پر عمران بشریٰ میاں بیوی نہیں رہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ہمیں فیصلے کو قانون کے تناظر میں دیکھنا چاہئے یا تو نکاح رجسٹر ہونے کا پاکستان میں سلسلہ ختم ہو جانا چاہئے، سب کچھ زبانی ہونا چاہئے یا پھر دو گواہوں کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہئے اور یہ جو نوے دن میں طلاق دیتے ہیں یہ سیکشن 496 ہے،یہ سب ختم کردینا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ذاتی معاملہ جب چاہے طلاق دے دیں، جب آپ شادی اور اسکے مسائل ، ان سب چیزوں پر قانون نہ بنائیں، سرکار کہے اسکا حکومت سے کوئی تعلق نہیں جس کی جو مرضی کرے، لیکن اگر آپ نے قانون بنائے ہیں تو پھر کیسے ذاتی،نجی معاملہ کہیں گے، اس بات پر قانون ہے، جس چیز پر قانون موجود ہے اس کو قانون کے تناظر میں دیکھیں، مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے، قانون کے مطابق ہی سب کو دیکھنا ہو گا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شریعت کا فیصلہ علما نے کرنا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نے عدالت نے ڈکلیر کر دیا کہ بشریٰ اب عمران کی بیوی نہیں رہیں تو کیا اب انکو بنی گالہ رکھنا جائز ہے، جس پر مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ بنی گالہ عمران خان کی بیگم ہونے کی وجہ سے سب جیل نہیں، سزا انفرادی ہوتی ہے، بشری کو اپنے جرموں کی سزا ملی، انفرادی حیثیت میں چاہے وہ بشریٰ کو میریٹ میں رکھ لیں یہ تو ریاست کا فیصلہ ہے، عمران خان خط لکھیں ناں ھکومت کو کہ میرے گھر کو سب جیل کیوں قرار دیا، وہ حکومت سے احتجاج کریں، میرے گھر کو میری مرضی کے بغیر کوئی سب جیل قرار نہیں دے سکتا، عمران خان کی مرضی سے ہی بنی گالہ کو سب جیل قرار دیا گیا

    مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ دوسرا نکاح جائز قرار دے دیا،دو نکاح تھے، ایک نکاح غلط، ایک صحیح، ایک بچ گیا، ایک رہ گیا،میں کل سن رہا تھا کہ مفتی سعید نے فقہ حنفی سے نکاح پڑھایا، فقہ حنفی میں دوبارہ نکاح نہیں پڑھایا جا سکتا، ابتسام الہی ظہر کے بھی کچھ ایسے ویوز تھے، ڈاکٹر اسرار کے بھی ایسے ویوز، اوریا مقبول جان کو سن رہا تھا تو انکے ویوز کچھ اور تھے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابتسام الہیٰ ظہیر شیخ الحدیث ہیں، پھڈا پڑ گیا ہے، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے شولڈر پر تین رینک تھے، ریاست مدینہ، مذہبی ٹچ، وہ اڑ گیا، صادق و امین کا رینک بھی اڑ گیا،تیسرا رینک تھا میں پاکستانی ہوں ، محب وطن ہوں وہ اڑ گیا تین فیصلوں سے تین رینک اڑ گئے، سائفر میں غداری، توشہ خانہ میں کرپشن، نکاح کیس میں شریعت اڑ گئی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب چوتھے میں کیا ہو گا، نو مئی کے کیس میں ، چڑیل بتاتی ہے کہ عمران خان پلانر تھا، پی ٹی آئی کی تما م قیادت اس میں ملوث تھی اور اسکا فیصلہ تسلی سے ہو گا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ عمران خان پر سو مقدمات ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ بیک وقت تو فیصلے نہیں ہوں گے،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ 2024 سزاؤں کا سال ہے، اس پورے سال میں سزائیں ہی ہوں گے، کوئی ری ٹرائل کا آرڈر ہو گا، کسی کی اپیل مسترد تو کوئی قبول ہو گی، یہ سزاؤں کا سال ہے، اسکو سزاوں کے سال کے طور پر دیکھا جائے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 2024 الیکشن کا سال ہے ،کل دو ویڈیو وائرل ہوئی ہیں کوئی بائبل پر کوئی قرآن پر حلف لے رہا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ پیسہ چل رہا ہے، این اے 127 میں ووٹ کا ریٹ بیس ہزار تک پہنچ چکا ہے، پیپلز پارٹی نے ووٹ زیادہ خریدے ن لیگ لیٹ ہوئی،

    مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ نااہلی پر الیکشن نہیں رکتا، موت پر رکتا ہے، نااہلی پر شیخ رشید نے الیکشن لڑا اور وہ جیتے، حنیف عباسی کیس میں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شذرہ منصب کافی لیڈ کر رہی ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شذرہ عمران خان کے خلاف الیکشن میں تین چار ہزار کی لیڈ سے ہاری تھیں، 2018 میں آرٹی ایس بیٹھ گیا تھا اور 72 گھنٹے بعد نتیجہہ آیا تھا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ رانا تنویر پہلی پوزیشن پر آ چکے، اعجاز بھٹی نیچے چلے گئے جو پہلی پوزیشن پر تھے، رفاقت علی ٹی ایل پی امیدوار چوتھے پانچویں نمبر پر آ گئے،میاں جاوید لطیف مضبوط امیدوار تھے لیکن نیچے سلپ کر گئے، میاں بشیر تحریک انصاف کے ہیں اور اب سٹرانگ پوزیشن میں ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں اتفاق کرتا ہوںَ شیخوپورہ کا الیکشن بڑا خونی ہونے کا امکان ہے، وہاں اسلحہ بہت ہے، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز والوں نے اپنی ملیشیا بنا لی ہیں وہاں پر ریاست کو کام کرنا پڑے گا، اسلحہ کے خلاف مہم شروع ہوئی، اسکو اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ این اے 117 یہاں علیم خان الیکشن لڑ رہے ہیں وہ اسوقت ذرا نیچے آ گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے اعجاز بٹر پہلی پوزیشن پر ہیں، یہ آئی پی پی کو سیریس ایشو ہو رہا ہے،مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ علیم خان ککے زئی برادری کا ووٹ لے گئے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے، مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمزہ کے مقابلے میں عالیہ حمزہ نمبر ون ہیں، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ میں نہیں مانتا، حمزہ کے حلقے مین شاہد خاقان کو بھی جتوا دیا گیا تھا، بہت کام کیا انہوں نے اس حلقے میں،

