Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • ایس ایچ او تھانہ سیدوشریف نے خواتین پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی

    ایس ایچ او تھانہ سیدوشریف نے خواتین پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی

    سوات پولیس تشدد: سیدوشریف پولیس کا چوری کی الزام میں گرفتار تین خواتین پر سرعام تشدد. سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اور ایس ایچ او تھانہ سیدوشریف نے خواتین پر تھپڑوں اور لاتوں کی بارش کردی. گرفتار خواتین کو سرعام مارنا غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدام ہے۔ ایس ایچ او اور اہلکار گرفتار تین خواتین کو لوگوں کے سامنے مارنے کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دیتے رہے۔

  • پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا ویکسینیشن کا افتتاح کیا۔
    وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزار ویکسین موصول ہوئی ہیں ۔ وفاقی حکومت کی گایڈلاینز کے مطابق یہ ویکسین صوبے کے 8 اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کو لگائے جائیں گے ۔ہیلتھ ورکرز کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے مشکور ہیں،
    پاکستان کو کورونا ویکسین کی فراہمی پر ہم دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، خیبر پختونخواہ میں اب تک 3194 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ32 شہید ہوئے ہیں، کورونا صورتحال میں ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز ,نرسز ,پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی خدمات قابل ستائش ہیں ۔ صوبائی حکومت ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے. فرنٹ لائن ورکرز اس قوم کے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے خدمات انجام دیں. موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی سے ہم کرونا کی پہلی لہر سے سے موثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں.
    کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے مربوط انداز میں اقدامات جاری ہیں. کرونا ویکسین اس وباء سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگی. موجودہ حکومت اس وباء سے اپنے فرنٹ لائن ورکرز اور عوام کو تحفظ دینے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے۔

  • تعلیمی اداریے  کھلتے ہی سفری اعداد و شمار میں اضافہ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزارسے زائد مسافر

    تعلیمی اداریے کھلتے ہی سفری اعداد و شمار میں اضافہ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزارسے زائد مسافر

    بی آر ٹی پشاور یومیہ مسافروں کے سفری اعداد و شمار میں نمایاں اضافہ, صوبائی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں کے کھلنے کے بعد بی آر ٹی سفری اعداد و شمار میں اضافہ ہوا۔ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد مسافر بی آر ٹی میں سفر کر رہے ہیں۔ بی آر ٹی سفری اعداد و شمار میں آئندہ دنوں مزید اضافہ متوقع ہے. شہریوں کو بہترین سفری سہولت دی جارہی ہے۔30 نئی بسیں جلد بی آر ٹی پشاور پہنچ جائینگی۔ مزید فیڈر روٹس سمیت ایکسپریس روٹ پر اضافی بسیں بھی چلائی جائنینگی۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ ماسک کا استعمال لازمی کریں اور عملے سے تعاون کریں-

  • پبلک ٹرانسپورٹ، متعدد روٹس بند ہونے پر پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع، حناپرویز بٹ

    پبلک ٹرانسپورٹ، متعدد روٹس بند ہونے پر پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع، حناپرویز بٹ

    لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کے 25سے زائد روٹس بند ہونے کےخلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کر دی گئی .قرارداد مسلم یگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی.صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کے 25سے زائد روٹس ایک سال سے زائد عرصے بند پڑے ہیں۔ سرکاری بسیں بند ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ کوچز نے تمام روٹس پر قبضہ کرلیاہے۔ شہری جدید اور اعلیٰ معیار کی سفری سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔پرائیویٹ کوچز کے مالکان من مرضی کے کرایے شہریوں سے وصول کررہے ہیں۔پنجاب حکومت نے نئے سال کے آغاز میں لاہور میں نئی بسیں چلانے کا اعلان کیا تھا۔ نئے سال کے دوسرے ماہ بھی لاہور کے بند روٹس پر نئی بسیں نہیں چل سکیں۔ لاہور شہر میں جلد از جلد تمام روٹس دوبارہ بحال کیے جائیں۔تمام بند شدہ روٹس پر نئی سرکاری بسیں چلائی جائیں:قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • ٹائیفائڈ مہم کا تیسرا روز ،  مختلف علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری ہے