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

  • بشریٰ بیگم کو ہتھکڑیاں، عمران خان کو 24 سال قید،نواز نے بیانیہ سرنڈر کر دیا

    بشریٰ بیگم کو ہتھکڑیاں، عمران خان کو 24 سال قید،نواز نے بیانیہ سرنڈر کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج عمران خان اور بشریٰ بیگم کو توشہ خانہ کیس میں چودہ چودہ سال کی سزا سنا دی گئی، اسکا مطلب ہے کہ عمران خان کا سیاسی کیریئر چھوڑ دیں کسی بھی کیریئر میں واپسی کی امید ختم ہو گئی کیونکہ انکی کل سزا 24 برس ہو گئی، سائفر کیس میں دس سال سزا ہوئی ہے ، ساتھ ساتھ چلیں تو 14 سال میں دونوں ختم ہو جائیں گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان، اسکے گھر والے، اسکے عزیز، چاہنے والے،ڈیپریس بھی ہوں گے، خود عمران خان کو بہت بڑا شاک لگا ہو گا، کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ میں کانفیڈنس سے پوری پچ کو روندتا جاؤں گا اور مخالفین کو میرا کانفیڈنس دبا دے گا،یہ انکے ڈاؤن فال کا باعث بنا، آج ذاتی طور پر میرے لئے افسوس کا دن ہے، عمران خان سے ایک لمبا عرصہ میرا تعلق رہا، یہ تعلق ایک رومانس سے شروع ہوا جب وہ کرکٹ کھیلتے تھے،اور جب آپ ایک پاکستانی ہوں، ینگسٹر ہوں اس زمانے میں اپنے آپ کو ڈھالیں اور عمران خان کرکٹ کھیل رہا تو پاکستان کے لئے بہت ہی رومنٹک ہیرو، وہاں سے یہاں تک کے سفر میں کافی پیش و خم ہیں، میں، جہانگیر ترین، علیم خان، عون الگ ہو گئے، وفات سے کچھ عرصہ قبل نعیم الحق نے مجھے کہا تھا کہ بہت بیمار ہوں، پتہ نہیں کتنی زندگی رہ گئی لیکن تم لوگ واقعی صحیح کہتے تھے، عمران خان بات نہیں سن رہا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو دیکھنا چاہئے کہ کن کن لوگوں کو اس نے نواز اور کیسے وہ لوگ بھاگے، ایک دن مشکل کا پڑا تو تحریک انصاف والے پریس کانفرنسیں کر کے چلے گئے اور جنہوں نے اربوں کی کرپشن کی وہ انجوائے کر رہے ہیں، اسکے اپنے کابینہ کے لوگ، شہزاد اکبر، فواد چودھری،یا کوئی بھی، ایک دو کا نام لینا تو بیکار ہے، انسان بنتا ہی مشکل فیصلوں کے بعد ہے، مشکل تو ہر ایک پر آتی ہے، جب آپ ڈیل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کون بہتر انسان ہے، یہی چیز جو عمران خان پر آج ہے وہی آصف زرداری پر تھی، دس سال انہوں نے جیل میں گزرے، جوانی کے دس سال جیل میں گزارنا مشکل کام ہے، جیل جیل ہی ہے، اگر گھر کو بھی سب جیل قرار دے جائے ، ٹی وی بھی لگا ہو اے سی بھی ہو، کھانا بھی مرضٰی کا ہو لیکن آپ تڑپنا شروع ہو جائیں گے.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مبشر لقمان تین با ر وزیراعظم رہے، مروت صاحب کی زبان میں پھر وہ وڑ گئے،کسی کو امید نہیں تھی کہ میاں صاحب واپس آ سکتے ہیں، جیل کی سلاخوں میں گئے، پھر باہر گئے، کس طرح کی ڈیل ہوئی؟ اب وہ واپس آ گئے اور سب کو پتہ وہ پروٹوکول کے ساتھ آئے، انکی ہر بات مانی جا رہی، آٹھ دن بعد الیکشن ہیں، کسی کو کوئی شک نہیں کہ نواز شریف نے چوتھی بار وزیراعظم بننا ہے،یہاں پر آج عمران خان کو سوچنا ہے بیٹھ کر ، عمران خان کے خیر خواہوں کو، فصلی بٹیروں کی بات نہیں کر رہا،عمران خان کو اپنی بہنوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہئے، کسی اور کے ساتھ نہیں، عمران خان کو اپنی پوری سٹریجٹی کو ری وزٹ کرنا ہے،عمران خان کو اپنا فیوچر چاہئے پارٹی کو آج کے بعد بچانا چاہتے ہیں، بچوں سے ملنا چاہتے ہیں تو کچھ سوچیں، ابھی تو فیصلے اور بھی آنے ہیں، ان سزاؤں کے خلاف اپیل بھی ہونی ہے، ابھی تک عمران خان نے پورے نظام کا مذاق بنایا ہوا تھا، وکیل پیش نہیں ہو رہے تھے، میڈیا پر وہ کیس لڑتے رہے، لوگوں کو مس گائیڈ کرتے رہے، پی ٹی آئی کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہ سب کوپتہ ہے، آج کا دن عمران خان کو حقیقی معنوں میں بیٹھنا پڑے گا اور سوچنا پڑے گا کہ غرور،تکبرکسی بندے کو سوٹ نہیں کرتا.

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

  • مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد نے پیٹرن ان چیف زبیر احمد انصاری اور اپوا کے بانی ایم ایم علی کی سربراہی میں سنئیر صحافی معروف تجزیہ نگار اور اینکر پرسن مبشر لقمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

    دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس ملاقات میں اہم موضوعات پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو ہوئی ۔ملک کی مجموعی صورتحال،بالخصوص سیاسی ،معاشی اور خاندانی مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔گرما گرم چاۓ کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا مبشر لقمان نے وفد کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے،انہوں نے نئے لکھنے والوں کو مفید تجاویز سے بھی نوازا اور ان کے ساتھ اپنے تجربات بھی شئیر کیے ۔
    ml

    سینئرصحافی ،معروف اینکرپرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای اومبشر لقمان نے اپووا کی ادبی کاوشوں کو سراہا ،ان کا کہنا تھا کہ وہ اپووا کی ایک ورکشاپ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر چکے ہیں، اپووا ایک متحرک اور منظم تنظیم ہے۔انہوں نے اپووا وفد کو دوبارہ آنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ اگلی ملاقات میں ہم اکٹھے ڈنر کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ باغی ٹی وی کا پلیٹ فارم آپ لوگوں کے لیے حاضر ہے آپ لوگ اس پلیٹ فارم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
    ml

    اپووا کے وفد کی طرف سے مبشر لقمان کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی ۔اپووا وفد نے اس خوبصورت ملاقات کا انعقاد کروانے پر ممتاز اعوان کا بھی شکریہ ادا کیا،وفد میں زبیر احمد انصاری،ایم ایم علی،رفیق بھٹی،اظہر حسین بھٹی،فاروق خان،مدیحہ کنول،نبیلہ اکبر،مریم راشد،ساجدہ اصغر،عائشہ صدیقہ اور نگار بیگ سمیت دیگر شامل تھے۔
    ml

    عمران خان کی تقریر میں لکھتا تھا، مبشر لقمان کا انکشاف
    آل پاکستان رائٹررز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ دھرنے کے دوران عمران خان کی تقریر میں اور محسن بیگ لکھا کرتے تھے،جب ہم نے تقریر لکھنا چھوڑی تو پھر عمران خان کی ایک ہی تقریر اس کے بعد چل رہی ہے،میرے اوپر 57 مقدمات تھے جن میں سے اب چھ رہ گئے ہیں باقی میں جیت گیا ہوں،باقی بھی جیت جاؤں گا۔ وقت گزر جاتا ہے لیکن لوگوں کے چہرے بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ حریم شاہ کو زندگی میں کبھی نہیں ملا، بشری بی بی اور فیاض الحسن چوہان نے اسکو میرے جہاز پر بھیجا تھا ۔ میں نے انکے خلاف درخواست دی لیکن اس وقت فیاض الحسن چوہان صوبائی وزیر تھے،اسلئے مقدمہ نہیں ہوا۔
    ml

    میری کتاب "کھرا سچ” بیسٹ سیلر کتاب تھی،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رائیٹر کو آسان زبان میں لکھنا چاہئے عام فہم ہو تا کہ پڑھنے والے کو آسانی ہو اس سے زیادہ لوگ پڑھیں گے۔ الفاظ کا چناو کرتے ہوئے پڑھنے والے کے لیے آسانی کرنی چاہئے۔ میں نے کھرا سچ کتاب 15 دن میں لکھی تھی اور ایک ماہ اسکی ایڈیٹنگ میں لگا کہ کیا شائع کرنا چاہئے یا کیا نہیں۔ میری کتاب اس وقت دنیا کی بیسٹ سیلر بنی تھی۔لکھاری کو عوامی سوچ کے ساتھ لکھنا چاہئے، ناول لکھیں، افسانہ لکھیں یا جو بھی لکھیں آسان زبان میں لکھیں،

    جوائنٹ فیملی کی وجہ سے گھر میں برکت رہتی ہے،مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میرا گھر ہے،پاکستان میں ہی رہوں گا پاکستان سے باہر دل نہیں لگتا ۔ زیادہ سے زیادہ بیس سے پچیس دن پاکستان سے باہر رہتا ہوں پھر اکتا جاتا ہوں اور پاکستان واپس آ جاتا ہوں،رشتوں کی حرمت بتانی نہیں پڑتی ۔ ہمارے ہاں معاشرے میں ملازمین کو بھی اہمیت دی جاتی ہے پاکستان میں اکنامک مسائل کی وجہ سے مشکلات ہیں۔ جوائنٹ فیملی کا خاتمہ ہونے کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔ جوائنٹ فیملی کی وجہ سے گھر میں برکت رہتی ہے۔ سب ایک ساتھ رہیں تو خاندان اچھی زندگی بسر کرتا ہے۔ معاشرے میں عورت پر ظلم عورت کرتی ہے۔ مرد نہیں کرتا ۔ خواتین کے حقوق کے ساتھ مردوں کو بھی حقوق ملنے چاہیے۔ انگلینڈ اور کینیڈا میں خواتین کو جتنی مار گھروں میں پڑتی ہے اسکا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ جنت ماں کے قدموں تلے ہے عورت کو بھی اس پر سوچنا ہو گا تبھی معاملات سنوریں گے۔