    ٹائیفائڈ مہم کا تیسرا روز ، مختلف علاقوں میں بھرپور طریقے سے جاری ہے

    ڈی سی لاہور مدثر ریا: آج ٹائیفائڈ مہم کا تیسرا روز ہے، ٹائیفائڈ مہم تیسرے روز بھی بھرپور طریقے سے جاری ہے.
    ضلعی انتظامیہ لاہور نے پہلے اور دوسرے دن 09 ٹاؤنز میں ٹائیفائڈ انجکشن لگائے جانے والے بچوں کی رپورٹ جاری کر دی گی۔ مجموعی طور پر 08 لاکھ 55 ہزار 138 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے.علامہ اقبال زون میں 01 لاکھ 18 ہزار 548 بچوں کو ٹائیفائڈ انجکشن لگائے گئے.عزیز بھٹی زون میں 70 ہزار 486 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے.کینٹ زون میں 85 ہزار 914 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے. داتا گنج بخش زون میں 72 ہزار 980 بچوں کو انجکشن لگائے گئے. گلبرگ زون میں 55 ہزار 490 بچوں کو انجکشن لگائے گئے.نشتر زون میں 01 لاکھ 22 ہزار 681 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے. راوی زون میں 99 ہزار 156 بچوں کو ٹائیفائڈ انجکشن لگائے گئے. سمن آباد زون میں 84 ہزار 197 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے. شالیمار زون میں 74 ہزار 340 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے. واہگہ زون میں 71 ہزار 341 بچوں کو حفاظتی انجکشن لگائے گئے. حفاظتی انجکشن کا مقصد ٹائیفائڈ سے بچوں کو محفوظ کرنا ہے.

  • برآمدی شعبہ ترقی کے گھوڑے پر سوار!

    برآمدی شعبہ ترقی کے گھوڑے پر سوار!

    8سال میں پہلی بار پاکستانی برآمدات میں مسلسل چار ماہ اضافہ سے برآمدی شعبہ ترقی کرے گا۔

    برآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔زونل چیئرمین پرگمیا کے بقول برآمدات میں اضافہ میں گارمنٹس  انڈسٹری اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

       لاہورمیں ادیب اقبال شیخ زونل چیئرمین پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے 8سال کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل 4ماہ  اضافہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئی کہا کہ اس سے برآمدی و صنعتی شعبہ جات ترقی کرینگے۔برآمدات میں اضافہ میں گارمنٹس انڈسٹری اپنا بھر پور اور اہم کردار ادا کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 سال کے بعدپہلی بار چار ماہ مسلسل اضافہ سے پاکستانی برآمدات 2ارب  ڈالر سے زائد رہیں، پاکستانی برآمدات میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے اور جنوری میں پاکستانی برآمدات8فیصد بڑھ کر2135ارب ڈالر رہیں۔رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ کے دوران برآمدات55فیصد بڑھ کر14245ارب ڈالر ہوگئیں ہیں۔

    جبکہ گزشتہ مالی سال میں اسی دوران یہ برآمدات 135ارب ڈالر تھیں انہوں نے کہا کہ برآمدات میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈمیڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ادیب اقبال شیخ نے کہا کہ برآمد کنندگان نے کورونا وائرس وباء اور بیرونی منڈیوں میں مندی کے باوجود برآمدات بڑھائیں حکومت برآمدی شعبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے مزید مراعات دے تاکہ برآمد کنندگان محنت اور توجہ سے ملکی برآمدات میں مزید اضافہ کرکے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کریں اس سے  ملکی معیشت مستحکم ہوگی اور حکومت کو بیرونی قرضہ لینے سے نجات ملے گی۔