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

  • عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان کی سزا پر مجھے بہت دکھ ہے، میری طرح ہر وہ شخص جس نے کبھی عمران کو سپورٹ کیا اور پھر منہ موڑ لیا اسکو دکھ ہو گا اسلئے کہ ہمیں بہت امیدیں تھیں لیکن مایوسی ہوئی، ایک آدمی جھوٹ بول بول کر اور فساد برپا کر کے سمجھا کہ الو سیدھا کر لوں گا لیکن کب تک؟ عمران خان سے جج نے آسان سا سوال کیا کہ سائفر ہے کہاں؟ عمران خان نے وہی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، قریشی کے بیان ریکارڈ کے بیان سے پہلے جج نے کہا کہ میں دونوں کو دس دس سال قید کی سزا سناتا ہون، شاہ محمود نے احتجاج شروع کر دیا، کیا فائدہ ٹرائل تو صحیح نہیں کیا، بعد میں آپ نعرے مارتے رہیں، امریکہ میں کل بھی ایک لابنگ فرم ہائر کی گئی کہ زور ڈالیں انکو رہائی ملے ، غلط کاموں کی وجہ سے انکو یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں، دکھ ہے اور افسوس ہے ، اور کیا کہہ سکتا ہے انسان،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مینٹل کیس والی باتیں ہیں، بالکل ہی آئین و قانون کو پیر کی جوتی سمجھا ہوا، سوال چاول اور جواب گندم دیا جائے تو پھر بھگتیں گے، پی ٹی آئی اس کو چیلنج کرے ،پہلے اس کیس کو توصحیح لڑ‌لیتے، 11 وکیل کیوں بدلے انہوں نے،وکیل کہتے تھے میرے پاس ٹائم نہیں، آ نہیں سکتا، وقت ضائع کر رہے تھے، ماہر قانون اشتراوصاف کا کہنا تھا کہ سزا تو سائفر کیس میں کم ہوئی،جب معاملات میں تاخیر ٍڈیفنس کونسل کرے تو پھر سرکاری وکیل کو تعینات کیا جا سکتا ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے بھی جرح کی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا، فیصلہ برقرار رہتا ہے یا نہیں یہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ابھی تو مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں،اب ری ٹرائل نہیں ہو گا، اس ٹرائل کو دیکھا جائے گا کہ صحیح یا غلط،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دکھی والی بات بتا دوں جب آپ دیکھیں کہ کسی کو اتنا عروج اور پھر نیچے گرتا دیکھیں تو ہر آدمی کو خوف آتا ہے، اللہ ہم سب کو اتنی پستیوں سے گرنے سے بچا لے پھر بندہ دعا مانگتا ہے، تکلیف میں دکھی یا سکھی نہیں بلکہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، اس بار الیکشن میں ٹرن آؤٹ کافی ہائی ہو گا،آج بیرسٹر گوہر نے بھی کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں پر اعتماد ہے، آٹھ فروری کو سب کا محاسبہ ہو گا، عمر ایوب نے بھی کہا کہ آٹھ فروری کو باہر نکلیں اور ووٹ دیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا الیکشن کے بعد بیانیہ بدلے گا، جیسے بلاول نے کہا میرے والد کو جیل میں میان صاحب نے ڈالا، زبان کاٹی گئی، اگر میاں صاحب پاکستان آ کر صوبوں کا دورہ کرتے تو پتہ چلتا کہ انکے ساتھ لوگ موجود ہیں، بلاول بھٹو تو ابھی ان پر اٹیکس کر رہے ہیں، چھ تاریخ تک جب تک مہم ختم نہیں ہوتی، انکا ٹارگٹ ن لیگ ہے، انکی ٹوٹل کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹر کی تعداد پیپلز پارٹی کو ووٹ دے دے ،لیکن ہمیشہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیاست میں سب کچھ ہوتا ہے، الیکشن ہونے کے بعد ہمیشہ کچھ اور ہوتا ہے.