  • کورنگی پولیس کی چوکنا کاروائی کا زبردست مظاہرہ

    کورنگی پولیس کی چوکنا کاروائی کا زبردست مظاہرہ

    امروز سیکٹر 35A حدود تھانہ کورنگی ڈی ایس پی خالد کی رہائش گاہ کے باہر ڈیوٹی پر موجود باوردی گن مین نے قریب ہی دو موٹر سائیکل سوار ملزمان جو کے اسلحہ کے زور پر عوام سے لوٹ مار کررہے تھے انکو دیکھا۔ گن مین کو دیکھ کر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے گن مین پر فائرنگ کی جسکی جوابی فائرنگ سے ایک ڈکیت موقع واردات پر ہلاک ہوگیا ہے۔ ہلاک ہونے والے ڈکیت کے دوسرے ساتھی جس نے اپنا نام رضوان ولد عبدل عزیز بتایا اسکو موقع سے گرفتار کر لیا گیا ہے اور مرنے والے ساتھی کا نام عامر بتایا ہے۔

    ہلاک ہونے والے ڈکیت کو بلغرض قانونی کارروائی جناح ہسپتال شفٹ کیا جارہا ہے۔ گرفتار ہونے والا ملزم رضوان ڈکیتی اور چوری کی کئی وارداتوں میں تھانہ لانڈھی ، تھانہ کورنگی ، تھانہ عوامی کالونی اور تھانہ ابراھیم حیدری ضلع ملیر میں گرفتار ہو چکا ہے۔ ڈکیتوں سے موقع سے تیس بور پسٹل برآمد ہوا ہے جب کہ ان سے ملنے والی موٹر سائیکل بھی تھانہ زمان ٹاون کے علاقے سے 06-12-2020 کو چوری شدہ ہے۔ گرفتار اور ہلاک ہونے والے ڈکیت کی شناخت اور مزید کریمنل ریکارڈ چیک کرنے کے لئے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

  • لینڈ مافیا کی شامت:  پنجاب کے بعد سندھ کی باری

    لینڈ مافیا کی شامت: پنجاب کے بعد سندھ کی باری

    خرم شیر زمان سینئر رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بعد سندھ کے لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ میں سرکاری زمینوں اور اداروں پر قابض مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سندھ میں قبضہ مافیا پی پی کی گود میں پل رہی ہے۔

    پی پی نے ملیر اور جنگلات کی زمین کو خاندانی میراث سمجھ کر قبضہ کیا۔ سندھ میں موجود سرکاری سرپرستی والے گلو بٹوں سے سندھ کی زمین کو آزاد کرائیں گے۔قبضہ اور بھتہ مافیا نے ن لیگ اور پی پی کا شیلٹر لیا ہوا ہے۔سرکاری اور عام آدمی کی زمینوں پر قبضہ پی پی کے وزراء کا ہے۔ سندھ میں سرکاری سرپرستی میں قبضوں کی رپورٹ وزیراعظم کو بھجیں گے۔لینڈ گریبنگ اور چائنا کٹنگ کا سنگ بنیاد پی پی کے دور میں پڑا۔منظور کاکا اور اویس ٹپی جیسے لوگ پی پی کی پہچان ہیں۔
    شہر کراچی سمیت سندھ بھر اب قبضہ مافیا سے پاک ہوگا۔

  • اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا دادو کے گرلز ہائی اسکول غریب آباد کا اچانک دورہ

    پی ٹی آئی رہنما رجب شاہانی، غلام حیدر سیال، عامر ابڑو و دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ اسکول کھلنے کے اعلان بعد اسکول میں بچے نہ پہنچے سینکڑوں بھینسیں پہنچ گئیں۔