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

  • ہواؤں کا رخ تبدیل، جاتی عمرہ میں تشویش، تحریک انصاف پر شب خون

    ہواؤں کا رخ تبدیل، جاتی عمرہ میں تشویش، تحریک انصاف پر شب خون

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے کل کے فیصلوں کے بعد پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی ہے، بلاول لاہور میں سرپرائز دے سکتے ہیں،اکبر ایس بابر ہو سکتا ہے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں کامیاب ہو جائیں اور پارٹی انکے پاس چلی جائے

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر اینکر ثمینہ رانا کے سوال جس طرح الیکشن قریب آ رہے ہیں روز تبدیلی سیاسی صورتحال میں آ رہی ہے، کا جواب دیتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کا دن بڑا اہم ہے، سپریم کورٹ میں اہم کیس کی سماعت ہوئی، بیرسٹر علی ظفر وہاں پہنچے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بینچ تھا، انہوں نے بڑے سیریس سوال کئے،کہا کہ اگر کوئی مفرور ہے تو وہ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے نااہل ہو سکتا ہے یا نہیں، الیکشن کمیشن کے وکیل اور دوسرے وہ انکو کنوینس نہیں کر سکے، میجر طاہر صادق کے کاغذات منظور ہو گئے،کچھ لوگوں کے اوپر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیلٹ پیپر پرنٹ ہونے چلے گئے نام نہیں ڈال سکتے، جس پر عدالت نے کہا کہ نام ،نشان ڈالیں، پرویز الہیٰ، عمر اسلم کے کاغذات بھی منظور ہو گئے، اب پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ مل گئی،

    مبشر لقمان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ اکبر ایس بابر نے اب انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، ہم خود انٹرا پارٹی الیکشن کروائیں گے، تحریک انصاف کے اکاؤنٹ کو سیز کیا جائے، وہ خط لکھیں گے، اب اسوقت کوئی عہدیدار پی ٹی آئی کا نہیں، نئے الیکشن ہوں گے تو بلے کا نشان ملے گا، سوال یہ ہے کہ وہ کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ جب ن لیگ سے ق لیگ بنی تھی تو لاہور، اسلام آباد میں جو بڑی پراپرٹیز تھیں ، اس پر ق لیگ نے کلیم کیا اور وہ انکو مل گئی، ایسے فیصلے ماضی میں ہوئے کہ کوئی اور آئے ، اپنا حق ثابت کرے تو اس کو مل جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ اکبر ایس بابر کے ہاتھ اب پارٹی چلی جائے

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ نیازی نے اچھی بات کی ہے،میں نے تفصیل کے ساتھ وی لاگ میں بتایا تھا کہ کس پارٹی کو کتنی سیٹ متوقع ہیں، آزاد امیدواروں کی تعداد 72 کے قریب ہوں گی، 90 سے 95 ن لیگ کی ہوں گی، حفیظ اللہ نیازی کے مطابق آزاد ساٹھ سے ستر کی ہوں گی،باقی پارٹیوں کی سیٹیں 35 کے قریب ہوں گی جن میں ایم کیو ایم،استحکام پارٹی، جے یو آئی و دیگر، مریم،نواز شریف، علیم خان، عون چودھری اپنا الیکشن جیتیں گے، کل تک کی جو صورتحال ہے لگ رہا ہے کہ بلاول لاہور میں سرپرائز دے سکتے ہیں

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی زیرک سیاستدان ہیں، وہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، انکی باتیں صحیح ہوں گی، آزاد امیدوار جیت کر کسی پارٹی کے ساتھ مل جائیں گے، کوئی بعید نہیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ حکومت میں مل جائیں،کل بلاول کا ایک بیان آیا جس میں انہوں نے کہا کہ آصف زرداری صدر کے امیدوار ہوں گے اور وہ تجربہ کار ہیں، صدر تو وہ اسی وقت بن سکتے ہیں جب ن لیگ کی حمایت ہو، آصف زرداری کو صدر بنوانے کا مطلب ہے کہ ن لیگ کی حمایت پیپلز پارٹی کو بھی کرنی پڑے گی.

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، جنرل الیکشن میں بہت لوگوں کو اصلیت پتہ چلے گی، الیکشن لڑنا اور پاپولر ہونا یہ دو الگ چیزیں ہیں،الیکشن کی سائنس بہت مختلف ہے،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

  • ڈی جی خان :اسلامی نظام کیلئے کتاب کا نشان عظمتوں کا نشان ہے۔جمال عبدالناصر

    ڈی جی خان :اسلامی نظام کیلئے کتاب کا نشان عظمتوں کا نشان ہے۔جمال عبدالناصر

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ملک فیض محمد ایڈووکیٹ، مولانا قاری جمال عبدالناصر ،عزیز بلوچ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسلامی نظام کیلئے کتاب کا نشان عظمتوں کا نشان ہے، امیدوار نہیں پارٹی کے منشور پر ووٹ دیاجاتا ہے

    حلقہ این اے 185سے عبدالسلام ناصر اور پی پی 288 سے پیر مدثر عرفان نقشبندی امیدوار ہیں ،لاکھوں علماء اور بزرگان دین کی دعائیں اور حمایت کتاب کے نشان کو حاصل ہے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کتاب پڑھنے کی تھی ،آج بھی ترقی کازینہ کتاب ہے، بڑے چھوٹے سب پاکستانی اگر ترقی یافتہ ملکوں کامقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر کتاب سے دوستی لگانی ہوگی

    76 سالہ دور میں علماء اسمبلی میں رہے ایک پیسہ کی کرپشن آج تک کوئی حکمران ثابت نہیں کرسکا ،اسلام دشمن علماء پر بہتان تراشی توکرتے ہیں لیکن ملک دشمنی اور کرپشن ثابت نہیں کرپائے

    ہم ڈیرہ غازیخان کی عوام سے اپیل کرتے ہیں 8 فروری کو کتاب کے نشان پر مہر ثبت کرکے نظام مصطفی کی بنیاد رکھیں

  • سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ  آصف

    سیالکوٹ:پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے.خواجہ آصف

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (شاہدریاض کی رپورٹ)خواجہ محمد آصف کا ن لیگ کے یوتھ ورکرزکنونشن سے مسلم لیگ ن کے مرکزی دفتر میں خطاب
    ،این اے 71میں دو لاکھ ووٹرز کا تعلق یوتھ سے ہے،آئندہ دنوں میں یوتھ اپنی قوت گلی محلوں میں دکھائے۔یونین کونسل کی سطح پر ووٹرز کو نوازشریف کو ووٹ دینے کا کہیں

    خواجہ محمدآصف نے کہاکہ اس شہر میں چارسالہ پی ٹی آئی دور میں ایک اینٹ نہیں لگی۔ن لیگ کے دور میں موٹروے تعلیمی ادارے میڈیکل کالج یونیورسٹی بنی .

    عمران خان نے صرف نعرے لگائے کوئی کام نہیں کیا،پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا چور عمران خان ہے،اس نے مجھ پر دعوی کیا جو کئی سال ایسے ہی پڑا رہا،عدالت میں جرح ہوئی اس دوران اس فراڈیے کی ٹانگ پر پلستر تھا،جرح میں یہ مان گیا کہ میرادفاع کاکیس بن گیاہے
    ۔اسکے سارے وکلاء کی موجودگی میں انہوں نے مجھ پر جرح کی تاریخ لی جو دوبارہ نہ آئی.

    عمران خان نے سوا دو ارب روپیہ شوکت خانم کا دوستوں کے کاروبار میں لگایا،گیارہ سال قبل میں نے کہا عمران خان چور ہے زکوٰاۃ کھاتا رہا
    اس شہر میں پورا ٹبر سرکاری کرسیوں پر بیٹھتا رہا ،کام کوئی بھی نہ کروایا،میرے خلاف انہوں نے درخواستیں دیں،مجھے انکی درخواستوں پر چھ ماہ قید کاٹنا پڑی میں بری ہوا

    انہوں نے مجھ پر آرٹیکل سکس کی کارروائی کی میں اس میں بھی بری ہوا ۔انہوں نے تھوڑی سی قید کاٹنے کےبعد جو کیاوہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے،انکی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے

    اس شہر کے چھبیس فیصد لوگوں نے ووٹ کس کودینا ہے یہ فیصلہ نہیں کیا۔یوتھ کے نمائندے ایسے لوگوں کے پاس جائیں۔پاکستان مسلم لیگ کا ووٹ نوازشریف کا ووٹ ہے،آپ نےووٹ نوازشریف کے نام پر مانگنا ہے کسی اور کے نام پر نہیں

    نوازشریف نے عمران خان کے جبر کامقابلہ کیا ہے۔تین بار نوازشریف وزیراعظم بنا،چوتھی بار بھی نوازشریف وزیراعظم بنے گا۔یوتھ اپنی صفوں میں اتحاد رکھے۔اللہ پاک ہمیں ہمت دے کہ آنیوالے وقت میں نوجوان نسل کو آگے لائیں