    کروڑوں کے بجیٹ سے بننے والا دادو کا اسکول مویشیوں کے باڑی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کچھ ماہ قبل بھی حلیم عادل شیخ نے اسکول میں مویشیوں کی نشاندہی کی تھی۔جس کے بعد اسکول مویشیوں سے خالی کروایا گیا نااہلی کے باعث دوبارہ مویشی اسکول پہنچ گئے۔
    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے سندھ کے نااہل وزیر کی وجہ سے تعلیم تباہ ہوچکی ہے۔ تعلیم سب کے لئے کا قانون ہونے کےباوجود سندھ میں ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں ہزاروں اسکول مویشوں کے باڑوں اور وڈیروں کی اوطاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ سندھ کے ستر فیصد سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ اور ان کی نااہل ٹیم سندھ کو تباہ کر رہی ہے۔ کرونا کے بعد اسکول کھل گئے ہیں آج ہم یہ چیک کرنے آئے تھے۔ اسکول میں بچے تو نہ پہنچ سکے البتہ مویشی ضرور پہنچ گئے ہیں۔ آج ہم یہاں دادو سے مویشیوں کو علامتی طور پر نکالتے ہیں سندھ بھر کے اسکول مویشیوں سے خالی کروائیں گے۔ سعید غنی کو ایوارڈ دیا جائے بچوں کو پڑھانے کے بعد اب بھینسیں بھی پڑھا رہے ہیں۔ نااہل ٹیم کے سربراہ بلاول زرداری بھی نااہل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان پی ڈی ایم کی تحریک سے فارغ ہوگئے ہوں تو تھوڑا دھیان ادھر بھی دے دیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاق کے خلاف بغلیں بجانے کے بجائے سندھ کی عوام کے مسائل حل کرائیں۔ کرپش، چوری ، لوٹ مار کرنے والے موجودہ حکومت میں بچ نہیں سکتے حساب دینا ہوگا۔

    سندھ میں کرمنل گورنرس اور چوروں کی حکومت چل رہی ہے۔ خیرپور تھانے میں دلہہ دلہن کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ دو لاکھ نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دلہہ دوران حراست فوت ہوگیا۔ پیپلزپارٹی پولیس کے ڈنڈے پر حکومت چلا رہی ہے۔ سندھ میں کرپٹ افسران کو دوبارہ نوکریاں پر لگا دیا گیا۔ سندھ میں گورنمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ جاتے جاتے تمام رہ جانے والے غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے ان افسران کو ہٹانے کے بجائے ترقیاں دے دی ہیں۔ حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے سندھ کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کو ہم نے کہہ دیا ہے سندھ کی عوام کو رلیف دلوائیں گے پ پ نے تباہ کر دیا ہے۔ سندھ میں 13 سالوں میں 7 ہزار 88 ارب روپے سندھ حکومت نے خرچ کئے۔ 16 سو ارب روپے صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے گئے۔ 12 سو ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں آچکا ہے۔

    اگر اتنی رقم خرچ ہوجاتی تو آج سندھ گل گلزار ہوتا۔ آج سندھ میں صحت، تعلیم سمیت تمام بنیادی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں۔ ایمبولنس تک عوام سے دور رکھی گئی ہیں۔ اسمبلی میں ایسی قانون بنانے گئے جس سے ان کو اپنا فائدہ تھا۔ اعجاز شاھ کو پروموشن دی گئی ان کے لئے ایک الگ قانون پاس کروایا گیا۔ بچل راھوپوٹو سمیت اپنے فرنٹ مینوں کو پروموشن دی گئی۔ ای اینڈ رولز کے تحت کرپٹ افسران کو سندھ سے خاتمہ ہونے والا ہے سندھ کے افسران ہوشیار رہیں وزیر اعلیٰ کے غیر قانونی کام نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ جانے والے ہیں افسران کو یہیں رہنا ہے ۔ 15 گریڈ کے افسران کو ڈسٹرکٹ اکائونٹ افسران لگانے کے لئے وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے۔ جس میں زیادہ تعداد باجاریوں اور راہوپوٹو کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ تاریخ کے نااہل وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاقی حکومت کی فکر چھوڑیں سندھ حکومت کی خیر منائے۔ وزیر اعظم کے حکم کے منتظر ہیں کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک لاکر سندھ سے پ پ حکومت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

  • پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
    کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائد

    پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-

    کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔

    ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#